fatawa-usmani-2

۱:- حجِ بدل میں تمتع کا اِحرام باندھنے کا حکم
۲:- کیا حجِ بدل کرنے سے حج فرض ہوجاتا ہے؟

سوال۱:- زید نے حجِ بدل میں تمتع کا اِحرام باندھا تھا، اور سنا ہے کہ حجِ بدل میں اِفراد کا اِحرام میقات سے باندھنا چاہئے۔
۲:- اور کیا حجِ بدل کرنے پر حج فرض ہوجاتا ہے، جبکہ پہلے اس پر فرض نہیں تھا؟ حجِ بدل کے لئے کیا شرائط ہیں؟ صورتِ مذکورہ میں اِحرام تمتع سے کوئی خرابی آتی ہو تو اس کا کوئی تدارک ہوسکتا ہے؟
جواب۱:- حجِ بدل میں تمتع کا اِحرام باندھنا اگر بھیجنے والے (آمر) کی مرضی اور اجازت سے ہو تو جائز ہے، لیکن اس صورت میں قربانی کی رقم خود حج کرنے والے کے ذمہ ہے، بھیجنے والے پر اس کا دینا ضروری نہیں۔ اگر بھیجنے والے نے تمتع کی اجازت نہیں دی تھی اور حاجی نے تمتع کرلیا تو یہ بھیجنے والے کے حکم کی مخالفت سمجھی جائے گی، اور اس کا حج ادا نہ ہوگا، اور جانے والے کے ذمہ ہوگا کہ خرچہ واپس کردے اس لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ بھیجنے والے کو چاہئے کہ وہ ہر طرح کے اِحرام کی مأمور کو اجازت دیدے۔ ودم القِران والتمتع والجنایۃ علی الحاج ان أذن لہ الاٰمر بالقِران والتمتع وإلا فیصیر مخالفاً فیضمن۔ (در مختار مع الشامی ج:۲ ص:۳۳۹)(۱) فلو أمرہ بالافراد أو العمرۃ فقرن أو تمتع ولو للمیّت لم یقع حجہ عن الاٰمر ویضمن النفقۃ۔ (حاشیۃ البحر ج:۳ ص:۶۸)۔(۲)
۲:- جس شخص نے اپنا حج نہ کیا ہو، اسے حجِ بدل پر نہ بھیجنا چاہئے، لیکن اگر بھیج دیا تو بھیجنے والے کی طرف سے حج ہوجائے گا، اور اگر جانے والے کے ذمہ پہلے سے حج فرض نہیں تھا تو تحقیق یہی ہے کہ صرف حجِ بدل کرلینے سے حج فرض نہیں ہوگا، تاوقتیکہ خود اس کو استطاعت پیدا نہ ہو۔ (دیکھئے العقود الدریۃ ج:۱ ص:۱۳(۳) و شامی ج:۲ ص:۲۳۲)۔(۴)

واللہ سبحانہ اعلم
محمد عاشق الٰہی
۱۴؍۱۲؍۱۳۸۷ھ
(فتویٰ نمبر ۱۴۵/۱۸ الف)

——————————
(۱) ج:۲ ص:۶۱۱ (طبع سعید)۔
(۲) ج:۳ ص:۶۳ (طبع رشیدیہ کوئٹہ) نیز اس مسئلہ کی مزید تفصیل و تحقیق کے لئے امداد الاحکام ج:۲ ص:۱۸۲ تا ۱۸۷ ملاحظہ فرمائیں۔
(۳) کتاب الحج ج:۲ ص:۱۴ (طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
(۴) ج:۲ ص:۶۰۴ (طبع سعید)۔