"ابراہیمی معاہدہ"
پسِ پردہ حقائق اور نتائج
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب آج کل" ابراہیمی معاہدہ" (Abrahamic Accords)کے نام سے ایک معاہدے کی زور و شور سے تبلیغ فرما رہے ہیں، جس کا اصل مطلب تو یہ تھا کہ مسلمان، یہودی اور عیسا ئی ،تینوں چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا مقتدا مانتے ہیں، اس لئے ان کے درمیان باہمی تعاون ہونا چاہیے ،لیکن آج کل یہ اصطلاح صرف ایک نقطے پر مرکوز ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور عرب حکومتیں اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کریںاور مشرق میں ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت "چین"کے مقابلے میں امریکی بلاک کو مستحکم کرکے مسلمان اور عرب حکومتوں کو امریکہ کے حریف کےمدّ مقابل لاکھڑا کریں۔ چنانچہ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے پہل کر کے اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کیا ،بلکہ اس کے تحت متعدد میدانوں میں دوستانہ تعلقات قائم کر لیے جن میں انٹیلی جنس کی معلومات کا تبادلہ بھی شامل ہے۔
یہ تو" ابراہیمی معاہدہ "کا آخری نتیجہ اور اس کا سیاسی پہلو ہے، لیکن اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے مدت سے زمین ہموار کی جارہی ہے ، چنانچہ مدت سے علمی سطح پر یہ کوشش ہوتی رہی ہے کہ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے ۔اگر یہ کوشش اس مقصد سے ہوتی کہ کسی بھی معاشرے میں جب ان تینوں مذاہب کے پیروکار موجود ہوں، تو وہ امن و امان کے ساتھ رہیں، اور مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے کے جان و مال پر حملے نہ کریں ،تو اس حد تک بات کچھ غلط نہ ہوتی۔
لیکن اس کوشش کے دوران رفتہ رفتہ یہ تأثر دیا گیا کہ یہ تینوں مذاہب چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا مقتدا مانتے ہیں، اس لیے یہ ایک ہی خاندان کے افراد ہیں۔ اس کے لئے ایک تو یہ اصول اپنانے کی کوشش کی گئی کہ اگر کسی ریاست میں متعدد مذاہب کے لوگ آباد ہیں ،تو وہ اُس ریاست کے شہری ہونے کے ناطے "امّتِ واحدہ "ہیں ۔
دوسرے ان تینوں مذاہب کے لئے" ابراہیمی خاندان" کی اصطلاح ایجاد کی گئی کہ مسلمان، یہودی اور نصرانی سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں ،اور سب ابراہیم علیہ السلام کے پیرو ہیں، جس کا بالآخر نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ ان مذاہب میں حق و باطل کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ یہ سب حضرات ابراہیم علیہ السلام کے پیرو ہونے کی وجہ سے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں سے کسی کو مذہب کی بنیاد پر اپنے سے الگ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، اس کا آخری نتیجہ یہی تھا کہ سارے ادیان برحق ہیں ،اور ان میں سے کوئی بھی نجات اخروی کے لئے لازمی نہیں ہے، یعنی وہی بات جو "توحید ادیان" کا عقیدہ رکھنے والے کہا کرتے ہیں ۔اور اب تو "ابرہیمی معاہدہ" اور "اسرائیل کو جائز ریاست تسلیم کرکے اس سے تعلقات استوار کرنا " دونوں ہم معنیٰ لفظ بن چکے ہیں۔
بعض اوقات بات چھوٹی سی یا دیکھنے میں معمولی ہوتی ہے، لیکن اس کے عواقب ونتائج بہت دور تک پہنچتے ہیں۔عالم اسلام کی ایک نہایت قابلِ احترام اور بزرگ شخصیت حضرت شیخ عبداللہ بن محفوظ بن بیّہ مدظلہم العالی اصلاً موریطانیہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے وہاں کے مشائخ سے بڑا وسیع و عمیق علم حاصل کیا، اور اپنی فقہی بصیرت اور تبحر علمی کے اعتبار سے دنیا کے گنے چنے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ میرا ان سے نیاز مندانہ تعلق اس وقت سے ہے جب سے وہ مجمع الفقہ الاسلامی میں بطور رکن تشریف لاتے تھے ،اور میں ان کے تبحرعلمی سے استفادہ بھی کرتا تھا ،اور بعض مسائل میں باہمی مذاکرہ اور خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا ۔ اس وقت وہ ایک خالص علمی شخصیت کے طورپر جانے جاتے تھے جن کا عملی سیاست سے کوئی قابل ذکر تعلق نہیں تھا ۔
