یادیں (پچیسویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(پچیسویں قسط )

حضرت والد صاحبؒ کے ساتھ فریضۂ حج کی ادائیگی
عمرے کی ادائیگی کا تو اللہ تعالیٰ نے ایساانتظام فرمایا تھا کہ اُس میں کچھ زیادہ خرچ کرنا نہیں پڑا، لیکن حج کا باقاعدہ سفر کرنے کی اُس وقت استطاعت نہیں تھی ،لیکن اللہ تعالیٰ نے اگلے ہی سال حج کا بھی عجیب طریقے پر انتظام فرما دیا ۔ حضرت والد صاحب قدس سرہ کو حرمین کی حاضری کا خاص ذوق تھا، لیکن ۱۳۸۳؁ھ (مطابق ۱۹۶۴ ؁ ئ)کے حج کے موقع پر انہیں تأمل تھا کہ پاکستان میں اُنہیں کچھ ضروری دینی کام انجام دینے تھے۔ہمارے بہنوئی حضرت مولانا نوراحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے (جو اُس وقت ناظم دارالعلوم بھی تھے ) حضرت والد صاحبؒ کو توجہ دلائی کہ آپ ہمیشہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عالم اسلام اور بالخصوص حجاز کے علاقے میں بہت سے قابل اصلاح امور ہیں جن کی طرف علماء اور ذمہ داروں کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ چونکہ حج کے موقع پر علماء وصلحاء کا اجتماع ہوتا ہے، اس لئے حج کی ادائیگی کے ساتھ اس کام کا بھی موقع مل جائے گا۔ چونکہ حضرت والد صاحبؒ کو بھی اس ضرورت کااحساس تھا کہ حتی الوسع اس کی کوشش کی جائے ، تو انہوں نے حضرت مولانا نوراحمد صاحبؒ کے ساتھ حج کا ارادہ فرمالیا۔اس سفر کی مختصریادداشتیں بھی انہوں نے لکھی تھیں۔اُن میں یہ بھی لکھا ہے :
“جب حج کے ساتھ اس مقصد کا تصور آیا، تو اپنے ساتھ دارالعلوم کراچی کے دواستاذ میرے لڑکے مولوی محمد رفیع اور مولوی محمد تقی سلمہم کا رفیق سفر ہونا اس لئے ضروری معلوم ہوا کہ ان کو عربی زبان میں تحریروتقریر پر خاصی قدرت ہے ، اور اپنی ضعیفی کے پیش نظر سفر کی ضروریات میں اُن سے کافی امداد کی توقع ہے ۔”
اس ضرورت کے احساس کے باوجود اُس وقت اتنی استطاعت نہیں تھی کہ اپنے خرچ پرحج کرسکیں۔ لیکن چند دن میں حضرت مولانا نوراحمد صاحب ؒ نے بتایا کہ اُن کے ایک دوست حضرت والد صاحب ؒ کے مذکورہ بالا کام میں ان کی مدس د کے پیش نظر دو افراد کو اپنے خرچ پر حج کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں ،اس لئے میرے اور بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہم کے لئے حج پر جانے کا اچھا موقع ہے ۔ ایک تو حج کا شوق تھا ہی، اوپرسے یہ نعمت کہ حضرت والد صاحب قدس سرہ کی معیت میں یہ مبارک سفر ہوگا ، ہم دونوں بھائیوں نے بڑے ذوق وشوق سے کارروائی شروع کردی ، لیکن چونکہ قرعہ اندازی میں نام نہیں دیا گیا تھا ، اس لئے چند درچند مشکلات حائل تھیں ،ان مشکلات کے علاوہ قرعہ اندازی کے بغیر حج پر جانے کاایک ہی راستہ تھا کہ بونس واؤچر خرید کر اُس کے ذریعے ادائیگی کی جائے ۔اس طریقے کا خرچ بھی عام حج کے خرچ سے زیادہ تھا ، (یعنی تین ہزارروپے کا ٹکٹ تھا، جو اُس وقت کے لحاظ سے ایک بڑی قیمت تھی) سرکاری مراحل طے کرتے ہوئے وقت گذرتا گیا ، یہاں تک کہ حضرت والد صاحبؒ اور مولانا نوراحمد صاحب ؒ کی روانگی کا وقت آگیا ، اوروہ اس امید پر روانہ ہوگئے کہ دوتین دن میں ہماری کارروائی بھی مکمل ہوجائے گی تو ہم بھی ان سے جا ملیںگے۔