یادیں (تیئسویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(تیئسویں قسط )

حدیبیہ سے آگے بڑھے تو سامنے پہاڑوں کا ایک سلسلہ تھا ، اور ان کے درمیان ایک پہاڑی اس طرح نظر آرہی تھی جیسے اُس کے سر پر کوئی تاج رکھا ہو، ہمارے ایک عرب رفیق سفر نے اُس کی طرف اشارہ کرکے کہا : “جبل النور! ” یعنی وہ پہاڑ جس میں غار حراء واقع ہے جہاں حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا ، اور جہاں وہ وحی پہلے پہلے اترنی شروع ہوئی جس نے ہدایت کا نور پوری دنیا میں پھیلا دیا ۔
غرض سینے میں جذبات کا تلاطم لئے ہوئے ہم مکہ مکرمہ شہر میں داخل ہوئے۔ مدرسہ صولتیہ اُس وقت حارۃ الباب میں واقع تھا ، وہاں مدرسے کے مہتمم حضرت مولانا محمد سلیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی شفقت سے ہمیں مدرسے کے ایک کمرے میں جگہ دی ۔اس زمانے میں زیادہ تر لوگ ہندوستان اور پاکستان سے پانی کے جہاز کے ذریعے حج کو آیا کرتے تھے ، اور مہینوں حرمین شریفین میں قیام کرنا ہوتا تھا ، اور ہوٹلوں کے بجائے رہنے کے لئے حرم کے قریب مکان کرائے پر لے لیتے تھے یا مختلف ممالک کے مخیّر حضرات نے حجاج کے لئے مسافر خانے بنائے ہوئے تھے جنہیں “رباط” کہا جاتا تھا ۔ بہت سے لوگ ان رباطوں میں قیام کرتے تھے۔ ہوٹلوں کارواج بہت کم تھا ۔ اس لئے حجاج اپنے ساتھ کھانا پکانے کاانتظام کرکے لاتے تھے ۔ آٹا ، چاول ، مسالے وغیرہ سب پانی کے جہاز سے لائے جاتے تھے ۔ اور بہت سے اہل خیر مدرسہ صولتیہ میں کھانے پینے کی اجناس حاجیوں کے لئے بھیج دیتے تھے جو مدرسہ کے منتظمین حاجیوں میں تقسیم کرتے تھے ۔ جس کمرے میں ہم نے زمین پر بستر بچھایا تھا ، اس کے سرہانے گندم کا بڑا سا ڈھیر اسی مقصد کے لئے پڑا ہوا تھا ۔
ہم نے سامان رکھ کر تازہ وضو کیا ، اور دھڑکتے دلوں کے ساتھ حرم شریف میں حاضری ہوئی ۔ یہ کوئی دس بجے صبح کا وقت ہوگا ۔کعبہ شریف سامنے آیا ، تو آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ بیت اللہ ان کے سامنے ہے جس کے تصور میں سال بیت گئے تھے ۔ خوش قسمتی سے اُس وقت مطاف بالکل خالی تھا ، اور شاید بیس تیس آدمی طواف کر رہے ہوں گے ۔ اس لئے ہر چکّر میں حجر اسود کا بوسہ کسی تکلف کے بغیر نصیب ہوا ۔ ملتزم پر حاضری دی ، وہاں بھی صرف چند افراد تھے ، اس لئے بھڑاس نکالنے کا خوب موقع ملا ۔ مقام ابراہیم اُس وقت ایک چھوٹی سی عمارت میں تھا ، اور ہم نے اپنے قیام کے دوران اُسی کو اپنا مستقر بنا لیا تھا ، کیونکہ وہاں سے بیت اللہ کا دروازہ اور ملتزم ہر وقت سامنے رہتا تھا ۔ اور امام صاحب نماز پڑھاتے ہوئے اسی کے سامنے کھڑے ہوتے تھے ۔زمزم کا کنواں بھی ایک عمارت میں تھا ، اور وہاں اپنے ہاتھ سے ڈول ڈال کر پانی نکالا جاسکتا تھا ، چنانچہ یہ سعادت بھی حاصل ہوئی ۔
