اردو ترجمہ : مولانا محمدجریر عثمانی صاحب
اسلامی مالیاتی نظام اور علماء کرام کی ذمہ داریاں
چیچنیا میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کا خطاب
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا
| چند ماہ قبل شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے روس کا سفر فرمایا تھا ، جس میں الحمدللہ بندہ کو بھی حضرت کی رفاقت کی سعادت حاصل تھی ، اس سفر کے دوران حضرت نے چیچنیا میں مفتی اعظم چیچنیا مفتی محمد صالح صلاح الدین مجییف کی دعوت پر ادارئہ دینیہ شیشان میں عربی زبان میں ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا تھا۔ افادۂ عام کے لئے اس خطاب کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( محمدجریر عثمانی) |
الحمد لله ربّ العلمين والصلاة والسلام على سيدنا ومولانا وشفيعنا ونبینا خاتم النبيين، وإمام المرسلين، سيدنا محمدنِالمصطفى ﷺ، وعلى آله الطاهرين، وأصحابه الأجمعین، وعلى کل من تبعهم بإحسان إلى يوم الدين
میرے معزز اور محترم بھائیو!
السلام علیکم ورحمة اللہ تعالیٰ وبرکاته
میں مدت سے خواہش مند تھا کہ ان بابرکت علاقوں، خصوصاً چیچنیا کی سرزمین کی زیارت نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے متعدد باردوسرے ممالک میں چیچنیا کےمسلمانوں سے ملاقات کی سعادت بخشی ہے۔میں نے ان ملاقاتوں میں ان کے چہروں پر خلوص، دیانت، دینداری، اور ایمانی نور محسوس کیاہے، جو ان کی فطرت کا آئینہ دار ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے میرے دل میں اس سرزمین کی زیارت کی طلب پیدا کی، تاکہ میں ان اہلِ ایمان سے بالمشافہہ ملاقات کر کے برکت ، اور ان سے سیکھنے کا موقع حاصل کر سکوں،تاہم کثرتِ مصروفیات اور پے در پے اسفار کی بنا پر یہ خواہش عرصۂ درازتک پوری نہ ہو سکی۔ الحمد للہ! اس بار اللہ تعالیٰ نے میرے موجودہ سفر کو میری دیرینہ خواہش کی تکمیل کا ذریعہ بنایاہے۔
میں مفتی محمد صالح صلاح الدین مجییف حفظہ اللہ (مفتی اعظم چیچنیا) کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے حسنِ اخلاق، محبت اور کرم نوازی سے مجھے مدعو فرمایا، اور آپ حضرات کے سامنے علمی گفتگو کی تاکید فرمائی۔ اسی طرح بعض ساتھیوں نے مجھ سے خواہش کا اظہار کیا کہ میں انہیں حدیث مسلسل بالاولیۃ (یعنی حدیثِ رحمت) کی اجازت دوں۔ چنانچہ میں اپنی گفتگو کا آغاز اسی حدیثِ مبارکہ سے کررہاہوں، یقیناًسب سے بہترین کلام اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہترین رہنمائی نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کی رہنمائی ہے۔
❖ حدیث مسلسل بالاولیہ اور اس کی اجازت
یہ حدیث مجھے شیخ حسن المشاط المکی المالکی رحمہ اللہ نے مسجد الحرام میں سن۱۹۶۳ ء میں روایت کی تھی۔ اس کے بعد مجھے یہی حدیث شیخ محمد یاسین الفادانی رحمہ اللہ نے سنائی، جو اپنے وقت کے عظیم محدث اور کثرتِ اسانید میں یگانہ روزگار تھے۔ پھر مجھے یہ حدیث شیخ احمد الناخبی رحمہ اللہ نے جدہ میں روایت کی، جب ان کی عمر۱۲۰ برس تھی-بعد ازاں مجھے یہ حدیث شیخ محمد یونس جونپوری رحمہ اللہ نے بھی عنایت فرمائی، جو برصغیر کے جلیل القدر علماء میں شمار ہوتے تھے۔ مجھے ان کی صحبت لندن میں میسر آئی، جہاں نہ صرف انہوں نے مجھے اس حدیث کی اجازت دی، بلکہ پڑھ کر بھی سنائی۔
ان تمام اساتذہ نے اس حدیث کو اپنی اپنی اسناد کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَٰنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ”
"رحمٰن رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے؛ زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا”۔
یہ وہی حدیث ہے جسے میں نے اپنے تمام مشائخ سے سب سے پہلے سنا، اور ان میں سے ہر ایک نے روایت کرتے وقت فرمایا:”یہ حدیث میں نے اپنے استاذ سے سب سے پہلے سنی ہے”۔
یہی تسلسل، حدیث کی وہ خاص صفت ہے جو سیدنا سفیان بن عیینہ ؒ تک جاتی ہے۔
میں آپ تمام حضرات کو اس حدیثِ مبارک کی متصل سند کے ساتھ روایت کی اجازت دیتا ہوں، اسی طرح میں اُن طلبہ کو بھی اجازت دیتا ہوں جو حدیثِ نبوی کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔نیز میں آپ تمام حضرات کو عمومی اجازت دیتا ہوں کہ آپ وہ تمام احادیث روایت کر سکتے ہیں جو میں نے اپنے مشائخ سے برصغیر، عرب دنیا اور پاکستان میں حاصل کی ہیں۔ ان تمام اسانید کو میں نے اپنی کتاب "ثبت العثمانی” میں مفصل طور پر جمع کردیا ہے۔
