0%

مدینہ منوّرہ کی مقدّس فضاؤں میں ختم بخاری شریف کی روح پرورتقریب

بیان: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم
ضبط وترتیب: بنت مولانا عبدالملک العتیق صاحب

مدینہ منوّرہ کی مقدّس فضاؤں میں ختم بخاری شریف
کی روح پرور تقریب

مدینہ منوّرہ میں مولانا عبدالمالک العتیق صاحب فاضل ومتخصص جامعہ دارالعلوم کراچی نے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہم رئیس جامعہ دارالعلوم کراچی کی سرپرستی میں مدرسہ صفہ للبنات تقریباً ۱۳؍سال سے قائم کیا ہوا ہے ۔ گذشتہ سال اس مدرسہ کی صحیح بخاری شریف کی اختتامی تقریب میں شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے آخری حدیث شریف کا درس دیا افادہ عام کے لئے یہ خطاب قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ۔۔ادارہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت والا مدظلہم نے بخاری شریف کا آخری باب اور آخری حدیث شریف پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا:
میری عزیز طالبات! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے تو میں آپ کو ، آپ کے والدین کو ، اساتذہ ، معلمات اور اہل خاندان کو اس بات پر مبارک باد دیتا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ پڑھنے کی توفیق عطافرمائی اور درس نظامی کا جو حصہ خواتین سے متعلق ہے اس کی تکمیل کی اللہ تبارک وتعالیٰ نے توفیق عطافرمائی۔اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے اور جب اللہ تبارک وتعالیٰ کسی عبادت یا دین کے کسی کام کی توفیق عطا فرمائے تو اس وقت دوکام نہایت ضروری ہیں:
ایک یہ کہ اللہ جل شانہ کا شکر اداکرنا کہ اس نے یہ نعمت عطافرمائی، دوسرا کام استغفار کرنا، اس بات پر کہ دین کے اس کام میں جو ہم سے کوتاہیاں ہوئیں، غلطیاں ہوئیں، اس کام کا حق ادانہ ہوسکا، اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ سے استغفار کرے۔ ایک شکر اور ایک استغفار کی ضرورت ہے ۔
یہ صحیح بخاری شریف کا آخری باب ہے مجھ سے کہا گیا ہے کہ یہ باب میں آپ کے سامنے پڑھ دوں اور اس کی تشریح کردوں ۔آپ کے اساتذہ نے جو کچھ پڑھایا ہوگا وہ زیادہ بہتر ہوگا اور اس میں جو علمی باتیں ہیں وہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے استاد صاحب نے پہلے بتادی ہوں یا آئندہ بتادیں گے ۔میں تو اختصار کے ساتھ کچھ ضروری باتیں عرض کرنا چاہوں گا:
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس کتاب کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس ارشادپر ختم فرمایا وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (الانبیاء :۴۷)
اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ ہم قیامت کے دن ایسی ترازویں قائم کریں گے جو سراپا انصاف ہوںگی۔اور اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:وان اعمال بنی آدم وقولھم یوزن بنی آدم کے تمام اعمال اور ان کے تمام اقوال کا وزن ہوگا۔حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب پر اپنی کتاب کو ختم کیا، اس سے درحقیقت ہمیں یہ سبق دینا چاہتے ہیں کہ جو کچھ آپ نے پیچھے پڑھا ہے ، صحیح بخاری شریف کے اندر دین کے تمام شعبوں کا ذکر آیاہے ،اس میں عبادات ، معاملات ، معاشرت کا ذکر آیا ہے اخلاقی احکام بھی ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر ہر شعبہ زندگی سے متعلق امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث شریفہ جمع فرمائی ہیں۔
