یادیں (پندرہویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(پندرہویں قسط )

جس جمعیت علماء اسلام کے دورے کا ذکرمیں نے پیچھے کیا ہے ، یہاں بظاہر یہ ضروری تھا کہ اس کا مختصر تعارف بھی کراؤں ، اور اس سوال کا بھی جواب دوں جو اکثر ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ جمعیت علماء اسلام آیا وہی ہے یاکوئی اور؟ لیکن اس وقت میں اپنے بچپن اور لڑکپن کی یادیں لکھ رہا ہوں ، اس لئے یہاں اس داستان کو چھیڑنامناسب معلوم نہیں ہوتا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ اپنے موقع پر آئے گا۔
تعلیمی سال کا اختتام
لاہور،دیوبنداور صوبۂ سرحد وپنجاب کے سفرکی بنا پرمیں دو مہینے سے زائد دارالعلوم سے غیر حاضر رہا۔اس لئے میری تعلیم کا کافی نقصان ہوچکا تھا ۔ اگرچہ جامعہ اشرفیہ لاہور اور دارالعلوم دیوبند میں کچھ عرصہ تعلیم جاری رہی ، لیکن ظاہر ہے کہ وہ مرتب تعلیم کا بدل نہیں ہوسکتی تھی ۔ اور واپسی کے بعد بمشکل تین مہینے امتحان سالانہ میں باقی تھے ۔ اس لئے نقصان کی تلافی کے لئے کافی محنت کرنی پڑی ۔ اس سال میرے سالانہ امتحان کا حسب ذیل نتیجہ دارالعلوم کی رُوداد بابت رمضان ۱۳۷۴ ؁ ھ تاشعبان ۱۳۷۶ ؁ ھ مطابق مئی ۱۹۵۵ ؁ ء تا اپریل ۱۹۵۷ ؁ ء میں درج ہے:
کنزالدقائق:۵۱ ، البلاغۃ الواضحۃ:۵۰، ترجمۂ قرآن کریم: ۵۰،شرح جامی:۴۹، مقامات حریری:۴۶، قطبی:۴۱، اصول الشاشی:۴۵، شرح تہذیب:۴۴، خوشنویسی :۴۵
میری ڈائری میں درج ہے کہ کنزالدقائق کا امتحان مفتی صابر علی صاحبؒ نے ، البلاغۃ الواضحۃ اور خوشنویسی کاامتحان حضرت مولانا سحبان محمود صاحب ؒنے ، ترجمۂ قرآن کریم کا مولانا محمد متین خطیب صاحبؒ نے، شرح جامی کا مولانا زیارت گل صاحب ؒ نے، (جنہوں نے اپنا نام بعد میں حضرت والد صاحب ؒ کی تجویز پر بدل کر عبدالحق رکھ لیا تھا) مقامات حریری کا امتحان تحریری تھا ، شرح تہذیب کا مولانا بدیع الزمان صاحبؒ نے ، قطبی کا مفتی ولی حسن صاحبؒ نے ،اور اصول الشاشی کا مولانا فضل محمد صاحب ؒ نے لیا تھا ۔ رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین۔
تجوید کی مشق
مجھے یہ احساس کمتری پریشان کرتا رہتا تھا کہ میں نے پوراقرآن کریم باقاعدہ کسی استاذ سے نہیں پڑھا ، بلکہ سات پاروں کے بعد خود ہی پڑھ پڑھ کر پورا کرلیا تھا ۔اس وجہ سے میرے تلفظ میں کافی کوتاہیاں تھیں۔دارالعلوم میں پڑھنے کے دوران میں نے ان کوتاہیوں کو دور کرنے کیلئے کئی قاری صاحبان سے قرآن کریم کی تجوید کی مشق کی۔ان میں سب سے پہلے تو جناب قاری محمد الیاس صاحب مرحوم تھے جو ہمارے حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے ہم سبق، حضرت قاری محمد یوسف صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے صاحبزادے تھے ، اور ہمارے بھائی جناب محمد رضی صاحب ؒ کے نسبتی بھائی بھی تھے ۔وہ دارالعلوم میں مشق قرائت کرایا کرتے تھے ۔میں نے اُن سے جمال القرآن پڑھا، اور سورئہ یوسف کی قرائت کی ابتدائی مشق کی۔ پھر حضرت قاری عبدالوہاب مکی صاحب رحمۃ اﷲعلیہ دارالعلوم میں اس خدمت پر مامور ہوئے ،تو میں نے اُن سے بھی مشق کرکے استفادہ کیا۔اور ان کی بتائی ہوئی یہ بات اب تک یاد ہے کہ قراء ت حفص کی ایک روایت میں سارے قرآن کریم میں اشمام صرف ایک جگہ موجود ہے ، اور وہ سورئہ یوسف کی آیت کریمہ مَالَکَ لَا تَاْمَنَّا کے نون میںہے کہ اسے اداکرتے ہوئے ہونٹوں کو اس طرح موڑا جاتا ہے جیسے ضمّہ کی ادائیگی کے وقت ہونٹ مڑتے ہیں لیکن ضمّہ پڑھا نہیں جاتا ۔