میں یہ سب کچھ آپ حضرات کی خواہش پر حصولِ سعادت کے لیے کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنتِ نبویہ ﷺ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
اصول فقہ، فہم اور فتویٰ
آج میری گفتگو کا موضوع اصول فقہ المعاملات ہے، یہ موضوع نہایت اہم، نازک، اور ساتھ ہی وسیع و عمیق ہے —، یہاں تک کہ کوئی شخص اس کے تمام پہلوؤں کو ایک مجلس یا ایک نشست میں بیان نہیں کر سکتا۔
میں جو باتیں عرض کر رہا ہوں ، دراصل وہ فقہ المعاملات کے میدان میں میری ذاتی غور و فکر، تجربے، اور مطالعے کا نچوڑ ہیں، جن سے مجھے رہنمائی ملی ہے۔
فقہ کا مفہوم: صرف علم نہیں، فہم اور عمل کا جامع نام
آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ” فقہ”صرف علم کا نام نہیں۔علم تو کسی چیز کو جان لینے کا نام ہے، فقہ کا مطلب یہ ہےکہ گہرائی سے سمجھنا، اس کی روح کو پالینا، اور عمل کی طرف بڑھنا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے دین کے سیکھنے کے لیے”تعلم” کا لفظ استعمال نہیں فرمایا، بلکہ فرمایا:
فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىِٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ (سورۃ التوبۃ : ۱۲۲)
لہٰذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ نکلا کرے ، تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لئے محنت کریں ۔(آسان ترجمہ قرآن)
یہاں ” لِیَتَفَقَّهُوْا ” فرمایا گیا، "لِيَتَعَلَّمُوْا” نہیں۔
پس، علم ایک سطح ہے، اور اس کی گہرائی، اس پر عمل، اور اس کی روح کو پالینا فقہ ہے۔علامہ حصکفی ؒ نے "الدر المختار” کی ابتداء میں امام حسن بصریؒ کا واقعہ نقل کیا ہےکہ کسی نے انہیں "اے فقیہ!” کہہ کر پکارا تو انہوں نے فرمایا:”کیا تم نے کبھی فقیہ کو دیکھا ہے؟” جب پوچھا گیا کہ "فقیہ کون ہوتا ہے”؟تو فرمایا:
"فقیہ وہ ہے جو دنیا سے زہد اختیار کرے اور آخرت کا طالب ہو”۔
یعنی فقہ کا حصول دنیاوی فائدے، مال، شہرت یا ریاکاری کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔جب کوئی مسئلہ درپیش ہو، تو فقیہ اسے اصولِ فقہ کی بنیاد پر پرکھے، اور اللہ کے خوف سے کانپتا ہوا فتویٰ دے، اس اندیشے کے ساتھ کہ کہیں وہ کسی غلطی کا شکار ہو کر جہنم کا مستحق نہ بن جائے۔یہی وہ فقہی بصیرت اور تقویٰ کا امتزاج ہے جس کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے۔
فتویٰ کا مقام اور احتیاط
امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ جب ان سے کوئی فقہی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ کچھ دیر خاموش رہتے، توقف فرماتے، اور پھر جواب دیتے۔ کسی نے دریافت کیاکہ آپ ہر سوال کے بعد خاموش کیوں ہو جاتے ہیں؟آپ نے فرمایا:”میں اس وقفے کے دوران اپنی جان کو جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا محسوس کرتا ہوں”!
یعنی اگر میرا جواب درست ہوا، شریعت کے اصولوں کے مطابق ہوا، تو یہ جنت کا ذریعہ بن سکتا ہے؛ لیکن اگر میں نے لاعلمی، غفلت یا ہویٰ کی بنیاد پر فتویٰ دے دیا، تو جہنم کی راہ میرا مقدر بن سکتی ہے۔ اسی لیے میں ہر فتویٰ سے قبل اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہوں اور پھر فتویٰ دیتا ہوں۔
اس لئے میں سب سے پہلے خود کو مخاطب کرتا ہوں، اور پھر آپ تمام حضرات کو متوجہ کرتا ہوں کہ فتویٰ دینا محض علمی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک عظیم اور نازک شرعی منصب ہے، جس میں لغزش دنیا و آخرت کے وبال کا باعث بن سکتی ہے۔جیسا کہ امام نوویؒ اور ابن القیمؒ نے فرمایا:”الفتوى توقيع عن رب العالمين”
(فتویٰ دینا درحقیقت رب العلمین کی طرف سے دستخط کرنے کے مترادف ہے)
کیونکہ حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ کوئی انسان محض اپنے فہم یا رائے کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہیں دے سکتا۔ پس جب کوئی مفتی کہتا ہے کہ "یہ حلال ہے یایہ حرام ہے”، تو گویا وہ اللہ کے حکم کی ترجمانی کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا فتویٰ دیتے وقت انتہائی خوف، احتیاط اور اخلاص کی ضرورت ہے۔
مفتی کی دو بنیادی ذمہ داریاں
۱۔ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کا احساس ۲۔ شریعت کے احکام، رخصتوں اور تسہیل کے اصولوں کی مکمل واقفیت۔
