یادیں (چھبیسویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(چھبیسویں قسط )

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو یادداشت حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سعودی علماء کو پیش کی تھی، وہ یہاں نقل کردی جائے، کیونکہ اس نے سعودی عرب کے حالات پر مثبت اثرات ڈالے ہیں۔اصل یادداشت تو عربی زبان میں ہے، اور حضرت والد صاحبؒ کے عربی مکاتیب میں شائع ہورہی ہے۔لیکن اس یادداشت کاجو اردو ترجمہ میرے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب مد ظلہم نے کیاتھا وہ درج ذیل ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مکرمی جناب مفتی ٔ اکبر شیخ محمد بن ابراہیم و علمائے کرام حفظہم اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے میں اُس ذات باری تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اُس نے مجھے بے شمار انعامات سے نوازا، اپنی بارگاہ میں حاضری کی توفیق بخشی، اور پھر آپ جیسے علمائے کرام کے ساتھ اجتماعات کا موقع عنایت فرمایا جنہوں نے اپنا شاندار ماضی دینی خدمات اور اسلام کے تحفظ کے لئے صرف کیا ہے اور جو اللہ کے مقدس ترین شہر میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے منصب جلیل پر فائز ہیں ۔
آپ حضرات کی سابقہ اور موجودہ دینی خدمات کا احساس و اعتراف مجھے مجبور کر رہا ہے کہ میں آپ سے وہ سب باتیں کہہ ڈالوں جو اس مقدس سرزمین کے بارے میں میں کہنا چاہتا ہوں ۔
جو شخص بھی مسلمانوں کے موجودہ حالات سے با خبر ہے ،اس پر الحاد ، دین سے تمسخر اور مذہب سے عام بیزاری کی وہ وباء مخفی نہیں رہ سکتی جو آج عالمِ اسلام کے نوجوانوں اور نونہالوں میں سرایت کر چکی ہے ۔حتیٰ کہ دین سے بیزاری اور الحاد کے یہ امراض مصر کے جامعۃ الازہر میں بھی پھوٹ پڑے اور وہاں سے پھیل کر اب یہ حرمِ مکہ تک آن پہنچے ہیں ۔
کوئی بھی صاحبِ بصیرت اس میں شک نہیں کر سکتا کہ یہ وباء کسی اتفاقی حادثہ کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ سب کچھ دشمنانِ اسلام کی ایک سوچی سمجھی اسکیم کے ماتحت ہو رہا ہے اور اس اسکیم کو ایسے ادارے چلارہے ہیں جو اسلامی ممالک میں بھی قائم ہیں اور غیر مسلم ممالک میں بھی ۔
اب جبکہ یہ ہمہ گیر بیماری ہمارے ملک میں ، ہمارے نوجوانوں اور طلباء میں بھی پھیلی ہوئی ہے ہم حجازِ مقدس میں رہنے والے اپنے دوستوں اور علمائے کرام سے یہ پوچھنے کے لئے آئے ہیں کہ یہ نئی بُت پرستی جو اس وقت دنیا کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہے، اُمت کو اُس کے پنجوں سے چھڑانے کے لئے وہ کیا علاج تجویز فرماتے ہیں۔
کسی مسلمان کو اس میں بھی شک نہیں ہوسکتا کہ ملت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو جمع کرنا اور اس کو راہِ مستقیم پر گامزن کرنے کا کام سوائے اس کے ممکن نہیں کہ مسلمان پھر قرآنِ حکیم اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب لوٹ آئیں ۔
امامِ مالک ؒ کا ارشاد ہے کہ “اس امت کے آخری دور کی اصلاح بھی صرف اُسی طریقہ سے ہوسکے گی جس سے اس کے ابتدائی دور کی اصلاح ہوئی تھی “۔
