مجلس اتحاد امت پاکستان
کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ
اور
| علماء اور دینی حلقوں کے باہمی مسلکی ، سیاسی اور جماعتی اختلافات کا ملک میں بہت شور ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک اسلامی معاشرے کے بنیادی تقاضوں پر تمام دینی حلقے بالکل متفق ہیں اور متفقہ اہداف ، مختلف فیہ امور سے کہیں زیادہ ہیں ، اس حقیقت کو اجاگر کرنے اور مشترک مقاصد میں اتحاد کا ثبوت دینے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ تمام دینی حلقے ان اہداف میں اپنا مشترک موقف امت کے سامنے لائیں۔اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ” مجلس اتحاد امت ” کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے ، جس میں جمع ہو کر دینی حلقے معاشرے کے ان مسائل پر سنجیدگی اور متانت کے ساتھ خالص علمی دلائل کی روشنی میں متحدہ موقف کا اظہار کریں، یہ کوئی باقاعدہ تنظیم یا جماعت نہیں ہے ، اور نہ اس کے کوئی عہدیدار ہیں، اور نہ کوئی ایسا گروہ ہے جو کسی کی مخالفت یا موافقت میں قائم کیا گیا ہو ، بلکہ احقاق حق اور ابطال باطل اس کا بنیادی مقصد ہے، اس مجلس کامشاورتی و علمی نمائندہ اجتماع یکم رجب ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۲دسمبر ۲۰۲۵ء بروز پیر بعدازنماز مغرب میجسٹک ہال شارع فیصل کراچی میں منعقد ہوا۔جس میں مشترکہ غور وفکرکے بعد دس نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیاجو افادۂ عام کےلئے ہدیۂ قارئین ہے۔ |
تمام مکاتب فکر کے علماء اور مختلف دینی جماعتوں اور تنظیموں کا یہ اجتماع مندرجہ ذیل امور پر مکمل اتفاق رائے رکھتا ہے :
1) آئین پاکستان دفعہ 227 کی رُو سے حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنائے اوراگر کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف موجود ہے یا بن چکا ہے اسےتبدیل کر کے قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے ۔ اس غرض کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی مکمل سفارشات تیار کی ہوئی ہیں۔ آئین کی رُو سے ان کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے ان کے سلسلے میں قانون سازی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس ہے کہ سالہا سال گذرنے کے باوجود اب تک انہیں پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ نفاذِ شریعت کو اولیت دے اور یہ سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کرکے ان کے مطابق قانون سازی کی جائے۔
2) ملک میں اسلامی قوانین کے جاری اور غیر اسلامی قوانین کے خاتمے کے لیے مؤثر ترین ادارہ ’’وفاقی شرعی عدالت‘‘ اور سپریم کورٹ ’’شریعت اپیلٹ بنچ‘‘ ہے۔ آئین کی رو سے وفاقی شرعی عدالت میں تین علماء جج ہونے چاھییں، لیکن عرصہ دراز سے یہ عدالت علماء ججوں سے خالی ہے، نیز شریعت اپیلنٹ بنچ میں بھی علماء کی موجودگی ایک سوالیہ نشان ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان عدالتوں کی طرف رجوع کی شرح بہت کم ہوگئی ہے۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ آئین کے مطابق علماء ججوں کا تقرر یقینی بنایا جائے۔
3) آئین کی چھبیسویں ترمیم کا یہ ایک مستحسن فیصلہ تھا کہ ملک سے ربا (سود) کے مکمل خاتمے کیلئے ایک معین تاریخ مقرر کردی گئی تھی جو 31دسمبر 2027ء کو ختم ہو رہی ہے۔ اور یکم جنوری 2028ء سے سودی نظام کو مکمل ختم کر کے اسلامی مالیاتی اور بینکاری نظام کو نافذ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک سے تمام بینکوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مذکورہ مدت میں اپنے تمام مالی معاملات کو سود سے پاک کر لیں۔
لیکن اس دوران اس مبارک عمل کو سبوتاژ کرنے اور رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وزارتِ قانون کی طرف سے ایک یادداشت تیار کی گئی ہے جس میں ان بینکوں کو اس حکم سے مستثنی کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جن میں غیر ملکی افراد کی حصہ داری ( شئیر ہولڈنگ) ہے اور باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ بڑے بینکوں کی اکثریت کو استثناء دے بھی دیا گیا ہے ۔ اس استثناء کی وجہ اس تحریرمیں یہ بتائی گئی ہے کہ کچھ بین الاقوامی معاہدات کا یہی تقاضا ہے۔
ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کو برتری حاصل ہے اور جو کوئی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں کام کرتی ہے، اسے پاکستان کے آئین اور قانون کے تابع رہ کر ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلّم اصول ہے کہ بین الاقوامی معاہدات جب تک پارلیمنٹ کے ذریعے قانون نہ بن جائیں ، انہیں دستور اور قانون پر بالا تری حاصل نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ عذر کسی طرح قابل قبول نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے جنگ جاری رکھنے کے مرادف ہے۔
ان حالات میں یہ اجتماع متفقہ طور پر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دستور میں سود ختم کرنے کی جو مدت مقرر کی گئی ہے اس پر لفظاً و معنا ً مکمل طور سے عمل کیا جائے ۔
4) حال ہی میں دستورِ پاکستان میں ستائیسویں ترمیم انتہائی عجلت میں منظور کی گئی ہے۔ اس ترمیم میں متعدد امور عدلیہ کی آزادی پر قدغن کے حکم میں ہیں ، لیکن ایک بات قرآن و سنت سے صراحتاً متصادم ہے اور وہ یہ کہ صدرِ مملکت اور افواجِ پاکستان کے بعض اعلیٰ مناصب پر فائز افراد کو نہ صرف ان کی مدتِ کار میں بلکہ تا حیات ہر قسم کی فوجداری کارروائی سے مکمل استثناء دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کام چھوڑنے کے بعد بھی زندگی بھر وہ ہر قسم کے جُرم کی باز پرس سے آزاد رہیں گے۔ یہ استثناء قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے ، جس نے یہ دو ٹوک ہدایت عطا فرمائی ہے کہ:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّامِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ ؕ (النسآء -135)
ترجمہ: اے ایمان والو ! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔
شعارِ نبوت تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر میں عین حالتِ جنگ میں خود اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا، خلیفۂ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خلیفۂ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے عہد میں اپنے آپ کو عدالت میں فریق ثانی کے ساتھ مساوی حیثیت میں پیش کر کے بلا امتیاز اور شفاف عدل کا نمونہ پیش کیا۔
ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’بنیان مرصوص‘‘ کے معرکہ میں کامیابی پر افواجِ پاکستان مبارک باد کی مستحق ہیں لیکن ان کے اعلیٰ مناصب کو استثناء دینا ان کے مناصبِ جلیلہ کے شایانِ شان نہیں ہے بلکہ ان کے کردار پر دھبہ لگانے کے مرادف ہے۔
بفضلہ تعالی ہمارا آئین سن1973 ء سے تمام حلقوں کی طرف سے متفقہ چلا آرہا تھا ، ستائیسویں ترمیم کی بناء پر آئین کو بھی متنازعہ بنادیا گیا ہے، لہٰذا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اس ترمیم کو منسوخ کیا جائے یا قومی مشاورت اور پارلیمنٹ کے اتفاق رائے سے دستورِ پاکستان کی روح کے مطابق ڈھالا جائے، کیونکہ دستور کسی قوم و ملت کا اجماعی میثاق ہوتا ہے۔
5) جون 2025ء میں اسلام آباد دارالحکومت کے علاقے کے لیے ایکٹ نمبر 11 نافذ کیا گیا ہے ،اس میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کے نکاح کرنے ، کرانے اور نکاح پڑھانے کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے، اور اس کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اندیشہ ہے کہ یہ قانون تمام صوبوں سے بھی منظور کرایا جاسکتا ہے ، جبکہ سندھ کی حکومت پہلے ہی ایک ایسا قانون بنا چکی ہے۔
یہ اجلاس واضح الفاظ میں قرار دیتا ہے کہ یہ قانون قرآن و سنت کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام میں نکاح کی کوئی عمر مقرر نہیں ہے ۔ بالخصوص بلوغ کے بعد جو ہمارے ملک میں عموماً بارہ سے پندرہ سال کی عمر تک ہوجاتا ہے، کسی شخص کے لیے نکاح پر پابندی عائد کرنا موجودہ ماحول میں ناجائز تعلقات اور زنا کاری پر آمادہ کرنے کے مرادف ہے، لہٰذا اس اجلاس کا متفقہ مطالبہ ہے کہ اس وفاقی قانون اور سندھ کے پابندی کے قانون کو منسوخ کیا جائے ۔
6) ٹرانس جینڈر ایکٹ سن2018ء میں نافذ ہوا تھا جسے وفاقی شرعی عدالت نے قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا تھا، لیکن حکومت نے اس کے خلاف سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ میں اپیل دائر کردی جو ابھی تک زیر التواء ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہے، اور قانون فی الحال جوں کا توں موجود ہے، البتہ شنید ہے کہ پارلیمنٹ کی کوئی کمیٹی اس میں ترمیم پر غور کر رہی ہے۔
یہ اجلاس واضح الفاظ میں یہ قرار دیتا ہے کہ تخلیقی طور پر جس شخص کی جنس مشتبہ ہو ، اسے اسلامی اصطلاح میں ’’خُنثیٰ‘‘ کہا جاتا ہے اس کے لیے شریعت میں مفصل احکام موجود ہیں جن میں یہ بھی داخل ہے کہ اسے معاشرے میں باعزت شہری کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کی بے عزتی سے پرہیز کیا جائے اور اس کے تمام جائز حقوق ادا کئے جائیں۔
لیکن ’’ٹرانس جینڈر‘‘ کی اصطلاح جس معنی میں مغرب کی طرف سے گھڑی گئی ہے اس کا ’’خنثی‘‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔’’ٹرانس جینڈر ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے مذکر یا مؤنث ہونے کا فیصلہ اپنی حیاتیاتی یا تخلیقی بنیاد پر نہیں ، بلکہ خود اپنی پسند یا نا پسند کی بنیاد پر کرسکتا ہے، یہ در حقیقت ہم جنس پرستی کو لائسنس دینے کے لیے ایک مخفی دروازہ ہے ، مغرب نے انسان کی اصناف صرف مرد ، عورت اور خنثی کی حد تک محدود نہیں رکھیں، بلکہ انسانی کی بہت سی اصناف بنادی ہیں جنہیں LGBTQ کہا جاتا ہے اور ان میں مزید اضافہ ہورہاہے، اسلامی معاشرے میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
7) یہ اجتماع اس بات پر یقین رکھتا ہے اور علماء کی طرف سے اس کا بار بار اعلان کیا گیا ہے کہ ملک میں حالات کی اصلاح اور شریعت کے نفاذ کے لیے صرف پُر امن آئینی جدوجہد ہی واحد راستہ ہے اور اس غرض کے لیے مسلح جدوجہد نہ موجودہ حالات میں اسلام کا تقاضہ ہے نہ مصلحتِ شریعت کا ، اس وقت متعدد بیرونی طاقتیں ملک کو کمزور کرنے اور داخلی انتشار کے ذریعے اس کو تقسیم کرنے پر تُلی ہوئی ہیں ، ایسے حالات میں کوئی مسلح جدوجہد چاہے وہ اسلام کے نام پر ہو یا قومیت کے نام پر اس کا فائدہ صرف ملک دشمن عناصر ہی کو پہنچ سکتا ہے لہٰذا ہم ایک بار پھر ملک میں حکومت مخالف مسلح کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، البتہ حکومت سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان شورشوں کو ختم کرنے کے لیےجائز مطالبات پر عمل بھی کرے اور اس مسئلہ کوبہادری کے ساتھ حکمت اور تدبر کے ذریعہ حل کرے۔
8) یہ اجتماع اسلامی جمہوریہ پاکستان اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدہ حالات پر انتہائی تشویش کااظہار کرتا ہے،یہ صورتحال دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے صرف اسلام دشمن قوتوں اور بھارت کو فائدہ پہنچے گا۔ہم امارتِ اسلامیہ افغانستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو ان مفسد اور تخریب کارگروہوں اور طبقات کی آماجگاہ نہ بنائےجو وہاں دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
قوموں اور ملکوں کے مسائل باہمی مکالمے سے حل ہوتے رہے ہیں اور اب بھی اس کا قابل ِعمل اور قابل قبول دیر پا حل یہی ہے ۔ لازم ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت مل بیٹھے اور مزید کسی نقصان کے بغیر سارے مسائل کا مثبت اور قابل عمل حل نکالا جائے تاکہ دونوں پڑوسی برادر ممالک کے تعلقات معممول پر آئیں اور ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ دونوںممالک کے درمیان نقل و حمل اور تجارت کا سلسلہ جاری رہے، ان میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے اور ماضی کی اچھی باتوں کو یاد رکھا جائے اور نا خوشگوار باتوں سے صرف نظر کیا جائے ، یہی دونوں کے ملکی ،ملی ،قومی اور اسلامی مفاد میں ہے۔
