خطاب: حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
ضبط وترتیب:جنید اشفاق اٹکی

علم کااصل مقصود خوداپنی اصلاح ہے

تمام  تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا
۱۸؍رجب ۱۴۴۷ مطابق ۸جنوری ۲۰۲۶ کو جامعہ دارالعلوم کراچی میں جلسہ دستار بندی ہوا۔اس عظیم الشان موقع پر رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا الہامی خطاب ہوا۔اس خطاب میں آپ نے علم کے اصل مقصود کو بیان فرمایا۔یہ قیمتی خطاب ہدیہ ٔ قارئین ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وعلی کل من تبعھم باحسان الی یوم الدین اما بعد

حضرات اساتذہ کرام اور میرے طالب علم ساتھیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اللہ جلّ جلالہ کا عظیم احسان اور کرم ہے کہ آج ہمارا تعلیمی سال اختتام اور تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ زمانہ جس تیز رفتاری سے گزر رہا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کل افتتاح ہوا تھا اور آج اس کی تکمیل ہو رہی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا کس زبان سے شکر ادا کیا جائے کہ اس نے یہ پورا سال عافیت ، اطمینان ، سکون اور دلجمعی کے ساتھ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کی خاطر کوئی کام تکمیل کو پہنچے ، تو دو چیزوں کا اہتمام ہمیں قرآن و سنت نے بتایا ہے ، ایک اس کی تکمیل پر اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرنا اور دوسرے اس کام کی انجام دہی میں جہاں کہیں کوئی کوتاہی ، کمی رہ گئی ہو ، اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ سے استغفار کرنا۔ اس موقع پر ہمیں ان دونوں کاموں کا اہتمام کرنا چاہیے ، اللہ جل جلالہ کا شکر اور اپنی کمی کوتاہی پر استغفار ، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
اب اس تکمیلِ سال کے بعد طلبہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے ،طلبہ کی بڑی تعداد اپنے اپنے گھروں کو چلی جائے گی ، بہت سے اساتذہ کرام بھی ایسے ہیں ، جو چھٹیوں میں اپنے گھر یا کسی اور مقام پر چلے جاتے ہیں۔ اور دارالعلوم کی فضاء سنسان ہو جاتی ہے ، کیونکہ دارالعلوم کی آبادی طلبہ اور اساتذہ ہی سے ہے ، جب تک اساتذہ اور طلبہ موجود رہتے ہیں ، ان کا باہمی تعلق قائم رہتا ہے ، تو سارا دارالعلوم آباد نظر آتا ہے ، اور جب یہ چلے جاتے ہیں تو ایک سنسان کی کیفیت معلوم ہوتی ہے ، میرا تجربہ تو یہ ہے کہ تعلیم و تعلم کا جب تک سلسلہ جاری رہتا ہے ، اس وقت تک اوقات میں بھی برکت ہوتی ہے، اور اس وقت میں کام بھی زیادہ ہو جاتا ہے ، اور جب یہ تعلق عارضی طور پر منقطع ہوتا ہے ، بظاہر تو چھٹیاں ہوتی ہیں اور چھٹیاں ہونے کے اندر کام زیادہ ہونا چاہیے ، وقت زیادہ ملنا چاہیے ، لیکن چھٹیوں کے اندر وہ برکت کام میں نہیں رہتی ، جو تعلیم کے زمانے کے اندر اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرماتے ہیں۔ بہرحال! جب طلبہ و اساتذہ کم ہوتے ہیں ، تو ہم وہ زمانہ اداسی کے ساتھ گزارتے ہیں اور نئے سال کے انتظار میں رہتے ہیں۔طلبہ میں سے ایک بڑی تعداد الحمدللہ ان کی ہے ، جو دورہ حدیث کی تکمیل کر چکے ہیں ، اور آج ان شاءاللہ ان کی دستار بندی بھی ہو گی۔ یہاں سے جانے کے بعد وہ کس طرح کام کریں ، اور کس طرح اپنی تعلیم کے مقاصد کو حاصل کریں ، اس کے بارے میں حضرت مولانا مفتی عبدالرؤوف صاحب ، حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب مدظلہما نے آپ حضرات کو نصیحتیں فرمائی ہیں ، اللہ تعالیٰ ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
