0%

یادیں (نویں قسط)

یادیں (نویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(نویں قسط )

ابتدائی تعلیم
ہمارے گھر کی قریبی مسجد باب الاسلام تھی، حضرت والد صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، اُسی میں نماز پڑھا کرتے تھے ۔اُس میں امدادالعلوم کے نام سے ایک چھوٹا سا مدرسہ قائم تھا، لیکن وہ ایک مکتب کی شکل میں تھا۔ حضرت والد صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ ،نے وہاں کچھ عربی اور فارسی کی تعلیم کے لئے کچھ اساتذہ کو جمع کیا جن میں حضرت مولانا فضل محمد صاحب سواتی، رحمۃ اﷲعلیہ، سب سے بڑے استاذ تھے ۔(یہ وہی بزرگ ہیں جو پہلے دارالعلوم، پھربنوری ٹاؤن میں اور اُس کے بعد سوات میں ایک اپنے قائم کئے ہوے مدرسے میں فرائض تدریس انجام دیتے رہے ، اور ان کا قدرے مفصل تذکرہ میں نے نقوش رفتگاں میں کیا ہے )ان کے علاوہ حضرت مولانا نور احمد صاحبؒ اور حضرت مولانا امیرالزماں کشمیری صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہما، خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ حضرت والد صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، نے مسجد کے مرکزی دروازے کی چھت پر ایک کمرہ بنواکر اُس میں دارالافتاء قائم فرمادیا تھا ، کیونکہ پاکستان منتقل ہونے کے بعد حضرت والد صاحب ؒ کے پاس استفتاء تو مسلسل آتے تھے ،لیکن نہ انہیں نقل کرنے کا کوئی انتظام تھا ، نہ محفوظ رکھنے کا۔حضرت والد صاحب ؒ خودہی ڈاک وصول کرنے اور روانہ کرنے کے کام انجام دیتے تھے۔ اب اس دارالافتاء میں فتویٰ نویسی ، فتاویٰ کو نقل کرنے اور مستفتیوں سے رابطہ رکھنے کا ایک باقاعدہ نظم قائم ہوگیا ،اور اُس میں ایک بزرگ جن کا اسم گرامی اب مجھے یاد کرنے سے بھی یاد نہیں آرہا ہے، نقل فتاویٰ کیلئے مقرر فرمالئے گئے۔
اُس وقت حضرت والد صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے ساتھ ملحق ادارے” بورڈ تعلیمات اسلامیہ “کے رکن بھی تھے ۔ میں” حمد باری” جیکب لائن میں پڑھ چکا تھا ۔حضرت والد صاحبؒ نے مجھے فارسی کی کتاب” گلزار دبستاں” شروع کروائی ، اور مجھے اُس کتاب کا تھوڑا سا سبق دیکر اپنے ساتھ اسمبلی لے جاتے ، اور میں وہاں بیٹھ کر سبق یاد کرتا رہتا ، پھرحضرت والد صاحبؒ وہ سبق سنتے تھے ۔ میرے ساتھ حضرت والد صاحبؒ کا معاملہ بڑی ہی شفقت کا رہا ، لیکن صرف ایک دن انہوں نے مجھے ایک طمانچہ مارا۔گلزار دبستاں میں ایک جگہ بندر کا فارسی لفظ “بوزینہ ” آیا ہے ۔ میں اُسے باربار” بوزنہ” پڑھتا تھا۔حضرت والد صاحب ؒ نے کئی بار سمجھایا کہ یہ لفظ” بوزنہ ” نہیں بلکہ “بوزینہ “ہے ۔ مگر نہ جانے کیوں میری زبان پر” بوزنہ” ہی چڑھا ہوا تھا ، اور باربارکی تنبیہ کے باوجود جب وہ لفظ آتا تو میں” بوزنہ” ہی پڑھتا تھا ۔اس پر ایک دن انہوں نے مجھے ایک طمانچہ مارا، اور دماغ درست ہوگیا ۔ پھر کبھی اس لفظ کے تلفظ میں یہ غلطی نہیں کی ۔ اُس کے بعد انہوں نے مجھے ایک مرتبہ اور ماراتھا، اور وہ نماز فجر کے لئے بیدار نہ ہونے پر۔اﷲتبارک وتعالیٰ ان کے درجات میں پیہم ترقی عطا فرمائیں۔ان دوواقعات کے علاوہ انہوں نے مجھے کبھی نہیں مارا۔
