fatawa-usmani-2

اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خرید و فروخت

سوال:۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ: آج کل شیئرز کی خرید و فروخت کثرت سے ہو رہی ہے، علمائے کرام کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ شیئرز کے قبضے میں آنے سے پہلے ان کو فروخت کرنا جائز نہیں، جبکہ اسٹاک ایکسچینج کی مروّجہ صورتِ حال کے پیشِ نظر شیئرز پر قبضہ کس طرح ممکن ہے؟ اور شیئرز پر قبضہ کب سمجھا جائے گا؟ اور کب شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہوگی اور کب جائز نہ ہوگی؟ براہِ کرم اس بارے میں شریعت کی روشنی میں تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں۔

سائل: عبداللہ، کورنگی

جواب:۔ الحمد ﷲ رب العالمین، والصلٰوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم، وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین، وعلیٰ کل من تبعھم باحسان الیٰ یوم الدِّین
آج کل کمپنیوں کے حصص کی بیع و شراء جن طریقوں سے ہوتی ہے، ان کی شرعی حیثیت کے بارے میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں، اور پوچھے بھی جاتے ہیں، ان کا شرعی حکم معلوم کرنے کے لئے اس طریقِ کار کی صحیح واقفیت ضروری ہے جو اس بیع و شراء میں اختیار کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت گفتگو ان کمپنیوں کے حصص کے بارے میں ہو رہی ہے، جن کا کاروبار شرعاً حلال ہے اور ان کے حصص کی خریداری حضرت حکیم الاُمت مولانا تھانوی قدس سرہٗ کے فتویٰ ’’القصص السنی فی حصص الکمبنی‘‘ کی رُو سے جائز ہے۔
یہ معلومات حاصل کرنے کے لئے دارالعلوم کراچی کے دار الافتاء سے اہلِ علم کی ایک جماعت نے کراچی کے اسٹاک ایکسچینج کا دورہ کیا، ایکسچینج کے ذمہ داروں سے عملی صورتِ حال معلوم کی، اور ان کے قواعد و ضوابط حاصل کرکے ان کا مطالعہ کیا۔ اس تحقیق کے نتیجے میں جو صورتِ حال واضح ہوئی وہ ذیل میں درج کی جارہی ہے۔
بنیادی طور پر قابلِ تحقیق اُمور مندجہ ذیل تھے:-
۱- ڈے ٹریڈنگ، یعنی ایک ہی دن میں حصص خرید کر اسی دن بیچ دینا۔
۲- مستقبل کے سودے (Forward) ۔
۳- بدلے کے معاملات۔
ڈے ٹریڈنگ
ڈے ٹریڈنگ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ایک ہی دن میں حصص خرید کر اسی دن کسی اور شخص کو وہ حصص بیچ دیتا ہے، یہ ڈے ٹریڈنگ فوری سودوں (Spot Transactions) میں بھی ہوتی ہے، اور مستقبل کے سودوں (Forward Trading) میں بھی۔ پہلے ہم فوری سودوں کی تحقیق کرتے ہیں۔
فوری سودے (Spot Trading)
فوری سودوں کا طریقِ کار یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کمپنی کے حصص خریدتا ہے تو اس خریداری کا اندراج فوری طور سے KAT میں ہوجاتا ہے، جو اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والے سودوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ ہوتا ہے، اور اسٹاک ایکسچینج ان سودوں میں فریقین کی ذمہ داریوں کی ضمانت دیتا ہے، اس سودے کو حاضر سودا بھی کہا جاتا ہے، فوری سودوں میں ہر سودے کے تین دن بعد خریدار کو طے شدہ قیمت ادا کرنی ہوتی ہے، اور بیچنے والے کو بیچے ہوئے حصص کی ڈیلیوری دینی ہوتی ہے۔ ڈیلیوری کا مطلب حصص کی بیع میں یہ ہوتا ہے کہ جس کمپنی کے حصص بیچے گئے ہیں اس کمپنی کے ریکارڈ میں سی ڈی سی کے ذریعے ان حصص کی منتقلی خریدار کے نام ہوجاتی ہے۔
فقہی نقطئہ نظر سے یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی چیز خریدے تو اس کےلئے شرعاً ضروری ہے کہ پہلے اس چیز پر قبضہ کرے، پھر اس کے لئے آگے فروخت کرنا جائز ہوتا ہے، قبضے سے پہلے بیع جائز نہیں۔ اب حصص کی خریداری میں صورتِ حال یہ ہے کہ ڈیلیوری، خریداری کے تین دن بعد ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ خریداری اور ڈیلیوری کے درمیان جو تین دن کی مدّت ہے، کیا خریدار کے لئے جائز ہے کہ اس درمیانی مدّت میں وہ اپنے خریدے ہوئے حصص کسی اور شخص کو فروخت کردے؟
