یادیں (چوبیسویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(چوبیسویں قسط )

مکہ مکرمہ کے اس قیام کے دوران ہمیں تبلیغی جماعت کے بزرگ حضرت مولانا سعید خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بھر پورشفقتیں حاصل رہیں ۔ اُس وقت حرمین شریفین میں پاکستانی ریسٹورنٹ نہیں ہوتے تھے ، اس لئے دیسی کھانے میسر نہیں تھے، اور عربی کھانوں کی عادت نہیں تھی ۔ بہت تلاش کے بعد ایک مراکشی مطعم ملا تھا جس میں کوفتے جیسا سالن “داود پاشا”کے نام سے ملتا تھا ، جس دن کہیں دعوت نہ ہوتی ، اُس دن ہم وہاں چلے جاتے تھے۔ناشتہ میں بھی یہاں ” فول “کا رواج تھا جو ایک طرح کی دال ہوتی ہے جس سے مناسبت نہیں تھی ،یہ ناشتہ انڈے سے بے نیاز ہوا کرتا تھا ، اور ہماری عادت بد انڈے کے بغیر کسی کھانے کو ناشتہ تسلیم کرنے کی روادار نہیں تھی۔آخر دریافت ہوا کہ اشراق کے کافی دیر بعد تقریباً نو بجے (جو اُس وقت حجاز میں رائج وقت کے مطابق تین بجے صبح کا وقت کہلاتا تھا )خاص دوکانوں پر ” مطبق ” ملتا ہے ، جو انڈے یا کیلے سے مرکب ایک پراٹھا جیسا ہوتا تھا ،اُس سے ناشتہ کرنے کا معمول بن گیا تھا ، مگر جہاں مطبق ملتا ، وہاں چائے نہیں ہوتی تھی ، لہٰذا کسی قہوہ خانے میں بغیر دودھ کی چائے بعد میں پی لی جاتی تھی ۔لیکن کچھ دن بعد حضرت مولانا سعید خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اصرار فرماکر کھانا اپنے گھر سے بھیجنا شروع کردیا ۔
حضرت مولانا سعید خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کومکہ مکرمہ کی زیارتوں کا خاص ذوق بھی تھا ، اور معلومات بھی خوب تھیں ۔ وہ ہمیں بذات خود بہت سے مقامات پر لے گئے ۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مکان جس میں حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم مقیم تھے ، باب السلام کے سامنے ایک بلندمحلے میں واقع تھا۔اُس وقت اُسے ایک مدرسہ بنا دیا گیا تھا ۔ وہاں کئی بار حاضری ہوئی ۔افسوس ہے کہ اب وہ محفوظ نہیں رہا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکان حرم کے جنوب مغرب میں تقریباً اُس جگہ کے قریب واقع تھا جہاں آجکل شرکۃ مکہ (ابراج ہیلتون)کی عمارت کا مشرقی سرا ہے (خدا جانے یہ عمارت بھی کب تک قائم رہتی ہے )یہاں بھی قرآن کریم کی تعلیم کاایک مدرسہ قائم تھا ۔ وہاں پہنچ کر مجھے یاد آگیا کہ کسی وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کا ارادہ کرکے مکہ مکرمہ سے نکلے تھے ، راستے میں ایک قبائلی سردارابن الدغنہ انہیں اپنی طرف سے امان دیکرواپس مکہ مکرمہ لے آیا تھا ۔کچھ عرصے کے بعدحضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے گھر کے احاطے میں ایک مسجد بنالی تھی جس میں وہ نماز ادا کرتے ، تو قرآن کریم کی تلاوت میں محو ہوکر روتے رہتے ، اور مشرکین کی عورتوں بچوں کا جمگھٹالگ جاتا۔ مشرکین مکہ کو یہ ڈر تھا کہ ہماری عورتیں اور بچے قرآن کریم کی معجزانہ تأثیر سے کہیں اپنا دین نہ چھوڑ بیٹھیں، اس لئے انہوں نے ابن الدغنہ سے اس کی شکایت کی کہ آپ نے انہیں اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ علانیہ قرآن کی تلاوت نہ کیا کریں۔اب انہوں نے علانیہ یہ کام شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے بچوں عورتوں کے بارے میں تشویش ہے۔ ابن الدغنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سمجھایا ، لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی امان کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہی جگہ جہاں مشرکین کو ان کی تلاوت کی وجہ سے اپنے بچوں کے مذہب سے برگشتہ ہونے کااندیشہ ہوا تھا ، آج وہاں بچے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کررہے تھے !