ایک عرصے کے بعد انہوں نے عالمی سطح پر ایک علمی ادارہ قائم کیا جو "تعزیر السِّلم "یعنی" امن کے فروغ"کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت مختلف مسلمان ممالک میں" نفاذ شریعت "کے نام پر مسلح بغاوتوں کا دور دورہ تھا۔ اور اس کی وجہ سے بہت سے بے گناہ مسلمانوں کا ناحق خون بہہ رہا تھا۔ اس لئے اس ماحول میں "امن کے فروغ" کی بات فی الجملہ ایک مستحسن بات تھی، اس مقصد کے تحت شیخ عبداللہ بن بیّہ حفظہ اللہ تعالی نے کئی عالمی کانفرنسیں منعقد کیں جن میں راقم الحروف اور میرے برادر معظم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی شریک ہوئے، ایک ایسی ہی کانفرنس میں راقم الحروف نے اپنی تقریر میں اس طرف بھی متوجہ کرنے کی کوشش کی کہ جو لوگ مسلمان حکومتوں کے خلاف مسلح کارروائیاں کر رہے ہیں، اور ان کی وجہ سے بدامنی کے فتنے پیدا ہو رہے ہیں، اس کے جواب میں صرف کانفرنسیں منعقد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ ایک طرف مسلمان ملکوں میں جو کام کھلم کھلا شریعت کے خلاف ہو رہے ہیں، ایک تو ان پر روک عائد کی جائے ،تاکہ یہ مسلح بغاوتیں اس صورتِ حال کو اپنی کارروائیوں کا جواز بنا کر پیش نہ کر سکیں۔ دوسری طرف جو لوگ نادانی اور خلوص کے ساتھ ان تحریکوں کےساتھ ہو ئے ہیں، ان تک اس سلسلے میں قرآن و سنت کے صحیح احکام پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔
بہرحال! اس موضوع پر متعدد کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ پھر ایک کانفرنس مراکش کے شہر میں بلائی گئی، جس کا موضوع یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں یہودیوں کے ساتھ جو معاہدہ فرمایا تھا اور جو "میثاق مدینہ" کے نام سے معروف ہے، مسلمان اس طرز کا ایک معاہدہ غیر مسلم شہریوں کے ساتھ کریں ۔
جب بندہ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچا اور" تعزیر السلم" (فروغ امن)کے ادارے کے ایک ذمہ دار جب استقبال کرنے کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ" میثاق مدینہ" میں ایک جملہ ایسا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ میں بسنے والے مسلمان اور یہودی دونوں ایک ہی" امت" ہیں، اس لئے اس کانفرنس کا مقصود یہ ہے کہ ہر مسلمان ملک میں اس تصوّر کو فروغ دیا جائے کہ مسلمان اور غیر مسلم دونوں ایک ملک کے باشندے ہونے کی بناپر ایک ہی" امت" ہیں ۔
یہ بات سن کر بندہ کے دل میں کچھ شبہ پیدا ہوا ، اور میں نے "میثاقِ مدینہ" کاغور سے مطالعہ کیا ، اور اس نتیجے پر پہنچا کہ" میثاقِ مدینہ "کی عبارت سے مسلمان اور غیر مسلم دونوں کے ایک امت ہونے پر استدلال درست نہیں ہے ۔
چنانچہ کانفرنس شروع ہونے سے پہلے میں شیخ عبداللہ بن بیّہ حفظہ اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں ملا، اور ان سے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی ہے، حالانکہ" میثاق مدینہ" میں ایسی کوئی بات نہیں ہےکہ مسلمان اور یہودی مل کر "امت واحدہ " ہیں ۔ میں نے "میثاق مدینہ "کی متعلقہ عبارت دکھا کر ان سے عرض کیا کہ یہ بات اس سے نہیں نکلتی۔ حضرت شیخ حفظ اللہ نے مجھ سے اتفاق فرمایا اورکہا کہ واقعی یہ بات درست ہے ۔
اس کے بعد جب کانفرنس کی نشستیں شروع ہوئیں ، اور بعض تقریروں میں یہ بات آئی کہ ایک ملک کے باشندے خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ، سب مل کر ایک" امت" ہیں اور یہ میثاق مدینہ کا تقاضا ہے۔ تو ان پر تنقید کرتے ہوئے میں نے کھڑے ہو کر "ھذہ امتکم امۃ واحدۃ "اور دوسری قرآنی آیات کے حوالے سے عرض کیا کہ یہ قرآنی اصطلاح ایک وین کے پیرووں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اور اسے ایک قومی حکومت (National State)کے لیے استعمال کرنے سے کئی معاملات میں خلطِ مبحث لازم آئے گا، اس لیے اس سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔
لیکن جب کانفرنس کا اختتامی اجلاس ہوا جس میں" اعلان مراکش" کا اعلان ہوناتھا، اس وقت حضرت شیخ عبداللہ بن بیّہ حفظہ اللہ تعالی میری نشست کے پاس سے گزرتے ہوئے کچھ دیر رُکے اور مجھ سے فرمایا کہ "میثاق ِ مدینہ" کی جس عبارت پر میری آپ سے بات ہوئی تھی، اس پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ اس سے قومی حکومت کے "امۃ واحدۃ" ہونے کا تصور نکل رہا ہے، اور یہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ اُس وقت وہ اتنی جلدی میں تھےکہ بات آگے بڑھانے کا موقع نہیں تھا، اور" اعلان مراکش" پڑھکر سنا دیا گیا اور اس کے بعد کسی کی تقریر کا کوئی موقع نہیں تھا۔ جب وہ اعلان بعد میں میرے پاس دستخط کے لئے آیا تو میں نے اس پر اپنی تقریروں سے مشروط دستخط کئے، اور اس طرح اس پر اختلافی نوٹ کا اشارہ دیا۔
اس کے بعد شیخ نے ایک اور کانفرنس بلائی اور اس میں ایک نئی اصطلاح کا تعارف کرایا گیا۔ وہ تھی "ابراہیمی خاندان" کی اصطلاح ۔میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ کسی ایک ملک میں مسلمان، عیسائی، یہودی اگر امن و امان کے معاہدے کے ساتھ رہیں تو اس میں کوئی اشکال کی بات نہیں ہے۔ لیکن ان کو" ابراہیمی خاندان" سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ سب واقعۃً حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہیں، اور جو نسبت ابراہیم علیہ السلام سے مسلمانوں کو ہے، یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی وہی نسبت ہے۔ حالانکہ قرآن کریم کے مطابق یہودی اور عیسائی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین حنیف کو چھوڑ چکے، اور اب ان کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کوئی حقیقی تعلق نہیں رہا ، قرآنی آیات کریمہ اس پر صریح ہیں ،اس کے باوجود ان تینوں مذاہب کے پیشواؤں کو کانفرنس میں جمع کرکے انہیں ابراہیمی خاندان کہا گیا اور کانفرنس میں ہر ایک کی عبادت گاہ الگ بنائی گئی۔
