خطاب : حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
ضبط و ترتیب:مولاناراشدحسین صاحب
فاضل و متخصص جامعہ دارالعلوم کراچی

مدارس رجسٹریشن کا تاریخی پس منظر اور مدارس کی بنیادی روح

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے ۱۸ جمادی الثانیہ ۱۴۴۶ھ مطابق ۱۸ دسمبر ۲۰۲۴، بروز بدھ جامعہ دارُالعلوم کراچی کے طلبہ سے ماہانہ مجلس کی ترتیب سے خصوصی خطاب فرمایا،جس میں حضرت والا مدظلہم نے دینی مدارس کی تاریخ، دینی علوم کے تحفظ کیلئے اکابر علمائے دیوبند کی کاوشیں،مدارس رجسٹریشن کا تاریخی پس منظر اور رجسٹریشن سے متعلق ہونے والی کوششیں،سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہونے کا مطلب، اور وزارتِ تعلیم میں رجسٹرڈ ہونے کا فرق، اور اس طرح کے دیگر موضوعات پر بصیرت افروز گفتگو فرمائی، نیزدینی مدارس کی تعلیم کا مقصد اور دینی مدارس کی نظریاتی روح پر جامع گفتگو فرمانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو اہتمام سے اپنی تعلیم پر توجہ دینے، ذکراللہ اور رجوع الی اللہ کی طرف بھی متوجہ کیا۔یہ خطاب-جو ایک گھنٹے سے زائد وقت پر مشتمل ہے- دینی مدارس کیلئے پالیسی ساز خطاب کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے مدارس سے وابستہ ہرطالب علم،ہر استاد،اور ہر صاحبِ فکر نظر کے فائدے کیلئے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی نظرِ ثانی کے بعد شاملِ اشاعت کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ادارہ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد خاتم النبیین وإمام المرسلین وقائد الغرّ المحجّلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، وعلی کل من تبعھم بإحسان إلی یوم الدین۔

حضراتِ اساتذۂ کرام اور میرے طالب علم ساتھیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
مجھے افسوس ہے کہ اس سال آپ حضرات سے افتتاحی اجلاس کے بعد اجتماعی طور پر بات کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ اس کی ایک وجہ تو میری مصروفیات ہیں، اور دوسرے یہ کہ جب کبھی خیال آتا تھا تو امتحان قریب ہوتا تھا، لہٰذا یہ سوچ کر کہ آپ حضرات امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہوں گے،اس معاملے کو مؤخر کیا جاتا رہا ۔ لیکن اس وقت ایک فوری ضرورت بھی پیش آ گئی، اور وہ یہ کہ آپ سب حضرات جانتے ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن کے سلسلے میں ایک بحث پورے ملک میں چل رہی ہے کہ مدارس کو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹر کیا جائے یا وزارتِ تعلیم کے تحت؟ اس سلسلے میں ہمیں کافی تگ و دو بھی کرنی پڑی، اور اسی سلسلے میں میں کل اور پرسوں میرا اسلام آباد بھی جانا ہوا۔بہت سے حضرات اس بات کے خواہش مند تھے ،اور میرے کچھ عزیز طلبہ نے بھی یہ خواہش ظاہر کی کہ اس سلسلے میں ہمیں بھی صورتحال سے باخبر کیا جائے۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ اس موقع پر اس معاملے کی صحیح حقیقت آپ حضرات کو بتائی جائے، اور اب تک جو کارروائی ہوئی ہے، اس کا خلاصہ آپ حضرات کے سامنے پیش کیا جائے۔
عالم ِاسلام پر مغربی طاقتوں کے تسلّط سے پہلے کا نظامِ تعلیم
سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارے موجودہ مدارس کی حیثیت کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ انگریز کے آنے سے پہلے پورے عالمِ اسلام میں ایک ہی نظامِ تعلیم رائج تھا، اس میں دینی اور دنیاوی علوم کی کوئی تفریق نہیں تھی، بلکہ ایک ہی نظامِ تعلیم کے تحت مفسّر بھی پیدا ہوتے تھے، محدّث بھی، فقیہ بھی، ریاضی دان بھی، فلسفی بھی اور سائنس دان بھی پیدا ہوتے تھے۔
مسلمانوں نے علمِ ریاضی اور علمِ طب کی جو عظیم خدمت کی ہے، اسے آج بھی دنیا مانتی ہے ۔ یہ خدمات انجام دینے والوں میں بہت سے حضرات وہ ہیں جو ایک طرف محدّث بھی تھے، فقیہ بھی تھے، اور ساتھ ہی طبیب بھی تھے، سائنسدان بھی تھے،اور فلسفی بھی تھے۔علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ جن کی کتابیں ہم پڑھتے ہیں، جن کی تفسیرجلالین ہمارے نصاب میں شامل ہے، ان کی کتابیں دوسرے دنیاوی علوم پر بھی موجود ہیں۔ علامہ ابن رشد رحمۃ اللہ علیہ جو مالکی فقیہ ہیں اور فقہ مالکی کا بہت بڑا مرجع ہیں، وہ ایک طرف فقیہ تھے اور دوسری طرف بہت بڑے فلسفی بھی تھے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فقیہ بھی تھے، فقہ کے موضوع پر ان کی تفصیلی کتاب کئی جلدوں میں''الوسیط'' کے نام سے موجود ہے جو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر ہے، آپ جانتے ہیں کہ وہ فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے فلسفی بھی تھے۔ چنانچہ پہلے دین و دنیا کی تفریق کے بغیر علوم اس طرح پڑھائے جاتے تھے کہ دین کا بنیادی علم سب کو حاصل ہوتا تھا،پھر ہر ایک کسی اختصاص کا بھی حامل ہوجاتا تھا، چنانچہ ایک طرف کوئی ریاضی دان ہے، سائنسدان ہے، طبیب ہے، تو وہ مسلمان ریاضی دان ہوتا، مسلمان سائنسدان ہوتا، اور مسلمان طبیب ہوتا، یعنی دین اس کے اندر رچا بسا ہوتا، اور ساتھ ہی وہ متعلقہ علوم میں بھی ماہرہوتا تھا۔
برصغیر میں مغربی نظامِ تعلیم کا غلبہ اور دینی علوم کے تحفظ کی تحریک
یہ سلسلہ اس وقت تک چلا آتا تھا جب تک کہ عالم ِاسلام پر مغربی طاقتوں کی حکومت قائم نہیں ہوئی، لیکن جب ہمارے برصغیر پر انگریز آیا یا مغربی طاقتیں آئیں،اور ان سے پہلے یہاں پر ڈچ حکومتیں بھی رہیں، فرانسیسی حکومتیں بھی رہیں، اور دوسرے عرب ممالک میں زیادہ تر فرانس کا غلبہ رہا ،تو جب مغربی طاقتیں سیاست پر غالب آئیں تو انہوں نے ہمارے نظامِ تعلیم کو بالکل تبدیل کر کے اس کو ایک لادینی نظام بنا دیا جس میں دین کا کوئی تصوّر نہیں تھا۔ یہی ہر جگہ ہوا ہے، اور خاص طورپربرصغیر میں ایسے کالج اور یونیورسٹیاں قائم کر دی گئیں جن میں دین کے علوم کی کوئی پرچھائیں نہیں تھیں، بس نام کی اسلامیات پڑھا دی جاتی تھی جس میں طالب علم کو نہ یہ پتہ ہوتا تھا کہ نماز کیسے پڑھی جاتی ہے ؟ نماز کے کیا احکام ہوتے ہیں اور طہارت کے کیا احکام ہوتے ہیں؟ نہ روزے اور حج وزکوۃ کے احکام کا کچھ پتہ ہوتا تھا ،ایسی یونیورسٹیاں انہوں نے قائم کر دیں۔
