دل نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق کس طرح نبھایا جا سکتا ہے؟

مومن کا کام یہ ہے کہ جب اس کا کسی کے ساتھ تعلق قائم ہو تو اب حتی الامکان اپنی طرف سے اس تعلق کونہ توڑے بلکہ اس کو نبھا تا رہے، چاہے طبیعت پر نبھانے کی وجہ سے گرانی بھی ہو،لیکن پھر بھی اس کو نبھاتارہے، اور اس تعلق کو بدمزگی پر ختم نہ کرے، زیادہ سے زیادہ یہ کرے کہ اگر کسی کے ساتھ تمہاری مناسبت نہیں ہے تو اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا زیادہ نہ کرے لیکن ایسا تعلق ختم کرنا کہ اب بول چال بھی بند اور علیک سلیک بھی ختم، ملنا جلنا بھی ختم، ایک مومن کے لیے یہ بات مناسب نہیں۔

﴿اصلاحی خطبات،ج١۰،ص١۰۰﴾

لیکن نباہ کرنے کے معنی سمجھ لینا چاہیئے، نباہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے حقوق ادا کرتے رہو اور اس سے تعلق ختم نہ کرو۔لیکن نباہ کرنے کے لیے دل میں مناسبت کا پیدا ہونا اور اس کے ساتھ دل کا لگنا اور طبیعت میں کسی قسم کی الجھن کا باقی نہ رہناضروری نہیں،اور نا ےع ضروری ہے کہ دن رات ان کے ساتھ بیتھنا باقی رہے اور ین کے ساتھ ہنسنا بولنا اور ملنا جلنا باقی رہے، نباہ کے لیے ان چیزوں کا باقی رکھنا ضروری نہیں بلکہ تعلقات کو باقی رکھنے کے لیے حقوق شرعیہ کی ادائیگی کا فی ہے، لہزا آم کو اس بات پر کوئی مجبور نہیں کرتا کہ آپ کا دل تا فلاں کے ساتھ نہیں لگتا، لیکن آپ زبردستی اس کی ساتھ جا کر ملاقات کریں یا آپ کی ان کے ساتھ مناسبت نہیں ہے تو اب کوئی اس پر مجبور نہیں کرتا کہ آپ طبیعت کے خلہاف ان کے پاس جا کر بیٹھیں، بس یہی معنی ہیں، یعنی کسی کے ساتھ اچھی طرح نباہ کرنا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔

﴿اصلاحی خطبات،ج١۰،ص١۰٦﴾

 

سال گرہ کی حقیقت

کسی نے خوب کہا کہ:

ہورہی ہے عمر مثل برف کم
چپکے چپکے رفتہ رفتہ دم بدم

جس طرح برف ہر لمحے پگھلتی رہتی ہے، اسی طرح انسان کی عمر ہرلمحے پگھل رہی ہے اور جا رہی ہے، جب عمر کا ایک سال گزر جاتا ہے تو لوگ سالگرہ مناتے ہیں، اور اس میں اس بات کی بڑی خوشی مناتے ہیں کہ ہماری عمر کا ایک سال پورا ہوگیا، اوراس میں موم بتیاں جلاتے ہیں، اور کیک کاٹتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا خرافات کرتے ہیں، اس پر اکبرالہ آبادی مرحوم نے بڑا حکیمانہ شعر کہا ہے، وہ یہ کہ:
" عقدہ" بھی عربی میں " گرہ" کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گرہ میں زندگی کے جو برس دیے تھے، اس میں ایک اور کم ہو گیا، ارے! یہ رونے کی بات ہے یا خوشی کی بات ہے! یہ تو افسوس کرنے کا موقع ہے کہ تیری زندگی کا ایک سال اور کم ہو گیا۔
میرے والد ماجد قدس اللہ سرہ نے اپنی عمر کے تیس سال گزرنے کے بعد ساری عمر اس پر عمل فرمایا کہ جب عمر کے کچھ سال گزر جاتے تو ایک مرثیہ کہا کرتے تھے، عام طور پر لوگوں کے مرنے کے بعد ان کا مرثیہ کہا جاتا ہے لیکن میرے والد صاحب اپنا مرثیہ خود کہا کرتے تھے اور اس کا نام رکھتے "مرثیہ عمر رفتہ " یعنی گزری ہوئی عمر کا مرثیہ، اگر اللہ تعالیٰ ہمیں فہم عطا فرمائیں تب یہ بات سمجھ میں آئے کہ واقعہ یہی ہے کہ جو وقت گزر گیا، وہ اب واپس آنے والا نہیں، اس لیے اس پر خوشی منانے کا موقع نہیں ہے، بلکہ آئندہ کی فکر کرنے کا موقع ہے کہ بقیہ زندگی کا وقت کس طریقے سے کام میں لگ جائے، خلاصہ یہ نکلا کہ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو غنیمت سمجھو، اور اس کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت میں صرف کرنے کی کوشش کرو، غفلت، بے پروائی اور وقت کی فضول خرچی سے بچو، کسی نے خوب کہا ہے کہ:

یہ کہاں کا فسانہ سود وزیاں
جو گیا سو گیا، جو ملا سو ملا
کہو دل سے کہ فرصت عمر ہے کم
جو دلا تو خدا ہی کی یاد دلا
﴿اصلاحی خطبات، ج ۴،ص۲١۵،۲۲۹﴾

 

کیا مذاق اور خوش طبعی کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ اسی وقت نا جائز اور حرام ہے جب وہ سنجیدگی سے بولا جائے اور مذاق میں جھوٹ بولنا جائز ہے، چنانچہ اگر کسی سے کہا جائے کہ تم نے فلاں موقع پر یہ بات کہی تھی وہ تو ایسی نہیں تھی، تو جواب میں وہ کہتا ہے کہ میں تو مذاق میں یہ بات کہہ رہا تھا ، گویا کہ مذاق میں جھوٹ بولنا کوئی بری بات ہی نہیں، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایسا ہونا چاہیئے کہ اس کی زبان سے خلاف واقعہ بات نکلے ہی نہیں،حتی کہ مذاق میں بھی نہ نکلے، اگر مذاق اور خوش طبعی حد کے اندر ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں،شریعت نے خوش طبعی اور مذاق کو جائز قرار دیا ہے، بلکہ اس کی تھوڑی سی ترغیب بھی دی ہے، ہر وقت آدمی خشک اور سنجیدہ ہو کر بیٹھا رہے کہ اس کے منہ پر کبھی تبسم اور مسکراہٹ ہی نہ آیے یہ بات پسندیدہ نہیں، خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاق کرنا ثابت ہے لیکن ایسا لطیف مذاق اور ایسی خوش طبعی کی باتیں آپ سے منقول ہیں جو لطیف بھی ہیں اور ان میں کوئی بات خلاف واقعہ بھی نہیں ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بندہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مذاق میں بھی جھوٹ بولنا نہ چھوڑے اور بحث و مباحثہ نہ چھوڑے،چاہے وہ حق پر ہو،اس حدیث میں دو چیزیں بیان فرمائیں کہ جب تک آدمی ان دو چیزوں کو نہیں چھوڑے گا اس وقت تک آدمی صحیح تور پر مومن نہیں ہو سکتا، ایک یہ کہ مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے اور دوسرے یہ کہ حق پر ہونے کے باوجود بحث و مباحثہ میں نہ پڑے۔
ہم لوگ محض مذاق اور تفریح کے لیے زبان سے جھوٹی باتیں نکال دیتے ہیں، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاق میں بھی جھوٹی باتیں زبان سے نکا لنے سے منع فرمایا ہے،چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ افسوس ہے اس شخص پر، یہ سخت الفاظ میں اس کا صحیح ترجمہ یہ کر سکتے ہیں کہ اس شخص کے لیے درد ناک عذاب ہے جو محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔

﴿اصلاحی خطبات،ج ١۰، ص١۲١، ١۲۲﴾

 

والدین کی وفات کے بعد ان کی خدمت کی تلافی کی صورت کیا ہو؟

اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ والدین کے مرنے کے بعد اولاد کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہم نے کتنی بڑی نعمت کھودی اور ہم نے اس کا حق ادا نہ کیا، اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے ایک راستہ رکھا ہے، فرمایا کہ اگر کسی نے والدین کے حقوق میں کوتاہی کی ہو اور ان سے فائدہ نہ اٹھا یا ہو تو اس کی تلافی کے دو راستے ہیں:
١۔ ایک ان کے لیے ایصال ثواب کی کثرت کرنا، جتنا ہو سکے ان کو ثواب پہنچا ئیں، صدقہ دے کر ہو یا نوافل پڑھ کر ہو، یا قرآن کی تلاوت کے ذریعہ ہو، اس کے ذریعہ اس کی تلافی ہو جاتی ہے۔
۲۔ دوسرے یہ کہ والدین کے اعزہ قربادوست احباب ہیں، ان کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرے جیسا کہ باپ کے ساتھ کرنا چاہیے، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کوتاہی کی تلافی فرمادیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
﴿اصلاحی خطبات، ج ۴، ص ۷۳﴾

 

جائز تفریح کی اجازت ہے

یہ جو فضول قسم کی مجلس آرائی ہوتی ہے، جس کو آج کل کی اصطلاح میں گپ شپ کہا جاتا ہے، کوئی دوست مل گیا تو فوراً اس سے کہا کہ آو ذرابیٹھ کر گپ شپ کریں، یہ گپ شپ لازماً انسان کو گناہ کی طرف لے جاتی ہے۔ ہاں! شریعت نے ہمیں تھوڑی بہت تفریح کی بھی اجازت دی ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: روّحوا القلوب ساعةً فساعةً
﴿کنز العمال ۵۳۵۴۷﴾
یعنی دلوں کو تھوڑے تھوڑے وقفے سے آرامی بھی دیا کرو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر قربان جایئے کہ ہمارے مزاج، ہماری نفسیات اور ہماری ضروریات کو ان سے زیادہ پہچاننے والا اور کون ہوگا، وہ جانتے ہیں کہ اگر ان سے کہا گیا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ کچھ نہ کرو، ہر وقت ذکر اللہ میں مشغول رہو، تو یہ ایسا نہیں کر سکیں گے، اس لئے کہ یہ فرشتے نہیں ہیں، یہ تو انسان ہیں، ان کو تھوڑے سے آرام کی بھی ضرورت ہے، تھوڑی سے تفریح کی بھی ضرورت ہے، اس لئے تفریح کے لئے کوئی بات کرنا ،خوش طبٕی کے ساتھ ہنس بول لینا، نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ پسندیدہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، لیکن اس میں زیادہ منہمک ہو جانا کہ اسی میں کئی کئی گھنٹے برباد ہورہے ہیں، قیمتی اوقات ضائع ہورہے ہیں، تویہ چیز انسان کو لازمی طور پر گناہ کی طرف لے جانے والی ہے، اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ تم باتیں کم کرنے کی عادت ڈالو۔ اور یہ بھی "مجاہدہ" ہے۔
﴿اصلاحی مجالس، ج۲،ص١٦۷﴾

 

دل نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق کس طرح نبھایا جا سکتا ہے؟