اُن کے بعد حضرت قاری حامد حسین صاحب رحمۃ اﷲعلیہ اُس زمانے میں اپنی خوش الحانی میں شہرۂ آفاق تھے ۔ وہ بڑے نازک مزاج اور نفیس طبع بزرگ تھے ۔ان کے بستر پر ایک معمولی شکن بھی پڑجائے تووہ سو نہیں سکتے تھے۔ ان کا کمرہ اَوَدھ کے کسی نواب کا کمرہ معلوم ہوتا تھا ۔ ساری عمر شادی نہیں کی، مگر ایک بلّی پالی ہوئی تھی ، وہی ان کی گھریلو دلچسپی کا سامان تھی، اور اُس کے ساتھ وہ بچوں کی طرح کھیلا کرتے تھے -وہ مرگئی ، توان کو باقاعدہ آنسوؤں سے روتے ہوئے دیکھا گیا۔ قرآن کریم کی تلاوت میں وہ بہت سے لہجوں کے ماہر تھے ، اور ان کی تلاوت سننے والوں کے لئے سماں باندھ دیتی تھی۔ میں نے اُن سے بھی استفادہ کرنا چاہا ، لیکن وہ جتنے نازک مزاج تھے، اُتنے ہی زود رنج اور جلالی بھی تھے۔ میں نے ایک دودن اُن سے مشق کی، تو اُنہیں میری کسی بے ہودگی پر جلال آگیا، اور اُنہوں نے مجھے ڈانٹ دیا ۔ اُس کے بعد اُن کے سامنے جانے کی ہمت نہ پڑی ، اس لئے ان سے استفادہ کرنے سے محروم رہا ۔ اس کے علاوہ لاہور کے قیام کے دوران میں کبھی کبھی حضرت قاری عبدالمالک صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کی خدمت میں بھی چلا جاتا تھا ۔انہوں نے مجھے سورۂ حشر کے آخری رکوع کی مشق کرائی، اور مجھے یاد ہے کہ سورت کے آخری جملے “وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ” کی تلاوت کے وقت میں جب “العزیز” کے حرف لا م پر پہنچتا تو اس کی ادائیگی کے وقت اُس میں قلقلہ پیدا ہوجاتا تھا ۔ حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے اس پر کئی بار ٹوکا ، مگر میری وہ عادت ختم نہ ہوئی، اس پر حضرت نے مجھے یہ گُر سکھایا کہ جب تم حرف” لا م” ادا کررہے ہو ،تو اُسی وقت “عین “بھی ساتھ ساتھ پڑھ لیا کرو، اس طرح “لام” کی ادائیگی میں قلقلہ پیدا نہیں ہوگا- غرض انہوں نے اس ایک رکوع میں وہ کچھ سکھا دیا جو مہینوں میں بھی سیکھنا مشکل تھا ۔رحمہ اﷲتعالیٰ رحمۃً واسعۃ۔
دارالعلوم نانک واڑہ کا آخری سال
۱۳۷۵ ؁ ھ کے شوال میں ہمارا دارالعلوم نانک واڑہ میں آخری سال تھا ۔اور اُس میں ہمیں ہدایہ اولین،نورالانوار، مختصرالمعانی وغیرہ پڑھنی تھیں، اوریہ پہلا موقع تھا کہ ہمارے اسباق حضرت مولانا سحبان محمود صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے پاس نہیں تھے ۔ ہدایہ حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ؒ کے پاس تھی ۔نورالانوار حضرت مولانا قاری رعایت اﷲصاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے پاس شروع ہوئی جو انتہائی مقبول استاذ تھے، اور اپنے شگفتہ انداز گفتگو سے درس کو کشتِ زعفران بنائے رکھتے تھے ۔لیکن بعد میں اُنہیں مدرسے کی طرف سے اوپر کی کوئی کتاب پڑھانے کیلئے مل گئی، اس لئے نورالانوار حضرت مولانا سحبان محمود صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے پاس منتقل ہوگئی، اور اپنے محبوب استاد کے پاس دوبارہ کم ازکم ایک گھنٹے حاضررہنے کی مسرت میسر آگئی۔