حضرت مولانا نوراحمد صاحب ؒ ہمیں ان صاحب کا پتہ بھی دے گئے تھے جو حج کرانا چاہتے تھے ، تاکہ جب ادائیگی کا وقت آئے تو اُن سے رقم وصول کرکے ادائیگی کر دی جائے ۔ چنانچہ کارروائی کی تکمیل کے بعد جب اُن صاحب سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے دفعۃً(شاید اپنی کسی مجبوری کے تحت) معذرت کرلی ۔ یہ معذرت سن کر ایک مرتبہ تو دل پربجلی سی گر گئی ، خود اپنے پاس اتنی گنجائش نہیں تھی کہ خود ادائیگی کرکے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جاسکے ، دوسری طرف ہفتوں کی کوشش کے بعد یہ موقع میسر آیا تھا جسے کھونا دل پر بہت شاق تھا ۔بعض حضرات نے مشورہ دیا کہ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے احباب میں سے کسی سے رجوع کرکے قرض کاانتظام کیا جائے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ساری عمر کسی سے قرض مانگنے سے محفوظ رکھا تھا ۔ (دوسروں کے خرچ پر حج کا جو ارادہ کیا گیا تھا ، اُس میں بھی اپنی کسی تحریک کو ادنیٰ دخل نہیں تھا ، خواہش کا اظہار انہی کی طرف سے ہوا تھا ) آخر کار دل نے یہی فیصلہ کیا کہ کسی سے قرض مانگ کر حج کرنے کا کوئی جواز نہیں ، چنانچہ ارادہ ملتوی کردیا۔ ابھی ارادہ ملتوی کئے ہوے چند گھنٹے ہی گذرے ہوںگے کہ دارالعلوم کے ایک طالب علم مولوی محمد علی صاحب مرحوم ملنے کے لئے آئے ، یہ تنِ تنہا آدمی تھے، اور سرکاری ملازمت چھوڑکر دینی علم حاصل کرنے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑی لجاجت سے کہا کہ میں ایک درخواست لے کر آیا ہوں ، آپ اُسے رد نہ کریں ۔درخواست یہ ہے کہ میرے پاس اپنی ملازمت کے زمانے کی کچھ رقم بیکار پڑی ہوئی ہے ، میں تنہا آدمی ہوں ، اور مجھے کئی سال تک اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، میری دلی خواہش ہے کہ یہ رقم یا اس کا کچھ حصہ آپ کے حج میں استعمال ہو جائے ۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر میں وہ ہدیہ کے طورپر پیش کروں گا ، تو آپ قبول نہیں کریں گے ، اس لئے اس گذارش کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے اس کی واپسی کی کوئی جلدی نہیں ہے ۔حضرت والد صاحبؒ کے ساتھ آپ کے حج میں یہ رقم استعمال ہوگی ، تو میں اسے اپنے لئے سعادت سمجھو ں گا ۔
انہوں نے یہ پیشکش کچھ ایسے انداز سے کی کہ اُس کو رد کرنا اللہ تعالی ٰ کی ناشکری معلوم ہوا ، اور ہم نے اس نیت سے یہ پیشکش قبول کرلی کہ ان شاء اللہ تعالیٰ اپنی دوسری ضروریات میں کمی کرکے جلد ازجلد اسے ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ حج کے بعد سال پورا ہونے سے پہلے قرض کی واپسی کا انتظام ہوگیا ، اور ہم نے وہ ان کو واپس کردی ، لیکن ان کے جذبے کی دل میں جو قدر ہے ، اس کی وجہ سے ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے ۔ اب وہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاچکے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو اس نیکی کابہترین صلہ عطا فرمائیں ،اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں ۔آمین