9) آج کا یہ تمام مکاتبِ فکر کا نمائندہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس وجامعات کے ساتھ کیے گئے میثاق اور اس کی بنیاد پر نافذ ہونے والے قانون پر لفظاً ومعناً عمل کیا جائے اور اس میں نِت نئی رکاوٹیں نہ پیدا کی جائیں۔ حکومتی اداروں کے اپنے بعض اعداد وشمار کے مطابق تقریباً تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر بیٹھے ہیں، ریاست وحکومت ان کی تعلیم کا انتظام کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے میں دینی مدارس وجامعات کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ یہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اور قومی خزانے پر بوجھ نہ ڈالتے ہوئے دینی وعصری تعلیم کے ساتھ ساتھ کفالت کا بھی انتظام کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات ان اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں ۔ یہ ادارے انہی علاقوں سے جہاں آج شورش ہے، قوم کے بچوں کو لاکر پاکستان کے محبِّ وطن شہری اور اچھے مسلمان بناتے ہیں اور شرحِ تعلیم میں اضافہ کرتے ہیں۔
ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس وجامعات اپنے نظامِ تعلیم اور نصاب کے لیے پہلے کی طرح آزاد رہیں گے،دینی مدارس وجامعات نے کسی بھی حکومتِ وقت کے لیے نہ پہلے مسائل پیدا کیے ہیں اور نہ اب کریں گے اور حکومت ان اداروں کو اپنا حریف سمجھنے کے بجائے اپنا حلیف سمجھے ، کیونکہ تعلیم کا فروغ اور ملک وملت کا مفاد ہم سب کے درمیان قدرِ مشترک ہے۔
یہ اجتماع اس بات پر افسوس کااظہار کرتا ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا قانون بننے کے بعد بھی ان کی رجسٹریشن عملاً بند ہے اور انہیں ناشائستہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے ،حالانکہ وہ قومی خزانے پر ایک روپے کا بوجھ ڈالے بغیر لاکھوں طلبہ اور طالبات کو نہ صرف تعلیم دے رہے ہیں بلکہ اُن کے ذریعے خدمت خلق کاکام اُن جگہوں پر بھی ہو رہاہے جہاں حکومت کی بھی پہنچ نہیں ہے۔
ہم یہ بات دوٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاھتے ہیں کہ دینی مدارس کا بنیادی کام شریعتِ حق کی تعلیم ہے جس کے ذریعے حکومت سمیت کسی بھی حلقے کی ترغیب وتحریص یا کسی قسم کے دباؤ کے بغیر مستند اور حق گو علماء پیدا کرناہے۔ اس لئے ان کا اپنے نصاب ونظام میں مکمل طورپر آزاد اور خود مختار ہونا ضروری ہے اور دینی مدارس کسی ایسے اقدام کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوں گے جو ان کےان بنیادی اہداف کے راستے میں رکاوٹ ہو، اور ان پر ایسے کسی نظام میں داخل ہونے پر مجبور کرنا سراسر زیادتی اور متفقہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں عرصے سے مزاحمت اور زبردستی پر آمادہ ہے، ملک پہلے ہی مسائل کا شکار ہے، ایسے حالات میں اس تنازعے کو پالتے رہنے سے مسائل مزید الجھیںگے اور یہ ملک کے لئے سخت مضر ہوگا۔ مدارس پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ عصری تعلیم نہیں دیتے ، اول تو اس وقت بیشتر مدارس اپنے وسائل کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی دے رہے ہیں اور ان کی طلبہ سرکاری بورڈوں کے امتحانات میں پوزیشن لے رہے ہیں ، اور جہاں اس کی کمی ہے دینی مدارس اسے خود اپنی ضرورت سمجھ کر پورا کرنے کے لیےکوشاں ہیں۔
دوسرے یہ ادارے قرآن وحدیث اور اسلامی فقہ کی تعلیم کے لئے مختص ہیں، ضروری عصری تعلیم کے بعد اگر ان کا سارا زور قرآن وحدیث اور فقہ پر ہو تو اسپیشلائزیشن اور تخصصات کے اس دور میں اس کی حکمت ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کسی لاء کالج سے یہ مطالبہ کرنا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین پیدا کیوں نہیں کرتے، ایک لغو مطالبہ ہے۔ لیکن ہمارا تجربہ یہ ہے کہ عصری تعلیم کا شوشہ دراصل انہیں حکومت کے ماتحت کرنے کے لئے چھوڑا گیا ہے تاکہ علماء اور اہلِ مدارس کو دینی معاملات میں حق گوئی سے روکا جاسکے۔
یہ متفقہ اجتماع واضح کرنا چاہتا ہے کہ مدارس ایسی کسی کاوش کو کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔
10)یہ اجتماع بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کی دل و جان سے نہ صرف حمایت کرتا ہے ، بلکہ اس بات کو ہر مسلمان کا فریضہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک اس مقصد کے حصول کے لیے کسی کوشش سے دریغ نہ کرے، اگرچہ ظاہری سطح پر جنگ بندی کا اعلان ہوگیا ہے ، لیکن اسرائیل کی طرف سے بے گناہوں کو نشانہ بنانے اور ان کو امداد پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں مسلمان ملکوں سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی افواج وہاں بھیج کر حماس کو غیر مسلح کریں ، متعدد مسلمان حکومتیں اس سے انکار کر چکی ہیں اور اب پاکستان پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔
یہ اجتماع پوری تاکید کے ساتھ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنی افواج کو بھیجنے سے گریز کرے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ میں نہ آئے۔ الحمد للہ پاکستان کی افواج جذبۂ جہاد سے آراستہ ہیں اور انہیں آزادیٔ بیت المقدس یا آزادیٔ فلسطین کی کسی مقدس جدوجہد کے خلاف کھڑا کرنے کا تصور بھی قوم کے لیے ناممکن ہے۔ اس سازش سے ملک کو محفوظ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کا ہم پُرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
فہرست علمائے کرام و معزز شخصیات
نام گرامی
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب
حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب
حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب
حضرت مولانا محمد یاسین ظفر صاحب
حضرت جناب شجاع الدین صاحب
حضرت علامہ سید ریاض حسین نجفی صاحب
حضرت مولانا سید حامد سعید کاظمی صاحب
حضرت مولانا عبدالغفور حیدری صاحب
حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب
حضرت مولانا راشد سومرو صاحب
حضرت ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر صاحب
مولانا عبدالقیوم ھالیجوی صاحب
حضرت مولانا ڈاکٹر عطاءالرحمٰن صاحب
حضرت علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب
حضرت مولاناامداداللہ صاحب
حضرت مولانا عبدالحق ثانی صاحب
حضرت مولانا سعید یوسف صاحب
حضرت مولانا پیر نور الحق قادری صاحب
حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب
حضرت علامہ صاحبزادہ محمد ریحان امجد نعمانی صاحب
حضرت مولانا مفتی محمد طیب صاحب
حضرت قاری محمد عثمان صاحب
حضرت مولانا فضل الرحمٰن درخواستی صاحب
حضرت مولانا محمد سلفی صاحب
حضرت مولانا اعجاز مصطفیٰ صاحب
حضرت مولانا ڈاکٹر محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب
حضرت مولانا مفتی محمد زبیر صاحب
حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عمران اشرف عثمانی صاحب
حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب
حضرت مولانا عبدالستار صاحب
حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب
حضرت مولانا احمد افنان صاحب
حضرت علامہ یاسر نواز صاحب
مولانا عبدالکریم عابد صاحب
علامہ سید فیاض حسین نقوی صاحب
حضرت مولانا سمیع الحق سواتی صاحب
حضرت مولانا قاضی احسان صاحب
حضرت مولانا عبدالوحید صاحب
حضرت مولانا مفتی اویس ارشاد صاحب
جناب بابر قمر عالم صاحب
حضرت مولانا قاری عبدالرشید صاحب
حضرت سید حماد اللہ شاہ صاحب
حضرت مولانا خلیل احمد اعظمی صاحب
حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب
حضرت مولانا محمد منظور مینگل صاحب
حضرت مفتی یوسف قصوری صاحب
حضرت مولانا انس عادل صاحب
حضرت مولانا محمد غیاث صاحب
حضرت علامہ احمد ربانی صاحب
حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب
حضرت علامہ اکرام سیالوی صاحب
حضرت مولانا ڈاکٹر قاسم محمود صاحب
حضرت علامہ ثاقب صدیق گلستان صاحب
حضرت علامہ شعیب معینی صاحب
حضرت نصیر الدین سواتی صاحب
حضرت مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب
حضرت مولانا عابد مبارک صاحب
حضرت مولانا مفتی جان نعیمی صاحب
حضرت مولانا شاہ اویس نورانی صاحب
حضرت مولانا محمد یونس صاحب
حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب
حضرت مولانا مفتی محمد الیاس رضوی صاحب
حضرت مولانا عبد اللہ نجیب صاحب
پروفیسر ڈاکٹر فرید الدین قادری صاحب
فہرست علمائے کرام و معزز شخصیات
نام گرامی نام گرامی
حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب
حضرت جناب شجاع الدین صاحب حضرت مولانا محمد یاسین ظفر صاحب
حضرت مولانا سید حامد سعید کاظمی صاحب حضرت علامہ سید ریاض حسین نجفی صاحب
حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب حضرت مولانا عبدالغفور حیدری صاحب
حضرت ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر صاحب حضرت مولانا راشد سومرو صاحب
حضرت مولانا ڈاکٹر عطاءالرحمٰن صاحب مولانا عبدالقیوم ھالیجوی صاحب
حضرت امداداللہ صاحب حضرت علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب
حضرت مولانا سعید یوسف صاحب حضرت مولانا عبدالحق ثانی صاحب
حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب حضرت مولانا پیر نور الحق قادری صاحب
حضرت مولانا مفتی محمد طیب صاحب حضرت علامہ صاحبزادہ محمد ریحان امجد نعمانی صاحب
حضرت مولانا فضل الرحمٰن درخواستی صاحب حضرت قاری محمد عثمان صاحب
حضرت مولانا اعجاز مصطفیٰ صاحب حضرت مولانا محمد سلفی صاحب
حضرت مولانا مفتی محمد زبیر صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب
حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عمران اشرف عثمانی صاحب
حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب حضرت مولانا عبدالستار صاحب
حضرت علامہ یاسر نواز صاحب حضرت مولانا احمد افنان صاحب
علامہ سید فیاض حسین نقوی صاحب مولانا عبدالکریم عابد صاحب
حضرت مولانا قاضی احسان صاحب حضرت مولانا سمیع الحق سواتی صاحب
حضرت مولانا مفتی اویس ارشاد صاحب حضرت مولانا عبدالوحید صاحب
حضرت مولانا قاری عبدالرشید صاحب جناب بابر قمر عالم صاحب
حضرت مولانا خلیل احمد اعظمی صاحب حضرت سید حماد اللہ شاہ صاحب
حضرت مولانا محمد منظور مینگل صاحب حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب
حضرت مولانا انس عادل صاحب حضرت مفتی یوسف قصوری صاحب
حضرت مولانا ڈاکٹر خلیل احمد اعظمی صاحب حضرت مولانا محمد غیاث صاحب
حضرت علامہ احمد ربانی صاحب حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب
حضرت علامہ اکرام سیالوی صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر قاسم محمود صاحب
حضرت علامہ ثاقب صدیق گلستان صاحب حضرت علامہ شعیب معینی صاحب
حضرت نصیر الدین سواتی صاحب حضرت مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب
حضرت مولانا عابد مبارک صاحب حضرت مولانا قاضی احسان صاحب
حضرت مولانا شاہ اویس نورانی صاحب حضرت مولانا مفتی جان نعیمی صاحب
حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب حضرت مولانا محمد یونس صاحب
حضرت مولانا عبد اللہ نجیب صاحب حضرت مولانا مفتی محمد الیاس رضوی صاحب
پروفیسر ڈاکٹر فرید الدین قادری صاحب
کسی ملک کا دستور یا آئین ملک کے نظامِ حکومت کے لئے بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتا ہے ، پاکستان بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں ۔ ۱۹۴۷ءسے۱۹۷۳ ءتک یہاں دستور کے مختلف مسودے تیار ہوئے ، ان میں سے کچھ وقتی طورپر نافذ بھی ہوئے ، لیکن یہ مسئلہ متنازعہ بنا رہا ، اللہ اللہ کرکے۱۹۷۳ ءمیں تمام سیاسی اور دینی حلقوں کے اتفاق سے موجودہ آئین منظور ہوا ۔ اور چند امور کو چھوڑ کر بحیثیت مجموعی یہ آئین ایساتھا کہ اسے ایک اسلامی ریاست کا آئین کہا جاسکتا تھا ۔ چنانچہ دینی حلقوں نے بھی اسےبسا غنیمت سمجھ کر قبول کیا ۔
اس متفقہ آئین میں یہ شق بھی موجود ہے کہ اگر اس میں کسی ترمیم کی ضرورت پیش آئے تو مجلسِ شوریٰ کی دوتہائی اکثریت سے اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے ، چنانچہ ماضی میں متعدد ترمیمات اسی بنیاد پر کی گئیں جن میں سے بعض ترمیمات نے دستور کو اسلامی اعتبار سے بھی مضبوط بنایا، جیسے ختمِ نبوت سے متعلق ترمیم ،فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کی اپیلیٹ بینچ کے قیام سے متعلق ترمیمات۔
اب ستائیسویں ترمیم کے نام سے ایک ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور کی گئی ہے جو اہلِ دانش کے درمیان آج کل موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اور ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کا غیر جانبداری سے جائزہ لے کر اس پر ضروری تبصرہ کیا جائے۔
