حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم

تحریک تجدد کا پس منظر
اور اس کی فکری بنیادیں
(چوتھی قسط)

ہندوستان میں تجدّد کا ارتقاء
ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کے بعد انگریزی حکومت کے قدم اچھی طرح جم چکے تھے، وہ اپنے ساتھ جدید علوم جدید تنظیمات اور اس کے متعلقہ آلات ومصنوعات کا ایک بڑا لشکر ساتھ لائی، ہندوستانی مسلمان اس وقت زخم خوردہ اورشکستہ خاطر تھے، ۱۸۵۷ء کے ہنگامے میں ان کی عزت وخوداری کو ایک کاری ضرب لگی تھی، اس لئے وہاں اس کے فوراً بعد تجدّد کی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں،
۱۸۶۳ء میں کلکتہ کے اندر ’’محمڈن لٹریری سوسائٹی‘‘ کے نام سے ایک انجمن قائم ہوئی جس کی بنیاد خان بہادر نواب عبداللطیف نے رکھی تھی، اس انجمن کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کو مغربی تہذیب وثقافت سے قریب تر کرنا تھا، اس انجمن کے بانیوں کا نعرہ یہ تھا کہ ’’برطانوی حکومت اتنی طاقتور ہے کہ اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، اور اس کی تہذیب اتنی مفید ہے کہ اس سے ناواقف رہنا مسلمانوں کے لئے مُضر ہوگا‘‘۔(۱)
اس انجمن نے مذہب ، سماج ، معاشیات اور سیاست غرض ہر میدان میں مسلمانوں کو مغربی تہذیب کے آگے سپرڈالنے کا مشورہ دیا، بعض علماء کی طرف سے اس کی مخالفت کی گئی ، اور حکومت برطانیہ کی وفاداری کو ناجائز قرار دیا گیا ، تو اس انجمن کی طرف سے ایک فتویٰ مرتب کیا گیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان دارالاسلام ہے، اس لئے اس کے خلاف جہاد کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، لیکن علمائے حق کی طرف سے ان کے اس تخیل کی سختی کے ساتھ تردید کی گئی، اور اسی کے جواب میں حضرت مولانا رشید احمد صاحب کنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کیا ہندوستان دارالحرب ہے؟‘‘ کے نام سے ایک رسالہ تحریر فرمایا۔
یہ انجمن جو ہندوستان میں تجدّد کی پہلی علمبردار تھی ، کس مقصد کے لئے اٹھی تھی؟ اور اس کے پس منظر میں کیا جذبہ کارفرما تھا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر ولفریڈسی اسمتھ لکھتے ہیں:

’’ اس انجمن میں جو لوگ نمائندگی کررہے تھے ، وہ ہندوستانیوں کے اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جو برطانوی حکومت کا مکمل وفادار تھا ، اور اس پر ان کا وجود اوربقا موقوف تھی، اگر ان کے نزدیک مذہب کوئی معنی رکھتا تھا تو وہ لازماً ان کی اس پوزیش کے مطابق ہونا چاہئے تھا۔
(Modern Islam in India p.6)

لیکن یہ انجمن جو تجدّد کا مقصد لے کر اٹھی تھی، اپنے مقاصد میں زیادہ کامیاب نہ ہوسکی، اور عام مسلمان اسے نفرت ہی کی نگاہ سے دیکھتے رہے، لہٰذا اس کا دائرہ اثر بہت محدود رہا۔

