fatawa-usmani-2

خطوط میں بسم اللہ، ابجد اور ہندسوں میں لکھنے کی شرعی حیثیت اور اس طریقے کی ایجاد کی تاریخ

سوال:- کیا فرماتے ہیں علمائے دین درج ذیل مسئلے میں کہ خطوط میں جو ابجد سے بسم اللہ لکھی ہوتی ہے، یہ کس کی ایجاد ہے؟ اور ایسا کب ہوا؟ اور عدد سے پورے بسم اللہ کا ثواب و برکت حاصل ہوگی یا نہیں؟
جواب:- خطوط کی ابتداء میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ لکھنا مسنون ہے،(۱) اور یہ خود قرآنِ کریم سے ثابت ہے کہ اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط بسم اللہ سے شروع ہوتا ہے۔ یہ بات کسی مستند کتاب میں نظر نہیں آئی کہ بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ کا عدد کب سے لکھا جانا شروع ہوا، لیکن اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ بسم اللہ لکھا ہوا کاغذ کسی بے حرمتی کی جگہ استعمال ہوگا تو اس لئے بے ادبی ہوگی، لہٰذا اگر کوئی شخص اس خیال سے زبان سے بسم اللہ پڑھ کر یہ عدد لکھ دے تو سنت تو ادا ہوجائے گی لیکن افضل یہی معلوم ہوتا ہے کہ بسم اللہ صراحۃً لکھی جائے، اس لئے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط بھی کفار کے پاس گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر بادشاہوں کو جو خطوط روانہ فرمائے، ان میں بھی بسم اللہ درج تھی۔ ظاہر ہے کہ کفار کے پاس بے حرمتی کا احتمال مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ تھا، مگر اس کی وجہ سے بسم اللہ کو ترک نہیں کیا گیا۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد تقی عثمانی غفر لہٗ
۱۰؍۵؍۱۳۹۱ھ

(فتویٰ نمبر ۶۰۳/۲۲ ب)

جواب صحیح ہے، مگر اس کی شرط یہ ہے کہ ظنِ غالب اس کا ہو کہ اس خط کی بے ادبی نہ کی جائے گی، جہاں یہ شرط نہ ہو جیسے عموماً خطوط میں یہی حال ہے، وہاں بسم اللہ لکھنے سے پرہیز کرنا بہتر ہے، صرف زبان سے کہنے پر اکتفا کرے یا ۷۸۶ کو ایک علامت بسم اللہ کی ہونے کی حیثیت سے لکھ دے۔ مکاتیبِ نبوی اور مکتوبِ سلیمانؑ میں یہ شرط موجود تھی، کیونکہ عام دُنیا میں سلاطین اور بڑوں کے خطوط احتیاط سے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ جن خطوط کے متعلق آج بھی یہ گمان غالب ہو ان میں بسم اللہ لکھنا چاہئے۔

بندہ محمد شفیع

——————————
(۱)(۱) دیکھئے تفسیر معارف القرآن ج:۶ ص:۵۷۸، ۵۷۹۔