Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٢١﴾ حضرت ابو ہریرہ ؓ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک تیس کے لگ بھگ دھوکا باز لوگ نہ پیدا ہو جائیں جن میں سے ہر ایک یہ دعوٰی کر یگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔(بخاری ص ٥٠٩)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٢٠﴾ حضرت ابوہریرہ ؓ میری اور دوسرے تمام انبیاء علیہم السلام کی مثال ایک محل کی سی ہے جسے خوبصورتی سے ترمیر کیا گیا ہو مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی ہو دیکھنے والے اس کے چاروں طرف گھوم کر اس کے حسن پر حیران ہوتے ہیں اور اس اینٹ کی کمی پر تعجب کرتے ہیں، بس میں ہوں جس نے اس اینٹ کی خالی کگہ کو پر کردیا مجھ پر قصر نبوت کی تکمیل ہوگئی اور مجھ پر رسول بھی ختم کردیئے گئے، میں (قصر نبوت کی) وہی (آخری) اینٹ ہوں اور تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر نیوالا ۔ (بخاری، مسلم ،مشکوٰۃ ص ٥١١ ج ٢)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٩﴾ حضرت مالک ؒ میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوردی ہیں، جب تک ان کا دامن تھا مے رہو گے، ہر گز کبھی گمراہ نہیں ہوگے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ؐ کی سنت۔(موطا، مشکوٰۃ ص ٣١)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٨﴾ حضرت معاذ بن جبل ؓ بلاشبہ شیطان انسان کا ایسا ہی بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کو کھانے والا بھیڑیا ہوتا ہے وہ اس بکری کو پکڑ لیتا ہے جو گلے سے الگ ہو کر دور چلی گئی ہو یا عام بکریوں سے ہٹ کر چلک رہی ہو، (لہذا) تم ان گھاٹیوں میں جانے سے بچو اور مسلمانوں کی عام جماعت کے ساتھ لگے رہو۔ (احمد،مشکوٰۃ ص ٣٣)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٧﴾ حضرت ابن عمر ؓ مسلمانوں کی عظیم اکثر یت کا اتباع کرو ، اس لیے کہ جو ان سے الگ ہو وہ جہنم میں بھی الگ رہے گا۔(ابن ماجہ ، مشکوٰۃ ص ٣٠)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٦﴾ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بلاشبہ اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر متفق نہیں کرے گا اور (مسلمانوں کی) جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے جو شخص جمہور مسلمین سے الگ ہو جائے وہ جننم میں بھی (مسلمانوں سے) علحیدہ رہے گا ۔ (ترمذی، مشکوٰۃ ص ٣٠)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٥﴾ عرباض بن ساریہ ؓ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی نصحیت کرتا ہوں اور اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ (اپنے امیر کی) بات سنو اور مانو، خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ میرے بعد تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور ہدایت یا فتہ خلفائے راشدین ؓ کی سنت کو تھا مے رہو، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور دین میں نئی نئی باتیں پیدا کرنے سے بچو، اس لئے کہ دین میں پیدا کی ہوئی ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔( ابوداودو مشکوٰۃ ص ٢٩)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٤﴾ حضرت مقدام بن معد یکرب ؓ وعرباض بن ساریہ ؓ خوب سن لو کہ مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس جیسی ایک اور چیز (سنت) بھی، یادرکھو یہ بات کچھ دور نہیں کہ کوئی پیٹ بھراشخص آرام دہ نشست پر بیٹھ کر یہ کہے کہ بس اس قرآن پر عمل کرو، اس میں جو چیز حلال پاو اسے حلال سمجھو، اور اس میں جو چیز حرام پاو اسے حرام قراردو، حالانکہ جس چیز کو اللہ کے رسول (ؐ) نے حرام قرار دیا ہو وہ بھی ایسی ہی ہے جیسی اللہ کی حرام قراردی ہوئی چیز، خوب سن لو،خدا کی قسم میں نے تمہیں بہت سے باتوں کا حکم دیا ہے، بہت سی باتوں کی نصحیت کی ہے اور بہت سی چیزوں سے روکا ہے، بلا شبہ یہ احکام (تعداد کے اعتبار سے) قرآنی احکام جتنے ہیں یا اس سے بھی زیادہ ۔( ابوداودو مشکوٰۃ ص ٢٩)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٣﴾ حضرت ابو موسیٰ ؓ مجھے جو ہدایت اور جو علم دیکر اللہ نے بھیجا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی زمین پر زوردار بارش برسی، زمیں کا ایک بہترین حصہ ایسا تھا، جس نے پانی کا اثر قبول کیا اور اس پر خوب گھاس اور چارہ اگا، ایک زمین ایسی سخت قسم کی تھی کہ اس گھاس تو نہ اگائی، لیکن بارش کا پانی روک کت رکھ لیا اور اس سے اللہ نے لوگوں کا فائدہ پہنچایا، وہ خود بھی سیراب ہوئے، دوسروں کو بھی سیراب کیا اور اس سے کھیتی باڑی بھی کی، زمیں کا ایک اور حصہ بالکل چٹیل تھا جو نہ پانی کو توکتا تھا، اور نہ گھاس اگاتا تھا ..... یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے دین کی سمجھ حاصل کی، انھوں نے اس طرح میرے پیغام سے نفع پہنچایا کہ خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور ان لوگوں کی جنہوں نے (اس پیغام کو سننے کے لئے) سر تک نہ اٹھایا اور اللہ کی طرف سے جو ہدایت دے کر مجھے بھیجا گیا تھا اسے قبول نہیں کیا ۔ ( بخاری و مسلم، مشکوٰۃ ص ٢٨)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٢﴾ حضرت ابو ہریرہ ؓ میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک آگ جلائی، جب اس سے ماحول روشن ہوگیا تو یہ پروانے جو آگ میں آپڑا کرتے ہیں، اس میں آ آ کر گرنے لگے، یہ ان کی روکتا رہا، اور وہ اس کی نافرمانی کرکے آگ میں گرتے رہے،پس میں تمہارے پہلو پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ میں جانے سے روکتا ہوں اور تم اس میں گرتے چلے جا رہے ہو ۔(بخاری و مسلم ، مشکوٰۃ ص ٢٨)