میں مختصراً یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جو طالب علم تکمیل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو جائیں گے تو وہ درحقیقت دارالعلوم کے سفیر ہیں ، جو اپنے گھروں میں جا کر اپنے اپنے علاقوں میں جا کر دین کا کچھ کام کرنے کی کوشش کریں گے ، تو پہلی بات یہ سمجھ لیجئےکہ سال کے شروع میں بھی آپ کو یہ یاد دلایا گیا تھا اور یہ بات ہر وقت مستحضر بھی رہنی چاہیے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا مقصد پیسہ کمانا نہیں ہے ، تعلیم کا مقصد دنیوی مناصب حاصل کرنا نہیں ہے ، تعلیم کا مقصد شہرت کا حصول نہیں ہے ، عام طور سے دل میں یا زبان پر یہ بات آتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد دین کی خدمت ہے ، بے شک یہ ایک بڑی خدمت ہے لیکن پہلا مقصد خود اپنی اصلاح ہے۔ پڑھنے کا اصل مقصود خود اپنی اصلاح ہے کہ ہم جب دین کا علم حاصل کریں تو اپنی زندگی کو سنت کے مطابق بنائیں ، ہمارے ہر عمل میں ، ہر ادا میں سنت کی جھلک موجود ہو ، یہ اصل مقصود ہے۔ جب تک یہ صفت حاصل نہیں ہوتی،اس وقت تک آگے دین کی خدمت کا راستہ بھی مشکوک ہو جاتا ہے ، ایک عالم جو خود اپنے علم پر عمل پیرا نہ ہو ، جس کی نمازیں قضا ہوتی ہوں ، نمازوں کے اندر جس چیز کے اہتمام کرنے کا قرآن و سنت نے حکم دیا ہے کہ نمازوں میں خشوع ہونا چاہیے ، نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہیں ، نماز کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خاطر پڑھنا چاہیے ، بلکہ اس طرح پڑھنا چاہیے کہ
کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک
یہ سب پڑھ کر جو علم حاصل کیا ، اگر اس کا کوئی عکس اپنی زندگی میں نہیں آیا ، تو وہ علم محض ایک کاغذی علم ہے ،وہ علم حقیقی علم نہیں ہے جو انسان کو عمل کے اوپر آمادہ نہ کرے ، لہذا ہم چاہے پڑھانے والے ہوں یا پڑھنے والے ہوں،ہم سب کو اس کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس علم کا کیا عکس ہماری زندگی میں آیا۔ عبادات میں ، معاملات میں ، معاشرت میں ، اخلاق میں ہمارے اندر کوئی تبدیلی پیدا ہوئی یا نہیں ہوئی ، اگر ان میں تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ، اس میں سنت کی کوئی جھلک نہیں آئی ، تو یہ دستار اور یہ سند اس کی کوئی حقیقت نہیں ، اس کی کوئی اصلیت نہیں ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ، فائدہ اس وقت ہے جب علمِ حدیث پڑھنے کے بعد اور یہ دستارِ فضیلت اپنے سر پر لگانے کے بعد ہم سنت کا نمونہ نظر آئیں ، ہمارا ظاہر بھی ، ہمارا باطن بھی ، ہمارے اعمال بھی ، ہماری عبادتیں بھی ، ہماری معاشرت بھی ، ہمارے اخلاق بھی سنت کے مطابق ہوں ، تو بے شک یہ دستار سجتی ہے! یہ ایک زینت ہے ، یہ ایک اعزاز ہے ، یہ ایک قابلِ فخر چیز ہے ، لیکن اگر خدا نہ کرے ، اس میں کمی آئی تو پھر اس کا کوئی حاصل اور کچھ حصول نہیں ہے۔
ہمارے تمام بزرگ جن کے ہم نام لیوا ہیں ، جن کے نام پر ہم جیتے ہیں ، ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کسی اللہ والے سے اس نے اپنا تعلق نہ جوڑا ہو ، اپنی اصلاح کرنے کے لیے ، اپنے اخلاق کو درست کرنے کے لیے ، اپنے رذائل کو ختم کرنے کے لیے ، فضائل کو حاصل کرنے کے لیے ، وہ کسی نہ کسی اللہ والے سے اپنا تعلق جوڑتے تھے ، تاکہ جو کچھ پڑھا ہے ، اس پڑھے ہوئے علم کا اثراپنی عملی زندگی کے اندر آئے ، اس لیے میں اپنے ساتھیوں سے جو اس سال دور حدیث کی تکمیل کر رہے ہیں ، پہلی گزارش یہ کرتا ہوں کہ اس طرف متوجہ ہوں ، خود رائی سے کوئی کام نہ کریں ، اس میں اپنے اکابر کے طریقہِ زندگی کو اپنائیں اور اس کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں، کسی اللہ والے سے اپنا تعلق جوڑیں اور اس سے اپنی اصلاح کرائیں ، اس سے تزکیہ کرائیں ، اس کے بغیر علم محض ایک خول ہے ، جس کے اندر کوئی روح نہیں ہے ، لہذا پہلی میری گزارش اپنے ساتھیوں سے یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل مکمل نہ سمجھیں کہ دستار بندھ گئی اور امتحان میں اچھے نمبر حاصل ہو گئے ، تو بس ہم کامل مکمل ہو گئے ، بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ طالب علمی کا آغاز اب ہوا ہے ، اس کے اندر پہلا کام یہ ہے کہ اپنے حالات کی اصلاح کرنے کے لیے کسی بڑے کو اپنا سربراہ بنائیں،اپنا رہنما بنائیں ، اپنا مرشد بنائیں اور اس کے تحت اپنی زندگی گزاریں۔ اور جب تک یہ بات حاصل نہ ہو یعنی کوئی شیخ ملے نہیں تو اس وقت تک ہمارے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جب تک کسی کو شیخ میسر نہ آئے تو وہ اللہ والوں کی سوانح ، اللہ والوں کے حالاتِ زندگی ، اللہ والوں کے ملفوظات پڑھے ، یہ بسا اوقات شیخ کے قائم مقام ہو جاتے ہیں ، اس وقت جب انسان کو شیخ براہ راست میسر نہ ہو۔
مجھے انتہائی افسوس ہوتا ہے اس بات پر کہ جن بزرگوں کے ہم نام لیوا ہیں اور درحقیقت اگر کہا جائے کہ ہم جن کے نام کی روٹیاں کھاتے ہیں ، ان کے حالات سے بے خبر ہیں ، ہمارے جتنے مدارس دینیہ ہیں ان کی بنیاد دارالعلوم دیوبند ہے ، اور دارالعلوم دیوبند کے جو بانی ہیں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ، ان حضرات کے حالات سے واقفیت نہیں ، جانتے نہیں کہ یہ کون ہے اور ان کے حالات کیاہیں ، انہوں نے زندگیاں کیسے گزاری ہیں ، دارالعلوم کیسے قائم ہوا تھا ، کن مقاصد کے تحت قائم ہوا تھا ، اور اس کے بعد دارالعلوم کے اندر جو خدمات انجام پائیں وہ کن شخصیتوں نے انجام دیں اور کن حالات سے وہ گزرے ، اس سے واقفیت ہمارے اساتذہ اور طلبہ کو بھی بسا اوقات نہیں ہوتی ، اساتذہ کو بھی نہیں ہوتی ، یہ بہت بڑا نقص ہے جو ہمارے اندر پایا جاتا ہے۔
میں وصیت کرتا ہوں اپنے ساتھیوں کو جو فارغ ہو رہے ہیں وہ خاص طور پر اور جو ابھی زیر تعلیم ہیں عمومی طور پر کہ ان بزرگوں کے حالاتِ زندگی کو ، ان کے ملفوظات کو اپنا حرزِ جان بنائیں ،ہم میں سے ہر شخص اپنا جائزہ لے کر دیکھ لے کہ کتنے ایسے ہیں کہ ہم نے حضرت نانوتوی کی سوانح پڑھی ، ان کے حالاتِ زندگی سے واقفیت حاصل کی ، ان کے ملفوظات پڑھے ، حضرت گنگوہی رحمت اللہ علیہ کی کتنی معلومات ہمیں حاصل ہیں ، کبھی تذکرۃ الرشید پڑھنے کی نوبت آئی؟ کبھی ان کے حالات کو جانچا ،دیکھا؟ کہ کس طرح وہ اس مقام تک پہنچے۔حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کہ ہم خاص طور پر نام لیوا ہیں ، ان کے حالات پڑھے؟ اشرف السوانح کتنے لوگوں نے پڑھی ہے اور ان کے ملفوظات اور مواعظ سے کتنا استفادہ کیا ہے ؟تو افسوس یہ ہے کہ اگر یہ سوال کیا جائے تو ہم میں سے اکثر لوگوں کا شاید جواب نفی میں ہوگا ، کہ نہیں! کچھ نہیں پڑھا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنے اکابر سے پوری طرح وابستہ نہیں ہو سکے۔یہ ایک بہت بڑی خامی ہے جو ہمارے اندر پائی جاتی ہے۔
میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی دی اور زندگی نہ ہو تو کم از کم میں وصیت کرتا ہوں کہ آئندہ سال سے جہاں ہم تعلیم کا ایک نظام الحمدللہ چلا رہے ہیں ، جس کے مختلف شعبہ جات کی تفصیل آپ حضرات نے سنی ہے ، تو وہاں ایک نظام تزکیہ اور اصلاحِ نفس کا باقاعدہ بنا کر اس کو اپنے ہاں جاری کریں۔ یعنی جو ظاہری علم ہے اس کے ساتھ جب تک اس کی روح نہیں ہو گی تو اس وقت تک وہ علم ادھورا ہے ، خول ہے ، اندر روح نہیں ہے ، اس روح کو پیدا کرنے کے لیے میرے ذہن میں اس کا بہت تقاضہ ہے کہ جب اگلا تعلیمی سال ہم شروع کریں ، پتہ نہیں میں اس وقت زندہ ہوں یا نہ ہوں ، میں وصیت کرتا ہوں اگر زندہ نہ ہوں کہ ایک ایسا نظام بنایا جائے کہ جس میںاخلاق کی تربیت اور تزکیہ کا اہتمام ہو۔ میں اپنے سارے ساتھیوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اگر میں زندہ نہ ہوں تو اس اگلے سال سے خاص طور پر تعلیم کے ساتھ تربیت کا ایک نظم سوچ سمجھ کر بنایا جائےجو قابلِ عمل بھی ہو اور مؤثر بھی ہو۔ اس کے بغیر ہم ایک خول ہیں اور اس کے اندر روح موجود نہیں ہے ، اس لیے میں اپنے تکمیل کرنے والے ساتھیوں کو بھی یہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو جا کر کسی اللہ والے سے وابستہ کریں اور جب تک وہ نہ میسر ہو تو یہ جو کمی میں بتا رہا ہوں اپنے اکابر سے تعلق کی کمی ، اس کو دور کریں۔
آج افسوس یہ ہے کہ ہمارے طبقے کے اندر نعروں کا زور ہے ، جذبات کا زور ہے، لیکن جو اس کی روح تھی وہ رفتہ رفتہ مٹ رہی ہے ، لہذا میں وصیت کرتا ہوں کہ اپ حضرات اپنی اپنی جگہوں پر جا کر اپنے اکابر کے حالات پڑھیں ، حضرت شیخ الحدیث صاحب مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی آپ بیتی ان سب بزرگوںکا عجیب و غریب تذکرہ ہے ، وہ اپنے مطالعے میں رکھیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ و ملفوظات۔ پہلے ملفوظات اور پھر مواعظ۔ ملفوظات پڑھنے میں زیادہ آسان ہیں، مواعظ میں تھوڑی سی دشواری ہوتی ہے ، لیکن دین کی جو سمجھ ، دین کی جو فکر اور انسان کو اپنی اصلاح کے جو طریقے ان مواعظ سے معلوم ہوتے ہیں وہ آج آپ کو کہیں اور نہیں ملیں گے۔ اس کو اپنا حرزِ جان بنائیں۔ ہم سے جب سب سے پہلا کام پوچھا جاتا ہے تو بعض اوقات میں زبان سے نکل جاتا ہے کہ دین کی خدمت ، لیکن دین کی خدمت تو اس وقت ہو گی جب خود اپنی خدمت ہو جائے ، اپنی اصلاح ہو جائے ، ہمارے اندر جو رذائل ہیں وہ دور ہو جائیں، ہمارے اندر حسد نہ ہو ، ہمارے اندر بدگمانی نہ ہو، اس میں ہمارے اندر اخلاقِ رذیلہ نہ ہوں تو بے شک پھر کام کے اندر برکت ہوتی ہے۔ کام کارآمد ہوتا ہے۔
اسی طرح میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ اپ نے ماشاءاللہ دارالعلوم کے مختلف شعبوں کی تفصیل سنی ، اور ہر شعبے کے اندر کیا کام ہو رہا ہے ، کتنے لوگ کام کر رہے ہیں ، کن شعبوں کے اندر یہاں الحمدللہ کام کیا جا رہا ہے۔ اس سے آپ کو دو سبق لینے چاہیں ، ایک سبق یہ کہ ہمارے دین نے ہمیں جہاں عبادات وغیرہ کا حکم دیا ہے وہاں ہمیں نظم و ضبط کا بھی طریقہ سکھایا ہے ، یہ مختلف شعبہ جات کے سارے کام جو آپ کو سنائے گئے ، یہ الحمدللہ ایک نظم و ضبط کے ساتھ ہو رہے ہیں ، اور الحمدللہ یہ کہنے میں شاید مبالغہ نہیں ہوگا کہ ہر شعبے کا ایک خاص طریقہ ہے ، اس کا انتظام ہے ، اس کے مدارج ہیں ، اس کے مطابق کام چل رہا ہے۔ طلبہ کو تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کس طریقے سے کام ہو رہا ہے ، لیکن الحمدللہ یہ ہو رہاہے۔ یہ نظم و ضبط جو آپ نے یہاں پر دیکھا اس کو اپنی زندگی کا محور بنائیں ، جو کام ہو نظم و ضبط کے ساتھ ہو ، للہیت کے ساتھ ہو ۔