مومن کا کام یہ ہے کہ جب اس کا کسی کے ساتھ تعلق قائم ہو تو اب حتی الامکان اپنی طرف سے اس تعلق کونہ توڑے بلکہ اس کو نبھا تا رہے، چاہے طبیعت پر نبھانے کی وجہ سے گرانی بھی ہو،لیکن پھر بھی اس کو نبھاتارہے، اور اس تعلق کو بدمزگی پر ختم نہ کرے، زیادہ سے زیادہ یہ کرے کہ اگر کسی کے ساتھ تمہاری مناسبت نہیں ہے تو اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا زیادہ نہ کرے لیکن ایسا تعلق ختم کرنا کہ اب بول چال بھی بند اور علیک سلیک بھی ختم، ملنا جلنا بھی ختم، ایک مومن کے لیے یہ بات مناسب نہیں۔
﴿اصلاحی خطبات،ج١۰،ص١۰۰﴾

لیکن نباہ کرنے کے معنی سمجھ لینا چاہیئے، نباہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے حقوق ادا کرتے رہو اور اس سے تعلق ختم نہ کرو۔لیکن نباہ کرنے کے لیے دل میں مناسبت کا پیدا ہونا اور اس کے ساتھ دل کا لگنا اور طبیعت میں کسی قسم کی الجھن کا باقی نہ رہناضروری نہیں،اور نا ےع ضروری ہے کہ دن رات ان کے ساتھ بیتھنا باقی رہے اور ین کے ساتھ ہنسنا بولنا اور ملنا جلنا باقی رہے، نباہ کے لیے ان چیزوں کا باقی رکھنا ضروری نہیں بلکہ تعلقات کو باقی رکھنے کے لیے حقوق شرعیہ کی ادائیگی کا فی ہے، لہزا آم کو اس بات پر کوئی مجبور نہیں کرتا کہ آپ کا دل تا فلاں کے ساتھ نہیں لگتا، لیکن آپ زبردستی اس کی ساتھ جا کر ملاقات کریں یا آپ کی ان کے ساتھ مناسبت نہیں ہے تو اب کوئی اس پر مجبور نہیں کرتا کہ آپ طبیعت کے خلہاف ان کے پاس جا کر بیٹھیں، بس یہی معنی ہیں، یعنی کسی کے ساتھ اچھی طرح نباہ کرنا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔
﴿اصلاحی خطبات،ج١۰،ص١۰٦﴾

 

بھائیوں میں حساب کتاب کی کیا ضرورت ہے؟

آج کل یہ وبا بھی عام ہے کہ چند بھائیوں کا مشترک کاروبار ہے، لیکن حساب کتاب کوئی نہیں، کہتے ہیں کہ ہم سب بھائی ہیں، حساب کتاب کی کیا ضرورت ہے؟ حساب کتاب تو غیروں میں ہوتا ہے، اپنوں میں حساب کتاب کہاں؟ اب اس کوئی حساب کتاب، کوئی لکھت پڑھت نہیں کہ کس بھائی کی کتنی ملکیت اور کتنا حصہ ہے؟ ماہانہ کس کو کتنا منافع دیا جائے گا؟ اس کا کوئی حساب نہیں، بلکہ الل ٹپ معاملہ چل رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ دنوں تک تو محبت و پیار سے حساب چلتا رہتا ہے، لیکن بعد میں دلوں میں شکوے شکایتیں پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں، کہ فلاں کی اولاد تو اتنی ہے، وہ زیادہ رقم لیتا ہے،فلاں کی اولاد کم ہے، وہ کم لیتا ہے، فلاں کی شادی پر اتنا خرچ کیا گیا، ہمارے بیٹے کی شادی پر کم خرچ ہوا، فلاں نے کاروبار سے اتنا فائدہ اٹھا لیا، ہم نے نہیں اٹھایا وغیرہ بس، اس طرح کی شکایتیں شروع ہو جاتی ہیں۔
یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے سے دور چلے گئے، یادرکھیے،ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اگر کوئی مشترک چیز ہے تو اس مشترک چیز کا حساب و کتاب رکھا جائے، اگر حساب و کتاب نہیں رکھا جا رہا ہے تو تم خود بھی گناہ میں مبتلا ہو رہے ہو اور دوسروں کو بھی گناہ میں مبتلا کر رہے ہو، یاد رکھیے! بھائیوں کے درمیان معاملات کے اندر جو محبت و پیار ہوتا ہے وہ کچھ دن چلتا ہے، بعد میں وہ لڑائی جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتا ہے، اور پھر وہ لڑائی جھگڑا ختم ہونے کو نہیں آتا، کتنی مثالیں اس وقت میرے سامنے ہیں۔
ملکیت میں امتیاز ہونا ضروری ہے، یہاں تک کہ باپ بیٹے کی ملکیت میں اور شوہر بیوی کی ملکیت میں امتیاز ہونا ضروری ہے، حکیم الامت حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کی دو بیویاں تھیں، دونوں کے گھر الگ الگ تھے، حضرت والا رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میری ملکیت اور میری دونوں بیویوں کی ملکیت بالکل الگ الگ کر کے بالکل امتیاز کر رکھا ہے، وہ اس طرح کہ جو کچھ سامان بڑی اہلیہ کے گھر میں ہے وہ ان کی ملکیت ہے اور جو سامان طھوٹی اہلیہ کے گھر میں ہےوہ ان کی ملکیت ہے، اور جو سامان خانقاہ میں ہے وہ میری ملکیت ہے،آج اگر دنیا سے چلا جائوں تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، الحمدللہ سب امتیاز موجود ہے۔
﴿اصلاحی خطبات، ج۵،ص١۷۹﴾

 

ضروریات زندگی میں اسراف اور کشادگی

ضروریات زندگی میں اسراف اور کشادگی(فراخ دلی) میں فرق کس طرح کیا جائے؟
بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خلجان رہتا ہے کہ شریعت میں ایک طرف تو فضول خرچی اور اسراف کی ممانعت آئی ہے اور دوسری طرف یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ گھر کے خرچ میں تنگی مت کرو، بلکہ کشادگی سے کام لو،
اب سوال یہ ہے کہ دونوں میں حد فاصل کیا ہے؟ کونسا خرچہ اسراف میں داخل ہے اور کونسا خرچہ اسراف میں داخل نہیں؟
اس خلجان کے جواب میں حضرت تھانوی رحمہ نے گھر کہ بارے میں فرمایا کہ ایک گھر وہ ھوتا ہے جو قابل رہائش ہو، مثلا جھونپڑی ڈال دی یہ چھپڑ ڈال دیا اس میں بھی آدمی رہائش اختیار کر سکتا ہے،یہ تو پہلا درجہ ہے،جو بلکل جائز ہے۔
دوسرا درجہ یہ ہے کہ رہائیش بھی ہو اور ساتھ میں آسائش بھی ہو،مثلا پختہ مکان ہے،جس میں انسان آرام کے ساتھ رہ سکتا ہے،اور گھر میں آسائیش کے لیے کوئی کام کیا جائے تو اس کی ممانعت نہیں ہے،اور یہ بھی اسراف میں داخل نہیں، مثلا ایک شخص ہے وہ جھونپڑی میں بھی زندگی بسر کر سکتا ہے اور دوسرا شخص جھونپڑی میں نہیں رہ سکتا اس کو تو رہنے کے لیے پختہ مکان چاہیے، اور پھر اس مکان میں بھی اس کو پنکھا اور بجلی چائیے، اب اگر وہ شخص اپنے گھر میں پنکھا اور بجلی اس لیے لگاتا ہے تاکہ اس کو آرام حاصل ہو تو یہ اسراف میں داخل نہیں۔
تیسرا درجہ یہ ہے کہ مکان میں آسائیش کہ ساتھ آرئیش بھی ہو،مثلا ایک شخص کا پخہ مکان بنا ہوا ہے، پلاستر کیا ہوا ہے، بجلی بھی ہے، پنکھا بھی ہے، لیکن اس مکان پر رنگ نہیں کیا ہوا ہے، اب ظاہر ہے کہ رہائیش تو ایسے مکان میں بھی ہو سکتی ہے،لیکن رنگ و روغن کہ بغیر آرائیش نہیں ہو سکتی اب اگر کوئی شخص آرئیش کے حصول کے لیے مکان پر رنگ و روغن کرائے تو شرعاً وہ بھی جائز ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ رہائش جائز،آسائش جائز، آرائش جائز،اور آرائش کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے دل کو خوش کرنے کے لیے کوئی
کام کر لے تاکہ دیکھنے میں اچھا معلوم ہو، ہیکھ کر دل خوش ھو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں،شرعاً یہ بھی جائز ہے۔
اس کے بعد چوتھا درجہ ہے "نمائش"، اب جو کام کر رہا ہےاس سے نا تو آرام مقصود ہے، نہ آرائش مقصود ہے بلکہ اس کام کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ مجھے بڑا دولت مند سمجھیں، اور لوگ یہ سمجھیں کہ اس کےپاس بہت پیسا ہے،اور تاکہ اس کے زریعہ دوسروں پر اپنی فوقیت جتائوں
اور اپنے آپ کو بلند ظاہر کروں،یہ سب "نمائش" کہ اندر داخل ہیں اور یہ شرعاً نا جائز ہے اور اسراف میں داخل ہے۔
یہی چار دراجات لباس اور کھانے میں بھی ہیں، بلکہ ہرچیز میں ہیں،ایک شخص اچھا اور قیمتی کپڑا اس لیے پہنتا ہے تاکہ مجھے آرام ملے اور تاکہ مجھے اچھا لگے اور میرے گھر والوں کو اچھا لگے، اور ملنے جلنے والے اس کو دیکھ کر خوش ہوں،تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں،لیکن اگر کوئی شخص اچھا اور قیمتی لباس اس نیت سے پہنتا ہے تاکہ مجھے دولت مند سمجھا جائے مجھے بہت پیسے والا سمجھا جائے اور میرا بڑا مقام سمجھا جائے تو یہ نمائش ہے اور ممنوع ہے،اسی لیے حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نےاسراف کے بارے میں ایک واضح حد فاصل کھنچ دی کہ اگر ضرورت پوری کرنے کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے، یہ آسائش کہ حصول کے لیے یہ اپنے دل کو خوش کرنے کے لیےآرائش کے خاترکوئی خرچہ کیا جا رہا
ہے وہ اسراف میں داخل نہیں۔
میں ایک مرتبہ کسی دوسرے شہر میں تھا اور واپس کراچی آنہ تھا، گرمی کا موسم تھا،میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ائیر کنڈیشن کوچ میں میرا ٹکٹ بک کرا دو، اور میں نے ان کو پیسے دے دیے، ایک دوسرے صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے،انہوں نے فورنً کہا کہ صاحب! یہ تو آپ اسراف کر رہے ہیں اس لیے کہ ائیر کنڈیشن کوچ میں سفر کرنا تو اسراف میں داخل ہے، بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر اوپر کہ درجے میں سفر کر لیا تو یہ اسراف میں داخل ہے، خوب سمجھ لیجئے! اگر اوپر کے درجے میں سفر کرنے کا مقصد راہت حاصل کرنا ہے،مثلاً گرمی کا موسم ہے، گرمی برداشت نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے پیسے دیے ہیں تو پھر یس درجے میں سفر کرنا کوئی گناہ اور اسراف نہیں ہے،لیکن اگر اوپر کہ درجے میں سفر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب میں ائیر کنڈیشن کوچ میں سفر کروں گا تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ بڑا دولت مند آدمی ہے، پھر
وہ اسراف اور ناجائز ہے،اور نمائش میں داخل ہے، یہی تفصیل کپڑے اور کھانے میں بھی ہے۔