حضرت مولانا سعید خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہی کی رہنمائی میں جنۃ المعلیٰ میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار پر حاضری نصیب ہوئی ۔ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمۃ اللہ علیہما کے مزارات کا بھی انہوں نے ہی پتہ دیا ، اور وہاں بھی حاضری ہوئی ۔ شعب ابی طالب جہاں حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم بنوہاشم کے ساتھ مشرکین مکہ کے بائیکاٹ کے زمانے میں مقیم رہے ، وہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکان بھی انہوں نے دکھایا ۔
مکہ مکرمہ کے زیریں علاقے کا ایک محلہ”حارۃ الشہداء “کہلاتا ہے ، اور مشہور یہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس راستے سے داخل ہوئے تھے ، اور یہاں کچھ لڑائی بھی ہوئی تھی۔یہاں کچھ قبریں ہیں جن کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ یہ ان صحابۂ کرام ؓ کی قبریں ہیں جو اس موقع پر شہید ہوئے ، اور اسی وجہ سے اسے “شہداء “کا محلہ کہا جاتا ہے ۔(واللہ سبحانہ اعلم)یہاں ایک مسجد ہے جو تبلیغی مرکز بھی ہے ، اور دوسرے تبلیغی مراکز کی طرح یہاں بھی شب جمعہ کااہتمام ہوتا ہے۔حضرت مولانا سعید خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جمعرات ۱۲؍صفر۱۳۸۳؁ھ(مطابق ۲۰؍جولائی ۱۹۶۳ء)کی شام ہم وہاں گئے ، اور رات وہاں گذاری ، اور تبلیغی اجتماع میں شرکت کی ۔ اگلی صبح مولانا ؒ نے ہمیں بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار یہیں قریب واقع ہے۔چنانچہ وہ ہمیں مزار پر لے گئے ، اور اُس جلیل القدر صحابی کو سلام عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جس کا بچپن اور جوانی کے ابتدائی دن سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ورفاقت میں ، اور کہولت اور بڑھاپا آپ کے ذکر اور آپ کے اقوال وافعال دنیا تک پہنچانے میں صرف ہوئے۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ارضاہ!نمازجمعہ واپس حرم شریف آکر اداکی ۔
اُس وقت چونکہ بیشتر حجاج اپنے اپنے وطن واپس جا چکے تھے ، اس لئے حرم شریف میں ہجوم بالکل نہیں تھا، اور طواف کے دوران بار بار حجر اسود کا بوسہ بھی اطمینان سے مل جایا کرتا تھا ، ملتزم پر اور حجر اسماعیل علیہ السلام میں حاضری بھی بہت آسان تھی ، اس لئے حرم شریف میں سرور وسکون کا عالم ناقابل بیان تھا ۔
وہیں مکہ مکرمہ کے ایک بزرگ مالکی عالم حضرت شیخ حسن المشاط رحمۃ اللہ علیہ کا مغرب کے بعد درس حدیث ہوا کرتا تھا ۔ وہ اُس زمانے میں سنن نسائی کا درس دے رہے تھے ۔ ان کی خدمت میں بھی حاضری ہوئی، اور ۱۸؍صفر ۱۳۸۳؁ھ مطابق ۱۰؍جولائی ۱۹۶۳؁ء کی شام انہوں نے مجھے حدیث مسلسل بالاولیۃ پڑھ کر اُس کی اور اپنی تمام مرویات کی اجازت عطا فرمائی ، اور اپنا ثبت بھی اپنے دستخط سے عطا فرمایا جو میرے پاس محفوظ ہے۔ اُس کے بعد ان کے سنن نسائی کے درس میں بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ وہ اپنے چہرے مہرے، وضع قطع ، اور انداز وادا میں بڑے متبع سنت بزرگ تھے ۔ ان کا سفید عمامہ ہمارے برصغیر کے علماء کے عماموں جیسا ہوتا تھا ، اور ہرآنے والے سے بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ، اور سوالات کا جواب بھی دیتے ، نصیحتیں بھی فرماتے ، اور ان کے حلقے میں شمولیت کا ایسا کیف محسوس ہوتا تھا جیسے ہم اسلاف کے کسی بزرگ کی محفل میں بیٹھے ہوں ۔اس مجلس میں شرکت کا جو لطف تھا ، اُس کی وجہ سے بعض اوقات یہ کشمکش ہو جاتی تھی کہ مغرب کے بعد طواف کروں ، یا اس مجلس میں حاضرہوں ۔
