حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم

تحریک تجدد کا پس منظر
اور اس کی فکری بنیادیں
(چھٹی قسط)

تیسرا دور
اس مرحلے میں اسلام کو ایک مکمل تہذیب کا حامل بھی کہاگیا، اور اس کی اصل تہذیب وہی قرار دی گئی جو مغرب میں رائج تھی ، مگر اس ’’قرار داد‘‘ کی سہولت کے لئے حدیث کو حجت تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا ، اور اس طرح مغربی تہذیب کو اسلامی تہذیب کا نمائندہ قرار دینے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ تھی ، وہ دور ہوگئی ، اتنا فرق ضرور ہو اکہ پروفیسر اسمتھ صاحب نے تو قرآن وحدیث دونوں کو علی الاعلان عقلیت پسندانہ تنقید کا موضوع بنانے کا مشورہ دیا تھا، مگر ذہین اور زیرک متجدّدین نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا کہ اس سے دونوں کام بھی ہوگئے، اور قرآن کو رد کرنے کی بدنامی بھی مول نہ لینی پڑی ، ظاہر ہے کہ اگر قرآن کو علی الاعلان تنقید کا ہدف بنایا جاتا تو امت مسلمہ میں کوئی جاہل سے جاہل انسان بھی ان کی بات سننے کا روا دار نہ ہوگا، انہوں نے اعلان تو بڑے زور وشور سے ’’حَسْبُنَا کِتَابُ اﷲ‘‘ کا کیا، مگر کھلی ہوئی بات ہے کہ حدیث سے قطع نظر کرنے کے بعد قرآن کو ماننے یا نہ ماننے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، پھر قرآن کریم میں تاویل وتحریف کا ایک کھلا میدان ہاتھ آجاتا ہے، اس کو جو معنی دل میں آئیںپہنائے جاسکتے ہیں ، خصوصیت سے جب ایک نئی ’’لغات القرآن‘‘ بھی تصنیف ہوچکی ہو،لہٰذا ان حضرات کی پوری توجہ انکارِ حدیث پر مبذول رہی، اور اپنے ہر مضمون میں قرآن کی سینکڑوں آیتیں ذکر کر کرکے یہ باور کرایا جاتا رہا کہ دیکھو ہم قرآن کریم کے کس قدر عاشق اورشیدائی ہیں؟
انکار حدیث کی یہ تحریک بھی کئی مرحلوں سے گذر کر ’’ادارۂ طلوع اسلام ‘‘کے باقاعدہ منظم مکتب فکر تک پہنچ گئی ۔
ایک عرصہ دراز تک ’’طلوع اسلام‘‘ کی یہ تحریک ناواقف یا آزادی کے خواہاں لوگوں میں خاصی کامیاب ہوتی رہی، اور اس کی نظر فریب تحریریں اسے دین کا سچّا خادم باور کراتی رہیں، لیکن بالآخر جب علمائے کرام اور دوسرے مسلمانوں نے اس فتنے کی پوری حقیقت بھی واضح کردی ، تو اس کی دلکشی کا طلسم ٹوٹنے لگا، اور مسلمانوں پر یہ بات کھلنے لگی کہ حدیث کا انکار کرنے کے بعد دین ودانش کا حلیہ کس بری طرح بگڑ جاتا ہے، ’’تجدد‘‘ کے وکلا ء کو حدیث کا انکار کرکے بھی خاطرخواہ کامیابی محسوس نہ ہوئی ۔
اس مرحلے پر تجدّد کے مکتب فکر کو تحریف وترمیم کی مشق کرتے ہوئے پوری ایک صدی گذر چکی تھی ، اس عرصے میں تحریف کے نئے نئے رُخ اور نئے نئے طریقے ان کے سامنے آئے تھے، یہاں تک کہ آپریشن کے اس عمل میں خاصی صفائی پیدا ہوچکی تھی ، اس لئے اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد دوبارہ جناب امیر علی صاحب کی سطح پر آجانے میں زیادہ دشواری نہ تھی، اب ’’تحریف‘‘ کا عمل اتنا ترقی کرچکا تھا کہ حدیث وسنت کو حجت تسلیم کرلینے کے بعد بھی وہ اپنی چابک دستیوں سے من مانے نظریات کو اسلام کے سرتھوپ سکتا تھا، چنانچہ اس مرحلے پر پہنچ کر ’’تجدد‘‘ کی تاریخ ایک چوتھے موڑ پر پہنچ گئی ۔
تجدّد کا چوتھا دور
