یادیں (چودہویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(چودہویں قسط )

ہاٹ ہزاری۔ ۱۳؍ فروری ۱۹۵۶ مدرسہ دارالعلوم معین الاسلام ہاٹ ہزاری کے عظیم الشان سالانہ جلسہ کے موقعہ پر چاٹگام اور ُاس کے گردونواح کے تقریباً پچیس ہزار مسلمانوں نے شرکت کی، اس جلسہ میں مقامی علماء کے علاوہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہ ، قائم مقام صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور مرکزی جمعیۃ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد متین خطیب، نظام اسلام پارٹی کے جنرل سیکریٹری مولانا مصلح الدین صاحب نے بھی شرکت کی اور اپنی تقاریر کے ذریعہ عوام کو دستوری مسائل سے باخبر کیا، آخر میں جلسہ میں مندرجہ ذیل تجویز متفقہ طورپر منظور کی گئی ۔
تجویز
“مسلمانان مشرقی پاکستان”دستوریہ کے ممبران پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان کا دستور قرآن وسنت کے مطابق بنانے اور پاکستان کا نام جمہوریہ اسلامیہ پاکستان رکھنے، صدر مملکت کے مسلمان ہونے کی لازمی شرط رکھنے اور مشرقی بنگال کا نام مشرقی پاکستان طے کرنے کے علاوہ طریقہ انتخاب جداگانہ طے کرنے کا ممبران دستوریہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں اور اِس سلسلہ میں مسٹر حسین شہید سہروردی اور اُن کی پارٹی کے رہنما بھاشانی یا عوامی لیگ کے ممبران دستوریہ جو رائے رکھتے ہیں ، اُس سے اظہار بیزاری ونفرت کرتے ہوئے نیز دستوریہ کے ممبران پر یہ جتلانا چاہتے ہیں کہ یہ لوگ ہماری نمائندگی نہیں کرتے بلکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے ، مسلمانان مشرقی پاکستان ممبران دستوریہ کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر اُنہوں نے پاکستان کے متفقہ مطالبات اور تمام دینی جماعتوں کی متفقہ ترمیمات کے مطابق دستور نہ بنایا تو ہم اس کو ہرگز قبول نہیں کریں گے اور اس کے بعد ملک میں کوئی اُلجھن پیدا ہوئی تو اس کی تمام ذمہ داری ممبران دستوریہ پر ہوگی ۔
میمن سنگھ ۔ ۲۸؍ جنوری ۱۹۵۶ء آج دس بجے صبح مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ،مولانا محمد متین صاحب خطیب جنرل سیکریٹری آل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام، مولانا مصلح الدین صاحب جنرل سیکریٹری نظام اسلام پارٹی مشرقی پاکستان دیگر علماء ڈھاکہ کے ہمراہ میمن سنگھ پہنچے، اسٹیشن پر علماء شہر اور عوام نے شاندار استقبال کیا اور جلوس کی شکل میں قیامگاہ تک لیجایا گیا، دو بجے نظام اسلام کا نفرنس ٹاؤن ہال کے سامنے وسیع میدان میں شروع ہوئی ۔ تلاوت کلام پاک کے بعد مولانا مصلح الدین کی صدارت میں مولانا محمد متین خطیب نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ کہ مجھے افسوس ہے کہ میں مشرقی پاکستان کے بھائیوں سے اُن کی زبان میں خطاب نہیں کرسکتا مگر وہ دن دور نہیں کہ ہماری یہ کمی پوری ہوجائے گی اور ایک دن آئے گا کہ مشرقی ومغربی پاکستان کے بھائی آپس میں ایک دوسرے کی بات سمجھ سکیں گے ۔ آپ نے اسلامی نظام کے سلسلہ میں انبیائے کرام کی جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ خدا کے نیک بندوں نے کسی وقت بھی خدائی قانون کے نفاذ میں رکاوٹوں سے گھبراکر اپنی جدوجہد کو ترک نہیں کیا انبیائے کرام کی زندگی اور اولیاء اللہ کی کوششوں سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے، پاکستان میں اسلامی دستور کی مساعی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تحریک پاکستان میں جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد اسی مقصد سے تھی کہ اس ملک میں خدا کا قانون نافذ ہو، جن لوگوں کے ہاتھ میں پاکستان کا اقتدار آیا ان میں اکثر افراد نے حصول پاکستان کے بعد کرسیوں ، اقتدار، عہدوں کو اپنا نصب العین بنالیا مگر جمعیۃ علماء اسلام اسلامی قانون کے نفاذ کے لئے برابر جدوجہد کرتی رہی ، شیخ الاسلام علّامہ شبیر احمد عثمانی کی زیر قیادت اندرون اسمبلی اور اُس سے باہر ملک میں جو جدوجہد جاری رہی اُس میں مشرقی پاکستان کے لوگوں کا بہت بڑا حصہ ہے ، نظام اسلام پارٹی اور اُس کا کام اس کا زندہ ثبوت ہے ۔ اسلامی دستور کے نفاذ میں رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا خطیب صاحب نے فرمایا ، رقص وسرود کی محفلوں اور شراب وکباب سے دلچسپی رکھنے والوں اور اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگانے والوں نے ہمیشہ اسلامی دستور کی مخالفت کی اور پچھلی مرتبہ جب دستور مکمل ہوگیا تو دستوریہ توڑنے کا نعرہ لگانے میں یہی لوگ پیش پیش رہے یہاں تک کہ دستوریہ کو سابق گورنر جنرل نے توڑ کر پاکستان کے نشوونما اور اس میں اسلامی نظام کے نفاذ پر ایک ضرب کاری لگائی، آج دوبارہ انتخاب کے بعد نظام اسلامی پارٹی کے لیڈر حضرت مولانا اطہرعلی اور دیگر اسلام پسند ممبران دستوریہ کی کوششوں سے دوبارہ جب اسلامی دستور مکمل ہوگیا تو مشرقی پاکستان کی سرزمین سے دستوریہ کو توڑنے اور موجودہ دستور کی مخالفت میں آواز اٹھائی جارہی ہے، مشرقی پاکستان کی اُس جماعت کے لیڈر نے جو آج کمیونسٹوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی دھمکی بھی دے دی ہے ، ان حالات میں آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آپ کھیل کر قرآن وسنت کی روشنی میں آنے والے دستور سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہونا چاہتے ہیں یا جلد از جلد اسلامی دستور کا منظور ہونا پسند کرتے ہیں یقینا کوئی سچا مسلمان ایسے دستور سے محرومی پسند نہیں کرے گا ، لہٰذا اس نازک اور تھوڑے وقت میں جبکہ دستور کی منظوری میں چند روز باقی ہیں آپ کا فرض ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام ، نظام اسلام پارٹی اور دیگر دینی جماعتوں کی تائید کرکے اسلام دوست ممبران دستوریہ کے ہاتھ مضبوط کریں اِسی غرض سے ہم مشرقی پاکستان کا دورہ کررہے ہیں، ہمیں یقین کامل ہے کہ ہماری آواز صدا بہ صحرا ثابت نہ ہوگی ۔
مولانا محمد متین خطیب کی تقریر کا مولانا منظور الحق صاحب ایم ایل اے رکن مجلس شوریٰ مرکزی جمعیۃ نے بنگلہ زبان میں خلاصہ بیان کیا، یہ نشست ڈھائی گھنٹہ جاری رہی ، بارش کی وجہ سے ٹاؤن ہال کے اندر نماز عصر کا انتظام کیا گیا ،نماز کے بعد دوسری نشست شروع ہوئی جس میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں افسوس کے ساتھ اس اظہار پر مجبور ہوں کہ مجھے آج اپنے مشرقی پاکستان کے بھائیوں کو وہ سبق یاد دلانے کی ضرورت پڑی جس نے ملک کی مسلم اکثریت کو پاکستان بنانے پر مجبور کیاتھاآپ کو یاد ہوگاکہ مشترکہ ہندوستان میں جب بعض لوگوں نے یہ کہا کہ ہندوستان کے بسنے والے پہلے ہندوستانی اور پھر ہندو یا مسلمان ہیں تواس کے جواب میں بعض مسلمانوں نے کہا کہ نہیں ہم پہلے مسلمان ہیں بعد میں ہندوستانی اور بعض نے اس سے آگے بڑھ کر یہ کہا کہ مذہب کے ساتھ ہندی ، مصری ،ترکی، عربی کوئی چیز نہیں ہم اول بھی مسلمان ہیں بعد میں بھی مسلمان اورصرف مسلمان ہیں اور کچھ نہیں ۔ اور درحقیقت ایک سچے مسلمان اور پکے مومن کا یہی مقام ہونا چاہئے کیونکہ قرآن کریم ہمیں سبق دیتا ہے کہ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔۔۔ کہ ہماری عبادت وقربانی، ہمارا جینا اور مرنا صر ف اللہ کے لئے ہے۔ اسی آواز کی برکت تھی کہ متحدہ ہندوستان کے ہر مسلمان نے پاکستان کی تحریک میں حصہ لے کر اُس کو کامیاب کیا۔