لیکن آج ہماری آنکھیں یہ منظر دیکھ رہی ہیں کہ نوجوان طبقہ قرآن و سنت سے روز بروز تیزی کے ساتھ برگشتہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ اسلام سے یہ بیزاری کہیں بہت زیادہ ہے اور کہیں کم۔ ہماری رائے میں اس کا سبب صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے اور علمائے اسلام کا بھی کوئی متحدہ پلیٹ فارم باقی نہیں رہا ۔ حالانکہ اس وقت کفر واسلام کے درمیان ایک ایسی جنگ چھڑی ہوئی ہے جو کسی خاص ملک یا طبقے کیساتھ مخصوص نہیں ،بلکہ یہ جنگ ہمہ گیر اور عالمگیر ہے ۔
ان حالات کا تقاضا تھا کہ امت کے ذمہ دار علماء باہمی اختلافات کو بھلا کر اپنے مشترک دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد جہد و جہد کرتے،اور اسلام کے بنیادی اصول اور متفق علیہ مسائل کے لئے کام کرنے کا متحد ہو کر بیڑا اٹھالیتے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓکی زندگی جنہوں نے اسلام کو مشرق سے لیکر مغرب تک پھیلادیا تھا، ہمارے لئے بہترین نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اسلام کی مدد اور اس کی اشاعت کے معاملہ میں ہمیشہ متحد و متفق رہے ۔ اور اجتہادی مسائل میں ان کے درمیان جو اختلاف تھا ، اُس کا کوئی اثر کبھی بھی انہوں نے اسلام کی نشر و اشاعت، اس کی بقاء اور اس کے تحفظ پر نہ پڑنے دیا ۔ اور یہی وہ فریضہ ہے جو ہماری رائے میں اس وقت بھی دین اور علمِ دین کے پاسبانوں پر عائد ہوتا ہے ۔
ایک نصرانی بادشاہ نے حضرت علی اور حضرت معاویۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے باہمی اختلاف کو غنیمت سمجھ کر جب حضرت معاویہ ؓ کو اپنی مدد کی پیشکش کی تو حضرتِ معاویہ ؓ نے اُس کو جو جواب بھیجا تھا وہ ہمیشہ کانوں میں گونجتا رہے گا ۔ انہوں نے نصرانی بادشاہ کو لکھا تھا کہ :
“تیرا وہ خط مجھے مل گیا جس میں تو نے مجھے دعوت دی ہے کہ میں تجھ سے آملوں ،تاکہ تو میرے دوست علی کے مقابلہ میں میری مدد کرے ، لیکن تو خوب جان لے کہ میں اپنے دوست علی کا ساتھی اور تیرا بد ترین دشمن ہوں ،اور یاد رکھ کہ اگر کبھی علی کی فوجیں تجھ پر حملہ آور ہوئیں تو اس کے لشکر سے سب سے پہلے میں نکلکر تیرے مقابلہ پر آؤں گا ،اور تیرا سر گردن سے اس طرح اکھاڑوں گا جیسے زمین سے گاجر اکھاڑی جاتی ہے ۔”
تاریخ نے ہمارے واسطے اس قسم کے بیشمار واقعات کو محفوظ رکھا ہے ۔ حتیٰ کہ تاریک ترین دور میں بھی جبکہ اسلام پر ہر طرف سے یلغار تھی، اس قسم کی مثالیں ناپید نہیں ہوئیں۔ شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ تاتاری خدا و رسول کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کر چکے ہیں ۔ اور عالمِ اسلام پر آسمانی قہر بنکر نازل ہورہے ہیں ، اور مسلمانوں کی آبادیوں اور نسلوں کو تباہ و برباد کر دینا چاہتے ہیں تو شیخ اپنے ہم عصر علماء کو لیکر تاتاریوں کے مقابلہ میں جا پہنچے ، اور اُس اختلاف کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا جو شیخ اور وفد کے دوسرے علماء کے درمیان چلا آرہا تھا۔
