حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
تحریک تجدد کا پس منظر
اور اس کی فکری بنیادیں
(ساتویں قسط)
مستشرقین کی طرف سے تجدد کی ہمت افزائیاں
اب ہم چند مستشرقین کے وہ اقوال آپ کے سامنے پیش کریں گے جن سے آپ کو یہ معلوم ہو کہ اہل مغرب تجدد کی تحریکوں کی کس طرح پیٹھ تھپکتے رہے ہیں، اور وہ کون ہے جو تجدد کی تحریکوں کو مسلسل ابھار رہا ہے ؟ اور کس کے افکار اس تحریک کی پشت پر کام کررہے ہیں؟ …
مستشرقین کا عام طرز عمل یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں جتنی تحریکیں تجدد اور اسلام کو بگاڑنے کے لئے اٹھتی ہیں ، وہ ان کی تائید اور ہمت افزائی ہی نہیں کرتے، بلکہ ان کو راہِ عمل سمجھاتے ہیں ، کینڈا کے مشہور سربرآوردہ مستشرق پروفیسر ولفریڈ کنٹول اسمتھ کی کتاب Modern Islam of Indiaکے بہت سے حوالے آپ پیچھے سن چکے ہیں، انہوں نے ہندوستان کی مذہبی ، سیاسی ، اور سماجی تحریکات پر جو کتاب لکھی ہے ، اس میں یہ طرز عمل بہت نمایاں ہے کہ وہ ہر تجدد کی تحریک کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں، مگر جب اسلام کے احیاء کی کسی تحریک کا ذکر آتا ہے تو ان کے انداز سے ایک قسم کا انقباض مترشح ہوتا ہے، اور وہ اس پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں ، چنانچہ وہ حضرت سید احمد شہیدؒ اورحضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک جہاد کو ’’وہابی‘‘ سے تعبیر کرنے کے بعد اس کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’پہلی رجعت پسندانہ تحریک ہمارے مطالعہ کی حدود سے باہر ہے ، یہ نویں صدی کی ابتداء میں شروع ہوئی ، اور یہ صرف نچلے درجے کے لوگوں میں پروان چڑھی، یہ تحریک ایک پر جوش اورمنظم احتجاج تھا، مگر اس کے پاس کوئی تعمیری پروگرام نہ تھا جو کہ اس سطحیت کا مقابلہ کرسکتی جو سوسائٹی میں بر طرح چھاکر اسے زوال پذیر بناچکی تھی ، اس تحریک کو اکثر ’’وہابی‘‘ کہاجاتا ہے ‘‘( ص۳ مقدمہ )
ڈاکٹر اقبال مرحوم کو انہوں نے ایک پہلو سے ’’ جدت پسند‘‘ اور دوسرے پہلو سے ’’رجعت پسند‘‘ قرار دیا ہے اور رجعت پسندی کے پہلو پر تنقید کی ہے ،
یہاں تک کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
’’ پھر سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے آج کے طلباء کو ایک فرسودہ نظام کی دعوت دی ، بلکہ اس پر اصرار کیا، وہ پرانے نظام کو ایک جدید انداز میں پیش کررہے تھے، لیکن اس میں نہ کوئی محبت کا جذبہ تھا نہ کوئی تخلیقی مقصد تھا اور نہ ان مسائل کا کوئی حل جس کا طلباء مقابلہ کررہے تھے، یہ بالکل واضح ہے کہ وہ اسی پرانے مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں جو جاہل، بے صبرے اور ضدّی مذھبیوں کا مکتب فکر ہے ‘‘(۱)
مگر تجدّد کے مکتب فکر کی تائید اور ہمت افزائی کرنے میں وہ بھی دوسروں کی طرح پیش پیش ہیں، حالانکہ مستشرقین میں اسمتھ صاحب شاید سب سے زیادہ غیر جانبداری کے مدعی ہیں، وہ صرف متجددین کی ہمت افزائی ہی نہیں کرتے ، بلکہ انہیں اپنے موقف کی دلیلیں بھی سمجھاتے ہیں، لاہور مذاکرہ میں انہوں نے جو مقالہ پڑھا تھا ، اس میں وہ لکھتے ہیں :
’’حال کے انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بزرگوں یا ماضی کے انسانوں کی غلطیوں کی تصحیح کرے، اور مجتہد کا فرض ہے کہ وہ اپنے زمانے کی اسی طرح خدمت بجالائے جس طرح اس کے بزرگوں نے اپنے دور کے لئے کی، لوگ اس شاندار عظیم کارنامے کی قدر کرتے ہیں اور تحسین وستائش کے پھول برساتے ہیں‘‘۔
مگر اس پر عام طور سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم بزرگوں کی طرح اجتہاد کے اہل نہیں، اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وہ فرماتے ہیں :