اگر ڈیلیوری کو شرعی قبضہ قرار دیا جائے تو ڈیلیوری سے پہلے فروخت کرنا بیع قبل القبض قرار پائے گا، اور ناجائز ہوگا، لیکن دُوسرا اِحتمال یہ ہے کہ ’’ڈیلیوری‘‘ شرعی قبضے سے عبارت نہیں، بلکہ کمپنی میں حصص کے خریدار کے نام پر اِندراج کو ’’ڈیلیوری‘‘ کہا جاتا ہے، ورنہ جہاں تک خریدے ہوئے حصص کے جملہ منافع اور نقصانات کا تعلق ہے، وہ خریداری کے متصل بعد خریدار کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں، یعنی اگر خریداری اور ڈیلیوری کی درمیانی مدّت میں کمپنی کو کوئی نقصان ہوجائے تو وہ نقصان خریدار ہی برداشت کرتا ہے، اور اگر کمپنی کو نفع ہوجائے تو اس نفع کا فائدہ بھی خریدار ہی کو پہنچتا ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ حصص کی بیع کا مطلب کمپنی کے حصصِ مشاعہ کی بیع ہے، لہٰذا یہ ’’بیع المشاع‘‘ ہے اور مشاع میں ِحسی قبضہ ممکن نہیں ہوتا۔ دُوسری طرف بیع قبل القبض کی ممانعت کی علّت یہ ہے کہ جب تک مشتری مبیع پر قبضہ نہ کرے، یا کم از کم بائع تخلیہ نہ کرے، مبیع بائع ہی کے ضمان میں رہتی ہے، یعنی اگر اس دوران وہ ہلاک ہوجائے تو بیع فسخ ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر قبضہ کئے بغیر مشتری نے مبیع کسی اور کو فروخت کردی، بعد میں بائعِ اصلی ہی کے قبضے میں ہلاک ہوگئی تو پہلی بیع فسخ ہوجائے گی، تو اس کے نتیجے میں دُوسری بیع بھی فسخ ہوجائے گی، لہٰذا اس دُوسری بیع میں شروع ہی سے غرر ِ اِنفساخ پایا جاتا ہے۔
علامہ کاسانی رحمہ اللہ بیع قبل القبض کی ممانعت کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-
ولأنہ بیع فیہ غرر الانفساخ بھلاک المعقود علیہ، لأنہ اذا ھلک المعقود علیہ قبل القبض یبطل البیع الأوّل، فینفسخ الثانی۔
(بدائع الصنائع ج:۴ ص:۳۹۴، مؤسسۃ التاریخ العربی)(۱)
بیع قبل القبض کی ممانعت کی اس سے زیادہ واضح علّت یہ ہے کہ اس سے ربح مالمیضمن لازم آتا ہے، کیونکہ قبضے سے پہلے مبیع کا ضمان مشتری کی طرف منتقل نہیں ہوتا، اب اگر وہ اسے آگے فروخت کرے اور اس میں نفع کمائے تو یہ ربح مالم یضمن ہوگا، جس کی ممانعت مندرجہ ذیل حدیث میں آئی ہے:-
لا یحل سلف وبیع ولا شرطان فی بیع، ولا ربح مالم تضمن۔
(سنن أبی داؤد ج:۳ ص:۲۸۳، کتاب البیوع، باب فی الرجل یبیع ما لیس عندہ)(۲)
جامع ترمذی میں یہ حدیث ان الفاظ سے مروی ہے:-
لا یحلّ سلف وبیع ولا شرطان فی بیع ولا ربح ما لم یضمن۔
(جامع الترمذی ج:۳ ص:۵۳۵، باب ما جاء فی کراھیۃ بیع ما لیس عندہٗ)(۳)
اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے مُلَّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:-
یرید بہ الربح الحاصل من بیع ما اشتراہ قبل أن یقبضہ وینتقل من ضمان البائع الیٰ ضمانہ، فان بیعہ فاسد، فی شرح السُّنّۃ: قیل: معناہ ان الربح فی کل شیء انما یحل ان لو کان الخسران علیہ، فان لم یکن الخسران علیہ کالبیع قبل القبض اذا تلف فان ضمانہ علی البائع۔
(مرقاۃ المفاتیح ج:۶ ص:۸۹)(۴)
اور علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:-
وربح ما لم یضمن، یرید بہ الحاصل من بیع ما اشتراہ قبل أن یقبضہ وینتقل من ضمان البائع الیٰ ضمانہ، فان بیعہ فاسد۔ (شرح الطیبی ج:۶ ص:۸۲)(۵)
علامہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:-
(وربح مالم یضمن) ھو ربح مبیع اشتراہ فباعہ قبل أن ینتقل من ضمان البائع الأوّل الیٰ ضمانہ بالقبض۔
(حاشیۃ السندی علی المجتبی للنسائی ج:۷ ص:۲۹۵)(۶)
اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں:-
ولا ربح مالم تضمن، أی لا یحل ربح شیئٍ لم یدخل فی ضمانہ وھو ربح مبیع اشتراہ فباعہ قبل أن ینتقل عن ضمان البائع الأوّل الیٰ ضمانہ بالقبض۔
(بذل المجھود ج:۱۵ ص:۱۸۰، کتاب البیوع، باب فی الرجل یبیع ما لیس عندہ)(۷)