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ آج جو جنگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑی جارہی ہے ،وہ صلیبی جنگوں اور تاتاریوں کی جنگ سے بھی زیادہ سخت ہے ۔کیونکہ آج اسلام کی دشمن قوموں کے پاس مہلک وسائل بھی پہلے سے مختلف ہیں، اور ان کا طریقہ جنگ بھی بدلا ہوا ہے ۔چنانچہ آج ہم پر فکر ی عقلی اورمادی ہر قسم کے ہتھیار آزمائے جارہے ہیں ۔
معزّز علمائے کرام ! یہ حالات ہم سے تقاضا کر رہے ہیں کہ ہماری آواز متحد ہو، اور باہمی بغض اور عداوت کو بھول کر ہم سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں۔ کیونکہ ہم اس وقت عین میدانِ جنگ میں کھڑے ہیں اور خطرناک دشمن ہمارے سامنے ہے ۔
عالمِ اسلام کا کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو اتحاد و اتفاق کی ضرورت کو نہ مانتا ہو ۔ ہر شخص مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتا ہے ، جیسا کہ موسمِ حج اور رابطہ عالمِ اسلامی کے مختلف اجتماعات میں مشاہدہ ہوتا رہا۔ لہٰذا اتحاد و اتفاق کی نصیحت کر دینا یہ اسلام اور مسلمانوں کا کوئی مسئلہ نہیں ۔ کیونکہ اتحاد کی ضرورت پر تو پورے عالمِ اسلام کامکمل اتفاق ہے ،لیکن مشکل اور اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے باہمی اختلاف و انتشار کے اسباب کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے ، اور غور کیا جائے کہ ان اختلافات سے نجات کی صورتیں کیا ہیں ؟ اور وہ طریقے معلوم کئے جائیں جن سے ہم اسلام اور اس کے شعائر کا تحفظ کر سکیں ، اور دین کے اہم مقاصد اور اس کے شعائر کے تحفظ کے لئے متحد ہوسکیں ۔
اس پیچیدہ مسئلے پر ہم عرصہ سے غور کر رہے ہیں، اور جوں جوں ہم نے غور و فکر کیا ،یہ تاریخی حقیقت سامنے آتی چلی گئی کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین ؒ جو اس امت کے بہترین افراد اور ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں ،ان کے درمیان بھی اجتہادی مسائل میں اختلاف پیدا ہوا ، لیکن اس کے باوجود اصول اسلام اور ان کی حفاظت کے بارے میں کبھی بھی اُن کی یکجہتی میں فرق نہیں آیا ۔ جنانچہ شیخ ابن القیم ؒ نے تصریح فرمائی ہے کہ اسلاف کے درمیان جزوی اختلاف پیدا ہوا ،اور ایک نے کسی چیز کو حرام کہا اور دوسرے نے حلال، لیکن اس اختلاف نے کسی کو بھی دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے یا اس کے عام اسلامی حقوق ادا کرنے سے نہیں روکا ۔
ان قابلِ اقتداء حضرات کے عمل سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مطلوبہ اسلامی وحدت سوائے اس کے حاصل نہیں ہوسکتی کہ مختلف فیہ اجتہادی مسائل میں چشم پوشی سے کام لیا جائے، اور متفق علیہ مسائل اور ان کے دفاع کے بارے میں پوری سختی اختیار کی جائے ۔
لیکن افسوس کہ ہم نے معاملہ بالکل برعکس کر دیا کہ اُن فروعی مسائل اور ذاتی اغراض کے معاملہ میں تو ہم آپس میں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں جن کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عفو ودرگذر اور چشم پوشی کی تعلیم دی تھی، لیکن اسلام ا ور اس کے بنیادی اصولوں کو ہم نے دشمنوں کے مقابلہ میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے کہ وہ اُن میں جو چاہیں، اور جس طرح چاہیں، تصرف کرتے رہیں ۔
