حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
تحریک تجدد کا پس منظر
اور اس کی فکری بنیادیں
(آٹھویں اور آخری قسط)
تجدد کے فکر کی بنیادی لغزشیں
تجدّد کی تحریک میں جو حضرات سرگرم عمل رہے ہیں ، ان میں سے بعض تو وہ ہیں کہ ان کا حال قرآن مجید کی زبان میں یہ ہے کہ ایسے انسانوں کے لئے تو کوئی دلیل نہ کبھی کارگر ہوئی ہے ، نہ آئندہ ہوسکتی ہے ، مگر بعض وہ حضرات ہیں جو فی الواقعہ غلط فہمی سے اس تحریک کے ساتھ شامل ہوئے ہیں، اس لئے ہم ان کی خدمت میں پوری ہمدردی اور خلوص کے ساتھ ان بنیادی لغزشوں کی نشان دہی کررہے ہیں جو تجدّد کے فکر میں پائی جاتی ہیں،
۱… گذشتہ صفحات میں ہم نے جو تجدّد کے ارتقاء کی ایک مختصر تاریخ پیش کی ہے اس سے بخوبی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ حضرات سب سے زیادہ مغربی تہذیب سے مرعوب ہیں، اور اسے ترقی کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں ، اور ان کا یقین یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسے اختیار کئے بغیر کسی قوم کا زندہ رہنا ممکن نہیں، چنانچہ ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب اپنے مقالہ ''جدید افکار اور معاشرتی اقدار کی طرف سے اسلام کو چیلنج'' میں لکھتے ہیں :
''یہ مصلح ( یعنی تجدد پسند) ان اقدار کو ( یعنی مغربی اقدار کو ) خیر مطلق سمجھتے تھے، اور ان کی ترقی پسندانہ نوعیت پر یقین رکھتے تھے، اس کے ساتھ ساتھ انہیں اسلام پر بھی گہرا اعتقاد تھا، اسلام اپنے عہد زریں میں ایک ترقی پسند قوت تھی ، اور چونکہ یہ اقدار جو آج ترقی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور معاشرتی خیر کی حامل ہیں، انہیں نہ صرف اسلام کی روح کے مطابق ہونا چاہئے بلکہ حقیقت میں اس کے معاشرتی پیغام کا حامل اور علمبردار ہونا چاہئے ''۔ (ص ۲)
لیکن مغرب پر اس قدر غلو آمیز اعتقاد سرسید احمد خان صاحب کے زمانے میں ہوتا تو کسی درجے میں قابل معافی تھا، کیوں کہ اس وقت تک مغربی معاشرہ اپنے دور طفولیت میں تھا، اور اس کے پورے نتائج وثمرات سامنے نہ آئے تھے، لیکن آج تو مغربی نظام کی چمک دمک کا طلسم ٹوٹ چکا ہے، زندگی کے ہر شعبے میں یہ نظام اس حد تک ناکام ہوچکا ہے کہ خود اہل مغرب چیخ اٹھے ہیں، آج ہر شخص کھلی آنکھوں دیکھ سکتا ہے کہ شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال مرحوم کی یہ پیشگوئی کیسی حرف بہ حرف صحیح ہورہی ہے کہ ؎
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
یہ حقیقت اب کسی اہل علم سے پوشیدہ نہیں رہی ، یقین نہ آئے تو ہم یہاں صرف ایک حوالہ پیش کرتے ہیں ، دورحاضر کے مشہور برطانوی مفکر اور فلسفی برٹرینڈرسل کا ایک مضمون حال ہی میں شائع ہوا تھا جو ہر مسلمان بلکہ ہر مشرقی انسان کے لئے سرمۂ بصیرت ہے، اس مضمون کا نام ہے ''مشرق کی دوبارہ بیداری پر کچھ تأثرات'' اس میں ایک جگہ رسل صاحب فرماتے ہیں :
''مشرق کی ترقی کو اگر کوئی زبردست خطرہ ہے تو وہ مغرب کی اندھی تقلید کے اس رجحان سے ہے جو وہاں برابر بڑھ رہا ہے ، میں بڑے خلوص کے ساتھ اہل مشرق کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ان کے پاس معاشرت کے زیادہ اچھے طریقے ہیں، وہ ہر گز ان غلطیوں کا اعادہ نہ کریں جنہوں نے مغرب کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا ہے ، ( از ماہنامہ ٹائمز آف پاکستان اشاعت جولائی ۱۹۵۶ء)
اگر یہ بات ہم از خود کہتے تو اسے ''ملائیت'' کے نام پر رد کردیا جاتا ، لیکن یہ تو برطانیہ کے اس مفکر کا قول ہے جس کی انسانیت پسندی ، غیرجانبداری اور معاملہ فہمی کا لوہا پوری دنیا میں یہاں تک کہ روس میں بھی مانا جاتا ہے ، اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص مغربی نظام کا شیدائی ہو تو اس کا مرض ناقابل علاج ہے ۔