جب مسجد باب الاسلام میں باقاعدہ تعلیم شروع ہوگئی ، تو انہوں نے مجھے حضرت مولانا فضل محمد صاحب سواتی، رحمۃ اﷲعلیہ، کے سپرد فرمادیا ۔ حضرت مولانا فضل محمد صاحب ؒ بڑے فاضل بزرگ تھے، اوران کی شخصیت بڑی بارعب تھی ۔ میں تو اپنی بے قاعدہ تعلیم کے دوران” گلزار دبستاں” ہی میں اٹکا ہوا تھا ، لیکن کچھ طلبہ اوپر کی جماعت کے بھی آگئے تھے، جن میں مولانا اشرف علی صاحب لاہوری مدظلہم اور مولانا محمد اسماعیل بلخی خاص طورپر قابل ذکر ہیں ۔حضرت مولانا فضل محمد صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، نے ان کو گلستاں، بوستاں ، احسن القواعد وغیرہ کا درس دینا شروع کردیا ، اور مجھے بھی کبھی کبھی سبق دیدیتے تھے ، اور ساتھ ہی انہوں نے خوشخطی سکھانے کے لئے مجھے اُن بزرگ کے حوالے کردیاجو دارالافتاء میں نقل فتاویٰ کی خدمت انجام دیتے تھے ۔ شام کے وقت حضرت مولانا فضل محمد صاحب، قدس سرہ، یہ دیکھا کرتے تھے کہ واقعۃً میں نے کچھ پڑھا بھی ہے یا نہیں۔ ان کی بارعب شخصیت سے مجھے اُس وقت ویسے ہی ڈر لگتا تھا، شام کے وقت اُن کے محاسبے کی فکر سارے دن رہا کرتی تھی۔
اسی وقت کاایک لطیفہ یاد آیا کہ میں تو ابتدائی فارسی پڑھا کرتا تھا ، اور وہ بھی بے قاعدہ ، لیکن دارالافتاء کے وہ بزرگ جو مجھے خوشخطی سکھا تے تھے ، کسی کسی طالب علم کو عربی بھی پڑھا دیا کرتے تھے ۔ میں عربی عبارتوں میں یہ دیکھا کرتا تھا کہ اُن میں” إنّ “کا لفظ بہت کثرت سے آتا ہے ، ایک دن میں نے اپنے اُن خوشخطی کے استاذ سے پوچھا کہ”إنّ “کے کیا معنیٰ ہیں؟ انہوں نے فرمایا”: تحقیق “۔ میرے پلّے کچھ نہ پڑا ، تو اُس وقت میرے دل پر یہ تأثر قائم ہوا کہ عربی اتنی مشکل زبان ہے کہ اُس کا ترجمہ بھی کردو تب بھی سمجھ میں نہیں آتی۔
میرے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، مدظلہم، اسی مدرسے میں جناب قاری فخرالدین صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، کے پاس حفظ قرآن کریم کی تکمیل کررہے تھے ۔جب ان کے حفظ کی تکمیل ہوگئی ، تو ان کو بھی فارسی پڑھنی تھی ۔کچھ دن بعد حضرت مولانا امیرالزماں کشمیری صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، بھی تشریف لے آئے اور انہیں بھی اس مدرسے میں استاذ مقرر کردیا گیا، اور ہم دونوں نے کچھ اور ساتھیوں کے ساتھ باقاعدہ رہبر فارسی، تیسیرالمبتدی وغیرہ ان سے پڑھنی شروع کردی۔ کوئی باقاعدہ درسگاہ تو تھی نہیں ، اور مسجد میں تنخواہ لے کر پڑھانا شرعی اعتبار سے مناسب نہیں تھا ، اس لئے حضرت مولانا ،رحمۃ اﷲعلیہ، ہمیں مسجدکے وضو خانے میں پڑھایا کرتے تھے۔یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سے پڑھائی شروع کی تھی ، اور اﷲتعالیٰ حضرت مولانا امیرالزماں کشمیری صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، کو جنت میں اعلیٰ درجات عطا فرمائیں، انہوں نے انتہائی محبت اور شفقت سے ہمیں پڑھایا ۔