مسلمانوں کے مختلف طبقات میں بدکاری ، بے حیائی ،سود ، جوا ، رشوت ستانی، شراب خوری ، عریانی ، موسیقی اور سینما ، تھیٹر روز بروز پھیلتے چلے جارہے ہیں ،اور یہ وہ برائیاں ہیں جن کی حرمت میں کسی کو اختلاف نہیں ،لیکن افسوس ہے کہ ہمیں ایسے مرشد علماء بہت کم نظر آتے ہیں جو ان کی وجہ سے متفکر یا بے چین ہوں ۔ اس کے بر خلاف ہم دیکھتے ہیں کہ فروعی مسائل میں جس کا مسلک اُن کے مسلک کے خلاف ہو ،اُس پر اُن کو غصہ آجاتا ہے، اور وہ اپنی پوری توانائی اپنی رائے کو صحیح ثابت کرنے پر صرف کر دیتے ہیں ،حالانکہ ان فروعی مسائل میں اختلاف صحابہ کرام و تابعین ؒ کے زمانے میں بھی موجود تھا اور آئندہ بھی اِن کو دلائل کے تبادلے اور مناظروں سے رفع کرنا ممکن نہیں ۔
تو کیا مبلغین ِ اسلام اور اس کے پاسبانوں پر یہ لازم نہیں کہ وہ اپنی مخصوص کوششیں متفق علیہ منکرات کو دور کرنے کے لئے وقف کر دیں ، اور مختلف فیہ فروعی مباحث کو درسگاہوں اور فتاویٰ تک محدود رکھیں؟ بایں طور کہ ہر عالم دین اپنے حلقۂ درس اور فتاویٰ میں قرآن و سنت کی تفسیر اپنے مسلک کے مطابق کرتا رہے ،اور اس پر عمل بھی کرے ۔لیکن دوسرے مسلک والوں سے چشم پوشی کا برتاؤ کرے ، مگر منکرات کے مقابلہ اور اسلام کے دفاع کے لئے ہر مکتبِ خیال کے علماء جسمِ واحد ہو کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔
میری رائے میں مشرق سے لیکر مغرب تک بسنے والے مسلمانوں کے اتحاد کی اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں واللہ ولیّ التّوفیق ۔مسلم ممالک کے حالات کا بھی ہم نے طویل جائزہ لیا تو اُن کو کتاب و سنت پر متحد کرنے اور ان کی اصلاح کے لئے بھی ہمیں حجازِ مقدس کے علماء وحکام سب سے زیادہ مناسب نظر آتے ہیں ۔کیونکہ پورے عالمِ اسلام میں جس کسی کو کسی مصیبت کا سامنا ہوتا ہے ،تو وہ انہی حضرات کی جانب متوجہ ہوتا ہے ، اور انہی کی بستیوں میں اس کو اسلام کی بدولت امن و امان اور عزت نصیب ہوتی ہے ۔( آپ حضرات کا)یہی وہ امتیاز ہے جس نے ہمیں آپ حضرات سے امیدیں وابستہ کرنے پر آمادہ کیا ہے کہ شایداس اجتماع کے نتیجہ میں ہم اسلام اور مسلمانوں کی کوئی مفید خدمت انجام دے سکیں۔ اس اہم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے رابطہ عالمِ اسلامی بھی ایک اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے جو اس مبارک مملکت میں قائم ہے ۔جس نے اپنے مقاصد کی بنیاد اسلام کے ٹھوس اُصولوں پر قائم کی ہے ، اور جو اپنی امکانی جدوجہد مسلمانوں کو متحد کرنے اور دنیا بھر میں بکھرے ہوئے مسلمانوں کو باہمی افتراق و انتشار سے پاک کرنے کے لئے صرف کرنا چاہتا ہے ۔
لیکن یہ عظیم ترین مقصد ایسی ٹھوس جدوجہد کا مطالبہ کرتا ہے جس کو علمائے عالمِ اسلام کی بھاری جمیعت لیکر اُٹھے ، اور یہ علماء بھی ایسے ہوں جن کے علم و دیانت پر مسلمانوں کو مکمل اعتماد ہو ، جو اسلام کے محافظ اور دین کا درد رکھنے والے ہوں ،اور ان کی باوقار دینی و علمی شخصیت پر سب کا اتفاق ہو ۔ اس طریقہ سے رابطہ عالمِ اسلامی پورے عالم ِ اسلام سے مختلف ممالک اور مختلف طبقات کے اہم ترین اور جید اشخاص کو اپنے ارد گرد جمع کر سکے گا جس کے نتیجہ میں رابطہ کو ایسی قوت حاصل ہوجائے گی جو زبردست بھی ہوگی اور قابلِ اعتماد بھی ۔