Default Avatar75
17/09/2017

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١١﴾ حضرت ابو موسیٰ ؓ میری اور جس پیغام کو دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے قوم! میں نے تم پر حلمہ آور (ہونے والا)لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میں تمہیں ایک سخت مصیبت سے ڈرانے والا ہوں (اس لشکر کے مقابلے کے لیے)دوڑو!دوڑو!.... اس کی قوم کے کچھ لوگوں نے اس (ڈرانے والے کی) بات مانی اور منہ اندھیرے نکل چلے اور اطمینان سے چل کے نجات پاگئے اور کچھ لوگوں نے(اس ڈرانے والے کو) جھٹلایا اور اپنی جگہ بیٹھے رہے صبح ہوتے ہی غنیم نے انہیں ہلاک کر ڈالا اور ان کا بیج مار دیا، یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے میری بات مانی اور ان لوگوں کی جنہوں نے میرے لائے ہوئے پیغام کو جھٹلایا ۔( بخاری،مسلم، مشکوٰۃ ص ٢٨)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١٠﴾ حضرت جابر ؓ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ؐ کی سیرت ہے اور بد ترین امور بد عتیں ہیں ، اور ھر بدعت گمراہی ہے ۔(مسلم، مشکوٰۃ ص ٢٧)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٩﴾ حضرت ابو امامہ ؓ جب تمہیں اپنی نیکی اچھی لگنے لگے اور برائی بری محسوس ہو تو تم مومن ہو۔(احمد،مشکوٰۃ ص ١٦)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٨﴾ حضرت ابو ہریرہ ؓ وفضالہ ؓ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان ومال کا خوف نہ ہو، مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاطت کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو غلطیوں اور گناہوں کو چھوڑدے ۔(بیہقی و مشکوٰۃ ص ١٥)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٧﴾ حضرت ابو امامہ ؓ جو شخص اللہ ہی کے لیے (کسی دوسرے سے) محبت کرے، اللہ ہی کے لیے (اس کے دشمنوں سے) بغض رکھے، اللہ ہی کے لیے خرچ کرے اور اللہ کے لیے خرچ کو روکے تو اس کا ایمان مکمل ہے ۔(ابوداودو مشکوٰۃ ص ١٤)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٦﴾ حضرت عبادہ بن صامت ؓ مجھ سے اس بات پر بیعت (عہد) کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھیراو گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے،اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی پراپنی طرف سے بہتان نہیں لگاو گے،اور کسی نیکی کے معاملہ میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرو گے،تم میں سے جو شخص ان میں سے کسی کام میں مبتلا ہوگیا ہو اور اس کی وجہ سے اس کو دنیا میں سزا دیدی گئی تو یہ (سزا) اس کے لیے کفارہ ہو جائیگی، اور اگر کوئی شخص ان میں سے کسی کام میں مبتلا ہو گیا، پھر اللہ نے دنیا میں اس کی پردہ پوشی لکردی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے،اگر وہ چاہے درگزرکردے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے (بخاری و مسلم)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٥﴾ حضرت ابن عمر ؓ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، جب وہ یہ کام کرلیں گے تو میری طرف سے ان کا خون اور ان کا مال محفوظ ہوگا اور ان کی پوشیدہ نیتوں کا حساب اللہ کے پاس ہے‘‘ (بخاری)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

(٤) حضرت انس ؓ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی نظر میں اپنے والد سے ، اپنی اولاد سے اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں،(بخاری و مسلم)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٣﴾ حضرت عباسؓ وہ شخص ایمان کا مزہ چکھ لیگا جو اللہ کو پروردگار سمجھ کر، اسلام کو (اپنا) دین قراردے کر اور محمد ؐ کو رسول یقین کر کے راضی ہو گیا ہو (مسلم)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿٢﴾ حضرت انس ؓ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی پائی جائیں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کریگا، (١) ایک یہ کہ اس شخص کو اللہ اور اس کو رسول ؐ دوسری ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو۔ (٢) دوسری یہ کہ وہ کسی (اللہ کے) بندے سے محبت کرے اور محبت صرف اللہ کے لیے ہو۔ (٣) تیسرے یہ کہ اسے کفر سے نجات حاصل کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف لوٹنا ایسا برا لگتا ہو جیسے وہ آگ میں جھونکے جانے کو برا سمجھتا ہے (بخاری و مسلم)

Default Avatar75
26/05/2015

حضورﷺ نے فرمایا

﴿١﴾ حضرت ابن عمر ؓ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔(١) اس بات کی (صدق دل کے ساتھ) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور (٢) نماز قائم کرنا اور (٣) زکوۃ ادا کرنا اور (٤) حج کرنا اور (٥) رمضان کے روزے رکھنا (بخاری و مسلم)