اس موقع پر میں نے ضروری سمجھا کہ میں اس اصطلاح میں چھپے ہوئے مقاصد سے شیخ عبداللہ بن بیّہ حفظہ اللہ کو آگاہ کرنے کی کوشش کروں۔ مجھے ان کی حسن نیت پرشبہ نہیں تھا ، لیکن میں سمجھتا تھا کہ بعض ناعاقبت اندیش لوگ ان کے ساتھ لگ کر انہیں اصطلاحات کے پھیر میں الجھا رہے ہیں، پھر ان سے کوئی اور مقاصد حاصل کریں گے ،چنانچہ اس موقع پر میں نے انہیں ادب کے ساتھ ایک خط لکھا، اب تک میں نے وہ خط انہیں شائع نہیں کیا کیونکہ یہ ایک نجی خط تھا ،لیکن اب جبکہ" ابراہیمی خاندان" کی اصطلاح کے نتیجے میں امریکہ کے زیر اہتمام۲۰۲۰ ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مسلمان حکومتوں کو" ابراہیمی معاہدہ" میں شامل کر لیا جن میں متحدہ عرب امارات اور بحرین سر فہرست تھے، اور اس معاہدے کا جزوِ اعظم یہ تھا کہ فلسطین کو تسلیم کیا جائے یا نہ کیا جائے، اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے، اور اس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون اور اس کے ساتھ کام کرنے کے معاہدات کر لیے جائیں، اس وقت واضح ہوا کہ اس موضوع پر سیاسی کام جو کچھ بھی ہوا ہو ،اس کو علمی امداد ان کانفرنسوں نے پہنچائی جن میں لوگوں کے ذہن کو قریب لانے کے لیے "ایک امت" اور" ابراہیمی خاندان" کی اصطلاحات قائم کر کے اس کی راہ ہموار کی گئی۔ اس لیے میں اب مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنا وہ خط شائع کر دوں جو میں نے اس خطرے کے پیش نظر عبداللہ بن بیّہ حفظہ اللہ کو بھیجا تھا لیکن اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ذیل میں وہ خط پیش خدمت ہے:()
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلوة والسلام على رسوله الكريم وعلى آله وأصحابه أجمعين، وعلى كلّ من تبعهم بإحسان إلى يوم الدّين ۔
سماحة العلاّمة المحقق الدّاعية الكبير الشّيخ عبدالله بن بيّة حفظه الله تعالى وأبقاه ذخرا للإسلام والمسلمين
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ
میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے آپ کی پُرشفقت رفاقت اور عزت افزائی سے نوازا، جو مجھے آپ کی جانب سے ہر ملاقات میں حاصل ہوئی، خصوصاً جب سے میں نے آپ کو پہلی بار بین الاقوامی فقہ اکیڈمی کی نشستوں میں پایا، پھر مختلف علمی مجالس، سیمینارز اور خاص طور پر'' تعزيز السِّلم''(فروغِ امن وسلامتی) کی کانفرنسوں میں، جن میں شرکت کی دعوت دے کر آپ نے مجھے عزت بخشی۔
میں آپ کی ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جو آپ ظلم، جبر، جنگوں اور دہشت گردی سے بھری ہوئی اِس دنیا میں امن کے قیام اور اُس کے فروغ کے لیے انجام دے رہے ہیں اور جس کے لئے آپ عمر کے اس حصہ میں بھی کوشاں ہیں، جب عام آدمی راحت اور سکون کا متلاشی ہوتا ہے۔ فجزاکم اللہ احسن الجزاء
اس میں کوئی شک نہیں کہ قیام امن کے جس کام کے لئے آپ کوشاں ہوں، وہ ایک عظیم مقصد اور نہایت بلند ہدف ہے۔ تاہم، کچھ باتیں ایسی ہیں جو عرصے سے میرے دل میں کھٹک رہی تھیں، جنہیں کئی بار آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ کیا، لیکن یہ سوچ کر رک گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں لقمان کو حکمت سکھانے کی جسارت کر بیٹھوں یا "مبضع تمر إلى هجر" ("ہجر" کو کھجور بھیجنے والی بات کا مصداق) بن جاؤں۔ مگر آج میں نے حسنِ نیت اور آپ کی شفقت و کرم نوازی پر اعتماد کرتے ہوئے، ان خیالات کو آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پہلی بات:
یہ حقیقت ہے کہ جو جنگیں اور دہشت گردی کی تحریکیں آج دنیا کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں، اُن پر صرف کانفرنسوں اور سمیناروں کے فیصلے کوئی خاص اثر نہیں ڈالتے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مسلمان فلسطین، کشمیر، بھارت، عراق، شام، برما، یمن اور دنیا کے دیگر حصوں میں بدترین مظالم اور انتقامی کاروائیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
اگر آج ان کانفرنسوں پر ہونے والے اخراجات کو باہمی مسلم مصالحت، مظلوموں کی مدد اور بے سہارا انسانوں (خواہ کسی بھی مذہب سے ہوں) کی داد رسی پر صرف کیا جائے، یا اُن بنیادی وجوہات کے خاتمے پر لگایا جائے جن کی وجہ سے دنیا میں پرتشدد تحریکیں پیدا ہوئیں، تو اس سے نسبتا زیادہ مفید اور مؤثر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
