خطاب: حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
ضبط وترتیب: محمد حنیف خالد

امت مسلمہ متحد ہو جائے تو کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا

تمام  تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ، الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا و مولانا محمد خاتم النبیین و امام المرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وعلی کل من تبعہم باحسان الی یوم الدین۔ اما بعد۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیں رمضان المبارک کی ساعتیں میسر ہیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بندوں پر رحمت کا موسم بہار ہے۔ جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مغفرت کے دروازے کھولے ہوئے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے عمل پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر لکھا جاتا ہے۔ اور حدیث میں رسول کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس مہینے میں کوئی نفلی عبادت کی جائے تو وہ فرض عبادت کے برابر ثواب کا درجہ رکھتی ہے۔
عام طور سے سب سے زیادہ اجر فرائض میں ہے۔ اور نوافل بھی بے شک بڑے ثواب اور اجر کی چیز ہے، لیکن نفل کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک زائد چیز ہے۔ فرائض واجب ہیں، اگر کوئی شخص فریضہ ترک کرے گا تو سخت گنہگار ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سےاور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر فریضہ ادا کرےگا تو اس پر ثواب بہت زیادہ ہے۔
نفلی عبادتوں کا ثواب بھی بہت ہے لیکن فریضے کے برابر نہیں ہے۔ لیکن رمضان کے اندر اللہ تبارک و تعالیٰ نفلی عبادتوںکا بھی فرائض جیسا ثواب عطا فرماتے ہیں۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ فرائض کی جتنی اہمیت ہے، نوافل کی اتنی اہمیت نہیں ہے۔ بعض مرتبہ لوگ نوافل کےتو بہت پیچھے پڑے رہتے ہیں اور فرائض سے غافل ہو جاتے ہیں۔یہ بڑی غلط بات ہے۔ فرائض کی اہمیت زیادہ ہے، نوافل کی اہمیت اس کے بعدہے
مثال کے طور پر لوگ آج کل رمضان میں خصوصی طور پر تراویح کا تو بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ اور کوشش کرتے ہیں کہ پوری کی پوری ۲۰رکعتیں قرآن شریف کی تلاوت کے ساتھ سنیں اوراس میں شریک ہوں۔ ۲۰رکعتوں کی نماز ہے، بڑی لمبی نماز ہے۔ اس میں شرکت کا تو اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن جو پانچ وقت کی فرض نماز ہے، اس کا کچھ اہتمام نہیںکرتے
وہ جس وقت بھی چاہے پڑھ لی، جماعت سے ادا ہو گئی یا بغیر جماعت کے ہو گئی، اس کی پرواہ نہیں۔یہ درحقیقت دین کی سمجھ نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ ایک صاحب تہجد کی فضیلت سن کر رات کا بڑا حصہ جاگ کر گزارا، تہجد کی ، لمبی نماز پڑھتے رہے۔ اور اس کے نتیجے میں فجر کی نماز قضا ہو گئی۔
تو گویا انہوں نےفجر کی نماز کے مقابلے میں تہجد کی نماز کو زیادہ اہمیت دے دی۔ تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو تنبیہ کی کہ بھئی اگر تہجد نہ پڑھتے اور فجر پڑھ لیتے تو یہ بہتر تھا۔ بنسبت اس بات کے کہ تہجد پڑھ کر نماز فجر قضا کر دی۔ غرض یہ کہ عام دنوں میں نفل اور فرض میں ثواب کے اعتبار سے بڑا فرق ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے رمضان کے اندر نوافل کا ثواب بھی ، فرض کے برابر بنا دیا۔ اور فرض کا ثواب بڑھا کر ۷۰گنا کر دیا۔