اگلے دن فجر سے پہلے جب ہم حرم شریف جار ہے تھے ،تو ہجرت کی وہ رات یاد آرہی تھی جس میں حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کا محاصرہ توڑ کر مکہ مکرمہ کی گلیوں سے روانہ ہوئے تھے ۔ اشراق کے بعد ہم حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دوست حاجی داود مائت صاحب مرحوم کو ایک خط دینے کے لئے سوق المدعی ٰگئے ۔ یہ حرم شریف کے شمال مشرق میں ایک مسقف بازار تھا (جو اب ختم ہوگیا ہے ) جس کی ابتدا میں کچھ چڑھائی تھی ، اور جہاں یہ چڑھائی ختم ہوکر اُترائی شروع ہوتی تھی ، وہاں ایک مربع جنگلہ بنا ہوا تھا،اور مشہوریہ تھا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ اور صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس خشک وادی میں چھوڑکر واپس شام جاتے ہوئے وہ دعا مانگی تھی جو قرآن کریم نے سورۂ ابراہیم میں نقل فرمائی ہے ۔ لوگوں میں مشہور یہ تھا کہ اس بازار کا نام ” مدعیٰ” اسی لئے رکھا گیا ہے ، کیونکہ اس کے معنیٰ ہیں ” دعا مانگنے کی جگہ” اور اس کا قرینہ بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں چڑھائی ختم ہورہی تھی ، اور ممکن ہے کہ یہ وہ آخری مقام ہو جہاں انہوں نے اپنی اہلیۂ محترمہ اور صاحب زادے پر آخری نگاہ ڈالی ہو، کیونکہ اترائی میں اترنے کے بعد ان کو آنکھوں سے اوجھل ہو جانا تھا ۔عزیمت واستقامت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے کی یہ بے نظیر تاریخ بظاہر یہیں رقم ہوئی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرے کی شکل میں رہتی دنیا تک جاودانی زندگی عطا فرمادی ۔
یہیں اسی بازار “مدعیٰ”کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر حرم میں داخل ہوئے تھے۔ہزاروں درود وسلام اُس فاتح پر جس نے اپنے خون کے پیاسوں پر خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر فتح حاصل کی ، سب کو معاف فرمادیا ، اور فتح کے وقت تنے ہوئے سینے اور اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ نہیں ، بلکہ جھکی ہوئی گردن اورشکر کے بہتے ہوئے آنسو وں کے ساتھ اپنے اس مفتوحہ علاقے میں داخل ہوا ، اور زبان مبارک پر فاتحا نہ نعروں کے بجائے یہ آیات تھیں کہ : “إنّا فتحنا لک فتحاً مبیناً “۔
یہیں اسی بازار سے حرم جاتے ہوے بائیں جانب حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ گھرتھا جس کے بارے میں حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان عام فرما دیا تھا کہ “جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا ، اُسے امن ہے ۔ “یہ گھر خالی تھا ، اور خصوصی فرمائش پر زیارت کے لئے کھلوادیا جاتا تھا۔الحمد للہ! ہمیں بھی اس کی زیارت کا موقع ملا ، اور دل سے دعا نکلی کہ”یا اللہ!آپ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھر میں داخل ہونے والوں کو امن عطا فرمایا تھا ، یا اللہ! ہمیں بھی اپنے غضب اور عذاب سے امن عطا فرما دیجئے ۔”
بازار” مدعی ” سے واپس ہوتے ہوئے اُس رشک آسمان زمین کی بھی زیارت ہوئی جسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کے لئے منتخب فرمایا تھا ۔ اس مولد نبوی میں ا ُس وقت ایک مکتبہ قائم تھا ۔ دھڑکتے دلوں کے ساتھ اس میں حاضری دی ۔کیسی مبارک تھی وہ زمین جس میں انسانیت کے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنم دیا!