حاصل یہ ہے کہ کسی چیز کی بیع قبل القبض اس لئے ناجائز ہوتی ہے کہ قبضے کے بغیر اس کا ضمان مشتری کی طرف منتقل نہیں ہوتا، لہٰذا اگر وہ نفع پر آگے بیچنا چاہتا ہے تو یہ ربح مالم یضمن میں داخل ہے، نیز جیسا کہ صاحبِ بدائع نے فرمایا، قبضے سے پہلے اگر مبیع ہلاک ہوجائے تو بائع کے ضمان میں ہونے کی بناء پر بیع فسخ ہوجائے گی، اور اس کے نتیجے میں اگلی بیع بھی فسخ ہوگی، لہٰذا اگلی بیع میں شروع ہی سے غررِ اِنفساخ پایا جاتا ہے۔
لیکن اگر ضمان حسّی اور حقیقی قبضے کے بغیر تخلیہ کے ذریعے مشتری کی طرف منتقل ہوجائے تو پھر چونکہ نہ ربح مالم یضمن کا اندیشہ ہے، نہ غررِ اِنفساخ کا، اس لئے مشتری کے لئے اسے آگے بیچنا جائز ہے، اسی لئے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تخلیہ کو قبضہ کے قائم مقام قرار دیا ہے، فتاویٰ عالمگیری میں ہے:-
وأجمعوا علیٰ أن التخلیۃ فی البیع الجائز تکون قبضًا، وفی البیع الفاسد روایتان والصحیح انھا قبض ۔۔۔۔ رجل باع خلًّا فی دنّ فی بیتہ فخلّی بینہ وبین المشتری فختم المشتری علی الدنّ وترکہ فی بیت البائع فھلک بعد ذٰلک فانہ یھلک من مال المشتری فی قول محمد، وعلیہ الفتویٰ۔
(فتاویٰ عالمگیریۃ ج:۳ ص:۱۶، کتاب البیوع، باب:۴ فصل:۲)(۸)
اب دیکھنا یہ ہے کہ مُشاع کی بیع میں قبضہ کیسے متحقق ہوتا ہے؟ اس کے جواب میں بھی فقہائے کرام نے یہی فرمایا ہے کہ مشاع کی بیع میں تسلیم اور قبض کا تحقق تخلیہ ہی سے ہوتا ہے۔ علامہ سرخسی رحمہ اللہ اجارۃ المشاع (جو اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں) اور بیع المشاع کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:-
وھٰذا بخلاف البیع، لأن التسلیم ھناک بالتخلیۃ یتم وذٰلک فی الجزء الشائع یتم۔ (مبسوط السرخسی ج:۱۵ ص:۱۴۶، کتاب الاجارۃ)(۹)
صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ نے بھی اس فرق کو اس طرح بیان فرمایا ہے:-
ولأبی حنیفۃ أنہ آجر ما لا یقدر علیٰ تسلیمہ فلا یجوز، وھٰذا لأن تسلیم المشاع وحدہ لا یتصور، والتخلیۃ اعتبرت تسلیمًا لوقوعہ تمکینًا، وھو الفعل الذی یحصل بہ التمکن، ولا تمکن فی المشاع، بخلاف البیع لحصول التمکن فیہ۔(۱۰)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اجارہ میں چونکہ مقصود صرف اِنتفاع ہوتا ہے، مِلک نہیں، اور حصۂ مشاعہ میں تمکین اِنتفاع نہیں ہوسکتی، اس لئے اس میں تخلیہ متصوّر نہیں ہے، اس کے برخلاف بیع میں مقصود مِلک ہوتی ہے، لہٰذا تخلیہ کے ذریعے اس میں تمکین ہوسکتی ہے، چنانچہ صاحبِ عنایہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:-
بخلاف البیع فان المقصود بہ لیس الانتفاع، بل الرقبۃ، ولھٰذا جاز بیع الجحش فکان التمکن بالتخلیۃ فیہ حاصلًا۔(۱۱)
اور صاحبِ کفایہ اس کو مزید واضح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:-
ان التخلیۃ اعتبرت تسلیمًا اذا کان تمکینًا من الانتفاع، وانما یکون تمکینًا اذا حصل بھا التمکن، والتمکن لا یحصل بہ فلم یعتبر فعلہٗ تمکینًا بخلاف البیع، لحصول التمکن ثمۃ من البیع والاعتاق وغیر ذٰلک۔
(فتح القدیر مع العنایۃ والکفایۃ ج:۸ ص:۴۱ و ۴۲ باب الاجارۃ الفاسدۃ)(۱۲)
صاحبِ کفایہ کی خط کشیدہ عبارت سے یہ بات واضح ہے کہ مشاع میں ِحسی قبضے کے بغیر تخلیہ قبضے کے قائم مقام ہوجاتا ہے اور مشتری کے لئے اس میں ملک کے تصرفات کرنا جائز ہوجاتا ہے، جن میں اسے آگے فروخت کرنا بھی شامل ہے۔
علامہ طوری رحمہ اللہ نے بھی تکملہ البحر الرائق میں فرق کی وضاحت صاحبِ ہدایہ اور صاحبِ عنایہ کے بیان کے مطابق کی ہے۔ (تکملۃ البحر ج:۸ ص:۳۶، باب الاجارۃ الفاسدۃ)(۱۳)
ان تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مشاع کی بیع میں حسی قبضہ تو ممکن نہیں ہوتا، لیکن تخلیہ اور تمکین سے قبضے کا مقصود حاصل ہوجاتا ہے، اور مشتری کے لئے اس تخلیہ یا تمکین کے بعد اسی مُشاع کو آگے فروخت کرنا بھی جائز ہوجاتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حصص کی بیع میں بائع کی طرف سے تمکین اور تخلیہ کا تحقق ہوجاتا ہے یا نہیں؟