جمعہ۲۰؍صفر ۱۳۸۳ ؁ھ مطابق ۱۲؍جولائی کو حرم شریف میں جمعہ اور عصر پڑھ کر ہم کچھ ساتھیوں کے ساتھ طائف روانہ ہوئے ۔ مغرب کی نماز منیٰ میں اداکی ، اور عرفات سے ہوتے ہوئے جبل کرع کے دامن میں پہنچ گئے ۔ طائف کا یہ راستہ جو جبل کرع سے ہوکر گذرتا ہے ، بظاہر وہی راستہ تھا جس سے حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے تھے ، یہاں پختہ سڑک حال ہی میں بننی شروع ہوئی تھی ، اس لئے ہفتے کے بیشتر دنوں میں یہ راستہ بند رہتا تھا ،اور” سیل “کے طویل راستے سے جانا پڑتا تھا ، لیکن اُس دن یہ راستہ کھلا ہوا تھا ۔ اور ہم تقریباً تین گھنٹے میں طائف پہنچ گئے ۔ مکہ مکرمہ میں گرمی اپنے شباب پر تھی ، لیکن یہاں موسم ٹھنڈا تھا ۔یہاں ایک مسجد میں قیام کیا ، اور اگلے روز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مسجد میں نماز پڑھنے اور ان کے مزار پر سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے طائف کی سکونت اس لئے اختیار کی تھی کہ مکہ مکرمہ میں رہائش رکھ کر اُس کی حرمت وعظمت کا حق ادا کرنا مشکل ہے ۔وہ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں کل دس سال کے تھے ،لیکن آپ کی دعا کی بدولت انہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی خصوصی فہم عطا فرمائی تھی جس کی وجہ سے وہ امام المفسرین کہلاتے ہیں۔ہم طالب علم ان کے احسانات سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے ۔
اُسی دن ہم کچھ جاننے والوں کی رہنمائی میں “ہَدیٰ “کے مقام پر گئے جو طائف سے کچھ نیچے واقع ہے۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اہل مکہ کے ظلم وستم سے دل برداشتہ ہوکر طائف اس خیال سے تشریف لے گئے تھے کہ شاید وہاں کے لوگ ہدایت کو قبول کرلیں۔ لیکن وہاں کے سرداروں نے آپ کے ساتھ بہت بد سلوکی کی ، اور اوباش قسم کے لڑکوں نے آپ پر پتھر برسائے ، یہاں تک کہ آپ زخمی ہوگئے ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آپ کے واحد رفیق سفر تھے ، پتھروں کے سامنے خود کھڑے ہوجاتے تھے ، تاکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر نہ پہنچیں ، اس کے باوجود آپ کے پاؤں اس قدر زخمی ہوگئے کہ ان سے خون بہنے لگا ۔ اس موقع پر آپ طائف سے واپسی میں عتبہ اور شیبہ کے باغ سے گذرے ، تو وہاں ایک درخت کے سائے میں دم لیا تھا ۔” ہَدیٰ” کے مقام پر ایک باغ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہی وہ باغ ہے جس میں آپ نے کچھ دیر آرام فرمایا تھا ۔اور ایک درخت کے سائے میں ایک پتھر کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ آپ اسی پتھر پرتشریف فرما ہوئے تھے،اس بات کی تحقیق اور تصدیق کا تو کوئی راستہ نہیں تھا ، لیکن مقامی لوگوں میں شہرت کی وجہ سے اس کی تردید کی بھی کوئی وجہ نہیں تھی ۔اس لئے ہم نے اُس باغ اور اُس پتھر کی بھی زیارت کی ،چشم تصور کائنات کے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کے درد میں لہو لہان دیکھ کر پُرنم تھی کہ جو پوری کائنات کے لئے رحمت بن کر آئے تھے ، ناقدری کے پیکروں نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اور اُس رحمت مجسم نے اُس کا کیا جواب دیا؟ اس موقع پر آپ نے یہ پُر درد دعا مانگی تھی:
اللّہمّ إلیک أشکو ضُعفَ قوّتی وقلّۃَ حیلتی، وہوانی علی النّاس.یا أرحم الراحمین!أنت ربُّ المستضعفین،إلی من تَکِلُنی؟إلی عدوّ بعید یتجہّمنی،أم إلی صدیق قریبٍ ملّکتَہ أمری.إن لم تکن غضبان علیّ فلا أبالی، غیر أنّ عافیتَک أوسعُ لی.أعوذ بنور وجہِک الّذی أشرقت لہ الظّلمات،وصلح علیہ أمر الدّنیا والآخرۃ من أن تُنزل بی غضبَک أو یحِلّ بی سخطُک ، ولک العُتبی حتّی ترضی ولا حول ولا قوّۃ إلاّ بک .