اُس وقت حرم شریف کے جنوب میں شاہی محلات نہیں بنے تھے ، اور حرم شریف کے صحن سے جبل ابو قبیس کی چوٹی صاف نظر آتی تھی ۔ اس چوٹی پر ایک چھوٹی سی مسجد بھی نظر آتی تھی جو مسجد بلال ؓ کے نام سے مشہور تھی ، اور مکہ مکرمہ کے لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ اسی مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کو دوٹکڑے فرماکر وہ عظیم معجزہ ظاہر فرمایا تھا جس کا ذکر قرآن کریم کی سورۂ قمر میں فرمایا گیا ہے ۔اسی لئے اس مسجد کا دوسرا نام “مسجد شق القمر”بھی بیان کیا جاتا تھا ۔جبل ابو قبیس پر آبادی بھی تھی ، اور اوپر چڑھنے کے لئے پگڈنڈیاں بنی ہوئی تھیں ۔ عصر کے بعد ہم ان پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے چوٹی تک پہنچے ، اور اس مسجد کی زیارت کی ۔ یہاں سے مکہ مکرمہ کی پوری وادی اکٹھی نظر آرہی تھی جس نے تصورات کو ہزاروں سال پیچھے پہنچادیا ، جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس سنگلاخ وادی کو اپنے گھر کی تعمیر کے لئے منتخب فرماکر اُسے سبزہ زاروں سے کہیں زیادہ حسن وجمال عطا فرمادیا۔گرمی اتنی شدید تھی کہ جوتے کے بغیر پاؤں زمین پر رکھنا پاؤں جلادینے کے مرادف تھا،خود حرم شریف میں سنگریزوں یا سیمنٹ کی جگہ پاؤں چند سیکنڈ سے زیادہ نہیں رکھا جاسکتا تھا ، لیکن ہم اس مقدس سرزمین کے نظاروں میں ایسے گم تھے کہ دل ودماغ کو گرمی کا ذرااحساس نہیں تھا،اوردل کو وہ سرور حاصل تھا جو سرسبز وشاداب باغوں میں بھی میسر نہیں آتا ۔
دو دن مکہ مکرمہ میں گذارنے کے بعدنہ جانے کس وجہ سے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے مدینہ منورہ حاضری دیں ، اور پھر یہاں نسبۃً زیادہ قیام کریں۔ اُس وقت مکہ مکرمہ سے براہ راست مدینہ منورہ کی کوئی سڑک نہیں تھی، اس لئے پہلے جدہ جاکر وہاں سے کسی بس یا ٹیکسی کے ذریعے جانا ہوتا تھا ۔
چنانچہ ۲۰؍جون ۱۹۶۳ ؁ء (۲۷؍محرم۱۳۸۳ ؁ ھ)کو ظہر کی نماز حرم میں پڑھکر ہم نے جدہ کے لئے سواریوں کے حساب سے چلنے والی ٹیکسی لی، اور روانہ ہوگئے ۔ گرمی اپنے شباب پر تھی ، اور فجر کے وقت بھی لُو چلتی تھی ، ظہر کے بعد تو گرمی کا کچھ ٹھکانا نہیں تھا ۔ اُس وقت ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں کا بھی اتنا رواج نہیں تھا ۔ جب گاڑی شہر سے باہر نکلی توایسا معلوم ہورہا تھا جیسے پوری گاڑی تنور بن گئی ہے ۔ اُس وقت ہمیں احساس ہوا کہ شدت شوق میں ہم نے سفر کے لئے وقت کا انتخاب درست نہیں کیا ۔ اللہ اللہ کرکے جدہ پہنچے تو عصر کا وقت ہورہا تھا ، وہاں سے دوسری ٹیکسی لی ، اور مدینہ منورہ کا پُر کیف سفر شروع ہوا۔ ماہر صاحب مرحوم کے یہ شعر یاد آرہے تھے :
پاک دل، پاک نفس ، پاک نظر کیا کہنا
بعد مکے کے مدینے کا سفر کیا کہنا
سنگریزے ہیں کہ جاگی ہوئی قسمت کے نجوم
خار منزل ہیں کہ انگشت خضر کیا کہنا
تپش شوق بھی ہے ، گرمی ٔ موسم بھی ہے
اور اُس پہ مرا سوز ِ جگر کیا کہنا