۲… پھر اگرکوئی شخص اپنے دل سے مجبور ہوکر مغربی تہذیب کو اختیار کرنا چاہتا ہو ، تو اسے چاہئے تھا کہ وہ خود یہ شوق پورا کرلیتا، لیکن تجدد پسند طبقہ دوسری غلطی یہ کرتا ہے کہ اسے اسلام کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ اسلامی نظام اور مغربی نظام اپنی روح کے اعتبار سے اس قدر متضاد چیزیں ہیں کہ کسی اہم نقطے پر ان کا اجتماع ممکن نہیں،دونوں میں اقدار اور قیمتوں کا زبردست فرق ہے ، جس چیز کو اسلام قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ مغرب میں بے قیمت ہے ، اور جسے مغرب گراں قدر سمجھتا ہے وہ اسلام کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتی ، اعتقادیات میں اسلام کا تصور یہ ہے کہ مذہب زندگی کا قانون ہے ، اور مغرب میں مذہب کا تصور یہ ہے کہ وہ محض ایک شخصی اعتقاد ہے جس کا عملی دنیاسے کوئی تعلق نہیں، اسلام میں پہلی چیز ایمان باللہ ہے اور وہاں سرے سے اللہ کا وجود ہی مسلم نہیں، اسلام کا پورا نظام تہذیب وحی ورسالت کے اعتقاد پر قائم ہے ، اور وہاں وحی کی حقیقت ہی میں شک اور رسالت کے منجانب اللہ ہونے ہی میں شبہ ہے ، اسلام میں عقیدہ آخرت پورے نظام قانون واخلاق کا سنگ بنیاد ہے ، اور وہاں یہ بنیاد خود بے بنیاد نظر آتی ہے، قانون میں اسلام یہ کہتا ہے کہ خود خدا واضع قانون ، رسول شارح قانون اور انسان متبع قانون ہے، مگر وہاں خدا کو وضع قانون کا کوئی اختیار ہی نہیں ، لیجلیچری واضع قانون ہے اور قوم اسے منتخب کرتی ہے ، سیاسیات میں اسلام کا مطمح نظر حکومت الٰہی ہے ، اور مغرب کا مطمح نظر حکومت قومی، اسلام کا رُخ رنگ ونسل کی تفریق سے آزاد ہونے کی طرف ہے، اور مغر ب کا کعبۂ مقصود قومیت ہے، معاشیات میں اسلام اکل حلال، زکوٰۃ اور تحریم سود پر زور دیتا ہے ، اور مغرب کا سارا نظام ہی سوداور منافع پر چل رہا ہے ، اخلاقیات میں اسلام کے پیش نظر آخرت کی کامیابی ہے ، اور مغرب کے سامنے دنیا کا فائدہ ، اجتماعیات میں اسلام پاکیزگی ، عفت اور ایثار کی تلقین کرتا ہے ، اور مغرب کا پورا نظام ہی فحاشی بے حیائی ، اور خود غرضی پر قائم ہے، غرض کوئی شعبۂ زندگی ایسا نہیں جس میں اسلام اور مغرب مل کر بیٹھ سکتے ہوں ، یہ دونوں درحقیقت دو مختلف سمتوں میں سفر کرنے والی کشتیاں ہیں، جن میں سے کسی ایک میں بیٹھنے کے بعد دوسرے میں بیٹھنے کا تصور مہلک ہے، اور جو ایسا کرنے کی کوشش کرے گا اس کے ٹکڑے اڑ جائیں گے ۔
۳ … تجدّد کے مکتب فکر کی تیسری بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اسلام کی اصلی تعبیر کو اس کے اپنانے کے لئے ناقابل عمل سمجھتا ہے ، لیکن یہ وہ سفید جھوٹ ہے جس کی نشر واشاعت اہل مغرب نے اگر چہ اس شدت کے ساتھ کی ہے کہ دنیا اسے سچ جاننے لگی ، مگر اس کے باوجود یہ جھوٹ ہی ایسا شرمناک جھوٹ ہے کہ شاید اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ اس آسمان کے نیچے نہ بولا گیا ہو ۔
حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کا کوئی تقاضا ایسا نہیں ہے ، جو اسلام پر ٹھیک ٹھیک عمل کرکے پورا نہ کیا جاسکتا ہو ، آج اگر صنعت وحرفت کی ترقی کا زمانہ ہے تو اسلام آپ کو اس میں آگے بڑھنے سے نہیں روکتا، بلکہ اس کی ہمت افزائی کرتا ہے، آج اگر سائنس کے عروج کا دور ہے تو اسلام آپ کو غباروں میں اڑنے یا چرخ پر جھولنے سے منع نہیں کرتا،بلکہ اس کے لئے ایک مفید استعمال بتادیتا ہے ، آج اگر آپ کو تحقیق واکتشاف کا ذوق ہے تو اسلام آپ کے اس ذوق کی قدر کرتا ہے ، بلکہ اس ذوق کے لئے ایک صحیح رخ اور بہتر فضا مہیا کردیتا ہے، آج اگر مدنیت کی آراستگی کا رجحان ہے ، تو اس رجحان پر بھی وہ قدغن نہیں لگاتا، بلکہ اس کے لئے ایک معقول حد مقرر کردیتا ہے ، پھر بتلائیے کہ وہ کونسے زمانے کے تقاضے ہیں جنہیں اسلام کی قدیم اور اصلی تعبیر پورا کرنے سے قاصر ہے ؟ ہاں اگر آپ زمانے کے تقاضوں کا مفہوم صرف رقص وموسیقی ، بے پردگی وعریانی، سرمایہ داری اور سینما بینی کو سمجھتے ہیں، تو اسلام بیشک ان چیزوں سے روکتا ہے ، لیکن غور تو فرمائیے کہ یہ چیزیں زمانے کا تقاضا کیسے ہیں؟ پہلا اعتقاد تو یہ ہے کہ اس زمانے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو ممنوع کردیا جائے، اس لئے کہ ان اشیاء کی ہلاکت آفرینیاں جس قدر اس زمانے میں واضح ہوئی ہیں ، تاریخ کے کسی دور میں نہیں ہوئیں۔
