خطاب : حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
راشد حسین : راشد حسین


پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ
اور
قافلۂ استقامت فریڈم فلوٹیلا

تمام  تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا
۲۵ ؍ربیع الاول۱۴۴۷ ھ (مطابق۱۹ ؍ستمبر۲۰۲۵ ء) بروز جمعہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے جامعہ دارالعلوم کراچی کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز سے پہلے عالمی حالات،غزہ و دوحہ پر اسرائیلی درندگی اور پاکستان اور سعودیہ کے مابین دفاعی معاہدے کے تناظر میں اہم خطاب فرمایانیز قافلۂ استقامت فریڈم فلوٹیلا کا بھی تذکرہ فرمایا،اور امتِ مسلمہ کو دعا اور کوشش کی طرف متوجہ فرمایا۔ یہ اہم خطاب تحریری شکل میں نذرِ قارئین ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ادارہ)


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیدنا و مولانا محمد خاتم النبیین و امام المرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، وعلی کل من تبعھم باحسان الی یوم الدین، اما بعد!

ہر جائز مقصد کے حصول کا آسان طریقہ؛دعا اور کوشش
اللہ تبارک و تعالی نے ہمارے دین میں ہمیں جو بات سکھائی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی جائز مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک مسلمان کو دو کام کرنے چاہئیں۔ ایک یہ کہ اس مقصد کے حصول کے لیے جتنی اس کے بس میں ہے، اپنی کوشش کرے ۔ اور دوسرے یہ کہ اس کوشش پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اللہ تعالی سے رجوع کرے۔چنانچہ کوئی آدمی اگر اپنی اصلاح چاہتا ہے کہ میں صحیح معنوں میں سچا پکا مسلمان بن جاؤں، تو اسے دو کام کرنے ہوں گے: ایک یہ کہ اصلاح کی طرف قدم بڑھائے، اپنے اندر جو کمی کمزوری ہے اس کو دور کرنے کی کوشش کرے اور ساتھ ساتھ اللہ سے مانگےکہ یا اللہ میں اپنی اصلاح کا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہوں، آپ اپنے فضل و کرم سے مجھے اس کی توفیق عطا فرما دیجیے۔
مثلاً اگر کوئی شخص بے نمازی ہے یا نماز تو پڑھتا ہے مگر مسجد میں آنے کی اور جماعت سے نماز پڑھنے کی اسے توفیق نہیں ہوتی، تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ایک طرف تو اپنے آپ پر زبردستی کرے کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو اس وقت چاہے دل چاہ رہا ہو یا نہ چاہ رہا ہو، آدمی زبردستی کرکے مسجد کی طرف نکل پڑے۔ اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے مانگے کہ یا اللہ مجھے نماز باجماعت کا پابند بنا دیجیے۔ یہ دو کام کر لے گا کہ اللہ تبارک و تعالی سے دعا بھی مانگے گا اور دعا مانگنے کے بعد اس کام کی طرف قدم بھی بڑھائے گا تو ان شاء اللہ اس سستی پر قابو پالے گا۔
نہ صرف دعا کافی ہے، نہ صرف کوشش کافی ہے۔ ایمان والے کے لیے دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ کوشش بھی اور دعا بھی۔ اگر تنہا دعا مانگے اور عمل کچھ نہ کرے ، تو صرف دعا سے بھی کام نہیں بنے گا۔ مثلاً آدمی دعا تو مانگ رہا ہے یا اللہ مجھے نماز باجماعت کا پابند بنا بنا دیجیے، لیکن جب وقت آتا ہے تو سستی میں گزار دیتا ہے، جماعت کیلئے قدم نہیں بڑھاتا، تو اس طرح صرف دعا سے کام نہیں ہوتا۔یا مثلاً کوئی آدمی دعا مانگے کہ یا اللہ مجھے مکہ پہنچا دیجیے اور وہ مکہ کے بجائے ایران کا رخ کر لے، تو صرف دعا مانگنے سے اس کا رخ نہیں پلٹے گا۔ لہٰذا دعائیں بھی ضروری ہیں،اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی کی توفیق اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری طرف اپنی طرف سے جتنی انسان کے بس میں کوشش ہے وہ بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے۔دونوں چیزوں کا ساتھ ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ نہ دعا کافی ہے، نہ کوشش کافی ہے۔ دونوں چیزیں جب مل کر جمع ہوتی ہیں تو اس سے بہتر نتیجہ نکلتا ہے۔
انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل کا حل
ہماری انفرادی زندگی میں بھی یہی اصول ہےاور اجتماعی زندگی میں بھی۔ محض زبانی طور پر دعا مانگ لینا بھی کافی نہیں ہے اور محض کوشش کر لینا بھی کافی نہیں ہے، دونوں چیزیں مل کر کوئی نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ انفرادی زندگی میں بھی ایک آدمی کسی گناہ میں مبتلا ہے، تو اس گناہ کے لیے اللہ سے مانگے بھی کہ یا اللہ میں اس گناہ سے بچنا چاہتا ہوں، مجھے اس سے بچا لیجیے،تاہم صرف اتنا کافی نہیں بلکہ جب گناہ کا تقاضا پیدا ہو تو اس وقت اپنے آپ کو زبردستی اس گناہ کے کام سے روکنے کی پوری کوشش بھی کرے۔ اس گناہ کے جواسباب ہیں ، ان اسباب کی طرف جانے سے اپنے آپ کو بچائے۔
ہماری اجتماعی زندگی کا بھی یہی حال ہے۔ اجتماعی زندگی میں آج آپ دیکھتے ہیں کہ سارے مسلمان افسردہ ہیں۔ اور افسردہ اس لیے ہیں کہ وہ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں،مسلمانوں پر مغرب کی غلامی مسلط ہو گئی ہے۔ ہم اپنے ہر فیصلے میں مغرب کی طرف دیکھتے ہیں،انہی کی اقتدا کرتے ہیں، انہی کے رنگ ڈھنگ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اپنا سب کچھ ان کے حوالے کر رکھا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غلامی کی زندگی بسر ہو رہی ہے۔ جیسا کہ اب اسرائیل ایک شیطان بن کر، عفریت بن کر مسلمانوں پر مسلط ہے اور وہ غزہ میں میں نسل کشی کر رہا ہے، قتل عام کر رہا ہے۔ اور اس کی حالت ایک وحشی درندے کی سی ہے، وہ جب چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے، حملہ کردیتا ہے۔ کبھی ایران پہ حملہ کر دیا، جب چاہا لبنان پہ حملہ کر دیا، جب چاہا شام پہ کر دیا، جب چاہا قطر پہ کر دیا ہے۔ اس غلامی کی زندگی میں اس سے کیسے نکلا جائے؟ اس سے نکلنے کے بھی یہی دو طریقے ہیں۔ ایک اللہ تعالی سے دعا اور دوسرے اس غلامی سے نکلنے کے لیے کوئی عملی اقدام۔
پاکستان اور سعودیہ کا قابلِ فخر دفاعی معاہدہ ؛ تاریکی کے ماحول میں روشنی کی کرن
آپ کو معلوم ہے کہ ابھی کچھ روز قبل اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں سارے ۵۷اسلامی ملک اکٹھے ہو گئے۔ یہ بڑی خوش آئند بات تھی، چنانچہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اکٹھے ہو کر کوئی فیصلہ کن لائحہ عمل طے کرتے، پاکستان کی طرف سے یہ قرارداد بھی پیش کی گئی تھی کہ سب مل کے کوئی اتحاد قائم کریں اور اتحاد قائم کرکے اسرائیل کا مقابلہ کریں۔ مگر جو قرارداد وہاں سے آئی، جو اعلامیہ جاری ہوا، وہ اتنا مایوس کن تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ جمع ہی نہ ہوتے۔اس میں مرعوبیت اور احساس کمتری کا بہت زیادہ تاثر موجود تھا۔