آخر میں حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باب قائم کیا ۔ یہ بتانے کے لئے کہ یہ ساری تعلیمات تو میں نے تمہارے سامنے بیان کردی ہیں، لیکن ان کا صرف سیکھ لینا ہی کافی نہیں،ان کا صرف پڑھ لینا ہی کافی نہیں بلکہ ہر وقت اب تمہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیئے کہ ایک وقت آنے والا ہے ، جبکہ تمہارے اقوال جو منہ سے نکلے ہوں گے ان کا بھی وزن ہوگا اور اسی وزن پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہوگا۔سورئہ قارعہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ فَأَمَّامَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہ ُ فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ وَاَمَّامَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَاُمُّہُ ھَاوِیَۃٌ(القارعۃ:۶تا ۹)یعنی جس کے ترازو میں اس کے اعمال بھاری ہوں گے تو وہ من پسند زندگی میں ہوگا اور جس کا وزن ہلکا ہوگا، اس کا ٹھکانہ ایک گھڑھا ہوگا اور وہ گڑھا کیا ہے ۔آگے خود ارشاد فرمایا وَمَا اَدْرَاکَ مَاھِیَۃٌ نَارٌحَامِیَۃٌ
آخر میں حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کتاب کو ختم کرتے کرتے ہمیں اور آپ کو متنبہ کررہے ہیں کہ اپنے ہر عمل کے اندر اس بات کی کوشش کرو کہ اس میں وزن پیدا ہواور جب آخرت میں تمہارے اعمال تولے جائیں تو تمہارے میزانِ عمل کا پلڑا بھرا ہوا ہو۔بھرے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھاری ہواور اس میں وزن ہو۔ وزن ہوگاتو نجات ملے گی۔اللہ بچائے وزن نہ ہو ا تو نجات نہ ہوگی ۔ محرومی ہوگی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعمال میں وزن کیسے پیدا ہو؟اعمال میں وزن دوطریقے سے پیدا ہوتا ہے :
بعض اعمال تو ایسے ہیں جن کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے خود اس عمل میں ایک وزن رکھ دیا ہے ۔ کوئی بھی عمل چاہے چھوٹا سا نظر آتا ہو مگر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس میں وزن رکھ دیا ہے تو جب وہ عمل تولا جائے گا تو پلڑا میزان عمل کا بھاری ہوگا ، جھک جائے گا۔
اور دوسری چیز کہ جس سے اعمال میں وزن پیدا ہوتا ہے اخلاص ہے جو بھی عمل اخلاص کے ساتھ کیا جائے گا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کیا جائے گا، اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر کیا جائے گا، اس عمل میں دکھا وا مقصود نہ ہو ،جتانا مقصود نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کوئی عمل کیا جائے اس عمل میں جتنا زیادہ اخلاص ہوگا اتنا ہی وزن ہوگا۔
آپ نے صحیح بخاری شریف میں ہی حدیث شریف پڑھی ہوگی کہ ایک آدمی نے کتے کو پانی پلادیاتھا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کی بنیاد پر اس کی مغفرت کردی اس نے معلوم نہیں کہ کس اخلاص اور کس نیت خالص کے ساتھ یہ عمل کیا تھا کہ اس میں اتنا وزن پیدا ہوگیا کہ اس کا میزان عمل کا پلڑا جھک گیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس پر خاص فضل فرمادیا اور اس کی بخشش ہوگئی۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتا ب کو شروع کیا انما الاعمال بالنیات سے اور اس کا مقصد یہ بتاناتھا کہ سارے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے نیتیں اگر خالص ہوں گی تو ان شاء اللہ تعالیٰ ان کا وزن ہوگا اور فائدہ ہوگا لیکن اگر عمل تو بہت بڑا ہے ، بظاہر دیکھنے میں بہت بڑا نظر آتا ہے لیکن نیت خراب ہے ، نیت اللہ تبارک وتعالیٰ کوراضی کرنے کی نہیں ہے بلکہ نیت اپنی شہر ت حاصل کرنے کے لئے ، نیت اپنا کوئی منصب حاصل کرنے کے لئے ، نیت مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ہے ۔ نیت خالص نہیں ، نیت پیسہ کمانے کی ہے۔نیت شہرت کی ہے ، نیت اپنی بڑائی کی ہے ۔بظاہر دین کا کام ہے لیکن اس کے پیش نظر دنیا کا حصول ہے تو اس عمل کی اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں ایک ذرہ بھی قیمت نہیں، اس کے اندار ایک ذرہ کا بھی وزن نہیں اس صورت میں اللہ بچائے دین کا یہ کام اُلٹا وبال کا سبب ہے ۔
حدیث شریف آپ نے پڑھی ہوگی کہ جہنم دہکائی جائے گی وہ بھی ایسے ایک عالم سے دھکائی جائے گی جو محض ریاکاری کی خاطر اور حب جاہ اور حب مال کی خاطر وعظ کیا کرتاتھا لیکن عمل میں چونکہ اخلاص نہ تھا ، مقصود دنیا تھی اس واسطے اس کے عمل میں کوئی وزن پیدا نہ ہوا۔