پھر اس کے بعد جب اسلام کی قدیم تعبیر پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے تو وہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق نہیں تو ہم اس کے سوا اور کیا کہیں کہ ؎
وہ بات میرے فسانے میں جس کا کوئی ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بڑی ناگوار گذری ہے
۴… تجدّد کے مکتب فکر کی چوتھی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی بیشتر اسلامی معلومات کا دارو مدار مستشرقین کے اقوال پر رکھتا ہے ، اور ان کی تقریبا ہر بات کی پورے خلوص کے ساتھ تقلید کرتا ہے، حالانکہ اسلام کے بارے میں مستشرقین کا رویہ اس قدر مخدوش ہے کہ اس پر '' دودھ کی رکھوالی بلّی'' کی مثل صادق آتی ہے ،
ہم ذیل میں مستشرقین کا ایک مختصر تعارف پیش کرتے ہیں جس سے آپ کو ان کی اصلیت معلوم کرنے میں سہولت ہوگی :
مستشرقین
یہ اہل علم کا وہ بدنصیب گروہ ہے جو اسلامی علوم کے سمندر میں باربار غوطے لگانے کے باوجود ہمیشہ تشنہ کام لوٹتا ہے ، ہمیں یہ اعتراف کرنے میں ذرا تأمل نہیں کہ مستشرقین اسلامی موضوعات پر لکھنے میں بے انتہا محنت کرتے ہیں ، بلکہ شاید اس قدر محنت خود مسلمان اپنے مذہب کی تحقیق میں نہ کرتے ہوں ، اور یہ ان سے ایک سبق لینے کی چیز ہے ، لیکن جہاں تک ان کی باتوں کے علمی وعقلی وزن کا تعلق ہے ، تو ہم پوری دیانتداری کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کی باتوں کا علمی وعقلی اعتبار سے کوئی وزن نہیں ہوتا، جس موضوع پر انہیں کچھ لکھنا نہ ہو، اس موضوع کی تو وہ بہت سی بنیادی چیزوں سے یکسر غافل ہوتے ہیں ، ایک دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔
پروفیسر ڈیوڈ ، ڈی ، سانٹی لان (David De Santi Lawn) ایک مستشرق ہیں، ان کا ایک مضمون مشہور کتاب(The Legacy of Islam) میں چھپاتھا ، اور اس کا اردو ترجمہ ماہنامہ چراغ راہ کراچی کے اسلامی قانون نمبر میں شائع ہوا، جس کا عنوان ہے ''اسلامی قانون اور نظام معاشرت'' اس میں انہوں نے اپنے موضوع پر خاصی محنت کرکے مقالہ لکھا ہے ، مگر ایک جگہ فرماتے ہیں :
'' یہ سب خیالات اسلام کی قدیم ترین تاریخی دستاویز یعنی اس فرمان خداوندی ( قرآن) میں پیش کئے گئے ہیں جس کا نزول ۱ھ میں مدینۃ النبیؐ میں ہوا، (اسلامی قانون نمبر ص۱۷ج۱)
ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ قرآن کا نزول مکہ مکرمہ میں ہجرت سے تیرہ سال پہلے شروع ہوچکا تھا، مگر یہ نئے مؤرخ ۱ھ اس کی تاریخ قرار دیتے ہیں۔
اور ملاحظہ فرمائیے ، پروفیسر اسمتھ صاحب جن کا ذکر پہلے بھی کئی بار آچکا ہے ، اپنے ایک مقالے ''اسلام میں قانون اور اجتہاد'' میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ :
'' حدیث میں ہے کہ تتغیر الاحکام بتغیر الزمان '' ( ص ۵)
فقہاء ومحدثین پر تو یہ الزام تھا کہ انہوں نے حدیث کی معاذ اللہ کما حقہ حفاظت نہ کی ، اور بہت سی غلط چیزیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب فرمادیں، مگر یہ ان نئے فقیہ ومحدث کا کارنامہ سب سے زیادہ قابل داد ہے جو فقہاء کے ایک مقولے کو حدیث قرار دے رہے ہیں ، غرض کہنا یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے وسیع مطالعے اور سخت محنت کے باوجود بعض اوقات انتہائی عقلانہ غلطیاں بھی کرجاتے ہیں،
ان حضرات کے طرز تحقیق کی دوسری زبردست اور بنیادی خامی یہ ہے کہ وہ بیحد محنت کرنے کے بعد اپنے مدّعا پر جو دلیلیں لاتے ہیں ، ان میں کوئی ٹھوس بات نہیں ہوتی، وہ ہر چیز کی ایک عجیب ارتقائی تعبیر اختیارکرتے ہیں، اور تاریخی وادبی مواد کو جمع کرنے کے بعد چند جزئیات سے ایک کلیہ مستنبط کرلیتے ہیں، جو اصول استدلال کی بنیادی غلطی ہے ، یہ رائے ہم نے سرسری طور سے یونہی قائم نہیں کرلی ہے، بلکہ ان کے مضامین ومقالات اور کتابوں کا ایک گہرے مطالعے نے ہمیں اس نتیجے تک پہنچایا ہے، کم وبیش ان کے ہر مقالے میں یہی انداز نظر آتا ہے، یہاں ہم اس کی ایک دومثالیں دیں گے ۔
بہت سے مستشرقین مثلاً مسٹر گولڈ زہر(۱) (Goldziher)نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پورا فقہ اسلامی روما کے قانون سے مأخوذ ہے، اس پر انہوں نے مندرجہ ذیل دلیلیں پیش کی ہیں