حج کی جس پرواز سے جانے کاارادہ تھا ، وہ چلی گئی تھی ۔صرف آخری پروازباقی تھی ۔بمشکل اُس میں جگہ ملی ،اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اُس میں سوار ہوکر۷؍ ذوالحجہ کومکہ مکرمہ پہنچے ، جبکہ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارا انتظار کرنے کے بعد تقریباً ناامید ہوچکے تھے ۔ چونکہ وہ معلم شاکر سکندر صاحب مرحوم کے ذریعے حج کیا کرتے تھے ، انہوں نے ہمارے عُمرے کے دوران بھی ہماری بہت مدد کی تھی ، اس لئے ہم عصر کے بعد سیدھے ان کے دفتر میں پہنچے جہاں حاجیوں کے سامان کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا ، اور اسی ڈھیر کے پیچھے ایک کونے میں حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ لوٹا ہاتھ میں لئے وضو کی تیاری کررہے تھے ۔اچانک ہمیں دیکھ کر ان کی خوشی کا عالم قابلِ دید تھا ۔اس موقع پر اُن کا کِھلا ہوا چہرۂ مبارک آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے،اوراس ملاقات کی حلاوت آج تک دل میں محسوس ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ حضرت والد صاحبؒ معلم کے اسی دفتر میں مقیم ہیں جہاں حاجیوں کا سامان بکھر اپڑا ہے ، اور ہر وقت لوگوں کی آمدورفت لگی ہوئی ہے ۔
ان کا مزاج ایسا ہی درویشانہ تھا کہ انہیں حرمین شریفین کی حاضری کے سوا قیام وطعام کے کسی اچھے انتظام کی طرف کوئی خاص توجہ ہی نہیں تھی ۔ان کے چاہنے والے بہت تھے ، اور چاہتے تو رہائش کا بہتر سے بہتر انتظام کرسکتے تھے،لیکن حج قریب تھا، اورقیام کے لئے کسی پُرسکون جگہ کی تلاش میں جتنا وقت گذرتا، وہ وقت حرم میں گذارنا انہیں زیادہ پسند تھا ۔ اسی لئے بظاہر انہوں نے کسی کو اپنی آمد کی اطلاع بھی نہیں دی تھی ۔لیکن ہمیں شدت کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ اس عمر میں اس طرح کا قیام ان کی صحت کے لئے مضر ہوگا ۔لیکن اگلی صبح ہی منیٰ روانہ ہونا تھا ، اور کوئی مناسب جگہ تلاش کرنے کا وقت نہیں تھا، اس لئے وہ رات وہیں گذارکر ہم اگلی صبح منیٰ روانہ ہوگئے۔اور الحمد للہ، حج کے مناسک حضرت والد صاحبؒ کی رہنمائی میں اداکرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
یہ اپریل کا مہینہ تھا ، اور مکہ مکرمہ کا موسم بھی بہت خوشگوار تھا ، حضرت والد ماجدقدس سرہ کی طبیعت پر بھی ایسا نشاط تھا جو خال خال ہی کبھی دیکھا ہوگا ۔چنانچہ ان کی معیت میں اس سفر حج کا ایک ایک لمحہ یادگاربرکتوں کا ذخیرہ ثابت ہوا۔قدم قدم پروہ علم ومعرفت کے شہہ پاروں سے نہال فرماتے رہے ۔ میں اُس زمانے میں دارالعلوم میں دیوان حماسہ پڑھاتا تھا ، اس لئے اس کے اشعار خوب یاد تھے ، لیکن اس موقع پر اندازہ ہوا کہ حضرت والد صاحب قدس سرہ کو زمانۂ جاہلیت اور زمانۂ اسلام کے اشعار اُس سے کہیں زیادہ یاد ہیں ، وہ حسب موقع اُن اشعار سے بھی مستفید فرماتے تھے ۔