وہ ایک مجاہد آدمی تھے اور ۱۹۴۸؁ ء کے جہاد کشمیر میں اور اس کے بعد حیدرآباد دکن کے پولیس ایکشن کے دوران انہوں نے بذات خود جہاد میں حصہ لیا تھاجس کے واقعات وہ بڑے ذوق وشوق سے سنایا کرتے تھے ۔جہاد کا جذبہ ان کی رگ وپے میں سرایت کئے ہوئے تھا، اور ان کی صحبت میں ہما رے دل میں بھی جہاد کا ذوق وشوق پیدا ہوا، اور یہ دعا میری روزمرہ کی دعاؤں میں شامل ہوگئی کہ “:یااﷲ! ایک مجاہد کی زندگی اور ایک شہید کی موت عطا فرما۔”
دارالعلوم کراچی کا قیام
حضرت والد صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، کے دل ودماغ پر کراچی آنے کے بعد یہ فکر شب وروز مسلط تھی کہ دینی تعلیم کے بڑے بڑے مراکز ہندوستان میں رہ گئے ہیں، اور جو علاقے پاکستان کے حصے میں آئے ہیں، اُن میں دینی مدارس کی تعداد بھی کم ہے ، اور ان کا معیار تعلیم بھی کمزور۔ خاص طورپر کراچی میں کوئی بڑا مدرسہ نہیں تھا ۔کراچی کے ایک اندرونی محلے کھڈہ میں مظہرالعلوم کے نام سے ایک واحد مدرسہ تھا جس میں دورۂ حدیث تک تعلیم ہوتی تھی ، لیکن وہ شہر کی ضروریات کیلئے ناکافی تھا ، اس لئے حضرت والد صاحب ؒ اس فکر میں تھے کہ یہاں کوئی معیاری مدرسہ قائم ہو ۔ اﷲتعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ محلہ نانک واڑہ میں سکھوں کاایک اسکول تھا جو سکھوں کے رخصت ہوجانے کے بعد سے ویران پڑا ہوا تھا ۔وہ تعلیمی مقاصد کے لئے حضرت والد صاحب ، رحمۃ اﷲعلیہ، کوحکومت کی طرف سے مل گیا ۔ حضرت والد صاحب ؒ نے حضرت مولانانور احمد صاحب ،رحمۃ اﷲ علیہ ،کے ساتھ مل کر اس عمارت کی صفائی کی، اور اﷲتعالیٰ کے نام پر وہاں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کرکے دارالعلوم کی بنیادڈالی۔ اور ۱۱؍شوال ۱۳۷۱؁ ھ مطابق ۳؍جولائی ۱۹۵۲؁ء کو دارالعلوم نے ایک منظم ادارے کی شکل میں کام کرنا شروع کیا۔دارالعلوم کے پہلے سال تعلیم صرف مشکوۃ شریف کی حد تک تھی ، دورۂ حدیث اُس سال نہیں تھا، اور مشکوۃ کا درس خود حضرت والد صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، دیا کرتے تھے۔
رمضان المبارک ۱۳۷۱؁ ھ میں برادر محترم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب ،مد ظلہم ،نے حفظ کی تکمیل کرکے اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم سے رمضان ۱۳۷۱؁ ھ ( مطابق جون ۱۹۵۲؁ء) میں پہلی محراب مسجد باب الاسلام ہی میں حضرت والد صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، کے قائم کردہ دارالافتاء میں سنائی، اور عید کے بعددارالعلوم کا قیام عمل میں آیا۔