اگر کوئی شخص محض اپنی رائے پر اصرار کرے، بیجاسختی کو دین کا رنگ دے، یا سہولتوں سے ناواقف ہو تو وہ نہ صرف لوگوں پر تنگی کا سبب بنتا ہے، بلکہ خود اللہ کی گرفت میں بھی آ سکتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بُعِثْتُ مُيَسِّرًا وَلَم أُبعَثْ مُعَسِّرًا”
(مجھے آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، سختی کرنے والا بنا کر نہیںبھیجا گیا)
لہٰذا، ایک مفتی کو یہ توازن برقراررکھنا ضروری ہے کہ ایک طرف وہ لوگوں کو سہولت دے، اور دوسری طرف اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونے کو بھی سامنے رکھے۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دے جو اللہ کے ہاں حرام ہو، تو یہ آخرت میں ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔اسی لیے سلف صالحین، خاص طور پر فقہائے کرام چلتے پھرتے فتویٰ دینے سے ہمیشہ اجتناب کیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھےکہ:
"یہ ایک امانت ہے، اور اس سے سبکدوشی اسی وقت ممکن ہے جب ہم پورے شعور، خلوص اور علم کے ساتھ جواب دیں”۔
فقہ المعاملات میں فتویٰ کی احتیاط
خصوصاً فقہ المعاملات یعنی مالی و تجارتی معاملات کے باب میں فتویٰ دینا زیادہ حساس ہے۔ اس میدان میں ذرا سی بے احتیاطی بھی اللہ کے حکم میں تحریف کا سبب بن سکتی ہے۔تجارتی اور مالی معاملات جیسے: بیع و شراء، اجارہ، شراکت، کمپنی، مضاربت، رہن، اور قرضے وغیرہ… یہ سب نہایت باریک اور پیچیدہ امور ہیں، جن پر فتویٰ دینے کے لیے محض فقہی علم کافی نہیں بلکہ ایک گہرے فہم، تجربے اور معاصر عرف سے واقفیت بھی لازم ہے۔آج کے دور میں جو فقیہ یا مفتی مالیاتی امور پر فتویٰ دیتا ہے، اس کے لیے دو پہلوؤں کو جمع کرنا ضروری ہے:
۱۔ وہ قرآن و سنت، اصولِ فقہ، اور اجماعِ امت سے گہری وابستگی رکھتا ہو؛
۲۔ وہ معاشرتی عرف، عوامی ضروریات، اور بازار کے عملی حالات سے بخوبی واقف ہو۔
امام محمد بن حسن الشیبانی رحمہ اللہ، جو ائمہ ثلاثہ میں سے ایک اور فقہ حنفی کے مدونِ اعظم ہیں۔ایک بار کسی نے ان کے چہرے پر تفکر کے آثار دیکھے تو پوچھاکہ:”اے شیخ! آپ اتنے غمگین اور فکر مند کیوں نظر آتے ہیں؟”
فرمایا:اس شخص کا کیا حال پوچھتے ہو جس کی گردن کو لوگوں نے پُل بنایا ہوا ہے ۔
یہی وجہ تھی کہ آپ بازاروں میں جاتے، رنگریزوں، تاجروں، اور ہنرمندوں سے ملاقات کرتے، ان کے طور طریقے اور لین دین کے انداز کو سمجھتے، تاکہ جب ان کے متعلق فتویٰ دیں تو وہ محض نظری نہ ہو، بلکہ عملی زندگی کی رہنمائی پر مبنی ہو۔فقہاء کا اصول ہے:”من لم یعرف أهل زمانه، فهو جاهل”
(جو اپنے زمانے کے عرف، حالات اور مزاج سے ناواقف ہو، وہ حقیقت میں جاہل ہے)
اگر فقیہ عرف و ضرورت کو سمجھے بغیر فتویٰ دے، اور اس کا فتویٰ لوگوں پر سختی، محرومی یا مشکلات کا سبب بنے، تو لوگ شریعت سے بدظن ہو سکتے ہیں اور فتوے کے بجائے اپنی مرضی کے راستے تلاش کرسکتےہیں۔یہ سانحہ تاریخ میں پیش آ چکا ہے کہ بعض ادوار میں فقہاء صرف عبادات، نکاح و طلاق اور طہارت کے مسائل پر توجہ دیتے رہے، جبکہ بازار کے پیچیدہ مالی معاملات پسِ منظر میں رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے فقہاء کی طرف رجوع کرنا ہی چھوڑ دیااور اپنی اقتصادی زندگی بغیر شرعی رہنمائی کے، عرف و مفادات کی بنیاد پر گزارنے لگے، اسی لئے فتویٰ کا منصب بلاشبہ شریعت کا ترجمان اور امت کی رہنمائی کا وسیلہ ہے، لیکن اس کے لیے تقویٰ، علم، تدبر، زمانے کی نبض شناسی، اور احتیاط لازم ہے۔فقہ المعاملات میں فتویٰ دینے والا شخص نہ صرف کتاب و سنت کا پختہ عالم ہو، بلکہ بازار، تاجروں اور معیشت کے بدلتے رجحانات کو بھی سمجھتا ہو، تاکہ وہ صحیح صورتِ مسئلہ سمجھ کر شرعی قوانین پر انطباق کرسکے ۔
ربا کی حرمت اور اسلامی مالیاتی نظام کی بنیاد
اسلامی شریعت، محض ایک تاریخی یا عبوری ضابطہ نہیں بلکہ ایک ابدی، عالمگیر اور قیامت تک باقی رہنے والا الٰہی نظام ہے۔ یہ شریعت صرف عہدِ نبوت یا صحابہ کرام کے دور کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ ہر زمانے، ہر قوم اور ہر معاشرے کی ضروریات، حالات اور تغیرات کو اپنے دامن میں سمو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں اعلان فرمایا:”اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ”