اسی سال ہمارے دو استاذ حضرت مولانا اکبر علی صاحبؒ اور حضرت مولانا سحبان محمود صاحبؒ بھی حج کررہے تھے۔ حج کے دنوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کی معیت بھی نصیب فرمائی ۔حضرت مولانا سحبان محمود صاحبؒ نے اس سفر میں اپنے والد صاحبؒ کے ساتھ حضرت مولانا اکبر علی صاحبؒ کی جس طرح خدمت فرمائی ، اُس کا دل پر بہت گہرااثر رہا۔
۱۱؍ذوالحجہ کو عشاء کے بعد حضرت والد صاحبؒ پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے ایک عشائیے پر مد عو تھے ۔ لیکن اس سے پہلے جمرۂ اولیٰ کے قریب ایک مکان میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوری ، حضرت مولانا محمد یوسف صاحب، امیر تبلیغی جماعت اور حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہم اللہ تعالیٰ ٹھہرے ہوئے تھے ۔ ان کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے ۔حضرت والد صاحبؒ نے اس سفر کی جو یادداشتیں لکھی تھیں، اُن کے مطابق اس موقع پر حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مالکی مذہب میں یہ جو مشہور ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قصر کرنا مناسک کا حصہ ہے، اس لئے مقیم پر بھی واجب ہے ، اُس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک مکہ مکرمہ کا رہنے والا جب حج کے لئے روانہ ہوتا ہے ، تو منیٰ ، عرفات، مزدلفہ کا جانا اورآنا مل کر مسافت سفر بن جاتی ہے ، یہاں اس مجموعی مسافت کااعتبار اس لئے کیا گیا ہے کہ حاجی اپنے اس سفر کو کسی بھی جگہ اپنی مرضی سے ختم نہیں کرسکتا، بلکہ اُسے یہ ساری مسافت ہر حال میں طے کرنی ہوتی ہے ، بخلاف دوسرے مسافروں کے کہ وہ جب چاہیں ، اپنا سفر ختم کرسکتے ہیں ، اس لئے ان کے حق میں جانے آنے کی مسافت کا مجموعہ مد نظر نہیں رکھا جاتا ۔ (۱)
عشاء کی نماز مسجد خیف میں اداکی ، وہیں حضرت قاری فتح محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی مقیم تھے ، ان کی زیارت ہوئی، اور اُس کے بعد سفیر پاکستان عبدالفتاح میمن صاحب کی دعوت میں شرکت کی جس میں انہوں نے مسلمان ملکوں کے منتخب حضرات کو جمع کیا ہوا تھا ۔ یہاں نائجیریا کے وزیر اعظم بلّو صاحب نے اپنی تقریر میں مصر کے جنرل ناصر کی طرف سے لگائے گئے عرب وحدت کے نعرے پر تنقید کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اتحادپر زور دیا ، اور اس سلسلے میں فلسطین اورزنجبار کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کی آزادی پر بھی مؤثر تقریر کی ۔ حضرت والد صاحبؒ نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ اس کے بعد سفیر اردن نے بھی اسلامی وحدت پر زور دیا ، اس کے بعد عربی وفد کے رئیس شعبہ نے تقریر کی ، اور اُس میں بھی پورے عالم اسلام کی وحدت پر اور قضیۂ کشمیر پر بھی کلام کیا ۔ آخر میں مفتی ٔ اعظم فلسطین سید امین حسینی ؒکی مفصل تقرٍیر ہوئی جس میں انہوں نے کشمیر کے قضیے پر نہایت مؤثر گفتگو فرمائی ۔