اگرچہ اسٹاک ایکسچینج کے ذمہ دار اور اس میں کام کرنے والے اس بات پر متفق نظر آئے کہ سودا ہوتے ہی بیچے ہوئے شیئرز کے حقوق اور ذمہ داریاں خریدار کی طرف منتقل ہوجاتی ہیں، گویا شیئرز خریدار کے ضمان میں آجاتے ہیں (اور اس لحاظ سے اگر خریدار انہیں آگے بیچے تو ’’ربح مالم یضمن‘‘ لازم نہیں آتا) لیکن اسٹاک ایکسچینج کے قواعد و ضوابط کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قبضۂ شرعی کا تحقق ڈیلیوری سے پہلے نہیں ہوتا، جس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:-
۱- یہ بات فقہِ اسلامی میں طے شدہ ہے کہ ’’قبض کل شیء بحسبہ‘‘(۱۴) یعنی ہر چیز کا قبضہ اس شیٔ کی نوعیت کے لحاظ سے عرفاً مختلف ہوتا ہے، شیئرز کے بارے میں عرفِ عام یہی ہے کہ سودے کے وقت محض اسٹاک ایکسچینج کے فوری اندراج کو قبضہ نہیں کہا جاتا، بلکہ کہا جاتا ہے کہ ’’ڈیلیوری‘‘ تین دن بعد ہوگی، ڈیلیوری کے معنی ہی قبضہ دینے کے ہیں، لہٰذا عرف نے اسی کو قبضہ قرار دیا ہے۔
۲- اسٹاک ایکسچینج میں ’’بیع مالا یملک الانسان‘‘ (Short Sale) کا رواج عام ہے، جب ہم نے اسٹاک ایکسچینج کا دورہ کیا، اس وقت ہمیں یہ بتایا گیا کہ حاضر سودوں یعنی فوری سودوں میں شارٹ سیل ممنوع کردی گئی ہے، لیکن قواعد و ضوابط سے پتہ چلتا ہے اور بعد میں اسٹاک ایکسچینج کے صدر صاحب نے بھی اس کی تصدیق کی کہ جو چیز منع کی گئی ہے وہ بلینک سیل (Blank Sale) ہے، یعنی ایسی بیع جس میں بائع کے پاس نہ تو ملکیت میں ہوں، اور نہ اس نے شیئرز کی خریداری کے لئے کسی سے قرض کا معاہدہ کر رکھا ہو، لیکن حاضر سودوں میں شارٹ سیل کی اس شرط کے ساتھ اجازت دے دی گئی ہے کہ بیچنے والا خریدار کو بتادے کہ وہ شارٹ سیل کر رہا ہے اور یہ کہ اس نے وقت پر شیئرز کی ڈیلیوری کے لئے کسی سے قرض لینے کا انتظام کر رکھا ہے۔(۱۵) اس سے معلوم ہوا کہ حاضر سودوں میں شارٹ سیل کا امکان موجود ہے، اور اگر بالفرض قواعد کے لحاظ سے شارٹ سیل منع بھی ہو تو اس بات کی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ اس قاعدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔
اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص شارٹ سیل کر رہا ہے، یعنی شیئرز اس کی ملکیت میں نہیں ہیں، پھر بھی بیچ رہا ہے تو نہ صرف یہ کہ ’’بیع مالا یملک‘‘ ہونے کی بناء پر یہ بیع شرعاً باطل ہے، بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ سودا ہوتے ہی شیئرز کے حقوق و التزامات خریدار کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں یا خریدار کے ضمان (Risk) میں آجاتے ہیں، وہ یہ بات شرعی مفہوم میں نہیں کہتے، کیونکہ یہ بات وہ شارٹ سیل کی صورت میں بھی کہتے ہیں، حالانکہ شرعی مفہوم میں شارٹ سیل کی صورت میں ضمان منتقل ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب شیئرز بائع ہی کی ملکیت میں نہیں ہیں تو وہ خریدار کو تمکین یا تخلیہ کیسے کرسکتا ہے؟ اور اس سے شرعی مفہوم میں ضمان کیسے منتقل ہوسکتا ہے؟
۳- کراچی اسٹاک ایکسچینج کی طرف سے ہمیں جو قواعد و ضوابط فراہم کئے گئے، ان میں حاضر سودوں کے قواعد و ضوابط (Rules For Ready Delivery Contracts) کی پہلی دفعہ میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام حاضر سودوں کا تصفیہ آئندہ ہفتے میں پیر کے دن ہونا ضروری ہے، یعنی پیر کے دن بائع شیئرز کی ڈیلیوری دے گا، اور خریدار اس کی قیمت بائع کو اَدا کرے گا، لیکن اسی دفعہ کی شق بی میں یہ صراحت ہے کہ اگر بائع نے مقرّرہ وقت تک ڈیلیوری نہ دی تو خریدار کو حق ہوگا کہ کسی کمپنی کے جتنے شیئرز اس نے بائع سے خریدے تھے، وہ بازار سے خرید لے (جس کو اسٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں "Buy In” کہا جاتا ہے) اور شق سی میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورت میں اگر خریدار کو بازار سے خریداری کرنے میں کوئی نقصان ہو (مثلاً وہ شیئرز بازار سے زیادہ قیمت میں ملیں) تو بائع کا فرض ہوگا کہ وہ خریدار کے نقصان (Damages) کی تلافی کرے۔