مختصر المعانی ،سلم العلوم اور دیوان متنبی حضرت مولانا فضل محمد صاحب سواتی رحمۃ اﷲعلیہ کے پاس آئیں جو بڑے منجھے ہوے تجربہ کار استاذ تھے ۔ حضرتؒ سے ہمیں مسجد باب الاسلام میں گلستاں کا کچھ حصہ پڑھنے کا موقع ملاتھا ، اور اُن کی شخصیت کا بڑا بھاری رعب دل پر چھایا ہوا تھا، لیکن ان اسباق کی تدریس میں اُنہوں نے جس شفقت ومحبت کا معاملہ فرمایا ، وہ غیر معمولی تھا ،اور ان کے احسانات کا حق ادا کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ان کا انداز تدریس بھی بڑا دلنشین تھا ۔ اتفاق سے مجھے اپنی ٹیڑھی طبیعت کی وجہ سے مختصرالمعانی سے کبھی مناسبت نہ ہوسکی، کیونکہ بلاغت میں منطقی چون وچرا ذوق پر بہت بار گذرتی تھی، اور یوں بھی پچھلے سال حضرت مولانا سحبان محمود صاحب رحمۃ اﷲعلیہ سے ہم نے البلاغۃ الواضحۃ جس اہتمام سے جھوم جھوم کر پڑھی تھی کہ ساتھ ساتھ ادبی عبارتوں اور اشعار میں علم بلاغت کے قواعد کا اجراء اور اُن کی مشق بھی ساتھ ساتھ ہوتی جاتی تھی ، اُس کے بعد مختصرالمعانی کی چون وچرا میں دل نہیں لگتا تھا ۔ اسی طرح منطق کی ضروری اصطلاحات کاعلم حاصل کرنے کے بعد اُس کی تفصیلی بحثوں کا بھی کوئی خصوصی ذوق نہیں تھا، اس لئے سلّم العلوم میں بھی زیادہ دل نہیں لگتا تھا ۔البتہ دیوان متنبی ہم نے ذوق وشوق کے ساتھ پڑھی، اورحضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بھی وہ بڑے اہتمام سے پڑھائی ۔ اُس کے بہت سے اشعار بھی مجھے یاد ہوگئے۔اور سب سے زیادہ لطف ہدایہ اور نورالانوار میں آتا تھا ۔ ہدایہ میں حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اﷲعلیہ فقہ اور اصول کے نادر نکات تو بیان فرمایا ہی کرتے تھے ۔اُس کے ساتھ وہ عمومی تربیت اور ذہن سازی کیلئے بھی بڑی مؤثر باتیں ارشاد فرماتے، اور عمومی مطالعہ بڑھانے کیلئے بھی ہدایات دیتے رہتے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ انہوں نے میراعربی لکھنے کا شوق دیکھا تو ایک دن فرمایا کہ کتب خانے میں ایک کتاب” فقہ اللغۃ” رکھی ہے ، اُس کا مطالعہ کیاکرو۔یہ ابومنصور ثعالبی ؒ کی “فقہ اللغۃ “تھی جسے دیکھ کر وہ مجھے بہت دلچسپ معلوم ہوئی، اور اُسے میں نے پڑھانے کے زمانے تک مطالعے میں رکھا ، اور اُس سے زبان وبیان کے تنوع میں بڑی مدد ملی۔
دینی مدارس میں یہ روایت شروع سے چلی آتی ہے کہ طلبہ استاذ سے سبق پڑھنے کے بعد اس کو دہرانے کیلئے ایک جماعت بنالیتے ہیں ، پھر اپنے ہی میں سے کسی اچھی استعداد والے ساتھی کو منتخب کرلیتے ہیں کہ وہ سبق دہراکر انہیں سنائے۔ اس عمل کو ہمارے مدارس کے ماحول میں “تکرار” کہا جاتا ہے ۔ اور جو ساتھی تکرار کراتا ہے ، اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ استاذ کی تقریر کا چربہ اتارکر طلبہ کے سامنے پیش کردے ۔ اس کے لئے ایک طرف تو یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ خود سبق کو اچھی طرح سمجھا ہوا ہو، اور دوسری طرف چونکہ وہ بھی ایک طرح کی تدریس ہوتی ہے ، اس لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ تکرارکرانے والے میں بات سمجھانے کی اچھی صلاحیت ہو۔جب جماعت میں اس صلاحیت کے حامل ایک سے زیادہ طلبہ ہوں تو وہ تکرار کرانے کیلئے باریاں بھی مقررکرلیتے ہیں۔اور تجربہ یہ ہے کہ تکرار کا یہ طریقہ تمام طلبہ کیلئے نہایت مفید ہوتا ہے ، اور خاص طورپر جو طلبہ تکرار کراتے ہیں ، انہیں ساتھ ساتھ تدریس کی بھی اچھی مشق ہوجاتی ہے۔
