خطاب : حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
ضبط و ترتیب:راشدحسین
فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی
قضیۂ فلسطین اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں
حمدوستائش اس ذات کے لئے ہے جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبرپر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا
| ۲۱؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۵ (مطابق ۶ ؍دسمبر ۲۰۲۳) بروز بدھ کنونشن سینٹر اسلام آباد میں مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور دینی جماعتوں کے قائدین کا مشترکہ اجتماع؛’’حرمتِ مسجدِ اقصیٰ اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔اس اجتماع میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے بھی شرکت فرمائی اور انتہائی پرسوزایمان افروز اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔ یہ خطاب ہدیۂ قارئین ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ادارہ) |
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیدنا و مولانا محمد خاتم النبیین و امام المرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، وعلی کل من تبعھم باحسان الی یوم الدین، اما بعد!۔
حضراتِ علمائے کرام، زعمائے ملت اور معزز حاضرین!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ
اس وقت الحمدللہ ہم سب ایک ایسے موضوع پر گفتگو کرنے اور سننے کے لیے جمع ہیں جو اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام میں سے ایک ایک کے دل کی دھڑکن ہے، اور وہ ’’قضیۂ فلسطین‘‘ ہے۔ مجھ سے پہلے الحمدللہ بڑی ولولہ انگیز تقریریں ہوچکی ہیں، بہت سے معاملات پر اظہارِ خیال بھی کیا جا چکا ،تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔الحمدللہ سب اس بات پر یک زبان ہیں کہ اسرائیل نے جو وحشت اور بربریت کا مظاہرہ غزہ کے شہریوں کے ساتھ کیا ہوا ہے وہ انسانیت کی تمام قدروں کو پامال کر رہا ہے، اور اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس ناپاک دشمن کے دل سے انسانیت کی ادنیٰ سے ادنیٰ قدر بھی تباہ ہو چکی ہے۔ سب نے اس پر مذمّت کا اظہار کیا، میں ان سب باتوں کو دہرانے کے بجائے آپ حضرات کی توجہ چند مختصر نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں اور جو چند غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں، ان کو مختصراً دور کرنا چاہتا ہوں۔
جنگ بندی کا نہیں بلکہ بمباری بند کرنے کا مطالبہ ہونا چاہیے
بات یہ ہے کہ تمام دنیا کی طرف سے، مختلف عالمی تنظیموں کی طرف سے، یہاں تک کہ ہماری مسلم دنیا کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کی طرف سے بھی جو قرارداد آئی ہے، وہ جنگ بندی کی قرارداد ہے۔ جنگ بندی کے معنی یہ ہیں کہ اسرائیل کو بھی جنگ سے روکا جائے اور حماس کو بھی جنگ سے روکا جائے ،جنگ بندی کا عام مفہوم یہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مطالبہ صرف غزہ پر بمباری روکنے کا کرنا چاہیے، جنگ بندی کا نہیں۔حماس کے جانباز اور سرفروش مجاہدین اپنے پیدائشی حق کے تحت اور اسلام کے نام پر فلسطین کے پورے خطے کو اسرائیل کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے نکلے ہیں۔ یہ جنگ بند ہونے والی جنگ نہیں ہے، یہ جنگ ختم ہونے والی جنگ نہیں ہے۔ یہ اس وقت تک جاری رہے گی، اور رہنی چاہیے جب تک کہ اسرائیل کا قبضہ پورے فلسطین سے ختم نہیں ہو جاتا ۔
لہٰذا ہمارا مطالبہ جنگ بندی کا نہیں ،اگر اسرائیل شہریوں پر بمباری کرنے کے بجائے کھلے میدانِ جنگ میں آکر حماس کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے، مقابلہ کرے۔ جنگ جاری رہے گی اور جب تک اس کے تمام ٹینک تباہ نہیں ہو جاتے، جب تک اس کی تمام آلیات ختم نہیں ہو جاتیں، اس وقت تک ان شاءاللہ حماس مقاومت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ لہٰذا کسی باشعور مسلمان یا انسان کی زبان پر جنگ بندی کے مطالبے کے بجائے بمباری کے بند کرنے کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ اسرائیل اپنی شکست کو چھپانے کے لئے اپنےنقصانات کا بدلہ بے گناہ شہریوں ، عورتوں، بچوں سے لے رہا ہے، جو جنگی جرائم میں شامل ہے،لہٰذا اسے روکنے کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ جنگ بندی ہمارا مطالبہ نہیں ہے، جنگ ان شاءاللہ جاری رہے گی اور فتح تک جاری رہے گی۔