ان یونیورسٹیوں کے قائم کرنے کے بعد ہمارے اکابر علماء؛ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ،اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے تو انگریز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ۱۸۵۷ء؁ کی جنگ میں حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمۃ اللہ علیہ نے باقاعدہ انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اس جہاد میں ایک حصے پر فتح بھی پا لی اور وہاں ان کی حکومت بھی قائم ہوئی ۔کیرانے میں ان کی حکومت کا ایک مرکز قائم ہوا اور وہاں یہ نعرہ بلند ہوتا تھا کہ:'' نام اللہ کا اور حکم رحمت اللہ کا ۔''یعنی حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا۔ اور اسی میں شاملی کے محاذ کے پر حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے باقاعدہ شرکت کی اور ان کا ایک توپخانہ بھی قبضے میں لے لیا اور جہاد کا سلسلہ شروع کیا،لیکن مقدّرات ہیں کہ وہ جہاد اس معنیٰ میں کامیاب نہ ہو پایا کہ اس جہاد کے نتیجے میں مکمل فتح نصیب نہ ہوئی، اور انگریز نے سخت تشدّد کر کے اس تحریک کو دبا دیا۔
جب تحریک دب گئی تو اس وقت ہمارے ان حضرات نے یہ محسوس فرمایا کہ اب اس وقت جہاد کے ذریعے اور تلوار کے ذریعے انگریز کو فتح کرنا مشکل ہے، لیکن اس نے جو نظامِ تعلیم جاری کر دیا ہے، اس نظام تعلیم کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے قرآن و سنت کے علوم ختم ہو جائیں، اور کوئی قرآن پڑھنے والا، حدیث جاننے والا اور فقہی مسائل بتانے والا باقی نہ رہے۔ اس خطرے کے پیشِ نظر انہوں نے کہا کہ ہم کسی طرح کم از کم اپنے قرآن و حدیث اور فقہ کے علوم کو محفوظ کر لیں، چنانچہ اس غرض کے لیے دارُالعلوم دیوبند قائم ہوا ۔
دارالعلوم دیوبند کے قیام کا اصل مقصد
دارُالعلوم دیوبند کے قیام کا اصل مقصد یہ تھا کہ غیر ملکی اور غیرمسلم طاقتوں کے اس منصوبے کے سامنے بند باندھا جائے کہ مسلمانوں کے دلوں سے قرآن و حدیث کو کھرچ دیا جائے ،اور ان کے لیے ایسے ادارے قائم کر دیے جائیں جہاں پر یہ دنیا کی تعلیم حاصل کر کے اسی میں مست ہو جائیں گے، اسی میں کھائیں کمائیں اور اسی کے اندر برتری حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہیں، اور اس طرح وہ ذہنی طور پر ہمارے غلام ہو کر زندگی گزاریں ۔ دیوبند کی یہ تحریک درحقیقت اسی کام کے لیے تھی کہ مسلمانوں کے تشخص اور اپنے قرآن و سنت کے علوم کو صحیح شکل میں محفوظ رکھنے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا جائے، اور ایسے لوگ پیدا کیے جائیں جو قرآن و سنت کے علوم میں ماہر ہوں، لوگوں کو صحیح دینی رہنمائی فراہم کر سکیں، کوئی مسئلہ پوچھے تو اسے وہ مسئلہ بتا سکیں اور کوئی دینی رہنمائی حاصل کرنا چاہے تو ان سے رہنمائی حاصل کر لے۔ یہ تھا مقصود درحقیقت دارالعلوم دیوبند کا۔
پاکستان میں دینی مدارس کا قیام
جب پاکستان بنا تو پاکستان بننے کے بعد ہمارے حضرت والدِ ماجدمفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ تعالیٰ سرہٗ- بانیٔ جامعہ دارُالعلوم کراچی- نے ایک تقریر میں یہ بات فرمائی کہ پاکستان بننے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم واپس اس جگہ پر پہنچ جاتے جو ہمارے اسلاف کا اصلی طریقہ تھا کہ ایک ایسا نظامِ تعلیم ہو جس میں ہر علم و فن کی تعلیم دی جائے اور اس میں دین بھی رچا بسا ہو اور کچھ قرآن و حدیث کے علوم کے اندر اختصاص رکھنے والے بھی پیدا کیے جائیں، جس کا طریقہ یہ تھا کہ ایک خاص حد تک سب لوگ ایک جیسی تعلیم حاصل کریں، اس کے بعد جو شخص ڈاکٹر بننا چاہتا ہے وہ ڈاکٹر بن جائے، جو انجینئر بننا چاہتا ہے وہ انجینئر بن جائے، جو عالم اور مفتی بننا چاہتا ہو وہ عالم و مفتی بن جائے، لیکن سب دین کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں ۔
حضرت والد صاحب قدس سرہٗ فرماتے تھے کہ ہم نے شروع میں اس کی کوشش کی کہ کسی طرح ایسا نظام تعلیم ملک میں جاری ہو جائے، لیکن چونکہ جو ارباب حکومت تھے وہ اسی نظامِ تعلیم سے نکل کر آئے تھے جو علی گڑھ کا نظامِ تعلیم تھا اور جو انگریز نے قائم کیا تھا، لہذا ان کے ذہن اس کو قبول کرنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھے۔ جب ہم نے یہ دیکھا کہ ابھی ذہن اس کے لیے تیار نہیں ہیں اور پاکستان میں صحیح اسلامی نظام اور صحیح نظامِ تعلیم قائم کرنے کے لیے ہمیں بڑی طویل جدوجہد کرنی پڑے گی، تو ایسا نہ ہو کہ اس طویل جدوجہد میں ہماری قرآن و سنت کے علوم کی یہ گٹھڑی ضائع ہو جائے، لہذا یہ سوچ کر یہاں مدارس قائم کیے گئے، اور تب حضرت والد صاحب قدس سرہٗ نے یہ دارُالعلوم ۱۹۵۱ء؁میں قائم کیا ۔ اس سے پہلے کوشش یہ رہی کہ ملک میں شاید کوئی ایسا نظام بن جائے کہ جس کے نتیجے میں ہم یکساں نظام تعلیم قائم کر سکیں، لیکن جب نہیں کر سکے تو پھر وہی طریقہ اپنانا پڑا جو دارالعلوم دیوبند کا تھا ۔ اسی غرض کیلئے یہ دارالعلوم ۱۹۵۱ء؁میں میں نانکواڑے میں قائم ہوا، اور اس کے بعد پھر الحمدللہ سارے ملک میں مدارس قائم ہوتے چلے گئے۔
مدرسے کا بنیادی مقصد اور ایک بے جا اعتراض
اس پس منظر میں آپ دیکھیے کہ ان مدارس کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ دین کو اور دین کے علوم کو اپنی صحیح شکل و صورت میں باقی رکھنا، اس کی حفاظت کرنا،اور ایسے لوگ تیار کرنا جو قرآن و حدیث کے علوم کے حامل ہوں، یہ ہے بنیادی مقصد۔
یہ بات بہت سے لوگوں کے حلق سے نہیں اترتی ،اور اس کی بنا پر وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اتنا بڑا دارُالعلوم قائم کر رکھا ہے ، مگر اس سے نہ کوئی ڈاکٹر نکلتا ہے نہ کوئی انجینئر نکلتا ہے، نہ کوئی قانون دان نکلتا ہے اور نہ اس سے کوئی سائنسدان نکلتا ہے۔گویا ان کی نظر میں یہاں پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی کوئی قدر وقیمت ہی نہیں۔حالانکہ جو ڈاکٹر بنتا ہے، دنیا میں کوئی شخص اس سے یہ نہیں کہتا تم قانون دان کیوں نہیں ہو؟ جو قانون دان ہے، وکیل ہے اس سے کوئی نہیں کہتا تم ڈاکٹر کیوں نہیں ہو؟ کوئی انجینئر ہے تو اس سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم حساب میں کیوں ماہر نہیں ہو؟ ریاضی دان کیوں نہیں ہو؟ اللہ تعالی نے اختصاص کے مختلف شعبے رکھے ہیں اور ان مختلف شعبوں میں لوگ علم حاصل کرتے ہیں۔