۱۲؍ ذوالحجہ کو منیٰ سے واپسی پر ایک بس میں سوار ہوئے جس نے حرم لے جانے کے بجائے ایک اور جگہ اتار دیا ۔ اترنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ جگہ محصب ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے واپسی پر کچھ دیر قیام فرمایا تھا ۔ اگرچہ یہاں ٹھہرنااکثر علماء کے نزدیک مناسک کا حصہ نہیں ہے ، لیکن فی الجملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے قیام پر رکنے کی سعادت بھی غیر اختیاری طور پر حاصل ہوگئی۔یہاں ترکوں کے زمانے کی ایک مسجد بنی ہوئی تھی ، وہاں نماز مغرب ادا کرکے حضرت والد صاحبؒ نے کچھ دیر آرام فرمایا ۔ پھر پیدل مکہ مکرمہ کی طرف چلنا شروع کیا ۔تقریباً دو میل کا فاصلہ تھا حرم شریف پہنچتے پہنچتے حضرت والد صاحبؒ بہت تھک چکے تھے ، اور قیام گاہ (شاکرسکندر صاحبؒ کے مکان) تک پہنچنے کی ہمت نہ تھی ، رات حرم شریف ہی میں گذارنے کا فیصلہ فرمالیا۔ ہم قیام گاہ سے اپنا بستر ،تکیہ اور چادرلے آئے ، اور ایک پیالے میں تھوڑا سا کھانا بھی ۔ اُس کے بعد حرم شریف کے ایک گوشے ہی میں رات گذاری ۔
ہمارا اگلا دن اس فکر میں گذرا کہ حضرت والد صاحبؒ کی رہائش کے لئے کوئی مناسب جگہ تلاش کریں ، کیونکہ شاکر سکندر صاحبؒ کے دفتر میں ہجوم اور شور کی وجہ سے مستقل رہنا مشکل تھا۔آخرکارحضرت والد صاحبؒ ہی کے ایک دوست کی معرفت شارع اجیاد پرفندق السورتی کے نام سے ایک متوسط ہوٹل میں مناسب کرائے پر ایک جگہ مل گئی ، اور حضرت والد صاحب ؒ کے ساتھ ہم وہاں منتقل ہوگئے ، لیکن یہ جگہ چوتھی منزل پر تھی، اور لفٹ خراب ۔دو دن یہاں گذارے ، پھر باب العمرہ کے قریب فندق خوقیر میں دودن قیام رہا۔ اس کے بعد سورتی ہوٹل کی لفٹ صحیح ہوئی، تو دوبار ہ وہیں مقیم ہوگئے ، اور ۲؍محرم تک وہیں قیام رہا۔
حضرت شیخ حسن المشاط رحمۃ اللہ علیہ جن سے پچھلے عمرے میں اجازت ِحدیث اور تلمذ کا شرف حاصل ہوا تھا ، اب بھی حرم شریف میں تدریس کا فریضہ انجام دیتے تھے ۔ ان کی خدمت میں حاضری ہوئی ، حضرت والد صاحب ؒ بھی اُن سے مل کر بہت خوش ہوئے ،اور حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مد ظلہم نے بھی ان سے اجازت حدیث حاصل فرمائی ۔اورحضرت شیخ مشّاطؒ نے حضرت والد صاحب ؒسے۔
چونکہ میرے پچھلے عمرے کو صرف دس مہینے ہوئے تھے ، اس لئے حرمین شریفین کے اُس وقت کے مقامات بھی خوب یاد تھے ، اور میں اپنے بڑے بھائی حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مد ظلہم کے ساتھ ان مقامات کی زیارت کے لئے آسانی سے چلا جاتا تھا ، لیکن پچھلے سفر میں غار ثور کی زیارت کا موقع نہیں ملا تھا ۔ حج سے واپسی کے بعد مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران ہم نے وہاں جانے کا پروگرام بنایا ، ہم نے یہ سوچا تھا کہ اشراق کے بعد وہاں جائیں ، تاکہ ظہر تک واپس آکر حرم کی جماعت میں شریک ہوسکیں ۔