یادیں (سولہویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(سولہویں قسط )

شرافی گوٹھ میں دارالعلوم کی تعمیر
میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ علامہ عثمانی ؒ کے مزار والی جگہ چھوڑنے کے بعد یہ حضرت والد ماجد رحمۃ اﷲ علیہ کے اخلاص اور توکل کی برکت تھی کہ اس واقعے کو چند مہینے ہی گذرے تھے کہ ایک تاجر حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے پاس آئے ، اور انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک دوست حاجی ابراہیم دادا بھائی جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں ۔کراچی شہر سے کچھ دور ملیر کے عقب میں شرافی گوٹھ کے نام سے ایک گاؤں میں ان کی کچھ زمین ہے جس میں ایک بنگلہ اورسرونٹ کوارٹر زطرزکے کچھ مکانات بھی بنے ہوئے ہیں، اور ایک کنواں بھی ہے ۔وہ یہ زمین دارالعلوم کو بطور عطیہ دینے کیلئے تیارہیں ، بشرطیکہ وہاں تعمیر پانچ سال کے اندر اندر کرنے کا وعدہ کیا جائے ۔حضرت والد صاحبؒ اور حضرت مولانا نور احمد صاحب رحمۃ اﷲعلیہما نے وہ جگہ جاکر دیکھی، تو وہ شہر سے کہیں دور تمام تر ریت کے ٹیلوں اور جھاڑیوں سے بھری ہوئی زمین تھی، اور اُس تک پہنچنے کاراستہ بھی انتہائی دشوار گذار تھا ۔وہاں جانے کیلئے کوئی پکی سڑک موجود نہیں تھی، کورنگی کریک جانے والی سڑک پرموجودہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کا کوئی تصور نہیں تھا ، چنانچہ کورنگی کریک روڈ پر کئی میل ویرانے میں چلنے کے بعد ایک جگہ پہنچ کر (تقریباً اس جگہ جہاں آج انڈسٹریل ایریا کی سڑک شروع ہوتی ہے ) کچے میں نیچے اترنا پڑتا تھا ، اور وہاں سے پانچ میل سے بھی زائد فاصلہ کچے میں اس طرح طے کرنا پڑتا تھا کہ ہچکولے کھاتی ہوئی گاڑی بیس میل سے زیادہ رفتار سے نہیں چل سکتی تھی۔دوسری طرف بس سے آنے کاراستہ بھی بڑا دشوار گذارتھا ، کیونکہ کورنگی ٹاؤن شپ کا اس وقت تصور تک نہیں تھا ، اور لانڈھی کالونی اس وقت نئی نئی آباد ہونی شروع ہوئی تھی جس کے آخری اسٹاپ سے اس جگہ کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ میل کا تھا جو تمامتر جھاڑیوں اور ٹیلوں سے بھرا ہوا تھا ۔اور چلنے کے لئے کوئی مستقل کچی سڑک بھی نہیں تھی ۔
سچی بات یہ ہے کہ اُس وقت اس زمین پر دارالعلوم تعمیر کرنے کا تصور بڑے دل گردے کا کام تھا ۔اور یہ ان حضرات ہی کا حوصلہ تھا کہ اس ویرانے میں اس عظیم کام کابیڑا اٹھا لیا، اور حاجی ابراہیم دادا بھائی مرحوم نے مؤرخہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۵۵ ؁ ء (تقریباً ۲۸؍ ذوالقعدہ ۱۳۷۴ ؁ ھ )کو اُس زمین میں سے پچیس ایکڑ زمین دارالعلوم کو دیدی۔بعدمیں چھہ ایکڑ زمین کا اُس میں اضافہ کرکے ان کی طرف سے کل۳۱ ایکڑ زمین بطور عطیہ دی گئی۔ (بعد میں جب اس علاقے کو ٹاؤن پلاننگ میں شامل کیا گیا ،تونقشہ درست کرنے کیلئے حکومت کو ان اکتیس ایکڑ میں سے کچھ زمین کی ضرورت پڑی ، اور اس کے بدلے دارالعلوم کو غیر آباد زمین میں سے ۲۵ ایکڑمزید زمین حکومت سے مل گئی جس کے نتیجے میں دارالعلوم کا کل رقبہ چھپن ایکڑ ہوگیا۔لیکن ابتدا میں کام پچیس ایکڑ زمین کی بنیاد پر ہی شروع ہوا۔)
چنانچہ حضرت والد صاحب قدس سرہ ، حضرت مولانا نوراحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مجلس منتظمہ کے دوسرے ارکان نے توکلا ً علی اللہ مؤرخہ ۳۰؍ربیع الثانی ۱۳۷۵ ؁ ھ بروز جمعہ مطابق ۱۶؍ دسمبر ۱۹۵۵ ؁ ء اس نئی جگہ پر تعمیر کا آغاز کردیا۔(۱)
حاجی عبد اللطیف صاحب باوانی رحمۃ اﷲعلیہ دارالعلوم کی مجلس منتظمہ کے رکن تھے ۔ان کو اﷲتعالیٰ نے دنیوی دولت کے ساتھ بڑی دین داری سے نوازا تھا۔حضرت علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے پاس دارالعلوم کو جو جگہ ملی تھی ، اور جس کا تذکرہ میں پہلے کرچکا ہوں ، اس زمین پر بھی اس وقت انہوں نے ۹۳ ہزارروپے تعمیر کے لئے دینے کا اعلان کیا تھا ، لیکن وہاں مذکورہ بالا وجوہ کی بناپر تعمیرنہ ہوسکی تھی ۔ اب یہ نئی جگہ ملی ، تو انہوں نے یہ ذمّہ داری لے لی کہ وہ دارالعلوم کی دو عمارتوں کی تعمیراپنے اور اپنے متعلقین کے ذریعے کرائیں گے ۔چنانچہ انہوں نے اپنی یہ ذمہ داری ایسی نبھائی کہ ہم لوگوں کو تعجب ہوتا تھا ۔وہ بکثرت دشوار گذارراستہ طے کرکے خود وہاں پہنچتے، اور خود کھڑے ہوکر تعمیری کام کی نگرانی کرتے تھے۔حضرت مولانا نوراحمد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کو تو اﷲتعالیٰ نے مہم جوئی کا خاص ذوق عطا فرمایا تھا ۔جو کام جتنا زیادہ مشکل ہو، اُسے وہ اتنے ہی جوش و خروش سے انجام دیتے تھے۔چنانچہ انہوں نے عمارت جلد از جلد تعمیر کرنے کیلئے دن رات ایک کردیا ، اور اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دس مہینے کی مختصر مدت میں عمارتوں کے دو بلاک آمنے سامنے تیار ہوگئے جن میں سے ایک بلاک طلبہ کی رہائش گاہ کا تھا، اور دوسرا درس گاہوں کا۔
دوسری طرف دوردراز کے صحرامیں دارالعلوم کی تعمیر کم ازکم اس معیار تک پہنچانی تھی کہ اگلے تعلیمی سال سے وہاں تعلیم شروع کی جاسکے ۔لیکن وہاں تعلیم شروع کرنے میں یہ زبردست دشواری پیش آگئی کہ دارالعلوم کے وہ اساتذۂ کرام جن پرنانک واڑہ میں تعلیم کابڑی حدتک دارومدارتھا ، وہ اگلے سال سے رخصت ہورہے تھے ، کیونکہ اُسی سال حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری صاحب قدس سرہ نیوٹاؤن کی جامع مسجد میں ایک نئے مدرسے کی بنیاد ڈال رہے تھے جو اب ماشاء اﷲ ملک کے ممتاز ترین مدارس میں شمار ہوتا ہے ۔حضرت مولانا فضل محمد صاحب ، حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب اور حضرت مولانا بدیع الزماں صاحب رحمۃ اﷲعلیہم اُس مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دینے کا وعدہ کرچکے تھے، حضرت مولانا منتخب الحق صاحب ؒاور حضرت مولانا مظہربقا صاحبؒ کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ اسلامیات سے وابستہ ہوگئے تھے۔حضرت مولانا عبید الحق صاحبؒ ڈھاکہ جاچکے تھے ۔ان حضرات کی جگہ پُر کرنا آسان نہیں تھا ۔ادھر ابتک صحیح بخاری کا بڑا حصہ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ خود پڑھاتے تھے، اور اپنی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے جو شہر سے متعلق تھیں، اُن کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ دارالعلوم کی نئی عمارت میں منتقل ہونے کے بعد یہ درس جاری رکھ سکیں ۔اس لئے دارالعلوم کی نئی عمارت میں تعلیم شروع کرنے کے لئے نئے اساتذہ کی اچھی بڑی تعداددرکارتھی۔