(ہم نے ہی یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں)[الحجر:۹ ]اسی تحفظِ شریعت کا ایک مظہر یہ ہے کہ ہر دور میں ایسے علماء و فقہاء پیدا ہوتے رہے ہیں جو تفقہ کی بنیاد پر نئے نئے مسائل کا استنباط کرکے شریعت کی ابدی تعلیمات کو انفرادی و اجتماعی معیشت پر منطبق کرتے رہے ہیں۔
ربا: وہ قطعی حرام حکم ہےجس پر کوئی مصلحت غالب نہیں آ سکتی
شریعتِ اسلامیہ میں بعض احکام ایسے ہیں جو”قطعی التحریم” کے درجے میں ہیں، یعنی نہ ان میں تاویل کی گنجائش ہے، نہ کسی مجبوری یا ضرورت کے نام پر ان کے جواز کی کوئی صورت ممکن ہے۔ان میں سرفہرست ہے: ربا (سود)۔ قرآن و سنت نے ربا کو صرف حرام ہی نہیں کہا، بلکہ اس کے خلاف اعلانِ جنگ فرمایا:
"فَاِن لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍۢ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهٖ”[البقرہ:۲۷۹ ](اگر تم ربا سے باز نہ آئے، تو اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو)
یہ وہ وعید ہے جو زنا، شراب، چوری یا دیگر کبائر میں بھی نہیں آئی — کہ بندہ رب سے براہِ راست جنگ کا مرتکب ہو۔اس لیے کسی عام مسلمان تو درکنار، کسی عالم، مفتی یا مفکر کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ ربا کو کسی بھی عنوان سے جائز، مباح یا مصلحت کے تحت روا قرار دے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔لیکن افسوس! آج ربا ایسا پھیل چکا ہے کہ معاشی نظام کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ یہ صرف انفرادی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، حکومتی پالیسیز، اور اجتماعی نظامِ معیشت سب اس میں لتھڑے ہوئے ہیں۔اور یہ تأثر دیا جارہا ہے کہ:”دنیا کی معیشت ربا کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں چل سکتی!”یہاں تک کہ بعض اوقات انسان کو اپنے کسی نہ کسی روزمرہ لین دین میں، براہِ راست یا بالواسطہ، سودی اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسے میں جب کوئی عالم یا مفتی یہ کہتا ہے کہ ربا حرام ہے، اور اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے، تو لوگ تعجب اور تنقید کے ساتھ کہتے ہیںکہ:” پھر ہم کریں کیا؟ بچیں کیسے؟ آخر اس کا متبادل کیا ہے؟”اور جب ان کے سامنے یہ کہا جاتا ہے کہ:”اسلامی معیشت کی بنیاد قرض و سود پر نہیں، بلکہ شراکت، مضاربت اور بیع پر ہے”
تو لوگ ہنستے ہیں، اور طنزاً کہتے ہیں:”آپ تو جیسے کسی خیالی دنیا میں رہتے ہیں!”
ربا سے پاک متبادل کا عملی خاکہ اور مخالفت
میں اللہ کے فضل سے آج چوراسی برس کی عمر کو پہنچ چکا ہوں، اور میں نے اپنی زندگی کے کئی دور ایسے مناظروں اور علمی مجالس میں گزارے ہیں جہاں میںمسلسل یہی بات کہتارہا کہ:”ہاں! ربا حرام ہے، اور ہاں! اسلامی معیشت صرف شراکت، بیع، اجارہ، مضاربت اور سلم جیسے معاہدوں پر قائم ہو سکتی ہے!”لیکن ان مجلسوں میں، یہاں تک کہ بین الاقوامی فقہی اجتماعات میں بھی، ایسے لوگ موجود ہوتے جو یہ کہنے سے ہچکچاتے نہیںتھےکہ:”یہ سب نظری باتیں ہیں، عملی دنیا کا ان سے کوئی تعلق نہیں، آپ حضرات ایک ایسے خیالی نظام کی وکالت کر رہے ہیں، جو ممکن نہیں!”
میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح اسلامی بینکاری کے تصور کے ساتھ تمسخر، مزاح اوراس کا انکار کیا گیا — یہاں تک کہ بعض نے اسے ناقابلِ عمل فریب کہا۔
خلاصہ کلام اور دعوتِ غور
لیکن! حق وہی ہے جو قرآن و سنت نے بیان کیا۔ربا، ہر حال میں حرام ہے — اور ہر وہ نظامِ معیشت جو ربا پر قائم ہو، عتاب الٰہی کا مستحق ہے۔اسلامی معیشت کا راستہ اگرچہ مشکل اور اجنبی محسوس ہوتا ہے،لیکن یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا، عدل، توازن اور معاشرتی انصاف کی ضمانت دیتا ہے۔شریعت، صرف تنقید برائے تنقیدکا نام نہیں — بلکہ تعمیر، رہنمائی اور تبدیلی کا نام ہے۔اور فقیہ چونکہ داعی بھی ہوتا ہے ، اس لئے اس کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ربا سے نکالے، اور شریعت کے دائرے میں حلال راستے پر لائے۔
متجددین کا اعتراض اور ان کو جواب
جب ہم نے سود کی حرمت کی بات کی، تو ہمیں صرف تمسخر کا نشانہ نہیں بنایا گیا، بلکہ بعض افراد کو منصوبہ بندی کے تحت میدان میں بھی اتارا گیا، جو بڑے اعتماد سے یہ دعویٰ کرتے تھے کہ:
"بینکوں کا سود (ربا البنوک) وہ ربا نہیں ہے، جسے قرآن مجید نے حرام قرار دیا ہے!”