میں خاص طورسے بچیوں سے یہ بات کہتا ہوں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دوباتیں ارشاد فرمائی ہیں: ان اعمال بنی آدم وقولھم یوزن یعنی بنی آدم کے اعمال کا بھی وزن ہوگا اور قول کا بھی وزن ہوگا۔یہ نہ سمجھیں کہ کوئی بات منہ سے نکالدی تو بس ختم ہوگئی ہر بات اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں ریکارڈ ہورہی ہے۔باقاعدہ لکھی جارہی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کاا رشاد ہے ۔مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ (قٓ :۱۸)
انسان اپنی زبان سے جو بھی لفظ نکالتا ہے اس پر ایک نگران مقرر ہے ہر وقت لکھنے کے لئے تیار ہے ۔ یہ نہ سمجھیں کوئی بھی بات کہہ دی تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ، اگر کوئی بات ایسی کہہ دی جو (اللہ بچائے) گناہ کی ہے تو وہ انسان کو جہنم میںلے جانے والی ہے ۔
ایک حدیث شریف میں حضور نبی کریم سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ : لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی کوئی چیز اتنی زیادہ خطرناک نہیں جتنی انسان کی زبان ہے ۔اس زبان کو قابو میں رکھنا دین کی بہت بڑی تعلیم ہے ۔اور دوسری حدیث شریف میں فرمایا : قل خیرا والا فاصمت منہ سے کوئی بات نکالو تو بھلائی کی نکالو ورنہ خاموش رہو۔
جھوٹ ، غیبت ، بہتان بڑائی مارنا یہ سب چیزیں زبان کے ایسے گناہ ہیں جو انسان کو اللہ بچائے ہلاکت تک لے جاتے ہیں اور جو بھی اچھے کام ہیں ، اچھی باتیں اور الفاظ زبان سے نکالنا ، جس میں پڑھانا بھی داخل ہے وعظ کہنا بھی داخل ہے ، نصیحت کرنا بھی داخل ہے اور کوئی کلمہ خیر کا کہنا بھی داخل ہے ان تمام کاموں میں وزن اس وقت پیدا ہوگا جب وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کئے جائیں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہوگا ، اس لئے صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات مقصود ہو۔شہرت کی خواہش نہ ہو۔ دنیا کا کوئی بھی مقصد نہ ہو۔ بس یہ سبق ہے جو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آخری باب میں ہمیں اور آپ کو دیا ہے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطافرمائے ۔
اس باب میں حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو حدیث شریف ذکر فرمائی ہے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کلمتان حبیبتان الی الرحمن خفیفتان علی اللسان دوکلمے رحمن کو محبوب ہیں ، زبان میں ہلکے ہیں، یعنی ان کو پڑھنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ثقیلتان فی المیزان ، میزانِ عمل میں بھاری ہیں۔یعنی وہ کلمے جو پڑھے گا اس کے میزانِ عمل میں بہت بھاری ہوں گے وہ کلمے یہ ہیں، سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
سب سے پہلے فرمایا کہ محبوب ہیں رحمن کو یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کو محبوب ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ننانوے اسماء میں سے رحمن کا اس میں خاص طورپر ذکر فرمایا ۔اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کی خاطر یہ کلمے پڑھے گا تو وہ رحمن کی رحمتوں کا مورد بنے گا۔اور فرمایا کہ میزانِ عمل میں ان کا وزن بہت ہے ، بظاہر دیکھنے میں ہلکے ہیں دیکھنے میں معمولی ہیں، چند لمحوں میں بغیر کسی تکلف کے زبان سے ادا ہوجاتے ہیں۔لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے اندر وزن بڑا رکھا ہے ۔دوباتوں سے ، دوچیزوں سے وزن پید ا ہوتا ہے :
۱۔ کوئی عمل ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے بذات خود وزن رکھ دیا ہے ۔
۲۔ جتنا اخلاص زیادہ ہوتا جائے گا اس کا وزن اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا۔
اب یہ دوکلمے ایسے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بذات خود ان کے اندر اتنا وزن رکھ دیا ہے کہ میزان کے اندر بہت بھاری ہوں گے اور جتنے اخلاص کے ساتھ ان کوپڑھا جائے گا اتنی ہی اصل وزن میں اور زیادتی ہوگی اور اضافہ ہوتا چلا جائے اور یہ دو کلمے سبحان اللہ وبحمد ہ ، سبحان اللہ العظیم ہیں۔