دوسری طرف حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کا ہمیشہ یہ اصول رہا کہ کسی مدرسے میں مصروف کسی استاذکو اپنے یہاں آنے کی دعوت دینا وہ مناسب نہیں سمجھتے تھے ، اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مدرسے کو اجاڑکر دوسرے مدرسے کو آباد کرنا درست نہیں ، الایہ کہ خود کوئی استاذ وہ مدرسہ چھوڑنا چاہتا ہو۔
لیکن اﷲ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے اس مشکل کایہ حل نکلا کہ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کو یہ اطلاع ملی کہ بعض اساتذہ اپنے طورپر اپنے اپنے مدرسے چھوڑنا چاہتے ہیں، اس لئے انہیں دعوت دینے میں کچھ حرج نہیں ہے ۔چنانچہ حضرت مولانا عبیداﷲصاحبؒ نے بہاول پور سے، حضرت مولانامفتی رشید احمد صاحبؒ نے ٹھیڑی سے ،حضرت مولانااکبرعلی صاحبؒ نے مظاہرعلوم سہارنپور سے اور حضرت مولانا سلیم اﷲ خان صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے ٹنڈو الہ یار سے تشریف لانے کا وعدہ کرلیا۔اس کے علاوہ حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھی رحمۃ اﷲعلیہ جو ابتک ادارۂ شرقیہ کے نام سے جیکب لائن میں السنۂ شرقیہ کے امتحانات کی تیاری کرایا کرتے تھے ، انہوں نے بھی اعزازی طورپر کچھ اسباق پڑھانے کا وعدہ فرمالیا۔نیز حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمۃ اﷲعلیہ اُس وقت نوجوان تھے، اور تازہ تازہ جامعہ اشرفیہ لاہور سے فارغ ہوئے تھے، انہوں نے بھی دارالعلوم میں خدمات انجام دینے کاارادہ فرمایا، اور اسی طرح ہمارے چچا زاد بھائی حضرت مولانا خورشید عالم صاحب ؒ بھی اُنہی دنوں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے تھے ۔حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے ان کو بھی دیوبند سے بلالیا، اور اس طرح اساتذہ کی کمی بڑی حد تک پور ی ہوگئی۔
شرافی گوٹھ میں منتقلی
ہم ابتک اپنے گھر میں رہکر ہی تعلیم حاصل کررہے تھے، اور روزانہ صبح کو مدرسے جاتے، اور شام کو گھر واپس آتے تھے ۔لیکن مدرسے کے نئی عمارت میں منتقل ہونے کے بعد اب یہ نظم ممکن نہیں تھا ،کیونکہ نئی عمارت گھر سے بہت دور تھی ، اور وہاں تک پہنچنے کے لئے کئی گھنٹے صرف کرنے پڑتے تھے ۔لہٰذا وہاں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے ہمیں ہفتے بھر وہیں دارلا قامہ میں رہنا تھا ۔ابتک کبھی گھر سے دوررہنے کا موقع پیش نہیں آیا تھا، اور اپنا گھر بھی نیا نیا بنا تھا جس کی راحتوں سے صرف ایک سال ہی استفادہ کرپائے تھے۔میری عمر کا چودھواں سال تھا ، اور والدین سے دوری مستقل سوہانِ روح تھی ۔لیکن تعلیم جاری رکھنے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔چنانچہ ہم نے اپنی رہائش دارالعلوم کے دارالطلبہ میں منتقل کرلی۔ اُس وقت دارالطلبہ کے دو بلاک تھے۔ ان میں سے مشرقی بلاک کے کنارے پر کمرہ نمبر ۱۶ میں ہمارا قیام ہوا ۔(یہ بلاک اب مدرسۃ البنات کا حصہ بن گیاہے) اس کمرے کے بعد ایک کمرہ چھوڑکر گنبد کے نیچے ایک بڑا کمرہ تھا ۔ گنبد والے کمرے مجرد اساتذہ کو دئیے جاتے تھے ۔اور اس کمرے میں حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمۃ اﷲعلیہ مقیم تھے جو اُس وقت نوجوان تھے، اور تازہ تازہ فارغ التحصیل ہوکرانہوں نے تدریس کا آغاز کیا تھا ۔چند دن ہمارا حسامی کا سبق بھی ان کے پاس ہوا تھا، اس لئے وہ ہمارے استاذ تھے ، لیکن بڑے خوش مزاج اور خوش ذوق تھے ، اور انہوں نے ہمیں اپنے آپ سے اتنا بے تکلف بنا لیا تھا کہ وہ استاذ کم، اور دوست زیادہ بن گئے تھے۔
ہم پہلی بار گھر سے الگ ہوکر شرافی گوٹھ کی اس نئی عمارت میں منتقل ہوئے تھے۔اُس وقت عمارت کے دوبلاک تو رنگ وروغن کے ساتھ مکمل ہوچکے تھے۔اُن میں سے ایک جنوب میں واقع تھا، جو پندرہ کمروں پر مشتمل طلبہ کا دارالاقامہ تھا ، اور دوسرا اُس کے مد مقابل شمال میں واقع تھا (جہاں اب نئی مسجد کاباب فاطمہ واقع ہے) اوروہ شروع میں بارہ درسگاہوں پر مشتمل تھا ، بعدمیں دو گول کمرے بن جانے کے بعد کل چودہ درسگاہیں ہوگئی تھیں۔
دونوں بلاکوں کے درمیان تقریباً سوگز کا فاصلہ تھا، جو تمام تر ریت کے ٹیلوں اورجھاڑیوں سے بھراہوا تھا، اور یہ ریت کے ٹیلے اور جھاڑیاں سانپ بچھو کے علاوہ گرگٹ ،گوہ ،سانڈے ، سیہی اور نہ جانے کتنی مزید قسموں کے حشرات الارض کا مسکن تھے، جو دن کے وقت ہم سے ڈرتے تھے ، اوررات کے وقت ہم اُن سے ڈرا کرتے تھے ،کیونکہ یہی ان کی سیروتفریح کا وقت ہوتا تھا ، اور خاص طورپر بچھو عشاء کی نمازکے وقت آزادی سے گھومتے ، اور شاید دن بھر کا بدلہ لینے کا بہترین موقع جان کر کسی نہ کسی کے پاؤں پر ڈس لیا کرتے تھے۔عشاء کی نماز کے بعد بکثرت کسی نہ کسی طالب علم کے چیخنے کی آواز آتی ، اور معلوم ہوتا کہ اسے کسی بچھو نے کاٹ لیا ہے۔ آس پاس نہ کوئی ڈاکٹر تھا ، نہ ہسپتال ۔لہٰذا علاج کے مختلف دیسی طریقے آزمائے جاتے تھے ۔ کسی نے بتایا کہ اگر کوئی بچھو مارکر اسے تیل میں ڈال دیا جائے ، تو اُس تیل سے بچھو کے ڈسنے کا علاج ہو جاتا ہے۔چنانچہ یہ علاج کئی طلبہ پر آزمایا گیا ، اور کچھ مفید بھی ثابت ہوا۔ آخر میں جو علاج سب سے زیادہ مقبول ہوا ، وہ یہ تھا کہ جس جگہ بچھو نے کاٹا ہو، اُس جگہ کسی بچے سے دھار کے ساتھ پیشاب کروایا جائے ۔ چنانچہ جب کسی کو بچھو کاٹتا ، توکسی بچے کو پکڑکراُسے پیشاب کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا ۔