ایسے حالات و واقعات پر ہم لوگ اپنی مجلسوں میں بیٹھ کے تبصرے تو بہت کرتے ہیں، لیکن ایسے لوگ جو اللہ جل جلالہ سے رجوع کرکے کہیں یا اللہ ہم مصیبتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، یا اللہ ہم غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، ہمیں اس سے آزادی عطا فرما دیجیے، ایسے دعا کرنے والے بہت شاذ و نادر ہیں۔ایسے لوگ اس قسم کے مایوس کن واقعات پر تبصرے کرنے کے بجائے اللہ تعالی سے رجوع کرتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے بس میں تو کچھ نہیں ہے ، ہمارے حکمران خوابِ غفلت میں ہیں یا غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، تو ان کی وجہ سے ساری امت مسلمہ غلامی کا شکار ہے۔ ایسے میں وہ اللہ والے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اس مصیبت سے نکال دیجیے۔ چنانچہ شاید انہی اللہ والوں کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے مسلم ممالک کی اس کانفرنس کے بعدفوراً ہی ایک ایسا واقعہ مقدر فرما دیا جس کی بہت عرصے سے تمنا اور آرزو تھی مگر اس کا کوئی سرا نظر نہیں آ رہا تھا۔اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ طے کرا دیا۔ جس کی پہلے دور دور تک کوئی توقع نہیں تھی۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ معاہدہ ہو گیا کہ ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا،اور دونوں مل کر اس کا دفاع کریں گے۔
یہ معاہدہ ایک طرح سے اس پورے تاریک ماحول میں روشنی کی ایک کرن بن کر نمودار ہوا ہے، اور الحمدللہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوگیا ہے کہ اسے کو حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے چُنا گیا ہے۔ خدا نہ کرے ، لیکن اگر کبھی حرمین شریفین کے اوپر کوئی آنچ آتی ہے تو اس کے دفاع کے لیے سعودی عرب پاکستان سے مدد حاصل کرے گا، اور پاکستان اس کا دفاع کرنے کا پابند ہوگا۔ اسی طرح اگر ہم پر کسی دشمن کی طرف سے کوئی آنچ آتی ہے تو سعودی عرب ہمارا ساتھ دے گا۔یہ ایک خوشی کی خبر ہے جس کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیاجانا چاہیے۔
اللہ تبارک و تعالی نے یہ دن دکھایا کہ جب پچھلے دنوں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار دن کی جنگ ہوئی،تو اللہ تبارک و تعالی نے پاکستان کی افواج کو فاتح اور سرخرو بن کر اس جنگ سے نکالا۔ اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ،مسلمان دعا تو کرتے تھے لیکن ساتھ ساتھ ہماری افواج نے کوشش کی اور اپنی عسکری و دفاعی طاقت کو امریکہ کے تابع بنانے کے بجائے خود اپنی ذمہ داری پر ایسے ہتھیار تیار کیے جن کے استعمال میں ہم کسی کے محتاج نہ ہوں۔
پہلے جتنے بھی اسلامی ملک ہیں، عرب ممالک جتنے بھی ہیں، ان سب نے اپنی دفاعی طاقت امریکہ کے حوالے کر رکھی ہے۔ وہ امریکہ کو اس کام کے لیے اربوں ڈالر دیتے ہیں کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔ سارے اسلحہ بھی اسی کا دیا ہوا ہے۔ اسی سے خریدا ہوا ہے۔ اس اسلحہ کی چابی بھی اسی کے پاس ہے، یعنی اگر وہ خود سے چلانا چاہیں نہیں چلا سکتے جب تک کہ امریکہ کی طرف سے اس کی چابی نہ لگائی جائے۔
پاکستان کی افواج نے الحمدللہ، اللہ تبارک و تعالی کے خاص فضل و کرم سے امریکہ کے ساتھ نتھی ہونے اور امریکہ کا پابند ہونے سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنا اسلحہ خود تیار کیا، اور چین کے ساتھ روابط قائم کرکے چین کی ٹیکنالوجی بھی اختیار کی ۔اپنی فوجی و دفاعی طاقت ایسی مضبوط کی کہ اپنے سے پانچ گنا زیادہ طاقت رکھنے والی انڈین فوج کو دھول چٹا دی۔ اور ان کے وہ قیمتی رافیل طیارے جو فرانس سے خریدے گئے تھے اور جن پر ان کو بڑا ناز تھا، انہیں دور سے ہی نشانہ بناکر گرا دیا اور ان کے سارے نظام کو ایسا مفلوج کر دیا کہ کوئی طیارہ مقابلے کے لیے اڑنے کے قابل نہیں رہا۔