سرسید احمد خان
لیکن اس کے بعد ایک اور شخصیت نے تجدّد کا علم اٹھایا، جس کی ہر دلعزیزی اورعظمت ووقار نے اس تحریک میں خاصی جان ڈال دی، یہ شخصیت ’’سرسید احمد خان‘‘ کی تھی۔
سرسید احمد خان ۱۸۱۷ء؁ میں دہلی کے ایک شریف اور خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے ابتدا میں خالص روایتی انداز کی دینی تعلیم حاصل کی، مگر ان کی سوانح کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ اپنی عمر کے ابتدائی حصے ہی سے برطانوی حکومت کی طرف مائل اور اس سے متأثر ومرعوب تھے، چنانچہ اکیس سال کی عمر میں انہوں نے برطانوی حکومت کی ملازمت کرلی، جبکہ ان کا پورا خاندان اس کا مخالف تھا، ۱۸۵۷ء؁ کی جنگ ِ آزادی تک وہ پوری تندہی کے ساتھ برطانوی حکومت کی خدمات میں مشغول رہے، اور اس عرصے میں انہوں نے ادبی مضامین لکھنے میں اپنا وقت صرف کیا،
۱۸۵۷ء؁ میں جب مسلمان اپنی عزّت اور آزادی کے دفاع کے لئے انتہائی بیکسی کی حالت میں ایک آخری لڑائی لڑرہے تھے، انہوں نے اس جنگ آزادی کی پوری مخالفت کرکے حکومت ِ برطانیہ کی مدد کی ، وہ اپنی کتابوں میں جنگ ِ آزادی کے مجاہدوں کو ’’سرکش‘‘ اور ’’نمک حرام‘‘ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں، وہ اس تحریک کے بارے میں مسلمانوں سے کس قدر خفا اور حکومت برطانیہ کے کس قدر مدّاح تھے؟ اس کا اندازہ ان کی ایک ہی کتاب ’’سرگذشت سرکشئی بجنور‘‘ سے ہوسکتا ہے، جو حال ہی میںدوبارہ چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے،
جنگ آزادی کے بعد سے ۱۸۶۹ءتک ان کی جو مصروفیات تھیں ، وہ یہ واضح کرتی ہیں کہ وہ حکومت برطانیہ کے سامنے اس جنگ ِ آزادی کی معذرت اور اس کی تلافی کرنا چاہتے تھے جو مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف لڑی تھی، چنانچہ ۱۸۶۰ءمیں انہوں نے ’’ہندوستان کے وفادارمسلمان‘‘ کے نام سے انگریزی میں ایک کتاب لکھی، جس میں حکومت کے وفادار مسلمانوں کی خدمات کو سراہا گیا تھا۔(۲)
اور اسی دوران انہوں نے ’’عیسائیت اور اسلام‘‘ کے بنیادی اتحاد پر مضامین لکھے، اور بائبل کی ایک شرح تصنیف کی ، جس کے بارے میں پروفیسر اسمتھ نے لکھا ہے کہ اس میں سرسید احمد خان نے اس بات کو ثابت کیا تھا کہ بائبل میں تحریف نہیں ہوئی۔(۳) اسی عرصے میں انہوں نے مختلف مغربی طرز کے اسکول اور انجمنیں قائم کیں،
۱۸۷۰ء؁ میں انہوں نے انگلستان کا دورہ کیا، اس ابتدائی دور میں وہ پہلے مشہور مسلمان تھے، جنہوں نے جزائر برطانیہ کا سفر کیا، وہاں ان کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا گیا، لندن کے ممتاز حلقوں میں ان کو اعلی جگہ حاصل ہوئی، وہ بڑی بڑی شاہی دعوتوں میں شریک ہوئے، بینتھم کلب اور دوسری اونچی انجمنوں نے انہیں اپنا اعزازی رکن بنایا، سمٹو میں سوسائٹی آف سول انجنیرس کے عظیم الشان تاریخی جلسے اور ڈنر میں بھی وہ شریک ہوئے جس میں انہوں نے ان ترقیاتی منصوبوں کا مطالعہ کیا جو پورے ہوچکے تھے یا ہورہے تھے، (ملاحظہ ہو حیات جاوید از حاتی چوتھا باب ص:۱۳۰تا ۱۴۴)
اس دورے میں انہوں نے مغربی تہذیب کو اپنے اصلی مراکز میں دیکھا، اور س سے جس بری طرح وہ مرعوب ہوئے اور اس نے ان کی زندگی پر جو اثرات مرتب کئے انہیں ایک مشہور امریکی مستشرق پروفیسر ولفریڈسی ۔ اسمتھ کی زبانی سنئیے، وہ اپنی مشہور کتاب (Modern Islam In India) میں لکھتے ہیں :
’’ان کی (سرسیدکی)زندگی کا تیسرا دور ان کے دورۂ انگلستان سے شروع ہوتا ہے، جبکہ انہوں نے اچانک مغربی تہذیب کو اپنے پورے عروج پر دیکھا، اور اس سے بری طرح مرعوب ہوگئے، اسے دیکھ کر ان کی نگاہیں ایک کمسن بچّے کی طرح چندھیا گئیں، اورپہلے تو وہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر برطانیہ کے آگے ہتھیار ڈالنے پر زور دیتے تھے اب ان کی دلچسپی پورے جوش کے ساتھ مغربی تہذیب میں حصہ دار بننے سے بھی متعلق ہوگئی، انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اب ان کا کام اپنے معاشرے کو صرف برطانوی حکومت قبول کرنے کی ترغیب پر منحصر نہیں رہا، بلکہ انہیں ان کی تہذیب وثقافت اپنانے کی ترغیب بھی دینی ہے۔‘‘