دوسری بات:
اس میں شک نہیں کہ یہ کانفرنسیں کم ازکم نظری اور عملی سطح پر مفید ضرور ہیں۔ لیکن اگر ان کا مجموعی رخ دیکھا جائے، تو اکثر ان کا لب و لہجہ ایسا ہوتا ہے جیسے یہ مسلمانوں پر دہشتگردی اورعدم برداشت کے الزام لگانے والوں کے مقابلے میں، اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے ایک دفاعی موقف اختیار کر رہی ہوں، گویا دنیا میں صرف مسلمان ہی ہیں جو انسانی خاندان کے درمیان عدمِ برداشت اور تشدد کے بیج بوتے ہیں، اور انہی کی وجہ سے جنگیں بھڑکتی ہیں اور دہشت گردی کی تحریکات جنم لیتی ہیں۔
ہم دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے سامنے یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ ہم ایسے نہیں ہیں، برئ الذمہ ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم، تشدد زدہ اور تعصب کا نشانہ بننے والی قوم مسلمان ہے۔
اس کے باوجود ہماری کانفرنسوں کی موضوعاتی ترجیحات میں زیادہ زور غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ رواداری اور ان کے حقوق کی بحالی پر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی دنیا میں کوئی غیر مسلم اقلیت ایسی ہے جسے اجتماعی طور پر ویسا ظلم و ستم برداشت کرنا پڑتا ہو جیسا مسلمانوں کو روزانہ فلسطین، کشمیر، برما اور بھارت میں سہنا پڑتا ہے؟
کیا ان مظلوم مسلمانوں کے درمیان امن کا قیام زیادہ اہم ترجیح نہیں ہونا چاہیے؟
تیسری بات:
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پرامن بقائے باہمی ایک اہم ضرورت ہے، اور ہمیں اس پر زور دینا چاہیے۔
لیکن کیا اس مقصد کے لیے ایسے الفاظ اور اصطلاحات اختیار کرنا ضروری ہے جو اس تأثر کو جنم دیں کہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، سب'' ایک ہی قوم'' (امت واحدہ) ہیں، جیساکہ "مراکش" کے غیر مسلم اقلیات سے متعلق منعقدہ کانفرنس میں یہ رویہ اختیار کیاگیا ۔ حالانکہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو کفار سے الگ مستقل امت قراردیاہے، ارشاد خداوندی ہے:
۱) إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ (الأنبياء۹۲)
ترجمہ: ( لوگو) یقین رکھو کہ یہ (دین جس کی یہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں)تمہارا دین ہے جو ایک ہی دین ہے ، اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ لہٰذا تم میری عبادت کرو۔
۲) وَإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ (المؤمنون :۵۲)
ترجمہ:اور حقیقت یہ ہے کہ یہی تمہارا دین ہے (سب کے لئے ) ایک ہی دین ، اور میں تمہارا پروردگار ہوں ، اس لئے دل میں (صرف)میرا رعب رکھو۔
۳) وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (يونس: ۱۹)
ترجمہ: اور (شروع میں)تمام انسان کسی اور دین کے نہیں صرف ایک ہی دین کے قائل تھے ، پھر بعد میں وہ آپس میں اختلاف کرکے الگ الگ ہوئے ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوگی تو جس معاملے میں یہ لوگ اختلاف کررہے ہیں ، اس کا فیصلہ (دنیا ہی میں)کردیا جاتا۔
۴) وَلَوْ شَاءَ اللّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَّشَآئُ(النحل :۹۳)
ترجمہ: اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت (یعنی ایک ہی دین کا پیرو)بنادیتا ، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے (اس کی ضد کی وجہ سے)گمراہی میں ڈال دیتا ہے ، اور جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچادیتا ہے۔
۵) وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (هود:۱۱۸و۱۱۹)
ترجمہ:اور اگر تمہار اپروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقے کا پیرو بنادیتا ، (مگر کسی کو زبردستی کسی دین پر مجبور کرنا حکمت کا تقاضا نہیں ہے ، اس لئے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے)اور اب وہ ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے ۔البتہ جن پر تمہارا پروردگار رحم فرمائے گا ، ان کی بات اور ہے (کہ اللہ انہیں حق پر قائم رکھے گا)اور اسی (امتحان)کے لئے اس نے ان کو پیدا کیا ہے ۔ اور تمہارے رب کی وہ بات پوری ہوگی جو اس نے کہی تھی کہ : میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا۔
۶) كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَّاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوْتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهٖ وَاللّهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (البقرة:۲۱۳)