یہ جو کوشش کی گئی کہ ہم غلامی کے پھندے سے نکل کر خود آزاد ہو کر اپنا دفاعی انتظام کریں، یہ کوشش ہوئی اور اللہ والوں کی دعائیں ہوئیں،تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت کو چار دن میں دھول چٹا کر اور بُری طرح شکست دے کر اللہ نے ساری دنیا پر پاکستان کی ایک دھاک بٹھا دی۔ اس دھاک بٹھانے کا نتیجہ یہ ہے کہ آج سعودی عرب یہ کہتا ہے کہ آؤ میرے ساتھ معاہدہ اور ہم دونوں مل کر ایک دوسرے کا دفاع کریں گے۔
الحمدللہ دنیا پر یہ بات واضح ہو گئی کہ عالم اسلام میں ایک ملک ایسا ہے جو امریکہ کے اوپر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنی کوشش سے اپنا اسلحہ استعمال کر سکتا ہے۔ اور الحمدللہ یہ اعزاز بھی اس کو حاصل ہے کہ وہ ایٹمی قوت ہے۔ لہذا یہ خوشنما منظر ہماری آنکھوں کے سامنے آیا کہ ہمارے وزیراعظم اور ہمارے آرمی چیف نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ بیٹھ کر یہ معاہدہ کرلیا کہ ہم ایک دوسرے کے دفاع کے لیے تیار رہیں گے۔
لہٰذا یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ دعائیں جو کبھی کی جاتی ہیں وہ رائیگاں جاتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی دو چیزوں کے ملنے کے بعد نتائج ظاہر کرتے ہیں۔ ایک دعا اور دوسرے کوشش۔ قرآن کریم نے فرمایا :
وَاَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ
دشمنوں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت تم تیار کر سکتے ہو وہ تیار کرو۔
یہ قرآن کا حکم ہے ،اس پر عمل کرنے کے بعد جب کبھی دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدمی سے کام لیا جائے اور اللہ تعالی سے رجوع کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کامیابی سے سرفراز فرمادیتے ہیں۔۔
الحمدللہ ،اللہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے یہ ایک بہت عرصے کے بعد ایک خوشی کا اور ہمارے لیے بہت قابل فخر واقعہ دکھایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پا گیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات مدت دراز سے بلکہ پہلے دن سے ہیں۔ سعودی عرب ہمارا نہ صرف ایک دوست ملک ہے بلکہ حرمین شریفین کی وجہ سے ہمارے لیے ایک تقدس کا نشان ہے۔ لہذا اس کے ساتھ دوستی اور قرب تو شروع سے چلا آتا ہے، لیکن یہ دفاعی معاہدہ ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ دشمنوں کی سازشوں کو ختم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ کی رحمت سے ان شاءاللہ ایسا ہی ہوگا۔ نیز اسرائیل جو ایک درندہ بنا ہوا ہے اور جس پر چاہتا ہے چڑھ دوڑتا ہے ، اس معاہدے کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اسے لگام ڈالنے کا بھی ایک موقع دیا ہے۔
قافلۂ استقامت کی حمایت کی اور ان کیلئے دعاؤں کی ضرورت
دوسری طرف میں یہ بھی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ غزہ کے مسلمانوں کی مصیبت میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی۔ وہاں پر دن رات وحشیانہ بمباری بھی جاری ہے اور ان تک پہنچنے کے اور امداد پہنچانے کے جتنے راستے ہیں وہ بھی اسرائیل نے بند کیے ہوئے ہیں ، دنیا کے سارے قوانین کے برخلاف ایک ناجائز محاصرہ کیا ہوا ہے۔ بھوک سے بچے مر رہے ہیں ، عورتیں مر رہی ہیں، بوڑھے مر رہے ہیں،اور وہ لوگ سخت آزمائش میں ہیں۔اگر کچھ امداد پہنچ بھی رہی ہے تو وہ بہت کم ہے، جو پوری طرح کارآمد نہیں ہو سکتی۔ اس موقع پر اللہ کے کچھ بندوں نے ایک کوشش شروع کی ہے،اور وہ ایک بحری قافلے (گلوبل صمود فلوٹیلا) کی شکل میں روانہ ہوئے ہیں جو اس وقت سمندر کے بیچ میں ہے۔ صمود کے معنی استقامت کے ہوتے ہیں ، تو استقامت کے نام پر، یہ بحری قافلہ تیونس سے چلا ہوا ہے اور ابھی سمندر کے درمیان ہے۔