اُس وقت مدینہ منورہ جانے والی سڑک اُس علاقے سے گذرتی تھی جسے تہامہ کہتے ہیں ، اور جہاں کی رات اپنی ٹھنڈک اور خوشگواری میں مشہور ہے ، چنانچہ مغرب کے بعد گرمی کی وہ شدت نہ رہی ، اور سفر موسم کے لحاظ سے بھی خوشگوار ہوگیا ۔مستورہ کے مقام پر پہنچ کر ایک روایتی قہوہ خانے میں کھانا کھایا۔ بحر احمر کی تازہ بھنی ہوئی مچھلی نے ذائقے کی خوب تواضع کی ۔وہاں جو صاحب قہوہ خانے کی طرف سے کھانا کھلانے پر مقرر تھے ، وہ اصیل عرب تھے ، اور انکا نام حمود بن غالی تھا ۔ انہوں نے عرب کی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ اس خوبی سے کیا کہ اُن سے طبیعت بہت مانوس ہوگئی ۔ میں نے اُن سے تواضعاًکہا کہ :”آپ پاکستان آئیں ۔” اس کے جواب میں وہ بولے: “نہیں کبھی نہیں ” میں نے کہا:”کیوں؟ ” تو بولے: “إنّ الراقد فی بلادنا کالعابد فی بلادکم”یعنی ـ:” ہمارے ملک میں سونے والا بھی تمہارے ملک کے عبادت گذار جیسا ہے ،” اُن سے ایسی دوستی ہوگئی کہ اس کے بعد بھی کئی بار مدینہ منورہ جاتے ہوئے مستورہ میں ہم انہیں تلاش کرکے ان سے ملاقات کرتے ، اور وہ بھی بڑی محبت کرتے تھے ۔چنانچہ جب اگلے سال ہم حضرت والد صاحب ؒ کے ساتھ حج پر آئے ، تو میں نے حمود کو ڈھونڈ کر حضرت والد صاحبؒ سے اس کا تعارف کرایا ، تو وہ جیسے حضرت والد صاحب ؒ پر فریفتہ ہوگیا ، اور اس نے یہ وعدہ لے لیا کہ آئندہ جب کبھی یہاں سے گذر ہو، تو اس سے مل کر ضرور جائیں۔ چنانچہ کئی برس تک یہ معمول جاری رہا ، یہاں تک کہ طریق الہجرۃ کی تعمیر کے بعد راستہ بدل گیا کہ اس میں مستورہ نہیں آتا تھا ۔
مدینہ منورہ کی وہ سڑک بدر کے مقام سے بھی گذرتی تھی ، اور ہم نے ڈرائیور سے یہ طے کیا تھا کہ وہ ہمیں بدر میں ٹھہرنے کا موقع دیگا ۔ چنانچہ عشاء کے کچھ دیر بعد ہم اُس وادی میں پہنچ چکے تھے جس نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سرکردگی میں کفر واسلام کا پہلا معرکہ دیکھا تھا ، اور جہاں اللہ تعالیٰ نے تین سوتیرہ نہتے افراد کو ایک ہزار مسلح سورماؤں پر فتح مبین عطا فرمائی تھی ۔سب سے پہلے اُس پہاڑی کی زیارت ہوئی جسے قرآن کریم نے “العدوۃ الدنیا” کے نام سے یاد فرمایا ہے ، اور جہاں مسلمانوں کا پڑاؤ تھا ، پھر وہیں سے سامنے ” العدوۃ القصویٰ “بھی نظر آیا جہاں ابوجہل کے لشکر نے ڈیرے ڈالے تھے ۔انہی دو پہاڑیوں کے درمیان وہ معرکہ ہوا جسے جنگوں کی تاریخ کا ایک معجزہ کہنا چاہئے ۔ یہیں سے کچھ فاصلے پر ایک مسجد تھی ، جو “مسجد عریش”کہلاتی تھی ۔ ” عریش” عربی زبان میں چھپر کو کہتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے لئے ایک چھپر بنایا گیا تھا ۔ یہیں آپ نے سجدے میں گر کر معرکے میں فتح کی دعا مانگی تھی۔ اس مقدس سرزمین سے گذرتے ہوئے ایک ایک قدم پردل میں جذبات و تصورات کا ایک تلاطم برپا تھا ۔ آخرمیں شہداء بدر کے قبرستان پر حاضری دی جو کچھ دور واقع تھا ۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کی بارش برسائے ، یہ وہ سعید روحیں تھیں جنہوں نے جہاد کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت تاریخ میں سب سے پہلے حاصل کی ۔انہیں سلام عرض کرکے ہم نے دوبارہ سفرشروع کردیا ۔
مدینہ منورہ کا یہ سفر اس قدر پُر کیف تھا کہ شدید گرمی میں دن بھر کے طویل سفر کے باوجود ہر ہر قدم پر نیا ولولہ پیدا ہورہا تھا ۔ مدینہ منورہ قریب آنے لگا ، اور اُس کی روشنیاں نظر آنی شروع ہوئیں ، توبھائی (جناب محمد ولی رازی) صاحب بیساختہ جناب نظر امروہوی کا یہ شعر پڑھنے لگے :
سجدہ طلب ہے راہ کا ہر ذرّہ اے نظر !