اس دورے کے بعد ان کے دل میں صرف مغربی تہذیب کی عظمت ہی پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اپنے ہم وطنوں کی حقارت بھی پیدا ہوگئی ، جیسا کہ ان کے وہ مضامین پتہ دیتے ہیں جو انہوں نے اس دورے کے بعد لکھے، لندن سے ۱۵؍اکتوبر ۱۸۶۹ء؁ کو انہوں نے علی گڑھ کی سائنٹفک سوسائٹی کے نام ایک خط میں لکھا:
’’ہمارے اونچے طبقے ہوں یا نیچے، تعلیم یافتہ یا جاہل، تاجر یا دوکاندار ان سب لوگوں کا جب تعلیم، تہذیب اور نشاط میں انگریزوں سے موازنہ کیا جائے تو انگریزوں کے مقابلے میں یہ گندے جانور معلوم ہوتے ہیں ‘‘۔
اور پروفیسر اسمتھ نے ان کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ :
’’اب میں سمجھا ہوں کہ انگریز ہندوستانیوں سے کیوں حقارت کاسلوک کرتے تھے؟ بلکہ اب تو میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ لوگ اس تحقیر کے پورے پورے مستحق تھے‘‘۔
سرسید احمد خان کی زندگی کے مندرجہ بالا واقعات ہم نے قدرے تفصیل سے اس لئے عرض کئے ہیں تاکہ آپ ان کے ذہنی پس منظر میں خوب جھانک کر دیکھ سکیں کہ اس پر مغرب سے مرعوبیت کا کس قدر غیر معمولی احساس پیدا ہوچکا تھا، اور وہ کیا حالات تھے جن کی بناء پر انہوں نے ہندوستان میں تجدّد کی تحریک کو پروان چڑھانے کی کوششیں کیں، آپ نے دیکھا کہ عمر کے اس حصے یعنی دورۂ انگلستان تک انہوں نے اسلام پر کوئی طبع آزمائی نہیں کی، لیکن انگلستان سے واپس آنے کے بعد ان کا ذہن پوری طرح اس بات کا فیصلہ کرچکا تھا کہ ہندوستان میں مغربی تہذیب کو پوری پوری ترقی دینی ہے، لیکن یہاں پھر وہی رکاوٹ ان کے سامنے آتی ہے کہ مغربی فلسفے اور تہذیب کے بہت سے اجزاء اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں،
اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے انہوں نے اس کے بعد ’’اسلام‘‘ کے مختلف اصولوں میں ترمیم وتحریف کا سلسلہ شروع کیا، اور انگلستان سے واپس آتے ہی ایک ماہوار رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے نام سے جاری کیا ، جو تجدّد کے مکتب فکر کا پہلا باقاعدہ ترجمان تھا، اور اس نے اسلام کے بہت سے اصولوں میں ترمیم کرنے والے مضامین شائع کئے گئے، ،’’پردہ‘‘ کافی الجملہ انکار کیا گیا ، کافروں پر از خود اقدام جنگ کو ناجائز کہا گیا، غلامی کے ممنوع قراردیدیا گیا، اور اس طرح کی تمام چیزوں میں ترمیم کی گئی جو مغربی تہذیب سے ٹکراتی تھیں، اور اس مقصد کے لئے احادیث کا بھی انکار کرنے سے دریغ نہیں کیا گیا ، اس سلسلے میں ایک اور عجیب چیز پروفیسر اسمتھ نے نوٹ کی ہے، اور وہ یہ کہ سر سید احمد خان نے اپنے مضامین میں زیادہ تر مکی آیات سے استدلال کیا ، اور مدنی آیات کو جن میں زیادہ تر احکام مذکور ہیں کم سے کم استعمال کیا گیا ہے۔ ( ماڈرن اسلام ان انڈیا : ص ۱۴)
اس کے بعد سر سید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور قرآن کی تفسیر پر قلم اٹھایا، اور اس میں بھی جن جن چیزوں پر مغرب نے اعتراضات کئے تھے، ان کو بدل دیا، معجزات کی حسی تاویلات پیش کیں، اور ان کے مافوق الفطرت یا اسباب سے ماورا ہونے کا انکار کیا گیا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔


(۱) Modern Islam in India by Prof. Smith p.5
(۲)Loyal Muhammadans Of India.
(۳) Modern Islam In India p.8.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ : جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ)