محمد تقی عثمانی

مسلمانوں کے عائلی قوانین کا تحفظ

مقننہ اور عدلیہ سے کچھ گزار شات

تمام  تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا
نکاح ، طلاق ، وصیت اور وراثت سے متعلق احکام ہر مذہب وملت میں تقریباً اسی تقدس کے حامل ہوتے ہیں جو عبادات کو حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے قرآن و سنت میں جتنی جزوی تفصیلات سے ان احکام کو بیان فرمایا گیا ہے، اس تفصیل سے کسی اور قانون کو بیان نہیں کیا گیا، کیونکہ ان قوانین کا تعلق اس خاندانی نظام سے ہے جو کسی تہذیب و تمدن کا بنیادی پتھر ہوتا ہے اور اس کی بنیاد پر تمدن کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ چنانچہ انگریز نے جب برصغیر پر قبضہ جمایا، تو تمام قوانین اپنے طور پر نافذ کئے۔ لیکن مذکورہ قوانین کو مسلم پر سنل لاء کے طور پر برقرار رکھا، اور عدالتوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ ان معاملات میں فقہ حنفی یا فقہ جعفری کے مطابق فیصلے کریں۔ چنانچہ غیر منقسم ہندوستان میں عدالتیں اسکی پابند ر ہیں۔ اور شریعت کی تعبیر و تشریح میں یا تو مفتی حضرات کے فتووں پر اعتماد کرتیں، یا ان موضوعات پر لکھی گئی کتابوں سے استفادہ کرتی تھیں ۔ اگر چہ بعض عدالتوں کے فیصلوں میں غلطیاں بھی ہو ئیں ، لیکن بحیثیت مجموعی مسلمانوں کا پر سنل لاء بڑی حد تک محفوظ رہا۔
اسی دوران حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے محسوس فرمایا کہ بعض خواتین جو شوہروں کے ظلم کا شکار ہوتی ہیں ۔ یا ان کی دماغی ناہلی یا گمشدگی و غیرہ کی بنا پر ان سے خلاصی حاصل نہیں کر پاتیں۔ انکے بارے میں حنفی فقہ میں عملی دشواریوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ اس لئے انہوں نے علما ہند سے مشورے کے بعد ان کی خلاصی کیلئے مالکی فقہ پر فتوی دیا، اور بعد میں اسی فتوے کی وجہ سے قانون تنسیخِ نکاح ا سمبلی سے منظور ہو کر با قاعده قانونی شکل اختیار کر گیا۔ اس قانون کی خوبی یہ تھی کہ مظلوم بیوی کانکاح  بھی فسخ  ہو جاتا تھا اور وہ مہر کی بد ستور حق دار ر ہتی تھی۔
پاکستان کے آئین میں بھی شخصی قوانین ( مسلم پرسنل لاء) کی اہمیت کو محسوس کر کے تقریباً ہر معاملے میں تمام مکاتب فکر کے اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ اپنے نکاح، طلاق اور وراثت کے معاملے میں اپنے اپنے مکتب ِفکر کےمطابق عمل کرتےر ہیں۔پاکستان کے جتنے دستور بنے ان میں اور بالآخر،۱۹۷۳ءکے آئین میں  بھی جوابتک نافذ ہے۔ تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنانے کی جود فعہ ۲۲۷ موجود ہے، اسمیں بھی یہ کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر پروہ پر سنل لاء عائد کیا جائیگا جو اس مکتب فکر کے عقیدے کے مطابق ہو۔
پھر آئین کی دفعہ ۲۲۸میںموجودہ قوانین کو اسلامی اصولوں کے مطابق تبدیل کرنے کیلئے ایک اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دی گئی ہے جو ہر مکتب ِفکر کے ایسے افراد پر مشتمل ہے جو قرآن وسنت کے علوم کے ماہر ہوں، اور ان کے مطابق قانون سازی میں پارلیمنٹ کی مدد کر سکیں۔
پھر آئین کی دفعہ 203 میں وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بینچ اسی غرض کے لیے قائم کی گئی ہے کہ اس میں قرآن وسنت کا علم رکھنے والےججزیہ فیصلہ کر سکیں کہ کونسا قانون قرآن وسنت کے مطابق یا مخالف ہے ؟ اسکے لئے وسیع پیمانے پر حکومت اور عام مسلمانوں کا نقطۂ نظر سن کر اس پر جچا تلا فیصلہ دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اس کے اختیار پر بھی یہ قد غن لگائی گئی ہے کہ وہ مسلم پر سنل لاء کے بارے میں کوئی ایسا فیصلہ نہ دے جو مسلمانوں کے کسی مکتب فکر کے خلاف ہو، جس کی تشریح سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ نے یہ کی ہے کہ        ’’اسکا مقصد مختلف مکاتب فکر کے اپنے عقیدے اور مسلک کے خلاف کسی قانون کو ختم نہیں کیا جا سکتا،‘‘ یعنی نکاح ، طلاق اور وراثت کے بارے میں ہر مکتب ِفکر کا جو اپنا پر سنل لاء ہے اس مکتب ِفکر کو کسی دوسرے مکتب فکر کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ مثلاً شیعہ مکتب ِفکر کے لوگوں کو سنّی مکتب ِفکر کے احکام ماننے پر یاسنّی مکتب ِفکر کو شیعہ مذهب کے احکام ماننے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ فیصلہ شریعت اپیلیٹ بینچ کا کیا ہواہے جسکا ایک رکن راقم الحروف بھی تھا ( ملا حظہ ہو اڈاکٹر محمود الرحمن فیصل بنام حکومت پاکستان پی ایل ڈی۱۹۹۴سپریم کورٹ ص۶۰۷)