ترجمہ:(شروع میں) سارے انسان ایک ہی دین کے پیرو تھے، پھر (جب ان میں اختلاف ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے جو (حق والوں کو) خوشخبری سناتے، اور (باطل والوں کو) ڈراتے تھے، اور ان کے ساتھ حق پر مشتمل کتاب نازل کی، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں ان کا اختلاف تھا۔ اور (افسوس کی بات یہ ہے کہ) کسی اور نے نہیں بلکہ خود انہوں نے جن کو وہ کتاب دی گئی تھی، روشن دلائل آجانے کے بعد بھی، صرف باہمی ضد کی وجہ سے اسی (کتاب) میں اختلاف نکال لیا، پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انہیں اپنے حکم سے حق کی ان باتوں میں راہ راست تک پہنچایا جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا، اور اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست تک پہنچا دیتا ہے۔
۷) وَلَوْ شَاءَ اللّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوْا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (المائدة: ۴۸)
ترجمہ: اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن (الگ شریعتیں اس لیے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ لہذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
۸) وَلَوْ شَاءَ اللّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ يُدْخِلُ مَنْ يَّشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيرٍ (الشورى:۸)
ترجمہ:اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور جو ظالم لوگ ہیں ان کا نہ کوئی رکھوالا ہے، نہ کوئی مددگار ہے۔
۹) وَلَوْلَا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَّاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ (الزخرف:۳۳)
ترجمہ:اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔
۱۰) فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء:۴۱)
ترجمہ:پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور (اے پیغمبر) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے ؟
یہ آیات صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ مسلمان اور غیر مسلم دونوں "ایک امت" نہیں ہیں۔
جہاں تک "میثاقِ مدینہ" کا تعلق ہے، جسے "اعلانِ مراکش" نے اپنی بنیاد بنایا ہے، تو۔۔ اس کی عبارت مختلف مفاہیم کا احتمال رکھتی ہے۔
اسی طرح "ابراہیمی خاندان" (العائلة الإبراهيميّة) کی اصطلاح، جس میں مسلمان، عیسائی اور یہودی تینوں شامل کیے جاتے ہیں، متعدد مواقع پر استعمال کی گئی ہے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں ابوظہبی کانفرنس سے جاری ہونے والے "نئے حلف الفضول" میں اس اصطلاح کو نمایاں طور پر اختیار کیا گیا۔ مگر یہ اصطلاح اس گمان کو جنم دیتی ہے کہ گویا یہ تمام ادیان (مذاہب) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ قرآن کریم کی صریح تعلیمات کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
۱) وَقَالُوا كُونُوْا هُودًا أَوْ نَصَارٰى تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا وَّمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (البقرة:۱۳۵)
ترجمہ:اور یہ (یہودی اور عیسائی مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : تم یہودی یا عیسائی ہوجاؤ راہ راست پر آجاؤ گے۔ کہہ دو کہ : نہیں بلکہ (ہم تو) ابراہیم کے دین کی پیروی کریں گے جو ٹھیک ٹھیک سیدھی راہ پر تھے، اور وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
۲) أَمْ تَقُوْلُوْنَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا أَوْ نَصَارٰى قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللّهُ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللّهِ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (البقرة: ۱۴۰)
ترجمہ:بھلا کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولادیں یہودی یا نصرانی تھیں ؟ (مسلمانو ! ان سے) کہو : کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ایسی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے پہنچی ہو ؟ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔
۳) يَاأَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّوْنَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنْزِلَتِ التَّوْرٰةُ وَالْإِنْجِيلُ إِلَّا مِنْ بَعْدِهٖ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (۶۵)
ترجمہ:اے اہل کتاب ! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد ہی تو نازل ہوئی تھیں، کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ہے ؟
۴) هَاأَنْتُمْ هٰؤُلَاءِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّوْنَ فِيمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (۶۶)