ہماری رائے ہے کہ رابطہ عالم اسلامی کے اجتماعات مکہ مکرمہ کے علاوہ دوسرے شہروں اور ملکوں میں بھی جہاں جہاں ممکن ہو منعقد کئے جایا کریں، تاکہ رابطہ وہاں کے حالات کا قریب سے جائزہ لے سکے اور وہاں کے لوگوں میں بھی رابطہ کی وجہ سے امنگ اور دینی تعلقات میں پختگی پیدا ہو ۔
قبل اس کے کہ میں اپنا یہ مراسلہ ختم کروں ۔ اپنا فریضہ سمجھتا ہوں کہ ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذمہ دار حضرات علمائے کرام کو اُن خرابیوں کی جانب بھی توجہ دلاؤں جو اس مبارک شہر مکہ مکرمہ میں میرے مشاہدہ میں آئیں، حالانکہ وہ دین و شریعت اور قرآن و سنت کے سراسر خلاف ہیں ۔
خلاصہ کے طور پر چند چیزیں پیش کی جاتی ہیں:
۱۔ جانداروں کے مجسمات کی کثرت ، جو بعینہ وہی بُت ہیں ، جن کو اسلام نے حرام کیا ہے ، اور جن کو بغیر کسی پس و پیش کے مٹا دینے کا حکم ہے ۔ لیکن افسوسناک بات ہے کہ ہم نے بعض حاجیوں کو دیکھا کہ جہاں وہ اور چیزیں اس مقدس سر زمین سے خرید کر اپنے رشتہ داروں کیلئے لے جارہے ہیں ، اُنہی کے ساتھ وہ یہ بُت بھی تبرک کے طور پر خرید رہے ہیں ، باوجود اس بات کے کہ یہ تصاویر اور یہ بت کافر ممالک سے محض اس لئے یہاں لائے گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کے عقائد میں رخنہ پڑے ، اور دلوں سے اسلام کی خصوصیات کا تصور غائب ہوتا چلا جائے ۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو روکنا حکام کا منصبی فریضہ ہے ۔
۲۔ جس اسلام نے زنا اور اس کے اسباب کو حرام کیا ہے، وہی گانے باجے کو بھی حرام کر چکا ہے ۔ کیونکہ یہ بھی بڑی بڑی بدکاریوں کا بہت قریبی سبب ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ ارشاد ہے کہ : لیکوننّ من أمتی أقوام یستحلّون الحِرَ والحریر، والخمر والمعازف
ترجمہ: آئندہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا اور ریشم کو، اور شراب اور گانے باجے کو حلال کر ڈالیں گے۔
لیکن آج مکہ مکرمہ کی دوکانوں اور مکانات میں موسیقی اور گانے باجے کی آواز یں عام سنائی دیتی ہیں۔مکہ مکرمہ جیسے مبارک شہر میں جو کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی پناہ گاہ ہے ، یہ چیز اخلاقی اقدار کا خاتمہ کر ڈالے گی ، اور فواحش اور بدکاری کا وہ طوفان یہاں بھی برپا کر دے گی جو دوسرے ممالک کو مختلف طریقوں سے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔
۳۔ طواف کے دوران مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہر حاجی ، عامی اور عالم کے دل میں ایک بے چینی پیدا کر دیتا ہے ۔ اور یہ ایک ایسی خرابی اور فساد ہے کہ اس سے غفلت برتنا کسی بھی حال میں صحیح نہ ہوگا۔ کیونکہ شریعت مطہرہ نے تو مرد و عورت کے اس اختلاط کو نماز میں بھی جائز نہیں رکھا ۔ اسی لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مردوں اور عورتوں کے طواف کا الگ الگ انتظام فرمادیا تھا ، تاکہ کسی قسم کا شرّ پیدا نہ ہوسکے ، اور ہر شخص اپنی عبادت اور طواف خشوع و خضوع کے ساتھ پورا کر سکے ۔ اس لئے ہماری رائے میں دین کے تحفظ کے لئے اس کا بندوبست کرنا سب سے بڑا فریضہ ہے ۔ جس کا تعلق اُس مقدس ترین مقام سے ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی ،اور جو قرآنی آیات کی تلاوت کا مرکز بنا رہا ۔