۱… فقہ اسلامی کے اور قانون روما دونوں کے بعض قوانین میں مماثلت ہے، یہاں تک کہ بعض قوانین من وعن وہی ہیں، جیسے یہ کلیہ کہ ''البینۃ (۱) علی المدعی والیمین علی من أنکر''
۲… بعض علمی اصطلاحات دونوں میں مشترک ہیں، مثلاً لفظ ''فقہ '' کو قانون کے معنی میں لینا، یہ دراصل لفظ Gurics سے مأخوذ ہے، جس کو اہل روما استعمال کرتے ہیں اور جو فہم ومعرفت اور حکمت کے معنی پر دلالت کرتا ہے ،
۳… اسلامی فتوحات کے وقت قیصر یہ اور بیروت میں قانون روما کے مدارس تھے، اور بعض عدالتیں اسی قانون کے مطابق عمل کرتی تھیں، لہٰذا لازم ہے کہ جو قوم پہلے مدنیّت سے بے تعلق رہی ہو ، روما کے ان قانونی اداروں سے متاثر ہوئی ہوگی،
( فجر الاسلام از احمد امین مصری ص ۲۴۶و ۲۴۷)
ڈاکٹر بروکلمان جو مشہور مستشرق ہے، تاریخ الادب العربی میں لکھتا ہے کہ چونکہ مسلمانوں کی فتوحات کی وسعت کے بعد مسلسل مدنی ضروریات میں اضافہ ہورہا تھا، اور قرآن وسنت کا محدود ذخیرہ اس کے لئے ناکافی تھا، اس لئے لازما مسلمانوں نے قوانین روما سے اخذ کئے ہوں گے ،
۴… اسلامی فقہ ایک بہت مختصر مدت میں مدون ہوگیا ہے، اور اس قدر کم وقت میں اتنا بڑا ذخیرۂ قانون مدون نہیں ہوسکتا، تاوقتیکہ وہ بیرونی اثرات سے متأثر نہ ہو،
۵… ایک صاحب نے تو نہایت عجیب استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ افسوس امام اوزاعی ؒ کا مرتب کردہ فقہ ضائع ہوگیا ، ورنہ اس میں ضرور اس بات کی مزید دلیلیں ہوتیں،ان حضرات نے مندرجہ بالامشابہتوں اور قیاسات کو ثابت کرنے کے لئے تو حوالوں کی بھرمار لگادی ہے، لیکن یہ نہ سوچا کہ ان باتوں سے اس بات کا قطعی علم کیسے حاصل ہوگیا کہ اسلامی فقہ قانون روما سے ماخوذ ومستنبط ہے، عقلیّت کا فقدان ملاحظہ ہو کہ دعویٰ تو ایک کلیے کے طور پر کیا جارہا ہے اور دلیل میں جزئیات وقیاسات ہیں۔ آپ مستشرقین کی چھان بین کرلیجئے ، آپ کو ہر جگہ کم وبیش یہی طرز استدلال نظر آئے گا ، وہ اپنے ذہن میں ایک مفروضہ فرض کرکے متعلقہ زمانے کی تاریخ وادب کا گہرا مطالعہ کریں گے ، اور اس میں جو جزئیات مفید مطلب نظر آئیں گے انہیں خوب بنا سنوار کر یکجا جمع کردیں گے ، اور پھر کہیں گے کہ دیکھو تحقیق سے کیا ثابت ہوتا ہے؟
وہ ہر مسئلے پر اسی عجیب زاویے سے نگاہ ڈالتے ہیں ، انہوں نے دور جاہلیت کے ادب کا مطالعہ شروع کیا تو یہ خیال ذہن میں پیدا ہوگیا کہ اسے دور جاہلیت کا ادب نہیں ہونا چاہئے ، بس ان کے ذہن میں یہ بات پک گئی کہ ہو نہ ہو یہ حمّاد الرّاویۃ کا گھڑا ہوا ادب ہے جسے اس نے جاہلیت کی طرف منسوب کردیا ہے، اس مفروضے کو ذہن میں رکھ کر انہوں نے چھان بین کی تو انہیں چند مثالیں مل گئیں جن میں بعض لوگوں نے خود شعر کہہ کر امرؤالقیس اور طرفہ کی جانب منسوب کردئیے تھے، چنانچہ ان مثالوں کو جمع کرکے انہوں نے استدلال کی ایک عمارت کھڑی کردی کہ یہ جاہلیت کی طرف جو ادب منسوب ہے ، وہ پورا کا پورا گھڑا ہوا ہے ، لہٰذا اس سے استدلال کرکے قرآن کریم کے جتنے مضامین کی تفسیر کی گئی ہے ، وہ بھی غلط ، اور اس کے ذریعے قدیم لوگوں کی شدید قوّت حافظہ پر جو استدلال کیاگیا ہے ، اور اس سے حفظ حدیث کی جو تائید کی گئی ہے، وہ بھی بے بنیاد ہے ،
اس مسئلے کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو محمد احمد الغمراوی کی فاضلانہ کتاب ''النقد التحلیلی علی الأدب الجاھلیّ، اور اس پر امیر شکیب ارسلان کا مقدّمہ الشعر الجاھلیّ، أمنحول أم صحیح النّسبۃ ؟۔
دورحاضر کے بعض مستشرقین مثلاً پروفیسر جے شاخٹ اور پروفیسر اسمتھ یہ ثابت کرنے پر مُصر ہیں کہ جس سنّت کو اسلامی قانون کا ماخذ قرار دیا گیا ہے، وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال ہی نہیں ہیں، بلکہ عام مسلمانوں کے طرز زندگی پر بھی سنت کا اطلاق کیاگیا ہے، اس لئے اسلامی قانون عام رسم ورواج سے بھی مستنبط کیا گیا ہے ، جس کی درحقیقت کوئی شرعی بنیاد نہیں ، مسٹر جے شاخٹ لکھتے ہیں :
