حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم

تحریک تجدد کا پس منظر
اور اس کی فکری بنیادیں
(پانچویں قسط)

اس دور کے دوسرے متجددین
اس وقت ہندوستان میں اعلیٰ سوسائٹی کے اندر ایک اچھا خاصا طبقہ وہ موجود تھا جو سرسیّد احمد خان صاحب کی طرح مغربی تہذیب سے مرعوب تھا، اور اس کو اختیار کرنے کے لئے دین ومذہب کی پابندیوں سے آزاد ہونا چاہتا تھا، جب سرسیّد احمد خان نے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ جاری کیاتو اس کی آرزوئیں برآئیں، اور اس نے اس پرچے کو اپنا فکری پلیٹ فارم بنالیا، اور اس میں سرسیّد خان صاحب کی طرح اسلام میں ترمیم وتحریف کرنے والے مضامین لکھتے رہے،
ان شخصیتوں میں سب سے زیادہ نمایاں مولوی چراغ علی تھے، جنہوں نے اپنے مضامین سے تجدّد کے مکتب فکر کو خاصی تقویت پہنچائی، اور اسلام کی پابندیوں سے آزاد ہونے کے لئے وہی موقف اختیار کیا کہ جو ہم ضیا گوک الپؔ کے تذکرے میں بیان کرچکے ہیں ،یعنی یہ کہ اسلام ایک مذہب ہے اور اس کا تعلق محض عبادات ورسوم سے ہے، ان عبادات ورسوم کو بجالانے کے بعد انسان کو اختیار ہے کہ وہ جو تہذیب چاہے اختیار کرے، اور زندگی کے دوسرے مسائل میں جس طرح چاہے عمل کرے، انہوں نے اپنا یہ نظریہ اپنی ایک انگریزی کتاب میں ظاہر کیا ہے جس کا نام ’’سلطنت برطانیہ(۱) اور دوسری اسلامی ریاستوں میں مجوزہ سیاسی، قانونی اور سماجی اصلاحات‘‘ اس کتاب کا اردو ترجمہ بعد میں ’’اعظم الکلام‘‘ کے نام سے شائع ہوا، وہ اس میں ایک جگہ وضاحت کے ساتھ لکھتے ہیں :
’’اسلام بحیثیت مذہب کسی سماجی نظام کو اختیار کرنے سے قطعی تعرض نہیں کرتا، اور مسلمانوں کی سیاست اور ان کا سماجی نظام مذہب سے بالکل الگ ہے ‘‘
یہ وہی بات ہے جو ضیا گوک الپؔ نے پیش کی تھی، فرق اتنا ہے کہ ضیا گوک الپؔ کو اپنے دعوے کی دلیل میں کوئی آیت قرآنی یا حدیث رسولؐ میسر نہ آئی تھی، مگر مولوی چراغ علی صاحب نے کی’’روشن دماغی‘‘ نے اس پر ایک حدیث بھی پیش کردی، ان کا یہ استدلال کس قدر ذہانت پر مبنی ہے؟ ملاحظہ فرمائیے،
آپ نے ’’حدیث تأبیر نخل‘‘ کا یہ واقعہ تو ضرور سنا ہوگا کہ مدینہ منورہ میں صحابہ کرامؓ کھجوروں کے درختوں کو بار آور کرنے کے لئے کھجور کے درختوں میں ’’تأبیر‘‘ کیا کرتے تھے، آپ ؐ نے جب سُنا تو انہیں ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا، مگر جب آپ ؐ کو معلوم ہوا کہ مدینہ کے عام درخت اس کے بغیر پھل نہیں لاتے، تو آپ ؐ نے اس کی اجازت دیدی، اور فرمایا کہ : ’’أنتم أعلم بأموردنیاکم‘‘ اپنے دنیوی امورکو تم جانو،
ایک معمولی سوجھ بوجھ والا انسان بھی اس بات کو جانتا ہے کہ جو شخص کسی عہدے پر فائز ہو اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں، ایک شخصی، اور ایک صاحب عہدہ ہونے کی، فرض کیجئے کہ ایک شخص کسی مملکت کا صد رہے، اس کی ا یک حیثیت صدر ہونے کی ہے، اور ایک حیثیت ایک انسان ہونے کی ، صدر ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم ہر انسان یہاں تک کہ اس کے باپ کے لئے بھی واجب التسلیم ہے، اور ایک انسان ہونے کی حیثیت سے اگر وہ اپنے باپ بھائی ، بیوی بچوں، عزیر واقارب کو کوئی مشورہ دیتا ہے، تو وہ ان کے لئے واجب العمل نہیں اس صورت میں اگر وہ اپنے کسی دوست سے کہتا ہے کہ میں تو تمہارا بھائی ہوں، ضروری نہیں کہ تم میری ہر بات مانو، تو کیا اس کا کوئی عقلمند یہ مطلب لے سکتا ہے کہ اگر وہ قانونی طور پر کوئی حکمنامہ جاری کرے تو بھی وہ ان کے لئے واجب العمل نہ ہوگا؟
ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ نکلا اپنی شخصی حیثیت سے جوبات میں کہتا ہوں، وہ تمہارے لئے واجب العمل نہیں ، بس یہی مطلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا بھی ہے، جسے ہر معمولی سوجھ بوجھ والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے، اور یہی آج تک سب مسلمان سمجھتے آئے ہیں لیکن جب مغربی تہذیب اور رواج کے لئے اسلام کو تہذیب سے جدا کر نے کی سخت ضرورت پیش آئی، اورجناب مولوی چراغ علی صاحب کی نظر اس ارشاد پر پڑی ، تو انہوں نے وہ پھڑک اٹھے، یقین فرمالیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد جو دنیوی امور سے متعلق ہو، ہمارے لئے واجب العمل نہیں، خواہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شخصی طور پر فرمایا ہو، یا تشریعی اور قانونی طور سے ع