اب مغرب پسند حلقوں نے ایک نیا موقف اختیار کرلیا، اور وہ یہ کہ قرآن وحدیث دونوں کو بحیثیت مجموعی تو حجت تسلیم کرلیا، مگر جو حدیث اپنے کسی مزعومے کے خلاف گئی اُس میں یا تو تحریف کا وہی عمل کیا جس میں اب تک خاصی مہارت پیدا ہوچکی تھی ، یا اگر وہ اتنی صریح ہوئی کہ تحریف ممکن نظر نہ آئی، تو سند کا ضعف دکھا کر ، یا معارضہ پیدا کرکے ، یا قرآن یاعقل کے خلاف کہہ کر اس کو رد کردیا۔
اس کام کیلئے ایک دوسرے کی ہمت بندھانے اور ’’من تراحاجی بگویم‘‘ کی ضرورت تھی، اس لئے اس مقصد کے لئے لاہور میں ایک ادارہ’’ادارہ ثقافت اسلامیہ‘‘ کے نام سے قائم کیا گیا ، جس کی طرف سے ایک ماہنامہ ’’ثقافت‘‘ اب بھی جاری ہے، اور بہت سی کتابیں ٹھیک انہی موضوعات پر وہی بات ثابت کرنے کے لئے لکھی گئیں جو سر سید یا دوسرے متجدّدین کہا کرتے تھے، تعدد ازواج کو ممنوع کہا گیا ، سُود ، موسیقی، اور ضبط ولادت کے جواز پر فتوے دئیے گئے، تصویر اور فوٹو گرافی کی کھلی چھٹی دیدی گئی ، پردہ کقول اکثر عورتوں کے چہروں سے اٹھاکر اپنی نگاہوں پر ڈال لیا گیا ، غرض تمام وہ باتیں دہرائی گئیں جو منکرین حدیث کہتے تھے، یا سرسید نے ارشاد فرمائی تھیں،
لیکن اتنا فرق ضرور ہے کہ اس طبقے سے پہلے جن متجدّدین نے ان موضوعات پر قلم اٹھایا تھا وہ پوری اخلاقی جرأت اور وضاحت کے ساتھ علی الاعلان کہتے تھے کہ ہمیں مغربی تہذیب محبوب ہے، ہم اسے اپنے معاشرے میں سمونا چاہتے ہیں ، مگر یہ حضرات اس جرأت کا ثبوت بھی نہ دے سکے، یہ ہر موقعہ پر دعویٰ یہ بھی کرتے تھے کہ ہم مغربی تہذیب کے اندھے مقلّد نہیں ہیں، ہمیںاس کی بہت سی خرابیوں کا علم ہے ، وہاں کا معاشرہ اس تہذیب کی بدولت جن پستیوں میں جاگرا ہے ان سے بھی ہم واقف ہیں ، لیکن ساتھ ہی ساتھ ان تمام لعنتوں کی تائید بھی کرتے تھے کہ جن کی بدولت مغربی تہذیب پر یہ عذاب مسلّط ہوا، گویا وہ بہ زبان حال یہ اقرار کرتے تھے کہ ہمیں عقلی طور پر وہ خرابیاں تسلیم جو مغربی تہذیب کی بدولت پیدا ہوتی ہیں ، مگر ع
اپنی نظر کو کیا کروں، مجھ کو تو وہ پسند ہیں
اس ادارے کے نمایاں افراد میں سے ایک صاحب تو خلیفہ عبدالحکیم تھے، جنہوں نے آخر میں کھلے انکار حدیث کے موقف کے بجائے یہ موقف اختیار کرلیا تھا ، دوسرے جناب جعفر شاہ صاحب پھلواروی، مؤخر الذکر کے بہت سے مضامین اس ادارے نے شائع کئے ، اور خوش قسمتی کہئے یا بدقسمتی ، آخر الذکر کے کئی مضامین پڑھنے کا احقر کو اتفاق ہوا، جن میں سے بعض پر تحریری تنقید شائع بھی ہوچکی ہے،
اس طبقے کے استدلال کتنے جاندار اور وقیع ہوتے ہیں؟ اس کا تفصیلی انداز تو آپ کو اسی وقت ہوگا جب ایک ایک مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی جائیگی نمونہ کے طور پر ایک مثال ملاحظہ ہو ، جناب جعفر شاہ صاحب پھلواروی کمیونزم کے نظریہ کی تائید کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ شریعت نے زمینوں کو کسی کی ملکیت نہیں بنایا، بلکہ وہ قوم کی ملکیت ہیں، اور عارضی طور سے استعمال کے لئے وہ جسے چاہے دیدیتی ہے، اپنے اس دعوے پر جس کی تردید میں قرآن وحدیث بھرے ہوئے ہیں ، وہ ایک بڑا دلچسپ استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’حدیث میں فرمایا گیا ہے : ’’جُعلت لی الأرض کلّھا مسجداً ‘‘ یعنی میرے لئے تمام زمین کو مسجد بنادیا گیا ہے، آپ کو معلوم ہے کہ مسجد کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، جب پوری زمین مسجد ہے تو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ زمین کسی کی شخصی جاگیر نہیں بن سکتی‘‘
ہمارے خیال میں اس استدلال پر کسی تبصرے کی حاجت نہیں، بہرحال اس طبقے کی دلیلیں اس طرز کی ہوتی ہیں،