اسی طرح دارالعلوم یا مدرسے علومِ دین کا اختصاص پیدا کرنے والے لوگ پیدا کرنے کے لیے بنے ہوئے ہیں، ان سے اگر کوئی انجینئر یا ڈاکٹرنہیں نکلتا تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ یہ ایسا ہی جیسے کوئی پوچھے کہ اس میڈیکل کالج سے انجینئرکیوں نہیں پیدا ہو رہے یا قانون دان کیوں نہیں پیدا ہو رہے؟ ارے بھائی وہ کالج ایک خاص مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے، اسی طریقے سے یہ مدرسہ بھی کسی خاص مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے اور وہ خاص مقصد یہ ہے کہ قرآن و سنت کے اور دین کے علوم کومضبوطی سے قائم محفوظ رکھا جائے۔
اسلامی دنیا میں مدارس سے یونیورسٹیوں تک کا سفر اور اس کے نتائج
مدرسے کا اصل مطمحِ نظر یہ ہے کہ قرآن و سنت کا صحیح علم رکھنے والے لوگ تیار کیے جائیں، اور جب قرآن و سنت کا صحیح علم رکھنے والے موجود ہوں گے، اور صرف علم ہی نہیں بلکہ علم کے ساتھ اس علم پر عمل کرنے کا جذبہ رکھنے والے ہوں گے ،تو ان شاءاللہ یہ کبھی کلمۂ حق سے باز نہیں رہیں گے،اور اس طرح دین کا تحفظ ہوتا رہے گا۔
میں ساراعالم اسلام دیکھ کر آیا ہوں کہ جہاں یہ مدرسے – جیسے ہمارا اور آپ کا مدرسہ ہے -ختم ہو گئے، اور ان کی جگہ یونیورسٹیاں بن گئیں، ان میں کلیۃُ الشریعہ ہو گیا، کلیۃُ اصول الدین ہو گیا، عام یونیورسٹی کے مزاج کے مطابق اس قسم کے کلیات قائم ہو گئے تو اس کے نتیجے میں ہوا یہ کہ ایک تو- اللہ بچائے- مدارس کے اندر اتباع ِسنت کی جو ذہن سازی کی جاتی ہے، وہ تقریباً مفقود ہو گئی۔ اور ایک صحیح مسلمان کی شکل و صورت، اس کا حلیہ، اس کا لباس،اور اس کی زبان، یہ رفتہ رفتہ ختم ہوتی چلی گئی ۔اگرچہ وہاں بھی علماء ہیں لیکن وہ درد دل رکھنے والے جیسے دارالعلوم دیوبند کے اور ہمارے مدارس کے تھے، بہت کم ہیں۔ الحمدللہ نایاب نہیں ہیں، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے وہاں پر بھی ایسے علماء موجود ہیں، لیکن ان کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، اور کلمۂ حق کہنا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔
آپ جا کے دیکھیں، بہت سے ممالک ہیں جہاں جمعہ کے خطبے باقاعدہ حکومت کی طرف سے لکھے ہوئے آتے ہیں کہ بس یہ خطبہ آپ کو دینا ہے۔ میں ایک مرتبہ ایسے مسلمان ملک میں گیا جس کی بھاری اکثریت تقریباً ۹۰ فیصد سے زیادہ مسلمان ہے، اتفاق سے جمعہ کا دن تھا تو وہاں جا کر ایک مسجد میں جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ امام صاحب تشریف لائے خطبہ دیا، تو خطبے میں اوّل سے لے کر اخر تک، پہلے خطبے اور دوسرے خطبے؛ دونوں میں ایک ہی موضوع تھا، اور وہ بادشاہِ وقت، صدرِ مملکت کی تعریف و توصیف اور اس کے کارناموں کا بیان، اس کے علاوہ اس میں کوئی لفظ نہیں تھا ۔ معلوم ہوا کہ وہ خطبہ سرکاری طور پر دیا گیا ہے کہ یہ پڑھنا ہے، اس طرح کی نظیریں سارے عالم اسلام کے اندر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں، لیکن الحمدللہ بر صغیر میں ہمارے ان اکابر علماء کی بدولت یہ فضا نہیں ہے کہ کچھ بھی ہوتا رہے اور ہم گونگے شیطان بن کے بیٹھے رہیں ۔الحمدللہ یہاں کلمۂ حق کہنے والے موجود ہیں،اور وہ کیوں موجود ہیں؟ ان مدارس کی وجہ سے، مدارس کی تعلیم کی وجہ سے، مدارس کی تربیت کی وجہ سے۔ الحمدللہ یہاں پر ایسا نہیں ہو سکتا کہ منکرات کے اوپر نکیر نہ ہو۔
مدارس کی روح،مدارس کا مزاج اور ان کو برقرار رکھنے کی صورت
ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا عملی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کون سی حکومت آ رہی ہے؟ کون سی جا رہی ہے؟ ہمیں اس سے غرض نہیں، اگر اچھا کام کرے گی تو ہم اس کے ساتھ ہیں ،اگر کوئی بُرا کام کرے گی تو ہم علی الاعلان اس کو غلط کہیں گے۔ ہماری کسی کے ساتھ ضد نہیں ہے، نہ حکومت سے، نہ اپوزیشن سے، نہ کسی اور پارٹی سے، کسی سے ضد نہیں ہے۔ ہم دین کے طالب علم ہیں اور دین کے طالب علم ہونے کے ناطے جو حق ہے اس کو حق کہیں گے اور جو باطل ہے اس کو باطل کہیں گے۔ یہ مزاج ہے مدارس کا، اور اس مزاج کو کس طرح برقرار رکھا جائے؟ اس مزاج کو برقرار رکھنے کی واحد صورت وہ ہے جو ہمارے اکابر نے دارالعلوم دیوبند میں اختیار کی اور اس کے بعد پھر پاکستان میں بھی اختیار کی گئی، اور وہ یہ کہ :
•= ہمیں حکومت سے کوئی امداد نہیں لینی، حکومت سے ایک پیسہ نہیں لینا ۔جب کوئی آدمی پیسہ لے لیتا ہے۔ تو پھر وہ پیسہ دینے والے کا احسان مند ہو جاتا ہے، اور اس کے ساتھ بات کرنے میں جھجھکتا ہے۔سوچتا ہے کہ یہاں سے تو پیسے آتے ہیں اگر پیسے بند ہو گئے تو ہم کیا کریں گے؟لہٰذا ایک تو یہ کہ حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لینا۔
•= اور دوسرے یہ کہ اپنے ادارے کو، اپنے مدرسے کو حکومت کے تسلّط میں نہیں دینا ۔ آزاد رہ کر دین کا کام کرنا ہے۔
یہ ہے ان مدارس کی بنیادی روح، اب فرض کرو کہ اگر یہ مدارس کسی طرح حکومت کے تسلط میں چلے جائیں تو اس سے ان کا جو بنیادی مقصد اور ان کی جو بنیادی روح ہے وہ فنا ہو گئی۔ اگر ہم حکومت کے پیسوں اور حکومت کی مختلف چیزوں کے محتاج ہو گئے تو پھر ہماری حق کی گواہی متاثر ہوگی۔
سوسائٹیز ایکٹ کیا ہے ؟
اب اس بنیادی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے سمجھیے کہ سوسائٹیز ایکٹ کیا ہے اور وزارت تعلیم کیا ہے؟ جب سے پاکستان قائم ہوا، اس وقت سے بلکہ اس سے بھی پہلے ہندوستان میں بھی، سارے مدارس کو ہمارے اکابر نے سوسائٹیز ایکٹ کے اندر رجسٹرڈ کروایا۔ یہ ایسے ہی الل ٹپ نہیں ہو گیا، بلکہ اس کے پیچھے ایک فکر تھی ۔ لیکن اس فکر کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سوسائٹیز ایکٹ کیا ہے؟
سوسائٹیز ایکٹ ایک قانون ہے جس میں لوگوں کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ آپ کو کسی بھی مقصد کے لیے کوئی غیر سیاسی ادارہ یا کوئی غیر سیاسی انجمن بنا نے کا اختیار حاصل ہے، اس میں تعلیم بھی ہو سکتی ہے، اس میں فنونِ لطیفہ بھی ہو سکتے ہیں، اس میں ادب بھی ہو سکتا ہے، اس میں شاعری بھی ہو سکتی ہے، اس میں -اللہ بچائے -موسیقی یا آلاتِ موسیقی کی کوئی انجمن بھی ہو سکتی ہے۔ غرض کوئی بھی ایسا غیرسیاسی پرائیویٹ ادارہ جو کسی خاص مقصد کے تحت قائم کیا گیاہو، سوسائٹیز ایکٹ کے تحت اسے رجسٹر کر لیا جاتا ہے۔ رجسٹر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس کو تسلیم کر لیا گیا کہ یہ کوئی غیر قانونی چیز نہیں ہے۔ بس اتنا مقصد ہے اس ایکٹ کا۔