کیا ہم حدود ِکوچۂ جانا ں میں آگئے ؟
دھڑکتے دلوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں مدینہ منورہ پہنچے۔مسجدنبوی رات کے وقت بند ہوا کرتی تھی ، اس لئے وہاں حاضری فوراً نہیں ہوسکتی تھی ۔مسجد نبوی کے سامنے اصطفا منزل کے نام سے ایک رباط ہو تی تھی ، جو پاکستان اور ہندوستان کے زائرین کے لئے وقف تھی ، اور اُس کے متولی حاجی اصطفا خان صاحب مرحوم کراچی کے باشندے تھے ۔ (اب یہ جگہ مسجد نبوی کی توسیع میں آگئی ہے) ہمیں اُسی منزل میں قیام کرنا تھا ، لیکن جب ہم رات گئے وہاں پہنچے، تواُسکے دروازے بھی بند تھے البتہ مسجد کے سامنے فٹ پاتھ پرچارپائیاں کرائے پر ملا کرتی تھیں۔ ہم نے دو دو ریال میں دو چارپائیاں کرائے پر لیں ، اور ان پر سوگئے ۔
اگلی صبح اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے وہ گھڑی آگئی جس کے انتظار اور اشتیاق میں سال گذرگئے تھے ۔ ایک ذرۂ ناچیز اُس روضۂ اقدس کے سامنے کھڑا تھا جس کے جلال وجمال کے آگے لفظ وبیان کی ساری توانائیاں دم توڑ دیتی ہیں :
ادب گاہے ست زیر آسماں از عرش نازک تر
نَفَس گُم کردہ می آید جنیدؒ و بایزیدؒ ایں جا
عام طورسے یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں جلال ہے ، اور مدینہ منورہ میں جمال ۔ لیکن مجھ ناکارہ کو تو دونوں جگہ جمال وجلال دونوں کے مظاہر محسوس ہوتے ہیں ۔ اس پیکر جمال (صلی اللہ علیہ وسلم )کے سامنے ہردم یہ خیال رہتا ہے کہ اظہار محبت میں کوئی بات مزاج اقدس کے خلاف سرزد نہ ہوجائے ، بقول میرے بڑے بھائی جناب محمد زکی کیفی صاحب ؒ کے :
میرے محبوب! مری ایسی وفا سے توبہ!