دارالعلوم کراچی کو اﷲتعالیٰ نے یہ اعزاز عطا فرمایا کہ وہ پاکستان بننے کے بعد پورے سندھ میں پہلا معیاری دینی مدرسہ تھا، بلکہ پورے پاکستان میں بھی چند گنے چنے ادارے ہی اُ س وقت موجود تھے ۔اس لئے وہ بہت سے اُن علماء کرام کی علمی خدمات کا نقطۂ آغاز بنا جو ملک کے عظیم دینی رہنما ثابت ہوئے۔مثلاً حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ (جن کو علماء کرام نے حضرت والد صاحب ؒ اور حضرت مولانا مفتی محمود صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہما ،کے بعد مفتی اعظم پاکستان کا خطاب دیا)کسی دینی ادارے کی عدم موجودگی کی وجہ سے اُس وقت ایک برنس روڈکے ایک ثانوی اسکول (میٹرو پولس اسکول) میں دینیات کے استاذ تھے ۔وہ دیوبندمیں حضرت مولانا نوراحمد صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ (ناظم اول دارالعلوم کراچی ) کے ہم سبق رہ چکے تھے۔ حضرت مولانا نوراحمد صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، اُن کو اسکول سے اُٹھاکر دا رالعلوم لے کرآئے ، اور یہاں سے انہوں نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا ۔اسی طرح حضرت مولانا سحبان محمود صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ (جو بعدمیں دارالعلوم کے شیخ الحدیث اور ناظم بنے)اُس وقت علوم شرقیہ کی ایک درسگاہ “دانش کدہ” میں اردو ادب پڑھایا کرتے تھے، جو برنس روڈ پر ہمارے مکان کے قریب ہی واقع تھی۔ میرے بھانجے اور دوست مولاناحکیم مشرف حسین صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، اُن دنوں” ادیب اردو” کے امتحان کی تیاری کررہے تھے ، و ہ ” دانش کدہ” میں پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن میں اُن کے ساتھ” دانش کدہ” گیا تو حضرت مولانا سحبان محمود صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، ا ُس وقت شاعر مشرق ڈاکٹراقبال مرحوم کا” شکوہ جواب شکوہ” پڑھا رہے تھے، اور اُن کی زبان سے اُس وقت کاسنا ہوا یہ شعر ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے:
نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
دارالعلوم کے قیام کے بعد حضرت مولانا نوراحمد صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، اُنہیں دارالعلوم لے کر آئے، اور یہیں سے اُن کی تدریسی زندگی کا آغاز ہوا۔ حضرت مولانا فضل محمد صاحب سواتی ؒاور حضرت مولانا امیر الزماں کشمیری ،رحمۃ اﷲعلیہما ،کی تدریسی زندگی کا آغاز اگرچہ مسجد باب الاسلام ہی میں ہوچکا تھا ، لیکن جیساکہ پیچھے عرض کرچکا ہوں ، وہ کوئی باقاعدہ مدرسہ نہیں تھا، اس لئے اُن کی باقاعدہ تدریسی خدمات دارالعلوم ہی سے شروع ہوئیں۔ حضرت مولانامظہر بقا صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، جو بعد میں مفتی بنے ، اور آخر میں جامعۃ ام القریٰ مکہ مکرمہ کے اصول فقہ کے استاذ قرار پائے ، وہ خود اپنے قول کے مطابق ایک آزاد منش بزرگ تھے ، اور مدرسوں کی زندگی سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن حضرت والد صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، سے ملاقات کے بعد اُن کی زندگی سراسر بدل گئی جس کے واقعات وہ بڑے مزے لے لیکر سنایا کرتے تھے، اور اپنی سرگزشت میں انہوں نے لکھے بھی ہیں ۔ حضرت والد صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، نے اُن میں ایک جوہر قابل دیکھا ، تو انہیں دارالعلوم میں تدریسی خدمات سونپ دیں ، اور شروع میں ناقل فتاویٰ کے طورپر اور بعد میں افتاء کی تربیت دے کرباقاعدہ نائب مفتی کی حیثیت میں اُن کا تقرر فرمایا۔ حضرت مولانا قاری رعایت اﷲصاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، نے بھی پاکستان میں اپنی تدریسی زندگی کا آغاز یہیں سے کیا۔حضرت مولانا عبید الحق صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، جوبعد میں بنگال کے علماء کے سرخیل قرار پائے ، ان کو بھی حضرت والد صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، نے دارالعلوم میں دعوت دے کر ان کی تدریسی خدمات حاصل فرمائیں۔ اور یہیں سے ان کے علم وفضل کا چرچا شروع ہوا۔حضرت مولانا منتخب الحق صاحب، رحمۃ اللہ علیہ، بھی دارالعلوم میں تدریس کی خدمت انجام دیتے رہے ، اور بعد میں کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات کے صدر بنے۔ حضرت مولانا محمد متین خطیب صاحب، رحمۃ اللہ علیہ، بھی لاہور سے منتقل ہوکر دارالعلوم تشریف لائے ، اور یہاں تفسیر جلالین کا درس شروع کیا، اور بعدمیں نائب ناظم کے فرائض بھی ان کے سپرد ہوئے ۔اسی وجہ سے حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ،رحمۃ اللہ علیہ، دارالعلوم کراچی کوعلماء کرام کی ماں کہا کرتے تھے۔
کچھ ہی عرصے میں دارالعلوم کی طرف طلبہ کا رجوع اتنا بڑھا کہ طلبہ کی رہائش گاہوں اور درسگاہوں کاالگ الگ کرنا ممکن نہیں تھا۔چنانچہ دن کے وقت کمروں میں اس طرح درس ہوتا تھا کہ طلبہ کے بستر دیوار کے چاروں طرف لپٹے رکھے رہتے تھے،اور رات کو وہی کمرہ بستروں سے اس طرح بھراہوا ہوتا کہ بیچ میں چلنے کی جگہ بھی نہیں ہوتی تھی۔
جب میں نے دارالعلوم میں پڑھنا شروع کیا، اُس وقت مجھے ابھی فارسی پڑھنی تھی ، اور میری عمر اُس وقت نو سال تھی، برادر محترم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مد ظلہم نے چونکہ حفظ کیا تھا ، اور میں حفظ سے محروم رہا، اس لئے فارسی کے درجے سے ہم دونوں تعلیم میں ساتھ ہوگئے تھے ۔اُس وقت حضرت مولانا بدیع الزمان صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، انّی کے مشہور مدرسے سے فارغ ہوکر تشریف لائے تھے ، اور ہماری تمام کتابیں اُنہی کے سپرد تھیں ۔رسالہ نادر،پندنامہ، انشاء فارغ ،گلستاں ، بوستاں، احسن القواعدیہ ساری کتابیں ہم نے حضرت مولاناؒ سے پڑھیں ، اوربھائی صاحب مدظلہم کی ایک ڈائری میں ۱۰؍ محرم ۱۳۷۲؁ ھ مطابق یکم اکتوبر ۱۹۵۲؁ء کی تاریخ میں یہ جملہ لکھا ہوا ہے کہ “: آج مدرسہ عربیہ دارالعلوم میں حضرت مولانا بدیع الزمان صاحب کے پاس گلستاں شروع ہوئی ۔” اس کے ساتھ وہ ہمیں فارسی نثر نگاری کی تربیت بھی دیا کرتے تھے۔اﷲتعالیٰ اُن کے درجات میں پیہم ترقی عطا فرمائیں کہ انہوں نے بڑی محبت اور شفقت سے ہمیں پڑھایا اور فارسی سے اتنی مناسبت پیدا فرمادی کہ اُس کی نظم ونثر سمجھنے کی استعداد الحمدﷲپیدا ہوگئی۔اُس سال میرے سالانہ امتحان کا نتیجہ دارالعلوم کی پہلی روداد میں چھپا ہوا موجود ہے، اور چونکہ میں آٹھ سال کی عمرمیں والدین کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کرچکا تھا ، اس لئے میرے کئی اساتذہ مجھے پیار سے” حاجی جی” کہکر پُکارتے تھے ۔