’’ یہ کہنا کہ ہم اپنے بزرگوں کی طرح کام نہیں کررہے ہیں، کام نہ کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، بیسویں صدی کا قانون انیسویں صدی کے قانون کی طرح مناسب حال نہ ہولیکن وہ یقینا انیسویں صدی کے مقابلے میں اپنے دور کے لئے زیادہ موزوں ثابت ہوگا ، یہی دلیل کام پر اکسانے کے لئے کام میں لائی جاسکتی ہے‘‘۔ ( مقالہ بہ عنوان ’’اسلام میں قانون اور اجتہاد ‘‘ ص ۶و۷)
اس سے زیادہ واضح طور پر ایک اور مستشرق جناب روڈ ی پیرٹ اپنے مقالہ ’’عصر حاضر میں اسلام کے تشریعی مسائل‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’اسلام کی شریعت اپنی مروجہ صورت میں عصر حاضر کی زندگی کی ضروریات کے لئے ہر اعتبار سے مکتفی نہیں‘‘۔
اس کے بعد وہ تجدّد پر زور دیتے ہوئے صاف طور سے لکھتے ہیں کہ :
’’یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مناکحت کے قانون اوراوقاف کے قانون میں بعض اصلاحات کیوں نہ کرلی جائیں؟ جبکہ ان اصلاحات کے لئے معقول وجوہ موجود ہوں، اور وہ اصلاحات عامۃ الناس کی بہبود پر منتج ہونے والی ہوں، کوئی تشریعی نظام ابدالاباد تک کے لئے تخلیق نہیں ہوا‘‘۔
پھر کچھ مسائل میں بعض اسلامی ممالک نے تحریف کو اصلاح کا نام دیکر قوانین وضع کئے ہیں، ان پر بیحد مسرّت کا اظہار کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’ ان اصلاحات کا نفاذ اس امر کا ثبوت ہے کہ دنیائے اسلام میں نشأۃ ثانیہ اورتنظیم جدید کا دور شروع ہوچکا ہے ، اورہم بیسویں صدی کے مستشرقین خوش قسمت ہیں کہ اس دور کی طلوع سحر کو دیکھنے کے لئے زندہ ہیں ، ہم حیرت اور استعجاب کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ایک ایسی چیز معرض ظہور میں آرہی ہے جسے آج سے پچاس سال پہلے ناممکن الوقوع خیال کیا جاتا تھا‘‘۔
پھر پاکستان میں ان اصلاحات کو جلد نافذ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’یہ تحریک ترقی پذیر ہے اور ممکن بلکہ اغلب طور ممکن ہے کہ عمر میں سب سے چھوٹی لیکن رقبے میں سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان میں بھی شرع اسلام کے اہم ترین صفوں میں اصلاحات رائج کرنے کا معاملہ جلدہی زیر غور لایا جائے گا‘‘۔
اس کے علاوہ ایک اور مشہور مستشرقہ محترمہ ویرا مکالسن ڈین اپنی کتاب (The Nature of The Non-Western World ) میں تحریر کرتی ہیں :
’’ اسلام کو ابھی تک کسی ایسی ذھنی تبدیلی کا تجربہ نہیں ہوسکا جو یورپ کی اصلاحات کے مشابہ ہو ، لیکن ہمارے زمانے میں اگر اسلام یہ نہیں چاہتا کہ عرب کے جدت پسند نوجوان اُسے رد کردیں تو اسے اس قسم کی اصلاحات سے گذرنا پڑے گا ‘‘ ( ص ۵۰ وص ۵۱) (۲)
ہمارے پاس مستشرقین کے اس قسم کے اقوال کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ وہ ایک مستقل کتاب بن سکتی ہے ، مگر ہم یہاں مضمون کو طول نہیں دینا چاہتے ، البتہ صرف ایک اور اقتباس سنتے جائیے،
ڈاکٹر فری لینڈ کے ایبٹ جو امریکہ کے مشہور مستشرق ہیں، اور پاکستان کی ذہنی تحریکات پر ایک کتاب لکھنے کے لئے ڈھائی تین سال یہاں رہ چکے ہیں، وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں :
’’واقعہ یہ ہے کہ جب تک جدت پسندوں کے نقطہ نظر سے جب تک مضامین قرآنی کو الگ الگ اجزاء وحصص کی حیثیت سے نہ دیکھا جائے(Unless Quran Is Treated In Fragments) یا اس کی آزاد خیالی