''جس قانون میں خلفاء اور ولاۃ کے احکام نیز مروجہ طریقے اسلامی نقطہ نظر سے قابل قبول پائے جائیں ، ان سب کو سنت قرار دیدیا جائے''۔
اس پر دلیل کیا ہے کہ سنت مروجہ طریقوں کے معنی میں عام استعمال ہوتا تھا، اس لئے ''فقیہ اعظم'' جناب عبداللہ بن المقفّع ( جن کے اسلام میں بھی شبہ ہی رہا) نے ایک خط خلیفہ منصور کو لکھا تھا ، اس میں سنت کو جن معنوں میں لیا تھا، اس میں پہلی حکومتوں کے قوانین بھی شامل تھے،
یہ ہے ان حضرات کا طرز فکر اور اسلوب تحقیق، جس سے مرعوب ہوکر ہمارے متجددین ان میں اسلام کا سب سے بڑا محقق سمجھتے ہیں ۔
مستشرقین کا تعصب
یہ درست ہے کہ مستشرقین اپنے متین اور سنجیدہ انداز بیان کے ذریعے یہ تأثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ غیر جانبدار ہیں ، وہ جس شخص کی برائی کرنا چاہیں گے پہلے اس کی دس خوبیاں بیان کریں گے اور جتلائیں گے کہ ہم بالکل غیر جانبدار ہوکر اس کے حالات کا مطالعہ کررہے ہیں ، اچھائی کو اچھائی کہتے ہیں اور برائی کو برائی، لیکن ان کا ایک مطالعہ ہمیں اس رائے پر بھی قائم نہیں رہنے دیتا، بعض جگہوں پر تو بڑا واضح طریقے سے تعصب سے کام لیا گیا ہے ، جس کی بیشمار مثالیں ہمارے پاس ہیں، وقت کی تنگی کے پیش نظر اس سلسلے میں خود ایک مشہور مستشرق اور مؤرخ ڈوزی کا قول پیش کرتے ہیں ، جس میں انہوں نے کھل کر غیر مسلم مؤرخین ومستشرقین کے تعصب اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کا اعتراف کیا ہے ، وہ لکھتے ہیں :
''عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی نفرت انگیزی کو ترقی دی ہے اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ ؐ کی تعلیمات میں بڑی وسعت سے غلط نظریات داخل کئے ہیں، عرب کے بالکل وسط میں رہنے کے سبب ان کے لئے اس سے زیادہ آسان بات کوئی نہ تھی کہ اس موضوع پر صحیح معلومات حاصل کریں، لیکن انہوں نے ان ذرائع تک پہنچنے سے انکار کردیا جو انہیں ان کے بالکل قریب مل سکتے تھے، اور ان مزعومات پر مطمئن ہوکر بیٹھ گئے جو غدار ہونے کے باوجود بارد ہوا ہے جارہے تھے''(۱)
اس کے علاوہ سرڈینی سن روس ( Denison Ross)اعتراف کرتے ہیں :
''کئی صدیوں سے یورپی لوگوں نے جو تعلقات اسلام سے قائم کئے وہ پوری طرح ان بیانات پر مبنی تھے، جو متعصب عیسائیوں نے پھیلارکھے تھے''
ایک سطرکے بعد لکھتے ہیں :
''اسلام میں جو اچھی بات تھی ، اسے پوری طرح چھپایا گیا ، اور جو بات ان کی نگاہوں میں بری تھی ، اسے یا تو خوب اچھالا گیا، یا اس کی غلط تعبیر کی گئی''
Quoted by Prof. Khurshid In Islam and the West
تعصب کی یہ مثالیں مستشرقین کے مضامین میں بیشمار ہیں ، یہاں تک کہ بعض جگہوں پر تو صریح شرمناک بددیانتی سے بھی کام لیا گیا ہے ، مثلا پروفیسر بروکلمین اپنی کتاب History of the Muslim Peoples میں لکھتے ہیں :
''عرب خود غرض اور تنگ نظر (Self centered)ہوتے ہیں ، اور اس کا اعتراف ایک حدیث میں کیا گیا ہے جس میں مقدس پیغمبر (ﷺ) نے مندرجہ ذیل طریقوں سے دعاء کرنے کی لوگوں کو اجازت دی کہ ''اے خدا اپنی رحمت مجھ پر اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرما، اور کسی پر یہ رحمت نہ نازل کر''
ایک اعرابی کی بھولی دعاء ''اللھم ارحمنی ومحمدا، ولا ترحم معنا أحدا'' آپ نے بھی سنی ہوگی، مگر کیا یہ ممکن ہے کہ اس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی نظر سے نہ گذرا ہو جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ''لقد تحجرت واسعا'' یعنی تونے ایک وسیع چیز کو بہت تنگ کردیا، مگر یہ کس صفائی کے ساتھ اس ارشاد سے آنکھیں بند کرکے ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا ء کی ترغیب دی ہے۔
پھر وہی وقت کی قلت سامنے آتی ہے ، ورنہ اس طرح کی اور بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی تھیں۔
بہرکیف ! یہ ہیں وہ حضرات مستشرقین جو تجدد کے مکتب فکر کے معلومات کی بنیاد ہیں ، اور جن کی تحقیقات سے وہ بیحد متأثر ومرعوب ہیں ع
قیاس کن زگلستان من بہار مرا
تجدّد کی ترقی کے اسباب
اب ہم ایک مختصر نظر ان اسباب پر ڈال رہے ہیں جو تجدّد کو پروان چڑھا نے کا باعث ہوئے۔