اب ہم ہمارے اکابر نے مدارس کو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کروایا ،کیونکہ ظاہر ہے جب مدرسہ ہے تو اسے اگر غیر قانونی سمجھا جائے تو وہ چلے گا کیسے؟ لہذا اسے کوئی قانونی حیثیت تو دینی ہی پڑے گی، اس کے لیے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کو اختیار کیا گیا کہ ہم اس میں اپنے مدرسے کو رجسٹرڈ کرائیں گے۔ اس سوسائٹیز ایکٹ میں صرف یہ ہے کہ آپ اپنی کوئی مجلسِ منتظمہ بنا لیں اور اس میں اپنے اغراض و مقاصد لکھ دیں کہ ہمارے یہ اغراض و مقاصد ہیں۔ اغراض و مقاصد درج کرنے کے بعد بس اسے وہاں پر رجسٹر کروالیں اور اس کے بعد اب آپ کے جو اغراض و مقاصد ہیں، اس دائرے کے اندر آپ آزاد ہیں کہ جس طرح چاہیں کام کریں، بشرطیکہ کوئی غیر قانونی کام نہ کریں، کوئی چوری نہ کریں اور رشوت نہ دیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس دائرے میں رہتے ہوئے آپ اپنے اعمال میں آزاد ہیں، اور اپنے اغراض و مقاصد کے تحت جو طریقہ اختیار کرنا چاہیں اس کے لیے آپ کو آزادی حاصل ہے۔
افغان جہاد کے بعد سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی بندش
تقریباً ۶۰ سال کے قریب یا کچھ کم و بیش عرصے سے سارے مدارس اسی ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے چلے آ رہے تھے، کہ اچانک ۶۰ سال کے بعد ایک واقعہ پیش آتا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا کے کان کھڑے ہوگئے۔اس واقعے کا پسِ منظر یہ ہے کہ جب تک کہیں دیہات میں یا شہروں میں چھوٹے موٹے مدرسے تھے، اور نہ ان کی کوئی بہت بڑی عمارت تھی، نہ ان میں کوئی بہت زیادہ طلبہ کی تعداد ہوتی تھی، اور نہ وہاں کوئی بہت زیادہ انتظامات ہوتے تھے، اس وقت تک یہی سوچا جاتا تھا کہ چلو یہ مولوی ملّا جو کچھ کر رہے ہیں انہیں کرنے دو،یہ اپنے کام میں لگے رہیں۔ لیکن اس کے بعد جب افغانستان کا جہاد پیش آیا تو اس وقت ساری مغربی طاقتوں کے کان کھڑے ہوئے کہ افغانستان کے یہ طالبان ہیں سارے کے سارے کہاں سے آئے ہیں؟ تو پتہ چلا کہ جی یہ تو مدرسوں کے پڑھے ہوئے ہیں۔ بس پھر انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ مدرسہ تو بڑی خطرناک چیز ہے۔ اقبال نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ:
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
مُلا کو ان کے کوہ و دمَن سے نکال دو
مُلا جب تک ہے اس وقت تک ہمارے مقاصد کامیاب نہیں ہو سکتے، لہذا دنیا کے جو کار پرداز ہیں، یہ بات ان کے دماغوں میں بیٹھ گئی اور ان کے دلوں میں آگیا کہ یہ مُلا خطرناک چیز ہے۔ پہلے ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ مسجد تک محدود ہے، تھوڑا بہت قرآن پڑھا دیا، کوئی حفظ کرادیا،اور یہ بیچارہ صرف اسی حد تک پڑھنے پڑھانے میں مصروف ہے، لیکن یہ تو خطرناک مخلوق ہے، یہ پتہ نہیں کب کیا انقلاب برپا کر دے؟ لہٰذا اس کو کسی طرح باندھو۔ چنانچہ اس کا پہلا قدم یہ ہے کہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت مدارس کی رجسٹریشن بند کردی گئی۔
رجسٹریشن بند ہونے سے دینی مدارس کی مشکلات میں اضافہ
میں یہ آپ سے آج سے بیس پچیس سال پہلے کی بات کر رہا ہوں کہ رجسٹریشن بند کر دی گئی اور کہا گیا کہ اب کوئی مدرسہ رجسٹر نہیں ہوگا۔ رجسٹر نہ ہونے کے معنیٰ یہ کہ اس کا کوئی قانونی وجود نہیں ہے، اور چونکہ قانونی وجود نہیں ہے لہذا بینک میں اکاؤنٹ نہیں کھول سکتے۔ بینک میں اکاؤنٹ تو اس کا کھلے گا جس کا کوئی قانونی وجود ہو۔ اور اس میں کہیں غیر ملکی طلبہ کو ویزہ نہیں دیا جائے گا۔مدّتِ دراز تک رجسٹریشن کا دروازہ بالکل بند رہا ہے۔ [ آج کل مشکل یہ ہے کہ آدمی کوئی بات زبان سے نکالے تو ایک لمحے میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، اس لیےسارے معاملات بہت تفصیل سے میں نہیں بنا سکتا۔] اب ہوا یہ کہ ایک طرف رجسٹریشن بند ہو گئی، اور بنک اکاونٹ نہ کھلنے کی وجہ سے مدارس کو لین دین کے معاملات میں پریشانی ہونے لگی کہ ہر چیز میں کس طرح نقد نقد کام کیا جائے؟ اور لوگ تعاون کیلئے دور سے کس طرح پیسے بھیجیں؟ دوسرا سلسلہ یہ شروع ہوا کہ ہر مدرسے کے پاس ایجنسیاں آرہی ہیں، کبھی کوئی ایجنسی آ کے کہتی ہے کہ نکالو کیا ہے تمہارے پاس؟ کبھی کوئی آ کے کہتی ہے کہ ہمیں یہ معلومات حاصل کرنی ہیں کہ تمہارے پاس کتنے طلبہ اور کتنے اساتذہ ہیں؟اور تمہارے پاس کتنا پیسہ آتا ہے؟ یہ سب سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
جو بڑے مدرسے ہیں، ان میں تو الحمدللہ انہیں دخل اندازی کی زیادہ جرأت نہیں ہوتی تھی، لیکن جو بیچارے چھوٹے مدرسے ہیں، یا دور دراز علاقوں میں اور گاؤں دیہات میں واقع ہیں، وہاں پر علاقے کا کوئی تھانیدار پہنچ جاتا اور کہتا کہ تم اپنی ساری معلومات ہمیں فراہم کرو، کہاں سے تمہارے پاس پیسہ آرہا ہے اور کہاں پر خرچ کررہے ہو؟ اس صورتحال سے وہ بیچارے پریشان ہوتے تھے،اور اس پریشانی کی وجہ سے مدارس چاہتے تھے کہ کسی طرح ہماری رجسٹریشن کھلے۔
وزارتِ تعلیم میں رجسٹر ہونے پر آمادگی کا پس منظر
میں اس وقت تک وفاق المدارس میں کوئی عہدہ نہیں رکھتا تھا ،چنانچہ اس وقت پرویز مشرف کے زمانے میں وفاق نے بات کی اور مذاکرات ہوتے رہے۔یہاں تک کہ مذاکرات کے بعد سوسائٹی ایکٹ میں ایک دفعہ کا اضافہ کیا گیا جو خالص دینی مدارس کے لیے تھی،اور ان کو جو پریشانی ہورہی تھی وہ اس دفعہ ۲۱ ذریعے دور کی گئی، مثلاً اس میں کہا گیا کہ ہم مدارس میں کوئی عسکری تربیت نہیں دیں گے، فرقہ واریت کو فروغ نہیں دیں گے، اگرچہ ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ علمی طور پر مذاہب کا تقابل کیا جا سکتا ہے،لیکن عوامی سطح پرنفرتیں پھیلانے سے پرہیز کیا جائے گا۔ اس طرح کی دیگر کچھ باتیں لکھ دی گئیں،اور اس پرہمارے وفاق المدارس کے حضرات اور وفاق کے ساتھ جو دوسرے وفاق ہیں، وہ بھی اس پر متفق ہو گئے اور اس طرح اکیسویں دفعہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کے اندر شامل ہو گئی۔باوجود اس کے کہ وہ دفعہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ شامل ہو گئی، لیکن پھر بھی رجسٹریشن نہیں کھولی جارہی تھی، اور جب کوئی مدرسہ جاتا تو کہا جاتا کہ آپ کی رجسٹریشن نہیں ہوسکتی۔
آخرِ کار انتہائی شدید دباؤ کے نتیجے میں یہ کہا گیا کہ اچھا آپ ایسا کرو کہ آپ تو ایک تعلیمی ادارہ ہیں، لہذا اس کو سوسائٹیز ایکٹ کے بجائے وزارتِ تعلیم کے اندر رجسٹر کروائیں۔ مدارس اس پر مجبور ہوگئے،اس لیے کہ وہ نہ کوئی اکاؤنٹ کھول پارہے تھے، نہ انہیں کوئی سہولت میسر تھی، اور پھر روز آآ کر سرکاری ادارے انہیں تنگ کرتے تھے، اس لیے اس مصیبت سے نجات پانے کیلئے مدارس نے کہا کہ اچھا بھئی وزارت تعلیم کے تحت رجسٹریشن کے بارے میں بات چیت کر لیتے ہیں۔