ترجمہ:دیکھو ! یہ تم ہی تو ہو جنہوں نے ان معاملات میں اپنی سی بحث کرلی ہے جن کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا۔ اب ان معاملات میں کیوں بحث کرتے ہو جن کا تمہیں سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہے ؟ اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔
۵) مَا كَانَ إِبْرَاهِيْمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (البقرة:۶۷)
ترجمہ:ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ تو سیدھے سیدھے مسلمان تھے، اور شرک کرنے والوں میں کبھی شامل نہیں ہوئے۔
۶) قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْ إِبْرَاهِيْمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوْا بِاللهِ وَحْدَهُ (الممتحنة: ۴)
ترجمہ:تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو، ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔
یہ محض الفاظ کی بحث نہیں ہے۔ جب "وحدتِ امت" یا "ابراہیمی خاندان" جیسی اصطلاحات ایسی شکل میں استعمال کی جاتی ہیں کہ ان میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر مذاہب والے بھی شامل ہو جائیں، تو یہ بات ان لوگوں کے لیے تقویت کا ذریعہ بن سکتی ہے ، یا کم از کم ان کے لیے غلط استعمال کا موقع بن سکتی ہے ، جو "وحدتِ ادیان" کے نظریے کو مانتے ہیں، یعنی (جو یہ کہتے ہیں ) کہ تمام مذاہب برحق ہیں، ان کے درمیان حق و باطل کا کوئی فرق نہیں، اور نجات صرف اسلام میں منحصر نہیں۔
اسی طرح ان اصطلاحات کا استعمال "قومی ریاست" (National State) کے تصور کو بھی تقویت دیتا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ریاست کی بنیاد قومیت پر ہو، نہ کہ مذہب پر۔ اس تصور میں خالص اسلامی ریاست کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ سیکولرازم (یعنی لا مذہبی اصول) ہی قومی ریاست کا بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے۔
اس خطرے کو مزید تقویت اُس بات سے ملتی ہے جو "اعلانِ مراکش" کی تصویری دستاویز میں لکھی گئی ہے:
"جدید تہذیبی سیاق میں 'صحیفۂ مدینہ' مسلمانوں کے لیے شہریت کا ایک مستند ماڈل پیش کرتا ہے۔ یہ ماڈل اسلامی ممالک میں اقلیتوں کے حالات کے لیے موزوں ہے۔ یہ معاہدہ تاریخی اعتبار سے نیا ضرور ہے، مگر اسلامی تجربے میں گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ اس میں انفرادی تشخص کا احترام کیا جاتا ہے، اقلیتوں کو اپنے دین پر عمل کی مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے، اور سب لوگ مل کر دنیاوی معاملات کو باہمی ہم آہنگی سے چلاتے ہیں، ایسی ذمہ داریوں اور حقوق کی بنیاد پر جو 'عقلی دستور' کے ذریعے متعین کیے گئے ہوں، جو توازن، خوشگوار بقائے باہمی، قانون کی حکمرانی، اور سیاسی اختلافات کے منصفانہ حل کو یقینی بناتا ہے۔"
یہاں خاص طور پر "عقلی دستور (rational constitution) "کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بھی اسلامی ممالک کے سیاق میں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا مطلب "سیکولر دستور" ہی ہے؟ اور سوال یہ ہے کہ جب سب لوگ مل کر دنیاوی معاملات چلا سکتے ہیں تو وہ "اسلامی دستور" کی روشنی میں ایسا کیوں نہ کریں؟ پھر کیوں "عقلی" یا "سیکولر" دستور کی بات کی گئی؟
میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی ایک عظیم مقصد اور شاندار نصب العین ہے، جس کا انکار صرف کوئی ضدی اور تنگ نظر شخص ہی کر سکتا ہے۔ مگر یہ بقائے باہمی ایسے حدود کے دائرہ میں رہ کر ہونی چاہیے جو معقول ہوں، ایسا نہ ہو کہ کہیں اس کی وجہ سے مذاہب کے درمیان فرق ہی مٹ جائے اور عقائد کے بنیادی اختلافات نظر انداز ہو جائیں، جس کے نتیجے میں حق و باطل خلط ملط ہو جائیں۔
مجھے اندیشہ ہے کہ ایسی اصطلاحات اور ان پر اس قدر زور دینے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ رفتہ رفتہ ہم "وحدتِ ادیان" یا "قومی ریاست" یا "سیکولرازم" کے نظریے کو قبول کرنے لگیں، اور یوں بارش سے بچنے کی کوشش میں ہم پرنالے کے نیچے جا بیٹھیں۔
یہ چند عاجزانہ گزارشات ہیں جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں، اس امید پر کہ آپ ان پر توجہ فرمائیں گے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اپنی حد سے تجاوز نہ کر گیا ہوں، مگر آپ کی ہمیشہ کی شفقت نے مجھے ہمت دی کہ یہ باتیں آپ کے سامنے رکھ سکوں۔ اگر کوئی بات دل کو ناگوار گزری ہو تو مجھے معاف فرما دیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے، آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے، اور ہم سب کو اپنی رضا کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا قدرداں