۱… نظام تعلیم
تحریک تجدّد کو جس چیز نے سب سے زیادہ ہوادی، وہ ہمارا غلط نظام تعلیم تھا، جو مسلمانوں میں رائج ہی اس لئے کیا گیا تھا کہ وہ اسلامی اقدار سے دور اور مغرب سے قریب ہوتے چلے جائیں، اور یہ بات ہم کسی تعصب کی بنا پر نہیں کہہ رہے ہیں ، انگریزوں کے سامنے ہندوستان فتح کرنے کے بعد سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ان اسلامی اعتقادات سے خالی کردیں جنہوں نے ماضی میں صلیبی جنگوں کے دوران ان کے پرخچے اڑادئیے تھے، چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے یہاں عیسائیت کو ہوا دینی شروع کی ، اور پورے ہندوستان کو عیسائی بنانے کا مشن تیار کیا گیا ، چنانچہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹر مسٹر مینگلز (Mangles)نے ایک موقعہ پر دارالعوام برطانیہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
'' خدا کی قدرت کا ملہ نے ہندوستان کی وسیع سلطنت انگلستان کو اس لئے تفویض کی ہے کہ مسیح کا جھنڈا ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک فاتحانہ لہرائے، لہٰذا ہر شخص کو اپنی پوری توانائیاں اس مقصد میں صرف کرنی چاہئیں کہ پورے ہندوستان کو عیسائی بنانے کے اس عظیم کام میں کوئی سستی نہونے پائے''(۱)
چنانچہ ایسا ہی ہو ، عیسائی مشنریاں آئیں، اور انہوں نے اعلان کیا کہ ہم ہندوستان کو عیسائی بناکر چھوڑیں گے، Rev. کینڈی نے بڑی بے باکی سے لکھا:
''جب تک ہندوستان پر ہماری حکومت ہے، خواہ ہم پر کوئی بھی مصیبت آجائے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارا اصلی کام عیسائیت کی نشر واشاعت ہے، جب تک کیپ کیمرن(Cape Camorin)سے لے کر ہمالیہ کی چوٹیوں تک ہندوستان دین مسیح کو گلے نہیں لگالیتا اور جب تک ہندو اور مسلمان اپنے مذہب کو خیر باد نہیں کہدیتے ، ہماری کوشش مسلسل جاری رہیں گی ، اس مقصد کے لئے ہم تمام مملکتی کوششیں کام میں لائیں گے ، اور اپنی تمام طاقت وقوت استعمال کریں گے ، اور یہ نہ ختم ہونے والی کوششیں اس وقت تک مسلسل جاری رہنی چاہئیں جب تک کہ ہندوستان ایک شاندار قوم اور عیسائیت کا ایک قلعہ نہ بن جائے''(۲)
ان حضرات کا یہ جوش وخروش عیسائیت کے بلاواسطہ چھاجانے میں تو کامیاب نہ ہوسکا ، لیکن تعلیم یافتہ طبقے کو اسلامی ثقافت سے دور کرنے میں ضرور کامیاب ہوگیا، اور کس طرح کامیاب ہوا ؟ اس کا حال مسٹر چے ٹیلئیر (Chatelier)سے سنئے، جو مشنریوں کے ایک فرانسیسی میگزین میں لکھتے ہیں :
''کوئی شک نہیں کہ ہماری مشنریاں ابھی تک مسلمانوں کے عقائد کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں بلاواسطہ ناکام رہی ہیں ، لیکن یہ مقصد اس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اپنے نظریات کو یورپی زبانوں میں پھیلایاجائے، اگر یہ زبانیں اسلامی دنیا میں پھیل گئیں تو مسلمانوں کا مغربی پریس سے بیحد قریبی تعلق پیدا کیا جاسکے گا ، اور مسلمانوں کی مادی ترقی کی راہیں کھل جائیں گی ( Paths would be pawed) اس طریقے سے مشنریاں مسلمانوں کے ان مذہبی تصورات کو تباہ کرنے کی منزل پالیں گی جنہوں نے ابھی تک اپنی شناخت اور قوت کو تنہائی اور علیحدگی میں محفوظ رکھا ہے''۔
آگے تحریر فرماتے ہیں :
'' اسلامی دنیا کا سیاسی زوال یورپ کے تہذیبی مشن کے لئے راہیں کھول دے گا ، اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مسلمان سیاسی طور پر خستہ حال ہوجائیں گے ، اور بہت جلد اسلامی دنیا ایک ایسے شہر کی مانند ہوجائے گی جو مغربی خار دار تاروں کے جنگلے سے گھرا ہوا ہو''۔
پھر لکھتے ہیں :
'' اگر ایک مرتبہ مسلمانوں نے اپنی موجودہ طور طریق اور سماجی صفات کو چھوڑ دیا، تو اس بات کی امید نہ کی جائے کہ وہ دوبارہ کوئی مثبت طور طریق یا سماجی صفات سامنے لانے کے قابل ہوں گے ، اگر ان کا اعتقاد اسلام میں کمزور کردیا گیا تو ان کے لئے زوال اور انتشار وافتراق لازمی ہے، اور جب یہ زوال وانتشار اسلامی دنیا میں پھیلے گا ، تو مسلمانوں کی مذہبی روح پوری طرح جڑ سے اکھڑ جائے گی ، اور پھر اس کے دوبارہ کسی نئی شکل میں آنے کے تصور بھی نہ کیا جاسکے گا''۔(۱)
ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ ہندوستان کی فتح کا کیا مقصد تھا؟ اور اس مقصد کوحاصل کرنے کے لئے کس طریق کار کا مشورہ دیا جارہا ہے ؟ مشنریوں کے اس مشورے پر عمل کے لئے کہ ہندوستانیوں میں یورپی زبانوںکو رائج کرکے یورپی افکار سے قریب کرنا چاہئے، ۱۸۳۵ء میں ایک تعلیمی کمیٹی بیٹھی ، جس کا صدر انگریزی کا مشہور شاعر لارڈ میکالے تھا، اور اس نے یہ تجویز منظور کرتے ہوئے ، اپنی رپورٹ میں بغیر کسی لاگ لپیٹ کے خوب وضاحت کے ساتھ لکھا کہ :
''ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہئے جو ہم میں اور ہماری کروڑوں رعایا کے درمیان ترجمان ہو، یہ ایسی جماعت ہونی چاہئے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو، مگر مذاق اور رائے ، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو''۔ (مولانا ابوالحسن علی ندوی بحوالہ تاریخ التعلیم ازمیجرہاسو ص ۸۷)
چنانچہ لارڈ میکالے کے یہ الفاظ آج ہو بہو پورے ہورہے ہیں ، یقین نہ آئے تو ان تمام تجدّد پسند اور مغرب زدہ انسانوں کو دیکھ لیجئے ، جو اس نظام تعلیم کے ذریعے پڑھ کر فارغ ہوئے، اور آج ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ دقیانوسی اسلام کو چھوڑ کر ہمیں آج ایک نیا اسلام اپنانا چاہئے،
مغربی تعلیم کے اس گہرے اثر کا اعتراف پروفیسر ولفریڈ ۔ سی ۔ اسمتھ بھی کرتے ہیں ، وہ جدت پسندی کے اثر ونفوذ کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
''اس کام میں پیش پیش وہ تعلیمی ادارے تھے جنہوں نے ایک پوری نسل کی تربیت کی ، اور اس کو مغرب کے جدید طرز کے حوالہ کردیا''۔
(ص۶۴ ماڈرن اسلام ان انڈیا بحوالہ اسلامیت ص ۱۷۲)
حقیقت یہ ہے کہ اس نظام تعلیم کے تیزاب نے عالم اسلام کے ذہین نوجوانوں کو جو اپنی قوم کا جوہر اور سرمایہ تھے، اس حد تک بدل دیا ہے کہ نہ اسلام اپنی صحیح شکل میں ان کے ذہن میں فٹ ہوسکتا ہے اور نہ وہ عام اسلامی معاشرے میں فٹ ہوتے ہیں، ڈاکٹر اقبال ؒ نے سچ کہا ہے ؎
فرنگی شیشہ گر کے فن سے پتھر ہوگئے پانی
دوسرا سبب
اس میں کوئی شک نہیں کہ تجدد کے پروان چڑھنے کا سب سے اہم سبب یہ نظام تعلیم ہی ہے، مگر یہاں ہمیں یہ کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تجدد کی ترقی میں کچھ کمزوری خود ہماری اپنی ہے ، ہم نے تجدد کی اس فکر کو نگاہوں کے سامنے پھلتے پھولتے دیکھا، مگر اس کے لئے کوئی اہم مداوا تلاش نہ کرسکے۔
یہ درست ہے کہ اس عرصے میں علماء کے طبقے میں بہت سی دلآویز شخصیتیں نمودار ہوئیں، جن کی دلکشی اور خلوص وللہیت نے اپنے دائرے میں ایک کثیر حلقے کو اسلام کی صحیح تعلیمات کی طرف کھینچا، لیکن ضرورت اس تجدیدی کام کی تھی ، جو اپنے دور میں امام غزالیؒ اور امام رازیؒ نے انجام دیا، ضرورت اس بات کی تھی کہ اس تحریک کے پر نکالنے سے پہلے ہی علماء اسلام کا ایک طبقہ اسی طرح اس فلسفہ جدید کو کنگھالتا جس پر مغربی تہذیب کی بنیاد قائم ہے، وہ مغربی افکار کا گہرا تنقیدی مطالعہ کرتا ، اور مغربی مفکرین کی نفسیات سے واقفیت حاصل کرتا ، پھر اسے قرآن وسنت کی بے نظیر کسوٹی پر رکھ کر خالص عقلی انداز میں اس کی اصلیت اسی طرح واضح کرتا ، جس طرح امام غزالیؒ اور امام رازیؒ نے فلسفۂ یونان کی کی تھی ،
دوسری طرف اس بات کی شدید ضرورت تھی کہ مغربی تہذیب کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم دنیا کے حالات پر اپنی نہ آنکھیں پوری طرح کھلی رکھتے، اور اپنے قدیم اسلام کو ایک ایسے نئے لباس میں ایجابی طور سے پیش کرتے جو جدید ذوق کے مطابق ہو، ہمیں چاہئے تھا کہ ہم تقریر وتحریر کے ذریعے لوگوں کو دعوت دیتے کہ دیکھو یہ ہے اسلام جو سالہاسال گذرنے پر بھی پرانا نہیں ہوا، یہ آج بھی نیا ہے، اور ہمیشہ نیا رہے گا، اس میں بیسویں صدی کی تمام مشکلات کا بھی اسی طرح حل موجود ہے جس طرح پہلی صدی کی مشکلات کا ، زمانے کا کوئی تقاضا ایسا نہیں جسے یہ اسلام بہترین اور خوشگوار طریقے پر پورا نہ کرتاہو۔