وزارتِ تعلیم سے ہونے والی مفاہمتی یادداشت
چنانچہ وزارت تعلیم کے تحت رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت سے بات چیت شروع ہوئی ۔میں اس وقت تک وفاق سے باہر تھا، لیکن اس مرحلے پر وفاق نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی کہ آپ مذاکرات کریں، تو میں ان مذاکرات میں شامل ہوا۔ میری رائے شروع سے یہ نہیں تھی کہ ہم وزارت تعلیم کی طرف جائیں، لیکن چونکہ مدارس ایک مصیبت میں گرفتار تھے، تو میں نے کہا چلو ٹھیک ہے اگر رجسٹریشن کا ڈاکخانہ سوسائٹیز کے بجائے وزارتِ تعلیم ہوجائے،تو اس حد تک بات ہوسکتی ہے۔اس طرح عرصۂ دراز تک ان کے ساتھ مذاکرات چلتے رہے۔
ان مذاکرات کے دوران ایک مرحلہ ایسا آیا کہ اس مرحلے پر ایک مفاہمتی یادداشت تیار کی گئی، جس کو انگریزی میں MOU یعنی Memorandum of understanding کہتے ہیں۔ () ہم مختلف مراحل سے گزر کر وہاں تک پہنچے تھے، جس کا مقصد یہ تھا کہ اس مفاہمتی یادداشت کو تجویز کے طور پر ہم ایک مرتبہ لکھ لیں کہ اگر مدارس وزارتِ تعلیم کے تحت ہوں گے، تو ہم اسی طرح رجسٹر ہو جائیں گے جیسے کہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت ہوتے تھے۔ لیکن ہم نے اس میں باقاعدہ یہ لکھوایا کہ اس پر اس وقت تک عمل نہیں ہوگا جب تک کہ دو کام نہ ہوں:
=• ایک تو مدارس کے اکاؤنٹ کھلیں۔
=• اور دوسرے یہ کہ جتنے مدارس اب تک سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوئے ہیں، ان کی رجسٹریشن وہاں پر برقرار رکھی جائے، تاوقتیکہ نیا نظام نہ آ جائے۔
یہ ساری کارروائی وہاں ہوئی اور اس مفاہمتی یادداشت پر بے شک میرے دستخط بھی موجود ہیں۔ اسی میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ اس کی عملی تفصیلات طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنے گی اور پھر اس کمیٹی کے اندر اس کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔
مفاہمتی یادداشت کے بعد ڈائریکٹریٹ کا قیام اور اس سے پیدا شدہ خدشات
جونہی اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، اسی کے ساتھ حکومت نے یہ کام کیا کہ دس وفاق قائم کر دیے اور یہ کہا کہ اب دینی مدرسوں کے لیے ایک ڈائریکٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس ڈائریکٹریٹ میں ایک باقاعدہ ڈائریکٹر ہوگا جو فوج کے ایک بڑے افسر تھے، اور پھر ان کے تحت سارے ملک میں اس کے دفاتر ہوں گے۔ اور ایک ارب روپیہ اس کام کے لیے بجٹ میں مختص کیا گیا۔ ہمارے فوراً کان کھڑے ہو گئے کہ وہی اندیشہ جو ہمیں پہلے تھا وہ یہاں پیدا ہوگیا۔ اور یہ دنیا کی تاریخ میں شاید پہلا واقعہ ہوگا کہ حکومت دینی مدارس کے لیے ایک ارب روپیہ دے رہی ہے اور ہم نے اعتراض کیا کہ آپ نے ہمیں کیوں دیا یہ ایک ارب روپیہ؟ یہ دنیا میں شاید واحد ہی مثال ہوگی کہ حکومت کسی کام کے لیے ایک ارب روپیہ روپے کا اعلان کر رہی ہے اور آگے سے کہا جارہا ہو کہ ہمیں یہ روپیہ کیوں دیا جارہا ہے؟ ہمیں نہیں چاہیے یہ روپیہ۔ لہٰذا اس کے نتیجے میں یہ بات واضح ہوگئی کہ مسئلہ صرف رجسٹریشن کا نہیں ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہےکہ وزارتِ تعلیم کے اس پورے نظام میں ایک مرتبہ مدرسوں کو داخل کروانا مقصود ہے۔ جب داخل کروا دیا تو پھر وزارتِ تعلیم کے پابند بھی ہوں گے۔
آج بڑے بڑے فراخ دلانہ انداز میں اس میں یہ لکھا جا رہا ہے کہ مدارس خود مختار اور آزاد ہوں گے، لیکن ساتھ ہی اس میں آخر میں ایک جملہ یہ بھی بڑھا دیا گیا ہے کہ وزارتِ تعلیم کی طرف سے وقتاً فوقتاًجو ہدایات جاری ہوں گی ،مدارس ان کے پابند ہوں گے۔ چونکہ حکومت نے خود مفاہمتی یاداشت کی خلاف ورزی کی کہ نہ ہماری رجسٹریشن کھلی، نہ اس رجسٹریشن کو تسلیم کیا گیا، نہ بینک اکاؤنٹ کھلے، نہ غیر ملکی طلباء کے لیے ویزا کی سہولت مہیا کی گئی، تو اس طرح حکومت نے اس مفاہمتی یادداشت کو توڑ دیا۔ تو پھر ہم نے کہا کہ اب ہم وزارتِ تعلیم کے تحت نہیں جائیں گے۔ ہم اپنی اصل یعنی سوسائٹیز ایکٹ کی طرف جائیں گے، اور اسی کے تحت رجسٹریشن ہوگی۔
سوسائٹیز ایکٹ اور وزارتِ تعلیم میں رجسٹر ہونے کا فرق
اب سوسائٹیز ایکٹ اور وزارتِ تعلیم میں رجسٹر ہونے کا فرق سمجھیے۔ سوسائٹیز ایکٹ میں جو بھی ادارہ رجسٹر ہو، وہ اپنے اغراض و مقاصد اور اپنی جمعیت کے مطابق کام کرنے میں آزاد ہے، جو چاہے جس طرح چاہے کام کرے، کوئی دوسرا اس میں مداخلت نہیں کر سکتا، لیکن وزارت تعلیم کے تحت آنے کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ باقاعدہ وزارتِ تعلیم کے نظام کے تحت آگئے۔ جو اس وقت کے وزیر تعلیم تھے انہوں نے باقاعدہ یہ اعلان کیا کہ ہم نے تمام مد ارس کو وزارتِ تعلیم کے تحت لے لیا ہے ۔ یہ الفاظ استعمال کیے، تو اس کا معنیٰ یہ کہ اب ہم حکومت کے تسلّط میں آگئے اور وزارتِ تعلیم وقتاً فوقتاً جو ہدایات جاری کرے گی ہم اس کے پابند ہو گئے۔
ہم کسی خاص حکومت کی بات نہیں کر رہے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں کبھی کوئی اچھی حکومت آگئی، کبھی کوئی بُری آگئی۔ کبھی وہ لوگ بھی آگئے جنہوں نے علی الاعلان یہ بات کہی کہ ''مدرسے جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں۔'' اور ان صاحب کو یہ کہتے ہوئے بھی اللہ کا خوف نہ آیا کہ ''ان مدارس میں صرف یہ پڑھایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔'' العیاذباللہ! گویا اس کے نزدیک یہ بات کہنا کہ: ''مرنے کے بعد کیا ہوگا؟'' کوئی بہت ہی غلط بات ہے جو ان مدرسوں میں پڑھائی جارہی ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں کوئی اچھی کوئی بُری، ہم کسی قیمت میں یہ نہیں چاہتے کہ مدارس حکومت کے ماتحت ہو جائیں اور ہمارا وہی حشر ہو جو میں پورے عالم اسلام میں دیکھ کر آیا ہوں کہ وہاں پر حق گوئی کی سزا جیل ہے، تشدد ہے اور حق گوئی سے آدمی کی زندگی کو خطرہ ہے،اس لیے ہم کسی قیمت پر نہیں چاہتے، اور اس کو ان شاءاللہ برداشت نہیں کریں گے کہ مدارس کو حکومت کے ماتحت کر دیا جائے، حکومت کے زیر انتظام دے دیا جائے۔
اب بڑی باتیں کی جا رہی ہیں کہ دیکھو جو وزارتِ تعلیم کے ساتھ چلے گئے تھے، ان کے لوگوں نے کمیشن پا لیا، وہ فوج میں برگیڈیئر بن گئے! کرنل بن گئے! مبارک ہو بھئی تم کرنل اور برگیڈیئر بن گئے، لیکن بات یہ ہے کہ مدرسہ اس کام کے لئے تو نہیں تھا کہ کرنل یا بریگیڈیر پیدا کرے۔ کرنل برگیڈیئر پیدا کرنے والے تو بہت سارے کیڈٹ کالج ہیں، وہاں تیار ہو رہے ہیں۔ تم تو اس کام کے لیے تھے کہ تم دین کے علمبردار پیدا کرو،اور دین کے صحیح عالم بنو۔