آپ اس پر بھی غور فرمائیے کہ جتنے شعبہ جات آپ نے سنے ، اس میں کتنا بڑا عملہ کام کر رہا ہے اور الحمدللہ ہمارے ہاں عملے کی تنخواہوں کا معیار بھی دوسری جگہوں سے بہتر ہے ، آپ اندازہ لگائیں کہ یہ کتنا خرچہ ہوتا ہو گا، یہ اتنے شعبے ، اتنے عملے کے افراد ، اتنے اساتذہ ، اتنی معلمات ، اتنے کارکن ، اتنا اسٹاف ، اتنا عملہ ،مطبخ اور دارالاقامہ اور سب چیزیں، آپ ذرا ویسے ہی سوچیں کہ اس کا کتنا خرچہ ہو گا۔ میں آپ کو اگر بتاؤں تو آپ شاید حیران رہ جائیں کہ ہر مہینے کا خرچہ کتنا ہوتا ہے، وہ تو میں جانتا ہوں ، اس پر دستخط کر کے ہر مہینے دارالعلوم کے اکاؤنٹ سے ماہانہ اخراجات کےلیےپیسے نکالے جاتے ہیں ، وہ کروڑوںمیںہیں، کوئی اگر پوچھے یہ کروڑوں روپے کہاںسے آ رہے ہیں تو بخدا میرےپاس جواب نہیں کہ کہاں سے آ رہے ہیں میرے پاس جواب نہیں ہے کہ کہاں سے آ رہے ہیں ، اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ آپ یہ بتائیں کہ آپ کے ذرائع آمدنی کیا ہیں تو سوائے چند دکانوں کے ، یا مختلف شیڈوں کے جو کچھ آمدنی آ رہی ہے ، اس کا تو میں بتا سکتا ہوں ، اتنی فلاں جگہ سے کرائے کی آ رہی ہے ، اتنی فلاں جگہ سے کرائے کی آرہی ہے، مگر وہ ساری ملا کر پورے اخراجات کا پچاسواں حصہ بھی نہیں ہے ، جو موجودہ آمدنی ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو اصول ہشت گانہ مقرر فرمائے تھے ، دارالعلوم کے قیام کے وقت میں آٹھ اصول بتائے تھے ، ان آٹھ اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ مدرسہ جب قائم کریں تو اس میں زیادہ کوشش یہ ہو کہ کوئی مستقل ذریعہ آمدنی نہ ہو ، بلکہ اللہ کے بھروسے پر قائم کیا جائے ، اللہ کے لیے ہو گا، اللہ کے بھروسے پر ہوگا تو اللہ تبارک و تعالیٰ خود اس کے اسباب پیدا فرما دیں گے۔ میں اگر قسم کھا کر بھی کہوں تو ان شاءاللہ حانث نہیں ہوں گا کہ کبھی کسی سے چندے کی اپیل ہم نے نہیں کی، کسی سے چندے کی اپیل ہم نے نہیں کی ، نہ میںنے، نہ میرے پیش رو حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے ، نہ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ نے، کسی سے کہا ہو کہ بھئی اس کام کے لیے آپ پیسے دے دیں! کبھی نہیں ، نہ شخصی اپیل نہ عمومی اپیل ہم نے کی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ نظام جاری کر دیا۔ لوگ حیران ہیں ، لوگ پوچھتے ہیں اور خاص طور سے وہ لوگ جو مدارس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ تمہارے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آ رہا ہے اور اس لیے آ رہا ہے کہ ہمارے والد ماجد، بانی دارالعلوم رحمۃ اللہ علیہ ، جب تعمیرات کا کام شروع ہوا تو تعمیرات کے اندر پیسے بہت چاہیے تھے ، والد صاحب نے فرمایا جتنے پیسے ہیں ، اتنی بنا لو ، ایک موقع ایسا آیا کہ تعمیر کے لیے مزید پیسے نہیں تھے ، ناظمِ تعمیرات نے کہا کہ اب آگے پیسے نہیں ہیں ، فرمایا نہیں ہیں تو روک دو ، ختم کر دو، ہمارے ذمے کوئی فرض عین نہیں کہ ہم اس کو جاری رکھیں کسی طرح بھی چندا مانگ کر ، دوسرے لوگوں سے اپیل کر کے ہمارے ذمے نہیں،جتنا ہو گیا ، ہو گیا ۔ اب اور جب اللہ تعالیٰ دے گا تو اور بنا لیں گے ، اللہ کا کرنا ایسا ہوا اس کے کچھ دنوں کے بعد ایک صاحب آ گئے اور کہا کہ میں ریاض سے آیا ہوں اور صدقہ جاریہ میں پیسے لگانے کا دل چاہ رہا ہے تو اس صدقہ جاریہ میں پیسے لگانے کے لیے آپ بتا دیں ، والد صاحب نے بتا دیا کہ یہ ہے ، اگر آپ لگانا چاہیں تو لگا لیں۔ یہ جو آپ کو دارالعلوم کی اتنی تعمیرات اتنی نظر آ رہی ہیں ، افسوس ہے کہ بدگمانی کی بنا پر بعض لوگوں کی طرف سے یہ جملہ بھی میرے کان میں پڑا کہ ان کے بینکوں سے تعلقات ہیں ، لہذا انہوں نے بینکوں کی آمدنی سے تعمیرات کھڑی کر لی ہیں۔ میں آپ سے اگر یہ حلفاً کہوں تو حانث نہیں ہوں گا کہ کسی تعمیر کے لیے کسی بینک سے ایک پیسہ ہم نے وصول نہیں کیا۔ بعض اوقات پوری پوری عمارت ایک آدمی نے بنائی ، یہ دارالاقامہ اتنا بڑا جو آپ کو نظر آ رہا ہے ، یہ سب ملا کر تین آدمیوں نے بنایا ، دارالحدیث جو آپ کو نظر آ رہا ہے ، ایک آدمی نے بنایا ، دارالقرآن جو نظر آ رہا ہے ایک آدمی نے بنایا ، یہ سارا کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو رہا ہے ، اصول ہشت گانہ جو حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے مقرر فرمائے تھے ، ان اصول ہشت گانہ پر اللہ نے عمل کی توفیق عطا فرمائی ، اللہ تعالیٰ نے یہ برکت عطا فرما دی۔ آج بھی ہمیں نہیں پتہ کہ اب اس مہینے جو اخراجات ہوں گے تو وہ ہمارے پاس کہاں سے آئیں گے ، الحمدللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چونکہ نظام حساب کا اتنا صاف ستھرا ہے ، حسابات کے نظام کے اوپر ہم لاکھوں خرچ کرتے ہیں ، صرف حساب کو درست رکھنے کے لیے ، لہٰذا ایک ایک پائی کا،ایک ایک پیسے کا حساب واضح ہے ، کوئی اس میں پوشیدگی نہیں ہے ، کوئی اس میں غموز نہیںہے، اس طریقے سے اللہ تعالیٰ کر رہے ہیں۔
میرے بھائیو ! گزارش یہ کہ یہ ہمارا جو سارا نظام ہے وہ اصل میں اللہ جل جلالہ کے توکل پر چلتا ہے ، اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے چلتا ہے ، اس کے لیے نہ ایسا ہوتا ہے کہ پہلے منصوبہ بنایا جائے اور منصوبہ بنا کر لوگوں سے چندے مانگے جائیں ، اور اس میں علم اور اہلِ علم کی تذلیل و تحقیر کی نوبت آئے ،اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بڑے بڑے امراء ، بڑے بڑے دولت مند خود وقت لے کر آتے ہیں ، ان کو ملنے کا وقت نہیں ملتا اور مل کر وہ دیتے ہیں ، یہ سب کیا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے ان مدارس کا جو ایک نظام بنایا وہ یہ ہے کہ پہلے اپنی اصلاح، جس میں معاملات کی اصلاح بھی شامل ہے ، جس میں معاشرت کی اصلاح بھی شامل ہے ، جس میں اخلاق کی اصلاح بھی شامل ہے ، جب اپنے آپ کو درست کرنے کی کوشش کر لی تو پھر دوسروں تک اس کو بات کو پہنچانا۔
ہم سے لوگ پوچھتے ہیں ، بڑے بڑے جو ہمارے اصحاب اقتدار ہیں اور اصحابِ حکومت ہیں وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ یہ اتنے سارے لوگ آپ نکالتے ہیں ، ان کی کھپت کہاں ہو گی؟ کہاں جائیں گے ؟ کھپت کہاں ہوگی ؟ وہ اس لیے پوچھتے ہیں کہ ان کے نزدیک اور ساری دنیا کے نزدیک سوائے مدارس دینیہ کے ، تعلیم کا واحد مقصد پیسہ کمانا ہے۔ واحد مقصد یہ ہے۔ پوچھو کسی اسکول کالج کے طالب علم سے ، جو مدرسے وابستہ نہ ہو ، یونیورسٹیوں کے طالب علم سے کہ بھئی کیوں پڑھ رہے ہو؟ کیا جواب دے گا یہ کہ کیرئیر اچھا بنانا ہے ، کیریئر کا لفظ آج کل بہت چلا ہوا ہے ، اپنا کیریئر بنانا ہے ، کیریئر کے کیا معنی ہیں ؟ کہ ہمارا معاشی مستقبل درست ہو گا ، پیسہ کمانا پڑھائی کا واحد مقصد ہے ، کسی سے آپ یہ نہیں سنیں گے کہ ہم اس لیے تعلیم حاصل کر رہے ہیں کہ اپنے ملک و ملت کی خدمت کریں ، یونیورسٹی کے کسی طالب علم سے ، کالج کے کسی طالب علم سے آپ پوچھو ، تو کیا کوئی یہ جواب دے گا کہ میں اس لیے پڑھ رہا ہوں کہ میں اپنے ملک و ملت کی خدمت کروں وہ تو یہ کہہ رہا ہے کہ میرا کیریئر اچھا ہونا چاہیے ، میرا معاشی مستقبل اچھا ہونا چاہیے ، پیسہ زیادہ ملنا چاہیے جہاں سے بھی ملے ، جب یہ مقصد ہو گیا تو انسان ایک بکاؤ مال بن گیا ، وہ ایک مالِ تجارت ہے ، جو جتنی بڑی بولی لگائے وہ اسے لے جائے ، چنانچہ ہمارا سارا ٹیلنٹ یعنی ساری ذہانت اور مہارت کے حامل افراد آپ دیکھو سب باہر ہیں ، آج ہم سے صنعتکار یہ شکوہ کرتے ہیں کہ جی ہم نئی انڈسٹری کیسے لگائیں ، ہمارے پاس آدمی موجود نہیں ہیں ، اس کے چلانے والے ماہرین موجود نہیں ہیں ، باہر چلے گئے ، کوئی امریکہ کی خدمت کر رہا ہے ، کوئی برطانیہ کی خدمت کر رہا ہے ، کوئی دبئی کی خدمت کر رہا ہے کوئی ابو ظہبی کی خدمت کر رہا ہے ، کوئی خلیج کے ملکوں کی کر رہا ہے ، وہاں جا کر انہوں نے ان شہروں اور ان ملکوں کو جگمگا دیا ، کس نے جگمگایا؟ ہماری ذہانت کے لوگوں نے ، ہماری انسانی طاقت نے جا کر جگمگا دیا۔ کیوں جگمگا دیا ؟ اس لیے کہ پیسہ مقصد تھا ، پیسہ مقصد تھا، لہٰذا جو بولی زیادہ لگائے گا وہ اس کو لے جائے گا ، کتنا بڑا ماہر آدمی ہو ۔
یہاں یہ سکھایا جاتا ہے کہ بھئی! تمہارا واحد مقصد پہلے اپنی اصلاح ہے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ تم ملک و ملت کی خدمت کرو اور اپنے انسانوں کو دعوت دو ، اسلام کی طرف دعوت دو ، یہ مقصد ہے ، اس میں پہلے دن سے ہم یہ پڑھاتے ہیں کہ دنیا تمہارا مقصود نہیں ہے ، مقصود اپنی اصلاح ہے ، اپنے آپ کو اچھا انسان بنانااور دوسروں کی خدمت کرنا یہ مقصود ہے ، اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ جتنا دے دے ، اس پر قناعت کرے ، جتنا حلال طریقے سے دے دے اس پر قناعت کرے ، یہ ہے سبق جو ہم اپنے ساتھیوں کو دیتے ہیں ، جب دل میں قناعت بیٹھ جاتی ہے تو پھر ان کا مقصودِ زندگی پیسہ کمانا نہیں رہتا ، وہ کوئی نہ کوئی خدمت کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، اس میں جو کچھ مل رہا ہے ، اس پر قناعت کرتے ہیں ، جب اللہ کے لیے کوئی شخص قناعت اختیار کر لیتا ہے اور جب اس قناعت کے اوپر بھروسہ کر لیتا ہے کہ میرا مقصودِ زندگی پیسہ نہیں ہے ، تو پھر اللہ تبارک و تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ دنیا بھی اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے ،
تأتیہ الدنیا وھی راغمۃ
دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاؤں میں گرتی ہے ، اگر کوئی شخص ایک مرتبہ دنیا سے منہ موڑ لے اور اللہ کے لیے منہ موڑ لے تو ایسا وقت بھی آتا ہے کہ دنیا اس کے قدموں میں آ کر ڈھیر ہوتی ہے ،
تأتیہ الدنیا وھی راغمۃ
لیکن یہ کب ہوتا ہے ؟ جب آدمی صدقِ دل کے ساتھ اس مقصد کو اپنا لے ، جس مقصد کے لیے اس نے پڑھائی کی ہے ، پھر یہ ہوتا ہے۔آج بھی باوجود یہ کہ جو مدرسے کا پڑھا ہوا شخص ہے ، بازار میں اس کی کوئی بڑی قیمت نظر نہیں آتی ، لیکن آج بھی میں پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر کسی نے اچھی استطاعت کے ساتھ پڑھ لیا اور صحیح ، عمیق ، وسیع علم حاصل کر لیا ، اس کو کبھی ناقدری کا شکوہ نہیں ہوگا ، آج بھی ایسے مدرسوں کے پڑھے ہوئے لوگوں کی مانگ ہے جن کی استعداد اچھی ہو ، آج بھی ان کی مانگ کم نہیں ہوئی ، بڑھ گئی ہے، لیکن مقصد یہ نہیں ہے ، مقصد اپنی اصلاح اور دوسروں تک بات کو پہنچانا ہے۔
