fatawa-usmani-2

خطبہ کسے کہتے ہیں؟ اور منگنی یا سلامتی کے عنوان سے اجتماع کی شرعی حیثیت

سوال:- شریعتِ اسلامیہ میں منگنی (یا سلامتی) کا کیا حکم ہے؟ اس کی صورت یہ ہے کہ لڑکے والا کسی لڑکی والے کے ہاں بذاتِ خود یا کسی نمائندہ کے ذریعے نکاح کا پیغام دیتا ہے، اگر لڑکی والا اس پیغام کو قبول کرلیتا ہے تو لڑکے کے ماں باپ یا ذمہ دار حضرات لڑکی کے ماں باپ یا ذمہ دار حضرات سے اوّلاً نکاح کے سلسلے میں مہر کی مقدار اور نکاح کی تاریخ وغیرہ کی تعیین کرتے ہیں، گویا نکاح کی بات چیت پکی ہوگئی۔ اس کے بعد مزید تشہیر کے لئے نکاح کے دن سے قبل لڑکی والوں کے گھر پر منگنی (یا سلامتی) کے نام سے ایک دن مقرّر کرکے ایک مجلس قائم کرتے ہیں جس میں اپنی اپنی حیثیت کے موافق پچاس، سو یا ہزار دو ہزار آدمی دونوں طرف کے متعلقین اور رشتہ داروں کو دعوت دی جاتی ہے، مقرّرہ تاریخ میں یعنی سلامتی کے دن جب سب لوگ جمع ہوجاتے ہیں تو ایک شخص کھڑے ہوکر اعلان کرتا ہے کہ یہ فلاں اور فلانہ کی سلامتی ہے، فلاں کا لڑکا فلاں سے اور فلاں کی لڑکی فلانہ سے اتنے اتنے مہر پر سلامتی ہوگئی ہے، اور لڑکی کے لئے مہر متعینہ زیورات یا روپیہ وغیرہ لڑکی والوں کو برسرِ مجلس سپرد کردیا جاتا ہے، اور لڑکی والے ان اسباب کو اپنی تحویل میں لیتے ہیں، اور جو سامان لڑکی کے لئے دیا جاتا ہے زیورات وغیرہ برسرِ مجلس لڑکی والے اس تمام سامان کی باضابطہ جانچ پڑتال کرتے ہیں اور اہلِ شرکاء میں سے بعض حضرات کو دِکھایا جاتا ہے، اس کے بعد امام صاحب دُعا کرتے ہیں اور لڑکی والوں کی طرف سے تمام شرکائے مجلس کو حسبِ حیثیت ضیافت کرتے ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ نکاح کا پیغام قبول کرنے کے بعد اور جانبین کی رضامندی سے نکاح کے سلسلے میں مہر کی مقدار اور نکاح کی تاریخ وغیرہ متعین کرنے کے بعد اس طرح سلامتی کے نام سے لوگوں کو جمع کرکے مجلس قائم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ہمارے یہاں کے ایک مستند عالم جو دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جانبین کی رضامندی کے بعد اس طرح سلامتی کے نام سے مجلس قائم کرنا شرعاً جائز ہے، بلکہ موجبِ ثواب ہے۔ حدیث شریف میں جسے خِطبہ کہتے ہیں، وہ اسی کو کہتے ہیں۔ اس عالم صاحب کا کہنا شرعاً صحیح ہے یا نہیں؟ صورتِ مسئولہ میں جو دو صورتیں پیش کی گئی ہیں، پہلی صورت کو خِطبہ کہتے ہیں یا دُوسری صورت کو؟
جواب:- شرعاً ِخطبہ کا حاصل صرف اتنا ہے کہ مرد یا اس کے اقارب، عورت یا اس کے اقارب کو نکاح کا پیغام دیں، اس غرض کے لئے کوئی اجتماع یا تحائف کا تبادلہ خِطبہ کے لئے ہرگز ضروری نہیں، لہٰذا منگنی یا سلامتی کے نام سے جس اجتماع کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے، اس کو سنت قرار دینا بالکل غلط ہے، بلکہ سنت سمجھ کرایسا کرنا بدعت اور واجب الترک ہے۔

واللہ سبحانہ اعلم
۷؍۱۲؍۱۴۰۴ھ
(فتویٰ نمبر ۲۰۷۸/۳۵ ہ)