تیسرے ہمیں چاہئے تھا کہ ہم دعوت وارشاد کے کام میں حکمت سے کام لیتے اور تہذیب جدید پر ہمیں اس طرح تنقیدی نظر ڈالنی چاہئے تھی جس طرح قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے ایران اور روم کی تہذیبوں پر ڈالی تھی ، اور اس سے ہمیں وہ مفید طریقے سیکھنے چاہئیں تھے جو مسلمانوں کے لئے مفید ہوں، اسی طرح جیسے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دبّابوں کی صنعت سیکھنے کے لئے صحابہ کرام ؓ کو ترغیب دی ، بلکہ غیر ممالک میں بھیجا۔
لیکن افسوس ہے کہ ہم نے ان میں سے کوئی کام نہ کیا، ہم نے ارسطو اور افلاطون کے فلسفوں پر تو اسی زور وشور سے بحثیں گرم رکھیں جس طرح ہمارے اسلاف نے کی تھیں، مگر جدید فلسفے کی ابجد سے بھی ہم ناآشنا رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم لوگوں سے یہ تو کہتے رہے کہ مغرب کے فلسفے سے متأثر نہ ہونا، اس میں زہرہے، لیکن وہ زہر کیا ہے؟ کہاں ہے ؟اور کس طرح سے ہے؟ اس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہ تھا،
ہم مغربی تہذیب کے منافع اور مضار اور ان مسائل سے قطعی بے خبر رہے جن کی بناء پر ہماری قوم مغربی تہذیب کی طرف چلی جارہی تھی ، لہٰذا ہم ان سے یہ تو کہتے رہے کہ مغربی تہذیب کو اختیار مت کرنا، وہ کفر والحاد ہے ، لیکن وہ کفر کیوں ہے؟ اور اگر اسے اختیار نہ کیا جائے تو دنیا کے موجودہ زمانے میں اسلام کس طرح انسانیت کی صحیح رہنمائی کرسکتا ہے ؟ اس کا جواب ہم نہیں دے سکتے تھے ، ہم نے مغربی تہذیب کا کوئی تنقیدی تجزیہ بھی نہیں کیا ، جس سے ہم اپنی مفید مطلب جائز چیزیں اخذ کرسکتے، اور دنیا کو بتلاسکتے کہ ہمیں کسی تہذیب سے کوئی بیر نہیں ہے، ہم صرف اس کے خلاف ِ اسلام اور خلاف عقل ہونے کی وجہ سے چھوڑتے ہیں، جن کے خلاف ہم نے ہر اس چیز کو جو زمانۂ حاضر کی پیدا کردہ تھی ، مصالح سے آنکھیں بند کرکے اسلام کا دشمن سمجھ لیا ، اور اس طرح اسلام کی غلط نمائندگی کی،
ہمیشہ یاد رکھئے کہ جو تحریکیں ترقی واصلاح اور زمانے کے تقاضوں کے نام پر اٹھائی جاتی ہیں ، انہیں صرف کافر وملحد کہہ کر نہیں دبایا جاسکتا ، اور تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس طرز عمل نے ہمیشہ مقصد کو نقصان پہنچایاہے، آج سے تین صدی پہلے عیسائی مذہب کے خلاف بھی اسی طرح کی تجدد واصلاح کی تحریکیں اٹھی تھیں، لیکن چونکہ ان کے مذہب میں کوئی جان نہ تھی ، اس لئے وہ اس کا جواب دلائل سے نہ دے سکے، اور ان تحریکوں کو ''ملحد'' اور ''بدعتی'' کہہ کر دبانے کی کوشش کی ، جب تک اقتدار مذہب کے ہاتھ میں تھا، اس وقت تک ایسے بدعتیوں اور ملحدوں کو زبردست سزائیں بھی دی گئیں، جان ہس اور جیروم جو مشہور عیسائی متجددین گذرے ہیں اسی جرم میں زندہ جلائے گئے، مگر یہ تحریک ابھرتی رہی ، یہاں تک کہ اس نے مذہب کا خاتمہ کردیا،
دوسری مثال ترکی میں پیش آئی ، جس وقت وہاں مغربیت اور اسلام کا شدید ٹکراؤ ہورہا تھا اس وقت وہاں کے علماء دین نے بیحد تشدّد سے کام لیا، یہاں تک کہ سلطان سلیم نے جب فوجوں کو نئے طرز پر منظم کرنے اور ان کے لئے نئے اسلحہ مہیا کرنے کا ارادہ کیا تو علماء دین نے اس کی مخالفت کی ، اور اسے خلاف اسلام قرار دیا ، نتیجہ یہ نکلا کہ متجددین کا جو طبقہ مذہب سے پہلے ہی بیزار ہورہا تھا ، اور بیزار ہوگیا اور اس نے یہ سمجھا کہ مذہب ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، چنانچہ مصطفی کمال پاشا نے آتے ہی اس بنیاد پر کلہاڑا چلایا، اور جو حرکتیں کیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں،
اس لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم کسی مرحلے پر اسلام کو اس طرح پیش نہ کریں کہ وہ ترقی کا مدّ مقابل معلوم ہو، بلکہ اس حقیقت کی نشر واشاعت کریں کہ مذہب اسلام اور ترقی دوہم معنی چیزیں ہیں اسلام کو چھوڑ کر ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی ، اسلام پر عمل کرکے یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے ، اور تاریخ اس پر سب سے بڑی گواہ ہے ،
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(ماہنامہ البلاغ : رمضان / شوال ۱۴۴۶ھ)
">