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر چہ ہمارا آئین تمام قوانین کو قرآن وسنت کے مطابق بنانے کےبارے میں بالکل واضح ہے۔ لیکن خاص طور پر پر سنل لاء کے بارے میں وہ بہت حساس ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود افسوس ہے کہ ہماری مقننہ اور عدلیہ نے کچھ عرصے سے خاص طور پر مسلم پر سنل لاء کے بارے میں نہایت بے پروائی کا انداز اختیار کیا ہوا ہے۔ نکاح ، طلاق اور وراثت کے بارے میں کوئی قانون نافذ کرنے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کی بھی کوئی ضرورت سمجھی نہیں جارہی نہ قرآن و سنت کا علم رکھنے والوں کا موقف سمجھنے کی کوئی کوشش کی جارہی ہے، اسی روش کے نتیجے میں سندھ حکومت اور وفاقی حکومت نے ۱۸ سال سے کم عمر کی شادی کو خلافِ قانون قرار دیکر اس پر سزائیں عائد کر دیں اوراسلام آباد ہائی کورٹ کی ایک سنگل بنچ نے اسکو زنا بالجبر قرار دید یا(پی ایل ڈی ۲۰۲۲اسلام آباد ص۲۲۸) اور یہ واضح نہ کیا کہ اس پر سزادینے کے بعد نکاح باقی رہے گا انہیں؟ اسی طرح یہ قانون مزید ابہام اور غیریقینی صورتحال کاشکار بن گیا۔
اسی طرح عدلیہ کی طرف سے ان معاملات میں ایسے فیصلے یکے بعد دیگرے آرہے ہیں جن میں نکاح ، طلاق ، خلع، مہر و غیرہ کے سلسلے میں قرآن و سنت سے آزاد ہو کر صرف اپنی سمجھ کی بنیادپر ایسے فیصلے دیئے جا          ر ہے ہیں جو قرآن و سنت کے واضح احکام کے خلاف ہیں اور اس پر اظہار افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جس سمجھ کی بنیاد پر یہ فیصلے کئے جارہے ہیں، دو بڑی حد تک مغربی پروپیگنڈے سے متاثر ہےجس نے مغرب میں خاندانی نظام کی چُولیں ہلاکر رکھدی ہیں،اس قسم کے فیصلے دینے سے پہلے متعلقہ موضوع پر مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں کو سننے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی گئی۔ اس طرح ہم مسلم پر سنل لاء کے معاملے میں ان حقوق سے بھی پیچھے چلے گئے ہیں جو انگریزی حکومت میں مسلمانوں کو حاصل تھے۔
 ہماری نظر میں مقننہ اور عدلیہ کا یہ طرزِ عمل ہمارے آئین کی مجموعی اسکیم اور اس کی بنیادی روح کے خلاف ہے جسمیں قدم قدم پر مسلمانوں کے پر سنل لاء کا تحفظ کیا گیاہے۔
یه گزارشات ہم نہایت درد مندی اور دل سوزی سے مقننہ اور عدلیہ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں کہ اسلامی قوانین کے نفاذ میں پیش قدمی کرنے کے بجائے جن قوانین کو خود آئین نے تحفظ دیا ہے، ان کو ختم کرنے کا رویہ ہمیں اسلامی نقطۂ نظر سے پیچھے دھکیل رہا ہے۔ خدا کیلئے اس طرز عمل سے باز آئیں ، اور جہاں قرآن و سنت کی راہنمائی ضروری ہے، انکو آئینی اداروں اسلامی نظریاتی کونسل وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بینچ کےحوالے کر دیں۔ اور اس قسم کے مسائل پر تمام مکاتب ِفکر کے علماء کو تفصیل کے ساتھ سن کر کوئی اقدام کریں۔ اس معاملے میں ہم سیاسی جماعتوںاور وکلاء برادری سے بھی یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کے مقدمات میں بیداررہیں،اور علماءکرام کی مشاورت سے ایسے مقدمات میں صحیح شرعی صورت حال مقننہ اور عدلیہ کے سامنے پیش کریں۔
بہتر یہ ہے کہ اس معاملے کو آئینی دائرے میں رہ کر حل کر لیا جائے اور عوامی احتجاج اور انتشار کا ذریعہ بننے سے پہلے اس کا سد ّباب کر لیا جائے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : ربیع الاول ۱۴۴۸ھ)