 

کیا اولاد کی نافرمانی پر حضرت نوح علیہ السلام

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاو، درحقیقت اس میں ایک شبہ کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا جو شبہ عام طور پر ہمارے دلوں میں پیدا ہوتا ہے، وہ شبہ یہ ہے کہ آج جب لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی اولاد کو بھی دین کی تعلیم دو، کچھ دین کی باتیں ان کو سکھاو، ان کو دین کی طرف لاو، گناہوں سے بچانے کی فکر کرو، تو اس کے جواب میں عام طور پر بکثرت لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اولاد کو دین کی طرف لانے کی بڑی کوشش کی، مگر کیا کریں کہ ماحول اور معاشرہ اتنا خراب ہے کہ بیوی بچوں کو بہت سمجھایا، مگر وہ مانتے نہیں ہیں اور زمانے کی خرابی سے متاثر ہو کر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کرلیا ہے اور اس راستے پر جا رہے ہیں، اور راستہ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اب ان کا عمل ان کے ساتھ ہے، ہمارا عمل ہمارے ساتھ ہے،اب ہم کیا کریں؟ اور دلیل میں یہ پیش کرتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی تو آخر کافر رہا اور حضرت نوح علیہ السلام اس کو طوفان سے نہ بچاسکے، اسی طرح ہم نے بہت کوشش کرلی ہے وہ نہیں مانتے تو ہم کیا کریں؟
چنانچہ قرآن کریم نے آیت میں"آگ" کا لفظ استعمال کرکے اس اشکال اور شبہ کا جواب دیا ہے، وہ یہ کہ بات ویسے اصولی طور پر ٹھیک ہے کہ اگر ماں باپ نے اولاد کو بے دینی سے بچانے کی اپنی طرف سے پوری کوشش کرلی ہے تو ان شاء اللہ ماں باپ پھر بری الذمہ ہو جائیں گے اور اولاد کے کیے کا وبال اولاد پر پڑے گا، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ماں باپ نے اولاد کو بے دینی سے بچانے کی کوشش کس حد تک کی ہے؟ اور کس درجے تک کی ہے؟ قرآن کریم نے "آگ " کا لفظ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ ماں باپ کو اپنی اولاد کو گناہوں سے
اس طرح بچانا چاہیے جس طرح ان کو آگ سے بچاتے ہیں ۔
فرض کریں کہ ایک بہت بڑی خطر ناک آگ سلگ رہی ہے، جس آگ کے بارے میں یقین ہے کہ اگر کوئی شخص اس آگ کے اندر داخل ہو گیا تو زندہ نہیں بچے گا، اب آپ کا نادان بچہ اس آگ کو خوش منظر اور خوب صورت سمجھ کر اس کی طرف بڑھ رہا ہے، اب بتاو تم اس وقت کیا کرو گے؟ کیا تم اس پر اکتفا کرو گے کہ دور سے بیٹھ کر بچے کو نصیحت کرنا شروع کردو کہ بیٹا! اس آگ میں مت جانا، یہ بڑی خطر ناک چیز ہوتی ہے ،اگر جاو گے تو جل جاو گے اور مر جاو گے؟ کیا ماں باپ صرف زبانی نصیحت پراکتفا کریں گے؟ اور اس نصیحت کے باوجود اگر بچہ اس آگ میں چلا جائے تو کیا وہ ماں باپ یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جائیں گے کہ ہم نے تو اس کو سمجھا دیا تھا، اپنا فرض ادا کر دیا تھا، اس نے نہیں مانا اور خود ہی اپنی مرضی سے آگ میں کود گیا تو میں کیا کروں؟ دنیا میں کوئی ماں باپ ایسا نہیں کریں گے، اگر وہ اس بچے کے حقیقی ماں باپ ہیں تو اس بچے کو آگ کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر ان کی نیند حرام ہو جائے گی، ان کی زندگی حرام ہو جائے گی اور جب تک اس بچے کو گود میں
اٹھا کر اس آگ سے دور نہیں لے جائیں گے اس وقت تک ان کو چین نہیں آئے گا۔
اللہ تعالیٰ یہ فرمارہے ہیں کہ جب تم اپنے بچے کو دنیا کی معمولی سی آگ سے بچانے کے لیے صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا نہیں کرتے تو جہنم کی وہ آگ جس کی حدونہایت نہیں، اور جس کا دنیا میں تصور نہیں کیا جا سکتا، اس آگ سے بچے کو بچانے کے لیے زبانی جمع خرچ کو کافی کیوں سمجھتے ہو؟ لہذا یہ سمجھنا کہ ہم نے انہیں سمجھا کر اپنا فریضہ ادا کر لیا یہ بات آسانی سے کہنے کی نہیں ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی جو مثال دی جاتی ہے کہ ان کا بیٹا کافر رہا، وہ اس کو آگ سے نہیں بچاسکے، یہ بات درست نہیں، اس لیے کہ یہ بھی تو دیکھو کہ انہوں نے اس کو را ہ راست پر لانے کی نوسو سال تک لگاتار کوشش کی، اس کے باوجود جب راہ راست پر نہیں آیا تو اب ان کے اوپر کوئی مطالبہ اور کوئی مواخذہ نہیں، لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ایک دو مرتبہ کہا اور پھر فارغ ہو کر بیٹھ گئے کہ ہم نے تو کہہ دیا، حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ ان کو گناہوں سے اسی طرح بچاو جس طرح ان کو حقیقی آگ سے بچاتے ہو، اگر اس طرح نہیں بچا رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فریضہ ادا نہیں ہو رہا ہے، آج تو یہ نظر آرہا ہے کہ اولاد کے بارے میں ہر چیز کی فکر ہے،مثلاً یہ تو فکر ہے کہ بچے کی تعلیم اچھی ہو ، اس کا کیرئیر اچھا بنے، یہ فکر ہے کہ معاشرے میں اس کا مقام اچھا ہو، یہ فکر تو ہے کہ اس کے کھانے پینے اور پہنے کا انتظام اچھا ہو جائے، لیکن دین
کی فکر نہیں۔

(اصلاحی خطبات، ج ۴، ص۲۷)

 

دعا! تعویذ جھاڑ پھونک وغیرہ سے بدر جھا افضل اور بہتر ہے

ہاں! نبی کریم ﷺ دعا ضرور فرماتے تھے ، اس لیے کہ سب سے بڑی اور اصل چیز دعا ہے ، اگر براہ راست اللہ تعالیٰ سے مانگو ، اور دورکرت صلوۃ الحاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ یا اللہ ! اپنی رحمت سے میرا یہ مقصد پورا فرما دیجیئے، یا اللہ ! میری مشکل حل فرما دیجئے، یا اللہ ! میری یہ پر یشانی دور فرما دیجئے ، تو اس دعا کرنے میں ثواب ہی ثواب ہے، حضور اقدس ﷺ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی حاجت پیش آئے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو ، اور اگر دو رکعت صلوۃ الحاجت پڑھ کر دعا کرو تو زیادہ اچھا ہے ، اس سے یہ ہوگا کہ جو مقصد ہے وہ اگر مفید ہے تو ان شا ء اللہ حاصل ہوگا ، اور ثواب تو ہر حال میں ملے گا ، اس لیے کہ دعا کرنا چاہے دنیا کی غرض سے ہو وہ ثواب کو موجب ہے، اس لیے کہ دعا کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’الدعا ء ھو العبادۃ‘‘ یعنی دعا بذات خود عبادت ہے۔
لہٰذا اگر کسی شخص کو ساری عمر جھاڑ پھونک کا طریقہ نہ آئے، تعویذ لکھنے کا طریقہ نہ آئے ، لیکن وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو یقیناًاس کا یہ عمل اس تعویذ اور جھاڑ پھونک سیت بدرجہا افضل اور بہتر ہے ، لہٰذا ہر وقت تعویذ گنڈے میں لگے رہنا یہ عمل سنت کے مطابق نہیں ، جو بات نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے جس حد تک ثابت ہے اس کو اسی حد پر رکھنا چاہیے، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے ، اگر کبھی ضرورت پیش آئے جس حد تک ثابت ہے اس کو اسی حد پر رکھنا چاہیے ، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے، اگر کبھی ضرورت پیش آئے تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جھاڑ پھونک کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن ہر وقت اس کے اندر انہماک اور غلو کرنااور اس کو اپنا مشغلہ بنا لینا کسی طرح بھی درست نہیں ، بس تعویذ گنڈوں کی یہ حقیقت ہے ، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ (اصلاحی خطبات، ج ۱۵، ص ۵۸)

 

کیا مدارس میں تعویذ گنڈے سکھائے جاتے ہیں؟

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بس سارا دین ان تعویذ گنڈوں کے اندر منحصر ہے ، اور جو شخص تعویذ گنڈا کرتا ہے وہ بہت بڑا عالم ہے ، وہ بہت بڑا نیک آدمی ہے، متقی اور پرہیز گار ہے، اسی کی تقلید کرنی چاہئے، اس کا معتقد ہونا چاہیے، اور جو شخص تعویذ گنڈا نہیں کرتا یا جس کو تعویذ گنڈا کرنا نہیں آتا اس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ اس کو دین کا علم ہی نہیں، بہت سے لوگ میری طرف رجوع کرتے ہیں کہ فلاں مقصد کے لیے تعویذ دے دیجیے،میں ان سے جب کہتا ہوں کہ مجھے تو تعویذ دینا نہیں آتا تو وہ لوگ بہت حیران ہوتے ہیں ، وہ یہ سمجھتے ہیں یہ جو اتنا بڑا دارالعلوم بنا ہوا ہے، اس میں تعویذ گنڈے ہی سکھائے جاتے ہیں ، اور اس میں جو دروس ہوتے ہیں وہ سب تعویذ اور جھاڑ پھونک کے ہوتے ہیں ، لہٰذا جس کو جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈا نہیں آتا ، وہ یہاں پرا پنا وقت ضائع کر رہے ہیں ، اس لیے جو اصل کام یہاں پر سیکھنے کا تھا وہ تو اس نے سیکھا ہی نہیں!!!!!۔(اصلاحی خطبات، ج ۱۵،ص ۵۴)

 