یہاں پہلی بات تو یہ عرض کرنی ہے کہ دستور میں کوئی ترمیم کرنے کا مناسب طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کے اہم نکات کو وضاحت کے ساتھ پہلے سے شائع کر کے ملک کے اہلِ دانش کو اس پر غور و فکر اور تبصرے کا موقع دیا جائے، اس کے برعکس یہ ترمیم اتنی عجلت میں تیار اور منظور کی گئی ہے کہ بہت سے اراکینِ مجلس شوری یہ شکایت کرتے پائے گئے کہ انہیں اس کا علم بالکل آخر میں ہوا، اس لیے انہیں اس پر غور و فکر کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔
یہ ترمیم شائع شدہ گزٹ کےاکیس صفحات پر مشتمل ہے، اور اس کا بغور جائزہ لینے کے بعد بنیادی طور پر اس کے اہم نکات یہ ہیں:
(۱) ” وفاقی دستوری عدالت”(federal constitional court) کے نام سے ایک نئی عدالت قائم کی گئی ہے جسے تمام آئینی مقدمات کا فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار دیا گیا ہے۔ کسی بھی ہائی کورٹ میں دفعہ۱۹۹ کے تحت جو مقدمات فیصل ہوں، ان کی اپیل سپریم کورٹ کے بجائے اس نئی عدالت ہی میں ہو سکے گی اور یہ عدالت خود بھی ہائی کورٹ سے ایسے مقدمات کا ریکارڈطلب کر سکے گی۔
دستوری مقدمات کا فیصلہ جو پہلے سپریم کورٹ اپنے قواعد کے مطابق کرتا تھا۔ اب اس کا اختیار اس آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے، اور اس کافیصلہ حتمی قرار دیا گیا ہے ،اور اس کے فیصلے کا سپریم کورٹ بھی پابند ہوگیاہے۔
اس معاملے میں دو رائے ہو سکتی ہیں کہ اس قسم کے معاملات حسبِ سابق سپریم کورٹ ہی میں رہیں، یا اس کے لیے نئی عدالت قائم کی جائے جیسا کہ بعض دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے۔ اس کے فوائد بھی ہو سکتے ہیں، اور نقصانات بھی، لیکن موجودہ حالات میں جبکہ سپریم کورٹ میں بہت سے ایسے آئینی مقدمات زیر التوا ہیں، جن کا تعلق ملک کے سیاسی ماحول سے بھی ہے،یکایک ایک ایسی عدالت کا قیام جس میں ججوں کا پہلی مدت کے لیے تعیین وزیراعظم اور صدر کو سونپا گیا ہے کچھ شبہات ضرور پیدا کرتا ہے۔
اور اصل بات یہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ ہو یا نئی آئینی عدالت، اگر اس کے جج صاحبان سیاست اور مفادات سے آزاد ہو کر پوری غیر جانبداری سے آئین کے مطابق فیصلے کرنے والے ہوں، تو خواہ وہ سپریم کورٹ میں ہوں ، یا آئینی عدالت میں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اگر خدانخواستہ جج صاحبان اپنے فرائض کو ادا کرتے ہوئے کوئی دباؤ محسوس کریں ،تو چاہے وہ سپریم کورٹ میں ہو ںیا آئینی عدالت میں، انصاف کے راستے میں رکاوٹ باقی رہے گی۔
البتہ نئی آئینی عدالت کے قیام کے بعد بعض اہم مسائل ایسے اٹھ سکتے ہیں ، جن کا کوئی حل بظاہر اس ترمیم کی عبارت میں موجود نہیں ہے ، اور ان کی وجہ سے عدالتوں میں اختلاف اور اس کے نتیجے میں مقدمات کے فیصلے میں تاخیر در تاخیر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔
مثلاً ایک بات تو یہ ہے کہ نئی عدالت کے قیام سے پہلے سپریم کورٹ بہت سے مسائل میں آئین کی تشریح کر چکی ہے ، سوال یہ پیدا ہوگا کہ آیا نئی آئینی عدالت ان فیصلوں کی پابند ہوگی یا نہیں ، جو اس کے وجود سے پہلے سپریم کورٹ دے چکی ہے۔
نیز اگرچہ اب آئینی مسائل نئی عدالت کے پاس جائیں گے ، لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اصل مقدمہ عمومی نوعیت کا ہوتا ہے اور اسے براہ راست آئینی مقدمہ نہیں کہا جا سکتا ، لیکن اس عمومی نوعیت کے مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے عدالت کو آئین کی کسی دفعہ کی تشریح کرنی پڑتی ہے ، اگر سپریم کورٹ کسی عام نوعیت کے مقدمے کا فیصلہ کر رہی ہو ، مثلاً دو افراد کے درمیان کوئی دیوانی مقدمہ یا کوئی فوجداری مقدمہ اور اس کا فیصلہ کرتے ہوئے آئین کی کسی دفعہ کی تشریح کرنی پڑ جائے ، تو کیا سپریم کورٹ اس حد تک آئین کی تشریح نہیں کر سکے گی ؟ اور اگر کرے گی تو کیا اسے آئینی عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا ؟ اور اگر نہیں کر سکے گی تو کیا وہ مقدمہ آئینی عدالت کے پاس جائے گا ؟ دونوں صورتوں میں ابہام اور اصل نتیجے تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی تاخیر لازمی ہے۔
(۲) اصل آئین کے مطابق کسی بھی ہائی کورٹ کے کسی جج کا ٹرانسفر کسی دوسرے ہائی کورٹ میں اس کی مرضی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آئین کی دفعہ ۲۰۰اس بارے میں واضح تھی ۔
لیکن اس نئی ترمیم کے ذریعے دفعہ ۲۰۰میں بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ کسی جج کا ٹرانسفر اس کی مرضی کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر وہ ٹرانسفر سے انکار کرے تو اس کے خلاف دفعہ۲۰۹ کے تحت تیس دن کے اندر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی ہوگی اور اس دوران اس کو بحیثیتِ جج کام کرنے سے روک دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دفعہ ۲۰۹کے تحت عام طور سے ان ججوں کے خلاف کاروائی ہوتی ہے جن پر کسی غلط رویے کا الزام ہو۔
ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو ٹرانسفر پر مجبور کرنا یقیناً ایسی بات ہے جو عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔ اس طرح کسی بھی ایسے جج کے خلاف کاروائی ہو سکتی ہے جو کسی بھی سیاسی یا ذاتی وجہ سےحکومت کو ناپسند ہو
(۳) تیسری اہم اور سخت قابلِ اعتراض تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پہلے بھی آئین کی دفعہ۲۴۸ میں صدر مملکت کو یہ تحفظ دیا گیا تھا کہ اس کے عہد ےکے دوران اس کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی عدالت میں نہیں کی جا سکتی تھی، یعنی کسی بھی جرم میں اس کے خلاف اس وقت تک کوئی مقدمہ نہیں ہو سکتا تھا، جب تک وہ صدارت کے عہدے پر فائز ہے۔
یہ دفعہ شرعی نقطہ نظر سے پہلے بھی غلط تھی ۔اسلام میں کسی بھی سربراہِ مملکت کو اس قسم کا تحفظ دینا سراسر ناجائز ہے۔ خود رسول کریم ﷺ نے اپنے آپ کو، یا خلفاء راشدین نے اپنی ذات کو یہ تحفظ دینے کے بجائے اس کے خلاف واضح احکام عطا فرمائے ہیں ۔