جنوبی بلاک کے مشرقی کنارے کے بعد تھوڑی سی جگہ راستے کیلئے چھوڑکر ایک تیسرا بلاک اُس وقت زیر تعمیر تھا جس پر ابھی رنگ وروغن نہیں ہوا تھا ۔اس بلاک کے مغربی کنارے پر کمرہ نمبر ۱۶ تھا جو ہمیں ٹھہرنے کیلئے دیا گیا۔اس میں ہم دونوں بھائی اور ہمارے بھانجے حکیم مشرف حسین صاحب رحمۃ اﷲعلیہ مقیم تھے، اور اُس میں تین چھوٹی چھوٹی چارپائیاں ہم نے لاکر ڈال دی تھیں ۔ سرکاری پانی کے نل وہاں تک نہیں پہنچے تھے، اور خوددارالعلوم کی زمین میں جو قدیم کنواں تھا، اُس کا پانی کھارا تھا جو پینے کے لائق نہیں تھا ۔لہٰذا ہمارے روزمرہ کے استعمال کیلئے پانی شرافی گوٹھ کے ایک کنویں سے آتا تھا جو تقریباً ایک میل کے فاصلے پر واقع تھا۔وہاں سے پانی لانے کیلئے ایک گدھا گاڑی خریدلی گئی تھی جس پر ایک بڑے ٹینک میں پانی بھر کر لانے کی خدمت ایک خوش طبع جوان کے سپردتھی جسے ہم موسیٰ بہشتی کہا کرتے تھے ۔وہ دن میں دوتین مرتبہ وہاں سے پانی بھر کرلاتا، اور دارلاقامہ کے درمیان کھڑے ہوکر زور سے آواز لگاتا ” : پانی “!بلکہ اس کا لہجہ کچھ ایسا تھا کہ ا س کی آواز “پانڑی” سنائی دیتی تھی۔ اور یہ آواز سنکر ہم اپنے گھڑے اور صراحیاں اُٹھاکر گدھا گاڑی کے پاس پہنچ جاتے، اور موسیٰ بہشتی باری باری ہمارے برتنوں میں پانی بھر کر دیدیتا تھا ۔
یہ پانی بھی اگرچہ پورا میٹھا نہیں تھا، لیکن پینے کے لائق ہوتا تھا ۔پینے کیلئے پانی صراحی میں اور وضووغیرہ کیلئے گھڑے میں بھر لیا جاتا تھا، اور اُس سے لوٹے میں نکال کر وضو ہوتا تھا ۔بعدمیں ہمیں کچھ تعیش سوجھا ، تو پانی کی ایک چھوٹی سی ٹنکی لاکر اپنے کمرے کے سامنے برآمدے میں رکھ لی تھی جس کے نل سے وضو کرنے اور ہاتھ وغیرہ دھونے میں آسانی ہوگئی تھی ۔لیکن کبھی پانی ختم ہوجاتا ، تو اُس کا فوری مداوا اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ جبتک موسیٰ بہشتی کی گاڑی کا وقت نہ ہوجائے ، خود مدرسے کے کنویں سے کھارا پانی بھر کر لائیں ، اور اُسی کو غنیمت سمجھیں۔اُس وقت اس گدھا گاڑی کی قدر بھی معلوم ہوتی تھی ۔
گدھا گاڑی کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ اگر کوئی وی آئی پی مہمان بس کے ذریعے دارالعلوم آرہا ہوتا، تو اُسے لانڈھی سے دارالعلوم تک پیدل چلنے کی زحمت سے بچانے کے لئے گدھا گاڑی لانڈھی کے بس اسٹاپ پر بھیج دی جاتی تھی ، اور وہ اس وی آئی پی گاڑی میں سوار ہوکر دارالعلوم پہنچ جاتا تھا ۔یہ شاہانہ سفر بیماروں کوبھی نصیب ہوجاتا تھا ۔
اس دور افتادہ علاقے میں بجلی کے باقاعدہ کنکشن کا تو سوال ہی نہیں تھا ، لیکن اﷲ تعالیٰ حضرت مولانا نوراحمد صاحب پر اپنی رحمتوں کی بارش برسائے ، انہوں نے شروع میں کہیں سے ایک چھوٹے سے جنریٹر کا انتظام کرکے وہاں نصب کردیا تھا ۔وہ کچھ ایسا جنریٹر تھا کہ جب چلتا، تو جہاں جہاں بلب تھے ، اُن میں روشنی جھپک جھپک کر آتی تھی ، یعنی روشنی کے ہر لمحے کبھی کم کبھی زیادہ ہونے کا سلسلہ مستقل جاری رہتا تھا، البتہ آواز کی یکسانیت میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ اس ویرانے میں یہ جنریٹر بہت غنیمت معلوم ہوتا تھا ، اور اُس کی صحیح قدر اُس وقت معلوم ہوئی جب چند ہی ہفتوں کے بعد وہ اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر نا قابل علاج ہوگیا، اور اب یہ ویرانہ اپنی فطری حالت پر لوٹ گیا۔
ہم نے ایک لالٹین اپنے کمرے میں رکھی ہوئی تھی جس کیلئے مٹی کا تیل لائن لگاکر ملا کرتا تھا ، اور اُس کی چمنی کی صفائی اور اُس میں پرانی بتی کے جل جانے کے بعد نئی بتی ڈالنے کی خدمت میرے سپردتھی، اور اسی لالٹین کے اردگرد بیٹھ کر ہم مطالعہ کیا کرتے، اورجب میری اور بھائی صاحب کی تکرار کی جماعتیں الگ ہوگئیں، تو ہم نے ایک اور لالٹین لے لی، اور ہم اپنی اپنی لالٹین درسگاہ میں لیجاکر وہاں تکرار کیا کرتے۔ البتہ مسجد میں ایک گیس کا ہنڈا جلایا جاتا تھا جس کے اردگرد طلبہ بیٹھ جاتے ، اور تکرار اور مطالعے کی ضرورت اجتماعی طورپر پوری کرتے تھے۔
صبح کو ناشتے میں طلبہ کو مطبخ سے ایک روٹی ملتی تھی، اور چائے یا دودھ خود گرم کرنا ہوتا تھا۔ہم نے چائے کی عادت چھوڑدی تھی، اور اُس کے بجائے روٹی دودھ سے کھالیتے تھے۔ دودھ بھی بھینس کا دستیاب نہ تھا۔ گائے کادودھ ایک کیلومیٹر دورگوٹھ سے لانا پڑتا تھا ۔ گوٹھ سے دودھ لانے کی خدمت میں یا حکیم مشرف حسین صاحب مرحوم انجام دیا کرتے تھے۔ اس کے ذائقے سے منہ کو مانوس کرنے کیلئے کافی عرصہ لگا۔ناشتے میں اور دوپہر یارات کے کھانے کے وقت اُسے گرم کرنے کے لئے ایک پرانا سامٹی کے تیل کااسٹوو رکھا ہوا تھا جس کا آگ پکڑنے والا حصہ باربار ناکارہ ہوجاتا تھا ، اور اُسے گرم کرنے کیلئے خاصی جدوجہد کرنی پڑتی تھی ۔
مدرسے کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ اُس کے مغرب میں میلوں تک ریگستان تھا، اور اُس سمت میں سمندر تک نہ کوئی آبادی تھی ، نہ کوئی عمارت ، نہ کوئی درخت ۔ ریت کے ٹیلوں کے درمیان کہیں کہیں کچھ خودرو جھاڑیاں ضرور تھیں ،مگر وہ بھی ریت سے اٹی ہوئی۔چونکہ مدرسے میں ہوا کا رخ مغرب ہی کی طرف سے تھا، اس لئے وہاں سے آنے والی ہواعام حالات میں بھی ریت کے ذرات ساتھ لایا کرتی تھی، لیکن گرمی میں بعض اوقات ریت کا طوفان چلا کرتا تھا جو کئی کئی دن جاری رہتا تھا، اور اُس میں ایک گز کے بعد کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی ، اور کمرے کی ہر چیز یہاں تک کہ بستر پر بھی ریت کی موٹی تہہ جم جاتی تھی۔