تعویذ گنڈے اور جھاڑ پھونک کی شرائط

جہاں تک اللہ تعالیٰ کے نام کے ذریعہ جھاڑ پھونک کا تعلق ہے ہ خود حضور اقدس ﷺ سے اور آپ کے صحابہ سے ثابت ہے، اس لیے وہ ٹھیک ہے لیکن اس کے جواز کے لیے چند شرائط انتہائی ضروری ہیں، ان کے بغیر یہ عمل جائز نہیں۔
پہلی شرط یہ ہے کہ جو کلمات پڑھے جائیں، ان میں کوئی کلمہ ایسا نہ ہو جس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے مدد مانگی گئی ہو، اس لیے بعض اوقات ان میں ’’یا فلان‘‘ کے الفاظ ہوتے ہیں، اور اس جگہ پر اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام ہوتا ہے ، ایسا تعویذ، ایسا گنڈا ، ایسی جھاڑ پھونک حرام ہے جس میں غیر اللہ سے مدد لی گئی ہو۔
دوسری شرط یہ ہے کہ اگر جھاڑ پھونک کے الفاظ یا تعویذ میں لکھے ہوئے الفاظ ایسے ہیں جن کے معنی ہی معلوم نہیں کہ کیا ہیں؟ ایسا تعویذ استعمال کرنا بھی جائذ ہے، اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی مشرکانہ کلمہ ہو اور اس میں غیر اللہ سے مدد مانگی گئی ہو ، یا اس میں شیطان سے خطاب ہو ، اس لیے ایسے تعویذ بالکل ممنوع اور ناجائز ہیں۔
ایسے تعویذ جس میں ایسی بات لکھی ہوئی ہو جس کا مطلب ہی سمجھ میں نہیں آتا، ایسا تعویذ حرام ہے، اگر اس میں کوئی ایسی عبارت لکھی ہوئی ہے، ایسی بات لکی ہوئی ہے، جس کا مطلب ہی سمجھ میں نہیں آرہا تو ایسا تعویذ استعمال کرنا ناجائز ہے ، بعض تعویذ ایسے ہوتے ہیں جس میں غیر اللہ سے مدد مانگی جاتی ہے، وہ چاہے نبی ہو، چاہے ولی ہو، اور چاہے کتنا بڑا بزرگ ہو،اللہ کے سوا کسی سے مراد نہیں مانگی جاتی اور وہ شرک کے قریب انسان کو پہنچا دیتی ہے، ایسے تعویذ بالکل حرام ہیں اور انسان کو شرک کے قریب پہنچا دیتے ہیں ، اسی لیے فقہا کرام نے فرمایا کہ تعویذ میں اگر کوئی ایسی بات لکھی ہوئی ہے جو ہم اورآپ سمجھتے نہیں ہیں تو کیا پتہ اس میں کوئی غیر اللہ سے مدد مانگ لی گئی ہو ،کوئی شرک کا کلمہ اس کے اندر موجود ہو ، اس واسطے ایسا تعویذ استعمال کرنا بالکل جائز نہیں ہے، لیکن اگر قرآن کریم کی آیات ہیں ان کو بھی ادب کے ساتھ استعمال کیا جائے یا کوئی ذکر ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، یا کوئی دعا ہے جو تعویذ میں لکھ دی گئی تھی تو وہ جائز ہے، لیکن اس میں کوئی ثواب نہیں ۔
بہر حال تعویذ اور جھاڑ پھونک کی یہ شرعی حقیقت ہے، لیکن اس معاملے میں افراط و تفریط ہورہی ہے، ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو اس عمل کو حرام اور ناجائز کہتے ہیں ان کی تفصیل تو عرض کردی۔(اصلاحی خطبات، ج ۱۵،ص۵۲)

 

کیا جھاڑ پھونک (دم) کا عمل سنت سے ثابت ہے؟

ہمارے زمانے میں جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کے بارے میں لوگوں کے درمیان افراط و تفریط پائی جارہی ہے،بعض لوگ وہ ہیں جو سرے سے جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کے بالکل ہی قائل نہیں، بلکہ وہ لوگ اس قسم کے تمام کاموں کو ناجائز سمجھتے ہیں ، اور بعض لوگ تو اس کام کو شرک قرار دیتے ہیں ، اور دوسری طرف بعض لوگ ان تعویذ گنڈوں کے اتنے زیادہ معتقد اور اس میں اتنے زیادہ منہمک ہیں کہ ان کو ہر کام کے لیے ایک تعویذ ہونا چاہیے، ایک وظیفہ ہونا چاہیے، ایک گنڈا ہونا چاہیے، میرے پاس روزانہ بے شمار لوگوں کے فون آتے ہیں کہ صاحب بچی کے رشتے نہیں آرہے ہیں ، اس کے لیے کوئی وظیفہ بتادیں، روز گار نہیں مل رہا ہے، اس کے لیے وظیفہ بتادیں، میرا قرضہ ادا نہیں ہورہا ہے ، اس کے لیے کوئی وظیفہ بتادیں،دن رات لوگ بس اس فکر میں رہتے ہیں کہ سارا کام ان وظیفوں سے اور ان تعویذ گنڈوں سے ہوجائے، ہمیں ہاتھ پاؤں ہلانے کی ضرورت نہ پڑے۔
یہ دونوں باتیں افراط و یفریط کے اندر داخل ہیں ، اور شریعت نے جو راستہ بتایا ہے وہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیاں کے درمیان ہے، قرآن و سنت سے سمجھ میں آتا ہے ، یہ سمجھنا بھی غلط ہے کہ جھاڑ پھونک کی کوئی حیثیت نہیں، اور تعویذ کرنا، ناجائز ہے ، اس لیے کہ اگر چہ ایک روایت میں ان لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے جو جھاڑ پھونک نہیں کرتے، لیکن خوب سمجھ لیجئے! کہ اس ہر قسم کی جھاڑ پھونک مراد نہیں، بلکہ اس حدیث میں زامانہ جاہلیت میں جھاڑ پھونک کا جو طریقہ تھا ، اس کی طرف اشارہ ہے، زمانہ جاہلیت میں عجیب و غریب قسم کے منتر لوگوں کو یاد ہوتے تھے اور یہ مشہور تھا کہ یہ منتر پڑھو تو اس سے فلاں بیماری سے افاقہ ہوجائے، فلاں منتر پڑھو تو اس سے فلاں کام ہو جائے گا وغیرہ، اور ان منتروں میں اکثر و بیشتر جنات اور شیاطین سے مدد مانگی جاتی تھی، کسی میں بتوں سے مدد مانگی جاتی تھی ، بہر حال ان منتروں میں ایک خرابی تو یہ تھی کہ ان میں غیر اللہ سے اور بتوں سے اور شیاطین سے مدد مانگی جاتی تھی کہ تم ہمارا یہ کام کردو، اسی طرح ان منتوں میں مشرکانہ الفاظ ہوتے تھے۔
دوسری خرابی یہ تھی کہ اہل عرب ان الفاظ کو بذات خود موثر مانتے تھے ، یعنی ان کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ تاثیردے گا تو ان میں تاثیر ہوگی ، اور اللہ تعالیٰ کی تاثیر کے بغیر تا ثیر نہیں ہوگی ، بلکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان الفاظ میں بذات خود تاثیر ہے ، اور جو شخص یہ الفاظ بولے اس کو شفا ہوجائے گی ، یہ خرابیاں تو تھیں ہی ، اس کے علاوہ بسا اوقات وہ الفاظ ایسے ہوتے تھے کہ ان کے معنی ہی سمجھ میں نہیں آتے تھے ، بالکل مہمل قسم کے الفاظ ہوتے تھے ، جن کے کوئی معنی نہیں ہوتے تھے ، وہ الفاظ بولے بھی جاتے تھے ، اور ان الفاظ کو تعویذ کے اندر لکھا بھی جاتا تھا ، درحقیقت ان الفاظ میں بھی اللہ کے سوا شیاطین اور جنات سے مدد مانگی جاتی تھی ، ظاہر ہے کہ یہ سب شرک کی باتیں تھیں ، اس لیے نبی کریم ﷺ نے جاہلیت کے جھاڑ پھونک کے طریقے کو منع فرمادیا اور یہ فرمایا کہ جو لوگ اس قسم کے جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں میں مبتلا نہیں ہوتے، یہ وہ لوگ ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ بلا حساب و کتاب جنت میں داخل فرمائیں گے ، لہٰذا اس حدیث میں جس جھاڑ پھونک کو ذکر ہے اس سے وہ جھاڑ پھونک مراد ہے جس کا زمانہ جاہلیت میں رواج تھا ۔ (اصلاحی خطبات، ج ۱۵، ص ۳۸)
بہر حال یہ طریقہ جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھا نبی کریم ﷺ نے اس کو منع فرمایا کہ اگر اللہ پر ایمان ہے ، اگر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان ہے تو پھر یہ شرکیہ کلمات کہہ کر اور فضول مہمل کلمات ادا کرکے شیاطین کے ذریعے کام کرانا شریعت میں ناجائز اور حرام ہے، اور کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔
لیکن ساتھ ہی رسول کریم ﷺ نے اس قسم کے منتروں کے بجائے اور شرکیہ کلمات کے بجائے آپ نے خود اللہ جل شانہ کے نام مبارک سے جھاڑ پھونک کیا اور صحابہ :کرام کو یہ طریقہ سکھایا، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص بیمارار ہو جائے تو یہ کلمات کہے
اللھم ربنا اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفا ء الا شفا ء ک شفا ء الا یغادر سقما۔ (ابو داود، کتاب الطب، باب فی التمائم)
اور: اسئل اللہ العظیم رب العرش الکریم ان یشفیک کہہ کردم کردیا، اور اس طرح کے کچھ ذکر ہیں ان کو پڑھ کر دم کرنا تو حضور ﷺ سے ثابت ہے ، ان دعاوں کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جو سارے انسانوں کا پروردگار ہے یہ بیماری دور فرما، ’’انت الشافی‘‘ آپ ہی شفا دینے والے ہیں ’’لا شفاء الا شفائک ‘‘ آ پ کے سوا کوئی شفا نہیں دے سکتا، ’’شفا ء الا یغادر سقما‘‘ ایسی شفا دے دیجئیے جس کے بعد کوئی بیماری باقی نہ رہے، یہ حضور ﷺ سے ثابت ہے، ’’اسئل اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک‘‘ میں اس عظمت والے اللہ سے سوال کرتا ہوں جو سارے عرش کا مالک ہے کہ وہ آپ کو شفا دے دے ، اور بعض اوقات آپ ﷺ نے کلمات سکھا کر فرمایا کہ ان کلمات کو پڑھ کر تھو کو اور اس کے ذریعہ جھاڑو ، آپ نے خود بھی اس پر عمل فرمایا اور صحابی کرام کو اس کی تلقین بھی فرمائی ، یہ حضور ﷺ سے ثابت ہے تو حضور ﷺ نے بہت سی چیزوں کے لیے جھاڑ تو کی ہے، دم تو کیا ہے ، لیکن تعویذ لکھ کر کسی کو نہیں دیا ، نہ کسی صحابی سے کہا کہ تم اس کو لکھ کردے دو ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کا روزانہ کا معمول تھا کہ رات کو سونے سے پہلے معوذ تین پڑھتے اور بعض روایات میں ’’قل یا ایھا الکافروں‘‘ کا بھی اضافہ ہے، یعنی ’’قل یا ایھا الکا فروں ‘‘ اور ’’قل اعو ذ برب الفلق‘‘ اور’’قل اعوذبرب الناس ‘‘ان تینوں سورتوں کو تین تین مرتبہ پڑھتے ، اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے ، اور پھر پورے جسم پر ہاتھ پھیرتے ، یہ جھاڑ پھونک خود حضو ر اقدس ﷺ نے فرمائی، اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس عمل کے ذریعہ شیطانی اثرات سے حفاظت رہتی ہے ، سحر سے اور افضل حملوں سے انسان محفوظ رہتا ہے ۔
ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ مرض وفات میں تھے اور صاحب فراش تھے اور اتنے کمزور ہوگئے تھے کہ اپنا دست مبارک پوری طرح اٹھانے پر قادر نہیں تھے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے خیال آی کہ رات کا وقت ہے اور سرکار دو عالم ﷺ ساری عمر یہ عمل فرماتے رہے کہ معوذ تین پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم فرماتے تھے اور پھر ان ہاتھوں کو سارے جسم پر پھیرتے تھ ، لیکن آج آپ کے اندر یہ طاقت نہیں کہ یہ عمل فرمائیں ، چنانچہ میں نے خود معوذ تین پڑھ کر رسول کریم ﷺ کے دست مبارک پر دم کیا اور آپ ہی کے دست مبارک کو آپ کے جسم مبارک پھر پھیر دیا ، اس لیے کہ اگر میں نے اپنے ہاتھوں کو آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تو اس کی اتنی تاثیر اور اتنا فائدہ نہ ہوتا جتنا فائدہ خود آپ کے دست مبارک پھیرنے سے ہوتا ، اور بھی متعدد مواقع پر رسول کریم ﷺ نے یہ تلقین فرمائی کہ اگر جھاڑ پھونک کرنی ہے تو اللہ کے کلام سے کرو ، اور اللہ کے نام سے کرو،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے نام میں یقیناًجو تاثیر ہے وہ شیاطین کے شرکیہ کلام میں کہاں ہو سکتی ہے ، لہٰذا آپ نے اس کی اجازت عطا فرمائی۔
روایات میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام کا ایک قافلہ کہیں سفر پر جارہا تھا ، روستے میں ان کا زادراہ کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا ، راستے میں غیر مسلموں کی ایک بستی پر اس قافلے کا گذرہوا، انہوں نے جا کر بستی والوں سے کہا کہ ہم مسافر لوگ ہیں ، اور کھانے پینے کا سامان ختم ہوگیا ہے ، اگر تمہارے پاس کچھ کھانے پینے کا سامان ہو تو ہمیں دے دو ، ان لوگوں نے شاید مسلمانوں سے تعصب اور مذہبی دشمنی کی بنیاد پر کھانا دینے سے انکار کردیا کہ ہم تمہاری مہمانی نہیں کرسکتے، صحابہ کرام کے قافلے نے بستی کے باہر پڑاو ڈال دیا ، رات کا وقت تھا ، انہوں نے سوچا کہ رات یہاں پر گذار کر صبح کسی اور جگہ پر کھانا تلاش کریں گے۔
اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس بستی کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ، اب بستی والوں نے سانپ کے کاٹنے کے جتنے علاج تھے وہ سب آزمالیے ، لیکن اس کا زہر نہیں اتر تا تھا ، کسی نے ان سے کہا کہ سانپ کا زہر اتارنے کے لیے جھاڑ پھونک کی جاتی ہے ، اگر جھڑ پھونک جاننے والا ہوتو اس کو بلا یا جائے تا کہ وہ آکر زہر اتارے، انہوں نے کہا کہ بستی میں تو جھاڑ پھونک کرنے والا کوئی نہیں ہے ، کسی نے کہا کہ وہ قافلہ جو بستی کے باہر ٹھہرا ہوا ہے، وہ مولوی قسم کے لوگ معلوم ہوتے ہیں ، ان کے پاس جا کر معلوم کرو ، شاید ان میں سے کوئی شخص سانپ کی جھاڑ جانتا ہو ، چنانچہ بستی کے لوگ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا آپ میں کوئی شخص ہے جو سانپ کے ڈسے کو جھاڑ دے ، بستی کے ایک شخص کو سانپ نے ڈس لیا ہے ، حضرت ابو سعید خدریؓ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے میں جھاڑوں گا ، لیکن تم لوگ بہت بخیل ہو کہ ایک مسافر قافلہ آیا ہوا ہے ، تم سے کہا کہ ان کے کھانے پینے کا انتظام کردو ، تم نے ان کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں کیا ، بستی والوں نے کہا کہ ہم بکریوں کا پورا گلہ آپ کو دے دیں گے ، لیکن ہمارے آدمی کا تم علاج کردو۔
چنانچہ حضرت ابو سعید خدریؓ خود اپنا واقعہ سناتے ہیں کہ مجھے جھاڑ پھونک تو کچھ نہیں آتا تھا ، لیکن میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں یقیناًبرکت ہوگی، اس لیے میں ان لوگوں کے ساتھ بستی میں گیا ، اور وہاں جا کر سورہ فاتحہ پڑھ کردم کرتا رہا ، سورہ فاتحہ پڑھتا اور دم کرتا ، اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کا زہر اتر گیا ، اب وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور بکریوں کا ایک گلہ ہمیں دے دیا ، ہم نے بکریوں کا گلہ ان سے لے تو لیا ، لیکن بعد میں خیال آیا کہ ہمارے لیے ایسا کرنا جائز بھی ہے یا نہیں ؟ اور یہ بکریاں ہمارے لیے حلال بھی ہیں یا نہیں ؟ لہٰذا جب تک حضور اقدس ﷺ سے نہ پوچھ لیں ، اس وقت تک ان کو استعمال نہیں کریں گے۔ (بخاری ، کتب الطب ، باب النفث فی الرقیۃ)
چنانچہ حضرت ابو سعید خدریؓ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سارا واقعہ سنایا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اس طرح بکریوں کا قلہ ہمیں حاصل ہوا ہے ، ہم اس کو رکھیں یا نہ رکھیں ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لیے اس کو رکھنا جائز ہے ، لیکن یہ بتاؤ کہ تمہیں یہ کیسے پتہ چلا کہ سانپ کے کاٹنے کا یہ علاج ہے؟ حضرت ابو سعید خدریؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ! میں نے سوچا کہ بے ہو دہ قسم کے کلام میں تا ثیر ہو سکتی ہے تو اللہ کے کلام میں بطریق اولی تاثیر ہوگی ، اس وجہ سے میں سورہ فاتحہ پڑھتا رہا اور دم کرتا رہا ، اللہ تعالیٰ نے اس سے فائدہ پہنچا دیا ، سر کا ردوعالم ﷺ ان کے اس عمل سے خوش ہوئے اور ان کی تائید فرمائی اور بکریوں کا گلہ رکھنے کی بھی اجازت عطا فرمائی ، اب دیکھئے! اس واقعے میں حضوراکرم ﷺ نے جھاڑ پھونک کی نہ صرف تائید فرمائی ، بلکہ اس عمل کے نتیجے میں بکریوں کا جو گلہ بطور انعام کے ملا تھا ، اس کو رکھنے کی اجازت عطا فرمائی ، اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خود بھی عمل فرمایا اور صحابہ کرام سے بھی کرایا ، یہ تو جھاڑ پھونک کا قضیہ ہوا۔(اصلاحی خطبات ، ج ۱۵ ، ص ۴۳)