لیکن اس ستائیسویں ترمیم کے ذریعے اس تحفظ کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید وسعت دے دی گئی ہے، یعنی اب یہ تحفظ صرف صدرِ مملکت ہونے کے دوران نہیں، بلکہ صدارت ختم ہونے کے بعد بھی تاحیات باقی رہے گا، اور زندگی بھر اس کے خلاف کسی بھی جرم میں کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔
اور یہ تحفظ جس طرح صدرِ مملکت کو دیا گیا ہے اسی طرح دفعہ۲۴۳ میں ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل ،مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو بھی دیا گیا ہے کہ تاحیات ان کے خلاف کسی جرم میں کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔ اس سے پہلے دستور میں یہ عہدے موجود نہیں تھے، لیکن جن سپہ سالاروں نے ملکی دفاع میں امتیازی کارنامے انجام دئیے ہوں، انہیں اس قسم کے خطابات دینا ایک مستحسن بات ہے ۔ انہیں کسی معرکہِ حق میں جتنے اعزاز دیئے جائیں ، اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے ۔ لیکن ان کو عدالتی کارروائی سے استثناء دینا نہ صرف غلط ہے ، بلکہ ان کے مناصب پر ایک قسم کا داغ لگانے کے مرادف ہے ۔
مذکورہ بالا ترمیمات میں کم از کم دو ترمیمیں ایسی ہیں جو ملکی آئین کی اسلامی اور عدالتی حیثیت کو مجروح کر رہی ہیں۔ اور ان میں بھی سب سے زیادہ قابلِ اعتراض بات یہ ہے کہ صدر مملکت، فیلڈ مارشل ،مارشل آف دی ایئر اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو تاحیات کسی جرم کی عدالتی کاروائی سے بالکل مستثنیٰ کر دیا گیا ہے، یہ ہمارے آئین پر ایک دھبہ ہے، جسے جتنی جلدی دور کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔
الحمدللہ ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے کہ انہوں نے معرکہِ حق میں جس طرح اپنے فرض شناسی ،بہادری اور اہمیت کا ثبوت دیا، وہ بے مثال ہے اور بفضلہ تعالیٰ اس کی وجہ سے پوری قوم میں ان کے ساتھ محبت اور ان کے بارے میں خوش گمانی پیدا ہوئی، وہ اس کے لیے بڑے سے بڑے منصب کے مستحق ہیں، لیکن وہ ایک اسلامی ملک کے سالار ہیں۔ لہٰذا حکومت اور پارلیمنٹ کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ ان کے کردار پر یہ دھبہ لگا کر اس خوش گمانی کو نقصان پہنچائیں ،جو ان کے بارے میں عوام کے اندر پیدا ہوئی ہے۔ واللہ علی مانقول وکیل۔
میں ہے، اپنی کوشش کرے ۔ اور دوسرے یہ کہ اس کوشش پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اللہ تعالی سے رجوع کرے۔چنانچہ کوئی آدمی اگر اپنی اصلاح چاہتا ہے کہ میں صحیح معنوں میں سچا پکا مسلمان بن جاؤں، تو اسے دو کام کرنے ہوں گے: ایک یہ کہ اصلاح کی طرف قدم بڑھائے، اپنے اندر جو کمی کمزوری ہے اس کو دور کرنے کی کوشش کرے اور ساتھ ساتھ اللہ سے مانگےکہ یا اللہ میں اپنی اصلاح کا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہوں، آپ اپنے فضل و کرم سے مجھے اس کی توفیق عطا فرما دیجیے۔
مثلاً اگر کوئی شخص بے نمازی ہے یا نماز تو پڑھتا ہے مگر مسجد میں آنے کی اور جماعت سے نماز پڑھنے کی اسے توفیق نہیں ہوتی، تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ایک طرف تو اپنے آپ پر زبردستی کرے کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو اس وقت چاہے دل چاہ رہا ہو یا نہ چاہ رہا ہو، آدمی زبردستی کرکے مسجد کی طرف نکل پڑے۔ اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے مانگے کہ یا اللہ مجھے نماز باجماعت کا پابند بنا دیجیے۔ یہ دو کام کر لے گا کہ اللہ تبارک و تعالی سے دعا بھی مانگے گا اور دعا مانگنے کے بعد اس کام کی طرف قدم بھی بڑھائے گا تو ان شاء اللہ اس سستی پر قابو پالے گا۔
نہ صرف دعا کافی ہے، نہ صرف کوشش کافی ہے۔ ایمان والے کے لیے دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ کوشش بھی اور دعا بھی۔ اگر تنہا دعا مانگے اور عمل کچھ نہ کرے ، تو صرف دعا سے بھی کام نہیں بنے گا۔ مثلاً آدمی دعا تو مانگ رہا ہے یا اللہ مجھے نماز باجماعت کا پابند بنا بنا دیجیے، لیکن جب وقت آتا ہے تو سستی میں گزار دیتا ہے، جماعت کیلئے قدم نہیں بڑھاتا، تو اس طرح صرف دعا سے کام نہیں ہوتا۔یا مثلاً کوئی آدمی دعا مانگے کہ یا اللہ مجھے مکہ پہنچا دیجیے اور وہ مکہ کے بجائے ایران کا رخ کر لے، تو صرف دعا مانگنے سے اس کا رخ نہیں پلٹے گا۔ لہٰذا دعائیں بھی ضروری ہیں،اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی کی توفیق اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری طرف اپنی طرف سے جتنی انسان کے بس میں کوشش ہے وہ بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے۔دونوں چیزوں کا ساتھ ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ نہ دعا کافی ہے، نہ کوشش کافی ہے۔ دونوں چیزیں جب مل کر جمع ہوتی ہیں تو اس سے بہتر نتیجہ نکلتا ہے۔
انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل کا حل
ہماری انفرادی زندگی میں بھی یہی اصول ہےاور اجتماعی زندگی میں بھی۔ محض زبانی طور پر دعا مانگ لینا بھی کافی نہیں ہے اور محض کوشش کر لینا بھی کافی نہیں ہے، دونوں چیزیں مل کر کوئی نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ انفرادی زندگی میں بھی ایک آدمی کسی گناہ میں مبتلا ہے، تو اس گناہ کے لیے اللہ سے مانگے بھی کہ یا اللہ میں اس گناہ سے بچنا چاہتا ہوں، مجھے اس سے بچا لیجیے،تاہم صرف اتنا کافی نہیں بلکہ جب گناہ کا تقاضا پیدا ہو تو اس وقت اپنے آپ کو زبردستی اس گناہ کے کام سے روکنے کی پوری کوشش بھی کرے۔ اس گناہ کے جواسباب ہیں ، ان اسباب کی طرف جانے سے اپنے آپ کو بچائے۔
ہماری اجتماعی زندگی کا بھی یہی حال ہے۔ اجتماعی زندگی میں آج آپ دیکھتے ہیں کہ سارے مسلمان افسردہ ہیں۔ اور افسردہ اس لیے ہیں کہ وہ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں،مسلمانوں پر مغرب کی غلامی مسلط ہو گئی ہے۔ ہم اپنے ہر فیصلے میں مغرب کی طرف دیکھتے ہیں،انہی کی اقتدا کرتے ہیں، انہی کے رنگ ڈھنگ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اپنا سب کچھ ان کے حوالے کر رکھا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غلامی کی زندگی بسر ہو رہی ہے۔ جیسا کہ اب اسرائیل ایک شیطان بن کر، عفریت بن کر مسلمانوں پر مسلط ہے اور وہ غزہ میں میں نسل کشی کر رہا ہے، قتل عام کر رہا ہے۔ اور اس کی حالت ایک وحشی درندے کی سی ہے، وہ جب چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے، حملہ کردیتا ہے۔ کبھی ایران پہ حملہ کر دیا، جب چاہا لبنان پہ حملہ کر دیا، جب چاہا شام پہ کر دیا، جب چاہا قطر پہ کر دیا ہے۔ اس غلامی کی زندگی میں اس سے کیسے نکلا جائے؟ اس سے نکلنے کے بھی یہی دو طریقے ہیں۔ ایک اللہ تعالی سے دعا اور دوسرے اس غلامی سے نکلنے کے لیے کوئی عملی اقدام۔