جنوب کی طرف بھی تقریباً ایک میل تک صحرا ہی تھا ،لیکن اُس میں کہیں کہیں جنگلی درختوں کی قطاریں نظر آتی تھیں۔اور ایک میل کے جنگل کے بعد لانڈھی کالونی نمبر۶کی بستی شروع ہوتی تھی ، جو اُس وقت نئی نئی آباد ہورہی تھی ۔
لیکن مدرسے کے مشرق میں کچھ دور چلنے کے بعد کھجوروں کاایک باغ تھا ، اور اُس کے بعد بھی دورتک کئی باغوں کا سلسلہ چلا گیا تھا ۔شمال میں بھی کچھ دور تک صحرا طے کرنے کے بعد کھیت اور باغات شروع ہوجاتے تھے، اور شمال مشرق میں وہ گاؤں تھا جو شرافی گوٹھ کہلاتا ہے۔وہ ایک چھوٹے سے چھپر نما ہوٹل سے شروع ہوتا تھا، جو اپنے مالک کے نام پر “شیدل” کا ہوٹل کہلاتا تھا ۔ اوراُس کے بعد کچھ مکانات تھے جن کے درمیان وہ کنواں تھا جہاں سے ہمارے لئے پانی آتا تھا ۔
شہر سے دارالعلوم آنے کے لئے عام طریقہ تو یہ تھا کہ لی مارکیٹ سے ایک بس نمبر ۴۷ چلا کرتی تھی جو ڈرگ روڈ اور ملیر سے ہوتی ہوئی لانڈھی آتی ، اورپوری لانڈھی کالونی طے کرنے کے بعد لانڈھی۶ نمبر اتارتی تھی ۔یہ بس لسبیلہ ہاؤس سے بھی گذرتی تھی ، لیکن مختلف اسٹاپوں پر رکتی ہوئی آخر میں وہ ملیر پر بہت دیر رکتی تھی ۔اس لئے اُس کے ذریعے سفر کرنے میں دوسے تین گھنٹے لانڈھی چھہ نمبر پہنچنے میں لگ جاتے تھے۔پھر وہاں سے ہماراتقریباً ڈیڑھ میل کا پیدل سفر شروع ہوتا تھا جس میں ہمیں دارالعلوم کے جنوبی جنگل سے گذر نا ہوتا تھا۔ البتہ اس طرح مدرسے تک پہنچنے میں تین سے چار گھنٹے لگ جانا معمولی بات تھی۔اور جنگل سے گذرتے ہوئے اگر بارش آجاتی، تو اُس سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں تھا ۔ چنانچہ ایسا بھی ہوا کہ اس جنگل سے گذرتے ہوئے جو بارش آئی، توہم سرسے پاؤں تک شرابور ہوگئے ، اور نہ صرف پہنے ہوئے کپڑے بری طرح بھیگ گئے ، بلکہ تھیلے میں جو کپڑے ہفتے کے دوران پہننے کے لئے لائے تھے ، وہ بھی تربترہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا شمس الحق صاحب پراپنی رحمتوں کی بارش برسائے ، انہوں نے ہمیں اپنے گنبد والے کمرے کی عقبی کھڑکی سے اس طرح بھیگتے ہوئے آتے دیکھا ، تو اپنے کمرے میں بلایا ، اور عارضی طورپر خشک کپڑوں کا انتظام کیا۔
شرافی گوٹھ آنے کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ دن میں دومرتبہ ایک بس نمبر ۵۲ لی مارکیٹ سے چلتی تھی ، اور وہ کالے پل اور کورنگی روڈ سے ہوتی ہوئی چکرا گوٹھ (جہاں آجکل کورنگی نمبر ۱؍ واقع ہے) جاتی، اور وہاں سے کچی سڑک کے ذریعے عین شرافی گوٹھ میں لے جاکر اتار تی تھی۔ اگر کبھی یہ بس مل جائے تویہ ہمارے لئے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھی، کیونکہ اس میں وقت بھی کم لگتا تھا، اور پیدل بھی کم چلنا پڑتا تھا ، لیکن اس میں سوار ہونے کیلئے ایک مقررہ وقت پر لی مارکیٹ پہنچنا ضروری تھا ۔اگر لی مارکیٹ پہنچنے کا نشانہ صحیح نہ بیٹھے ، تو یہ بس نکل جاتی تھی ، اور پھر وہی ۴۷؍ نمبر والی بس لازمی ہو جاتی تھی ، اور سفر اورزیادہ لمبا ہوجاتا تھا ۔
دارالعلوم پہنچنے کے بعد ہمارا رابطہ پورے شہر سے بالکل کٹ جاتا تھا،کیونکہ ٹیلی فون دور دور نہیں تھا ۔ ابھی ہمیں یہاں آئے ہوئے دوتین دن ہی ہوئے تھے کہ حکیم مشرف حسین صاحبؒ ا نفلو ئنزا کا شکار ہوگئے۔بخاراتنا تیز تھا کہ حواس قابو میں نہ تھے۔قریب میں کوئی قابل اعتبار علاج میسر نہ تھا ۔اسلئے رائے ہوئی کہ گھر والوں کو اطلاع کرکے انہیں گھر بھیج دیا جائے۔لیکن گھر اطلاع کرنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔آخر بھائی صاحب (حضرت مفتی محمد رفیع صاحب مدظلہم)نے ایک سائیکل مستعار لی ،مجھے پیچھے بٹھایا، اور جنگلوں سے ہوتے ہوئے بابر مارکیٹ کے قریب ایک تھانے سے جاکر گھر فون کیا ، اور وہاں سے گاڑی منگواکر انہیں گھر بھیجا گیا۔
مولانا عبدالرحمن صاحب فیض آبادی رحمۃ اﷲعلیہ ہم سے ایک سال آگے کی جماعت میں تھے، اور اس سال انہیں دورۂ حدیث کی جماعت میں شامل ہونا چاہئے تھا، لیکن حضرت مولانا نوراحمد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے انہیں اُس وقت سے یہاں بھیج دیا تھا جب یہاں ایک چوکی دار اور بکریوں کے سوا کوئی اور نہیں رہتا تھا۔پھر اُن کے ذمے ہر قسم کے انتظامی کام سونپ دئیے تھے ، اور ان کی شادی بھی ایک برمی خاتون سے کرادی تھی ۔اﷲتعالیٰ ان دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل خاص سے نوازیں ، انہوں نے دارالعلوم کے ا س انتہائی مشکل دور میں پورے دارالعلوم کی ایسی خدمات اپنے سر لے رکھی تھیں جو ایک گھر کی گھریتن ہی انجام دے سکتی ہے۔ تعمیرات کی نگرانی سے لے کر دارالعلوم کے طلبہ اور اساتذہ کی ہر قسم کی ضروریات وہی پوری کرتے تھے۔جب کسی شخص کو کوئی مسئلہ پیش آتا ، وہ مولانا عبدالرحمن صاحبؒ ہی کا رُخ کرتا تھا۔اُن کا واحد معاون ایک چوکی دار تھا جس کانام عبدالعزیز تو بہت عرصے بعد پتہ چلا، لیکن سب اُس کو” لالہ” کہا کرتے تھے ۔ وہ بڑا خوش مزاج پٹھان تھا ، اور سارے طلبہ سے اُس کی دوستی تھی ۔وہ بہت تیز تیز بولنے کا عادی تھا ، لیکن دارالعلوم کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی ایسی رکھوالی کرتا تھا جیسے گھر کی کوئی مالکہ اپنے گھر کی رکھوالی کرتی ہے۔
جب ہم شروع شروع میں یہاں آئے ، تومولانا عبد الرحمن صاحب مرحوم کویہ احساس ہوا کہ ہم لوگ گھر کے کھانے کے عادی ہیں ، اور مطبخ کا کھانا ہم سے شاید نہیں چل سکے گا، اس لئے انہوں نے اپنی اہلیہ کی مرضی لے کر حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کو یہ پیشکش کی کہ ان کا کھانا ہمارے گھر میں پکا کرے ۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے یہ پیشکش اس شرط کے ساتھ منظور فرمالی، کہ اُس کے اخراجات وہ ادا کیا کریں۔چنانچہ اﷲتعالیٰ ان دونوں میاں بیوی کو بہترین جزا عطا فرمائیں، کچھ عرصے تک ہماراکھانا اُن کے گھر سے آتا رہا ۔