جو ترے دل کی کدورت کا سبب بن جائے
بہر کیف!جو لمحات اُس وقت روضۂ اقدس کے سامنے گذرے ، ان کی کیفیات کااحاطہ الفاظ میں کرنا ممکن نہیں۔
اس کے بعد گیارہ دن مدینہ منورہ میں رہنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔اصطفا منزل جس میں ہمارا قیام تھا، اس لحاظ سے بڑی متبرک جگہ تھی کہ اُسی میں حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ باغ تھا جس کا نام بیر حاء تھا ، اور سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے کنویں کا پانی پسند فرماتے تھے ۔یہ کنواں اُس وقت موجود تھا ، اور اُس کی زیارت اور اُس کا پانی پینے کی سعادت ہمیں بھی حاصل ہوئی ۔ مدینہ منورہ کے قیام کے دوران فجر سے ظہر تک کا بیشتر وقت ہم مختلف مقامات کی زیارتوں میں گذارتے تھے ۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ایک دوست مولانا احمد عبداللہ میمنی صاحب ؒ کو مدینہ منورہ کے مقامات کے بارے میں بڑی معلومات تھیں ، اور ہمارے ہم سبق ساتھی مولانا عبدالرزاق صاحب مراد آبادی ؒ بھی اُس وقت مدینہ منورہ ہجرت کرچکے تھے ۔ ان دونوں حضرات نے ہماری بڑی رہنما ئی فرمائی ، اور اُن معروف زیارتوں کے علاوہ جو اب بھی میسر ہیں ، بہت سی وہ زیارتیں بھی اس سفر میں نصیب ہوئیں جن کا اب کوئی امکان نہیں رہا۔ چنانچہ قباء کی پہلی حاضری کے موقع پرحضرت کلثوم بن ہدمؓ کے اُس مکان کی بھی زیارت ہوئی جس میں حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ روز قیام فرمایا تھا۔ یہ مکان اس کے بعد بھی کافی عرصے تک موجود رہا ، مگر اب اُ س کی کوئی علامت باقی نہیں رہی ۔ اسی طرح مسجد قبا کے مغربی جانب وہ باغ اور وہ کنواں بھی موجود تھا جو “بئر اریس “کہلاتا تھا ، اور جس میں حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تین خلفاء کا پائے مبارک لٹکاکر بیٹھنا حدیث میں منقول ہے۔ وہاں بھی حاضری ہوئی ۔ اب یہ کنواں سڑک کے اندر آگیا ہے ۔اس قیام کے دوران ہم تین مرتبہ پیدل قباء گئے ، اوراللہ تعالیٰ مولانا عبد الرزاق صاحب کو اپنی مکمل مغفرت سے نوازے ، انہوں نے ہمیں نخلستانوں سے گذرتے ہوئے مختلف راستے دکھائے ۔ اُس وقت گرمی اتنی شدید تھی کہ فجر کے وقت بھی تیز لُو چلتی تھی ، لیکن یہ نخلستانوں کا راستہ ٹھنڈا اور خوشگوار تھا ، اور قدم قدم پر یہ تصور خوب لطف دیتا تھا کہ یہ راستے کبھی سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی رہگذر رہے ہونگے ۔تینوں دن ہم فجر کی نمازشیخ عبدالعزیز بن صالح رحمۃ اللہ علیہ کی اقتدا میں پڑھکر باغات کے راستے قباء روانہ ہوجاتے ، اور اشراق مسجد قباء میں پڑھتے تھے۔میری عمر بیس سال تھی ، اور بھائی محمد ولی صاحب کی انتیس سال ، اور جسم تھکن سے آشنا نہیں ہوا تھا ۔اس لئے ہم زیادہ تر زیارتوں کے لئے پیدل جاتے ، احد کی وادی میں بھی پیدل جانا ہوا ، راستے میں مسجد مستراح جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احد جاتے ہوئے ٹھہرے تھے ، وہاں کچھ دیر رک کر آگے روانہ ہوئے ۔ اور احد کے میدان میں جنگ کے نہ جانے کتنے نقشے ذہن میں بنائے ، پھر اُس غار میں جاکر اشراق پڑھی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمی ہونے کی حالت میں قیام فرمایا تھا ۔ بس دل یہ چاہتا تھا کہ مدینہ منورہ کی یہ بابرکت فضائیں رگ وپے میں سما جائیں ۔