ایک نماز جماعت سے آپ پڑھ رہے ہیں تو گویاآپ نے، ۷۰فرض نمازیں ادا کیں، اتنا ثواب مل جاتا ہے۔ تو اللہ تعالی کی رحمت کی گھٹائیںاپنے بندوں پر جھوم جھوم کر برستی ہیں۔ لہٰذا اس رمضان کے ایک ایک لمحے کو غنیمت سمجھ کر اس کو کسی ثواب کے کام میں صرف کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔
نوافل میں قرآن کریم کی تلاوت بھی داخل ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کے بارے میں بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جتنے ذکر ہیں، جتنے بھی اذکار ہیں، سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، یہ جتنے بھی اذکار ہیں، ان اذکار میں سب سے زیادہ افضل چیز تلاوت قرآن ہے۔ اور بعض بزرگوں سے یہ منقول ہے کہ انہوں نے اللہ جل جلالہ کو خواب میں دیکھا اور اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ یا اللہ آپ تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرا کلام۔ یعنی قرآن کریم کی تلاوت اور قرآن کریم پڑھنا۔
اس لئے اس مہینے کے اندر قرآن کریم کی تلاوت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ اور میں تو یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ بھئی اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم ہمارے لیے ایک نسخہ ہدایت ارسال فرمایا، اللہ کے محبوب ترین پیغمبرﷺ کے ذریعے۔ مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم یہ پیغام اٹھا کر طاق میں رکھ دیں اور کبھی نہ پڑھیں اور نہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اللہ نے اس پیغام میں ہم سے کیا فرمایا ہےیہ بڑی بے غیرتی کی بات ہے۔
لہٰذا میں ہمیشہ یہ گزارش کیا کرتا ہوں اپنے بھائیوں بہنوں سے کہ اپنے۲۴ گھنٹوں میں سے کچھ وقت چاہے وہ تھوڑا ہی ہو۔ لیکن پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کے لیے بھی نکالیں، قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے بھی نکالیں۔ میں کہتا ہوںکہ اگر کتنا بھی مشغول آدمی ہو لیکن اگر وہ اللہ کے لیےدس منٹ نکال لےکہ۱۰ منٹ میں اللہ کا کلام پڑھوں گا، تلاوت کروں گا۔ تلاوت کرنا بذات خود مقصود ہے۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ سمجھ کر پڑھیں یا بے سمجھے پڑھیں، ثواب دونوںصورتوں میں انسان کو ملتا ہے ۔ تو کچھ وقت تلاوت کے لیے ہمیشہ سارے سال مخصوص رکھنا چاہیے۔ اور کچھ وقت نکال کہ کسی مستند تفسیر کی مدد سے اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ الحمدللہ علماء کرام نے آسان طریقے سے قرآن کریم کا ترجمہ، تفسیر لوگوں تک پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔
اپنے ۲۴ گھنٹوں میں سے۱۰ منٹ ہی نکال لو کہ میںسمجھکر ایک صفحہ پڑھوں گا۔ تو۱۰ منٹ بھی اگر نکال لیں تو ان شاءاللہ رفتہ رفتہ قطرہ قطرہ دریا ہو جاتا ہے۔ اس کا خصوصی اہتمام رمضان میں کرنا چاہیے اور رمضان ہی سے یہ عزم کر لینا چاہیے کہ رمضان کے بعد بھی ہمارا قرآن سے رشتہ برقرار رہے گا۔ رمضان کے بعد بھی ہم قرآن کی تلاوت بھی کریں گے، قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش بھی کریں گے۔
