ضبط وترتیب: مولانا عبد المستعان صاحب اٹکی
مدرسۃ البنات میں تکمیلِ قرآن کریم اور بخاری شریف
کی آخری حدیث کے درس کے موقع پر وقیع خطاب
مدرسۃ البنات میں جماعت پنجم کے ناظرہ قرآن کریم کی تکمیل اور دورۂ حدیث کی طالبات کو اجازتِ حدیث دینے کے موقع پر حضرت صدر صاحب زید مجدہم نے گرانقدر خطاب فرمایا، اس مجلس میں دورہ حدیث
بنین و بنات کے اساتذۂ کرام اور منتظمین نے بھی شرکت فرمائی، قارئین کے فائدے کیلئے نشری تقریر، تحریر کی شکل میں پیش ہے۔(ادارہ)
الحمدللہ رب العالمین و الصلوٰۃ و السلام علی سید المرسلین و علی آلہٖ و اصحابہ اجمعین و علی کل من تبعھم باحسان الیٰ یوم الدین اما بعد !
حضرات اساتذۂ کرام ،عزیز طالبات اور معلمات السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل و کرم، اس کا احسان، اس کا انعام ہے——— کس زبان سے اس کا شکر ادا کیا جائےکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس وقت مدرسۃ البنات میں درس نظامی کی آخری نشست میں حاضر ہونے کی سعادت عطا فرمائی، الحمد للہ طالبہ نے ابھی عبارت پڑھی اور عبارت پڑھنے ہی سے یہ اندازہ ہوا کہ الحمد للہ محض ضابطے کے طریقے سے ہی تعلیم حاصل نہیں ہوئی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے معلمات نے استعداد اور محنت کے ساتھ بچیوں کو پڑھایا، اللہ تعالیٰ ان کے علم میں، عمل میں اور ان کے کاموں میں برکت عطا فرمائےاور ظاہری و باطنی ترقیات عطا فرمائے۔
یہ مدرسۃ البنات اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سالہا سال سے مصروف عمل ہے، اس کی کچھ تفصیل مولانا محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب نے آپ کے سامنے پیش کی ہے، اس میں ہمارے بزرگوں کی دعائیں اور ان کی توجہات، ان کی پیہم محنت اور کوشش شامل ہے جس نے الحمد للہ مدرسۃ البنات کو اس مقام تک پہنچایا کہ اس میں درس نظامی کی الحمد للہ اچھے معیار کے ساتھ ہورہی ہے، زمانہ ٔدراز سے ہماری خواہش یہ تھی کہ مدرسۃ البنات میں تعلیم دینے والی خود معلمات ہوں، مرد اساتذہ کے بجائے خواتین معلمات تعلیم دیں، شروع میں ضرورت کے پیش نظر مرد اساتذہ سے بھی خدمت لی گئی ہے، اور اب بھی بقدر ضرورت لی جاتی ہے لیکن الحمد للہ! اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مدرسۃ البنات ہی سے ایسی معلمات تیار ہوگئی ہیں جو طالبات کو خوب محنت سے درس دیتی ہیں۔
الحمد للہ مدرسۃ البنات پرائمری سیکنڈری اسکول کی طالبات نے بڑی عمدہ نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور جو کچھ سرگرمیاں مولانا محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب نے مدرسۃ البنات میں شروع کروائیں ، وہ اس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور اس کی ظاہری و باطنی ترقیات کیلئے دن رات کوشاں ہیں ،اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، ، اللہ تعالیٰ مولانا عبد المستعان صاحب کو بھی بہت جزائے خیر عطا فرمائے وہ بڑے اخلاص، تندہی اور بہت ہی محنت کے ساتھ تمام شعبوں کی نگرانی کرتے ہیں، اور الحمد للہ سب سے بڑی نعمت مدرسۃ البنات کو یہ حاصل ہے کہ اس کی صدر معلمہ ہمارے مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ صدر دار العلوم کی اہلیہ محترمہ ہیں، جو براہ راست اس کی نگرانی کرتی ہیں، اگرچہ ان کی صحت بہت کمزور ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی توجہا اوران کی نگرانی ہمارے لئے بہت ہی باعث برکت ہے، اللہ تعالیٰ ان کو عافیت کے ساتھ سلامت رکھے ۔ آمین