اس لئے خطرہ تھا کہ اس عظیم الشان کام کو انجام دینے کے لئے اسی قسم کی دلیلیں پیش کی جاتی رہیں، تو پھر اس طبقے کا بھرم نہ کھل جائے، دوسری طرف اب ہر طریقہ آزمایا جاچکا تھا، حدیث سے انکار کرنے کابھی ، اور اسے تسلیم کرنے کا بھی ، انکار حدیث کا حلقہ اثر روز بروز گھٹ رہا تھا، یہاں تک کہ ایک زبردست واقع نے اس کی گرتی ہوئی عمارت پر آخری ضرب لگادی، یہ آخری ضرب تمام مکاتب فکر کے علماء کا متفقہ فتویٰ تھا جس میں ہر فرقے کے علماء نے بلا اختلاف انکار حدیث کے مکتب فکر کو خارج از اسلام اور کافر قرار دیدیا تھا، اس ضرب کے بعد انکار حدیث کا عوام میں جو رہا سہا اعتماد تھا، وہ بھی فنا ہوگیا۔ اس لئے اب دوبارہ انکار حدیث کے ذریعے مطلب برآری ممکن نہ تھی ، اور ضرورت ایسے لوگوں کی تھی جو حدیث وقرآن دونوں کو ماننے کے ساتھ ایسے استدلال پیش کرسکیں جو پیش کرتے ہی نہ کھل جائیں، کم از کم ناواقف طبقہ اس سے متأثر ہوسکے، اس کام کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ ایسے انسان ملیں جنہوں نے براہِ راست میکگل یونیورسٹی سے فیض حاصل کیا ہو، اور مستشرقین کے افکار اور طرز فکر کو وہ پوری طرح اپناسکتے ہوں،
کوئی شک نہیں کہ اس معیار پر جس شخصیت کا انتخاب کیا گیا ، وہ ہر حیثیت سے اس کام کی لائق تھی، یہ جناب ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب کی باوقار شخصیت تھی جنہوں نے اسلامی علوم براہِ راست یہودی مستشرقین سے میکگل یونیورسٹی میں حاصل فرمائے تھے، چنانچہ کسی تأمل کے بغیر ۱۹۵۹ء؁ میں کراچی کے اندر ’’مرکز اسلامی تحقیقاتی ادارہ‘‘ کے نام سے ایک مرکز قائم ہوا، جس نے تجدّد کے کام کا بیڑا اٹھایا، اور اس مقصد کے لئے چار پرچے جاری کئے دوانگریزی میں ، ایک سہ ماہی Islamic Studies اور دوسرا ماہنامہUmmah ، ایک بنگلہ میں بنام ’’سندھان‘‘ اور پھر ایک اردو میں بنام ’’فکر ونظر ‘‘،
جناب ڈاکٹر صاحب موصوف نے پاکستان تشریف لانے کے بعد اپنے آپ کو تجدّد اور قدامت پسندی دونوں سے غیرجانبدار رکھنے کا اعلان فرمایا، بلکہ گذشتہ متجدّدین پر تنقیدبھی فرمائی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ان سے متفق نہیں ہوں گے ، چنانچہ ۱۹۵۷ء؁ میں لاہور کے اندر جو اسلامی مذاکرہ ہوا تھا، اس میں مقالہ پڑھتے ہوئے جناب ڈاکٹر صاحب نے تحریک تجدّد کی ناکامی کے اسباب بیان کئے اور فرمایا:
’’آزاد منش جدّت پسندوں نے اس قدردیوانہ وار اور اتنے فیصلہ کن انداز میں مغرب کی معاشرتی واخلاقی اقدار کو اسلام سے اس قدر ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی کہ پوری طرح اس بات کی وضاحت کرنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی کہ انہیں کیوں اپنانا چاہئے؟‘‘
پھر اپنے اس خیال کی بار بار تاکید بھی فرماتے رہے، چنانچہ ماہنامہ فکر ونظر کے اگست ۶۴ء؁ کے شمارے میں تحریر فرماتے ہیں :
’’قدامت پسند حضرات قرون وسطی کے نظریات کی رو سے اسلام کی تشریح کرتے ہیں ، لیکن جدّت پسند اصحاب ان نظریات کے بجائے نئی توضیحات لاتے ہیں ‘‘۔(ص۹)
آگے تحریر فرماتے ہیں :
’’لیکن جدت پسند بھی اسلام کا کوئی نیا ترقیاتی خاکہ نہیں پیش کرتے، ان کی جد وجہد منفی سمت میں ہوتی ہے، وہ اسلام کو علیحدہ یا غیر مؤثر رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ اسلام ترقی کی راہ میں حائل نہ ہو ان کا خیال ہے کہ اسلامی حدود سے باہر رہ کر ہی ترقی کی منزلیں طے کی جاسکتی ہیں ، اس طرح ایک اقل اسلام کا تصور ان کے سامنے آتا ہے جس سے انہیں عارضی تسلّی تو مل جاتی ہے لیکن یہ لادینیت کا دوسرا نام ہوتا ہے‘‘(ایضا)