پاکستان اور سعودیہ کا قابلِ فخر دفاعی معاہدہ ؛ تاریکی کے ماحول میں روشنی کی کرن
آپ کو معلوم ہے کہ ابھی کچھ روز قبل اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں سارے ۵۷اسلامی ملک اکٹھے ہو گئے۔ یہ بڑی خوش آئند بات تھی، چنانچہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اکٹھے ہو کر کوئی فیصلہ کن لائحہ عمل طے کرتے، پاکستان کی طرف سے یہ قرارداد بھی پیش کی گئی تھی کہ سب مل کے کوئی اتحاد قائم کریں اور اتحاد قائم کرکے اسرائیل کا مقابلہ کریں۔ مگر جو قرارداد وہاں سے آئی، جو اعلامیہ جاری ہوا، وہ اتنا مایوس کن تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ جمع ہی نہ ہوتے۔اس میں مرعوبیت اور احساس کمتری کا بہت زیادہ تاثر موجود تھا۔
ایسے حالات و واقعات پر ہم لوگ اپنی مجلسوں میں بیٹھ کے تبصرے تو بہت کرتے ہیں، لیکن ایسے لوگ جو اللہ جل جلالہ سے رجوع کرکے کہیں یا اللہ ہم مصیبتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، یا اللہ ہم غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، ہمیں اس سے آزادی عطا فرما دیجیے، ایسے دعا کرنے والے بہت شاذ و نادر ہیں۔ایسے لوگ اس قسم کے مایوس کن واقعات پر تبصرے کرنے کے بجائے اللہ تعالی سے رجوع کرتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے بس میں تو کچھ نہیں ہے ، ہمارے حکمران خوابِ غفلت میں ہیں یا غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، تو ان کی وجہ سے ساری امت مسلمہ غلامی کا شکار ہے۔ ایسے میں وہ اللہ والے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اس مصیبت سے نکال دیجیے۔ چنانچہ شاید انہی اللہ والوں کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے مسلم ممالک کی اس کانفرنس کے بعدفوراً ہی ایک ایسا واقعہ مقدر فرما دیا جس کی بہت عرصے سے تمنا اور آرزو تھی مگر اس کا کوئی سرا نظر نہیں آ رہا تھا۔اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ طے کرا دیا۔ جس کی پہلے دور دور تک کوئی توقع نہیں تھی۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ معاہدہ ہو گیا کہ ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا،اور دونوں مل کر اس کا دفاع کریں گے۔
یہ معاہدہ ایک طرح سے اس پورے تاریک ماحول میں روشنی کی ایک کرن بن کر نمودار ہوا ہے، اور الحمدللہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوگیا ہے کہ اسے کو حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے چُنا گیا ہے۔ خدا نہ کرے ، لیکن اگر کبھی حرمین شریفین کے اوپر کوئی آنچ آتی ہے تو اس کے دفاع کے لیے سعودی عرب پاکستان سے مدد حاصل کرے گا، اور پاکستان اس کا دفاع کرنے کا پابند ہوگا۔ اسی طرح اگر ہم پر کسی دشمن کی طرف سے کوئی آنچ آتی ہے تو سعودی عرب ہمارا ساتھ دے گا۔یہ ایک خوشی کی خبر ہے جس کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیاجانا چاہیے۔
اللہ تبارک و تعالی نے یہ دن دکھایا کہ جب پچھلے دنوں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار دن کی جنگ ہوئی،تو اللہ تبارک و تعالی نے پاکستان کی افواج کو فاتح اور سرخرو بن کر اس جنگ سے نکالا۔ اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ،مسلمان دعا تو کرتے تھے لیکن ساتھ ساتھ ہماری افواج نے کوشش کی اور اپنی عسکری و دفاعی طاقت کو امریکہ کے تابع بنانے کے بجائے خود اپنی ذمہ داری پر ایسے ہتھیار تیار کیے جن کے استعمال میں ہم کسی کے محتاج نہ ہوں۔
پہلے جتنے بھی اسلامی ملک ہیں، عرب ممالک جتنے بھی ہیں، ان سب نے اپنی دفاعی طاقت امریکہ کے حوالے کر رکھی ہے۔ وہ امریکہ کو اس کام کے لیے اربوں ڈالر دیتے ہیں کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔ سارے اسلحہ بھی اسی کا دیا ہوا ہے۔ اسی سے خریدا ہوا ہے۔ اس اسلحہ کی چابی بھی اسی کے پاس ہے، یعنی اگر وہ خود سے چلانا چاہیں نہیں چلا سکتے جب تک کہ امریکہ کی طرف سے اس کی چابی نہ لگائی جائے۔
پاکستان کی افواج نے الحمدللہ، اللہ تبارک و تعالی کے خاص فضل و کرم سے امریکہ کے ساتھ نتھی ہونے اور امریکہ کا پابند ہونے سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنا اسلحہ خود تیار کیا، اور چین کے ساتھ روابط قائم کرکے چین کی ٹیکنالوجی بھی اختیار کی ۔اپنی فوجی و دفاعی طاقت ایسی مضبوط کی کہ اپنے سے پانچ گنا زیادہ طاقت رکھنے والی انڈین فوج کو دھول چٹا دی۔ اور ان کے وہ قیمتی رافیل طیارے جو فرانس سے خریدے گئے تھے اور جن پر ان کو بڑا ناز تھا، انہیں دور سے ہی نشانہ بناکر گرا دیا اور ان کے سارے نظام کو ایسا مفلوج کر دیا کہ کوئی طیارہ مقابلے کے لیے اڑنے کے قابل نہیں رہا۔
یہ جو کوشش کی گئی کہ ہم غلامی کے پھندے سے نکل کر خود آزاد ہو کر اپنا دفاعی انتظام کریں، یہ کوشش ہوئی اور اللہ والوں کی دعائیں ہوئیں،تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت کو چار دن میں دھول چٹا کر اور بُری طرح شکست دے کر اللہ نے ساری دنیا پر پاکستان کی ایک دھاک بٹھا دی۔ اس دھاک بٹھانے کا نتیجہ یہ ہے کہ آج سعودی عرب یہ کہتا ہے کہ آؤ میرے ساتھ معاہدہ اور ہم دونوں مل کر ایک دوسرے کا دفاع کریں گے۔
الحمدللہ دنیا پر یہ بات واضح ہو گئی کہ عالم اسلام میں ایک ملک ایسا ہے جو امریکہ کے اوپر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنی کوشش سے اپنا اسلحہ استعمال کر سکتا ہے۔ اور الحمدللہ یہ اعزاز بھی اس کو حاصل ہے کہ وہ ایٹمی قوت ہے۔ لہذا یہ خوشنما منظر ہماری آنکھوں کے سامنے آیا کہ ہمارے وزیراعظم اور ہمارے آرمی چیف نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ بیٹھ کر یہ معاہدہ کرلیا کہ ہم ایک دوسرے کے دفاع کے لیے تیار رہیں گے۔