(بلکہ حضرت مولانا سحبان محمود صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، میری شرارتوں کی وجہ سے مجھے اسی قافیے میں “پاجی” کہکر پُکارتے تھے، اور اس بے تکلفی پر مجھے بڑی خوشی ہوتی تھی۔) چنانچہ روداد میں بھی میرانام “حاجی محمد تقی ” چھپا ہوا ہے۔ اُن دنوں دارالعلوم دیوبند کے قدیم طریقے کے مطابق ایک کتاب کے کل نمبر پچاس ہوا کرتے تھے ۔جو طالب علم ۴۸تک نمبر حاصل کرتا، اُسے درجۂ اولیٰ میں کامیاب سمجھا جاتا تھا ،۴۷ سے ۴۵ تک درجۂ ثانیہ کے نمبر تھے ، اور۴۴سے۴۰تک ادنیٰ درجے کے ۔اسکے بعد ۳۵تک ،اس حد تک کامیاب سمجھاجاتا تھا کہ عموماً اُسے اگلے درجے میں ترقی مل جاتی تھی ۔ ۳۵ سے نیچے نمبر ہوں تو اُسے ناکام سمجھا جاتا تھا۔یہ روایت بھی تھی کہ اگرچہ کل نمبر۵۰ہوتے تھے ، لیکن جس طالب علم نے بہت امتیازی طورپر اچھا امتحان دیا ہو، اُسے پچاس کے اوپر بھی نمبر دیدئیے جاتے تھے ۔چنانچہ اچھے طلبہ کو ۵۱ یا۵۲نمبر بھی مل جاتے تھے۔ اس ترتیب کے مطابق میرا نتیجہ یہ تھا:
گلستاں:۵۱ بوستاں:۴۵ احسن القواعد:۵۰ انشائے فارغ:۵۱ حساب: ۵۰ خوشنویسی: ۴۰ ترجمتین: ۴۸ مالا بدمنہ : ۴۹ جمال القرآن: ۵۱ قراء ۃ : ۴۹
عربی تعلیم کا آغاز
اگلے سال یعنی شوال ۱۳۷۲؁ ھ مطابق جولائی ۱۹۵۳؁ء میں ہماری عربی تعلیم کا آغاز ہوا جبکہ میری عمر دس سال ہوچکی تھی، اور “عربی کا معلم” کے سوا ہماری تمام کتابیں حضرت مولانا سحبان محمود صاحب ،رحمۃ اﷲ علیہ ،کے پاس تھیں۔چنانچہ صَرف میں ہم نے اُس سال یکے بعددیگرے میزان ومنشعب ،پنج گنج اور علم الصیغہ، نحو میں” نحومیر” ،”شرح مائۃ عامل” اور “ہدایۃ النحو” ، ادب میں حضرت مولانا سید سلیمان ندوی صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، کی “دروس الادب” اور اُس کے بعد” مفید الطالبین” حضرتؒ ہی سے پڑھیں۔ البتہ” عربی کا معلم” حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب، رحمۃ اﷲعلیہ، سے پڑھا۔ حضرت مفتی صاحب ،رحمۃ اﷲعلیہ، کو عربی ادب سے خصوصی مناسبت تھی ، اس لئے انہوں نے ہمیں بڑے ذوق وشوق سے عربی لکھنے کی مشق کرائی ۔اپنی کم سنی کی وجہ سے نحووصرف کے قدرے دقیق مسائل پر گرفت تو پوری نہ ہوسکی، لیکن لکھنے کا شوق شروع سے تھا ، اس لئے لکھنے کی مشقوں میں اکثر میں کامیاب رہتا تھا ، اگرچہ میرا خط بہت خراب تھا ، جس میں کافی عرصے بعد بہتری آئی۔ اساتذۂ کرام میری عمر کے لحاظ سے میرے اس تھوڑے کو بھی زیادہ جان کر محبت اور ہمت افزائی کا معاملہ فرماتے تھے ۔ تکرار کرانے میں بھی مجھے اس لئے دقت محسوس ہوتی تھی کہ میری زبان میں روانی نہیں تھی ، اور میں بولتے وقت بکثرت اٹکا کرتا تھا ۔چنانچہ عموماً تکرار میرے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب کرایا کرتے تھے جن کے انداز گفتگو میں شروع ہی سے ما شاء اﷲبڑی فصاحت تھی ۔