رمضان کی یوں تو ہر ساعت ہی اللہ تعالی کے رحمتوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے لیکن اب چند دن کے بعد عشرہ اخیر آ رہا ہے۔ جو آخری عشرہ ہوگا۔ایک حدیث میںرسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ جب قیامت قریب آ جائے گی تو زمانہ قریب قریب ہو جائے گا۔ یتقارب الزمان۔ یعنی زمانہ تیزی سے گزرے گا۔
آپ ذرا اندازہ کیجیے کہ آج ہمارا ۱۶واں روزہ ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کل روزہ شروع ہوا تھا۔ اور آج۱۶ روزے ہو گئے۔رمضان اس طرح گزر رہا ہے کہ پتہ بھی نہیں چل رہا۔ گویا اس کے معنی یہ ہیں کہ رمضان کے بیشتر دن گزر گئے۔ ۱۶ دن گزر گئے۔ اب ۱۴یا ۱۵ باقی ہیں۔ توان ۱۴ ،۱۵ دنوں میں آخری عشرہ آنے والا ہے۔
وہ سارے رمضان کا عطر ہے۔ سارے رمضان کا خلاصہ، اس کا مکھن، اس کا عطر آخری عشرہ ہے۔ اس آخری عشرے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے چونکہ انسانوں کی مغفرت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں، اس لیے رسول کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول احادیث میں آیا ہے کہ جب آخری عشرہ آتا تو آپ کمر کس لیتے۔ اور رات کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔ عام راتوں میں جب آپ تہجد پڑھتے تھے تو ازواج مطہرات کو جگانے کا کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے تھے۔ خود ہی وہ اپنے شوق سے حسب استطاعت تہجد پڑھ لیتی تھیں۔ لیکن جگانے کا اہتمام نہیں ہوتا تھا۔ لیکن آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو جگاتے تھے۔ اور راتوں کو جاگتے تھے۔
اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسی آخری عشرے میں وہ رات آنے والی تھی یا اس رات کا انتظار تھا جس کو قرآن نے لیلۃ القدر کہا ہے۔ "انا انزلناه فی لیلة القدر”۔ اور یہ بھی ساتھ کہہ دیا ہے کہ "لیلۃ القدر خیر من الف شهر” یہ ایک رات ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے اس لیے آپ اس آخری عشرے میں خصوصی عبادت کا اہتمام فرماتے تھے۔ اور اس کی ایک اہم عبادت اعتکاف ہے، سرکار دو عالمﷺ ہر رمضان میں آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے۔ اور یہ فرماتے تھے کہ عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔۲۱،۲۳،۲۵ ،۲۷،۲۹، ان میں سے کوئی بھی رات لیلۃ القدر ہو سکتی ہے۔
اس رات سے خصوصی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تبارک و تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ اور یہ مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا بھی مہینہ ہے۔ مانگنے والا چاہیے۔ اگر ڈھنگ سے مانگے تو اللہ تبارک و تعالی کے ہاں دینے کی کچھ کمی نہیں ہے۔
کوئی جو نا شناس ادا ہو تو کیا علاج ان کی نوازشوں میں تو کوئی کمی نہیں
تو آدمی اپنے لیے بھی، اپنے گھر والوں کے لیے بھی راتوں کو تھوڑا سا چند نوافل کے لیے، کچھ تلاوت قرآن کے لیے اور کچھ دعا کے لیے اس طرح تقسیم کر لے کہ جتنا بھی جاگنے کا موقع ہو اس میں یہ تین کام ہو جائیں۔ کچھ نوافل چار سے لے کر ۱۲ تک جتنی بھی توفیق ہو۔ اور کچھ تلاوت قرآن کریم اور کچھ باقی دعا۔ اپنے لیے، اپنے احباب کے لیے، اپنے گھر والوں کے لیے، اپنے ملک کے لیے، اپنی ملت کے لیے، امت مسلمہ کے لیے۔