آج بھی ہمارا یہی نصب العین ہے ، کچھ لوگوں نے وزارتوں اور لوٹ مار کے لئے پاکستان کو اپنا نعرہ بنایا اور عام مسلمانوں نے اس خیال سے پاکستان کے لئے جانی ومالی قربانی دی کہ ہم اس میں آزاد ہوکر اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون رائج کریں ، مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آسمان وزمین کا مالک خدا ہے تو اس میں حکومت اور قانون بھی اسی کا چلنا چاہئے ، مسلم اکثریت کے صوبے تو ہر حال میں حکومت کرتے اُن کا پاکستان کے لئے جدوجہد کرنا سمجھ میں آتا ہے لیکن مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے اس کے سوا کیا تھا کہ اسلامی قانون کے جو قرآن وسنت کے مطابق ہو نافذ کرنے اورپاکستان کومثالی اسلامی مملکت بنانے کے لئے اپنے جان ومال اور اولاد قربان کی حالانکہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان بن جانے کے بعد ہمارے لئے ہندوستان کی حکومت میں رہنامشکل ہوجائے گا، خدا تعالیٰ نے ان کی آرزو پوری فرمائی پاکستان بن گیا۔پاکستان بن جانے کے بعد پاکستانی مسلمان بجا طورپراس انتظار میں رہا کہ اب جلد از جلد اسلامی قانون نافذ ہوجائے گا، چند سال تک پاکستان کے دونوں حصوں کے لوگ اسی امید میں انتظار کی گھڑیاں گنتے رہے، بانیان پاکستان قائداعظم مرحوم، قائد ملت مرحوم اور شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آیا جن میں سے بہت سے لوگوں کو پاکستان سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ اُن کو اپنا جاہ ومنصب اور اپنے عزیز واقرباء کے لئے زیادہ سے زیادہ ملازمتیں اور روپیہ حاصل کرنا تھا ، انہوں نے نہ مغربی پاکستان کے لئے کچھ کیا اور نہ مشرقی پاکستان کے لئے بلکہ دونوں حصوں کے عوام کو تباہی کے غار میں دھکیلنے کی کوشش کی ۔ کچھ دستور بننے میں دیر اور کچھ اس قسم کے بدکردار لوگوں کی وجہ سے عوام تنگ آگئے، خصوصاً مشرقی پاکستان کے مسلمان جن کو مذہب سے خاص لگا ؤہے ان کے اوپر مسلط ہونے والے بعض حکام نے ایک طرف کھلے بندوں فسق وفجور کا بازار گرم کیا دوسری طرف یہاں کے باشندوں کے ساتھ برتاؤ اچھا نہ کیا۔عوام کی نظر میںمرکز ملزم ٹھہرا، اس کے نتیجہ میں دونوں حصوں کے لوگوں میں منافرت بڑھ گئی ۔
دوسری طرف اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگانے والوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور اس کی تمام ذمہ داری مرکز کی پالیسی پر ڈال دی حالانکہ اس کا مرکز سے کوئی تعلق نہ تھا، یہ تو چند مفاد پرست اور ملک سے دلچسپی نہ رکھنے والوں کے طرز عمل کا نتیجہ تھا ۔ یہ کوئی عقلمندی نہیں ہوگی کہ چند افراد کی غلط کاریوں کا انتقام اپنے ملک سے لے کر خود اپنے پاوں پر کلہاڑا مارا جائے ۔ میں پورے وثوق سے اپنے مشرقی پاکستان کے بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مشرقی ومغربی پاکستان کے دونوں حصوں میں جو آپس میں منافرت پیداہوگئی اور جس کو میںاس مرتبہ خاص طورپر محسوس کررہاہوں، اس کا مرکز سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک مرکز اپنے ایک بازو کو خود کمزور کرے یا کاٹنے کی فکر کرے ۔
آپ نے اگر مرکز کو کمزور کرنے کی کوشش کی تو و ہ دن دور نہیں کہ آپ اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگانے والوں کی غلامی میں چلے جائیں گے جس کے بعد نہ صرف مغربی پاکستان بلکہ پورے پاکستان کے لئے تباہی کا خطرہ سامنے آجائے گا ،ان تمام تکالیف کا علاج یہ ہے کہ ملک کا اقتدار اچھے لوگوں کے ہاتھ میں آئے اور یہ جب ہی ممکن ہے جب کہ پاکستان میں جلد از جلد قرآن وسنت کے مطابق دستور مکمل ہوکر نافذ ہوجائے اور اس کے تحت نئے انتخابات عمل میں لائے جائیں ۔
دستور مکمل ہوچکا ہے اور اس کی دوسری خواندگی ہورہی ہے ، یہ دستور مجموعی حیثیت سے مسلمانوں کے مطالبات کا آئنیہ دار ہے، اگرچہ اس میں کچھ اہم خامیاں باقی ہیں جن کے لئے جمعیۃ علماء اسلام، نظام اسلام پارٹی اور دوسری دینی جماعتوں نے ترمیمات دیدی ہیں ، ضرورت ہے کہ اپنے دستور سازوں کو اس طرف توجہ دلائی جائے کہ ٹھنڈے دل سے ان ترمیمات پر غور کرکے دستو کی اصلاح کریں ۔پندرہ فروری تک یہ کام مکمل ہوکر ۳ مارچ ۱۹۵۶  ء یوم قرارداد مقاصد سے اس کے نفاذ کا اعلان ہوجائے مجھے اُمید ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے مسلمان اس کے لئے متفقہ جدوجہد کریں گے تو ان شا ء اللہ تعالیٰ وہ دن دو ر نہیں کہ پاکستان ایک صحیح اسلامی مملکت بن جائے ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

</section

2019-02-20T12:09:19+05:00دسمبر 10th, 2018|