حضرت مولانا سحبان محمود صاحب ،رحمۃ اللہ علیہ، ہر ہفتے جمعرات کو ہمارا ہفتہ وار امتحان لیا کرتے تھے ، اس لئے تمام ہفتے چوکس ہوکر پڑھنا پڑتا تھا ۔ اور یہ انہی کے حسن تدریس کا نتیجہ تھا کہ اُس سال ہم نے اتنی کتابیں پڑھیں کہ آجکل کے لحاظ سے درجۂ اولیٰ اور درجۂ ثانیہ دونوں کی کتابیں ایک ہی سال میں ہوگئیں ۔چنانچہ نحومیر کے ساتھ شرح مائۃ عامل اور ہدایۃ النحو ، میزان کے ساتھ پنج گنج اور علم الصیغہ اور دروس الادب اور مفید الطالبین کے ساتھ فقہ کی نورالایضاح بھی ایک ہی سال میں پڑھ لی گئیں ۔
حضرتؒ کے پاس ایک لمبی سی چھڑی محض طلبہ کو رعب میں رکھنے کیلئے رہا کرتی تھی جس کے استعمال کی نوبت کم ہی آتی تھی ، لیکن کبھی کبھی آبھی جاتی تھی ، اور ایک آدھ مرتبہ مجھے بھی اسکا مورد بننے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
میری جماعت میں میرا ہم عمر کوئی نہیں تھا ، سب مجھ سے بڑے تھے ۔اس لئے درس کے بعد کھیل یا تفریح میں اُن کے ساتھ میرا جوڑ نہیں بیٹھتا تھا ۔ چنانچہ غیر نصابی دوستیاں اپنے سے نیچی جماعت کے لوگوں سے رہتی تھیں ۔ میرے ہم سبقوں میں میرے بڑے بھائی کے علاوہ مولانا حبیب اﷲمختار صاحب شہید ،رحمۃ اﷲعلیہ، (سابق مہتمم جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن)کے بڑے بھائی مولانا محمد احمد صاحب مد ظلہم تھے (جو آجکل مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں )، اور مولانا حبیب اﷲمختار صاحب ؒ ہم سے ایک سال پیچھے تھے، میرے بھانجے حکیم مشرف حسین صاحب ؒ بھی انہی کے ساتھ تھے، اور قاری محمد اسماعیل میرٹھی صاحب ؒ بھی انہی کی جماعت میں تھے ۔ پڑھائی سے فارغ ہوکر میں ان کے ساتھ قریبی پارک میں یا دارالعلوم کے احاطے کے باہر کچھ دیر کھیل لیا کرتا تھا ۔کبڈی اورگلی ڈنڈے سے لیکر کرکٹ تک ہر کھیل میں یہ دونوں طاق تھے ، میں انکا تابع مہمل بنکر ان کے ساتھ لگا ضروررہتا تھا ، لیکن مہارت کسی کھیل میں حاصل نہ کرسکا۔یوں بھی عصر کے بعد گھر پہنچنے کی جلدی ہوتی تھی ، اس لئے کھیل کا وقت ہی بہت کم ملتا تھا۔ البتہ مدرسے کے سامنے جو پارک تھا ، اس کے کنارے ایک بڑبوجھے کی دوکان تھی جس میں وہ چنے ،مرمرے ،مکئی کی کھیلیں وغیرہ بھونتا رہتا تھا ، اور اس کی سوندھی سوندھی خوشبو دوپہر کو بھوک میں اور اضافہ کردیتی تھی ۔ مجھے روزانہ گھر سے جیب خرچ کے طورپر والدہ ماجدہ ایک آنہ دیا کرتی تھیں ،جو اُس وقت کے لحاظ سے ایک بچے کا شوق پورا کرنے کیلئے کافی ہوتا تھا۔ اس پونجی کا آدھا حصہ میں اُس بڑبوجھے سے سوندھی سوندھی مکئی کی کھیلیں یا بُھنے ہوئے چنے لینے میں خرچ کرتا ،اور باقی پونجی گھر سے آئے ہوئے کھانے کے بعد کچے امرود ،کچے آم ، یا بادام کا کھٹا پھل خریدنے میں صرف کرتا تھا۔اور اسی دوپہرکے وقت میں کچھ کھیل کود بھی ہوجاتا تھا ۔
مجھے یاد ہے کہ برنس روڈکے گھر کے قریب ایک میمن لڑکا یوسف نامی رہتا تھا، اُس نے جب مجھے بتایا کہ اُسے جیب خرچ کے لئے گھر سے چار آنے ملتے ہیں تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ اس کے پاس عیاشی کا اتنا بڑا سامان موجود ہے!