دو ریاستی حل کا مغالطہ انگیز مطالبہ
دوسرا نقطہ جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ بار بار حکمرانوں کی زبانوں سے بھی، اور بعض مرتبہ غلط فہمی کی بنیاد پر امن پسند لوگوں کی طرف سے بھی فلسطین کے دو ریاستی حل کی بات ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین میں دو ریاستیں قائم ہوں۔ ایک اسرائیل کی ریاست اور ایک فلسطین کی ریاست۔ یہ بالکل مغالطہ انگیز مطالبہ ہے، ہم اس کی کھل کر تردید کرتے ہیں۔ ہم روزِ اول سے اسرائیل کے قیام کے خلاف ہیں۔ ہمارے بانیٔ پاکستان نے روزِاول سے اسرائیل کے وجود کو مغربی طاقتوں کا ناپاک بچہ قرار دیا تھا اور آج تک ہم اس نظریے پر قائم ہیں۔ لہذا یہ فیصلہ کہ اسرائیل نے جن علاقوں کو فتح کر لیا ہے، وہ اس کے رہیں اور غزہ اورضفہ غربیہ کے اندر فلسطین کی ریاست قائم ہو جائے، یہ ہرگز ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہے، لہٰذا دو ریاستی حل کی جو بات کی جاتی ہے اس سے ہمیشہ پرہیز کیا جائے۔
حماس کو ایک انفرادی جماعت یا گروہ سمجھنے کی غلط فہمی
تیسری بات یہ کہ ساری دنیا میں ،یہاں تک کہ مغربی پروپیگنڈے کے زیرِ اثر مسلمان حکومتوں میں بھی ایک انتہائی زبردست غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ وہ غلط فہمی مغربی ممالک کے ایک پروپیگنڈے کے تحت ہے۔ مغربی ممالک کا اور خاص طور پر امریکہ کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب کوئی قوم کسی غاصب کے قبضے کے خلاف جدوجہد کے لئے کھڑی ہوتی ہے تو وہ اس کو دہشت گرد ، ارہابی ، اور Terrorist قرار دے کر دنیا میں بدنام کرتے ہیں، یہی معاملہ ہمارے کشمیر کے مجاہدین کے ساتھ ہوا ہے۔ ہمارے کشمیر کے حریت پسندوں کو Terrorist قرار دیا گیا اور دیا جا رہا ہے ۔اور افغانستان کے اندر افغانستان کے طالبان کو ایک مدتِ دراز تک Terrorist کہا گیا ، یہاں تک کہ آخر میں گھٹنے ٹیک کر ، ان کو اپنا مقابل سمجھ کر، ان کے ساتھ میز پر بیٹھ کر بات کی گئی اور اس طرح الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فتح کا راستہ ہموار کیا۔
یہی صورتحال فلسطین میں ہو رہی ہے کہ حماس الحمدللہ ایک سیاسی طاقت ہے۔ وہ صرف کوئی لڑنے والے جنگجوؤں کا گروپ نہیں ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ بعض مرتبہ اطلاعات کے ذرائع میں ان کے مجاہدین کو جنگجوؤں کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ درحقیقت مجاہدین ہیں، جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اور ابھی جناب اسماعیل ہانیہ صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ان میں سے بیشتر افراد قرآن کریم کے حافظ ہیں، اور انہوں نے بتایا کہ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو بہت سی سورتیں الحمدللہ حفظ ہیں۔ اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی خاص طور پر دینی تربیت کی جاتی ہے، حماس میں شامل ہونے سے پہلے ان کو دینی اور اصلاحی تربیت سے گزارا جاتا ہے۔ یہ درحقیقت مجاہدین ہیں جو دفاعی جہاد لڑ رہے ہیں، اور چونکہ دفاعی جہاد لڑ رہے ہیں اس لیے انہوں نے ان کا نام ’’ارہابی‘‘ ’’ ٹیررسٹ‘‘ اور’’دہشت گرد‘‘رکھ دیا ہے۔ حقیقت میں دہشت گرد اسرائیل ہے، حقیقی دہشت گرد اسرائیل ہے، جس نے 75 سال سے فلسطین کی سرزمین پر قتلِ عام کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ لہٰذا خوب سمجھ لیجئے کہ یہ کہنا کہ حماس ایک انفرادی جماعت ہے، ایک گروہ ہے اور وہ کسی حکومت کی نمائندگی نہیں کرتی، یہ مغالطہ انگیز بات ہے۔ حماس پورے فلسطین کے باشندوں کی نمائندگی کرتی ہے، لہذا اس غلط فہمی سے بھی اپنے آپ کو ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہیے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت
چوتھی بات یہ کہ میں شریعت کا حکم آپ حضرات کے سامنے عرض کرتا ہوں۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے کسی خطے پر کوئی قابض ہو جائے ، تو اس خطے کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجاتاہے، اور وہ جہاد پہلے اس خطے کے مسلمانوں پر فرض ہے اور اس کے بعد اس کے پاس رہنے والے مسلمانوں پر فرض ہے، اور اس طرح درجہ بدرجہ جتنے مسلمان ہیں ان سب پر جہاد اپنی استطاعت کے مطابق فرض ہو جاتا ہے۔ میں اس بات کا ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے آپ حضرات کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ حسبِ استطاعت تمام مسلمانوں پر- جو مسلمان جہاں بھی رہتا ہو- اس پر اس معنی میں جہاد فرض ہے کہ وہ جس طرح کی مدد ان کو پہنچا سکتا ہو، وہ مدد پہنچائے۔
میں آپ حضرات کے سامنے قرانِ کریم کی دو آیتیں پڑھتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ سارے مسلمانوں کے لیے اس اجتماع کا پیغام ہونا چاہیے۔ قرانِ کریم سورۂ نساء میں فرماتا ہے:
وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ، وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّاۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًاََؕاَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ اللّٰهِۚ (النساء 75،76 )
اور (اے مسلمانو) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیے، اور ہمار لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجیے۔
اس آیت میں قرآن ان عورتوں ، بچوں اور مردوں کا حوالہ دے کر تمام مسلمانوں کو خطاب کرکے کہہ رہا ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے؟ اسی طرح سورۂ توبہ میں باری تعالیٰ فرماتے ہیں:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ا۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ (التوبہ 24 )
(اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ : اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے ہم سب کو ایک تازیانہ دیا ہے جو اس موقع پر صادق آتا ہے۔
اہلِ فلسطین کی مالی امداد کی ضرورت
اس موقع پر یہ بات مجھ سے پہلے بہت سے علماء کرام اور زعماء نے کہی ہے اور اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں پر اتنا زبردست ظلم ہو رہا ہے، بچوں کی حالت دیکھی نہیں جاتی، عورتوں کی حالت دیکھی نہیں جاتی، اور ہم اور ہماری حکومتیں اس موقع پر صرف زبانی یا کچھ امدادی کاروائیوں تک محدود ہیں۔ اللہ تعالی ان کو اس کی مزید توفیق دے، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اس موقع پر افسوس ہے کہ جو فیصلہ کُن معاملہ کرنا چاہیے تھا، ابھی تک ہماری حکومتیں اور ہمارے حکام وہ فیصلہ نہیں کر سکے جس کی طرف اسماعیل ہانیہ صاحب نے بھی اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ضرورت نہیں کہ آپ ہمارے علاقے پر آکر دشمن پرحملہ کریں، انہوں نے صاف صاف ابھی تقریر میں یہ بات کہی، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ آپ غزہ کے مسلمانوں کو اور غزہ کے مجاہدین کو جتنی امداد پہنچا سکتے ہوں ، ہم آپ سے اس کی درخواست کرتے ہیں کہ اس میں کمی نہ کریں۔
آج صحیح فیصلہ کرنے کا تاریخی لمحہ ہے
آخری بات جو میں آپ حضرات سے انتہائی انکساری کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ ابھی ہمارے اس اجتماع میں مسلمان حکمرانوں کے اوپر تنقید ہوئی اور بڑی حد تک بجا ہوئی۔ تنقید بے شک ہمارا حق ہے اور ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ اپنے حکمرانوں تک وہ بات پہنچائیں جسے ہم حق سمجھتے ہیں۔ لہٰذا اس موقع پر ہم ان سے مخاصمت کی فضا میں نہیں بلکہ مفاہمت کی فضا میں اور نصیحت کی فضا میں بات کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہمارے دین نے ہمیں کہا ہے ’’النصح لکل مسلم‘‘ یعنی ہر مسلمان کے لئے نصیحت اور خیر خواہی پیشِ نظر ہونی چاہیے۔ اس میں ’’النصح لأئمۃ المسلمین ‘‘ یعنی امراء کو نصیحت کرنا بھی اہلِ علم کا کام ہے۔ میں اس نصیحت کے تحت عرض کرتا ہوں کہ میرا دل یہ کہہ رہا ہے، اور میں اپنے دل کو ٹٹول کر، اور اللہ تبارک و تعالی سے رجوع کر کے، اللہ تعالی سے دعا کر کے، اللہ تبارک و تعالی سے استخارہ کر کے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ تاریخ میں بعض اوقات کچھ لمحات ایسے آتے ہیں کہ ان لمحات میں اگر صحیح فیصلہ نہ کیا جائے تو صدیوں تک اس کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ مشہور مصرع ہے جو کسی نے کہا ہے کہ ع
لمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی
تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جہاں ہمت و جرأت سے کام لے کراور جفا کشی کو اپنا شعار بنا کر کوئی صحیح فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ صحیح فیصلہ اس وقت نہ کیا جائے تو صدیوں تک اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج تاریخ کا ایسا ہی لمحہ ہے۔
قدرتی وسائل سے مالا مال عالمِ اسلام اور غلامی کی زندگی
آپ جانتے ہیں اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ پورا عالم اسلام؛ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک، پورا عالم اسلام اس وقت مغرب کی غلامی کا شکار ہے۔ کیا کوئی شخص اس بات کا انکار کر سکتا ہے کہ ہم غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ اقتصادی اعتبار سے، فوجی اعتبار سے، سیاسی اعتبار سے، ہر اعتبار سے ہم غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آخر یہ غلامی کب تک چلے گی؟ مراکش سے انڈونیشیا تک عالمِ اسلام کا حال یہ ہے کہ اللہ نے ان کو جو قدرتی وسائل عطا فرمائے ہیں وہ کسی اور قوم کو نہیں دیے، یہ دنیا کے بیچوں بیچ واقع ہیں، ان کے پاس وہ شاہرا ہیں ہیں جن کے ذریعے یہ دوسروں کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں ۔آبنائے فاسفورس ان کے پاس ہے، نہر سویز ان کے پاس ہے، خلیجِ عدن ان کے پاس ہے، آبنائے ہرمز ان کے پاس ہے، اور دنیا کا سب سے زیادہ زرِ سیال یعنی تیل ان کے پاس ہے ،گیس ان کے پاس ہے، دولتیں ان کے پاس ہیں،لیکن اس کے باوجود یہ غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
کیوں غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں؟ اس لیے کررہے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ کفر کی طاقتیں تمہارے خلاف صف آراء ہونگی ۔۔۔صحابہ نے عرض کیا ، کہ کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہوگی ؟ ۔۔۔آپ نے فرمایا کہ تعداد زیادہ ہوگی لیکن تمہارا وزن نہیں ہوگااور مسلمان سیلاب میں بہتے ہوئے تنکوں کی طرح ہوں گے اور دشمن ان پر یلغار کررہے ہوں گے۔۔۔صحابہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ ہوگی؟ تو رسول کریم ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ ان کا موت سے ڈرنا اور زندگی سے محبت کرنا اور جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دینا،اس کی وجہ ہوگی۔آج ہم اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔
خدائی امریکہ کی نہیں ہے، خدائی اللہ کے پاس ہے
آج حماس کے جانبازوں نے ہمارے لئےایک موقع فراہم کیا ہے،آزادی کا ،حریت کا، اور مغربی جوئے کو اپنے کندھوں سے اتار پھینکنے کا، انہوں نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے۔ اگر سارا عالمِ اسلام متحد ہو کر ان کا ساتھ دے اور اس کے لیے مشترک دفاعی پالیسی بنائے، تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ امریکہ اور برطانیہ اور د یگر مغربی طاقتیں کچھ نہیں کر سکتیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ خدائی امریکہ کی نہیں ہے، خدائی امریکہ کے پاس نہیں آگئی۔ خدائی اللہ کے پاس ہے۔سپر پاور نہیں، اللہ سپریم پاور ہے۔
لہذا اگر ہم ایک مرتبہ اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے تو باندھیں گے، جفا کشی کے اقدامات کرنے پڑے تو کریں گے، ہم ان شاءاللہ گولیوں کا سامنا کریں گے، بموں کا سامنا کریں گے، تو نہ امریکہ ہمیں شکست دے سکتا ہے ،نہ دنیا کی کوئی اور طاقت ہمیں شکست دے سکتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی ہمیں یہ حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرما ئے،اور اس حقیقت کو سمجھ کر غلامی کے دور کو ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(ماہنامہ البلاغ : جمادی الآخری ۱۴۴۵ھ)