اگر کسی عالم کو یہ کہا جائے کہ یہ بہت اچھا ڈاکٹر ہے تو یہ درحقیقت اس عالم کی توہین ہے۔ حضرت حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
من مدح بغير علمه فقد وُقِص
جس کی اس کے اپنے علم کے علاوہ کسی اور بات سے تعریف کی جائے
تو اس کی گردن توڑ دی گئی۔
ایک علامہ فہامہ ہے، مثلاً علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، انہوں نے اپنی کتابوں سے سارا جہان بھر دیا۔ ۴۰ سال کی عمر تک تصنیف و تالیف کا کام کیا اور پھر اس کے بعد ''متخلی للعبادۃ'' ہوگئے، یعنی اپنے آپ کو عبادت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ۴۰ سال کے اندر علوم کے سمندر بہا دیے، حدیث کیا ،تفسیر کیا اور فقہ کیا، غرض ہر فن میں کام کر گئے۔ انہوں نے ایک چھوٹی سی کتاب طب پہ بھی لکھی ہے، تو کوئی آدمی کہے بھئی علامہ سیوطی بڑے زبردست طبیب تھے، تو یہ ان کی تعریف نہیں بلکہ ان کی تنقیص ہے،اس لیے کہ '' من مدح بغير علمه فقد وُقص'' جس کی اپنے فن کے علاوہ کسی اور فن میں تعریف کی جائے تو اس کی گردن توڑ دی گئی۔ اسی طرح ہمارے حضراتِ اکابر علمائے دیوبند کا ماشاءاللہ اصل فن تو علم تھا ۔ اور ان کے اخلاق و اعمال تھے، لیکن ان میں سے بعض شعر بھی کہتے تھے، اب کوئی یہ کہے کہ بھئی وہ شاعر بہت زبردست تھے، تو یہ ان کی تعریف نہیں ہے بلکہ مذمت ہے ،کیونکہ اصل علم کے بجائے آپ کسی فن میں اس کی تعریف کررہے ہیں۔
اگر کوئی مدرسے کا طالب علم کسی اور شعبے میں چلا گیا،تو ہم اس کے لیے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر مدرسے میں رہ کر ایک مرتبہ علمِ صحیح حاصل کر کے اور عمل کی زیور سے آراستہ ہو کر اگر کوئی کسی جگہ جاتا ہے تو کوئی بات نہیں چلا جائے، لیکن مدارس کا مقصد یہ بنا لیا جائے کہ یہاں سے ڈاکٹر پیدا ہوں گے، یہاں سے انجینئر پیدا ہوں گے، یہاں سے لائر پیدا ہوں گے، تو یہ بالکل قلبِ موضوع ہے، لہذا یہ ہمیں کسی قیمت پر گوارا نہیں ہے۔
ایک دوسرا کام یہ ہے، اور اہم ہے کہ بیورو کریسی اور فوج کے لیے ایسے لوگ تیار کیے جائیں جو دین کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں۔ یہ ایک مستقل کام ہے، اور اسکے لیے اسلامی اسکول اور اسلامی کالج قائم کرنے کی ضرورت ہے، اور وفاق کے بہت سے مدارس الگ شعبوں کے ذریعے یہ کام کررہےہیں، اور یہ بھی اہم کام ہے، لیکن اس کو مدرسوں کے مسئلے کے ساتھ جوڑنا خلطِ مبحث ہے۔
دامِ ہمرنگِ زمیں کے ذریعے مدارس کو گھیرنے کی کوششیں
وزارتِ تعلیم میں آنے کے بعد پھر ہم وزارتِ تعلیم کی ہدایات کے سامنے مجبور ہوں گے۔اگرچہ اس میں اس وقت بڑے خوبصورت الفاظ لکھے ہوئے ہیں کہ مدارس اپنے کام میں آزاد ہوں گے، خود مختار ہوں گے، لیکن جب کسی کو شکار کیا جاتا ہے تو ایک دم سے نہیں کر لیا جاتا، شروع میں اسے کوئی دانہ ڈالا جاتا ہے ،جب وہ اس کا عادی بن جاتا ہے تو پھر رفتہ رفتہ اس کو گھیرے میں لے لیا جاتا ہے۔ تو ہماری نظر میں یہ آغاز ہے- اللہ نہ کرے ایسا ہو،اس کے خلاف ہو، ہمیں خوشی ہوگی- لیکن حقیقت میں ہم اس کو آغاز سمجھتے ہیں اور اندیشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں مدارس بالآخر وزارتِ تعلیم کے ذریعے حکومت کے زیرِدست ہو جائیں گے۔
ہم کہتے ہیں ہم عصری علوم پڑھا رہے ہیں اور جتنی ہم ضرورت سمجھتے ہیں پڑھائیں گے ان شاء اللہ، لیکن اس لیے نہیں کہ ان کو ڈاکٹر بنانا ہے، ان کو انجینئر بنانا ہے، ان کو سائنس دان بنانا ہے، (اس کے لیے الگ ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے اور کئے جارہے ہیں، وفاق اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔) بلکہ اس لیے کہ ایک عالم، موجودہ دنیا کے حالات سے پوری طرح باخبر ہو اور باخبر ہونے کی وجہ سے جب کہیں جائے تو اس کی بات مؤثر ہو۔ وہ دعوت کا کام مؤثر طریقے سے انجام دے سکے، ہم اس لیے یہ عصری مضامین پڑھاتے ہیں۔
مدارس میں عصری علوم کی تدریس کا اہتمام اور نصاب کیلئے وفاق کی کوششیں
آپ دیکھیں کہ ہمارے ہاں متوسطہ پانچ سال کا ہے،اور پانچ سال میں ہم میٹرک بھی کراتے ہیں، لیکن ہم مدرّس یا استاد حکومت سے نہیں لیتے، ان شاءاللہ ہم پڑھائیں گے، اور پڑھا رہے ہیں،اور الحمدللہ اپنے خرچ پرپڑھا رہے ہیں، البتہ اپنی ضرورت کے تحت پڑھائیں گے، ہم خود ضرورت سمجھتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے اندر بھی اولیٰ سے پہلے پانچ سال کا کورس ہوتا تھا، تو وہ پانچ سال کا کورس ہم یہاں پر جاری کیے ہوئے ہیں ۔
اس کے لیے الحمدللہ ہم وفاق کے تحت اپنی کتابیں تیار کر رہے ہیں ،سائنس کی، ریاضی کی،معاشرتی علوم کی ،اردو کی، انگریزی کی، اپنی کتابیں ہم تیار کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم حکومت کی کتابیں پڑھائیں، ہم اپنی کتابیں تیار کر رہے ہیں اور ایسی کتابیں جو حکومت کے طے شدہ نصاب (Curriculum) کے مطابق ہیں،لیکن ان میں ہم دین کی باتیں بھی لا رہے ہیں، ان میں اپنے علمائے کرام کے تذکرے بھی ہیں، ان میں ہمارے مزاج و مذاق کی باتیں بھی ہیں، وہ الحمدللہ تیار ہو رہی ہیں اور اس منصوبے پر بڑا خرچہ کیا جا رہا ہے،اور ان شاءاللہ، اللہ کی رحمت سے امید یہ ہے کہ اگلا جو تعلیمی سال ہوگا اس میں ہشتم کی کتابیں ہماری اپنی ہوں گی۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم یہ کر رہے ہیں، ہمیں اس سے انکار نہیں ہے، یہ سب کسی کے دباؤ کے تحت نہیں، بلکہ ہم اپنی ضرورت سمجھ کر رہے ہیں اور کریں گے ان شاءاللہ، لیکن ہم کسی کے دام میں آنے کو تیار نہیں ہیں۔
مدارس رجسٹرین ترمیمی بل اور چھبیسویں آئینی ترمیم
اور یہ بات آپ نے شاید سنی ہوگی کہ اس وقت جو بل پاس ہوا ہے، اس بل کے اوپر چار سال کی محنت ہوئی ہے،ہماری بھی، حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کی بھی ،پورے وفاق کی قیادت کی بھی، اور اتحاد تنظیماتِ مدارس کی قیادت کی بھی، اس پر سب کی چار سالہ محنت ہے۔
اس حوالے سے چار سال تک محنت ہوتی رہی ، اور اس مسوّدے کو منظور کرانے کے لیے گزشتہ سال اسلام آباد میں ، میں اور مولانا قاری محمد حنیف صاحب مد ظلہم ایک ہفتہ مستقل طور پر موجود رہے۔وزیراعظم نے منظور کر لیا، کابینہ نے منظور کر لیا اور اسمبلی میں چلا گیا، پہلی خواندگی ہو گئی، لیکن پھر روک دیا گیا ،اور روکنے کے بعد بات پھر وہیں کی وہیں رہ گئی۔