یا اللہ!میں آپ سے اپنی کمزوری ،تدبیر کی کمی اور لوگوں کی طرف سے بے توقیری کی شکایت کرتا ہوں ، اے ارحم الراحمین!آپ کمزوروں کے پروردگار ہیں ، آپ مجھے کس کے سپرد کریں گے؟ کسی بغض رکھنے والے دشمن کے جو میرے ساتھ بری طرح پیش آئے؟ یا کسی قریبی دوست کے جسے آپ نے میرا معاملہ سونپ دیا ہو؟ اگر آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں تو مجھے پروا نہیں ، البتہ آپ کی طرف سے ملنے والی عافیت میرے لئے زیادہ سہولت کا باعث ہے۔آپ کی بزرگ ذات جس سے تمام ظلمتیں منور ہوئیں ، اور جس کے نور سے دنیا وآخرت کے معاملات درست ہوئے، اُس کا واسطہ دیکرمیں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ آپ کا غضب مجھ پر نازل ہو، یا میں آپ کی ناراضی کا مورد بنوں ، اور آپ کا حق ہے کہ آپ کو منایا جائے ، یہاں تک کہ آپ راضی ہوجائیں ، اور کسی میں کسی کام کی کوئی طاقت نہیں ، سوائے اُس کے جو آپ کی طرف سے عطا ہو”۔
غالباً یہی وہ جگہ تھی جہاں اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں پر مقر رفرشتہ آپ کے پاس اس پیشکش کے ساتھ بھیجا کہ اگر آپ چاہیں دو پہاڑوں کو ملاکر اس بستی کے لوگوں کو تباہ کردیا جائے ، لیکن لاکھوں درود وسلام اُس رحمت مجسم (صلی اللہ علیہ وسلم)پر جنہوں نے فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا فرمادیں جو حق کو قبول کرکے اس کے داعی بنیں ۔ چنانچہ پھر وہ وقت بھی آیا جب طائف کے لوگ خود آکر نہ صرف مسلمان ہوئے ، بلکہ انہی کے قبیلے ثقیف کے ایک فرد محمد بن قاسم بھی تھے جنہوں نے آخر کار سندھ کا علاقہ فتح کرکے برصغیر میں اسلام کی روشنی پھیلائی ، اور انہی کے طفیل آج ہم لوگ ایمان کی نعمت سے بہرہ ور ہورہے ہیں ۔
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان احسانات کا تصور دل میں لئے ہم اس مقام سے واپس ہوئے ۔ اگلے دن مکہ مکرمہ واپس جانے کے لئے دوسرا راستہ اختیار کیا جو “سیل”کا راستہ کہلاتا ہے ۔ اس راستے میں پہاڑ نہیں آتے ، بلکہ ہموار زمین اس طرح بتدر یج نیچے ہوتی چلی جاتی ہے کہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم کسی بلندی سے نیچے اتر رہے ہیں ۔ اسی راستے میں وہ جگہ بھی آتی ہے جہاں زما نۂ جاہلیت میں “عکاظ” کا میلہ لگا کرتا تھا ، شعر وشاعری اور رقص وسرود کی محفلیں جمتی تھیں ، اور یہاں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کے لئے تشریف لاتے تھے ۔پھر”جعرانہ “کا وہ مقام آیا جو اس طرف سے آنے والوں کی میقات “قرن المنازل” کے مقابل ہے ، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین اور طائف سے واپسی پر یہیں سے احرام باندھ کر عمرہ ادا فرمایا تھا ، ہمیں بھی وہاں سے احرام باندھنے کی سعادت حاصل ہوئی ، اور مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا۔