۴۔ اسی طرح مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کرنیوالی ایک چیز یہ ہے کہ حرم شریف میں نماز کے دوران بھی عورتیں عام طور سے مردوں کی صفوں میں کھڑی ہوجاتی ہیں ، حتی کہ اب یہ اختلاط نہایت ہی تکلیف دہ اور گھناؤنی صورت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ یہ کیفیت تو مشرق سے مغرب تک کسی بھی مسجد میں ہماری نظر سے نہیں گذری ، پھر مسجدِ حرام جس کو اللہ جلَّ شانہ نے پورے عالم کا قبلہ بنایا ہے ، اُس کے بیچوں بیچ یہ صورتحال کیسے صحیح ہوسکتی ہے ؟ کوئی بھی مسلمان جب حج کیلئے یہاں آکر اللہ کے مقدس ترین گھر میں یہ منظر دیکھے گا تو حیرت میں رہ جائے گا ۔ اس ملک کے غیرتمند علماء جن کی خدمات بدعات و منکرات کے مقابلہ میں معروف ہیں ، اس بات کے سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس خرابی کو دور کریں ،اور عورتوں کی نماز کا انتظام مسجد کے ایسے متعین مقامات پر کر دیں جو صرف عورتوں ہی کیلئے مخصوص ہوں ۔ تاکہ حرم شریف کے عین درمیان میں اس تکلیف دہ حرام کا اعادہ نہ ہو سکے ۔
۵۔ چونکہ ہماری دلی خواہش ہے کہ اسلام کا یہ مرکز اور اس کے باشندے کفر کی ہر چال سے محفوظ رہیں ، اسلئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جو باتیں ہم نے یہاں کے بعض مسلمانوں میں دیکھی یا محسوس کی ہیں وہ بھی آپ کے سامنے بیان کریں۔
یہ بات واضح طور پر محسوس ہوئی کہ یہاں اسلامی عربی خصوصیّات روز بروز نہایت تیزی کے ساتھ مٹتی چلی جارہی ہیں ، اور اس کے مقابلے میں غیر مسلموں کی گمراہ کن معاشرت ترقی کر رہی ہے ،حتیٰ کہ یہ بیماری حرم اور مضافاتِ حرم میں بھی داخل ہو کر جڑ پکڑ چکی ہے ۔ اگر یہی حالت رہی ،تو مسلمانوں کی کوئی پناہ گاہ ایسی باقی نہیں رہے گی جو ان کافرانہ آلودگیوں سے پاک ہو ۔ کیونکہ دوسرے ممالک تو اس سیلاب کی لپیٹ میں پہلے ہی آچکے ہیں ۔
۶۔ سب سے مؤثر ذریعہ جو نوجوانوں میں شرعی احکام سے غفلت ، دین سے بیزاری ، اور فسق و فجور پھیلا رہا ہے ،مغربیت میں رنگے ہوئے ادب کی وہ کتابیں ہیں جو یہاں کے کتب خانوں اور لائبریریوں میں جابجا نظر آتی ہیں۔ دراصل اس جدید ادب کی بنیاد ہی مذہب سے آزادی ، دین سے تمسخر اور ملحدانہ نظریات پر رکھی گئی ہے۔ یہ رسائل جو گھٹیا درجہ کے عشقیہ ناولوں ، اورشرمناک عریاں تصاویر پر مشتمل ہیں، نوجوانوں کو الحاد ، فسق وفجوراوربے حیائی کے علاوہ کسی اور چیز کا سبق نہیں دے سکتیں ، اور ہر صاحبِ بصیرت جانتا ہے کہ یہ رسالے اور کتابیں نوجوانوں کو متأثر کرنے کے لئے اہم ترین وسائل میں سے ایک ہیں ۔لہٰذا ہم اپنے دوست علمائے کرام کا فرض منصبی سمجھتے ہیں کہ وہ اِن امور کی جانب بغیر کسی تاخیر کے توجہ فرمائیں۔ تاکہ اس سیلاب کو سر تک پہنچنے سے پہلے روکا جاسکے ۔ اور اس مقدس مملکت میں اہل بدعت کی کتابوں کی طرح رسالوں کا داخلہ بھی ممنوع قرار دے دیں ۔جزاھم اللہ تعالیٰ خیر الجزاء ۔