ناطقہ سربہ گریباں ہے اسے کیا کہئے

بہرکیف ! یہ ایک مثال ہے اس اجتہاد کی جو یہ حضرات اسلام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کے لئے استعمال فرمارہے تھے،
مولوی چراغ علی صاحب کے علاوہ سید مہدی علی ، مصطفیٰ خان اور صلاح الدین خدا بخش صاحبان بھی اس مہم میں کافی پیش پیش رہے، اور انہوں نے’’ تہذیب الاخلاق ‘‘کی بہر نوع مدد کی ،
ایک طرف تو یہ حضرات اسلام کا اس طرح آپریشن کررہے تھے، مگر ڈر تھا کہ عام مسلمانوں کی مخالفت سے کہیں یہ سلسلہ بند نہ ہوجائے، چنانچہ مغرب کی طرف سے اس عمل پر ان کی خوب بیٹھ ٹھونکی جارہی تھی، پروفیسر ولفریڈ ، سی ۔ اسمتھ بڑے واضح الفاظ میں اعتراف کرتے ہوئے صلاح الدین خدا بخش کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’ہم ان کا تذکرہ اس گرمجوشی استقبال کا ذکر کئے بغیر نہیں چھوڑ سکتے جو ان کے افکار کو مغرب کی طرف سے عطا کیا گیا ، اسلام جدید پر لکھنے والے مصنفین ( اور ان سے زیادہ عیسائیت کی تبلیغی مشن) یکے بعد دیگرے ان کو خوش آمدید کہتے رہے، انہوں نے اسے اسلامی تجدد کا حرف آخر قرار دیا ، اس کی آزاد خیالی کی تعریفیں کرکے اسے آسمان تک پہنچادیا، … لیکن اس رویّہ کے ذریہ درحقیقت انہوں نے اپنے اس طبقے کا راز افشا کیا ہے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں ‘‘(۲)

کیا اب بھی یہ بتانے کی ضرورت رہ جاتی ہے کہ یہ سب کچھ ’’درپردہ چشم یار کی شہ پر‘‘ ہورہا تھا ؟

تجدّد کا دوسرادور
اب تک ہم نے جن متجدّدین کا ذکر کیا ہے ، وہ مغربی تہذیب کو قبول کرنے کے جواز میں یہی کہتے آئے کہ اسلام صرف عبادتوں کا نام ہے، دنیا کے دوسرے مسائل میں کوئی تہذیب بھی اختیار کرلی جائے، وہ مزاحمت نہیں کرتا۔
لیکن یہ نظریہ تجدّد کا ابتدائی نظریّہ تھا، اور عام مسلمان اپنے مذہب کی اس قدر تنگ اورمحصور کردینے پر کبھی راضی نہ ہوسکے، عالم اسلام میں ہر جگہ اس نظریہ کی پر زور تردید کی گئی ، اور ہر عام وخاص اسے غلط سمجھنے لگا۔
اس موقعہ پر تجدّد کی تحریک کو ایک زبردست خطرہ لاحق ہوا، اور چند ہی دنوں کے بعد متجددین سمجھ چکے تھے کہ ہم نے اسلام کو اس قدر تنگ کرکے اپنے ہی مقصد کو نقصان پہنچایا ہے اور رائے عامّہ اس کے خلاف ہوتی جارہی ہے، چنانچہ ابھی اس نظریئے کو چلے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذراتھا ، کہ اسلام کو عبادات ورسوم تک محدود رکھنے کی آواز بند ہوگئی اور اس کے بجائے ایک اور آواز ابھری، اور اس نے پکار پکار کر لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ وہ کون احمق ہے جو اسلام کو اس قدر تنگ سمجھتا ہے ؟ اسلام اس قدر محصور ہر گز نہیں ، ہم اسلام کی اس توہین کو برداشت نہیں کرسکتے، اسلام تو ایک بہترین تہذیب وتمدّن کا حامل ہے اور یہ تہذیب وتمدّن بعینہٖ وہ ہے جسے انگریز لے اڑے ہیں ، اگر ہم پچھلے کچھ عرصے سے اسے چھوڑ چکے ہیں تو اس کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ یہ تہذیب انگریزوں کی ہوگئی، وہ خالصۃً اسلامی تہذیب ہے، اور ہم اگر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس ’’مغربی تہذیب‘‘ کو اپنانا ہوگا ، جو درحقیقت اسلامی تہذیب ہے۔
ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ یہ پینترا کس خوبصورتی سے بدلاگیا ؟ بات وہی رہی کہ مغربی تہذیب کو رواج دو، مگر کتنے حسین پیرائے میں کہ ع

رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی

چنانچہ ۱۸۹۱ء میں جناب امیر علی صاحب نے Spirit Of Islam کے نام سے ایک کتاب لکھی ، جس میں نتائج کے اعتبار سے تو وہی نظریات پیش کئے گئے تھے، جو سر سید احمد خان اور مولوی چراغ علی صاحب کے تھے ۔ مگر طریق کار میں اختلاف تھا، ’’پردے‘‘ کے بارے میں اہل مغرب نے یہ اعتراض کیا تھا کہ اسلام نے عورت کو پردے کا پابند بناکر اس کو مقید کردیا ہے، سرسید اور مولوی چراغ علی صاحب نے فرمایا کہ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم مشورے کے طور پر دیا ہے ، ورنہ اس کا تعلق تو محض عبادات سے ہے، اور جناب امیر علی صاحب نے ارشاد فرمایا کہ جو یہ کہتا ہے کہ اسلام نے پردے کا حکم دیا ہے ، وہ بھی غلط ، اور جو کہتا ہے کہ پردے کے بارے میں کوئی قانونی حکم نہیں دیا، وہ بھی غلط، درحقیقت وہ اسلام ہی تو تھا جس نے عورت کے اوپر سے اورمظالم کی طرح اس پردے کی قید کو بھی اُٹھایا، اور عورت کو پوری طرح آزادی عطا کی، اسلام کی اس بے نظیری سہولت کو اہل مغرب لے اڑے اور کامیاب ہوئے، اور مسلمانوں نے چھوڑ دیا تو قعرِ مذلّت میں جاگرے۔
غلامی کے بارے میں اہل مغرب کا اعتراض تھا کہ اسلام نے اس کو جائز رکھ کر انسانیت کی توہین کی ہے، سرسیدصاحب نے اس کا جواب دیا کہ اسلام نے صرف عبادات کے بارے میں ہدایات دی ہیں ،حکمرانی کے طریقوں میں ہم خود مختارہیں ، چاہیں قیدیوں کو غلام بنائیں یاچھوڑ دیں، اور جناب امیر علی صاحب نے فرمایا کہ وہ اسلام ہی تو تھا جس نے غلامی کو سختی سے منع کردیا، اسلام کا یہ حکم اہل مغرب نے اپنالیا، اور مسلمان اسے جائز سمجھتے رہے۔
غرض ان تمام مسائل میں ٹیپ کا بند تو یہی رہا کہ مغربی طرزِ حیات اپنایا جائے، مگر پہلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ اسلام اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں، اب یہ کہاجانے لگا کہ وہ اس کی ترغیب دیتا ہے، اور یہی اس کے اصلی اصول ہیں۔
امیر علیؔ صاحب کی یہ ماہرانہ تکنیک تجدّد پسند طبقوں میں بیحد مقبول ہوئی ، اور پھر اسی نظرئیے کو بنیاد بناکر مضامین لکھے جانے لگے، اہل مغرب نے بھی اس طریقے کو خوب سراہا مگر ، امیر علی صاحب میں مستشرقین کے نزدیک ایک خامی تھی جس سے انہیں خطرہ لاحق تھا، اور وہ یہ کہ امیر علی صاحب حدیث کو حجت تسلیم کرتے تھے، اور حدیث کو حجت تسلیم کرتے ہوئے مغربی تہذیب کو سوفی صد اسلامی تہذیب کہنا بڑے دل گردے کاکام تھا، اس لئے خطرہ تھا کہ یہ تحریک بھی کہیں جلدی فیل نہ ہوجائے،یہ خطرہ مستشرقین کے دل میں کس بری طرح دھڑک رہا تھا؟ اس کا اندازہ پروفیسر کنٹول اسمتھ کی مندرجہ ذیل عبارت سے ہوگا جو انہوں نے امیر علی صاحب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ :
ان لوگوں نے اسلام کو عقلیت پسند ثابت کرنے کے لئے تو قرآن اور حدیث کے طول طویل اقتباسات جی کھول کر پیش کئے، مگر خود قرآن اور حدیث کو عقلیت پسندانہ تنقید کا موضوع کبھی نہیں بنایا،(۳)
مستشرقین کا یہ خطرہ سوفی صد درست نکلا، اور جب یہ بات کچھ چلتی ہوئی نظر نہ آئی تو فوراً ہی تجدّد کی تحریک ایک تیسرے مرحلے میں داخل ہوگئی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔


(۱)Introduction To his Book ”The Proposed Political, Legal and Social Reforms” P.xxxiv as Quoted by Prof. Snith In Modern Islam p.24
(۲) Modern Islam In India p.3
(۳) Modern Islam In India p.60

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : جمادی الآخرۃ ۱۴۴۶ھ)