الحمد للہ طالبہ نے صحیح بخاری کی آخری حدیث پڑھی، اللہ تبارک و تعالیٰ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو جن عظیم فضائل سے نوازا ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی صحیح بخاری کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے پورے عالم اسلام میں اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ عطا کیا، بخار ا کے رہنے والے عجمی جس کی عربی زبان میں بھی روانی نہیں، یہاں تک کہ صحیح بخاری میں ایک جگہ باب قائم کرکے ایک فارسی کا لفظ لکھتے ہیں، ’’ قال ابو عبد الله: يزاد فى هذا الباب هم هذا الحديث حديث مالك عن ابن شهاب، و لكني أريد أن أدخل فيه غير معاد (كتاب المناسك، باب التعجيل الى الموقف۱:۴۸۲ مکتبۃ البشریٰ کراچی)تو ’’ایضاً ‘‘کی جگہ پر ’’ھم ‘‘ جو فارسی کا لفظ ہے لے کر آئے ہیں، تو ایسا شخص جو بخارا میں پیدا ہواجبکہ عرب کے لوگ غیر عرب کو، عجمی کو گھاس نہیں ڈالتے اور ان کو جو فخر ہے اپنی عربیت کے اوپر اس کی وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم ان کی زبان میں نازل فرمایا، نبی کریم ﷺ کو ان کی زبان میں مبعوث فرمایا ، احادیث ساری عربی میں ہیں، شریعت کےجو مصادر و مآخذ ہیں وہ سارے عربی میں ہیں، تو ان کو فخر کرنے کا پورا حق حاصل ہے، تو غیر عرب کووہ آسانی سے ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے، لیکن اس بخارا کے انسان نے ساری عربوں کی گردن جھکا دی اور باوجود بارہا تنقید کی چھلنیوں میں چھاننے کے، ایسا نہیں ہوا کہ صرف کسی کی عقیدت میں یہ خطاب دے دیا گیا ہو بلکہ تنقید کی چھلنیوں میں مختلف افراد نے چھانا اور اس میں نشاندہی کی کہ فلاں فلاں اس میں کمزوریاں ہیں، امام دار قطنی نے پوری کتاب لکھی اور دوسرے حضرات نے اس کے اوپر کام کیا، لیکن ان سب کی سب تنقیدات اور سارے اعتراضات کو ختم کرکے پوری امت نے بلااستثناء اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ اس کتاب کو عطا فرمایا ہے، تو اس کی اصل وجہ تو ان کا اخلاص ہے، ان کی جہد و عمل ہے کہ ہر باب پر بلکہ حدیث پر امام فربری جو ان کے شاگرد ہیں جن کا نسخہ ہم صحیح بخاری کا پڑھتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام بخاری ؒ فرماتے تھے کہ ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے میں نے غسل کیا دو رکعتیں استخارے کی پڑھیں، اور پڑھنے کے بعد وہ لکھی، تو جس شخص نے اس اخلاص کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ اتنا تعلق قائم رکھ کر جو کتاب لکھی تو پھر اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں سے اس کی مقبولیت اس درجہ کو پہنچی اور اسی مقبولیت کا ایک حصہ یہ ہے کہ تمام صحاح ستہ میں تراجم ابواب کی جو صنعت امام بخاریؒ نے لکھی ہے ساری دنیا اس کے اندر غلطاں و پیچاں رہی یہاں تک کہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کے تراجم کی تہہ تک آج تک کوئی پہنچ ہی نہیں سکا، یعنی بہت سے لوگوں نے تراجم کی شرح لکھی ہے، حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی لکھی ہے، حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ بھی ہے اور دوسرے افراد نے باقاعدہ تراجم پر کام کیا ہے، لیکن حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ بہت سے تراجم ایسے ہیں کہ اب تک ان کا صحیح ادراک آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔
امام بخاری ؒ نے آخری باب قائم کیا ہے باب قول الله تعالیٰ و نضع الموازین القسط لیوم القیامة اس میں امام بخاري ؒ نے خاص طور پر صفات کا اثبات کیا ہے، عقائد کا اثبات کیا ہے، امام بخاري ؒ كي عادت هے كه وه صرف احادیث پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ترجمۃ الباب میں کوئی نہ کوئی آیت ضرور لاتے ہیں، عقائد کے ثبوت کیلئے خبر واحد کافی نہیں ہے، جب تک وہ قطعیات کے ذریعے ثابت نه کیا ہو، لہٰذا جس عقیدے کو بھی ثابت کرنا چاہا ہے تو حدیث بعد میں لائے ہیں ابواب کے اندر آیات قرآنیہ پہلے لائے ہیں، یہاں پر معتزلہ کے خلاف اس بات کو ثابت كرنا چاهتے هيں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اعمال کا وزن فرمائیں گے، تو آیت کریمہ رکھی ’’و نضع الموازین القسط لیوم القیامة ‘‘کہ ہم قیامت کے دن ایسی ترازو قائم کریں گے جو سراپا انصاف ہوںگی، ’’و ان اعمال بنی اٰدم و قولهم یُوزن‘‘اور بنی آدم کے اعمال بھی وزن کیئے جائیں گے اور ان کے اقوال بھی وزن کیئے جائیں گے، یہ ترجمۃ الباب یعنی عنوان ہے، جس کا ذکر یہاں کیا ہے تو اس میں یہ لطیف بات بھی پنهاں ہے کہ یہ باب پڑھنے کے بعد جو بھی طالبعلم ہو یا طالبہ ہو تو اس کو سند مل رہی ہے اس بات کی کہ وہ درس نظامی سے فاضل ہوگیا، تو اس کو امام بخاریؒ رحمۃ اللہ علیہ نے آخری باب میں جو پیغام دینا چاہا ہے وہ پیغام در حقیقت سارے دین کا خلاصہ ہےاور وہ یہ ہے کہ اس بات کو ہر وقت پیش نظر رکھو کہ تمہارے ہر عمل کا بھی وزن ہوگا، قول کا بھی، اس لئے امام بخاریؒ نے الگ الگ ذکر کیا کہ عمل ہی کا نہیں بلکہ قول کا بھی وزن ہوگا، جب انسان چاہے طالبعلم یا طالبہ ہو جب صحیح بخاری پڑھنے کے بعد اس کو سند فضیلت دی جاتی ہے تو اس کا ایک عمل ہوتا ہے، ایک قول ہوتا ہے، عمل یہ ہوتا ہے کہ اپنی ذاتی زندگی میں وہ کیسا ہے، کیسی زندگی گذارتا ہے، اس میں صبح سے لے کر شام تک کے سارے اعمال داخل ہیں اور ایک کام اس کا ہوتا ہے اس کے قول کے ذریعے کہ وہ دین کا پیغام دوسروں تک پہنچائے، دین کی تعلیم جس طرح اس نے خود حاصل کی ہے دوسروں کو دے ، تو یہ دو کام ہوتے ہیں، اعمال اس کے ذاتی ہیں اور قول دوسروں کیلئے، حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ علم لے کر جارہے ہو یا جارہی ہو لیکن اب اس بات کا اہتمام کروکہ تمہارا ہر عمل تلا ہوا ہو کیونکہ وہاں جا کر تلیں گے تو وہاں کے تلنے سے پہلے اپنے اعمال کو خود تولا کرو کہ میرا یہ جو عمل ہے آیا اخلاص کے ساتھ ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ کیلئے ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہورہا ہے، یا کسی اور کام کیلئے ہورہا ہے، اپنی شہرت کیلئے ہورہا ہے، اپنی تعریف کیلئے ہورہا ہے، پیسوں کیلئے ہورہا ہے، د نیا کیلئے