جی ہاں! آج اس بات پر مجھے بھی ہنسی آتی ہے، اور یقیناً آپ بھی کم ازکم مسکرائے ضرور ہوں گے کہ چار آنے کی کیا حقیقت تھی جس پر کوئی رشک کرتا، لیکن آج جس مال ودولت یا زمین جائیداد کو ہم قابل رشک سمجھتے ہیں ، اور جس پر لڑائیاں لڑتے اور مقدمہ بازیاں کرتے ہیں ، ایک وقت آئے گا جب یہ سب چار آنے سے زیادہ بے حقیقت معلوم ہوں گی، اور اُس وقت ہنسی آئے گی کہ ہم کس چیز سے دل لگائے بیٹھے تھے ۔ اُس وقت پتہ چلے گا کہ قرآن کریم نے پہلے ہی جو بات فرمادی تھی وہ کتنی سچی تھی کہ:
وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ
دنیوی زندگی کچھ بھی نہیں بس ایک دھوکے کا سامان ہے
بہرحال! اس طرح میرا یہ عربی کا پہلا سال مکمل ہوا ، یہاں تک کہ امتحان سالانہ آگیا۔چنانچہ اُس سال میرا نتیجہ یہ رہا:
نورالایضاح:۴۹، میزان ومنشعب:۵۱، عربی کا معلم : ۴۹، نحومیر: ۵۱ ، دروس الادب : ۴۹، شرح مائۃ عامل :۴۸، ہدایۃالنحو: ۴۵، مفید الطالبین: ۵۰ ، پنج گنج :۴۸ ،علم الصیغہ :۵۰، جمال القرآن : ۴۷،تجوید :۵۱ ،حساب: ۴۸ ، خوش نویسی :۴۱۔
اگلے سال (یعنی ۱۳۷۳؁ھ مطابق ۱۹۵۴؁ء میں )بھی ہماری تمام کتابیں حضرت مولانا سحبان محمود صاحب رحمۃ اﷲعلیہ، کے پاس تھیں۔چنانچہ کافیہ، نفحۃ العرب ، تیسیرالمنطق ، مرقات اور شرح تہذیب ہم نے حضرتؓ ہی سے پڑھیں، اور حضرتؓ کے دلنشین طرز تدریس سے ہم اس قدر مانوس ہوگئے تھے کہ کسی اور انداز تدریس سے مناسبت نہیں ہوپاتی تھی ۔ چنانچہ پچھلے سال نورالایضاح حضرتؓ سے پڑھنے کے بعد جب اس سال قدوری پڑھنے کا نمبر آیا، تو مدرسے کی کسی ضرورت سے وہ حضرتؓ کے بجائے ایک اور نئے اُستاذ کے سپرد کردی گئی ، لیکن ہماری جماعت کے طلبہ کا جن میں ہم دو بھائیوں کے علاوہ مولانا محمد احمد صاحب مدظلہم(جو حضرت مولانا حبیب اﷲمختار صاحب شہید، رحمۃ اﷲعلیہ ، سابق مہتمم جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے بڑے بھائی تھے) مولانا عبدالرزاق صاحب مراد آبادی مہاجر مدنی ،رحمۃ اﷲعلیہ، اور متعدد ذہین طلبہ شامل تھے ، وہاں دل نہ لگا ۔استادوں کے خلاف درخواستیں دینے کا تو رواج نہیں تھا ، لیکن انتظامیہ نے خود کچھ محسوس کرکے وہ کتاب حضرت مولاناامیرالزمان صاحب کشمیری ،رحمۃ اﷲعلیہ، کے سپرد فرمادی جن سے ہماری مناسبت قدیم تھی اس لئے وہاں سب مطمئن رہے ۔

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

</section

2019-02-16T20:02:38+05:00جولائی 17th, 2018|