میری بات لمبی ہو گئی لیکن میں چاہتا تھا کہ یہ بات اچھی طرح آپ حضرات کے ذہن میں بیٹھ جائے کہ ہمارے مقاصد کیا ہیں ، آج ہم سے کہا جاتا ہے کہ بھئی تم ایسے مدرسے کو لیے بیٹھے ہو ، جن کے آدمی جائیں گے تو ان کی کھپت کہاں ہوگی؟ ارے بھئی! ہمارا مقصود معاشی خوشحالی کبھی بھی نہیں رہا ، اللہ تبارک و تعالیٰ خنزیروں کو رزق دیتے ہیں ، کتوں کو رزق دیتے ہیں ، پرندوں کو دیتے ہیں ، تو ہمارے دین پڑھنے والے کو نہیں دیں گے؟ ہاں! یہ ضرور ہے کہ کبھی تنگی بھی آئے گی ، کبھی ترشی بھی آئے گی ، انبیاء پر بھی آئی ہے ، صحابہ کرام پر بھی آئی ہے ، لیکن ہمارا مقصودِ زندگی اس کی وجہ سے تبدیل نہیں ہو سکتا۔
میرے بھائیو! جو فارغ ہو رہے ہیں ، وہ ان باتوں کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں ، دنیا میں جاؤ گے تو پھر طرح طرح کی بولیاں تمہارے سامنے آئیں گی ، تو اپنے اس مقصد زندگی کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو ، اللہ سے رشتہ جوڑو ، اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرو ، رجوع الی اللہ ، تعلق مع اللہ اس کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھو ، سمجھو گے تو ان شاءاللہ، اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی رسوا نہیں کریں گے ، جو ساتھی ایسے ہیں کہ اس سال ان کی تکمیل نہیں ہوئی ، یعنی ابھی دوسرے درجات میں پڑھ رہے ہیں ، ان سے بھی میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ اب چھٹیوں کا زمانہ آئے گا ، تو یہ ساری باتیں آپ بھی ذہن نشین رکھو جو آپ کو اس وقت کہی گئی ہیں ، بزرگوں کے حالات پڑھا کرو ، سوانح پڑھا کرو ، وقت کو بےکار نہ گزارو ، وقت کو کام میں لاؤ ، اپنے بزرگوں کے حالات پڑھو ، صحابہ کرام کے حالات پڑھو ، اور ساتھ ساتھ جو اگلے سال پڑھنا ہے اس کی کچھ تیاری چھٹیوں کے اندر کر سکو تو وہ کرو، اس طرح یہ چھٹیوں کا وقت کارآمد بنانا چاہیے ، اس طرح اگر آپ چھٹیوں کو کارآمد بنائیں گے تو ان شاءاللہ آپ کی آئندہ تعلیم کے اندر بھی مددگار ہوں گے۔ جو باتیں میں نے عرض کی ہیں وہ جس طرح ان کے لیے سچی ہیں جو دور حدیث کی تکمیل کر چکے ہیں ، وہ ان طلبہ کے لیے بھی ہیں جو ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، مقصودِ زندگی سمجھ لو اور اپنی نیت کو صحیح کر لو، اپنے آپ کو کو صحیح سچا ، پکا مسلمان بنانے کی پوری کوشش کرو ، عالم بننا ضروری نہیں ، سچا پکا مسلمان بننا ضروری ہے ، اس کو اختیار کرو ، یہاں رہتے ہوئے جو اپنے اساتذہ کرام کی تربیت آپ کو ملی ہے ،جا کر اس کا مظاہرہ آپ کی عملی زندگی میں ہونا چاہیے ، جب آپ اپنے خاندان میں پہنچو گے ، اپنے اعزہ احباب میں پہنچو گے ، تو وہ تم سے کوئی مباحث نہیں پوچھیں گے ، تمہارے کردار کو دیکھیں گے ، تمہارے عمل کو دیکھیں گے ، یہ پہلے نمازوں کا اہتمام نہیں کرتا تھا اب کرتا ہے یا نہیں ، پہلے جھوٹ بولتا تھا اب جھوٹ چھوڑ دیا کہ نہیں، پہلے یہ لڑائی بہت کیا کرتا تھا اب لڑائی کے اندر کمی آئی ہے کہ نہیں ، یہ چیز دیکھی جائے گی۔ اس کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھو۔ بس یہ چند گزارشات مجھے آپ حضرات سے کرنی تھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا فضل و کرم سے مجھے بھی آپ کو بھی سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : شعبان ۱۴۴۷ھ)