ہورہا ہے، تو اس کو خود یہاں پر تولو تاکہ جب وہاں پر پہنچو اور تمہارے اعمال کا وزن ہو تو اعمال کا وزن بھاری ہو، اسی طرح قول کو تولواور زبان کو تولنا یہ اتنا اہم کام ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ انسانوں کو جہنم کے اندرکھنچنے والی کوئی چیز اتنی خطرناک نہیں ہے جتنی اس کی زبان ہے، اللہ بچائے، زبان اللہ تعالیٰ نے ایسی نعمت دی ہے کہ زبان کے ذریعے انسان اپنے مافی الضمیر کا اظہار کردیتا ہے، یہ ایسی نعمت دی ہے کہ ایک کلمہ کے ذریعے انسان جنت کے خزانے جمع کرسکتا ہے، اپنی زبان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذکر میں استعمال کیا جائے، اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت میں استعمال کیا جائے، اللہ تعالیٰ کے کلام کی طرف دعوت دینے کیلئے استعمال کیا جائے، تو یہ جنت کے خزانے جمع کرنے کے مترادف ہے، اور اللہ بچائے اگر اس کو جھوٹ میں، غیبت میں، فضول باتوں میں، ناجائز کاموں میں خرچ کیا جائے تو یہی انسان کیلئے جہنم کی راہیں تیار کرنے والی چیز ہے، تو درحقیقت یہ پیغام ہے پورے درس کا کہ جو اوّل سے آخر تک ہم نے پڑھا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے عمل کو بھی تولوکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہورہا ہے یا نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم اور نبی کریم سرور دو عالم ﷺ کی سنت کے مطابق ہورہا ہے یا نہیں؟ سنت کے مطابق ہوگا تو وہ عمل قیمتی ہوگا اور اگر سنت کے خلاف ہوگا تو اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں، اور اسی طرح زبان سے کوئی لفظ نکالو تو سوچ سمجھ کر نکالو، بات کو پہلے تولو پھر بولواور یہ تو ہم سب کیلئے بہت بڑا سبق ہے، اللہ تعالیٰ ہماری زبانوں کو اپنی رضا کے کاموں میں استعمال کرائے، زبان غیبتوں میں استعمال نہ ہو، بہتانوں میں استعمال نہ ہو، بدگمانیوں کا اظہار کرنے میں استعمال نہ ہو، گالی گلوچ میں استعمال نہ ہو، طنز و تعریض میں، مذاق اڑانے میں استعمال نہ ہو، جیسا کہ سورۃ الحجرات آیت نمبر 11 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنُوۡا خَيۡرًا مِّنۡهُمۡ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُنَّ خَيۡرًا مِّنۡهُنَّۚ اللہ تعالیٰ نے مردوں کا الگ ذکر کیا عورتوں کا الگ ذکر کیا، تو یہ ساری باتیں جو آپ پڑھ کر آئے ہیں بخاری شریف میں اوّل سے لے کر آخر تک تو حضرت امام بخاریؒ نے ساری حدیثیں جمع کردیں جن میں ارکان اسلام بھی ہیں، حظر و اباحت بھی ہے، بر و صلہ بھی ہے، احکام بھی ہیں، وہ سارے بیان کرنے کے بعد آخر میں پیغام یہ دیا جارہا ہے کہ اپنے عمل کو بھی تول تول کر خرچ کرو، اپنے اوقات کو بھی تول تول کر خرچ کرو، اپنی زبان کو بھی تول کر استعمال کرو، غیبتوں میں اسے استعمال نہ کرو، یہ سبھی کیلئے ہے لیکن خواتین میں خاص طور پر یہ بہت زیادہ ہی اہمیت رکھتا ہے، خواتین کے اندر باتیں کرنے کی بعض اوقات ضرورت سے زیادہ عادت ہوتی ہے ،تو زبان کو لگام دینے کی زیادہ ضرورت ہے، اس کو صحیح استعمال کرنے کی ضرورت ہے، اپنی مرضی سے اس کو گناہوں سے بچانے کی ضرورت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ان سب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آخر میں امام بخاری ؒ نے اپنی عادت کے مطابق حدیث کی مناسبت سے قرآن کریم میں جو قسط کا لفظ آیا ہےاس کی تفصیل بیان کردی، قسطاس رومی زبان میں عدل کو کہتے ہیں پھر یہ بات بھی بتادی➀侌 ، یقسِطُ ، یقسِطُ اقِسَاطاً کے معنٰی انصاف کرنے کے آتے ہیں، اور قَسَطَ کے معنٰی ظلم کرنے کے آتے ہیں۔