ے ساتھ تعبیر وتفسیر نہ کی جائے، موجودہ زمانے میں اسلام کو ایک عقلی نظام کے طور پر پیش کرنا ممکن نہ ہوگا، قرآن میں کافی حصہ بے معنی معلوم ہوتا ہے ، یا اس کے معنی صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک کے عربوں تک محدود نظر آتے ہیں ، اسی لئے ان لوگوں کے لئے جو اسلام کی عقلیت کے علمبردار ہیں، قرآن میں بیان کردہ عام اصولوں پر زیادہ زور دینا ضروری ہے، مجملاً یہی وہ کام ہے جسے خلیفہ عبدالحکیم نے سرانجام دینے کی کوشش کی ہے ، یہی وہ کام ہے جس کے لئے غلام احمد پرویز کوشش کررہے ہیں یہی رجحان شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر پاکستان کے اکثر مسلمانوں کا ہے ۔
جب تک قدامت پسند اسلام میں جدت پسند تحریکوں کو مغرب کے اثر کی ایک بگڑی ہوئی شکل سمجھتے رہیں گے وہ ہمیشہ ناکام رہیں گے ، اور ساتھ ہی وہ اسلام کی عقلی میراث کو جو اپنے اندار بڑی وسعت رکھتی ہے، اپنی فطری وسعت سے محروم کردیں گے ‘‘۔ (ماہنامہ چراغ راہ نظریہ پاکستان نمبر ص ۳۷۲)
اس عبارت میں ڈاکٹر ایبٹ نے پوری صاف گوئی کے ساتھ نہ صرف یہ بات واضح کردی ہے کہ ان کا پسندیدہ طرز فکر کونسا ہے ، بلکہ ساتھ ہی متجددین کو ایک وسیع میدان تحریف بھی دکھلادیا ہے انہوں نے کس قدر صفائی کے ساتھ یہ مشورہ دیا ہے کہ قرآن کو ایک کل کی حیثیت سے لینے کی بجائے اس کو اجزاء وحصص کرکے دیکھا جائے ، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر تحریف قرآن کی عمارت بڑی آسانی سے کھڑی کی جاسکتی ہے ، اگر ایک آیت کو دوسری تشریعی آیات یا احادیث سے الگ کرکے دیکھا جائے، تو بات کے کہیں سے کہیں پہنچنے میں کیا دشواری رہ جاتی ہے؟ اب ظاہر ہے کہ ڈاکٹر ایبٹ صاحب کو اس بات سے کیا بحث ہوسکتی ہے کہ یہ طرزِ عمل أفتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض کی روشنی میں انسان کو کہاں پہنچاتا ہے؟
لیکن اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی یہ دیدہ دلیری قابل داد ہے کہ وہ باوجود پاکستانیوں کو قریب سے دیکھنے کے یہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے اکثر کا وہی رجحان ہے جو پرویز صاحب پیش کرتے ہیں ،
اس ارشاد کی روشنی میں آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں کہ ان حضرات کی غیرجانبداری کا وہ ’’معصوم‘‘ دعویٰ کہاں تک درست ہے ، جس کا راگ یہ حضرات صبح وشام الاپتے ہیں؟
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مستشرقین کس جوش وخروش کے ساتھ تجدّد کی تحریکوں کا خیر مقدم کرتے رہے ہیں؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ؟ کیا اس لئے کہ وہ اسلام کو ایک سچّا مذہب مانتے ہیں ، اور اس لئے انہیں اس کی ترقی کی فکر ہے؟ اگر ایسا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ خود ایسے سچّے مذہب کو قبول کرکے اس میں یہ ترمیمیں کیوں نہیں فرماتے؟ … پھر اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ تجدّد کا طبقہ ان کے دل کی دھڑکنوں کی ترجمانی کرتا ہے، جو بات وہ مغرب میں کہتے ہیں، طبقہ اسے مشرق کے اس سرے سے اُس سرے تک پھیلادیتا ہے ، بہر کیف ! ہم ان تمام مستشرقین کے تہ دل سے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے اس عام احساس کی کھل کر تائید کردی ہے کہ تجدّد کا مکتب فکر ہماری زمین کی پیداوار نہیں ہے ، اس کی فکر خالص مغرب سے مستعار ہے ، اور یہ جو کچھ کہتا ہے اس کا حال بقول اکبر مرحوم یہ ہے کہ ؎
انہی کے مطلب کی کہہ رہاہوں ، زبان میری ہے بات ان کی
انہی کی محفل سنوارتا ہوں ،چراغ میرا ہے رات ان کی
جاری ہے ۔۔۔۔۔
(۱) Modern Islam In India p.151
(۲)as Quoted by Prof. Khurshid ín his Article ”Islam and the West p.44”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(ماہنامہ البلاغ : شعبان المعظم ۱۴۴۶ھ)