ان کے نزدیک وہ ربا جس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلانِ جنگ آیاہے، دراصل قدیم عرب معاشرے میں رائج وہ سود تھا، جس میں کوئی غریب، کسی مالدار سے قرض لیتا، اور پھر مدتِ ادائیگی پر اس غریب سے اصل کے ساتھ زائد رقم کا مطالبہ بھی کیا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ:”یہ صورت چونکہ ظلم و استحصال پر مبنی تھی، اس لیے حرام قرار دی گئی؛مگر موجودہ دور کے بینکوں میں جو سود لیا جاتا ہے، وہ چونکہ معاہدے اوررضامندی سے طے پاتا ہے، اس میں کوئی ظلم یا استحصال نہیں ہوتا، لہٰذا یہ ممنوع نہیں ہے”۔
مزید کہا گیا کہ:”یہ نیا نظام ایک مالیاتی ضرورتـ کی بنیاد پر ہے، اور اس میں فریقین کی باہمی رضا شامل ہے، لہٰذا اس پر قرآن کی وہ وعید لاگو نہیں ہو سکتی جو زمانہ ٔ جاہلیت کے سود پر وارد ہوئی ہے۔”
❖ربا البنوک پر شرعی نقطۂ نظر
یقیناًیہ شریعت کے قطعی حکم میں تحریف اور سود کو اجتماعی نظام کے نام پر مباح کرنے کی خاموش کوشش تھی حالانکہ قرآن نے ربا کو مطلقاً حرام قرار دیا ہے، بغیر اس فرق کے کہ وہ زمانہ ٔ جاہلیت کا سود ہے یا جدید بینکنگ نظام کاسود ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ وَاَحَلَّ اللهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبوٰا ﴾ (البقرة:۲۷۵ )یعنی: "اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا”۔فقہی اصول بھی واضح ہے: "کل قرض جر نفعاً فھو ربا” یعنی: "ہر قرض جو نفع پیدا کرے، وہ ربا ہے۔”
لہٰذا بینک جب قرض دیتا ہے اور اس پر سود وصول کرتا ہے، تو وہ ربا القرض ہی ہے، اگرچہ وہ معاہدے یا رضا مندی سے ہو، — کیونکہ ربا کی حرمت کا مدار نفع اور زیادتی پر ہے، ظلم کے ہونے یا نہ ہونے پرنہیں ہے۔یہ کہنا کہ اگر ظلم نہ ہو تو سود جائز ہو جائے گا، درحقیقت شریعت کے اصولوں سے انحراف ہے، کیونکہ شریعت نے نفع کے مشروط ہونے کو علتِ حرمت قرار دیا ہے،ظلم کے ہونے کوعلت قرار نہیں دیا۔
ایک عشرہ طویل علمی و فقہی معرکہ
ہم نے اس نظریے کے خلاف ایک پورا عشرہ علمی، فقہی اور تحقیقی سطح پر بحث ومباحثے میں گذارا ہے۔
یہ بحث ومباحثےبین الاقوامی فقہی اجتماعات میں ہوئے،مجمع الفقہ الاسلامی کی مجالس میں ہوئے،اور متعدد تحقیقی مقالات، علمی رسائل، اور محققانہ بیانات کی صورت میں بھی منظرِ عام پر آئے۔
❖
جدہ میں تاریخی اجلاس اور فقہی اجماع
الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہماری ان مسلسل علمی و فقہی کاوشوں کو ثمر آور فرمایا۔جدہ میں مجمع الفقہ الاسلامی (OIC Fiqh Academy) کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت شیخ ابو زید رحمہ اللہ نے فرمائی ،جس میں دنیا بھر کےراسخ العقیدہ علماء،ماہرینِ فقہ المعاملات،اور دیانت دار محققین شریک ہوئے۔
اس مجلس میں یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر پیش کیا گیا،بعض حضرات نے دلائل و شواہد کے ساتھ یہ مؤقف رکھا کہ:”بینکوں کا ربا وہ ربا نہیں ہے جس پر قرآن نے وعید سنائی ہے، کیونکہ اس کی نوعیت، مقصد اور ساخت مختلف ہے”۔لیکن الحمد للہ، ہم نے ان تمام اعتراضات کا گہرے علمی تجزیے، اصولی رداور فقہی تفصیل کے ساتھ، اصولِ شریعت اور قواعدِ فقیہ کی روشنی میں جواب دیا، صرف جذبات اور سیاست میںجواب نہیںدیا —۔
متفقہ تاریخی فیصلہ
اس تاریخی اجلاس کے اختتام پر تمام مکاتبِ فکر اور تمام ممالک سے آئے علماء نے اتفاقِ رائے سے یہ فیصلہ جاری کیا کہ:”بینکوں کا ربا بھی وہ ربا ہے جسے قرآن و سنت نے حرام قرار دیا ہے”۔اس میں ظلم ہو یا نہ ہو، رضا مندی ہو یا نہ ہو، معاہداتی شکل ہو یا نہ ہو، — حقیقت میں یہ قرض پر نفع لینا ہے، اور یہی وہ ربا ہے جس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جنگ کا اعلان فرمایا ہے”۔یہ فیصلہ نہ صرف ایک علمی فتح تھی، بلکہ شریعتِ مطہرہ کی عظمت، ہمہ گیری، اور زمانہ سازی کا زندہ ثبوت بھی تھا۔
آج کے دور میں جب بینکنگ، سود، اور معیشت کے نام پر شریعت کے بنیادی احکام کو قانونی حیلوں اور ناموں کے پردوں میں چھپایا جا رہا ہے،تو ضروری ہے کہ ہم قرآن و سنت کی قطعی نصوص پر قائم رہیں،فقہاء امت کی اجتماعی بصیرت کی پیروی کریں،اور امت کو بتائیں کہ معاشی ترقی کی بنیاد ظلم، سود اور استحصال نہیں ہو سکتی۔بلکہ معاشی ترقی صرف ،عدل، شراکت، امانت، صداقت، اور شریعت کے مطابق مالیاتی اصولوں پر ہی ہو سکتی ہے۔
اسلامی بینکاری کا آغاز، اس کی بنیادیں
پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ اب نجات کی راہ کیا ہے؟ اور ہم خود کو ان سودی بینکوں سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں جو ربا پر مبنی ہیں؟ یہی وقت تھا جب ہمارے سامنے ایک بڑی مشکل آن کھڑی ہوئی تھی، جو اس وقت تک حل نہیں ہو سکی جب تک ہم نے تاجروں کی عملی مالی ضروریات اور ان کے معاملات کو گہرائی سے نہ سمجھا۔الحمد للہ! ہم نے اس موضوع پر گہری تحقیق کی، اور دیگرفقہائے کرام نے بھی اس میں غیر معمولی غور و فکر فرمایا۔ آج سے تقریباً پچاس سال قبل، دنیا میں ایک بھی اسلامی بینک موجود نہ تھا۔ بینک "دبئی اسلامی” وہ پہلا ادارہ تھا جو اس اعلان کے ساتھ قائم کیا گیا کہ وہ مکمل طور پر شریعت کی بنیاد پر کام کرے گا۔ بعد ازاں، اللہ تعالیٰ کے فضل سےمجھ سمیت بہت سے علماء نے ایسے مضامین اور تحقیقی مقالات تحریر کیے، جن میں یہ بتایاگیا کہ ہم کس طرح شرعی متبادل مالیاتی معاملات کے ذریعے سود سےنجات حاصل کر سکتے ہیں۔یہ مقالات شائع ہوئے، ان پر وسیع مطالعہ ہوا، اور یہ طویل عرصے تک علمی بحث و تحقیق کا مرکز بنے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو یہ دکھایا کہ اسلامی مالیاتی نظام کو قرض پر مبنی سود کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
میں آپ کو ایک خاص نکتہ یاد دلانا چاہتا ہوں، جو اسلام اور سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کے درمیان سب سے بڑا فرق ظاہر کرتا ہے،آج جو نقدی، کرنسی ہم خرید و فروخت کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو کہ اب کاغذی نوٹ کی صورت اختیار کر چکی ہے، وہ بذاتِ خود کوئی متاع یا سامان نہیںہے، اگر آپ کے پاس ایک ہزار ڈالر ہوں، تو کیا آپ انہیں کھا سکتے ہیں؟ پہن سکتے ہیں؟ یا براہِ راست استعمال کر سکتے ہیں؟نہیں! نقدی صرف تبادلے کا ذریعہ ہے، تاکہ اس کے ذریعے اشیائے ضرورت خریدی جا سکیں۔ لیکن جب نقدی خود ہی تجارت کا موضوع بن جائے تو یہی وہ چیز ہے ،جس کو قرآن مجید نے مسترد اور شریعتِ مطہرہ نے ناجائز قرار دیا ہے۔ سودی لین دین میں نقدی کو بذاتِ خود تجارتی مال بنا دیا جاتا ہے، اور یہی وہ خرابی ہے جس نے پوری اقتصادی سرگرمیوں کو بگاڑ کر رکھ دیاہے۔
اب یہ ہو رہا ہے کہ کرنسی کی خرید و فروخت (currency speculation) عام ہو گئی ہے، جس میں مقصد کسی حقیقی سامان کی خریداری نہیں ہوتا، بلکہ محض کرنسی کو بطور مال خریدنا اور بیچنا ہوتا ہے، جیسے وہ خود کوئی تجارتی جنس ہو۔کہا جاتا ہے کہ: "جب کرنسی بھی سامان تجارت بن چکی ہے، تو جیسے ہم گلاس خرید کر بیچتے ہیں اور نفع لیتے ہیں، ویسے ہی ڈالر قرض لیکر اس پر نفع کمائیں یا اسے ادھار بیچ کر نفع کمائیں تو کیا ممانعت ہے”؟لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلاس ایک حقیقی نفع دینے والی چیز ہے، اس سے پانی پیا جاتا ہے، گھریلو استعمال ہوتا ہے، فائدہ ملتا ہے۔ لیکن نقدی نہ کھائی جا سکتی ہے، نہ پہنی جا سکتی ہے، اور نہ بذاتِ خود کسی طرح کا فائدہ دیتی ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے کہ نقدی صرف تبادلے کا ذریعہ ہے، نہ کہ خود ایک جنس۔ اس جنس کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ کرنا حرام، سود اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کے مترادف ہے۔یہی وہ بنیادی نظریہ ہے جو سرمایہ دارانہ فکر اور اسلامی معیشت کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔
جب سود کی حرمت نازل ہوئی، تو کفار نے اعتراض کیاکہ "تجارت بھی تو سود کی طرح ہے”! تو اللہ تعالیٰ نے صاف جواب دیا:”اللہ نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام قرار دیا ہے” — یعنی تم دونوں میں فرق نہیں سمجھتے۔ نقدی اور مال (جنس) میں بہت بڑا فرق ہے، اور اللہ وہ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے۔
اب کیا آپ جانتے ہیں؟ کہ دنیا میں جو کرنسی حقیقی طور پر گردش میں ہے، وہ کل کرنسی کا صرف تین فیصد ہے! باقی ستانوے فیصد صرف کمپیوٹر کی فائلوں میں ایک ڈیجیٹل تصور ہے۔یہی وہ بنیاد ہے جس نے سرمایہ دارانہ نظام کو بار بار زوال کی طرف دھکیلا، جیسا کہ۲۰۰۸ ء کے عالمی مالیاتی بحران میں ہوا، جب بڑے بڑے بینک اور ادارے تباہ ہو گئے، کیونکہ انہوں نے نقدی کو تجارت کا مال بنا دیاتھا، حالانکہ وہ صرف تبادلے کا ذریعہ تھی۔
⸻اسلامی حل: بیع، اجارہ، سلم، استصناع اور شراکت پر مبنی نظام