آخر میں جو حدیث روایت کی وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو کلمے ایسے ہیں جو رحمن کو محبوب ہیں، کلمتان حبیبتان الیٰ الرحمٰن خفیفتان علی اللسان(آسان ہیں زبان پر)، ثقیلتان فی المیزان یعنی (میزان عمل میں ان کا وزن بہت ہے)، اسی سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ قول کا بھی وزن ہوگا، کہ وہ میزان کے اندر ثقیل ہے، اور وہ کلمہ سبحان الله و بحمده سبحان الله العظیم ہے، اور اسی پر کتاب کو ختم کیا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کا علم اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عظیم صفت کا ذکر ہے۔
حدیث میں آتا ہے جس کا آخری کلام لا اله الا الله ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائیں گے، علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اس میں صرف لا الہ اللہ کا کلمہ شامل نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے والا کوئی اور کلمہ بھی ہو تو وہ بھی اسی حکم میں شامل ہے، اسی لئے نبی کریم سرور دو عالم ﷺ کی زبان مبارک پر آخری کلمہ یہ تھااللّٰهم الرفیق الاعلیٰ اسی پر آپ نے وفات پائی، اس سے استدلال کیا ہے فقہاء و علماء نے کہ لا الہ الا اللہ کی جو فضیلت ہے وہ ہر اس کلمے کو شامل ہے جو اللہ جل جلالہٗ کی عظمت و جلال کو بیان کرتا ہو، امام بخاریؒ نے اسی لئے سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم پر اپنی کتاب کو ختم کیا ہے، پہلے بھی یہ حدیث صحیح بخاری میں گذری ہے، کہ جو شخص روزانہ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم پڑھے اس کے گناہ پہاڑ کے برابر بھی ہوں، ریت کے ذرات کے برابر بھی ہوں تو بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی مغفرت فرماتے ہیں، جب یہ فرمادیا کہ وہ کلمے رحمن کو محبوب ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص یہ پڑھتا رہے گا وہ شخص اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا۔ لہٰذا اس کو اپنا وظیفہ زندگی بنانا چاہئے ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں ہر وقت اپنے ذکر میں مصروف رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
جو طالبات فارغ ہورہی ہیں جنہوں نے درس نظامی میں تکمیل کی ہے، میں ان کو، ان کے خاندان کو، ان کی معلمات کو اور ان کے والدین کو بہت مبارکباد دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ ان طالبات کو ان کیلئے ذخیرہ آخرت بنائے ، جو بھی طالبات فارغ ہورہی ہیں، ان کو اپنی بارگاہ میں اپنے دین کی خدمت کیلئے قبول فرمائے، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت میں کامیاب فرمائے آمین۔
دورہ حدیث اور موقوف علیہ کی تمام طالبات کو اپنی تمام مرویات کی اجازت بھی دیتا ہوں۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(ماہنامہ البلاغ : شوال ۱۴۴۷ھ)