ہم دونوں بھائیوں کے علاوہ حضرت مولانا سحبان محمود صاحب اور حضرت مولانا نوراحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہما اور کچھ مزید احباب پر مشتمل گیارہ افراد کا قافلہ تیار ہوگیا ، اور ہم جبل ثور کے دامن میں پہنچ گئے۔ سامنے جو پہاڑ نظر آرہا تھا ، وہ بہت اونچا محسوس نہیں ہوتا تھا ، لیکن اُس کی چوٹی پر پہنچ کر پتہ چلا کہ آگے اُس سے بھی بلند ایک اور پہاڑ ہے ، ذوق وشوق کے عالم میں اُس پر بھی چڑھتے رہے ، یہاں تک کہ اُس کی چوٹی پر پہنچ کر اندازہ ہوا کہ ابھی مزید چڑھائی چڑھنی ہے ۔جہاں تک یاد ہے ، غار ثور تک پہنچتے پہنچتے دو ڈھائی گھنٹے صرف ہوئے ۔ لیکن اُس وقت خوشی کی انتہا نہ رہی جب غار ثور کے دہانے تک ہماری رسائی ہوگئی ۔ یہ غار درحقیقت پہاڑ پر رکھی ہوئی ایک بڑی سی چٹان ہے جو اندر سے کھوکھلی اور چاروں طرف سے بند ہے ، صرف اُس کے نیچے ایک بڑا سا سوراخ ہے جس کے ذریعے لیٹ کر اندر جانا ممکن ہے ۔ یہی وہ سوراخ ہے جس پرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روپوشی کے دوران مکڑی نے جالا تن دیا تھا ، اُس وقت وہ سوراخ کھلا ہوا تھا ، اور ہم یکے بعد دیگرے لیٹ کر اُس میں داخل ہوئے ۔ اندر عجیب منظر نظر آیا کہ اُس میں فرش پر دو پتھر کی سلیں اتنی لمبی تھیں کہ ان میں سے ہر ایک پر ایک آدمی لیٹ سکتا تھا ۔لیکن ان میں سے ایک سل قدرے اونچی اور دوسری اُسکے مقابلے میں تھوڑی نیچی تھی ، گویا اس غار میں اللہ تعالیٰ نے قدرتی طورپر یہ انتظام فرمارکھا تھا کہ اُس میں سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کے یار غار (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)فرق مراتب کے ساتھ لیٹ سکیں ۔بیت اللہ شریف کے بعدہمارے لئے یہ وہ پہلی زمین اور پہلے پتھر تھے جنہیں یقینی طورپر سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے مَس ہونے کی سعادت حاصل ہوئی تھی ، اور ابتک وہ جوں کے توں موجود تھے۔یہاں امت کے افضل ترین انسانوں نے تین دن تین راتیں روپوش ہوکر گذاری تھیں ۔ روایات میں جو آیا ہے کہ دشمن آپ کی تلاش میں غار کے دہانے تک پہنچ گئے تھے ، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ اگر ان لوگوں کی نظر اپنے پاؤں کی طرف پڑجائے ،تو ہمیں دیکھ لیں گے ، اُس کا صحیح مطلب یہاں غار میں پہنچ کر ہی واضح ہوا ۔ اس لئے کہ غار کا دہانہ نیچے بالکل زمین سے ملا ہوا تھا ، اور باہر کھڑا ہوا آدمی غار کے اندر اُسی وقت دیکھ سکتا تھا جب وہ جُھک کر اپنے پاؤں کی طرف دیکھے ۔ اسی موقع پر سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جملہ ارشادفرمایا تھاجو قرآن کریم نے نقل فرمایا ہے :
لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنَا (سورۃ التوبۃ:۴۰)
غم نہ کرو، یقین رکھو ، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے یہ (بھی )فرمایا:
ما ظنّک باثنین اللہُ ثالثُہما
تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ خود ہے۔