میری جماعت میں کوئی میرا ہم عمر نہیں تھا ۔ سب مجھ سے بڑے تھے ۔ اس کانتیجہ یہ ہوا کہ جب تکرار کی جماعت بنتی ، تو تکرار کرانے کی ذمہ داری مجھ سے بڑی عمر کے ساتھیوں ہی کے حصے میں آتی، اور میں عموماً تکرار میں سامع ہی کی حیثیت سے شریک ہوتا۔ اکثر تکرارمیرے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب عثمانی مد ظلہم کرایا کرتے تھے۔ اﷲتبارک وتعالی نے انہیں مضبوط علمی استعداد کے ساتھ فصاحت بیان بھی خوب عطا فرمائی ہے، اس لئے اُسی وقت سے ان کا تکرار طلبہ میں مقبول تھا ۔ میری زبان میں روانی نہیں تھی ، اور میں اٹک اٹک کر بولا کرتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں ساتھیوں کو الجھن ہوتی تھی۔اس لئے مجھے تکرار کرانے کا موقع کم دیا جاتا تھا، اور اس طرح مجھے اپنی اس کمزوری کو دور کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا تھا ۔
مجھے اپنی اس کمزوری کااحساس تھا ، اور اُسے دور کرنے کی فکر بھی ۔ اس کا خداداد انتظام کچھ اس طرح ہوا کہ کوئٹہ کے ایک طالب علم جو عمر میں مجھ سے بہت زیادہ تھے ، اور بلوچستانی پگڑی پہن کر اپنی قدوقامت میں مجھ سے دگنے لگتے تھے ، سال کے درمیان عربی کے پہلے سال میں داخل ہوئے ۔ ان کے جو اسباق رہ گئے تھے، وہ انہوں نے مختلف ساتھیوں سے پڑھنے شروع کئے ۔ میں نے اُنہیں پیشکش کی کہ” عربی کا معلم “میں آپ کو پڑھاؤں گا ۔ وہ اپنے سے آدھی عمر کے ایک پتلے دبلے کھلنڈرے قسم کے طالب علم سے شاید پڑھنے کو راضی نہ ہوتے، لیکن میں دارالعلوم کے مختلف اجتماعات میں عربی کی جو رٹی رٹائی تقریریں کرلیا کرتا تھا ، ان کی وجہ سے طلبہ میں میری کمسنی کے باوجودمیری عربی دانی کا کچھ تأثربیٹھا ہوا تھا، اس لئے انہوں نے مجھ سے پڑھنا منظور کرلیا، اور میں نے دوپہر کو چو تھے گھنٹے کے بعد انہیں عربی کا معلم پڑھانا شروع کردیا ۔
انہیں پڑھانے کے لئے جو وقت طے ہوا تھا، اس کا انتظار اور اشتیاق داڑھی والے” شاگرد” کے بجائے بارہ سالہ” استاد” کوزیادہ رہتا تھا ۔ جونہی چوتھا گھنٹہ بجتا ، میں بلا تاخیر مقررہ جگہ پہنچ کر ان کا انتظار کرتا۔ وہ کچھ بے نیاز سے واقع ہوئے تھے ۔ اطمینان سے تشریف لاتے، اور مجھے ان کے انتظارمیں ایک ایک منٹ بھاری معلوم ہوتا ۔ کبھی کبھی بغیر اطلاع کے ناغہ بھی فرمادیتے ، اور میں اس کشمکش میں پڑجاتا کہ اگرانہیں تلاش کرنے جاؤں ، تو بظاہر یہ” استادی” کے وقار کے خلاف بات تھی، اور اگر تلاش نہ کروں، تو پڑھانے کی لذت سے کیسے محروم رہوں؟ آخر کار پڑھانے کا شوق “استادی” کے وقار کو شکست دیدیتا ،اور میں انہیں تلاش کرنے کیلئے مختلف درسگاہوں کی خاک چھانتا رہتا، اور وقت گذرنے کے بعد اگلے دن کاانتظار شروع کردیتا۔ اگلے دن وہ بڑی بے نیازی سے آتے ،تو میرا یہ حوصلہ بھی نہ تھا کہ اُن سے غیر حاضری کی وجہ پوچھتا ، اور وہ اس طرح کتاب کھول لیتے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا ۔ میں انہیں اردو سے عربی بنانے کا تحریری کام دیتا، تو کبھی کرلاتے، کبھی نہیں ، میں اس کی بازپرس کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا، کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ کل سے پڑھنا ہی بند نہ کردیں ، اور میں دیکھتا رہ جاؤں۔ مجھے تواُن سے یہ فائدہ حاصل کرنا تھا کہ اُن کے سامنے سبق کی تقریر کرکے اپنی زبان میں روانی کی عادت ڈالوں، چنانچہ الحمد ﷲ!رفتہ رفتہ اپنا ما فی الضمیر دوسرے تک پہنچانے کی کچھ نہ کچھ عادت پڑ تی گئی۔ وہ مجھے صبرو سکون سے برداشت کرتے رہے، اور میں ان کی شان بے نیازی کوبرداشت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ جب “عربی کا معلم” کا پہلا حصہ ختم ہوا ، تومیرے انداز گفتگو میں کسی قدراعتماد پیدا ہوگیا تھا ۔اس طرح درحقیقت وہی تدریس اور تقریر سکھانے میں میرے استاد تھے کہ انہی کے ذریعے مجھے انداز تکلم کی تربیت ملی۔ اب نہ جانے وہ کہاں ہیں؟ مجھے اب ان کا نام بھی یقین کے ساتھ یاد نہیں آرہا( ایسا یاد پڑتا ہے کہ ان کا نام شاید اختر محمد تھا)لیکن وہ جہاں بھی ہوں، اﷲتبارک وتعالی ان کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازیں کہ ان کا مجھ پر بڑااحسان ہے۔
بہر حال!اس تربیتی کورس سے گذرنے کے بعد میری جماعت کے ساتھی بھی مجھ سے تکرار کرانے پر راضی ہوگئے ۔ بھائی صاحب کی تکرار کی جو جماعت تھی، ان کی فصاحت بیان کی وجہ سے اُس کے لئے مجھے برداشت کرنا مشکل تھا، اس لئے میں نے کچھ ایسے ساتھی ڈھونڈ لئے جو میری کچی پکی زبان پر راضی رہ سکیں ، اور اس طرح رفتہ رفتہ مجھے بھی تکرار کرانے کا موقع فراوانی سے مل گیا ، اور اس سے گفتگو میں کچھ مزید بہتری پیدا ہوگئی۔
ایک مرتبہ ناظم آباد کراچی کے کسی ادارے نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر مدارس اور اسکولوں کے طلبہ کا ایک تقریری مقابلہ منعقد کیا حس میں تقریروں کا عنوان تھا ” : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے شارع قانون تھے”۔ حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے ہم سے فرمایا کہ تم بھی اس میں حصہ لو۔ اس سے پہلے دارالعلوم کے اندرونی اجتماعات میں چند منٹ کی رٹی رٹائی عربی تقریر کے سوا باہر کے کسی جلسے میں کبھی تقریرکی نوبت نہیں آئی تھی ،اس لئے کچھ ڈر بھی لگ رہا تھا ، لیکن حضرتؒ نے ہمت بندھائی، اور موضوع کے بارے میں کچھ اہم نکات نہ صرف بتائے، بلکہ کچھ املا بھی کرائے ، اور میں نے اُنہی کی بنیاد پر وہاں تقریر کی ۔میری عمر اُس وقت تیرہ سال تھی ۔تقریری مقابلے میں مجھ سے کہیں زیادہ عمر کے حضرات بھی شریک تھے۔ اب یاتو یہ حضرت مفتی ولی حسن صاحب قدس سرہ کے بتائے ہوئے نکات کی کرامت تھی، یا پھر میری کمسنی پر فیصلہ کرنے والوں کو رحم آگیا تھا کہ مجھے مقابلے میں پہلی پوزیشن ملی ،اور انعام میں امام غزالی رحمۃ اﷲعلیہ کی” المرشد الامین “کا اردوترجمہ مجھے دیا گیا۔یہ کسی بھی عام جلسے میں میری پہلی تقریر تھی۔