اس قسم کی تحریروں سے یہ باور کرانا مقصود ہے کہ انہیں جدّت پسند گروہ کے معروف طبقے میں شامل نہ سمجھا جائے ، وہ غیر جانبدار رہیں گے،
لیکن ہم یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں کہ اگر انہیں جدت پسندوں کی اندھی تقلید مغرب پسند نہیں ہیں تو جن مسائل میں جدت پسندوں نے اس اندھی تقلید کا مظاہرہ کیا ہے، اس میں ڈاکٹر صاحب ان سے اختلاف کیوں نہیں فرماتے؟ ادارۂ تحقیقات اسلامی کے جس قدر کارنامے اب تک منظر عام پر آئے ہیں، وہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ دیکھو ہم میں اور قدیم متجددین کے کارناموں میں کوئی فرق نہیں، انہوں نے مغرب کی تقلید میں سود کو جائز کہا تھا ، ، ہم بھی کہتے ہیں، انہوں نے مغرب کی تقلید میں تعدد ازواج ممنوع کیا تھا ، ہم بھی کرتے ہیں ، وہ پردے کو غیر شرعی قرار دیتے تھے، ہم بھی قرار دیتے ہیں، جن جن چیزوں میں وہ مغرب کی تقلید کرتے تھے ، ہم بھی ان سے پیچھے نہیں، پھر وہ کیا فرق ہے جس کی بناء پر جناب ڈاکٹر صاحب کو پرانے جدت پسندوں سے ممتاز کیا جائے؟
اس صورت میں جناب ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمانا کہ قدیم جدّت پسندوں نے اندھی تقلید کی تھی ، اس کے سوا اور کیا مطلب رکھتا ہے کہ انہوں نے تو مغربی نظام کو تقلیداً اپنایا تھا ، لیکن ہم نے اسے تحقیقاً اپنایا ہے؟
کیا اس سے یہی تأثر پیدا کرنا منظور نہیں کہ کتنی ہی تحقیق کرلی جائے، مغربی نظام ہر قدم پر واجب التسلیم ثابت ہوتا ہے،
بہرکیف! یہ طرز عمل واضح کردیتا ہے کہ موجودہ موقف سابقہ طرز ہائے استدلال کی ناکامی کے بعد یہ تأثر دینے کے لئے اپنایا گیا ہے کہ قرآن وسنت پر مبنی تحقیقات بھی مغربی تہذیب کے حق میں ووٹ دیتی ہیں،
اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر صاحب حدیث کا علی الاعلان انکار نہیں کرتے، ان کے مضامین میں قرآن کی آیتیں، حدیثیں اور بڑی بڑی کتابوں کے بیشمار حوالے بھی نظر آتے ہیں، لیکن ان کے مضامین کا ایک گہرا تجزیہ ہمیں یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ ان کا انداز بیان، کچھ اس قدر ژولیدہ ، الجھاہو، اور مستشرقانہ ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی ان کے مضمون میں بیشمار حوالے دیکھ کر ان کے انداز تحقیق سے مرعوب تو ہوجاتا ہے ، مگر اس کے پلّے کچھ نہیں پڑتا، وہ اس الجھے ہوئے مضمون کو پورا پڑھنے پر قادر ہی نہیں ہوتا، لہٰذا اس کے ذہن پر یہ تأثر قائم ہوجاتا ہے کہ اس قدر تحقیقی مضمون جو میری فہم سے بالا ہے ، ضرور وزنی ہوگا، اور اس میں ناقابل انکار دلائل ہوں گے ، اس لئے وہ دلائل کو پرکھے بغیر ہی اس سے متأثر ہوجاتا ہے،
اور ایک اہل علم اگر دل پر جبر کرکے اس مقالے کو پورا پڑھ لے تو بہت غور وفکر کے بعد وہ ان کا دعویٰ تو شاید سمجھ جائے، لیکن اس کی مرتّب اور منظم دلیلوں کا متعین کرنا سخت مشکل ہے ، پورے مقالے میں جو مواد بکھرا ہوا ہے ، اس میں بہت کم باتیں اصل دعوے سے متعلق ہوتی ہیں ۔
یہ تھا تحریک تجدد کا ایک تاریخی جائزہ ، اور اس کے فکری ارتقاء کا ایک مطالعہ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : رجب المرجب ۱۴۴۶ھ)