اور خاص طور پر اس زمانے میں امت مسلمہ کے لیے دعا کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ کیونکہ پچھلے دنوں ہماری امت مسلمہ زبردست فتنے کا شکار ہوئی ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے اوپر حملہ کر دیا۔ اور اب حملہ کرنے میں کسی شرم اور حیا کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ مذاکرات جاری ہیں۔ اور ایران نے کچھ باتیں تسلیم بھی کر لی ہیں۔ مذاکرات کی میز سے اٹھ کرایران کے اوپر جا کر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہ عالمی غنڈا گردی شروع ہوئی ہے۔ کہ ٹرمپ صاحب جب چاہیں کسی ملک کے اوپر جا کر، اس کے بادشاہ کے محل کے اوپر جا کر بمباری کرکے اس کو مار دیں اور اس پر قبضہ کر لیں۔ وینزویلا میں یہ کر چکے ہیں۔
اور کھلم کھلا یہ اعلان ہے کہ مجھے کسی بھی ملک کے اوپر اس طرح حملہ کرنے کاحق حاصل ہے۔ میں جس ملک کو چاہوں اس کو تباہ کر دوں، اور اس کے حکمرانوں کو ختم کر دوں۔ نہ کوئی اقوام متحدہ، نہ کوئی بین الاقوامی قانون، نہ کوئی اخلاق، نہ کوئی رواداری۔ میں عقل کل ہوں، میں جہاں چاہوں جا کر بمباری کر دوں، کسی آدمی کی باقاعدہ ٹارگٹ کلنگ کردوں۔
تو یہاں بھی ایران کے اوپر حملہ کرکے اسرائیل اور امریکہ نے امت مسلمہ کے خلاف زبردست سازش کھڑی کی ہے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ مسلمان آپس میں متحد نہ ہوں۔ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا دیا جائے۔ ایران پر حملہ ہوا، مذاکرات کے عین درمیان، ابھی بات چیت مکمل ہونے والی تھی۔ اور حملہ ہو گیا۔ اور اس کے سربراہ کو باقاعدہ نشانہ بنا کر قتل کیا گیا،
اب وہ جب اپنا نیا کوئی سربراہ مقرر کرنا چاہتے ہیں تو، تو’’ حضرت‘‘ فرما رہے ہیں ٹرمپ صاحب کہ مجھے شامل کرو اس مشورے میں کہ تمہارا نیا سربراہ کون ہوگا۔ مجھے یہ قبول نہیں ہے ، جو تم نے بنایا ہے۔ اس سے بڑی دھاندلی، عالمی سطح پر غنڈا گردی اور دھاندلی اور کیا ہوگی۔
اس موقع پر ضرورت ہے کہ ایران کے بڑے حصے سے جو شیعہ مذہب رکھتے ہیں، ہمیں عقائد کا اختلاف ہے۔ لیکن خدا کے بندو، یہ دیکھا کرو کہ کس وقت کس بات کا موقع ہے۔ کیا یہ وقت ایسا ہے کہ اس میں شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دی جائے؟ کیا امریکہ نے اس لیے حملہ کیا کہ وہ تمہارے عقائد کے خلاف رکھتا تھا؟ وہ توچونکہ ایک مسلمان کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس کے اوپر حملہ ہو رہا ہے۔
اور وہ اس کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہوا ہے۔ اس کی تو اس لحاظ سے ہمیں حمایت کرنی چاہیے۔ اور یہ اچھی بات ہے کہ ہماری حکومت نے بھی ایران کے ساتھ اس معاملے میں ہم آہنگی کا اعلان کیاہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اہم بات یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ ہے تو مواسات ہمدردی کا مہینہ۔ اور صبر کا مہینہ۔ اور اس میں تو تعلیم یہ دی گئی ہے کہ کوئی تم سے لڑنے بھی آئے تو کیا کرو؟ یہ کہہ دو میرا روزہ ہے۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔ افسوس ناک بات ہے کہ رمضان کے مہینے میں یہ جنگ چھڑ گئی۔ ادھر بھی مسلمان، ادھر بھی مسلمان۔ اور آپس میں برسر پیکار ہو گئے۔
اصل وجہ جنگ کی وہ تو یہ ہے کہ عرصۂ دراز سے پاکستان کے اوپر ایک ایسی جماعت مسلط ہے جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کاروائیاں کرتی ہے۔ اس نے اپنی دہشت گردی میں مسجدوں کو نہیں چھوڑا، بچوں کو نہیں چھوڑا، عورتوں کو نہیں چھوڑا، علماء کو نہیں چھوڑا اور بلا امتیاز مسجد کے نمازیوں پر خود کش حملے، بازاروں پر خود کش حملے، اپنی خود کشی کرکے دوسرے کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ۔ اور جو جماعت یہ کام کر رہی ہے، وہ نام لیتی ہے طالبان کا۔ تحریک طالبان پاکستان۔