یہ قافلہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ایک طرح کا ایک علامتی رد عمل ہے ، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر محاصرہ توڑدے اور محاصرہ توڑ کر غزہ کے لوگوں کو دوائیں اور غذائی سامان فراہم کرے۔ اس قافلے کے اوپر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اسرائیل اس کے راستے میں رکاوٹیں بھی ڈال سکتا ہے اور حملہ بھی کر سکتا ہے ۔اور اسرائیل جو خود دہشت گرد ہے اس نے اس قافلے کو دہشت گرد قرار دے دیا، حالانکہ یہ بیچارہ ایک پُرامن قافلہ ہے۔
یہ کوشش ہماری طرف سے پوری حمایت اور ہماری دعاؤں کی مستحق ہے، اللہ تعالی اس کی حفاظت فرمائے، اور اس کو منزل تک پہنچائے ، تاکہ یہ قافلۂ استقامت محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہو اور فاتح بن کر واپس آئے۔ اس کی بھی سب مسلمانوں سے دعا کی گزارش ہے کہ سب اس کو اپنی دعا میں یاد رکھیں۔ نیز غزہ کے مسلمانوں کے لیے، برما کے مسلمانوں کے لیے ،اور ان سارے مسلمانوں کیلئے جو جہاں جہاں پر ظلم کا شکار ہیں ان کی نصرت کے لیے، ان کے ظلم کو دور کرنے کے لیے کوئی مسلمان دعا سے پیچھے نہ رہے۔ہر نماز میں ان کے لیے دعا کرے۔ اور اس قافلے کے لیے دعا کرے۔
حالات کی بہتری اور مسلم ممالک کی بیداری کیلئے دعاؤں کی ضرورت
ہم اس کوشش میں براہِ راست شریک ہونے کے قابل نہیں ہیں۔ ہم عام لوگ ہیں، ہمیں ہتھیار چلانا بھی نہیں آتا، ہمیں ہتھیار بنانے بھی نہیں آتے، لیکن اگر یہ عام لوگ کم از کم اپنی دعاؤں کا رخ بدلیں،جس طرح اپنے لیے دعائیں کرتے ہیں، اپنی صحت کے لیے، اپنی معاشی ضروریات کے لیے، اپنی پریشانیوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، اسی طرح امت مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں۔ اسی طرح پاکستان کے لیے دعا کریں، سعودی عرب کے لیے دعا کریں۔ اور جو لوگ کہ فلسطین کے اندر اسرائیل کے ظلم و ستم کا شکار ہیں ان کی نجات کے لیے دعا کریں، ان کی فتح کے لیے دعا کریں۔ دعا بہت بڑا ہتھیار ہے۔نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:
الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ
دعا مومن کا ہتھیار ہے۔
ہر مسلمان پاکستان اور سعودی عرب کے لیے دعا کرے کہ یا اللہ پاکستان اور سعودی عرب کو استقامت عطا فرما دیجیے،اور اس معاہدے کو غیروں کی غلامی سے نکالنے کا ذریعہ بنا دیجیے۔ اور کچھ بعید نہیں ہے کہ دو ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا ہے تو اللہ تبارک و تعالی دوسرے مسلمان ملکوں کو بھی توفیق دے کہ وہ بھی اس میں شامل ہوجائیں۔
اگر ۵۷ملک جو عین دنیا کے بیچوں بیچ آباد ہیں،اور مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک اسلامی ممالک کی ایک زنجیر ہے ۔ اگر یہ آپس میں اس طرح متحد ہو جاتے ہیں تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ ان کو غلام بنا سکے یا ان کے حقوق کو تلف کر سکے۔
لہٰذا کسی بھی مسلمان کو کم از کم دعا سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ اور ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہمارے مظلوم مسلمان بھائیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں اللہ تعالی ان کو نجات عطا فرمائے۔ اگر سارے مسلمان دعاؤں میں لگ جائیں تو اللہ تبارک و تعالی کی رحمت سے کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس غلامی کی زندگی سے نجات عطا فرما دے۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : ربیع الثانی ۱۴۴۷ھ)