لیکن ان کے اخلاص کے باوجود مستقل طورپر اُن سے یہ خدمت لینے کا طبیعتوں پر ایک بار سا تھا ، اس لئے کچھ عرصے کے بعد حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے یہ سلسلہ موقوف فرمادیا، اور فرمایا کہ ” : الحمد ﷲ مجھے یہ استطاعت ہے کہ تمہارے لئے الگ باورچی رکھ کر تمہارا کھانا الگ بنوادیا کروں، لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ جو کھاناعام طلبہ کھاتے ہیں ، وہی تم بھی کھاؤ ،تاکہ طالب علمی کا صحیح ذائقہ اور اُس کی برکات تمہیں حاصل ہوں” ۔ ہم نے بخوشی یہ تبدیلی منظور کرلی، اور ہم مطبخ سے قیمت دیکر کھانا لینے لگے۔
اُس وقت مطبخ دارالعلوم کے جنوب مشرق میں ایک گیرج نما کمرہ تھا جس کا دروازہ کوئی نہیں تھا، اور او پر ٹین کی چھت پڑی ہوئی تھی ۔اُس کے شمال میں ایک تنور تھا، اور اُسی کے برابر ایک یا دو چولھے تھے جن میں لکڑیاں یا کوئلے جلتے تھے ، اوراُن کے ذریعے سالن پکتا تھا ۔روزانہ کا مینیو( menue)یہ تھا کہ ہرروزدوپہر کو چنے کی دال اور شام کو پانی کی طرح پتلاشوربا پکا کرتاتھا ، لیکن محمود باورچی کی کاریگری یہ تھی کہ اُسی پتلے سے شوربے میں ایسی سوندھی سوندھی خوشبوآتی تھی کہ وہ آج بھی یاد آتی ہے ۔ چونکہ مطبخ کا دروازہ کوئی نہیں تھا، اس لئے روٹی ہو، یا دال، یا شوربا ، بکثرت اُن میں سامنے اُڑتی ہوئی ریت کی کچھ نہ کچھ ملاوٹ ہو ہی جایا کرتی تھی۔مطبخ کے ناظم جناب مولانا مجیب الرحمن صاحب مومن شاہی مدظلہم تھے جو آجکل ڈھاکہ میں مقیم ہیں ۔اﷲ تعالیٰ ان کو دو نوں جہان میں سرخ روئی عطا فرمائیں ،وہ بڑی کفایت شعاری سے مطبخ کاانتظام چلایا کرتے تھے ، اور اُس وقت جبکہ اس دور افتادہ صحرا میں اشیائے ضرورت کی فراہمی بڑا مشکل کام تھا، بڑی تن دہی سے اپنے فرائض انجام دیتے تھے، لیکن ظاہر ہے کہ نہ ریت بردار ہواؤں پر ان کا قابو تھا ، اور نہ وہ بجٹ سے باہر جاکر کھانا بنوا سکتے تھے۔
ہماری والد ہ صاحبہ رحمہا اﷲتعالیٰ ہر ہفتے کچھ گھی ہمیں بھیج دیا کرتی تھیں ۔اُس کا فائدہ یہ تھا کہ ہم ناشتے میں روٹی اُس سے تل لیتے تھے ، اور جب تک وہ گھی باقی رہتا،دوپہر کو چنے کی دال میں گھی ڈالکر کھاتے ۔ حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمۃ اﷲعلیہ جو اُس وقت نوجوان تھے، اور ہمارے کمرے کے برابر ہی رہتے تھے، انہوں نے یہ ترکیب بتائی تھی کہ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے انہیں گھی میں تل لیا کرو، اور اُنہیں دال میں ڈال کر دال کو گرم کرو ، تو اُس کا مزہ دوگنا ہوجائے گا ۔چنانچہ جب کبھی اس کا موقع مل جاتا ، تو وہ ہمارا اعلیٰ درجے کا کھانا ہوتا۔اور کبھی مرچوں کے کھیت میں جانا ہوتا، تو مالک کی اجازت سے کچھ ہری مرچیں توڑ لاتے ، اور دال میں اُس سے ذائقہ حاصل کرلیتے تھے۔
اپنے گھر میں شاہانہ زندگی گذارنے کے بعد اس ویرانے سے اپنے آپ کو مانوس کرنااور شہر کے پُر تعیش ماحول سے کٹ کرجفاکشی کی دیہاتی فضا میں رہنا ہمارے لئے ایک مجاہدے سے کم نہ تھا ۔ میری عمر اُس وقت چودہ سال کے قریب تھی، اوراس سے پہلے والدین اور بہن بھائیوں کے بھرے پُرے کنبے سے الگ رہنے کی کبھی نوبت نہیں آئی تھی ۔ اس لئے شروع کے کچھ دن ایسے گذرے کہ میں چھپ چھپ کررویا کرتا تھا ۔لیکن انسان کی فطرت اﷲتعالی نے کچھ ایسی بنائی ہے کہ جب وہ کوئی مشقت اٹھانے کا پکا ارادہ کرلے تو رفتہ رفتہ وہ اُس کی عادت بن جاتی ہے، اور مشقت میں بھی کمی آجاتی ہے ۔ ہم پر یہ بات اچھی طرح واضح تھی کہ اپنی تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے ہمیں ہر قیمت پر یہ مشقت برداشت کرنی ہے، اس لئے ذہن کو اس کے لئے پوری طرح تیار کرلیا تھا ۔ چنانچہ رفتہ رفتہ ہم نے اپنے آپ کو اس ماحول میں اس طرح مدغم کرلیا کہ اب اسی میں اپنی راحت اور لطف کے نئے راستے تلاش کرلئے ۔اورکم ازکم اپنے بارے میں یہ بات میں بلا خوف تردیدکہہ سکتا ہوں کہ اگر اس زمانے میں یہ تھوڑی سی مشقت نہ اُٹھائی ہوتی ، تو جاہل تو میں آج بھی ہوں ،لیکن اُس صورت میں آج سے کہیں زیادہ جاہل ہوتا۔
شروع کے چند مہینے تو ہم نے دارالطلبہ کے اُسی کمرہ نمبر ۱۶ میں گذارے ۔پھر دارالعلوم کے ایک معاون حاجی کبیر الدین صاحب مرحوم نے جو مشرقی پاکستان کے ایک تاجرتھے ، دوکمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گھر درسگاہوں کے قریب بنواکر دارالعلوم کو دیدیا تھا، یہ مقصد بھی تھا کہ جب کبھی وہ کراچی آئیں ، تو اُس میں ٹھہر سکیں ۔ انہوں نے ہی ہمیں یہ پیشکش کی کہ ہم ان میں سے ایک کمرے میں منتقل ہو جائیں۔چنانچہ ہم وہاں منتقل ہوگئے۔یہ چھوٹا سا گھر دوسری تمام عمارتوں سے الگ تھلگ تھا ۔دن میں تو درسگاہوں کے قریب ہونے کی وجہ سے تنہائی کا زیادہ احساس نہیں ہوتا تھا ، لیکن رات کو اُس کے چاروں طرف شدید سناٹا چھا جاتا تھا۔البتہ اُس کے شمالی جانب میں ایک کچی سڑک گذرتی تھی جس پر سے کبھی کبھی کوئی اونٹ گاڑی گذرجاتی، اور اونٹ کے گلے میں پڑی ہوئی گھنٹیوں کی آواز آجایا کرتی تھی۔اس کے علاوہ خاص طورپر سردی کی راتوں میں گیدڑ ہمارے گھر کا محاصرہ کرلیتے ، اوران کے رونے کی آواز دیرتک آتی رہتی تھی۔ لیکن یہ گھرنسبۃً کشادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ آرام دہ بھی تھا، اور سب سے بڑی سہولت یہ تھی کہ کمروں کے باہر اُس میں ایک غسل خانہ بنا ہوا تھا، اس لئے ہمیں مشترک غسل خانے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ۔پھر جب ہمارے چچا زاد بھائی جناب مولانا خورشید عالم صاحب رحمۃ اﷲعلیہ دیوبند سے فارغ ہوکر یہاں استاذ بنے، تو اس گھر کاایک کمرہ انہیں دیدیا گیا جو دن کے وقت اُن کی درسگاہ ہوتی، اور باقی اوقات میں انکا رہائشی کمرہ۔ اور دوسرے کمرے میں ہم دونوں بھائی اور مولانا حکیم مشرف حسین صاحب رحمۃ اﷲ علیہ مقیم تھے۔یہ گھر چونکہ درس گاہوں کے قریب تھا، اس لئے متعدد اساتذہ بھی سبقوں کے درمیان دم لینے کیلئے کبھی کبھی وہاں تشریف لے آتے تھے۔