ہم بار بار اس بات کا واضح طور سے اعلان کر چکے ہیں کہ یہ تحریک کسی طرح بھی ان کے لیے جائز نہیں ہے، ان کے لیےحرام ہے۔ کہ مسلمانوں کے اوپر حملہ آور ہوں۔ یہ سلسلہ سالہا سال سے چل رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ہم نے بار بار افغان طالبان جو حقیقی معنی میں طالبان ہیں، یہ تو نقلی طالبان ہیں ۔ اصلی طالبان سے بار بار ہم نے درخواست کی آج نہیں بلکہ اس وقت بھی جب امریکہ کے ساتھ جنگ جاری تھی۔ اس وقت بھی یہ لوگ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے تھے اور اس کو جہاد کا نام دے دیتے تھے۔ کو جہاد کا نام رکھا، ہوا تھا۔
اس وقت بھی ہم نے کھل کر یہ بات کہی کہ یہ ناجائز اور حرام کام کر رہے ہیں۔ لیکن اس وقت افغانستان کے طالبان سے چونکہ ہمارے بہت اچھےقریبی روابط تھے، ہم نے حتی الامکان اپنے بس میں جتنا تھا امریکہ کے خلاف ان کی مدد کی۔ اور ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اس وقت بھی ہم ان سے جب درخواست کرتے تھے کہ یہ جو آپ کے بناوٹی طالبان ہیں، تحریک طالبان پاکستان کے نام سے، آپ سے ان کا کوئی تعلق ہے یا نہیں ہے؟ تو وہ کہتے تھے کہ نہیں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ تو ہم کہتے تھے ایک مرتبہ کم از کم آپ ان سے برات کا اظہار کر دیں۔ کیونکہ آپ کا نام استعمال کرتے ہیں۔ لیکن بار بار کہنے کے باوجود اور بار بار اس کا اقرار کرنے کے باوجود وہ انہوں نے اس زمانے میں ان سے برات کا اظہار نہیں کیا۔
یہ ان کا افسوس ناک رویہ ہے جو چلا آ رہا ہے۔ اور اسی رویے کی بنیاد پر اب یہ تحریک طالبان پاکستان کرنے والے، ٹی ٹی پی جس کو کہا جاتا ہے، یہ اپنا امیر المومنین انہی کو کہتی ہے۔ اور انہی کا نام استعمال کرتی ہے۔ اور پھر انہی کی زمین سے ہمارے اوپر آکر حملے، حملہ آور ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ عرصہ دراز سے چلا آ رہا ہے۔
یہ ہمیں شکایت افغانستان سے مدتوں سے ہے، اب بھی ہے۔ لیکن اس شکایت کے لیے ہمارے نزدیک آپس میں جنگ کر لینا، جنگ ٹھان لینا یہ کوئی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے نہ پاکستان کا فائدہ نہ اس سے افغانستان کا فائدہ۔ اس سے صرف دشمنان اسلام کو فائدہ ہوگا۔ اور افسوس یہ ہے کہ یہ جنگ رمضان کے مہینے میں شروع ہو گئی۔ کس نے پہلے پہل کی؟ کس نے جواب دیا؟ اس بحث سے قطع نظر۔ لیکن رمضان کے مہینے میں جہاں یہ حکم حضور کا ارشاد ہے کوئی دوسرا بھی تمہارے ساتھ جہالت کا برتاؤ کرے، لڑائی کرے، تو تم کہو میرا روزہ ہے، میں اس وقت رمضان کے اندر تم سے لڑائی نہیں کروں گا۔
مگر یہاں رمضان کے اندر بھی چھڑ گئی ہے۔ انتہائی افسوس ہوتا ہے۔ اور ہونا یہ چاہیے تھا، میں آپ سے آج حقیقت بھی عرض کر دوں کہ یہ جو فسادی گروہ ہیں، چاہے وہ ٹی ٹی پی کے نام سے ہوں، چاہے وہ داعش کے نام سے ہوں، یا کسی اور نام سے ہوں، یہ ایسے گروہ ہیں کہ جن کے بارے میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ پاکستان جیسے ملک کو کمزور کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔
اگر یہ کہوں تو کچھ مبالغہ نہیں ہوگا کہ کھڑے کیے گئے ہیں۔ آپ اس بات کا نوٹس لیں کہ کل ہندوستان کا وزیراعظم مودی اور اسرائیل کا وزیراعظم نیتن یاہو دونوں کی اسرائیل میں ملاقات ہوئی ہے۔ اور اسرائیل کی طرف سے نریندر مودی کو اسرائیل کا سب سے بڑا اعزاز دیا گیا ہے۔ اور دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا ہے۔ معاہدہ کیا ہوا ہے کہ ہم ایک مشترک فنڈ بنا رہے ہیں اور اس فنڈ کے ذریعے ہم دونوں افغانستان کے اندر، افغانستان کی مدد کریں گے پاکستان کے خلاف۔ کل ہی یہ معاہدہ، کل یا پرسوں ایک آد دن کے اندر یہ معاہدہ ہوا ہے۔
اب آپ اندازہ کریں کہ افغانستان کی مدد کون کر رہا ہے؟ اسرائیل اور ہندوستان۔ ان کی مدد سے، مدد کیوں کر رہے ہیں؟ اسرائیل مدد کر رہا ہے، انڈیا مدد کر رہا ہے، افغانستان کی کر رہا ہے۔ کیوں کر رہا ہے؟ اس لیے کہ پاکستان ایک کھٹکتا ہے ان کی نگاہوں میں۔ کہ اگر کسی وقت موقع آیا تو یہ ملک ہے جو ہمارا، ہمارا دشمن ہے۔ لہذا جو ہمارے دشمن کا دشمن بن جائے وہ ہمارا دوست ہے۔ یہ باقاعدہ اعلان ہو گیا ہے۔
تو بہرحال اس تمام تلخ حقیقت کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے جنگ کسی بھی اعتبار سے فائدہ مند نہیں ہے۔ اس کا نقصان ہوگا، دونوں کو ہوگا۔ اور جنگ کے زمانے میں جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو پھر دعوے بھی بڑے اونچے اونچے کیے جاتے ہیں۔ اور ہر ایک اپنی فتح کے دعوے کرتا ہے۔ اور اس میں دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔
حالانکہ اگر معاملے کو سلجھانا چاہے، سلجھانا مقصود ہو، سچے دل سے مقصود ہو تو دو مسلمانوں میں کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں ہوتا جو کبھی سلجھایا نہ جا سکے۔ اس معاملے کو جب لڑائی تک پہنچانا اور خاص طور پر رمضان کے مہینے میں جہاں یہ حکم، حضور کا ارشاد ہے کوئی دوسرا بھی لڑائی پہ آمادہ ہو تم کہہ دو میرا روزہ ہے میں نہیں، میں نہیں لڑتا۔ اس میں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہو جانا، ایک دوسرے کے اوپر ہتھیار اٹھانا، ایک دوسرے کے ساتھ جان کے دشمن ہو جانا، انتہائی افسوس ناک ہے، انتہائی علمناک ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس چیز کا وہ زبانی طور پر اقرار بھی کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں سے لوگ جاتے ہیں پاکستان کے اوپر حملہ آور ہونے کے لیے، لیکن ہم نے اپنی طور پر منع کر رکھا ہے، اپنے طور پر ہم نے فتوی دے رکھا ہے کہ یہ پاکستان کے اوپر حملہ کرنا ناجائز ہے۔ لیکن یہ فتوی دینے کے باوجود وہ ان کا نام استعمال کرکے ہمارے اوپر حملہ آور ہوتے ہیں۔ تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ یہ ان سے برات کا نہ صرف برات کا اعلان کریں بلکہ ساتھ ساتھ ان کو لگام دیں۔ اور اس لگام دینے میں وہ کہتے ہیں بھئی یہاں پر بھی ہیں، یہ فسادی گروہ اور پاکستان کے اندر بھی ہیں، نہ ہم سے سنبھل رہے ہیں نہ پاکستان سے سنبھل رہے ہیں۔ تو اس کا واحد حل یہ تھا کہ دونوں مل کر، دونوں یکجان ہو کر اس فسادی گروپ کا مقابلہ کریں۔ نہیں یہ کہ آپس میں گتھم گتھا ہو جائے۔
