عربی خطاب : حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم
اردو خلاصہ :مولاناشادمحمدشاد

ندوۃ الحج الکبرٰی میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کے خطاب کا خلاصہ

تمام  تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا
رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے امسال حج کے موقع پر سعودی حکومت کی دعوت پر ندوۃ الحج الکبری میں علمی وتحقیقی خطاب فرمایا ، اس موضوع پر عربی میں مفصل علمی مقالہ الگ سے ندوہ کے منتظمین کو ارسال فرمایا ۔ مولانا شاد محمد شاد صاحب نے حضرتِ والا دامت برکاتہم کے خطاب کا خلاصہ تحریر فرمایا ہے،حضرتِ والا دامت برکاتہم کی نظر ثانی کے بعد افادئہ عام کے لئے مذکورہ  خطاب کا خلاصہ ہدیۂ قارئین ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ادارہ)


الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا ونبينا وحبیبنا ومولانا محمد خاتم النبيين وعلى آله وأصحابه أجمعين، وعلى كل من تبعهم بإحسان إلى يوم الدين

اما بعد!معزز علماء کرام، اصحابِ فضیلت، اصحابِ سماحت، اصحابِ معالی، اور معزز شرکاء!

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
یہ میرے لئے باعثِ سعادت ہے کہ میں اس بابرکت علمی نشست "ندوة الحج الكبرى” میں آپ کے سامنے حاضر ہوں۔ سب سے پہلے میں مملکتِ سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جس نے ہمیشہ امت مسلمہ کے لیے حج کی ادائیگی کو آسان، منظم اور پرسکون بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے سلامت اور قائم و دائم رکھے۔سعودی حکومت کی جانب سے ہر سال حاجیوں کی خدمت کے لیے جو عظیم الشان انتظامات کیے جاتے ہیں، وہ واقعۃً قابلِ تحسین ہیں۔ ان انتظامات میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، اور ہم ہر سال نئی سہولتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ تمام کوششیں حجاج کرام کے آرام و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کو بہترین جزا دے۔
اس نشست کا موضوع "استطاعت” ہے، جو حج کی فرضیت کی بنیادی شرط ہے۔ میں نے اس موضوع پر ایک مفصل علمی مقالہ ندوہ کے منتظمین کو ارسال کیا ہے، جس کی تفصیل میں یہاں بیان نہیں کر رہا، بلکہ صرف ایک اہم نکتہ پر بات کرنا چاہتا ہوں۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ قرآن کریم نے اس اصول کو پانچ مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے۔سورۃ البقرہ میں فرمایا:وعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا۔(یعنی باپ پر لازم ہے کہ اپنے بچوں کی ماؤں کو معروف طریقے سے رزق اور کپڑے دے، کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔) اسی سورہ میں ایک اور جگہ فرمایا:لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا.اسی جیسی کچھ آیات سورۃ الانعام، سورۃ الأعراف اور سورۃ المؤمنون میں بھی ہیں۔ان پانچ سورتوں میں اس اصول کو دہرایا گیا ہے۔اسی طرح قرآن نے یہ بھی فرمایا:”مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ”(اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔)یہ اصول تمام فقہاء اور علمائے دین کے ہاں مسلم اور متفق علیہ ہے، جیسا کہ قرآن مجید کے بیان سے ظاہر ہے۔فقہاء نے ان اصولوں کی روشنی میں کچھ بنیادی قواعد اخذ کیے ہیں، جیسے:”المشقة تجلب التيسير” (مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے)”الضرر يزال” (نقصان دور کیا جاتا ہے)جیسا کہ دیگر اہل علم نے بھی فرمایا کہ شریعت کے مقاصد میں جان اور مال کا تحفظ شامل ہے، اس لیے عبادات میں استطاعت کے معنی میں جان اور مال کی حفاظت بھی شامل ہے۔میں نے اپنی تحقیق میں ذکر کیا ہے کہ چاروں فقہی مذاہب کے علماء نے استطاعت کا اصول حج کے تمام مراحل میں تفصیل سے بیان کیا ہے، مثلاً حج کی فرضیت، رمی جمار، مزدلفہ میں قیام، وہاں سے روانگی، اور دیگر تمام مناسک میں فقہاء نے استطاعت کا لحاظ رکھا ہے۔لیکن ایک اور بنیادی نکتہ بھی ضروری ہے، اور وہ یہ کہ کوئی بھی عبادت کچھ نہ کچھ مشقت سے خالی نہیں ہوتی۔ ہر عبادت میں معمولی سی مشقت ضرور شامل ہوتی ہے، لیکن یہ مشقت اس حد تک نہیں پہنچنی چاہیے کہ وہ مشقتِ شدیدہ (عسر) بن جائے۔مشقت کا ہونا فطری ہے، لیکن عسر کا ہونا شریعت میں ناپسندیدہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ(اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں۔)جو معمولی مشقت اور محنت عبادت میں مطلوب ہے، وہی دراصل وہ "جهد” ہے جس کا صلہ اجر اور ثواب کی صورت میں ملتا ہے۔یہی جهد وہ چیز ہے جو نماز، زکٰوۃ، روزہ اور حج میں مطلوب ہے۔ بعض لوگوں کے لیے یہ جهد کچھ زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہی وہ دشواری ہے جس کے متعلق حدیث میں آیا کہ "جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے۔”