دیہاتی زندگی میں جہاں کچھ مشقتیں ہوتی ہیں ،وہاں کچھ ایسے فوائد بھی ہوتے ہیں جو شہروں میں حاصل نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکاہوں ، اس وقت دارالعلوم کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ اُس کے مغرب میں توسمندر تک لق ودق صحرا تھا ، لیکن اُس کے مشرق میں ایک بہت بڑا اور گھنا نخلستان تھا، اور اُس کے بعد مختلف پھلوں کا بڑا خوبصورت باغ تھا جس میں چیکو ، امرود اور لیموں وغیرہ کے درخت بڑے قرینے سے لگے ہوئے تھے ۔ یہ پیر بخش کا باغ کہلاتا تھا ۔ اس کے علاوہ دارالعلوم کے شمال میں تقریباً ایک کیلومیٹر کی حدود میں مرچوں اور مختلف ترکاریوں کے کھیت تھے جن کی پشت پر شرافی گوٹھ آباد تھا ، اور گوٹھ کے ختم ہونے کے بعد بیلوں کی نسل کشی کے لئے ایک سرکاری فارم تھا جو اب بھی کیٹل فارم کہلاتا ہے ۔اس میں اعلیٰ نسل کے بیلوں کی پرورش اور نسل کَشی بھی ہوتی تھی، اور بہت سے سائنسی تجربات بھی کئے جاتے تھے ۔ اس کیٹل فارم کے پاس زمین کا بڑ ا وسیع رقبہ تھا جس میں کیٹل فارم کی طرف سے جنوب میں جانوروں کے چارے کے لہلہاتے ہوے کھیت تھے جو کئی میل تک چلے گئے تھے، اور اُس جگہ تک پھیلے ہوئے تھے جہاں آج شاہ فیصل کالونی آباد ہے ۔یہ قدرتی مناظر شہری زندگی میں میسر نہیں آسکتے تھے ۔ چنانچہ دن بھرکی پڑھائی سے فارغ ہوکر عصر کی نماز کے بعد ہم ان مناظر کا طرح طرح سے مزہ لیتے تھے۔
میرے بھانجے حکیم مشرف حسین صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کاذکر میں کئی بار کرچکا ہوں ، وہ مجھ سے عمر میں دوسال بڑے تھے ، لیکن میں ان کا ماموں تھا ، اور پڑھائی میں اُن سے ایک سال آگے۔ اس طرح ہمارے درمیان عمر اور رشتے کا مقاصہ( set.off)ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ میرے واحددوست تھے جو بچپن سے کھیل کوداور تفریح سے لیکر مدرسے کی زندگی تک ہر چیز میں ساتھ تھے ۔چنانچہ عصر کے بعد ہم دونوں مدرسے سے نکل کر پہلے گوٹھ جاتے،جہاں ایک چھپر نما ریسٹورنٹ تھا جو اپنے مالک” شیدل “کے نام پر “شیدل کا ہوٹل “کہلاتا تھا ۔ عصر کے بعد وہاں ہم دونوں چائے پیتے اور پھر کھیتوں اور باغوں میں نکل جاتے ۔یہاں کے باغات میں امرودبڑا خوشبودار اور لذیذ ہوتا تھا، اور باغ والے ہمیں آٹھ آنے فی سیرکے حساب سے اپنے ہاتھوں سے امرود توڑکر کھانے کی اجازت دیدیتے تھے۔یہ لذّت شہر میں کہاں میسر آسکتی تھی؟عصر کے بعد کا وقت ان سبزہ زاروں میں گذارنے کے بعد ہم اپنے مدرسے میں واپس آتے، لالٹین جلاتے ، اور اُس کی روشنی میں عشاء تک کل کے اسباق کامطالعہ اس طرح کرتے کہ اُس میں کوئی مخل نہیں ہوتا تھا ۔ عشاء کے بعد مطبخ سے خریدا ہوا کھاناایک اسٹوو کی مدد سے گرم کرتے ، یہ عموماً ایک پتلا سا شوربا ہوتا تھا جس کے پانی کی طرح پتلا ہونے کا فائدہ یہ تھا کہ اگر کپڑے پر گرجائے (جو مجھ سے بکثرت گرجاتا تھا)، تو اُس کے دھبے کو دھونے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی تھی۔بھوک کے عالم میں یہ شوربا عصر سے پہلے کے پکے ہوئے تنوری نان کے ساتھ کھانے میں اب لذّت آنے لگی تھی ۔پھر فوراًہی ہمارے تکرار کا وقت ہوجاتا ، جو لالٹین کی روشنی میں رات گئے تک جاری رہتا۔
ہم جب شروع میں یہاں آئے ، تو ہم جماعت طلبہ نے” والی بال “کی ایک ٹیم بنالی تھی جس میں عصر کے بعد طلبہ کے ساتھ حضرت مولانا شمس الحق صاحب اور حضرت مولانا خورشید عالم صاحب رحمہما اﷲ تعالیٰ بھی شریک ہوا کرتے تھے۔ حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ اگرتم لوگ والی بال کے بجائے “بنوٹ “کا کھیل کھیلا کروتو میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہوجاؤں گا۔
“بنوٹ ” ایک لاٹھی کا کھیل ہوتا تھا جس میں لاٹھی چلانے اور لاٹھی سے دشمن کا مقابلہ کرنے کے بڑے زبردست ہنر کا مظاہرہ کیا جاتا تھا، اور اگر کوئی شخص “بنوٹ “کا ماہرہو، اور لاٹھی چلانے کا ہنر جانتا ہو تو وہ تنہا بڑے سے بڑے مجمع سے نمٹ سکتا تھا۔ یہ کھیل دارالعلوم دیوبند میں بھی سکھایا جاتا تھا، اور اُس کے باقاعدہ استاد مقرر تھے۔حضرت مفتی صاحبؒ نے یہ ہنر وہیں سیکھا تھا، اور میرے چاروں بڑے بھائی بھی اس کی مشق دیوبند ہی سے کیا کرتے تھے، اور ہمارے بھائی جان جناب محمد زکی کیفی صاحبؒ تو اس کے اچھے خاصے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ ٖچنانٖچہ حضرتؒ کی تحریک پر کچھ عرصے ہم نے عصر کے بعد بنوٹ کی بھی مشق کی۔
پھر نانک واڑہ میں رہتے ہوے شہری دفاع اور ابتدائی طبی امداد کی حو تربیت ہم نے حاصل کی تھی، اُس کی وجہ سے ہمیں یہ شوق بھی تھا کہ باقاعدہ عسکری تربیت بھی حاصل کریں۔ ہم نے حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ سے درخواست کی تو حضرتؒ نے ایک ریٹائرڈ فوجی انسٹرکٹر کی خدمات حاصل کرلیں ، اورمیری یادداشتوں کے مطابق ۱۰؍ اگست ۱۹۵۸ ؁ ء سے عصر کے بعد ان کی تربیت کا سلسلہ شروع ہوگیاحس میں انہوں نے شروع میں ہمیں پریڈ سکھائی ،پھر دشمن پر قابو پانے کے مختلف طریقوں کی عملی مشق کرائی۔عمارتوں اوردیواروں پر چڑھنے ، اورپھر زخمیوں کو کندھے پر سوار کرکے چڑھنے کے طریقے سکھائے۔آخر میں مصنوعی بندوقوں کے ذ ریعے بندوقوں کے استعمال کی بھی مشق کرائی، لیکن یہ تربیت کچھ عرصے ہی جاری رہی ، اوراس کے بعد اس کا سلسلہ موقوف ہوگیا۔