یہ قاعدہ واضح طور پر اس بات کا اعتراف ہے کہ سودے کے وقت قبضہ نہیں ہوا تھا، کیونکہ بائع کی طرف سے ڈیلیوری نہ دینا، دو ہی صورتوں میں ممکن ہے، یا تو بائع نے شارٹ سیل کی تھی، یعنی شیئرز کے ملکیت میں ہونے کے بغیر فروخت کردئیے تھے، اس صورت کا بطلان اُوپر نمبر۲ میں گزر چکا ہے، یا پھر اس نے شارٹ سیل نہ کی تھی، مگر خریدار سے سودا کرنے کے بعد اس کی رائے بدل گئی اور اس نے وہ خود رکھنے یا کسی اور کو بیچ دینے کا فیصلہ کرلیا، جب اس کے لئے رائے بدل کر شیئرز کو خود رکھ لینا یا کسی اور کو بیچنا ممکن ہے تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ سودے کے وقت اس نے خریدار کو تمکین کردی ہے یا اس کے حق میں تخلیہ کردیا ہے؟ نیز اس صورت میں اسٹاک ایکسچینج کے قواعد یہ نہیں کہتے کہ جو شیئرز فروخت کئے گئے تھے بائع کو ان کی ڈیلیوری دینے پر مجبور کیا جائے، بلکہ خریدار کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ بائع کو ڈیلیوری پر مجبور کرنے کے بجائے بازار سے اسی کمپنی کے اسی مقدار میں دُوسرے شیئرز خرید لے، اور اس خریداری میں اسے کوئی نقصان ہو تو بائع کو اس کی تلافی پر مجبور کرے، جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلی بیع یک طرفہ طور پر فسخ کرے، اور کسی تیسرے شخص سے نئی بیع کرے۔
۴- اسٹاک ایکسچینج کے حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ حاضر سودوں کے علاوہ فارورڈ سودوں میں بھی حقوق و التزامات فوراً منتقل ہوجاتے ہیں، صرف کمپنی کے ریکارڈ میں نام کی منتقلی حاضر سودوں کے مقابلے میں زیادہ تأخیر سے ہوتی ہے، حالانکہ فارورڈ سودوں میں شارٹ سیل کا رواج حاضر سودوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، اس سے پتہ چلا کہ یہ حضرات حقوق و التزامات کی جس منتقلی کا ذکر کر رہے ہیں وہ شرعی مفہوم میں ضمان کی منتقلی نہیں ہے۔ اور اس سارے مجموعے سے جو بات واضح ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ جس چیز کو اسٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں حاضر سودا کہا جارہا ہے، اس میں سودے کے وقت شرعی مفہوم میں قبضہ متحقق نہیں ہوتا، اور جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ سودا ہوتے ہی تمام حقوق و التزامات خریدار کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں، وہ اس معنی میں کہتے ہیں کہ اسٹاک ایکسچینج معاملے کو اِنتہاء تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے، اور شیئرز کی قیمت بڑھے یا گھٹے، بائع اسی قیمت پر شیئرز کی ڈیلیوری کرنے کا، اور خریدار وہی قیمت ادا کرنے کا پابند ہے، اور اگر کوئی فریق اپنی یہ ذمہ داری پوری نہ کرے اور خریدار کی عدم ادائیگی کی صورت میں بائع کو بازار میں شیئرز فروخت کرنے (Sale Out)میں اور بائع کے قبضہ نہ دینے کی صورت میں خریدار کو بازار سے شیئرز خریدنے میں جو نقصان ہو، دُوسرا فریق اس کی تلافی کا ذمہ دار ہے۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں شرعی حکم یہ ہے کہ شیئرز کے خریدار کے لئے اس وقت تک شیئرز کو آگے بیچنا جائز نہیں ہے جب تک کہ ڈیلیوری نہ مل جائے۔ اگر بیچنے والے نے شارٹ سیل کی ہے یعنی شیئرز ملک میں لائے بغیر فروخت کئے ہیں تو یہ بیع ہی باطل ہے، اور اگر شیئرز بائع کی ملک میں تھے، اور عقدِ بیع کے ارکان متحقق ہوگئے ہیں تو یہ بیع دُرست ہے، اسے بیع الکالیٔ بالکالیٔ(۱۶) اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ کمپنی کے شیئرز بائع کی ملکیت میں ہیں اور بیع حال ہے، اور تأخیرِ تسلیم محض رسمی اجراآت کی وجہ سے ہے، یا حبس المبیع لاستیفاء الثمن(۱۷) ہے، اور مبیع عین ہے دَین نہیں، لیکن خریدار کے لئے آگے بیع کرنا اسی وقت جائز ہوگا جب اسے باقاعدہ ڈیلیوری مل جائے، لہٰذا اس وقت جس طرح ڈے ٹریڈنگ ہو رہی ہے (جس میں ڈیلیوری سے پہلے شیئرز آگے بیچ دئیے جاتے ہیں) وہ شرعاً جائز نہیں ہے۔