اب پچھلے دنوں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو اللہ تعالی نے ایک ایسا موقع فراہم کیا جب حکومت اس فکر میں تھی کہ دستور میں ایک آئینی ترمیم(چھبیسویں آئینی ترمیم) کی جائے، اُس آئینی ترمیم کے لیے ان کو جو حمایت درکار تھی،وہ مولانا فضل الرحمن صاحب اور جمعیت علماء اسلام کے ارکان کی حمایت کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی، لہٰذا وہ سب ان کے در پر آتے رہے ،حکومت بھی، اپوزیشن بھی اور تحریک انصاف بھی، سب کے سب آتے رہے۔اس موقع پر ہم نے مولانا سے عرض کیا ،اور خود مولانا کے ذہن میں بھی تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدارس رجسٹریشن کا جو مسودہ ہے، جو پہلے سے طے شدہ ہے ،اسے اس وقت منظور کرا لیا جائے، چنانچہ الحمدللہ! وہ منظور ہو گیا۔ اور منظور ہو کر اسمبلی کے دونوں ایوانوں سے؛ پارلیمنٹ سے، یعنی قومی اسمبلی سے اور سینٹ سے دونوں سے اکتوبر ۲۰۲۴ء میں پاس ہو گیا۔
پہلے ہم نے باہمی مشورے سے یہ کہا تھا کہ اگر کوئی مدرسہ وزارت تعلیم میں جا کر رجسٹر ہونا چاہتا ہےہوجائے، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے، لیکن جب یہ بل آیا اور حکومت کی طرف سے آیا۔ یہ حکومت ہی کا بل تھا، حکومت کی طرف سے قانون بنایا گیا تھا تو اس میں وزارتِ تعلیم والے معاملے کا بالکل صفایا ہی ہو گیا، ، اس میں اُس کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا، لہذا جو حضرات وزارتِ تعلیم سے رجسٹرڈ تھے، انہوں نے اس پر جو احتجاج کیا وہ آپ کے علم میں ہے۔
اب جب یہ بل آخری دستخط کے لیے صدر مملکت کے پاس گیا، تو انہوں نے شروع میں ایک معمولی سی غلطی کی نشاندہی کی، جو درست کرکے واپس بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً پندرہ سولہ دن کے بعد انہوں نے بہت سارے اعتراضات لگاکر بل واپس بھیج دیا۔ وہ اعتراضات بھی تھے، لیکن وہ درحقیقت زائد المیعاد تھے۔ آئین کا قاعدہ یہ ہے کہ صدرِ پاکستان دس دن کے اندر اندر اعتراض یا ترمیم بھیج سکتا ہے، اور پھر وہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا، پارلیمنٹ کے دونوں ایوان اگر چاہیں تو صدر کی بتائی ہوئی ترمیم کو قبول کر لیں، چاہیں رد کر دیں، اگر رد کردیں تو پھر رد ہی ہو گیا ،پھر اس کو صدر ختم نہیں کر سکتا۔ یہ قانونی طریقہ کار طے شدہ ہے۔ اور اس بل پر صدر کی طرف سے جو اعتراض آیا، یہ دیر میں آیا، دس دن کے بعد آیا، لہٰذا اس کی کوئی قانونی و آئینی حیثیت نہیں ہے۔()
ترمیمی بل سے مغربی طاقتوں کی ناراضگی کا خدشہ
جب سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیل طلب کی گئی تو وجہ یہ سامنے آئی کہ اس ایکٹ کو منظور کرناہمارے لیے مشکل ہے، اس لیے کہ اگر ہم یہ کریں گے توFATF اور فلاں فلاں مغربی ادارے ہم سے ناراض ہو سکتے ہیں، صدر کی طرف سے صاف صاف بتادیا گیا۔ عجیب بات ہے کہ جو ادارے وزارتِ تعلیم کے تحت رجسٹر ہو رہے تھے، یا ہو رہے ہیں، ان سے تو ایف اے ٹی ایف کو کوئی خطرہ نہیں ہے، ان پر تو مغربی طاقتوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے، ان پر حکومت کو یہ اندیشہ نہیں ہے کہ ایف اے ٹی ایف ہم سے ناراض ہو جائے گا، ہم مدارس کو وزارتِ تعلیم میں کیوں رجسٹر کریں؟لیکن سوسائٹی ایکٹ کے تحت جب رجسٹر ہونے جا رہے ہیں، تو اس وقت FATFبھی سامنے آگیا اور مغربی طاقتیں بھی سامنے آگئیں۔اس سے آپ خود اندازہ کرلیں کہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت اور وزاتِ تعلیم میں رجسٹرڈ ہونے میں کیا فرق ہے؟
غرض یہ کہ یہ فرق اب اچھی طرح کھل کر سامنے آگیاہے کہ مغربی طاقتیں کس بات سے خوش ہو رہی ہیں،اور کس بات سے ناراض ہو رہی ہیں۔ وزارتِ تعلیم کےتحت رجسٹر کرنے سے خوش ہیں، اس میں انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن ؎
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
صدر مملکت کے اعتراضات اور مدارس رجسٹریشن بل کی آئینی حیثیت
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا،اس وقت آئینی صورت یہ ہے کہ چونکہ صدر مملکت کے یہ اعتراضات وقت گزرنے کے بعد آئے ہیں، دس دن کے بعد، تو ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ ہم نے اتحاد تنظیمات میں بھی اور وفاق المدارس کے عاملہ کے اجلاس میں بھی، یہ مؤقف اختیار کیا ہے، اس موقف کے تحت ہم نے کہا کہ ہمارا جو مسودّہ قانون تھا، وہ قانون بن چکا ہے، اب صرف اس کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہونا باقی ہے، لہٰذا اب ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے وہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔
البتہ بیچ میں حکومت نے کچھ مذاکرات بھی کیے ہیں، ہم سے بھی ہوئے،حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے بھی ہوئے،اور مولانا سے ہمارا رابطہ بھی رہا۔ حکومت کے نمائندے اس میں کچھ ترمیم چاہتے تھے کہ اس میں کچھ ترمیم یہ ہوجائے کہ جو وزارتِ تعلیم کے تحت رجسٹر ہوئے ہیں ،ان کی رجسٹریشن کو بھی تسلیم کر لیا جائے ،یعنی اس قانون میں ان کی نفی نہ ہو اور وہ حسبِ سابق وہیں رجسٹرڈ رہیں، ہمیں اس پر کوئی خاص اعتراض اس لیے نہیں کہ چلو!ٹھیک ہے، ایسا کرلیں، جو لوگ وزارتِ تعلیم کے ساتھ جائیں گے ان کے بارے میں پتہ چل جائے گا اور ہماری دعا تو اُن کے لیے بھی یہ ہوگی کہ وہ صحیح راستے پر رہیں، لیکن اس وقت ہماری آئینی پوزیشن یہ ہے کہ اس وقت کا جو بل ہے وہ ایکٹ بن چکا، قانون بن چکا، لہٰذا اب اس کو صرف گزٹ کرنا باقی ہے، اگر کوئی آپ ترمیم لانا چاہتے ہیں تو بعد میں لے آئیں، ہم اس پر غور کر لیں گے۔
دینی مدارس کی بنیادی روح اور اس کو قائم رکھنے کا طریقہ
یہ ساری صورتحال ہے جس سے میں آپ کو باخبر کرنا چاہتا تھا۔ اب اس سب سے جو نتیجہ نکل رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم مدرسے کی روح کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اور ان شاءاللہ رکھیں گے۔ہمیں کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہ ہوتی، لیکن چونکہ ہمیں اس دنیا میں رہنا ہے، تو رجسٹریشن کی حد تک ہمیں کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ رجسٹریشن ہمارے گلے میں اس طرح طوق بنا کر نہ ڈالی جائے جو ہمارے لیے قرآن و سنت کے علوم کو صحیح طریقے سے پڑھانے کے راستے میں رکاوٹ بن جائے۔ بس ہماری اتنی ہی خواہش ہے اور وہ ان شاءاللہ، اللہ کی رحمت سے پوری ہوگی، یہ مدرسہ ان شاءاللہ قائم رہے گا اور ہمیشہ قائم رہے گا ۔ ہمارے بزرگوں کی یہ امانت ہے،اور اس امانت کو ہم اس طرح ضائع نہیں کر سکتے۔