طائف سے واپسی کے بعد پانچ دن اور مکہ مکرمہ میں قیام کی دولت نصیب ہوئی ۔ اور بالآخرجمعہ پڑھ کر ہم مغموم دلوں کے ساتھ مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے ، دیر تک پیچھے مڑ مڑکر حرم شریف کے میناروں کو دیکھتے رہے کہ نہ جانے کب ان کی زیارت دوبار ہ نصیب ہو۔ جدہ پہنچ کر رات وہاں گذاری ، اور ہفتہ ۲۰؍جولائی۱۹۶۳ ؁ء مطابق۲۸؍صفر ۱۳۸۳ ؁ھ کی دوپہر واپسی کے سفر کے لئے سفینۂ حجاج پر سوار ہوئے،عصر کے بعد جہاز نے لنگر اٹھایا ، اور ہم عرشے پرکھڑے ہوئے دیرتک جزیرۂ عرب کے دور ہوتے ہوئے ساحل کا نظارہ کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ افق پر کھنچی ہوئی ایک خاکی لکیر نظر آنے لگا ، رفتہ رفتہ وہ لکیر بھی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی ، اور سور ج بھی سمندر میں جا چھپا ۔اور پھر سات دن تک سمندر تھا ، اور ہم تھے ۔جب تک جہاز بحر احمر میں رہا ، سمندر اتنا پُر سکون تھا کہ حد نظر تک وہ ایک ہموار زمین کی طرح نظر آتا تھا ۔ حبس بھی بے پناہ تھا ، اور جہاز کے سب سے بلند عرشے پربھی ہوا کا احساس نہیں ہورہا تھا ۔ پھر بھی میں زیادہ وقت عرشے پر ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر اس مقدس اور حسین ترین سفر کا سفرنامہ لکھتا رہتا تھا ، یہاں تک کہ جہاز عدن پہنچ کر رُکا ۔عصر کے بعد ہم پچھلی مرتبہ کی طرح کشتیوں کے ذریعے بندرگاہ تک پہنچے ، اور کچھ دیر ساحل پر گذارنے اور شیخ احمد عراقی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر سلام عرض کرنے کے بعد ہم ٹیکسی کے ذریعے کریٹر کے بازار کی طرف روانہ ہوگئے۔
کریٹر کا بازار فری پورٹ تھا ، اس لئے وہاں ٹیکس کے بغیر چیزیں فروخت ہوتی تھیں ۔ بازار چھوٹی چھوٹی پیچ درپیج گلیوں میں پھیلا ہوا تھا ۔ دو دن کے بعد خشکی میسر آئی تھی ، اس لئے ہم وہاں سیر کرتے رہے ، اور گھر والوں کے لئے کچھ خریداری بھی کی ۔ ہم دونوں بھائیوں نے اپنا پاسپورٹ ، ٹکٹ اور ساری کرنسی ایک ایسے چھوٹے سے تھیلے میں رکھی ہوئی تھی جو گلے میں لٹکایا جاسکتا تھا ، اور میں نے لٹکا رکھا تھا ، اور جب بازار سے کوئی چیز خریدنی ہوتی، تو اُسے گلے سے نکال کر ہاتھ میں لے لیتا تھا۔عشاء کے بعد وہاں سے واپس ٹیکسی میں روانہ ہوئے ، اور جب اسٹیمر پوائنٹ پر پہنچے ، اور ٹیکسی والے کو پیسے دینے کا وقت آیا، تو اچانک دیکھا کہ وہ تھیلا موجود نہیں ہے ، ٹیکسی میں جس قدر ممکن تھا ، تلاش کیا، مگر جب نہ ملا تو پاؤں تلے کی زمین نکل گئی ۔ اب ہمارے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ ٹیکسی کا کرایہ ادا کرسکیں ،نہ پاسپورٹ تھا ، نہ ٹکٹ جس میں ایک مسافر کی جان اٹکی ہوئی ہوتی ہے ۔پاسپورٹ اور ٹکٹ کی غیر موجودگی میں جہاز پر جانے اور باقی سفر پورا کرنے کا بھی کوئی راستہ نہیں تھا،نیز یہ بھی معلوم تھا کہ مسافروں کو واپس جہاز پر سوار کرنے کے لئے سیڑھی رات بارہ بجے ہٹالی جائے گی ، اور ہم اسی غریب الوطنی میں رہ جائیںگے جہاں ٹھہرنے یا وہاں سے واپس جانے کی کوئی سبیل بھی نہیں ہے۔ادھر یہ بھی بالکل یاد نہیں تھا کہ وہ تھیلا ہم نے کہاں چھوڑدیا تھا ، اور ٹیکسی والا پیسے لیکر واپس جانے کے لئے اصرار کررہا تھا۔اُس کے ساتھ واپس جانے کے لئے بھی کرائے کی ضرورت تھی جو موجود نہیں تھا ۔بے بسی کا وہ عالم ابھی تک یاد آتا ہے ، تو جھر جھری آجاتی ہے ۔