مستقبل کے سودے (Futures)
مذکورہ بالا تفصیل حاضر سودوں کے بارے میں تھی، جنھیں "Spot Sales” یا "Ready Contracts” کہا جاتا ہے۔ جب حاضر سودوں میں صورتِ حال یہ ہے تو مستقبل کے سودوں میں جنھیں Forward یا Future کہا جاتا ہے۔ بطریقِ اَوْلیٰ یہ حکم ہوگا کہ ڈیلیوری کے بغیر شیئرز کو آگے بیچنا جائز نہیں، اس لئے کہ ان سودوں میں شارٹ سیل کا رواج حاضر سودوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، اور شارٹ سیل پر جو پابندیاں حاضر سودوں میں ہوتی ہیں، مستقبل کے سودوں میں اتنی پابندیاں نہیں ہیں۔
اسٹاک ایکسچینج کے دورے کے دوران ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ حاضر سودوں اور مستقبل کے سودوں میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ حاضر سودوں میں ڈیلیوری جلدی ہوجاتی ہے، اور مستقبل کے سودوں میں دیر سے ہوتی ہے، لیکن خریدے ہوئے شیئرز کے حقوق و التزامات فوراً منتقل ہوجاتے ہیں، لیکن ان حضرات کا یہ بیان اس بات کی دلیل ہے کہ حقوق و التزامات کی منتقلی کا لفظ وہ شرعی مفہوم میں استعمال نہیں کر رہے، بلکہ اس معنی میں استعمال کر رہے ہیں کہ شیئرز کی قیمت ڈیلیوری سے پہلے بڑھے یا گھٹے، ہر صورت میں بائع طے شدہ قیمت پر ڈیلیوری دینے اور خریدار طے شدہ قیمت ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر مستقبل کے سودوں (Forward Sale) یا Future Sale کا حکم یہ ہے کہ:-
۱- اگر بیچنے والے کی ملکیت میں شیئرز نہیں ہیں اور وہ شارٹ سیل یا بلینک سیل کر رہا ہے تو یہ بیع مالا یملک ہونے کی وجہ سے ناجائز اور باطل ہے۔
۲- اگر بیچنے والے کی ملکیت میں شیئرز ہیں اور وہ ان کی ڈیلیوری بھی لے چکا ہے، اور آئندہ کی تاریخ کے لئے آج ہی ایجاب و قبول کے ذریعے بیع کی تکمیل کر رہا ہے، جسے (Forward Sale) کہا جاتا ہے، یعنی بیع آج ہی مکمل ہوگئی ہے، لیکن وہ بیع آئندہ تاریخ کے لئے ہے، تو یہ بیع مضاف الی المستقبل ہونے کی بناء پر ناجائز ہے۔
۳- اگر بیچنے والے کی ملکیت اور قبضے میں شیئرز ہیں (یعنی وہ ان کی ڈیلیوری لے چکا ہے) اور بیع آئندہ تاریخ کے لئے نہیں، بلکہ آج ہی کی تاریخ کے لئے ہوئی ہے، البتہ قیمت اُدھار رکھی گئی ہے کہ خریدار قیمت آئندہ کسی تاریخ پر اَدا کرے گا، تو اس صورت میں شیئرز کی ڈیلیوری خریدار کو دینی ہوگی، اور قیمت کی وصولی کے لئے ڈیلیوری دئیے بغیر شیئرز اپنے قبضے میں رکھنا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ یہ بیع مؤجل ہے، اور بیع مؤجل میں حبس المبیع لاستیفاء الثمن جائز نہیں ہے۔
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:-
قال أصحابنا رحمھم اﷲ تعالیٰ: للبائع حق حبس المبیع لاستیفاء الثمن اذا کان حالًا کذا فی المحیط، وان کان مؤجّلًا فلیس للبائع أن یحبس المبیع قبل حلول الأجل ولا بعدہ، کذا فی المبسوط۔
(فتاویٰ عالگمیریۃ ج:۳ ص:۱۵، باب:۴ من کتاب البیوع)(۱۸)
۴- اگر بیچنے والے کی ملکیت اور قبضے میں شیئرز ہیں، اور وہ آج کی تاریخ ہی کے لئے خریدار کو بیچ رہا ہے، اور ان کی ڈیلیوری بھی خریدار کو دیتا ہے، لیکن قیمت، آئندہ تاریخ کے لئے اُدھار رکھی گئی ہے اور خریدار کو ڈیلیوری دینے کے بعد پھر وہی شیئرز (جو خریدار کے نام منتقل ہوچکے ہیں) اپنے پاس گروی رکھ لیتا ہے تو یہ صورت جائز ہے۔
علامہ حصکفی رحمہ اللہ، الدر المختار میں فرماتے ہیں:-