اُس وقت مسجد نبوی سے متصل حضرت عثمان ، حضرت عباس اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مکانات بھی ( تجدید کے بعد)محفوظ تھے ۔اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان میں ایک کمان زیارت کے لئے رکھی ہوئی تھی جس کے بارے میں مشہور یہ تھا کہ یہ وہ کمان ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد کے موقع پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرماکر اُن سے فرمایا تھا: “ارم یا سعد! فداک ابی وامی “(سعد!تیر چلاؤ ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ) یہ یقین کرنے کا تو کوئی راستہ نہیں تھا کہ یہ واقعی وہی کمان تھی ، لیکن اس معاملے میں شہرت کی بناپر کم ازکم ایک قوی احتمال پیدا ہوجانا بھی ایک محبت کرنے والے کے لئے کافی ہوتا ہے ۔ چنانچہ اُس کی زیارت سے بھی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔مسجد نبوی کے مشرقی جانب ایک پتلی سی گلی جنۃ البقیع کی طرف جاتی تھی ،اُس میں قدیم طرح کے مکانات تھے ، اور بقیع کے پیچھے عوالی کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا جس میں نخلستان بھی تھے ، اور کچھ کچے مکانات بھی ۔ میں کبھی کبھی پرانے زمانے کا تصور جمانے کے لئے اس راستے سے گذرا کرتا تھا ، اور اُس میں ایک عجیب کیف محسوس ہوتا تھا ۔غرض ہماری کوشش یہ تھی کہ :
جہاں جہاں ترے نقش قدم نظر آئے
جبینِ شوق لئے ہم وہیں وہیں پہنچے
اُس وقت مدینہ منورہ میں بڑے بڑے بزرگوں کااجتماع تھا ۔ حضرت مولانا بدرعالم صاحب مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ اُس وقت معذور ہوچکے تھے ، لیکن لیٹے لیٹے ان کی تالیف کا سلسلہ بھی املاء کے ذریعے جاری تھا، اور روزانہ ان کی اصلاحی مجلس بھی ہوا کرتی تھی۔ الحمد للہ!ان کی مجلس سے بھی اس قیام کے دوران خوب استفادے کا موقع ملا۔ حضرت مولانا عبدالغفور صاحب مدنی رحمۃ اللہ علیہ جو نقشبندی سلسلے کے بڑے جلیل القدر شیخ تھے ، ان کی مجلس میں بھی حاضری نصیب ہوئی ، اور انکی ضیافت کریمانہ سے بھی وافر حصہ ملا ۔ حضرت مولانا شیرمحمد صاحب سندھی رحمۃ اللہ علیہ جن کی زبدۃ المناسک حج کے مسائل پر حجت سمجھی جاتی ہے ، اور جنہیں اپنے دور کا ” امام المناسک” کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا ، ان کی خدمت میں بھی بارہا حاضری نصیب ہوئی ، اور ان کا درویشانہ طرز رہائش دیکھ کر عقل حیران رہگئی کہ علم وفضل کا یہ پہاڑ کس سادگی کے ساتھ زندگی گذاررہا ہے ۔ حضرت مولانا عبدالشکور صاحب دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ جو اپنے وقت کے بڑے ولی اللہ تھے ، اور ہمارے خالو کے والد ماجد، ان کی خدمت میں ان کی جگہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پہنچے ، وہ بھی معذور ہوچکے تھے ، اور ایک انتہائی تنگ وتاریک گھر میں مقیم تھے ، اور ان کی خدمت کے لئے ان کی سن رسیدہ اہلیہ کے علاوہ کوئی گھر میں موجود نہیں تھا ، معلوم ہوا کہ کسی کسی وقت حضرت ؒ کے کچھ متوسلین آکر خدمت کرجاتے ہیں ،طرح طرح کے عو ارض اور انتہائی کمزوری کی حالت میں تھے، لیکن صبر وقناعت کے پیکر!
یہ سب حضرات وہ تھے جنہوں نے مدینہ منورہ کسی روزگار وغیرہ کے لئے نہیں ، بلکہ خالصۃً مدینہ منورہ کی وجہ سے اور وہاں دفن ہونے کی خواہش میں ہجرت کی تھی ۔ اُس کے لئے بڑی مشکلات سہی تھیں، اور بڑی قربانیاں دی تھیں ۔آج یہ سب اپنی منزل مقصود پر پہنچ چکے ہیں :
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
اس طرح گیارہ دن اپنے جذبات وتصورات کی اس جنت میں گذارنے کے بعد ہم دوبارہ مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوئے ۔ذوالحلیفہ سے احرام باندھا ، راستے میں ایک بار پھر شہدائے بدر کے حضور سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ، اور جدہ سے ہوتے ہوئے دوبارہ مکہ مکرمہ کی آغوش میں پہنچ گئے ۔ اس مرتبہ یہاں تقریباً سترہ دن قیام رہا ۔

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2019-12-04T21:22:16+05:00نومبر 15th, 2019|