اسی وجہ سے جب ہم نے سودی معاملات کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی، ہم نے کہاکہ”سود کو خرید و فروخت سے بدل دیں!”وہ اس طرح سے کہ مثلاً ایک تاجر روئی خریدنا چاہتا ہے۔ پہلے وہ روایتی بینک جاتا اور کہتا: "مجھے ایک ملین ڈالر چاہیے”۔ بینک کہتا ہے کہ "ہم تمہیں یہ رقم سود پر دیں گے”! پہلے سود کی شرح دس فیصد ہوتی، پھر بڑھ کربیس فیصد ہو جاتی، اور پھریوں سودی اضافہ جاری رہتا۔پھر اسلامی بینک آیا تو — اس نے کہا: "ہم تمہیں نقدی نہیں دیں گے، ہم تمہیں روئی بیچیں گے! ہم بازار سے روئی خرید کر تمہیں فروخت کریں گے، مثلاًسو میں خریدیں گےاور ایک سو پندرہ یا ایک سو بیس میں بیچیں گے۔ یہ بیع ہے، نقد کے بدلے نقد نہیں، اس لیے یہ شرعاً جائز ہے۔ یہی طریقہ دیگر معاملات میں بھی اپنایاگیا، جیسے،اجارہ(کرایہ داری)،سلم (پیشگی خرید)،استصناع (مینو فیکچرنگ کا معاہدہ)، شراکت (مشارکہ و مضاربہ)۔
یہ سب ہم نے اس لیے کیا تاکہ سودی معاملات سے نجات اور شریعت سے قرب حاصل کریں۔ اسلامی بینکوں نے یہی کیاہے، اور اب دنیا بھر میں ان کا مالیاتی حجم بیس فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہاں تک کہ بعض غیر مسلم ممالک بھی اسلامی بینکنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔اگرچہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ صرف الفاظ کا کھیل ہے! وہ کہتے ہیںکہ "اگر میں ایک ملین ڈالر سود پر دوں تو وہ ربا ہے، لیکن وہی رقم روئی کے عوض لے لوں تو وہ جائز کیسے ہو گیا”؟تو عرض ہےکہ نقدی سے معاملہ کرنے اور سامان سے معاملہ کرنے میں بہت فرق ہے۔ اور یہی فرق بڑے بڑے شرعی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔ہمارا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ معاملات صرف مرابحہ پر مبنی نہ ہوں، بلکہ شراکت پر مبنی ہوں۔ یعنی جو شخص بینک سے سرمایہ لے، وہ صرف قرض دہندہ نہ ہو، بلکہ نفع و نقصان میں شریک ہو۔یہ مقصود ہمیں وقت کے ساتھ حاصل کرنا ہے۔ مگر یہ بھی کم نہیں کہ ہم سودی نظام سے نکل کر مضاربت اور بیع کی طرف آ چکے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے!
بعض لوگ یہ کہتے ہیںکہ ہمیں اس سے مطلب نہیں کہ سودی معاملات کا متبادل کیا ہے، ہم تو بس اتنا کہتے ہیں کہ سود حرام ہے۔ باقی لوگ جو کچھ کرتے ہیں، وہ جانیں اور ان کا کام! ہم اس پر گفتگو کے مکلف نہیں”!لیکن یہ طرزِ فکر مناسب نہیں، امام محمد بن حسن الشیبانیؒ جیسے اجلّ فقہاء بازاروں میں جاتے، تاجروں کے احوال و ضروریات کا مشاہدہ کرتے، اور ان کی عملی زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے کے بعد شرعی فتویٰ صادر فرماتے۔اسی لیے ہر عالم و مفتی پر لازم ہے کہ اگر وہ کسی چیز کو” حرام” قرار دیتا ہے، توچونکہ وہ داعئی دین بھی ہے اس لئے ساتھ ہی اس کا شرعی متبادل بھی پیش کرے۔ اس کی ذمہ داری صرف "تحریم” (حرام کہہ دینا) پر ختم نہیں ہو جاتی؛ بلکہ خلقِ خدا کو حلال و جائز راستہ دکھانا بھی اسی ذمہ داری کا لازمی تقاضا ہے۔یہ اسی وقت ممکن ہوگا، جب وہ عوام کے مسائل، معاشرتی احوال، اور زمینی حقائق سے باخبر ہو۔ تب جا کر اس کا فتویٰ نہ صرف قابلِ قبول ہوگا بلکہ اصلاح اور رجوع الی الطاعۃ کا ذریعہ بھی بنے گا۔حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال ملاحظہ کیجیے۔ جب مصر کے بادشاہ نے ان سے خواب کی تعبیر پوچھی، — سات موٹی گائیں، سات دبلی گائیں، سات سبز خوشے اور سات خشک خوشے، — تو انہوں نے تعبیر سے قبل دعوتِ توحید پیش کی کہ”میں ان لوگوں کے دین سے بیزارہوں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے…الخ”یعنی تعبیر سے پہلے انہوں نے عقیدے کی اصلاح فرمائی۔ پھر جب تعبیر کی طرف آئے تو محض خواب کی تشریح پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ عملاً ایک مکمل اقتصادی منصوبہ بھی تجویز فرمایاکہ”سات برس تک لگاتار کھیتی کرنا، جو فصل کاٹنا اسے بالیوں میں محفوظ رکھنا، اور صرف بقدرِ ضرورت استعمال کرنا”۔
یہ ہے ایک حقیقی داعی اور مصلح کا طرزِ عمل —، جو صرف خطرے کی نشان دہی نہیں کرتا، بلکہ اس سے نکلنے کی راہ بھی بتاتا ہے۔
معاصر فقیہ کی ذمہ داری صرف ممانعت نہیں، بلکہ رہنمائی ہے
لہٰذا فقیہ، عالم اور داعی کا فرض ہے کہ وہ صرف یہ نہ کہے کہ”یہ ناجائز ہےاور وہ حرام ہے”!بلکہ وہ جائز متبادل، عملی سہولت، اور شرعی حل بھی تجویز کرے۔یہی اصل میں "فقہ المعاملات” کی روح ہے!