ولو کان ذٰلک الشیء الذی قال لہ المشتری: أمسکہ، ھو المبیع الذی اشتراہ بعینہ لو بعد قبضہ، لأنہ حینئذ یصلح أن یکون رھنًا بثمنہ، ولو قبلہ لا یکون رھنًا، لأنہ محبوس بالثمن۔(۱۹)
علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ اس کے تحت فرماتے ہیں:-
قولہ: لأنہ حیئنذ یصلح ۔۔۔ الخ أی لتعیین ملکہ فیہ، حتّی لو ھلک یھلک علی المشتری، ولا ینفسخ العقد ط قولہ ’’لأنہ محبوس بالثمن‘‘ أی وضمانہ یخالف ضمان الرھن، فلا یکون مضمونًا بضمانین مختلفین ۔۔۔۔ الخ۔ (ردّ المحتار، کتاب الرھن ج:۶ ص:۴۹۷)(۲۰)
صورت نمبر۳ اور صورت نمبر۴ کا فرق بھی علامہ ابنِ عابدین رحمہ اللہ کی اس عبارت میں موجود ہے، اس کی مزید وضاحت بندہ کی کتاب ’’بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ‘‘ (ص:۱۶ تا ۱۸، طبع دارالقلم دمشق) میں دیکھی جاسکتی ہے۔
۵- پانچویں صورت یہ ممکن ہے کہ بیچنے والے کی ملک اور قبضے میں شیئرز ہیں، اور وہ بیع ابھی نہیں کرتا، بلکہ ایک خاص قیمت پر آئندہ بیچنے کا وعدہ کرتا ہے، اور خریدار آئندہ اس قیمت پر خریدنے کا صرف وعدہ کرتا ہے، بیع ابھی مکمل نہیں ہوتی، علمائے معاصرین کی ایک بڑی جماعت (جس میں مجمع الفقہ الاسلامی جدۃ بھی داخل ہے) دو طرفہ وعد ملزم کو بھی عقد کے حکم میں قرار دے کر اسے ناجائز قرار دیتی ہے، اور جن فقہاء نے بعض معاملات (مثلا بیع بالوفاء) میں وعد ملزم کو جائز قرار دیا ہے، وہ بھی اسے حاجتِ عامہ سے مشروط مانتے ہیں، چنانچہ فتاویٰ قاضی خان میں ہے:-
لأن المواعدۃ قد تکون لازمۃ فتجعل لازمۃ لحاجۃ الناس۔
(الفتاویٰ الخانیۃ ج:۲ ص:۱۶۵)(۲۱)
مذکورہ صورت میں کوئی ایسی حاجت نظرنہیں آتی جس کی وجہ سے کوئی حرجِ عام لازم آئے، بلکہ اسٹاک ایکسچینج میں سٹہ بازی کے رُجحان کو روکنے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ’’وعدہ‘‘ غیرملزم ہی رہے،(۲۲) لہٰذا اگر دونوں فریق وعد غیرملزم (Non-Binding Promise) کرلیں تو یہ جائز ہے، اس صورت میں اگر کوئی فریق وعدے کو پورا نہ کرے تو وہ دیانۃً تو گناہگار ہوگا، لیکن قضائً اسے مجبور نہ کیا جاسکے گا۔
بدلہ کے معاملات
اسٹاک ایکسچینج میں بدلہ کے معاملات اس طرح ہوتے ہیں کہ بعض اوقات ایک شخص بہت سے حصص خرید لیتا ہے، مگر قیمت ادا کرنے کے لئے اس کے پاس رقم نہیں ہوتی، ایسی صورت میں وہ خریدے ہوئے حصص کسی تیسرے شخص کو اس شرط کے ساتھ بیچ دیتا ہے کہ وہ ایک طے شدہ مدّت کے بعد خریدار سے وہی حصص زیادہ قیمت پر خرید لے گا، مثلاً الف نے ب سے یکم اپریل کو ایک لاکھ روپے کے دس ہزار حصص خریدے، لیکن اس کے پاس ایک لاکھ روپے نہیں ہیں، لہٰذا وہ یہ دس ہزار حصص ج کو اس شرط کے ساتھ بیچتا ہے کہ ۱۳؍اپریل کو وہ یہی حصص ایک لاکھ دو ہزار روپے میں واپس خرید لے گا۔
اس طریقِ کار میں شرعی اعتبار سے دو خرابیاں ہیں، ایک یہ کہ عموماً بدلے کا یہ معاملہ ڈیلیوری سے پہلے کیا جاتا ہے، جس کے بارے میں پیچھے بیان کیا جاچکا ہے کہ وہ بیع قبل القبض ہونے کی بناء پر ناجائز ہے۔ دُوسرے ج کو جو شیئرز بیچے جارہے ہیں وہ زیادہ قیمت پر واپس خریدنے کی شرط کے ساتھ بیچے جارہے ہیں، یہ شرط فاسد ہے، جو بیع کو فاسد کردیتی ہے، اور درحقیقت اس کا مقصد ایک لاکھ روپے لے کر ایک لاکھ دو ہزار روپے واپس کرنا ہے جو سود کی ایک شکل ہے، جس کے لئے اس بیع فاسد کو بہانہ بنایا گیا ہے، اس لئے بدلہ کے یہ معاملات بھی شرعاً ناجائز ہیں۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہٗ اَتم واَحکم
الجواب صحیح
بندہ محمد تقی عثمانی عفی عنہ
محمد رفیع عثمانی عفا اللہ عنہ
۲۱؍صفر ۱۴۲۶ھ-۲؍اپریل ۲۰۰۵ء
۲۶؍۵؍۱۴۲۶ھ
(فتویٰ نمبر ۸۰۳/۴۷)
نوٹ:- دار الافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی مجلس تحقیق مسائلِ حاضرہ کا اجلاس بروز پیر بتاریخ ۲۶؍جمادی الاولیٰ ۱۴۲۶ھ مطابق ۴؍جولائی ۲۰۰۵ء منعقد ہوا، جس میں درج بالا تحریر لفظاً لفظاً پڑھی گئی اور مناقشہ کے بعد سب اہلِ مجلس نے اس سے اتفاق کیا۔ اس مجلس میں درج ذیل حضرات نے شرکت فرمائی:-
حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مدظلہم (نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی)
حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب مدظلہم (نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی)
حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ صاحب مدظلہم (اُستاذِ حدیث جامعہ دارالعلوم کراچی)
مفتی محمد عبدالمنان صاحب مدظلہم (نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی)
مفتی اصغر علی ربانی صاحب مدظلہم (رفیق دار الافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا عصمت اللہ صاحب مدظلہ (رفیق دار الافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا محفوظ احمد صاحب مدظلہ (اُستاذ جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا زبیر اشرف عثمانی صاحب مدظلہ (اُستاذ جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا محمد عمران اشرف عثمانی صاحب مدظلہ (اُستاذ جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا محمد یعقوب صاحب مدظلہ (رفیق دار الافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا محمد افتخار بیگ صاحب مدظلہ (رفیق دار الافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا خلیل احمد اعظمی صاحب مدظلہ (اُستاذ جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا احسان کلیم صاحب مدظلہ (اُستاذ جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا محمد زبیر حق نواز صاحب مدظلہ (رفیق دار الافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی)
مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب مدظلہ (اُستاذ جامعہ دارالعلوم کراچی)

______________________________
(۱) ج:۵ ص:۱۸۰ (طبع سعید)۔
(۲) سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۱۳۹ (طبع مکتبہ رحمانیہ)۔
(۳) ابواب البیوع، ج:۱ ص:۲۳۳ (طبع سعید)۔
(۴) ج:۶ ص:۸۲ (طبع مکتبہ امدادیہ ملتان)۔
(۵) (طبع ادارۃ القرآن کراچی)۔
(۶) ج:۲ ص:۲۲۶ (طبع مکتبۃ الحسن)۔
(۷) کتاب الإجارۃ ج:۴ ص:۲۸۷ و ۲۸۸ (طبع معھد الخلیل الإسلامی)۔
(۸) طبع رشیدیہ کوئٹہ۔
(۹) باب اجارۃ الدّور والبیوت ج:۱۵ ص:۱۶۳ (طبع غفاریہ کوئٹہ)۔
(۱۰) ھدایۃ کتاب الأجارات ج:۳ ص:۳۰۶ (طبع مکتبہ رحمانیہ) یہاں یہ بات واضح رہے کہ ہدایہ کے مذکورہ نسخے میں ’’انہ آجر ما یقدر علٰی تسلیمہ‘‘ کے الفاظ ہیں، بظاہر وہ کتابت کی غلطی ہے کیونکہ ایسی صورت میں یہ اِمام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل نہیں بن سکتی۔ صحیح الفاظ وہی ہیں جو حضرتِ والا دامت برکاتہم نے اُوپر ذِکر فرمائے ہیں یعنی ’’انّہ آجر مالا یقدر علیٰ تسلیمہ‘‘ اور فتح القدیر ج:۸ ص:۴۱ (طبع رشیدیہ کوئٹہ) اور مکتبہ شرکت علمیہ ملتان کے طبع شدہ نسخۂ ہدایہ ج:۳ ص:۳۰۳ اور مکتبۃ البشریٰ کراچی کے طبع شدہ ہدایہ (ج:۶ ص:۲۹۸) کے نسخے میں بھی اسی طرح ہے۔
(۱۱) عنایۃ علٰی فتح القدیر ج:۸ ص:۴۱ (طبع رشیدیہ)۔
(۱۲) طبع رشیدیہ۔
(۱۳) ج:۸ ص:۲۱ (طبع سعید)۔
(۱۴) کما فی البحر الرّائق ج:۵ ص:۲۴۸ (طبع سعید) قبض کل شیئٍ وتسلیمہ یکون بحسب ما یلیق بہٖ۔ وفیہ بعد أسطر: قبض کل شیء یکون بما یلیق بہٖ۔
(۱۵) Regulations For Short Selling Under Ready Market, 2002, Clause.
(۱۶) مستدرک حاکم ج:۲ ص:۶۵ و۶۶ (طبع دار الکتب العلمیہ بیروت)۔
(۱۷) فی الھدایۃ ج:۳ ص:۴۸ (طبع مکتبہ رحمانیہ) ۔۔۔۔۔۔ فصار کحبس المبیع لمّا تعلّق زوالہ باستیفاء الثمن لا یزول دون قبض جمیعہٖ۔
(۱۸) (طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
(۱۹) الدر المختار ج:۶ ص:۴۹۷ (طبع سعید)۔
(۲۰) (طبع سعید)۔
(۲۱) (طبع رشیدیہ)۔
(۲۲) موجودہ قانون اور طریقِ کار میں یہ وعدہ ملزم ہوتا ہے، لہٰذا یہ صورت ناجائز ہے۔ (حاشیہ از حضرتِ والا دامت برکاتہم)۔