ایسی بے بسی کے عالم میں انسان کا واحد سہارا اللہ تعالیٰ سے دعا کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ دل سے دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ!اس آزمائش سے کسی طرح نکال دیجئے ۔ اتنے میں ایک اور ٹیکسی آکر رکی جس سے جہاز کے عملے کے کچھ ذمہ دارحضرات اترے جن سے پانچ دن میں بڑی دوستی ہوگئی تھی ۔ وہ واپس جہاز میں جانے کے لئے آئے تھے ۔ ہم نے اُن سے سارا معاملہ ذکر کیا ۔ پاسپورٹ اور ٹکٹ کا تو ان کے پاس بھی کوئی حل نہیں تھا ، البتہ انہوں نے ہمیں اتنے پیسے قرض دیدئیے جس سے ہم ٹیکسی کا موجودہ اور آئندہ کرایہ ادا کرسکیں ،اور اس طرح ہمیں کم ازکم واپس کریٹر جانے کا موقع مل گیا ۔ دوسری درخواست ہم نے اُن سے یہ کی کہ جہاز کے کپتان سے ہماری اس مشکل کا ذکر کرکے یہ گذارش کردیں کہ جہاز کوچونکہ صبح نودس بجے روانہ ہونا ہے ، اس لئے سیڑھی آخر وقت تک نہ ہٹائی جائے۔انہوں نے اس کا وعدہ کرلیا ، اورہم دوبارہ وہاں جانے کے لئے روانہ ہوگئے۔ راستے بھر سوچتے رہنے سے بھی یاد نہیں آرہا تھا کہ تھیلا کہاں رہا ہوگا؟ دن بھر اتنی مختلف جگہوں پر گئے تھے کہ ان میں سے کسی کا انتخاب ممکن نہیں تھا ۔ بس انا للہ وانا إلیہ راحعون اورقرآن کریم کی اس آیت کا ورد کرتے رہے جس کے بارے میں بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ گمشدہ چیز کی تلاش کے لئے اس کی تلاوت بہت مفید ہوتی ہے ۔آیت یہ ہے :
یَا بُنَیَّ إِنَّہَا إِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِی صَخْرَۃٍ أَوْ فِی السَّمَاوَاتِ أَوْ فِی الْأَرْضِ یَأْتِ بِہَا اللَّہُ إِنَّ اللَّہَ لَطِیفٌ خَبِیرٌ (لقمان:۱۶)
اس آیت کا ورد کرتے ہوئے ہم کریٹر پہنچے، تو وہاں دوکانیں بند ہورہی تھیں ۔پیچ درپیچ گلیوں میں یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ ہم کہاں کہاں گئے تھے ۔جس بند ہوتی دوکان کے پاس جاتے ، وہ صاف انکار کردیتا ، یہاں تک کہ ایک ایک کرکے ساری دوکانیں بند ہوگئیں ، اور سناٹا چھانے لگا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ دن بھر کی تھکن سے بدن چور تھا ، اس لئے سوچا کہ آخری صورت یہی ہوسکتی ہے کہ یہاں دوکانیں جلدی کھلتی ہیں ، اس لئے رات یہاں گذارکر صبح کو تلاش پھر شروع کریں ۔ وہاں ایک چھوٹا سا ہوٹل نظر آیا ، سوچا کہ رات یہاں گذارلی جائے ، مگر اُس کا کرایہ معلوم کیا تو وہ ہمارے پاس موجود پیسوں سے زیادہ تھا ۔ قریب میں ایک مسجد تھی ، وہاں گئے توپتہ چلا کہ اُس پر عشاء کی نماز کے بعد تالا لگ جاتا ہے ، لہٰذا وہاں سونا بھی ممکن نہ تھا ۔