لہٰذا دو باتوں کے درمیان توازن رکھنا ضروری ہے:
۱. عبادت کے لیے ایک حد تک جهد اور مشقت مطلوب ہے، کیونکہ اسی سے ثواب وابستہ ہے۔
۲. لیکن اس مشقت کو اتنا نہ بڑھایا جائے کہ وہ شدید عسر بن جائے، کیونکہ دین آسان ہے۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا”(آسانی کرو، سختی نہ کرو؛ خوش خبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔)اسی لیے ضروری ہے کہ ان دو باتوں میں توازن رکھا جائے:
۱- جهد مطلوب ہے۔
۲- عسر ممنوع ہے۔اور سہولت (یُسر) مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا”(جو ہمارے راستے میں جهد کرتے ہیں، ہم انہیں اپنی راہیں دکھاتے ہیں۔)لہٰذا جب ہم احکام کو قرآن و سنت کے اصولوں کی بنیاد پر اخذ کریں، تو ان دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔جو بات میں نے سعودی عرب کے اداروں میں دیکھی ہے، خاص طور پر ہیئة كبار العلماء اور فقہی مجالس کی بیشتر قراردادوں میں ، وہ یہی توازن ہے۔ بعض لوگ ہر چیز میں آسانی کو اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ شریعت کی پابندیاں ہی ختم ہو جائیں، لیکن ان اداروں نے اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ نہ سختی ہو اور نہ شریعت کے احکام  ہی ختم ہو جائیں۔لہٰذا ان کے فتاویٰ، جیسا کہ ہیئة كبار العلماء، مجمع الفقہ الإسلامي، اور رابطۃ العالم الإسلامي کے تحت جاری کردہ بیشترفتاویٰ، الحمد للہ اعتدال اور توازن پر مبنی ہوتے ہیں۔ہمیں بھی اس دینی جهد کو باقی رکھنا ہے، اور ساتھ ساتھ تيسير کے اصول کو بھی۔ بعض لوگوں نے تيسير کو بہانہ بنا کر عبادات کے ضروری احکام سے فرار اختیار کیا، جو درست نہیں۔ ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم امتِ وسط ہیں، اور ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کو اپنانا ہے۔اسی بنیاد پر سعودی عرب نے شرط رکھی ہے کہ حج صرف وہی شخص کرے جو حج کا ویزہ یا اجازت نامہ (تصريح) حاصل کرے۔ اور بغیر اجازت حج ممکن نہیں۔ یہ شرط بھی دراصل تيسير کے لیے ہے، کیونکہ دنیا کی آبادی بہت بڑھ چکی ہے، اور اگر ہر کوئی ایک ساتھ آجائے تو انسانی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔لہٰذا یہ شرط شریعت کی روح کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس میں حفظ النفس کا اصول کارفرما ہے۔ اور اب استطاعت کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کے پاس یہ اجازت نامہ موجود ہو۔ یہ بدن کی استطاعت میں شامل ہے، جو حج کی فرضیت کے لیے شرط ہے۔لہٰذا یہ بات شرعی طور پر قابلِ قبول ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس معتدل راہ پر قائم رکھے، جس میں عبادت کا جهد بھی ہو، اور عسر سے حفاظت بھی۔اسی بنیاد پر میں نے اپنی تحقیق ترتیب دی، جس میں میں نے بیان کیا کہ حج کے مختلف مراحل میں فقہاء نے تيسير کے اصول کو کیسے نافذ کیا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری اس جهد کو قبول فرمائے۔ میں خاص طور پر وزارتِ حج کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جس نے اس بابرکت ندوہ کا انعقاد کیااور وہ تفصیلات ہمیں بتائیں جو حج کی عبادت کو زیادہ منظم اور مرتب بنانے کے لئے اختیار کی گئی ہیں۔ جو ان شاء اللہ حج کی خدمات کو مزید بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہو گی۔میں پاکستان کی طرف سے بھی سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کیونکہ پاکستان کے عوام حرمین شریفین سے شدید محبت رکھتے ہیں، اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : محرم الحرام ۱۴۴۷ھ)