لہٰذا یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ دعائیں جو کبھی کی جاتی ہیں وہ رائیگاں جاتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی دو چیزوں کے ملنے کے بعد نتائج ظاہر کرتے ہیں۔ ایک دعا اور دوسرے کوشش۔ قرآن کریم نے فرمایا :
وَاَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ
دشمنوں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت تم تیار کر سکتے ہو وہ تیار کرو۔
یہ قرآن کا حکم ہے ،اس پر عمل کرنے کے بعد جب کبھی دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدمی سے کام لیا جائے اور اللہ تعالی سے رجوع کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کامیابی سے سرفراز فرمادیتے ہیں۔۔
الحمدللہ ،اللہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے یہ ایک بہت عرصے کے بعد ایک خوشی کا اور ہمارے لیے بہت قابل فخر واقعہ دکھایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پا گیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات مدت دراز سے بلکہ پہلے دن سے ہیں۔ سعودی عرب ہمارا نہ صرف ایک دوست ملک ہے بلکہ حرمین شریفین کی وجہ سے ہمارے لیے ایک تقدس کا نشان ہے۔ لہذا اس کے ساتھ دوستی اور قرب تو شروع سے چلا آتا ہے، لیکن یہ دفاعی معاہدہ ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ دشمنوں کی سازشوں کو ختم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ کی رحمت سے ان شاءاللہ ایسا ہی ہوگا۔ نیز اسرائیل جو ایک درندہ بنا ہوا ہے اور جس پر چاہتا ہے چڑھ دوڑتا ہے ، اس معاہدے کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اسے لگام ڈالنے کا بھی ایک موقع دیا ہے۔
قافلۂ استقامت کی حمایت کی اور ان کیلئے دعاؤں کی ضرورت
دوسری طرف میں یہ بھی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ غزہ کے مسلمانوں کی مصیبت میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی۔ وہاں پر دن رات وحشیانہ بمباری بھی جاری ہے اور ان تک پہنچنے کے اور امداد پہنچانے کے جتنے راستے ہیں وہ بھی اسرائیل نے بند کیے ہوئے ہیں ، دنیا کے سارے قوانین کے برخلاف ایک ناجائز محاصرہ کیا ہوا ہے۔ بھوک سے بچے مر رہے ہیں ، عورتیں مر رہی ہیں، بوڑھے مر رہے ہیں،اور وہ لوگ سخت آزمائش میں ہیں۔اگر کچھ امداد پہنچ بھی رہی ہے تو وہ بہت کم ہے، جو پوری طرح کارآمد نہیں ہو سکتی۔ اس موقع پر اللہ کے کچھ بندوں نے ایک کوشش شروع کی ہے،اور وہ ایک بحری قافلے (گلوبل صمود فلوٹیلا) کی شکل میں روانہ ہوئے ہیں جو اس وقت سمندر کے بیچ میں ہے۔ صمود کے معنی استقامت کے ہوتے ہیں ، تو استقامت کے نام پر، یہ بحری قافلہ تیونس سے چلا ہوا ہے اور ابھی سمندر کے درمیان ہے۔
یہ قافلہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ایک طرح کا ایک علامتی رد عمل ہے ، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر محاصرہ توڑدے اور محاصرہ توڑ کر غزہ کے لوگوں کو دوائیں اور غذائی سامان فراہم کرے۔ اس قافلے کے اوپر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اسرائیل اس کے راستے میں رکاوٹیں بھی ڈال سکتا ہے اور حملہ بھی کر سکتا ہے ۔اور اسرائیل جو خود دہشت گرد ہے اس نے اس قافلے کو دہشت گرد قرار دے دیا، حالانکہ یہ بیچارہ ایک پُرامن قافلہ ہے۔
یہ کوشش ہماری طرف سے پوری حمایت اور ہماری دعاؤں کی مستحق ہے، اللہ تعالی اس کی حفاظت فرمائے، اور اس کو منزل تک پہنچائے ، تاکہ یہ قافلۂ استقامت محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہو اور فاتح بن کر واپس آئے۔ اس کی بھی سب مسلمانوں سے دعا کی گزارش ہے کہ سب اس کو اپنی دعا میں یاد رکھیں۔ نیز غزہ کے مسلمانوں کے لیے، برما کے مسلمانوں کے لیے ،اور ان سارے مسلمانوں کیلئے جو جہاں جہاں پر ظلم کا شکار ہیں ان کی نصرت کے لیے، ان کے ظلم کو دور کرنے کے لیے کوئی مسلمان دعا سے پیچھے نہ رہے۔ہر نماز میں ان کے لیے دعا کرے۔ اور اس قافلے کے لیے دعا کرے۔
حالات کی بہتری اور مسلم ممالک کی بیداری کیلئے دعاؤں کی ضرورت
ہم اس کوشش میں براہِ راست شریک ہونے کے قابل نہیں ہیں۔ ہم عام لوگ ہیں، ہمیں ہتھیار چلانا بھی نہیں آتا، ہمیں ہتھیار بنانے بھی نہیں آتے، لیکن اگر یہ عام لوگ کم از کم اپنی دعاؤں کا رخ بدلیں،جس طرح اپنے لیے دعائیں کرتے ہیں، اپنی صحت کے لیے، اپنی معاشی ضروریات کے لیے، اپنی پریشانیوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، اسی طرح امت مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں۔ اسی طرح پاکستان کے لیے دعا کریں، سعودی عرب کے لیے دعا کریں۔ اور جو لوگ کہ فلسطین کے اندر اسرائیل کے ظلم و ستم کا شکار ہیں ان کی نجات کے لیے دعا کریں، ان کی فتح کے لیے دعا کریں۔ دعا بہت بڑا ہتھیار ہے۔نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:
الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ
دعا مومن کا ہتھیار ہے۔
ہر مسلمان پاکستان اور سعودی عرب کے لیے دعا کرے کہ یا اللہ پاکستان اور سعودی عرب کو استقامت عطا فرما دیجیے،اور اس معاہدے کو غیروں کی غلامی سے نکالنے کا ذریعہ بنا دیجیے۔ اور کچھ بعید نہیں ہے کہ دو ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا ہے تو اللہ تبارک و تعالی دوسرے مسلمان ملکوں کو بھی توفیق دے کہ وہ بھی اس میں شامل ہوجائیں۔
اگر ۵۷ملک جو عین دنیا کے بیچوں بیچ آباد ہیں،اور مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک اسلامی ممالک کی ایک زنجیر ہے ۔ اگر یہ آپس میں اس طرح متحد ہو جاتے ہیں تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ ان کو غلام بنا سکے یا ان کے حقوق کو تلف کر سکے۔
لہٰذا کسی بھی مسلمان کو کم از کم دعا سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ اور ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہمارے مظلوم مسلمان بھائیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں اللہ تعالی ان کو نجات عطا فرمائے۔ اگر سارے مسلمان دعاؤں میں لگ جائیں تو اللہ تبارک و تعالی کی رحمت سے کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس غلامی کی زندگی سے نجات عطا فرما دے۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(ماہنامہ البلاغ : رجب ۱۴۴۷ھ)