ظاہری اسباب کے تمام راستے بند ہوگئے ، اور سڑک پر رات گذارنے کے سوا چارہ نہیں رہا ۔ اسی بے بسی کے عالم میں ہم آیت کاورد کرتے ہوئے جارہے تھے کہ ایک گلی کے سامنے سے گذرتے ہوئے ایک چھوٹی سی دوکان پر ٹمٹماتا ہوا بلب نظر آیا ، اور اندازہ ہوا کہ شاید یہ دوکان کھلی ہے ، اور کچھ کچھ یہ بھی یاد آیا کہ شاید ہم اس دوکان میں گئے تھے۔ چنانچہ اُس کے سامنے پہنچے تو دوکان کا مالک آدھا دروازہ بندکرکے کچھ حساب کتاب کررہا تھا ۔ ایسے میں دو اجنبیوں کو دیکھ کر اُس کا موڈ خراب ہوگیا ،اور اُس نے دوکان بند ہونے کا سخت لہجے میں اعلان کیا ، مگر ہم نے اُس سے بڑی عاجزی کے لہجے میں اپنی داستان سُنائی ، اُس نے سُن کر کہا کہ یہاں کوئی ایسا شنطہ(تھیلا)نہیں ہے۔اس آخری امید کے خاتمے سے ہمارے چہروں پرکچھ ایسی بے چارگی چھا گئی کہ اُس کو کچھ رحم آگیا ۔ اُس نے کہا: “وہ شنطہ کیسا تھا ؟ اور اُس میں کیا تھا ؟”ہم نے جھٹ پوری تفصیل بیان کردی ۔ وہ بولا:” اچھا تھوڑی دیر ٹھہرو”پھر وہ دوکان کی اوپر کی منزل پر چلاگیا۔ ہم پر ایک ایک لمحہ بھاری ہورہا تھا ،ہم نے دعائیں اور زیادہ عاجزی کے ساتھ مانگنی شروع کردیں ۔تھوڑی دیر میں وہ واپس آیا تو اُس کے ہاتھ میں وہ تھیلا صاف نظر آرہاتھا ۔ اُسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے نئی زندگی مل گئی ہو۔اُس نے وہ ہمارے حوالے کرکے کہا کہ: “آئندہ کبھی ایسا نہ کرنا “۔ بس پھر کیا تھا ؟ ہم سراپا شکر بن کر واپس ہوئے ۔ ٹیکسی لی ، اور اسٹیمر پوائنٹ پہنچے ۔ اور دیکھا کہ جہاز تک جانے والی آخری کشتی تیار کھڑی ہے ۔ بارہ بجے کے قریب ہم جہاز پر پہنچے، تو ہمارے وہ ساتھی جن سے ہم نے اپنی داستان بیان کی تھی ، ہمارے منتظر تھے ، اور دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ ہم نے ان کا قرض شکریہ کے ساتھ واپس کیا ، اور جب اپنے کمرے میں بستر پر پہنچے ، تو اندازہ ہوا کہ یہ عارضی قیام گاہ بھی جو چند دنوں کے لئے ہمیں ملی ہوئی تھی ، کتنی بڑی نعمت ہے۔ میرے شیخ حضرت عارفی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جب گھر میں آرام دہ بستر پر لیٹو، تو تھوڑا سا یہ تصور کرلیا کرو کہ اگر تم کسی سفر میں ہوتے ، اوررات کے وقت راستہ بھٹک گئے ہوتے ، یا تمہاری گاڑی جنگل میں خراب ہوگئی ہوتی ، تو اس وقت تمہیں اپنا یہ بستر کیسا یاد آتا ، اور کتنی بڑی نعمت معلوم ہوتی ۔ اب جبکہ تمہیں یہ بستر کسی مشقت کے بغیر حاصل ہوگیا ہے ، تو اس پر خوب شکر ادا کرکے سویا کرو۔ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے غفلت کی حالت میں فائدہ اٹھا تے رہتے ہیں ، اور اُن پر شکر ادا کرنے کی توفیق نہیں ہوتی ۔ اس غفلت کا علاج یہ ہے کہ یہ تصور کیا جائے کہ اگر یہ نعمت نہ ہوتی، تو ہمارا کیا حال ہوتا ؟ اس قسم کے واقعات اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2019-12-04T21:24:00+05:00دسمبر 4th, 2019|