میرے بھائیو! مدرسے کی اصل اور بنیادی روح تعلق مع اللہ ہے،یعنی اللہ تعالی سے تعلق قائم کرنا۔ اور اتباعِ سنت کا اہتمام کرنا اور علم کے مطابق عمل کرنا۔ ہم جو یہ جنگ لڑ رہے ہیں وہ اسی کی بقا کے لئے لڑ رہے ہیں۔علم تو شاید یونیورسٹیوں کے اندر بھی لوگوں کو آ جاتا ہو، لیکن جو علم کی اصل روح ہے تعلق مع اللہ کی، اللہ تبارک و تعالی کے ذکر کی،اللہ تعالی کے ساتھ مضبوط رابطہ اختیار کرنے کی، اتباعِ سنت کی، وہ روح کسی طرح قائم رہے ۔اور اگر ہم سب مل کے قائم رکھیں گے تو وہ وہ روح قائم ہوگی، ورنہ – اللہ بچائے- اس علم سے جو عمل کے بغیر ہو، جو سنت کے خلاف ہو، جو انسان کو اللہ تعالی سے تعلق مضبوط کرنے کے بجائے اللہ تعالی سے دور کردے،وہ علم، علم نہیں جہل ہے ۔ ہمارے حضرت والد صاحب کا شعر ہے ؎
وہ علم جہل ہے جو دکھائے نہ راہِ دوست
وہ مدرسہ وبال جہاں یاد حق نہ ہو
طالب علم کو علمی،عملی اور فکری لحاظ سے تیار ہونے کی ضرورت
میرے بھائیو! ہماری اصل روح یہ ہے،اسے برقرار رکھو۔آپ کو میں نے سب کچھ بتا تو دیا، لیکن آپ اس بحث میں مت پڑو، آپ اپنے کام میں لگے رہو، پڑھنے میں، محنت کرنے میں اپنی جان لگاؤ اور اس میں مصروف رہو۔، الحمدللہ مدرسوں کے چوکیدار بیٹھے ہیں! وہ اپنا کام کررہے ہیں۔ اس لیے آپ اطمینان سے اور محنت سے اپنے کام میں لگے رہو، اپنے اسباق صحیح طریقے سے پڑھو، حاضری وقت پر دو، اور مطالعے اور تکرار کا اہتمام کرو، اب ویسے بھی سالانہ امتحان کا زمانہ آنے والا ہے، آپ دنیا سے آنکھیں بند کر کے اطمینان کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہو،اور اپنی زندگی کو اسی کام کے لیے وقف کر دو۔
آپ یہ سمجھو کہ آپ جہاد کر رہے ہو،یہ تعلیم میں مشغول رہنا ایک جہاد ہے، جہاد اس لیے ہے کہ اس وقت طاغوتی طاقتیں عالمِ اسلام کے اوپر ہر طرف سے حملہ آور ہیں؛ ہتھیار سے بھی، افکار سے بھی، اپنے فلسفوں کے ذریعے بھی،اپنی تہذیب کے ذریعے بھی، ہر طرح سے حملہ آور ہیں۔ ہمیں اس حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے؛ علمی اعتبار سے بھی تیار کرنا ہے،اور فکری اعتبار سے بھی تیار کرنا ہے، اور وہ اسی وقت ہوگا جب آپ لوگ اپنی تعلیم پر پوری توجہ دیں گے، فضول کاموں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں گے،اتباعِ سنت کا اہتمام کریں گے، نماز باجماعت کا اہتمام کریں گے۔
میں آپ سے بار بار کہتا رہتا ہوں کہ نماز باجماعت کا اہتمام کیا کرو، اگر نماز باجماعت کا اہتمام نہیں کرو گے تو برکت کیسے آئے گی؟ حضرت فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کو ضائع کرے اس کے سارے کام ضائع ہیں، بیکار ہیں۔اس لیے نمازوں کا اہتمام کرو اور اپنے اساتذہ کرام کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارو ،اتباعِ سنت کو اپناؤ، اتباعِ سنت میں ہی ساری صلاح اور فلاح ہے، اتباعِ سنت ہی سارا دین ہے، اتباعِ سنت ہی درحقیقت ہماری کامیابی کا راز ہے، لہٰذا اس کو مضبوطی سے تھامو۔
طالب علم کیلئے ذکر اللہ اور دعاؤں کی ضرورت و اہمیت
اس کے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔ دیکھو اللہ کے ذکر میں بڑی طاقت ہے۔ آپ سبق پڑھنے جا رہے ہو تو راستے میں وقت بیکار گزر رہا ہے، اس وقت میں اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھو۔ سُبحانَ اللَّهِ، والحمدُ للَّهِ، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، واللَّهُ أَكْبرُ، ولا حَولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللَّهِ، پڑھو، دردود شریف پڑھو۔ سبق کو جاتے ہوئے اگر کوئی ذکر زبان پر ہو تو اس میں کیا مشکل ہے؟سبق کیلئے جاتے وقت ذکر کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہوئے جاؤ کہ:
'' یا اللہ! میں سبق پڑھنے جا رہا ہوں تو اپنی رحمت سے مجھے صحیح طریقے سے سمجھا بھی دیجیے، میرے ذہن میں بھی بٹھا دیجئے، مجھے یاد رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائیے، اور اس پر عمل کی بھی توفیق عطا فرمائیے۔''
یہ کہتے ہوئے جاؤ، ذکر کرو ،اللہ سے رابطہ قائم کرو، اللہ سے رجوع کرو اور اس سے مانگتے رہو۔ مانگتے مانگتے جاؤ پھر دیکھو کیا برکات نازل ہوتی ہیں ان شاءاللہ۔یہ ذکر بڑی زبردست چیز ہے، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا ذکر کتنا ہی بے دھیانی سے ہو، لیکن یہ اپنے فائدے سے خالی نہیں ہوتا۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ذکر اللہ کو اہلِ ایمان کی نشانی قرار دیا ہے۔
الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ
جو اُٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں۔
وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ
اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرداور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے افضل اعمال کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا:
لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطِبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ
تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے، ہر وقت تمہاری زبان پر اللہ کا ذکر ہونا چاہیے۔
چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے زبان پر کوئی ذکر رکھا کرو ،اور تعلیم کو اہتمام کے ساتھ صحیح نیت سے اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے حاصل کرتے رہو۔اگر یہ کام کرلیے تو ان شاءاللہ، اللہ کی رحمت سے کوئی تمہارا بال بیکا نہیں کر سکے گا ۔
یہ ہے ہمارے سارے ان مدارس کی روح، یہ ہے ہمارے سارے نظام تعلیم کی روح، اس کو اپناؤ۔ جتنا اس کو اپناؤ گے، جتنا اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ اور تعلق قائم کرو گے، ان شاءاللہ اتنا ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے علم کا فیضان ہوگا اور عمل کی بھی توفیق ہوگی۔اور یاد رکھو کہ ان شاءاللہ، اللہ تبارک و تعالی کبھی بھی اپنے ذکر کرنے والوں کو محروم نہیں فرماتا۔
اللہ تعالی اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت سے ان کلمات کو اپنی بارگاہ میں شرف میں قبول عطا فرمائے۔آمین

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : رجب ۱۴۴۶ھ)