اُس ذات پاک پر لاکھوں سلام جو اپنے خون کے پیاسوں کو اتنے قریب دیکھ کر بھی سکینت واطمینان اور پروردگار پر بھروسے کا پیکربنی ہوئی تھی ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے پہلے ہی یہ انتظام فرمار کھا تھا کہ غار کے دہانے پر مکڑی نے جالا تن دیا تھا ، اس لئے تلاش کرنے والے دشمن یہ جالا دیکھ کر واپس چلے گئے ۔
کچھ دیر تک غار ثور میں ماضی کے تصورات میں گم رہنے کے بعد ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا ، اترنے کا عمل چڑھنے کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوتا ہے ، چنانچہ جس چڑھائی میں ہمیں دو گھنٹے سے زیادہ لگے تھے ، واپسی کے وقت تقریباً ۴۵منٹ میں ہم نیچے پہنچ چکے تھے ۔سفر کے دوران ذوق وشوق کی زیادتی نے تھکن کااحساس نہیں ہونے دیا، لیکن واپس پہنچے تو کئی ساتھیوں کو بخار آگیا ، کئی کے جوتے پھٹ گئے ، اور شدید تھکن تو سبھی کو تھی ۔ اُس وقت خیال آیا کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ مکہ مکرمہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی دن بھر کی کارروائیوں کی خبرلیکر رات کو عشاء کے بعد غار ثور جاتے ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات گذار تے ، اور صبح کو پَو پھٹنے سے پہلے واپس مکہ مکرمہ پہنچ جایا کرتے تھے ۔ اسی طرح حضرت عامربن فہیرہ بکریوں کا ریوڑ ساتھ لیکر وہاںجایا کرتے تھے ۔ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
سعودی علماء سے حضرت والد صاحب ؒ کی ملاقاتیں اور ان کے نام یادداشت
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ یہ بات عرصے سے محسوس فرماتے تھے کہ نجدوحجاز کے بااثر علماء فروعی فقہی اور کلامی مسائل پر ضرورت سے زیادہ زور دیتے ہیں ، اور مغربی افکار کے زیر اثر جو منکرات رفتہ رفتہ اس مقدس خطے میں پہنچ رہے ہیں ، ان کی طرف ان کی زیادہ توجہ نہیں ہے ۔چنانچہ اس سفر کاایک مقصدیہ بھی تھا کہ اس میں بعض سرکردہ علماء سے ملاقاتیں کرکے اُن کو اس طرف متوجہ کیا جائے ۔اس غرض کے لئے انہوں نے ایک یادداشت مرتب فرمائی تھی جسے لکھنے میں میرا بھی حصہ لگا دیا تھا ، حضرت شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ بھی اُس سال حج میں شریک تھے ، اور حضرت والد صاحبؒ چاہتے تھے کہ اُن سے سے بھی اُس یادداشت پر نظر ثانی کروائیں ۔چنانچہ ایک دن اُن کو پیغام بھیجا کہ وہ مغرب کے بعد میزاب رحمت کے نیچے مل لیں ۔جب وہ وقت آیا تو حضرت والد صاحبؒ نے مجھے ان کو تلاش کرنے کے لئے بھیجا ۔ میں وہاں پہنچا ، تو وہ نہیں ملے ، لیکن وہاں شام کے علماء کا ایک اور مجمع نظر آیا، میں نے اُن سے شیخ کے بارے میں پوچھا ، تو اُن سے شناسائی ہوگئی ۔ ان کے امیر محفل شیخ تیسیر مخزومی تھے ، جو بڑی محبت سے پیش آئے ، اور جب میں نے اُنہیں حضرت والد صاحبؒ کے بارے میں بتایا ، تو وہ بہت خوش ہوئے ، اور حضرت والد صاحبؒ سے ملاقات کرنے کے لئے چل کر ان کی جگہ پر آگئے، اور فرمایا: “شبلکم جال جولۃ لطلب الشیخ عبدالفتاح, ولم یجدہ, فصادنا صیدا، فہا أنا بمحضرکم.” (آپ کے صاحبزادے نے شیخ عبدالفتاح کی تلاش میں ایک چکر لگایا، مگر وہ نہ ملے ، تو یہ ہمیں شکار کرکے آپ کے پاس لے آئے ہیں ، اس لئے ہم آپ کے سامنے موجود ہیں )