 

روحانی علاج کیا ہوتا ہے؟

لوگوں نے یہ تعویذ گنڈے، یہ عملیات، یہ وظیفے اور جھاڑ پھونک ان کا نام’’روحانی علاج‘‘ رکھ لیا ہے، حالانکہ یہ بڑے مغالطے اور دھوکے میں ڈالنے والا نام ہے ، اس لیے کہ روحانی علاج تو داراصل انسان کے اخلاق کی اصلاح کا نام تھا ، اس کے ظاہری اعمال کی اصلاح اور اس کے باطن کے اعمال کی اصلاح کا نام تھا ، یہ اصل میں روحانی علاج تھا ، مثلا ایک شخص میں تکبر ہے ، اب یہ تکبر کیسے زائل ہو؟ یا مثلا حسد پیدا ہو گیا ہے وہ کیسے زائل ہو؟ یا مثلا بغض پیدا ہو گیا ہے وہ کیسے زائل ہو؟ حقیقت میں ا س کا نام ’’روحانی علاج‘‘ ہے،لیکن آج تعویذ گنڈے کے علاج کا نام روحانی علاج رکھ دیا ہے جو بڑے مغالطے والا عمل ہے۔(اصلاحی خطبات، ج ۱۵،ص۵۹)

 

تکبر کی علامت کیا ہے؟

اور تعلی اور تکبر کی علا مت یہ ہے کہ اس سے گردن اکڑتی ہے، سینہ تنتا ہے، اور انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بالا تر سمجھتا ہے، اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، اور ان کے ساتھ حقارت کا معاملہ کرتا ہے، ورنہ کم ازکم یہ تو ہوتا ہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا اور افضل سمجھتا ہے اب دونوں کے درمیان حد فاصل قائم کرنا کہ کہاں ’’تحدیث نعمت‘‘ ہے اور کہاں ’’تکبر‘‘ شروع ہوگیا، یہ قائم کرنا آسان کام نہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں شیخ کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ شیخ یہ بتاتا ہے کہ تم جو نعمت کا اظہار کررہے ہو، یہ ’’تحدیث نعمت‘‘ نہیں ہے بلکہ یہ تکبر ہے، لیکن اس کا نام تم نے تحدیث نعمت رکھ دیا ، حالانکہ حقیقت میں وہ تکبر اور شیطانی عمل تھا۔ (اصلاحی مجالس، ج ۱،ص ۳۰۸)

 

فخر،کبر اور شکر میں فرق کس طرح کیا جائے؟

فرمایا کہ:’’نعمت پر فخر کرنا’’کبر‘‘ ہے اور اس کو عطا ء حق سمجھنا اور اپنی نا اہلی کو مستحضر رکھنا ’’شکر‘‘ ہے‘‘،جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ’’تکبر‘‘ کی بیماری کا بہترین علاج کثرت شکر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی عادت ڈالنا، وہی بات حضرت نے اس ملفوظ میں ارشاد فرمائی کہ کسی نعمت کے حصول پر فخر کرنا کہ اس کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو کمتر سمجھنا، تکبر ہے،لیکن یہ سمجھنا کہ میں تو اس نعمت کا مستحق نہیں تھا ، اللہ جل شانہ نے محض اپنے فضل سے یہ نعمت عطا فرمادی ہے، یہ استحضار’’شکر‘‘ ہے اور یہی شکر کبر کا علاج ہے۔(اصلاحی مجالس،ج ۱، ص ۳۰۴)

 

تکبر اور عزت نفس میں کیا اور کس طرح فرق کیا جائے؟

دل میں عزت نفس کا داعیہ پیدا ہونا کہ میں لوگوں کے سامنے ذلیل نہ ہوں اور بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان کے میری عزت ہونی چاہیے،اس حد تک یہ جزبہ قابل تعریف ہے،یہ جذبہ برا نہیں ہے،کیونکہ شریعت نے ہمیں اپنے آپ کو ذلیل کرنے سے منع فرمایا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر انسان کے دل میں عزت نفس کا جذبہ بالکل نہ ہو تو وہ انسان دوسروں کے ہاتھ میں کھلونا بن کررہ جائے،جو چاہے وہ اس کو ذلیل کر جائے، لیکن اگر عزت نفس کا جذبہ حد سے بڑھ جائے اور دل میں یہ خیال آئے کہ میں سب سے بڑا ہوں، میں عزت والا ہوں اور باقی سب لوگ ذلیل ہیں اور حقیر ہیں تو اب یہ دل میں تکبر آگیا،اس لیے کہ تکبر کے معنی ہیں اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنا۔
آپ کو بے شک یہ حق حاصل ہے کہ آپ یہ چاہیں کہ میں دوسروں کی نظر میں بے عزت نہ ہوں،لیکن کسی بھی دوسرے شخص سے اپنے آپ کو افضل سمجھنا کہ میں اس سے اعلی ہوں اور یہ مجھ سے کمتر ہے، یہ خیال لانا جائز نہیں،مثلا آپ امیر ہیں،آپ کے پاس کوٹھی بنگلے ہیں، آپ کے پاس بینک بیلنس ہے،آپ کے پاس دولت ہے اور دوسرا شخص غریب ہے،ٹھیلے پر سامان بیچ کراپنا پیٹ پالتا ہے،اپنے گھر والوں کے لیے روزی کماتا ہے،اگر آپ کے دل میں یہ خیال آگیا کہ میں بڑا ہوں اور یہ چھوٹا ہے، میری عزت اس کی عزت سے زیادہ ہے، میں اس سے افضل ہوں اور یہ مجھ سے کمتر ہے،اس کا نام تکبر ہے، یہ عزت نفس کا جزبہ اپنی حد سے آگے بڑھ گیا، اب یہ جذبہ اتنا خبیث بن گیا کہ اللہ تعالیٰ کو تکبر سے زیادہ کسی جزبے سے نفرت نہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین جذبہ انسان کے اندر تکبر ہے، حالانکہ عزت نفس قابل (تعیف چیز تھی لیکن جب وہ حد سے بڑھ گئی تو اس کے نتیجے میں وہ تکبر بن گئی اور تکبر بننے کے نتیجے میں وہ مبغوض بن گئی۔ (اصلاحی خطبات، ج ۱۵،ص ۹)