دارالعلوم کراچی میں اُس وقت بڑے اصحاب علم وفضل اساتذہ کا گلدستہ جمع تھا ۔جن اساتذہ کا میں نے اوپر ذکر کیا، ان کے علاوہ حضرت مولانا منتخب الحق صاحب ، حضرت مولانا مظہر بقا صاحب ،سلہٹ کے حضرت مولانا عبید الحق صاحب ، حضرت مولانا طاسین صاحب ، حضرت مولانا محمد متین خطیب صاحب ، حضرت مولانا مفتی محمد صابر صاحب رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین سب وہاں اپنی تدریس کا فیض پھیلا رہے تھے۔مجھے یہ بھی شوق تھا کہ جن اساتذہ کے پاس میرا کوئی سبق نہیں ہے، ان کی خدمت میں بھی کچھ وقت گذاروں۔ اس لئے ان حضرات کے پاس بھی کبھی کبھی چلا جاتا ، اور یہ سب میرے بچپن کی وجہ سے مجھ پر بڑی شفقت فرماتے ، اور اپنے تدریسی تجربات سے کچھ نہ کچھ رہنمائی فرماتے رہتے تھے۔
حضرت والد صاحب قدس سرہ کی شخصیت ایسی تھی کہ ملک بھر کے علماء کرام اور مشاہیرکا جب کراچی آنا ہوتا ،تو وہ اُن سے ملاقات کیلئے ضرور تشریف لاتے، اور حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ اُنہیں دارالعلوم میں دعوت دیکر یہ فرمائش بھی کرتے کہ وہ طلبہ کو نصیحت فرمائیں ۔ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحبؒ، حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی ؒ، حضرت مولانا خیر محمد صاحب ؒ، حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری ؒ ، حضرت مولانا عطاء اﷲشاہ بخاری رحمۃ اﷲعلیہم کی اسی زمانے میں زیارت ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت مولانا عطاء اﷲشاہ بخاری صاحب رحمۃ اﷲعلیہ گیروے رنگ کے لباس میں ملبوس تھے ، اور جب اُن سے کسی نے میرا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میں حضرت مفتی صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کاچھوٹا بیٹا ہوں تو اُنہوں نے مجھے گود میں اُٹھالیا۔
نہر سویز پر امریکی اور برطانوی حملہ
اسی سال عالم اسلام کے لئے یہ خبر سب سے زیادہ وحشت ناک تھی کہ۲۹؍اکتوبر ۱۹۵۶ ؁ ء کو اسرائیل نے جزیرہ نمائے سینا پر حملہ کیا، اور اُس کے دودن بعدبرطانیہ اور فرانس نے مل کر نہر سویز پر حملہ کردیا تھا۔ حضرت والد ماجد قدس سرہ پر اس واقعے کا بہت اثر تھا، اور اُس وقت ان کی خواہش یہ تھی کہ پورا عالم اسلام مصر کی مدافعت میں کھڑا ہوجائے ، چنانچہ ایک طرف انہوں نے مختلف حکمرانوں اور عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کو خطوط لکھے ، اور خود بھی مسلمانوں کو مدد پہنچانے کیلئے ایک طبّی وفد تیار کرنے کی کوشش کی، تاکہ کسی بھی طرح اس حملے کے خلاف مسلمانوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا جاسکے۔
اسی سلسلے میں حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے یہ چاہا کہ دارالعلوم میں بھی فوجی تربیت کاانتظام کیا جائے ، تاکہ اگر کچھ رضاکار وہاں بھیجنے کی نوبت آئے تو کچھ تربیت یافتہ افراد بھیجے جاسکیں ۔ لیکن فوری طورپر یہ ممکن نہ ہوا، تو حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے شہری دفاع کے محکمے سے رابطہ قائم فرماکر اُن کو آمادہ کیا کہ وہ اپنے کچھ انسٹرکٹر دارالعلوم میں بھیج کر طلبہ کو شہری دفاع کی تربیت دیں ۔ چنانچہ روزانہ عصر کے بعد شہری دفاع کا تربیتی پروگرام شروع ہوگیا۔ سب سے پہلے کورس میں جناب بدرالحسن فاروقی صاحب نے ۷؍نومبر۱۹۵۶؁ء مطابق ۳؍ ربیع الثانی ۱۳۷۶ ؁ھ کو تربیت کے لئے آنا شروع کیا ، اور شہری دفاع اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت دینی شروع کی۔ ہم طلبہ نے اس کورس میں بڑے جوش وخروش سے حصہ لیا ،میں اُس وقت اپنی عمر کے تیرہویں سال میں تھا، اور مجھے یاد ہے کہ ہم اُس وقت اس خوش فہمی میں تھے کہ یہ کورس آخرکار جہاد کی تربیت میں تبدیل ہوجائے گا ۔ چنانچہ تصور ہی تصور میں اپنے آپ کو مصر کے میدان جنگ میں دیکھتے، اور اپنے طفلانہ ذہن کے مطابق اسرائیلیوں اور برطانویوں سے دو بدو لڑنے کے نقشے دل میں جمایا کرتے۔ جنگ تو آخر کار روس کی مداخلت سے ختم ہوگئی، اور جن علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کیا تھا ، وہ آخر کار واپس کردئیے گئے، لیکن ہم اس خوش فہمی پر کورس میں اُسی جوش وخروش سے حصہ لیتے رہے کہ شاید اور کچھ نہیں ، تو جنگ کے زخمیوں کی امداد کیلئے کسی وقت ہمیں بھیج دیا جائے۔
میں فاروقی صاحب کے تمام لیکچروں کو قلم بند بھی کرتا تھا، اور وہ جو عملی مشقیں کراتے تھے، اپنی بساط کے مطابق ان میں بھی شامل رہتا تھا ۔ ان لیکچروں کو جس کاپی میں لکھا ، میں نے بعد میں اُسے فاروقی صاحب کو اسلئے دیا کہ وہ اُس پر نظر ثانی کرلیں ۔ نظرثانی تو انہوں نے نہ جانے کی یا نہیں لیکن چند دن بعد وہ کاپی اپنے اس نوٹ کے ساتھ مجھے واپس کردی:
“Though youngest of all the trainees yet paced with others throughout the training. Intelligent and keen student. Proved himself to be a willing worker. Remained anxious to learn more and more from his elders.
Recommended for higher training.
BH Farooqi.
Gen Instructor.”
جب انہوں نے یہ عبارت لکھی ، اُس وقت مجھے اتنی انگریزی نہیں آتی تھی کہ میں اس کا مطلب سمجھ سکوں۔چنانچہ میں نے اپنے بڑے بھائی جناب مولانا محمد ولی رازی صاحب سے اُس کا ترجمہ کراکر اُس کے نیچے لکھوایاجو یہ تھا:
“اگرچہ طلباء میں سب سے زیادہ کمسن ہیں، لیکن تمام طلبہ کے ساتھ پوری ٹریننگ کے درمیان ساتھ ساتھ رہے، ذہین اور شوقین طالبعلم ہیں، خود میں مہارت پیدا کرنے کا شوق ہے، اپنے بڑوں سے سیکھنے کے ہمیشہ مشتاق ۔ اعلیٰ ٹریننگ کیلئے بھیجا جائے”۔
جنگ تو ختم ہو چکی تھی، لیکن اس تربیت نے کم ازکم نیت کی حدتک جہاد کا ایسا شوق پیدا کردیا کہ ہم نے بعدمیں حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ سے درخواست کی کہ دارالعلوم میں باقاعدہ عسکری تربیت کا بھی انتظام کیا جائے ، اور حضرتؒ نے جتنا قانونی حدود میں اُس وقت ممکن تھا، اُس کا انتظام دارالعلوم کی نئی عمارت میں منتقل ہونے کے بعد کیا جس کا کچھ تذکرہ شاید آگے آجائے۔
اس سال میرے امتحان سالانہ کا نتیجہ یہ تھا:
ہدایہ اولین:۵۱، نورالانوار:۵۰ ، مختصر المعانی: ۴۵، تلخیص المفتاح:۴۷، سلم العلوم:۴۰، دیوان متنبی: ۴۹، خوشنویسی:۴۵۔

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2019-02-23T16:37:31+05:00جنوری 13th, 2019|