شیخ تیسیر بڑے خوش مزاج اور بڑے خوش مذاق عالم تھے ، حضرت والد صاحب ؒ اُن سے مل کر بہت خوش ہوئے ، انہوں نے حضرت والد صاحب ؒ سے حدیث کی اجازت کی بھی درخواست کی ، اور گفتگو کے دوران بتایا کہ ہم بنو محزوم سے تعلق رکھتے ہیں ،اورصفا پہاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرمایا کہ ہمارا خاندان کبھی یہاں آباد تھا ۔ حضرت والد صاحب ؒ نے فرمایا ” لیکن اب تو آپ یہ کہتے ہوںگے کہ:
کأن لم یکن بین الحجون إلی الصّفا
أنیس، ولم یسمُر بمکّۃَ سامر، (۱)
شیخ تیسیر اس بر موقع شعر سے بہت لطف اندوز ہوئے ، پھر عشاء تک وہ ساتھ رہے ، اور علمی گفتگو ہوتی رہی ۔عشاء کے بعد شیخ عبدالفتاح ؒ سے بھی ملاقات ہوگئی ، اور اگلے دن صبح کو اُن کے ساتھ ملاقات طے ہوئی جس میں مجوزہ یادداشت ان کے مشوروں سے تیار کی گئی ۔حضرت مولانا سحبان محمود صاحب ؒ جن کا عربی کا خط اتنا خوبصورت تھا کہ موتی ٹکے ہوئے معلوم ہوتے تھے ، انہوں نے اس کی نقل تیار کی ۔اس میں بنیادی خطاب سعودی عرب کے اُس وقت کے مفتی ٔ اکبر شیخ محمد بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے تھا ، اور اُن کے واسطے سے دوسرے علماء کرام سے بھی ۔ چنانچہ ۲۳؍ ذوالحجہ کو مغرب کے بعد مفتی ٔ اکبر ؒ سے ان کے مکان محلہ شیشہ میں ملاقات کے لئے گئے ،وہاں ان کے صاحبزادے سے ملاقات ہوئی جو رئیس القضاۃ بھی تھے ۔ وہیں پر اُن کے بھائی شیخ عبدالملک بن ابراہیم ؒ جو ہیئۃ الأمر بالمعروف کے رئیس تھے، تشریف لے آئے ، اور مشہور کتاب “القومیۃ فی نظر الاسلام” کے مؤلف محمد احمد باشمیل صاحب بھی موجود تھے۔ان سب حضرات سے عالم اسلام کے مسائل پر بات ہوتی رہی ، لیکن مفتی ٔ اکبر کسی وجہ سے اُس وقت تشریف نہ لاسکے ، اس لئے یادداشت اُن کے صاحبزادے کو دی گئی کہ وہ ان کو پیش کردیں ،انہوں نے وعدہ کیا ۔ ۲۴؍ ذوالحجہ کو شیخ عبد الحمید فارسی صاحب کے ذریعے یادداشت کو ماہنامہ “الحج” کے دفتر میں ٹائپ کرانے کے لئے والد صاحبؒ نے مجھے بھیجا، اور وہ ٹائپ ہوکر تیار ہوگئی ۔ اُسی دن ہیئۃ الأمر بالمعروف کے رئیس شیخ عبدالملک بن ابراہیم سے ملاقات کا وقت طے تھا ، وہ بڑے تپاک سے ملے ، اور انہوں نے بتایا کہ کل جو خط مفتی ٔ اکبر کو دیا گیا تھا ، وہ انہوں نے ہمارے سامنے ہی اہتمام سے سنا ہے ،ہم سب اسے ایک مفید کوشش سمجھتے ہیں، اور مفتی ٔ اکبر اُس کا جواب بھی آپ کو دیں گے ۔ حضرت والد صاحبؒ نے اپنا احادیث کا ثبت”الازدیاد السنی” ان کو دیا ، اُس کے آخر میں حضرت والد صاحبؒ کے عربی اشعار پڑھکر وہ بہت محظوظ ہوئے ، اور شیخ ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب “الإ لمام ” جو انہوں نے چھپوائی ہے ، اس کے پانچ نسخے بھی انہوں نے پیش کئے۔

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2020-04-10T00:53:55+05:00