 

حسد اور رشک میں فرق کس طرح کیا جائے؟

یہاں یہ بات سمجھ لیں کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے شخص کو ایک نعمت حاصل ہوئی،اب اس کے دل میں یہ خواہش ہورہی ہے کہ مجھے بھی یہ نعمت حاصل ہو جائے تو اچھا ہے،یہ حسد نہیں ہے بلکہ یہ رشک ہے،عربی میں اس کو غبطہ کہا جاتا ہے،اور بعض مرتبہ عربی زبان میں اس پر اس پر بھی حسد کا لفظ بول دیا جاتا ہے،لیکن حقیقت میں یہ حسد نہیں،مثلا کسی شخص کا اچھا مکان دیکھ کر دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ جس طرح اس شخص کا مکان آرام دہ اور اچھا بنا ہوا ہے میرا بھی ایسا مکان ہو جائے، یا مثلا جیسی ملازمت اس کو ملی ہوئی ہے،مجھے بھی ایسی ملازمت مل جائے،یا جیسا علم اللہ تعالیٰ نے اس کو دیا ہے ایسا علم اللہ تعالیٰ مجھے بھی عطا فرمادے یہ حسد نہیں بلکہ رشک ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں،لیکن جب اس کی نعمت کے زائل ہونے کی خواہش دل میں پیدا ہو کہ اس کی یہ نعمت اس سے چھین جائے تو اچھا ہے یہ حسد ہے۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اگر دوسرے کی نعمت کے چھن جانے کی خواہش دل میں نہ ہو بلکہ صرف یہ خیال ہو کہ یہ نعمت مجھے بھی مل جائے اگر چہ یہ حسد تو نہیں ہے بلکہ یہ رشک ہے،لیکن اس کا بہت زیادہ استخضار کرنا اور سوچنا بالآخر حسد تک پہنچا دیتا ہے،لہٰذا اگر دنیا کے مال و دولت کی وجہ سے کسی پر رشک آگیا تو یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے اس لیے کہ یہی رشک بعض اوقات دل میں مالک ودولت کی حرص پیدا کردیتا ہے اور بعض اوقات یہ رشک آگے چل کر حسد بن جاتا ہے،لیکن اگر دین داری کی وجہ سے رشک پیدا ہورہا ہے یہ تو اچھی بات ہے۔(اصلاحی خطبات،ج ۵،ص ۶۶)

 

حسد کسے کہتے ہیں؟

حسد کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو دیکھا کہ اس کو کوئی نعمت ملی ہوئی ہے،چاہے وہ نعمت دنیا کی ہو یا دین کی ہو،اس نعمت کو دیکھ کر اس کے دل میں جلن اور کڑھن پیدا ہوئی کہ اس کو یہ نعمت کیوں مل گئی؟ اور دل میں خواہش ہوئی کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے تو اچھا ہے،یہ حسد کی حقیقت۔(اصلاحی خطبات،ج ۵،ص۶۵)

 

تواضع اور احساس کمتری میں کیا فرق ہے؟

آج کل علم نفسیات کا بڑا زور ہے اور علم نفسیات میں سے ایک چیز آج کل لوگوں میں بہت مشہور ہے،وہ ہے احساس کمتری،اس کو بہت برا سمجھا جاتا ہے کہ احساس کمتری بہت بری چیز ہے،اگر کسی میں یہ پیدا ہوجائے تو اس علاج کیا جاتا ہے،ایک صاحب نے سوال کیا کہ جب آپ لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو مٹاؤ تو اس کے ذریعے آپ لوگوں کے اندر احساس کمتری پیدا کرنا چاہتے ہیں تو کیا یہ بات درست ہے کہ لوگ اپنے اندر احساس کمتر ی پیدا کریں؟
بات داراصل یہ ہے کہ تواضع اور احساس کمتری میں فرق ہے پہلی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ علم نفسیات ایجاد کی انہیں دین کا علم یا اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں کوئی علم تھا ہی نہیں،انہوں نے ایک احساس کمتری کا لفظ اختیار کرلیا،حالانکہ اس میں بہت سی اچھی باتیں شامل ہو جاتی ہیں،ان کو احساس کمتری کہہ دیا جاتا ہے،لیکن حقیقت میں تواضع اور احساس کمتری میں فرق ہے،دونوں میں فرق یہ ہے کہ احساس کمتری میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر شکوہ اور شکایت ہوتی ہے،یعنی احساس کمتری میں انسان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ مجھے محروم اور پیچھے رکھا گیا ہے، میں مستحق تو زیادہ کا تھا لیکن مجھے کم ملا، یا مثلا یہ احساس کہ مجھے بدصورت پیدا کیا گیا ، مجھے بیمار پیدا کیا گیا، مجھے دولت کم دی گئی، میرا رتبہ کم رکھا گیا،اس قسم کے شکوے اس کے دل میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر اس شکوے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی طبعیت میں جھنجھلاہٹ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر اس احساس کمتری کے نتیجے میں انسان دوسروں سے حسد کرنے لگتا ہے اور اس کے اندر مایاسی پیدا ہوجاتی ہے کہ اب مجھ سے کچھ نہیں ہوسکتا،بہر حال احساس کمتری کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے شکوے پر ہوتی ہے۔
جہاں تک تواضع کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر شکوے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات پر شکر کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے،تواضع کرنے والا یہ سوچتا ہے کہ میں تو اس قابل نہیں تھا کہ مجھے یہ نعمت ملتی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے یہ نعمت عطا فرمائی،یہ ان کا کرم اور ان کی عطا ہے میں تو اس کا مستحق نہیں تھا۔
اس سے اندازہ لگایے کہ احساس کمتری اور تواضع میں کتنا بڑا فرق ہے،اس لیے تواضع محبوب اور پسندیدہ عمل ہے،حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رفعت اور بلندی عطا فرماتے ہیں۔(اصلاحی خطبات،ج ۵،ص۴۹)

 

کیا اپنے آپ کو ’’حقیر،فقیر،ناکارہ‘‘ کھنا تواضع ہے؟

بعض لوگ تواضع کرتے ہوئے اپنے آپ کو ’’ناکارہ،ناچیز‘‘ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو ناکارہ ہیں، اکثروبیشتر یہ سب جھوٹ ہوتا ہے،جھوٹ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس کاناکارہ کہنے کے جواب میں کہہ دیا جائے کہ بیشک آپ واقعی ناکارہ ہیں تو اس وقت اس کے دل پر کیا گزرے گی؟ دل میں اس کا یہ جواب ناگوار ہوگا، یہ ناگوار ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو ناکارہ کہہ رہا تھا یہ دل سے نہیں کہہ رہا تھا بلکہ اپنے آپ کو اس لیے ناکارہ کہہ رہا تھا تا کہ لوگ مجھے متواضع سمجھیں اور لوگ جواب میں مجھے یہ کہیں کہ نہیں حضرت!آ تو بڑے عالم ق فاضل ہیں ، آپ کے درجات تو بہت بلند ہیں،دیکھیے! اس میں کتنے امراض جمع ہوگئے،لہٰذا یہ الفاظ کہنا کہ میں ناکارہ ہوں، یہ تواضع نہیں ہے بلکہ تواضع کا دکھا وا ہے کہ میں بہت متواضع ہوں، اس لیے اپنے کو ’’ناچیز‘‘ اور’’ ناکارہ‘‘ کہتا ہوں۔
چنانچہ ہم لوگ اپنے آپ کو ’’حقیر، پر تقصیر،ناکارہ،آوارہ‘‘ کے جو الفاظ لکھتے ہیں یہ اکثر و بیشتران امراض کا مجموعہ ہوتا ہے،الا یہ کہ کوئی شخص صدق دل سے یہ الفاظ استعمال کرے اور صدق دل کی علامت یہ ہے کہ اگر دوسرا شخص ان الفاظ کے جواب میں یصدیق کردے کہ بیشک آپ ایسے ہی ہیں تو اس وقت دل پر ذرہ برابر بال نہ آئے اور طبیعت پر ناگواری نہ ہو،اگر ایسا ہوتو پھر ان الفاظ کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ان الفاظ کے استعمال سے کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ اپنے آپ کو کمتر کہنا تواضع نہیں ہے،بلکہ اپنے آپ کو کمتر سمجھنا تواضع ہے،جو شخص حقیقی متواضع ہوگا وہ تکلفایہ الفاظ استعمال نہیں کرے گا اور ایسا شخص چاہے زبان سے اپنے آپ کو ناکارہ اور آوارہ کچھ بھی نہ کہے لیکن دل میں ہر وقت اس کو اپنے عیوب پر نظر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو ساری مخلوق سے کمتر سمجھتا ہے۔(اصلاحی مجالس،ج ۵،ص۴۱)

 

حقیقی تواضع کسے کہتے ہیں؟

’’تواضع‘‘ عربی زبان کو لفظ ہے، اس کے معنی ہیں ’’اپنے آپ کو کم درجہ سمجھنا‘‘ ،اپنے آپ کو کم درجہ والا کہنا تواضع نہیں،جیسا کہ آج کل لوگ تواضع اس کو سمجھتے ہیں کہ اپنے لیے تواضع اور انکساری کے الفاظ استعمال کر لیے، مثلا اپنے آپ کو’’احقر‘‘ کہہ دیا،’’ناچیز‘‘،’’ناکارہ‘‘ کہہ دیا،یا ’’خطا کار‘‘،’’گناہ گار‘‘ کہہ دیا،اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان الفاظ کے استعمال کے ذریعہ تواضع حاصل ہوگئی،حالانکہ اپنے آپ کو کمتر کہنا تواضع نہیں،بلکہ اپنے آپ کو کمتر سمجھنا تواضع ہے،مثلا یہ سمجھے کہ میری کوئی حیثیت،کوئی حقیقت نہیں،اگر میں کوئی اچھا کام کررہا ہوں تو یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے، اس کی عنایت اور مہربانی ہے،اس میں میرا کوئی کمال نہیں،یہ ہے تواضع کی حقیقت،جب یہ حقیقت حاصل ہو جائے تو اس کے بعد زبان سے چاہے اپنے آپ کو ’’حقیر‘‘ اور ’’ناچیز‘‘،’’ناکارہ‘‘ کہو یا نہ کہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جو شخص تواضع کی اس حقیقت کو حاصل کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کو بلند مقام عطا فرماتے ہیں۔(اصلاحی خطبات،ج ۵،ص ۲۹)