محمد تقی عثمانی
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ان کانفرنسوں میں نئی اصطلاحات متعارف کروا کر پہلے علمی سطح پر" ابراہیمی معاہدے "کے لیے فضا ہموار کرنے کی کوشش ہوئی، اور۲۰۲۰ ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں "ابراہیمی معاہدہ" وجود میں آگیا جومتعدد ایگریمنٹ پر مشتمل ہے ، جن میں معاہدے میں شامل ممالک (بشمول اسرائیل) کے ساتھ تجارتی، تزویراتی اشتراک کے احکام موجود ہیں، اور اب اگر آپ "ابراہیمی معاہدے" کا لفظ گوگل میں ڈال کر یا وکی پیریا میں دیکھیں تو اس کا واحد مطلب یہ لکھا ہوا ہوگا کہ معاہدے میں شامل تمام ممالک اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کریں۔ نتیجہ یہ کہ مزعومہـ " ابراہیمی خاندان" کا صرف ایک ملک یعنی اسرائیل اس بات کا حقدار ہے کہ وہ اپنی حیثیت منوائے جو اس نے دھوکے، فریب اور معصوموں کے قتل عام کی بنیاد پر قائم کی ہے، اور اسی" ابراہیمی خاندان "کے وہ لوگ جو فلسطین کے اصل باشندے ہیں ان کا معاملہ کم از کم اس وقت تک معلق رکھا جائے جب تک اسرائیل چاہے۔
اس معاہدے پر کئی عرب ممالک متحدہ عرب امارات ،بحرین ، مراکش اور سوڈان نے دستخط کیے ہیں۔ سعودی عرب نے دستخط نہیں کیے اور یہ منصفانہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر فلسطین کی ریاست قائم نہ ہو، وہ اس معاہدے میں شریک نہیں ہوگا۔
اب آپ تصور فرمائیے کہ" ابراہیمی خاندان" کی اصطلاح سے کس طرح صرف ایک ایسی ناجائز ریاست کو تحفظ دیا جا رہا ہے جو ایک وحشی درندے کی طرح کبھی فلسطین کے باشندوں کا قتل عام کرتی ہے، کبھی ایران پر، کبھی لبنان پر اور کبھی شام پر بے خوف و خطر چڑھ دوڑتی ہے، اور جسے نہ کسی بین الاقوامی قانون کا پاس ہے ،نہ اخلاقی روایات کا ،نہ کسی معاہدے کی پابندی اس کی لغت میں کوئی معنی رکھتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ" امن "کے پُرفریب نعرے کے ساتھ اس معاہدے کی طرف مسلمان ملکوں کو دعوت دے رہے ہیں، تاکہ سارے مسلمانوں کو اسرائیل کی خواہشات کا غلام بنا کر انہیں اپنے حریف" چین" کے مد مقابل کھڑا کر دیں ع
ترے نشتر کی زد شریانِ قیس ناتواں تک ہے
یہ میرے لئے باعثِ سعادت ہے کہ میں اس بابرکت علمی نشست "ندوة الحج الكبرى" میں آپ کے سامنے حاضر ہوں۔ سب سے پہلے میں مملکتِ سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جس نے ہمیشہ امت مسلمہ کے لیے حج کی ادائیگی کو آسان، منظم اور پرسکون بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے سلامت اور قائم و دائم رکھے۔سعودی حکومت کی جانب سے ہر سال حاجیوں کی خدمت کے لیے جو عظیم الشان انتظامات کیے جاتے ہیں، وہ واقعۃً قابلِ تحسین ہیں۔ ان انتظامات میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، اور ہم ہر سال نئی سہولتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ تمام کوششیں حجاج کرام کے آرام و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کو بہترین جزا دے۔
اس نشست کا موضوع "استطاعت" ہے، جو حج کی فرضیت کی بنیادی شرط ہے۔ میں نے اس موضوع پر ایک مفصل علمی مقالہ ندوہ کے منتظمین کو ارسال کیا ہے، جس کی تفصیل میں یہاں بیان نہیں کر رہا، بلکہ صرف ایک اہم نکتہ پر بات کرنا چاہتا ہوں۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ قرآن کریم نے اس اصول کو پانچ مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے۔سورۃ البقرہ میں فرمایا:وعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا۔(یعنی باپ پر لازم ہے کہ اپنے بچوں کی ماؤں کو معروف طریقے سے رزق اور کپڑے دے، کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔) اسی سورہ میں ایک اور جگہ فرمایا:لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا.اسی جیسی کچھ آیات سورۃ الانعام، سورۃ الأعراف اور سورۃ المؤمنون میں بھی ہیں۔ان پانچ سورتوں میں اس اصول کو دہرایا گیا ہے۔اسی طرح قرآن نے یہ بھی فرمایا:"مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ"(اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔)یہ اصول تمام فقہاء اور علمائے دین کے ہاں مسلم اور متفق علیہ ہے، جیسا کہ قرآن مجید کے بیان سے ظاہر ہے۔فقہاء نے ان اصولوں کی روشنی میں کچھ بنیادی قواعد اخذ کیے ہیں، جیسے:"المشقة تجلب التيسير" (مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے)"الضرر يزال" (نقصان دور کیا جاتا ہے)جیسا کہ دیگر اہل علم نے بھی فرمایا کہ شریعت کے مقاصد میں جان اور مال کا تحفظ شامل ہے، اس لیے عبادات میں استطاعت کے معنی میں جان اور مال کی حفاظت بھی شامل ہے۔