لیکن افسوس ہے کہ ابھی تک اس کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ بہرحال بھئی ہم جیسا آدمی جس کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے، وہ سوائے افسوس کے اور سوائے اللہ تعالی سے دعا کے اور کیا کر سکتا ہے۔ تو بھائی رمضان کے ساعتوں میں اس بات کی بھی دعا سب مسلمانوں کو کرنی چاہیے۔ کہ مسلمان کا مسلمان سے لڑنا انتہائی مبغوض چیز ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت، بڑی سخت وعید فرمائی ہے کہ جب دو مسلمان تلوار اٹھا کر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو قاتل بھی جہنم میں اور مقتول بھی جہنم میں ہے۔ یہ فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ یا رسول اللہ قاتل کا تو جہنم میں آنا سمجھ میں آتا ہے، مقتول کیوں جہنم میں؟ کہا مقتول اس لیے جہنم میں کہ وہ یہ ارادہ لے کر نکلا تھا کہ میں اس کو، اس کو قتل کروں گا مسلمان کو۔ وہ داؤ نہیں چلا اس کا۔ ورنہ اس نے اپنی طرف سے کوئی قمر نہیں، کسر نہیں چھوڑی تھی۔
تو اس غور کا موقع دیتے ہوئے رمضان کی ساعت کو اگر آپس کی لڑائی کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو دل یوں چاہتا ہے۔ لیکن مقدرات ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے ہمارے مقدر میں یہی آ گیا کہ رمضان کا مہینہ بھی ہو اور مسلمان مسلمان سے لڑتا بھی رہے۔ بہرحال اس کے لیے بھی دعا کرنے کی ضرورت ہے راتوں کی تنہائی میں اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ، بارگاہ میں حاضر ہو کر اللہ سے یہ فریاد کریں کہ یا اللہ ہم ان، ان فتنوں میں گھر گئے ہیں۔ اور اسرائیل اور امریکہ اس فکر میں ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ اور ان کو آپس میں لڑا کر یہ آپس میں لڑ بھڑ کر خود ختم ہو جائیں۔
یا اللہ ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما دیجیے۔ اور امت مسلمہ کو متحد ہونے کا جو خواب ہے، اے اللہ اس کو، اس کی تعبیر اس کی عطا فرما دیجیے۔ ساری امت مسلمہ اگر متحد ہو جائے تو نہ کوئی امریکہ، نہ کوئی اسرائیل، نہ کوئی اور، نہ بھارت، نہ کوئی اور ہمارا دشمن، ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ اللہ تعالی نے مسلمانوں کے اتحاد میں اتنی طاقت دی ہے۔ لیکن ساری سازشیں اس پر چل رہی ہیں کہ یہ اکٹھے نہ بیٹھیں۔ ان کو لڑاؤ۔ کبھی فرقہ واریت کی بنیاد پر لڑاؤ، کبھی ان کو اس طرح لڑاؤ کہ یہ ایک دوسرے کو کافر کہنا شروع کر دیں، کبھی اس طرح لڑاؤ کہ ان کو یہ کہیں کہ یہ ہمارے اوپر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہیں لہذا ہم ان سے لڑنے کو تیار ہیں۔ مختلف اندازوں سے مسلمانوں کو لڑایا جا رہا ہے۔
لیکن اس ساری کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ جل جلالہ کی قدرت سے، اس کی رحمت سے باہر نہیں ہے۔ لہذا ہم اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم رمضان کی تنہائیوں میں، رمضان کی راتوں میں اللہ سے فریاد تو کر سکتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما دیجیے۔ اور مسلمانوں کو لڑانے کی جو سازشیں ہو رہی ہیں ان کو ناکام بنا دیجیے۔ اور اللہ تبارک و تعالی ہمیں صحیح موقف، صحیح راستہ ہمیں بھی، ہمارے حکمرانوں کو بھی، ہمارے اہل سیاست کو بھی، یا اللہ صحیح راستہ سجھا دیجیے۔ ایسا راستہ جو ہمارے ملک کے لیے، ہماری ملت کے لیے، ہماری امت مسلمہ کے لیے بہتر ہو۔
یہ دعا بھائی ہر مسلمان کم از کم یہ دعا کا، اس دعا کا وظیفہ بنا لے رمضان کے اندر۔ تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالی ہمارے دن بدل دے۔ اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے ہم پر رحم فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : شوال ۱۴۴۷ھ)