 

کیا حجاج بن یوسف کی غیبت کرنا جائز ہے؟

آج حجاج بن یاسف کو کون مسلمان نہیں جانتا جس نے بے شمار ظلم کیے،کتنے علماء کو شہید کیا،کتنے حافظوں کو قتل کیا،حتی کہ اس نے کعبہ شریف پر حملہ کردیا،یہ سارے برے کام کیے اور جو مسلمان بھی اس کے ان برے افعال کو پڑھتا ہے تو اس کے دل میں اس کی طرف سے کراہیت پیدا ہوتی ہے، لیکن ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ک سامنے حجاج بن یوسف کی برائی شروع کردی اور اس برائی کے اندر غیبت کی، تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فورا ٹوکا اور فرمادیا کہ یہ مت سمجھنا کہ اگر حجاج بن یوسف ظالم ہے تو اب اس کی غیبت حلال ہوگئی یا اس پر بہتان باندھنا حلال ہوگیا، یادرکھو! جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حجاج بن یوسف سے اس کے ناحق قتل اور ظلم اور خون کا بدلہ لیں گے تو تم اس کی جو غیبت کررہے ہو یا بہتان باندھ رہے ہوتو اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ تم سے لیں گے،یہ نہیں کہ جو شخص بدنام ہوگیا تو اس کی بدنامی کے نتیجے میں اس پر جو چاہو الزام عائد کرتے چلے جاؤ،اس پر بہتان باندھتے چلے جاؤ اور اس کی غیبت کرتے چلے جاؤ۔(اصلاحی خطبات،ج ۱۰،ص۹۱)

 

غیبت کا کفارہ یا تلافی کس طرح ہو؟

البتہ بعض روایات میں ہے،جو اگر چہ ہیں تو ضعیف،لیکن معنی کے اعتبار سے صحیح ہیں، کہ اگر کسی کی غیبت ہوگئی ہے تو اس غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ اس کے لیے خوب دعائیں کرو،اور استغفار کرو،مثلا فرض کریں کہ آج کسی کو غفلت سے تنبیہ ہوئی کہ واقعتہ آج تک ہم بڑی سخت غلطی کے اندر مبتلا رہے،معلوم نہیں کن کن لوگوں کی غیبت کرلی،اب آئندہ ان شاء اللہ کسی کی غیبت نہیں کریں گے،لیکن اب تک جن کی غیبت کی ہے،ان کو کہاں کہاں تک یاد کریں اور ان سے کیسے معافی مانگیں؟ کہاں کہاں جائیں؟ اس لیے اب ان کے لیے دعا اور استغفار کرو۔(مشکوۃ،کتاب الآ داب،باب حفظ اللسان) (اصلاحی خطبات،ج ۴،ص ۹۴)
جس کی غیبت کی تھی اگر وہ مرچکا ہوتو کیسے معافی مانگی جائے؟
یعنی جس شخص کی آپ نے غیبت کی تھی، اب اس کا انتقال ہو چکا ہے، تو اب اس سے کیسے معافی مانگی جائے؟ تو اس سے معاف کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے لیے دعا واستغفار کرتے رہو،یہاں تک کہ تمہارا دل گواہی دے دے کہ اب وہ شخص تم سے راضی ہو گیا ہوگا۔
لہٰذا حقوق العباد کا معاملہ اگرچہ بڑا سنگین ہے کہ جب تک صاحب حق معاف نہ کرے،اس وقت تک معاف نہیں ہوگا،اور اگر صاحب حق کا انتقال ہوگیا تو اور زیادہ مشکل،لیکن کسی صورت میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں،کسی بھی حالت میں اللہ تعالیٰ نے مایاسی کا راستہ نہیں رکھا،کہ اب تیرے لیے معافی کا راستہ بند ہے۔(اصلاحی مجالس،ج ۱،ص۱۸۳)
بہر حال! مایوسی کا کوئی راستہ نہیں کہ چونکہ ہم سے حقوق العباد ضائع ہو گئے ہیں اور جن کے حقوق ضائع کیے ہیں ان کا انتقال ہو گیا ہے،لہٰذا اب ہماری مغفرت نہیں ہو سکتی،ایسا نہیں ہے، ابتدا میں تو حقوق العباد کا بہت اہتمام کرو،اور ان کے ضائع ہونے کو سنگین سمجھو،اور کسی اللہ کے بندے کے حق کو پامال نہ کرو،لیکن اگر کسی کا کوئی حق ضائع ہو جائے تو فورا معاف کرالو اور اگر معاف کرانے کا کوئی راستہ نہ ہو تو مایوس نہ،بلکہ اس کیلیے استغفار کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہو کہ یا اللہ! اپنے فضل و کرم سے مجھ سے ان بندوں کو راضی کردیجیے جن کے حقوق میں نے پامال کیے اور یہ دعا کرتے رہو کہ یا اللہ! ان کے درجات بلند فرمایے،ان کی مغفرت فرمایے،ان کو رضائے کاملہ عطا فرمایے،یہ دعا کرتے رہو،یہاں تک کہ یہ گمان غالب ہو جائے کہ وہ راضی ہوگئے ہوں گے۔(اصلاحی مجالس،ج ۱،ص ۱۸۶)

 

پیٹھ پیچھے برائی چاہے صحیح ہو یا غلط ہرحال میں غیبت ہے

غیبت کا کیامعنی ہے؟ غیبت کے معنی ہیں دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنا، چاہیے وہ برائی صحیح ہو، وہ اس کے اندر پائی جارپہی ہو، غلط نہ ہو، پھر بھی اگر بیان کرو گے تو وہ غیبت میں شمار ہوگا،حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے حضور اقدس ﷺ سے سوال کیا، یا رسول اللہ! غیبت کیاہوتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا: ذکرک اخاک بما یکرہ
یعنی اپنے بھائی کا اس کے پیٹھ پیچھے ایسے انداز میں ذکر کرنا جس کو وہ پسند کرتا ہو، یعنی اگر اس کو پتے چلے کہ میرا ذکر اس طرح اس مجلس میں کیا گیا تھا، تو اس کو تکلیف ہو ، اور وہ اس کو برا سمجھے، تو یہ غیبت ہے،ان صحابی نے پھر سوال کیا کہ: ان کافی اخی ما اقول
اگر میرے بھائی کے اندر وہ خرابی واقعۃ موجود ہے جو میں بیان کررہا ہوں؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اگر وہ خوابی واقعۃ موجود ہے تب تو یہ غیبت ہے، اور اگر وہ خرابی اس کے اندر موجود نہیں ہے اور تم اس کی طرف جھوٹی نسبت کررہے ہوتو پھر یہ غیبت (نہیں، پھر تو یہ بہتان بن جائے اور دوہرا گناہ ہو جائے گا۔(ابوداود،کتاب الادب،باب فی الغیبۃ
اب ذرا ہماری محفلوں اور مجلسوں کی طرف نظر ڈال کر دیکھیے کہ کس قدر اس رواج ہو چکا ہے اور ان رات اس گناہ کے اندر مبتلا ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے،آمین۔
بعض لوگ اس کو درست بنانے کے لیے یہ کہتے ہیں کہ میں غیبت نہیں کررہا ہوں، میں تو اس کے منہ پر یہ بات کہہ سکتا ہوں،مقصد یہ ہے کہ جب میں یہ بات اس کے منہ پر کہہ سکتا ہوں تو میرے لیے یہ غیبت کرنا جائز ہے،یادرکھو! چاہے تم وہ بات اس کے منہ پر کہہ سکتے ہو، یا نہ کہہ سکتے ہو، وہ حالت میں غیبت ہے، بس اگر تم کسی کا برائی سے ذکر کرہے ہوتو یہ غیبت کے اندر (داخل ہے اور یہ گناہ کبرہ ہے۔(اصلاحی خطبات،ج ۴،ص ۸۲

 

شریعت کی روح دیکھنی چاہیے،ظاہر اور الفاظ کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے

آج کل لوگوں کی زبانوں پر اکثر یہ رہتا ہے کہ شریعت کی روح دیکھنی چاہیے،ظاہر اور الفاظ کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے،معلوم نہیں کہ وہ لوگ روح کو کس طرح دیکھتے ہیں، ان کے پاس کونسی ایسی خوردبین ہے جس میں ان کو روح نظر آجاتی ہے،حالانکہ شریعت میں روح کے ساتھ ظاہر بھی مطلوب اور مقصود ہے،سلام ہی کولے لیں کہ آپ ملاقات کے وقت السلام علیکم کے بجائے اردو میں یہ کہہ دیں کہ ’’سلامتی ہوتم پر‘‘ دیکھیے! معنی اور مفہوم تو اس کے وہی ہیں جو السلام علیکم کے ہیں لیکن وہ برکت وہ نور اور اتباع سنت کا اجر و ثواب اس میں حاصل نہیں ہوگا جو السلام علیکم میں حاصل ہوتا ہے۔
اس سے ایک اور بنیادی بات معلوم ہوئی،جس سے آج کل لوگ بڑی غفلت برتتے ہیں،وہ کہ احادیث کے معنی مفہوم اور روح تو مقصود ہے ہی،لیکن شریعت میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے الفاظ بھی مقصود ہیں،دیکھیے السلام علیکم اور وعلیکم السلام دونوں کے معنی تو ایک ہی ہیں،یعنی تم پر سلامتی ہو، لیکن حضور اودس ﷺ نے حضرت جابر بن سلیمؓ کو پہلی ملاقات ہی میں اس پر تنبیہ فرمائی کہ سلام کرنے کا سنت طریقہ اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ السلام علیکم کہو،ایسا کیوں کیا؟ اس لیے کہ اس ذریعہ آپ نے امت کو یہ سبق دے دیا کہ شریعت اپنی مرضی سے راستہ بنا کر چلنے کا نام نہیں ہے،بلکہ شریعت اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اتباع کا نام ہے۔

 

اسلامی تعلیمات کا دارو مدار کیا صرف عقل پر ہے؟

اسلام کی تعلیمات عقل و عشق کا ایک ایسا حسین آمیزہ ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک عنصر کو بھی ختم کردیا جائے تو اس کا سارا حسن ختم ہوجاتا ہے۔ اگر عقائد و عبادات کا نظام عقل سے بالکلیہ آزاد ہو جائے تو کوئی تو ہم پرست یادیو مالائی مذہب و جود میں آجاتا ہے،اور اگر عقل کووحی پرمبنی عقائد و عبادات سے آزاد کر دیا جائے تو وہ کسی ایسے خشک سیکولر نظر ئیے کو جنم دے کر رک جاتی ہے جو مادے کے اس پاردیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔نتیجہ دونوں صورتوں میں محرومی ہے،کہیں جسم کے جائز تقاضوں سے، کہیں روح کے حقیقی مطالبات سے۔(ذکر و فکر،ص۳۱(

 

کیا دین پر چلنا مشکل ہے؟

بعض اوقات ان احادیث کو پڑھ پڑھ کر ہم جیسے کم ہمت لوگوں کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہونے لگتا ہے کہ دین پر چلنا ہمارے بس کی بات نہیں،یہ حضرات ابو ہریرہ،حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور اصحابہ صفہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی نے دین پر عمل کرکے دکھایا،ہمارے بس میں تو یہ نہیں ہے کہ اتنے دن کی بھوک برداشت کرلیں،اور ایک چادر اوڑھ کر اپنی زندگی گزارلیں اور اپنے رہنے کی جھونپڑی بھی ہوتو اس کی مرمت نہ کریں،اور اگر مرمت کرنے لگیں تو اس وقت یہ خیال ہو کہ قیامت کا وقت قریب آنے والا ہے،خوب سمجھ لیجیے! یہ واقعات سنانے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ دل میں مایوسی پیدا ہو،بلکہ یہ واقعات سناے کا منشایہ ہے کہ حضور اقدس جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کے اندر یہ ذہنیت پیدا فرمائی جس کا اعلی ترین معیار وہ تھا، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان اس اعلی معیار پر پہنچنے کے بعد ہی نجات حاصل کر سکے گا،بلکہ ہر انسان کی طاقت اور استطاعت :الگ الگ ہے،اور اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم انسان کی طاقت اور استطاعت سے زیادہ نہیں دیا،کسی نے خوب کہا ہے
دیتے ہیں ظرف قدح خواردیکھ کریعنی جس شخص کا جتنا ظرف ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے ظرف کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرماتے ہیں۔(اصلاحی خطبات،ج ۸،ص۷۸(

 

قرآن و حدیث نے چاند پر جانے اور خلا کو فتح کرنے کا فارمولا کیوں نہیں بتایا؟

اور یہیں سے ایک اور بات کا جواب مل جاتا ہے،جو آج کل بڑی کثرت سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے چاند پر جانے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا،خلا کو فتح کرنے کا کوئی فارمولا محمد رسول اللہ ﷺ نے نہیں بتایا، یہ سب قومیں اس قسم کے فارمولے حاصل کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئیں اور ہم قرآن بغل میں رکھنے کے باوجود پیچھے رہ گئے،تو قرآن اور سنت نے ہمیں یہ فارمولے کیوں نہیں بتلائے؟
جواب اس کا یہی ہے کہ اس لیے نہیں بتایا کہ وہ چیز عقل کے دائرے کی تھی،اپنی عقل سے اور اپنے تجربے اور اپنی محنت سے جتنا آگے بڑھو گے،اس کے اندر تمہیں انکشافات ہوتے چلے جائیں گے،وہ تمارے عقل کے دائرے کی چیز،عقل اس کا ادراک کرسکتی تھی،اس واسطے اس کے لیے نبی بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی،اس لیے رسول بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی،اس کے لیے کتاب نازل کرنے کی ضرورت نہیں تھی،لیکن کتاب اور رسول کی ضرورت وہاں تھی جہاں تمہاری عقل عاجز تھی،جیسے کہ ایمنسٹی انٹر نیشنل والے آدمی کی عقل عاجز تھی کہ بنیادی حقوق اور آزادی تحریر و تقریر کے اوپر کیا پابندیاں ہونی چاہئیں،کیا نہیں ہونی چاہئیں،اس معاملے میں انسان کی عقل عاجز تھی،اس کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔

 

ماہ ذی قعدہ منحوس نہیں

ہمارے معاشرے میں ذی قعدہ کے مہینے کو جو منحوس سمجھا جاتا ہے اور اس کو ’’خالی‘‘ کا مہینہ کہا جاتا ہے،یعنی یہ مہینہ ہر برکت سے خالی ہے،چنانچہ اس ماہ میں نکاح اور شادی نہیں کرتے اور کوئی خوشی کی تقریب نہیں کرتے،یہ سب فضولیات اور تو ہم پرستی (ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔(اصلاحی خطبات،ج ۱۴،ص۴۸

 

کیا نحوست کا کوئی خاص دن یا خاص وقت ہوتا ہے؟

بات دراصل یہ ہے کہ ہم لوگ ایک عرصہ دراز تک ہندوستان میں ہندؤوں کے ساتھ رہے ہیں،ہندؤوں کی بہت سے باتیں ہمارے اندر بھی آگئی ہیں ، اور ہندؤوں کے ہاں تو ہم پر ستی بہت ہے کہ فلاں دن سعد ہے، فلاں دن نحس ہے، فلاں دن منحوس ہے،فلاں دن برکت والا ہے،حقیقت میں کوئی دن منحوس نہیں ہوتا،سال کے ۳۶۵ دن سب اللہ تعالیٰ کے پیدا ہوئے ہیں ، کسی دن کے اندر بھی ذات میں کوئی نحوست نہیں، کوئی بے برکتی نہیں،ہاں! بعض دنوں کو اللہ نے اپنی طرف نسبت دے کے اس کی فضیلت بڑھا دی ہے،لہٰذا فضلیت والے دن تو بہت ہیں،مہینے بھی ہیں،دن بھی ہیں،ہفتے بھی ہیں،جن کی اللہ تعالیٰ نے فضلیت بیان فرمائی ہے،لیکن کسی دن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ دن منحوس ہے، یا اس دن میں بے برکتی ہے۔
ہاں! بے برکتی اور نحوست جو پیدا ہوتی ہے،وہ ہمارے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے،جس دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی توفیق ہوگئی،جس دن اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں حاضری کی توفیق ہوگئی،وہ دن ہمارے لئے مبارک دن ہے،اور خدا نہ کرے جس دن ہم کسی معصیت میں مبتلا ہوگئے، کسی نا فرمانی کا ارتکاب ہم نے کرلیا،وہ دن ہمارے لئے منحوس ہے،وہ دن اپنی ذات میں منحوس نہیں تھا،لیکن ہم نے اپنے عمل سے اس کے اندر نحوست پیدا کرلی،لہذا اللہ تعالیٰ کے تخلیق کئے ہوئے ایام میں کوئی دن منحوس نہیں، منحوس تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے،گناہ ہے،معصیت ہے،منکرات ہے،یہ سب نحوست کی چیزیں ہیں،ہاں! جس دن اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں عبادت کی توفیق دے دیں،اور ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیں وہ برکت کا دن ہے۔(خطبات عثمانی،ج (۳،ص ۱۶۲

 

کیا غم اور صدمہ کا اظہار رضا بالقضا کے منافی ہے؟

اب ایک بات اور سمجھ لینی چاہیے،وہ یہ کہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ اگر کوئی تکلیف دہ واقعہ پیش آئے،یا کوئی غم،یا صدمہ پیش آئے تو اس غم اور تکلیف پر رونا صبر کے منافی اور خلاف نہیں اور گناہ نہیں ،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ غم اور صدمہ کرنا اور اس کا اظہار کرنا جائز ہے،رونا بھی جائز ہے،اور دوسری طرف آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیے،یہ دونوں چیزیں کیسے جمع کریں کہ ایک طرف فیصلے پر راضی بھی ہو اور دوسری طرف غم اور صدمہ کا اظہار بھی کرنا جائز ہو؟
خوب سمجھ لینا چاہیے کہ غم اور صدمہ کا اظہار الگ چیز ہے اور اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا الگ چیز ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ عین حکمت پر منبی ہے،اور ہمیں اس کی حکمت معلوم نہیں،اور حکمت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے دل کو تکلیف پہنچ رہی ہے،اس لیے غم اور صدمہ بھی ہے اور اس غم اور صدمہ کی وجہ سے ہم رو بھی رہے ہیں اور آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہیں ، لیکن ساتھ ساتھ یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ برحق ہے، حکمت (پر منبی ہے،لہٰذا رضا سے مراد رضا عقلی ہے، یعنی عقلی طور پر انسان یہ سمجھے کہ یہ فیصلہ صحیح ہے۔(اصلاحی خطبات،ج ۷،ص ۲۱۰

 

جب تقدیر میں سب کچھ لکھا ہوا ہے تو تدبیر کی کیا ضرورت؟

اور یہ تقدیر عجیب و غریب عقیدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب ایمان کو عطا فرمایا ہے، اس عقیدہ کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ طرح طرح کی غلطیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ کسی واقعہ کے پیش آنے سے پہلے تقدیر کو عقیدہ کسی انسان کو بے عملی پر آمادہ نہ کرے،مثلا ایک انسان تقدیر کا بہانہ کر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور یہ کہے کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہ کر رہے گا،میں کچھ نہیں کرتا،یہ عمل حضور اقدس ﷺ کی تعلیم کے خلاف ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ جس چیز کے حاصل کرنے کی جو تدبیر ہے،اس کو اختیار کرو،اس کے اختیار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑو۔
دوسری بات یہ ہے کہ تقدیر کے عقیدے پر عمل کسی واقعہ کے پیش آنے کے بعد شروع ہوتا ہے، مثلا کوئی واقعہ آچکا،تو ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ یہ سوچے کہ میں نے جو تدبیریں اختیار کرنی تھیں وہ کرلیں،اور اب جو واقعہ ہماری تدبیر کے خلاف پیش آیا،وہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے ہم اس پر راضی ہیں،لہٰذا واقعہ پیش آچکنے کے بعد اس پر بہت زیادہ پر یشانی،بہت زیادہ حسرت اور تکلیف کا اظہار کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں تدبیر اختیار کر لیتا تو یوں ہو جاتا،یہ بات عقیدہ کے خلاف ہے،ان دوا نتہاوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ اعتدال یہ بتادی کہ جب تک تقدیر پیش نہیں آئی،اس وقت تک تمہارا فرض ہے کہ اپنی سی پوری کوشش کرلو،اور احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرلو،اس لیے کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ تقدیر میں کیا لکھا ہے؟(اصلاحی خطبات،ج (۷،ص۲۰۷

 

جب تقدیر میں سب کچھ لکھ دیا گیا ہے تو عمل کا کیا فائدہ؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ کون شخص جنتی ہے اور کون سا شخص جہنمی ہے تو اب عمل کرنے سے کیا فائدہ؟ ہو گا تو وہی جو تقدیر میں لکھا ہے۔
خوب سمجھ لیجئے! کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم وہی عمل کرو گے جو تقدیر میں لکھا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر میں وہی بات لکھی ہے جو تم لوگ اپنے اختیار سے کرو گے،اس لیے کہ تقدیر تو علم الہی کا نام ہے،اور اللہ تعالیٰ کو پہلے سے پتے تھا کہ تم اپنے اختیار سے کیا کچھ کرنے والے ہو،لہذا وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا،لیکن تمہارا جنت میں جانا یا جنہم میں جانا درحقیقت تمہارے اختیاری اعمال ہی کی بنیاد پر ہاگا،یہ بات نہیں ہے کہ انسان عمل وہی کرے گا جو تقدیر میں لکھا ہے،بلکہ تقدیر میں وہی لکھ دیا گیا ہے جو انسان اپنے اختیار سے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے اور اس اختیار کے مطابق انسان عمل کرتا رہتا ہے،اب یہ سوچنا کہ تقدیر میں تو سب لکھ دیا گیا ہے،لہذا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاو،یہ درست نہیں ہے، چنانچہ جب حضور اقدس ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھ کیا کہ: ففیما العمل یا رسول اللہ ﷺ ؟
جب یہ فیصلہ ہو چکا کہ فلاں شخص جتنی اور فلاں شخص جہنمی،تو پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ؟ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:اعلمو .افکل میسر لما خلق لہ
یعنی عمل کرتے رہو،اس لیے کہ ہر انسان کو وہی کام کرنا ہوگا جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا،لہذا تم اپنے اختیار کو کام میں لاکر عمل (کرتے رہو۔(اصلاحی خطبات،ج ۸،ص ۱۶۷