اُس سال ہمیں ملا حسن ، تصریح اور سراجی حضرت مولانا مفتی رشید احمدصاحب ؒ کے پاس پڑھنی تھی ہدایہ اخیرین اور میبذی حضرت مولانا سلیم اﷲخان صاحب مدظلہم کے پاس اور توضیح حضرت مولانااکبر علی صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے پاس ، شرح عقائد اور حصون حمیدیہ حضرت مولانا قاری رعایت اﷲصاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے پاس اور دیوان حماسہ حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھی رحمۃ اﷲ علیہ کے پاس۔
یہ تمام اساتذۂ کرام ماشاء اﷲ اپنے علم وفضل اور دلنشین طرز تدریس کے اعتبار سے ایسے تھے کہ ایک سے ایک بڑھکرتھا ۔ اور ان تمام حضرات کے درس ایسے تھے کہ ان کی دلکشی نے اس صحرا کی جفاکش زندگی کو بھی حسین بنادیا تھا۔
حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ میں نقوش رفتگاں میں کرچکا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ہم پر بڑے احسانات ہیں ۔اُس سال ہمارے تین درس اُن کے پاس تھے ۔ ایک ملا حسن ، دوسرے سراجی اور تیسرے تصریح۔
میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ منطق میں شرح تہذیب کے بعد کی کتابوں سے مجھے کچھ خاص لگاؤ نہیں تھا ۔ لیکن حضرتؒ کاانداز تدریس ایسا تھا کہ اُس میں بھی دلچسپی پیدا ہوگئی ۔ اس سے پہلے مجھے منطق کی کتاب کا پیشگی مطالعہ کرنے کی عادت نہیں تھی ، لیکن ملاحسن کا میں مطالعہ کرکے جاتا، اور سبق بھی دلچسپی سے پڑھتا اور اُس کا تکرار بھی کراتا تھا۔اس طرح منطق میں مجھے اپنی جو کمزوری محسوس ہوتی تھی ، وہ بڑی حد تک دور ہوئی۔
دوسری کتاب سراجی تھی جو علم میراث کی مشہور کتاب ہے ۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے میراث پر خود ایک مستقل کتاب ” تسہیل المیراث” کے نام سے لکھی تھی جس میں میراث کے مسائل آسان انداز میں بیان فرمائے تھے ، نیز انہوں نے میراث کے حصے نکالنے کا ایسا طریقہ بھی حساب کی بنیاد پر تجویز کیا تھا جو حصے نکالنے کے قدیم طریقے سے مختلف تھا ۔حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے سراجی پڑھانے کے بجائے “تسہیل المیراث” کی بنیاد پر علم میراث کی تعلیم دی ، اور اُس کی خوب مشق کرائی، یہاں تک کہ ہم مناسخے کے طویل طویل مسائل آسانی سے حل کرنے لگے تھے ۔ بعد میں سراجی پڑھنا ہمارے لئے آسان ہوگیا۔
تیسرااہم سبق حضرتؒ کے پاس تصریح کا تھا ۔حضرتؒ کو فقہ کے ساتھ فلکیات اورریاضی میں خصوصی مہارت حاصل تھی ، چنانچہ تصریح کے درس میں حضرتؒ کی اس مہارت سے خوب خوب استفادہ ہوا۔پھر حضرتؒ نے خود اپنی طرف سے ہمیں “خلاصۃ الحساب” کا بھی ایک حصہ پڑھایا، اور اسطرلاب اور اربعہ مجیبہ اورا ربعہ مقنطرہ کے استعمال کا طریقہ بھی سمجھایا ۔(یہ سب فلکیات اور جغرافیہ میں پیمائش کے قدیم آلات تھے۔) تصریح میں تو بطلیموسی فلکیات کا بیان ہے جس کی تشریح حضرتؒ ایک کُرے کی مدد سے فرماتے تھے ، لیکن اُس کے ساتھ ساتھ فلکیات کے بارے میں جدید فیثاغورسی نظریات اور معلومات سے بھی مستفید فرماتے تھے۔
استاذالاساتذہ حضرت مولانا سلیم اﷲ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ اُ س وقت عہد شباب میں تھے ، شیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمد صاحب مدنی رحمۃ اﷲعلیہ کے شاگرد تھے، اور میرے شیخ ثانی حضرت مولانا مسیح اﷲ خان صاحب قدس سرہ کے مدرسے مفتاح العلوم جلال آباد میں طویل عرصے تدریس کی خدمات انجام دیکر مستقل سکونت کی غرض سے پاکستان تشریف لائے تھے۔اگرچہ اُس سال ہدایہ اخیرین اور میبذی ، ہماری دو کتابیں، حضرت کے پاس تھیں،لیکن جہاں تک یاد ہے، اسباق دن میں اجتماعی طورپر شروع ہوئے، اور شام کو اُن کے پاس میبذی کا گھنٹہ تھا، اس لئے اُن سے ہم نے پہلا سبق میبذی کا پڑھا تھا۔ مجھے طبعی طورپر منطق اور فلسفے سیکوئی خاص دلچسپی نہیں تھی، بس ضرورۃً ہی منطق کی کتابیں پڑھتا آیا تھا ، البتہ فلسفے کی یہ پہلی اور آخری کتاب تھی ۔لیکن حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو اﷲتبارک وتعالی دونوں جہانوں میں اپنے فضل خاص سے نوازیں، انہوں نے پہلا سبق ہی اس شان سے پڑھایا کہ کتاب اور استاذ دونوں سے حد درجہ مناسبت پیدا ہوگئی، اور اپنے سابق طرزعمل کے برعکس پورے سال میں نے میبذی بڑی محنت اور ذوق وشوق کے ساتھ پڑھی۔اُن کے پاس دوسرا سبق ہدایہ اخیرین کا تھا ۔وہ بھی ماشاء اﷲخوب ہوا۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ہدایہ اخیرین حضرت شیخ الادب والفقہ مولانا اعزاز علی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ سے پڑھی تھی، اس لئے انہیں درس میں اپنے شیخ ؒ کی اتباع کا بڑا ذوق تھا ۔چنانچہ صبح کے پہلے گھنٹے میں وہ ہمیشہ وقت پر درس کیلئے تشریف لاتے ، اوردوگھنٹے مسلسل درس دیتے ہوئے اپنے شگفتہ چہرے اور دلکش انداز گفتگو سے ہمیں اس طرح نہال کردیتے تھے کہ تھکن کااحساس تک نہیں ہوتا تھا۔
اس سال ہمارے تیسرے استاذ حضرت مولانا اکبر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے ۔ وہ مظاہر علوم سہارنپور کے نہایت قابل اور مقبول استاذ تھے ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے منظور نظر ، اورحکیم الامۃ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی مجلسوں کے حاضر باش۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ انہوں نے پاکستان آنے کاارادہ کرکے دارالعلوم میں تدریس کے فرائض انجام دینے کو قبول فرمالیا تھا۔ اُن کی تدریس کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ مشکل سے مشکل مباحث کو اس طرح پانی کرکے سمجھادیتے تھے کہ طالب علم کے ذہن پر زیادہ بوجھ نہیں پڑتا تھا ۔ ا ن کی تقریر ایسی مربوط اور دلنشین ہوتی تھی کہ اگر اُس کو لفظ بہ لفظ قلم بند کرلیا جاتا ، توالفاظ کو زیادہ آگے پیچھے کئے بغیر وہ ایک شگفتہ تحریر کی صورت میں شائع کی جاسکتی تھی۔ اُس سال ہماری اصول فقہ کی کتاب “توضیح” اُن کے سپرد تھی ، اور انہوں نے یہ کتاب ہمیں اس طرح آسان کرکے پڑھائی کہ ہمیں یہ پتہ ہی نہ چل سکا کہ یہ کوئی مشکل کتاب ہے۔آئندہ جب “توضیح” خود پڑھانے کی نوبت آئی تو اندازہ ہوا کہ کتاب اتنی آسان نہیں ہے جتنی ہم پڑھنے کے زمانے میں سمجھتے تھے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃ۔
اُس سال ہماری خوش قسمتی سے دارالعلوم کے اساتذہ میں ایک بیش قیمت اضافہ اور ہوا ۔حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ اس وقت جیکب لائن میں “ادارۂ شرقیہ” کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ چلا رہے تھے جس میں مشرقی زبانوں ( عربی، فارسی اور اردو) کے امتحانات (فاضل عربی، فاضل فارسی، فاضل اردو وغیرہ) کی تیاری کرائی جاتی تھی ۔لیکن ان کی خواہش تھی کہ وہ کسی درس نظامی کے مدرسے میں تدریس کی خدمت انجام دیں ۔ اس سال انہوں نے دارالعلوم میں کچھ اسباق بلا معاوضہ پڑھانے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔میں عرض کرچکا ہوں کہ اُس زمانے میں شہر سے دارالعلوم کی نئی عمارت میں آنا بڑاجان جوکھوں کا کام تھا ، لیکن حضرت ؒنے بڑی قربانی دی کہ روزانہ شہرسے دارالعلوم اس طرح تشریف لاتے تھے کہ لانڈھی کے بس اسٹاپ پر اترکر تقریباً ایک میل پیدل آنا پڑتا تھا ۔ وہ چائے اور پان کے بلا نوشی کی حد تک عادی تھے ، اوراس وقت اس ویرانے میں ان چیزوں کا انتظام مشکل تھا ، اس لئے ان دونوں چیزوں کا ذخیرہ وہ اپنے ساتھ ہی لایا کرتے تھے ۔ اُس سال ہماری ایک کتاب “دیوان حماسہ”ان کے پاس تھی۔اور انہوں نے یہ کتاب جس اہتمام سے پڑھائی، وہ ہماری طالب علمانہ زندگی کی نہایت خوشگوار یاد ہے ۔ وہ حماسہ کے اشعار کی تشریح اس طرح فرماتے تھے کہ نہ صرف عربی محاورات اور ضرب الامثال کی بہترین وضاحت ہوجاتی تھی، بلکہ زمانۂ جاہلیت او ر ابتدائے اسلام کے عہد کا پورا قبائلی اور ثقافتی منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا۔
اُس سال تکرار کا نظم کچھ اس طرح ہوگیا کہ تکرار کی بڑی جماعت بنانے کے بجائے دو دو طالب علموں کی ٹولیاں بنگئی تھیں۔ ہمارے ہم سبق ساتھیوں میں برما کے دو ساتھیوں سے ہمیں خاص مناسبت اس لئے ہوگئی تھی کہ وہ مچھلی بڑی لذیذ پکاتے تھے ، انہوں نے ایک دو مرتبہ خود ہماری دعوت کی تھی، وہ اس قدر پسند آئی کہ بعدمیں جب زیادہ دن گذرجاتے، تو ہم خوداُن سے فرمائش کرکے دعوت کرواتے تھے۔ ان میں سے ایک مولانا محب اﷲصاحب رحمۃ اﷲعلیہ تھے، اور ایک مولانا مفتی عبداﷲصاحب مدظلہم (جو آج کل دارالعلوم میں دورۂ حدیث کے استاد اور تخصص فی الافتاء کے نگراں ہیں)مولانا محب اﷲصاحب ؒ میرے بڑے بھائی حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی مد ظلہم کے حصے میں آئے ، اور مفتی عبداﷲصاحب کو مجھ سے سابقہ پڑا۔ اُنہوں نے شاید میری رعایت سے مجھ سے فرمایا کہ تکرار تم کرایا کرو، میں نے بھی تکلف نہ کیا، اورمیں عشاء کے بعد چھوٹی سی بھڑکتی پھڑکتی لالٹین لیکر درسگاہوں کے درمیان ایک زیر تعمیر گول کمرے کے کنارے چلا جاتا، مولانا بھی وہاں آجاتے ، اور تمام کتابوں کا تکرار میں ہی کراتا تھا ۔برما کے ساتھیوں کا تجربہ ہمیشہ مجھے یہ رہا کہ ان میں سے جو طلبہ ذہین اور ذی استعداد ہوتے ،وہ بلا کے ذہین اور قابل ہوتے تھے۔ مولانا مدظلہم میرے تکرار کو خاموشی سے سُنا کرتے تھے، اورتکرار کے دوران کبھی کچھ بولتے نہیں تھے ، اس سے ۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔ یہ غلط فہمی ہوگئی کہ شاید مولانا کو سبق پر پوراقابو نہیں ہے ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں میبذی کے سبق میں کسی وجہ سے پہنچ نہیں سکا ۔ اُس دن” برہان سلّمی” کا سبق تھا جو خاصا مشکل سمجھا جاتا ہے ۔ میں نے سبق کے بعد اُسے مطالعے سے حل کرنے کی کوشش کی، تو وہ حل نہ ہوا ۔جب تکرار کا وقت آیا تو میں نے مولانا عبداﷲصاحب سے کہاکہ میں تو آج سبق میں آنہیں سکا ،اور مطالعے سے یہ بحث مجھے اتنی سمجھ میں نہیں آئی کہ میں اُس کا تکرار کراسکوں، لہذا آج اس سبق کا تکرار آپ کرائیں۔مجھے ان کی خاموش طبعی اور اپنی مذکورہ بالا غلط فہمی کی وجہ سے خطرہ تھا کہ شاید وہ عذر کریں یا شرمائیں ، لیکن مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشگوار حیرت ہوئی کہ مولانا فوراً راضی ہوگئے، اور پھر جو انہوں نے تکرار کرایا تو اُس دن اُن کے جوہر کُھل کر سامنے آئے۔ انہوں نے اس اچھی خاصی مشکل بحث کو ایسے دلنشین انداز سے بیان فرمایا کہ جومقامات میری سمجھ میں نہیں آرہے تھے، وہ خوب سمجھ میں آگئے ۔ان کے تکرار کرانے سے مجھے جو خوشی ہوئی ، وہ آج تک یادہے ۔ اﷲتبارک وتعالی انہیں بعافیت سلامت رکھیں ، اور ان کے درجات میں پیہم ترقی عطا فرمائیں کہ اُن سے جو محبت اس تکرار کے زمانے میں قائم ہوئی تھی، وہ بڑھتی ہی چلی گئی ۔ وہ اپنے علم کے علاوہ اپنے ذوق عبادت، زہد وتقوی اور عالی ہمتی کی وجہ سے میرے لئے ہمیشہ قابل رشک رہے۔ ان کی عالی ہمتی کااندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے عین دورۂ حدیث کے سال قرآن کریم حفظ کیا تھا۔اور اب بھی وہ دارالعلوم میں نہ صرف استاذ حدیث ہیں ، بلکہ دارالافتاء کے محترم ترین رفقاء میں سے ہیں ۔ درجۂ تخصص کی نگرانی انہی کے سپرد ہے ۔
غرض اس طرح ہمارا یہ تعلیمی سال پورا ہوا۔ اور امتحان سالانہ میں میرے نتائج یہ تھے :
تصریح: ۵۰ ، حماسہ : ۵۰ ، میبذی :۴۷ ، توضیح :۵۰ ، ملا حسن :۴۷ ، ہدایہ اخیرین :۵۰ سراجی : ۴۹ ، حسامی : ۴۵ ۔

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2019-04-17T17:15:00+05:00فروری 3rd, 2019|