حدیث شریف میں آپ نے پیچھے پڑھا ہوگا کہ سو مرتبہ اگر کوئی اسے پڑھ لے تو اس بندے کے گناہ اگر ریت کے ذرات کے مانندبھی ہوں تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو معاف فرمادیتے ہیں ۔
یہاں گناہ سے مراد صغائر ہیں چھوٹے چھوٹے گناہ اللہ تبارک وتعالیٰ معاف فرمادیتے ہیں ۔ اور کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے، میرے شیخ حضرت اقدس ڈاکٹر عبد الحئی عارفی قدس سرہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ سبحان اللہ کلمۂ تنزیہ ہے ۔ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات بے عیب ہے اور بحمد ہ کا کلمہ، یہ شکر کا کلمہ ہے کہ اس کے اندر اتنے کمالات ہیں کہ وہ تعریف کے قابل ہیں اور جو ذات بے عیب ہو اور خوب تعریف کے لائق ہو، تو ظاہر ہے کہ اس سے محبت بھی ہونی چاہئے۔ لہٰذا سبحان اللہ وبحمد ہ کا کلمہ پڑھنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جتنا آدمی اس کلمے کو پڑھے گا اتنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت پیدا ہوگی ۔
اور سبحان اللہ العظیم ، اس کلمہ میں عظیم کا لفظ ہے ، باری تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والا ہے اور جو ذات جتنی عظیم اور جلیل القدر ہوتی ہے اتناہی اس کا رعب دل پر ہوتا ہے ۔
سبحان اللہ العظیم کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی خشیت اور اس کا رعب پیدا کردیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں جب جمع ہوجاتی ہیں، ایک طرف محبت اور ایک طرف عظمت اور رعب ان دونوں کے مجموعہ کا نام خشیت ہے اسے خشیت کہتے ہیں یعنی اللہ تبار ک وتعالیٰ کا خوف ، اللہ تعالیٰ کا رعب دل میں محبت کے ساتھ ہوتو اس کو خشیت کہتے ہیں ۔
اور خشیت ہی کوقرآن کریم میں علماء کرام کی نشانی قرار دیا ہے ۔ فرمایااِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمَائُ (الفاطر:۲۸) علماء وہ ہیں جو ڈرتے ہیں ، اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت رکھتے ہیںحضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اخیر میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ کوئی عالم بن رہا ہے ، ،آپ عالمہ بن رہی ہیں تو انہیں فکر ہونی چاہیئے کہ صحیح معنوں میں عالمہ بن جائیں ۔خشیت ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے ۔
خشیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تبار ک وتعالیٰ کی محبت اور اس کی عظمت کا خیال کرکے اس بات کی فکر دل میں پید اہوجائے کہ میرا کوئی کام بھی اللہ تبار ک وتعالیٰ کی مرضی کے خلاف نہ ہو اسی کا نام خشیت ہے ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فضل وکرم سے خشیت کی یہ دولت عطافرمادیں تو سمجھو کہ علم حاصل ہوگیا۔اور اگر خشیت نہ ہوتو علم کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ایک ذرہ بھی علم کی قیمت نہیں۔ایک جاہل ہے اور اس کے دل میں خشیت ہے اور وہ علماء سے پوچھ پوچھ کر اپنی زندگی گذارتا ہے تو حقیقت میں وہ نجات پاجائے گا۔
لیکن اگر عالم ہے اور خشیت نہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت دل میں نہیں اس کے احکام پر عمل نہیں تو وہ علم اس کے کام کا نہیں۔ علم کوکام میں لانے اور مفید بنانے کے لئے خشیت بہت ضروری ہے ۔
آخری بات حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے درس کی یہی ہے ، ہمیشہ اس بات کو اپنے پلے باندھ لیں ۔اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فضل وکرم سے آپ کو علم نافع اور عمل صالح عطافرمائے ۔اور آپ کے تمام مقاصد میں کامیابی عطافرمائے ۔آمین۔وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ اجمعین۔

٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ ربيع الاول 1438ھ)

2019-05-12T16:32:02+05:00اپریل 21st, 2019|