میں نے اپنی تحقیق میں ذکر کیا ہے کہ چاروں فقہی مذاہب کے علماء نے استطاعت کا اصول حج کے تمام مراحل میں تفصیل سے بیان کیا ہے، مثلاً حج کی فرضیت، رمی جمار، مزدلفہ میں قیام، وہاں سے روانگی، اور دیگر تمام مناسک میں فقہاء نے استطاعت کا لحاظ رکھا ہے۔لیکن ایک اور بنیادی نکتہ بھی ضروری ہے، اور وہ یہ کہ کوئی بھی عبادت کچھ نہ کچھ مشقت سے خالی نہیں ہوتی۔ ہر عبادت میں معمولی سی مشقت ضرور شامل ہوتی ہے، لیکن یہ مشقت اس حد تک نہیں پہنچنی چاہیے کہ وہ مشقتِ شدیدہ (عسر) بن جائے۔مشقت کا ہونا فطری ہے، لیکن عسر کا ہونا شریعت میں ناپسندیدہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ(اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں۔)جو معمولی مشقت اور محنت عبادت میں مطلوب ہے، وہی دراصل وہ "جهد" ہے جس کا صلہ اجر اور ثواب کی صورت میں ملتا ہے۔یہی جهد وہ چیز ہے جو نماز، زکٰوۃ، روزہ اور حج میں مطلوب ہے۔ بعض لوگوں کے لیے یہ جهد کچھ زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہی وہ دشواری ہے جس کے متعلق حدیث میں آیا کہ "جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے۔"
لہٰذا دو باتوں کے درمیان توازن رکھنا ضروری ہے:
۱. عبادت کے لیے ایک حد تک جهد اور مشقت مطلوب ہے، کیونکہ اسی سے ثواب وابستہ ہے۔
۲. لیکن اس مشقت کو اتنا نہ بڑھایا جائے کہ وہ شدید عسر بن جائے، کیونکہ دین آسان ہے۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا"(آسانی کرو، سختی نہ کرو؛ خوش خبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔)اسی لیے ضروری ہے کہ ان دو باتوں میں توازن رکھا جائے:
۱- جهد مطلوب ہے۔
۲- عسر ممنوع ہے۔اور سہولت (یُسر) مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا"(جو ہمارے راستے میں جهد کرتے ہیں، ہم انہیں اپنی راہیں دکھاتے ہیں۔)لہٰذا جب ہم احکام کو قرآن و سنت کے اصولوں کی بنیاد پر اخذ کریں، تو ان دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔جو بات میں نے سعودی عرب کے اداروں میں دیکھی ہے، خاص طور پر ہیئة كبار العلماء اور فقہی مجالس کی بیشتر قراردادوں میں ، وہ یہی توازن ہے۔ بعض لوگ ہر چیز میں آسانی کو اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ شریعت کی پابندیاں ہی ختم ہو جائیں، لیکن ان اداروں نے اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ نہ سختی ہو اور نہ شریعت کے احکام ہی ختم ہو جائیں۔لہٰذا ان کے فتاویٰ، جیسا کہ ہیئة كبار العلماء، مجمع الفقہ الإسلامي، اور رابطۃ العالم الإسلامي کے تحت جاری کردہ بیشترفتاویٰ، الحمد للہ اعتدال اور توازن پر مبنی ہوتے ہیں۔ہمیں بھی اس دینی جهد کو باقی رکھنا ہے، اور ساتھ ساتھ تيسير کے اصول کو بھی۔ بعض لوگوں نے تيسير کو بہانہ بنا کر عبادات کے ضروری احکام سے فرار اختیار کیا، جو درست نہیں۔ ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم امتِ وسط ہیں، اور ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کو اپنانا ہے۔اسی بنیاد پر سعودی عرب نے شرط رکھی ہے کہ حج صرف وہی شخص کرے جو حج کا ویزہ یا اجازت نامہ (تصريح) حاصل کرے۔ اور بغیر اجازت حج ممکن نہیں۔ یہ شرط بھی دراصل تيسير کے لیے ہے، کیونکہ دنیا کی آبادی بہت بڑھ چکی ہے، اور اگر ہر کوئی ایک ساتھ آجائے تو انسانی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔لہٰذا یہ شرط شریعت کی روح کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس میں حفظ النفس کا اصول کارفرما ہے۔ اور اب استطاعت کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کے پاس یہ اجازت نامہ موجود ہو۔ یہ بدن کی استطاعت میں شامل ہے، جو حج کی فرضیت کے لیے شرط ہے۔لہٰذا یہ بات شرعی طور پر قابلِ قبول ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس معتدل راہ پر قائم رکھے، جس میں عبادت کا جهد بھی ہو، اور عسر سے حفاظت بھی۔اسی بنیاد پر میں نے اپنی تحقیق ترتیب دی، جس میں میں نے بیان کیا کہ حج کے مختلف مراحل میں فقہاء نے تيسير کے اصول کو کیسے نافذ کیا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری اس جهد کو قبول فرمائے۔ میں خاص طور پر وزارتِ حج کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جس نے اس بابرکت ندوہ کا انعقاد کیااور وہ تفصیلات ہمیں بتائیں جو حج کی عبادت کو زیادہ منظم اور مرتب بنانے کے لئے اختیار کی گئی ہیں۔ جو ان شاء اللہ حج کی خدمات کو مزید بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہو گی۔میں پاکستان کی طرف سے بھی سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کیونکہ پاکستان کے عوام حرمین شریفین سے شدید محبت رکھتے ہیں، اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(ماہنامہ البلاغ : صفر ۱۴۴۷ھ)