مذکورہ بالا امور کی یاددہانی ہم اس امید پر کر رہے ہیں کہ اصحابِ فکر و نظر ان کا تدارک فرمائیںگے ۔ جب تک مسلمان اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے، اُس وقت تک اللہ تعالیٰ اُس کی مدد میں لگے رہتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کی مدد کیوں نہیں فرمائیں گے جو اُس کے دین و شریعت کی نصرت پر کمر بستہ ہوجائیں ، اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ایسے لوگوں کے ساتھ تو بدرجۂ کمال ہوگی ۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ہماری دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو اپنے دین کی خدمت ایسے طریقہ سے کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں جو ان کو پسند اور محبوب ہو ۔ میری جانب سے تعظیم و احترام کے گہرے جذبات قبول فرمائیے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
بندہ فقیر محمد شفیع ، صدر دارالعلوم کراچی مقیم حال مکہ مکرمہ ۔
ترجمہ از محمد رفیع عثمانی خادمِ طلبہ دارالعلوم کراچی نمبر ۰ ۳،
۲۴؍ ذو الحجۃ سنۃ ۱۳۸۳ ھ
حضرت والد صاحب ابھی مکہ مکرمہ ہی میں مقیم تھے کہ مفتی ٔ اکبر ؒکی طرف سے اس کا جواب بھی مل گیا جس کا متن یہ ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مملکت عربیہ سعودیہ۔۔۔۔۔۔۔رقم ۴۶۰۲
خصوصی دفتر تاریخ ۲۵؍۱۲؍۸۳ ھ
کاپیاں برائے: مفتی و رئیس القضاۃ والکلیات والمعاہد العلمیۃ
از محمد بن إبراہیم بخدمت گرامی قدرفضیلۃ الشیخ محمد شفیع ، عمید دار العلوم کراچی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آنجناب کا گرامی نامہ مؤرخہ ۲۴؍۱۲؍۱۳۸۳ ؁ ھ ہمیں موصول ہوا، اوراس خط کو بڑی خوشی کے ساتھ پڑھا کہ معرفت کی جو باتیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر واضح فرمائیں آپ نے اس مکتوب میں تحریر فرمائیں ، اور آپ نے بڑے اہم امور کی طرف توجہ دلائی، جن کی طرف توجہ دینا اور ان کے بارے میں اہتمام کرنا بہر حال ضروری ہے۔ بلا شبہ ہم اور ہمارے مشایخ بھائی اس جذبہ میں آپ کے شریک ہیں، جب مسلمان آپ کی ذکر کردہ باتوں کی طرف توجہ نہیں دیں گے اور ان بیماریوں سے ان کے لگ جانے سے قبل احتیاط نہیں برتیں گے اور اُن کے اندر پیش آنے کے بعد ہی اس کے علاج میں ہر طرح کی کوشش کریںگے ، اور اپنے معاشروں کو اس سے پاک کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کا نتیجہ بہت برا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتا ہوں کہ مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کو حق کی طرف دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے اور حق کی نصرت، اور اسے بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور باطل کو مٹانے کی توفیق عطا فرمائے۔ بلا شبہ وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

(ماہنامہ البلاغ :جمادی الاولیٰ۱۴۴۱ھ)

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2020-04-10T00:55:20+05:00