مذاہب اربعہ کی فقہی وسعت اور اجتہادی گنجائش
ہم حنفی ہیں، اور امام ابو حنیفہؒ کے فقہی منہج پر عمل کرنا اپنے لیے باعثِ شرف سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ اصول خود حنفی فقہاء نے سکھایا ہے کہ”اگر کسی اجتماعی یا معاشی مسئلے میں حنفی مسلک میں تنگی ہو، تو دوسرے فقہی مذاہب سے رجوع کرنا جائز ہے”۔مثال کے طور پرحنفیہ کے نزدیک اگر کوئی خریدار نادانی یا دھوکے میںآ کر کوئی چیز مہنگی خرید لے تو وہ بیع واپس نہیں کر سکتا (خیار مغبون کے طور پر)۔ لیکن متاخرین حنفیہ نے کہا ہےکہ موجودہ دور میں لوگ ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں، اس لیے ضرورت کے تحت شافعیہ یا دیگر مذاہب کی رائے اپنائی جا سکتی ہے، جو مغبون کو فسخ کا حق دیتے ہیں۔
فقہاء کا مشہور اصول ہے:”رأينا صوابٌ يحتمل الخطأ، ورأي غيرنا خطأٌ يحتمل الصواب”
(ہمارا مسلک درست ہے، لیکن اس میں خطا کا احتمال ہے، اور دوسروں کا مسلک بظاہر خطا پر ہے، لیکن اس میں درستگی کا امکان ہے)
اسی بنیاد پر فقہائے امت کا اجماعی نظریہ ہے کہ”مذاہبِ اربعہ دراصل ایک ہی شریعت کے مختلف اجتہادی پہلو ہیں، الگ الگ شریعتیں نہیںہیں”!
ضرورت اور وسعتِ شریعت:
فقہی اصول ہے کہ "إذا ضاق الأمر اتسع”
(جب معاملہ تنگ ہو جائے تو شریعت وسعت اختیار کرتی ہے)
لہٰذا عبادات و طاعات میں امام ابو حنیفہؒ کا قول راجح ہونے کے سبب اسی پر عمل کیا جاتا ہے، لیکن معاملات اور مالیاتی امور میں اگر حنفی مسلک میں کوئی عملی رکاوٹ ہو تو شافعی، مالکی یا حنبلی مسلک کی آراء سے فائدہ اٹھانا شرعاً جائز ہوتاہے،البتہ شرط یہ ہے کہ مفتی یا عالم قوی علمی بنیاد، گہری بصیرت اور تقویٰ کا حامل ہو۔ وہ چالاکی، حیلہ سازی یا مصنوعی ضروریات کے بہانے سے مسالک کا انتخاب نہ کرے، بلکہ واقعی ضرورتِ عامہ کے تحت اجتہادی وسعت سے فائدہ اٹھائے۔
عملی مثال، مجلسِ شرعی بحرین کا کردار
یہی اصول ہم نے”مجلسِ شرعی بحرین "میں اپنایا، جہاں میں بحمد اللہ بطور صدر خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اس مجلس میں بیس سے زائد اسلامی ممالک کے علماء شریک ہیں، جن میں بعض حنفی، بعض شافعی، بعض مالکی اور بعض حنبلی ہیں۔ ہم سب نے باہم مشورہ اور علمی مباحثے کے ذریعے تقریباً ستر (۷۰) "معیاراتِ شرعیہ”پر اتفاق کیا ہے، جو اب ایک جامع مجموعے کی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔ان معیارات پر تمام فقہی مذاہب کے علماء کا اتفاق ہے، اور یہی وہ معتدل راہ ہے جس پر فقہ المعاملات کی عمارت قائم ہونی چاہیے۔
اختتامی نصیحت
یہ ایک باریک، حساس اور نازک میدان ہے، جہاں انسان پھسل بھی سکتا ہے۔ اگر مفتی بازار والوں کی خواہشات کے تابع ہو جائے تو شریعت کی حدود کو خواہشات کی نذر کر بیٹھے گا۔ لیکن اگر وہ لوگوں کی حقیقی ضرورتوں کو سامنے رکھے، تو شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے بھی وسعت اور سہولت کے دروازے کھول سکتا ہے۔
یہی وہ اعتدال کا راستہ ہے، جو سلفِ صالحین کی سنت، فقہائے کرام کی ہدایت، اور عصرِ حاضر کی حقیقی ضرورت ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیں، آمین-
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(ماہنامہ البلاغ : ربیع الاول ۱۴۴۷ھ)