حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(سترہویں قسط )

چونکہ یہ دارالعلوم کے شرافی گوٹھ منتقل ہونے کے بعد پہلے تعلیمی سال کا اختتام تھا ، اس لئے اس موقع پر حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۵؍سے ۱۷؍ شعبان ۱۳۷۷ ھ (مطابق ۷ تا ۹ مارچ ۱۹۵۸ ء) تک تین روزہ سالانہ جلسے کااہتمام فرمایا۔اس جلسے کی کچھ باتیں میری ایک ڈائری میں لکھی ہوئی مل گئیں ، اور کچھ انہیں دیکھ کرمجھے یاد آگئیں جوفائدے سے ان شاء اللہ خالی نہ ہوں گی۔
اس جلسے میں حضرت مولانا اطہرعلی صاحب ، حضرت مولانا شمس الحق افغانی صاحب اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری صاحب رحمۃ اللہ علیہم کو بطور خاص مد عو کیا گیا تھا ۔ ان کے علاوہ ملک کے دوسرے ممتاز علماء بھی موجود تھے۔ ملک کے دو سابق وزیر اعظم جناب چودھری محمد علی صاحب اور جناب اسماعیل ابراہیم چندریگر صاحب بھی مدعو تھے ۔پہلے دن حضرت مولانا اطہر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہوا ۔ اُس کے بعد چندریگر صاحب مرحوم کا، اور پھر مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ دوسرے دن پہلی نشست چودھری محمد علی صاحب سابق وزیر اعظم پاکستان کی صدارت میں تھی ۔ اسی نشست میں ملائشیا سے آئے ہوئے ہمارے ایک ساتھی بن یامین کو اور مجھے عربی میں تقریر کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ میں نے ایک ٹوٹی پھوٹی تقریر لکھی تھی ،جو اپنے شامی استاذ احمد الاحمد صاحب کو دکھائی ، انہوں نے اُس میں ضروری تبدیلیاں کرکے اُسے ایک بامعنیٰ تقریر بنادیا، اور میں نے وہ تقریر رٹ لی ، استاذ احمد الاحمد صاحب نے اُس کے القاء کی بھی مشق کرائی ، اور اس مشق کے نتیجے میں جب میں نے وہ رٹی ہوئی تقریر جلسے میں کی ، تو ایسے انداز سے کی جیسے فی البدیہہ کی جارہی ہو ۔ میری عمر کے اُس وقت پندرہ سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے ، اس لئے حاضرین نے ، اور خاص طورپر چودھری محمد علی صاحب نے، بڑی ہمت افزائی کی ۔
اگلی نشست میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تقریر فرمائی ، اور اُس تقریر کی ایک بات مجھے ابتک یاد ہے ۔ حضرتؒ نے عربی زبان کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے مثال دی کہ گھوڑوں کی ریس میں جیتنے والے گھوڑوں میں دس نمبر تک ہر گھوڑے کا الگ نام ہوتا ہے ، چنانچہ پہلے نمبر آنے والے گھوڑے کو “سابق “کہتے ہیں ، دوسرے نمبر پر آنے والے کو “مصلّی “، تیسرے نمبر پر آنے والے کو “مُسلّی” یا “مجلّی” ، چوتھے نمبر پر آنے والے کو “تالی” ، پانچویں نمبر پر آنے والے کو” مُرتاح”، چھٹے نمبر پر آنے والے کو” عاطف “، ساتویں نمبر پر آنے والے کو “حظی ّ “، آٹھویں نمبر پر آنے والے کو” مؤمل”، نویں نمبر پر آنے والے کو “لطیم “اور دسویں نمبر پر آنے والے کو “سُکَیت” کہتے ہیں ۔جس روانی سے حضرتؒ یہ تمام نام بتارہے تھے ، مجمع اُس پر حیرت زدہ تھا ۔ حضرتؒ نے تو کسی سابق تیاری کے بغیر عربی زبان کی وسعت ظاہر کرنے کے لئے سادگی کے ساتھ یہ نام اس طرح گنوادیئے ، لیکن مجمع نے اُسے جس تعجب کے ساتھ اور جس تعریفی انداز میں سُنا ، اُسے دیکھ کر ،اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ، میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ سامعین پر رعب جمانے کا یہ اچھا نسخہ ہے ۔ چنانچہ میں نے ثعالبی کی ” فقہ اللغۃ” سے نہ صرف یہ نام یاد کرلئے، بلکہ اس طرح کے اور متعدد الفاظ ، مثلاً عربی میں نیند کے مختلف مدارج کے جو الگ الگ نام ہیں ، وہ بھی یادکرکے مختلف مجلسوں میں، اورادب پڑھانے کے زمانے میں طلبہ پر رعب جمایا۔ بعد میں جب احساس ہوا کہ یہ تو خالص ریا کاری تھی ، تو اُس پر استغفار کیا ، اور یہ الفاظ بھلا دیئے ، یہاں تک کہ آج یہ واقعہ لکھتے ہوئے مجھے اوپر کے ناموں میں سے کچھ یاد نہ آئے ، تو ” فقہ اللغۃ”کی مدد سے لکھے ہیں ۔
جلسے کے تیسرے دن صبح حضرت مولانا اطہر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت تھی ۔ اُس میں ایک اور طالب علم کو تقریر کرنی تھی ، مگر وہ غیر حاضر تھے ، اچانک مولانا محمد متین خطیب صاحبؒ نے میرے نام کا اعلان کردیا۔ اب میں بہت سٹپٹایا کہ اگر بعینہ وہی تقریر دوبارہ کرتا ہوں جو کل کی تھی ، تو اُس کے رٹے ہوئے ہونے کا پول کھل جائے گا ، اور کوئی دوسری فی البدیہہ تقریر کر نے کی اہلیت نہیں ۔ اس مشکل کا حل نکالنے کے لئے میں نے شروع میں یہ جملے کہے :
“أمرت أن أعید کلمتی التی ألقیتہا بالأمس، ولیست ذاکرتی قویۃ ولکنی أحاول أن أعرضہا علیکم کما کانت.”
یعنی”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نے جو تقریر کل کی تھی ، اُسے دہراؤں ، میرا حافظہ بہت مضبوط نہیں ہے ، لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ تقریر اُسی طرح پیش کروں جس طرح کل کی گئی تھی ۔”
میرے بزرگ حضرات ، خاص طورپر مولانا ظفراحمد انصاری صاحبؒ، میرے ان جملوں پر خوب ہنسے۔ بہر حال، کسی طرح لاج رہ گئی۔ آخری نشست حضرت مولانا شمس الحق افغانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت میں تھی ، اور اُس میں میرے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مد ظلہم نے تدوین فقہ کے موضوع پر تقریر فرمائی جو واقعۃً تقریر تھی ، اور بزرگوں نے بہت پسند فرمائی۔ مغرب کے بعد دستار بندی پر یہ جلسہ ختم ہوا۔
چھٹیاں ہم نے گھر پر گذاریں ، رمضان کے ایک بڑے حصے میں میں ٹائیفائڈ کا شکار رہا اور عید کے بعد۱۵ شوال ۱۳۷۷ ؁ ھ مطابق ۵؍ مئی ۱۹۵۸ ؁ ء کو نیا تعلیمی سال شروع ہوا ، تو اُس سال ہمیں مشکوۃ ، جلالین اور شرح عقائد پڑھنی تھی ۔مشکوۃ شریف حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھی ، جلالین شریف حضرت مولانا اکبرعلی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ، شرح عقائد اور اُس کے بعدحصون حمیدیہ حضرت مولانا قاری رعایۃ اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ۔
یوں تو میرے سارے ہی اساتذہ کے مجھ پر احسانات اتنے ہیں کہ ساری عمر میں ان کا حق ادا نہیں کرسکتا، لیکن خاص طورپر ابتدائی تعلیم میں حضرت مولانا سحبان محمود صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے، اور اوپر کے درجات میں حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب قدس سرہ کے احسانات سب سے زیادہ ہیں۔ حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کو اﷲتعالی نے تحقیق کا خاص ذوق عطا فرمایا تھا۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی ایسی ہوتی جس کے بارے میں حضرتؒ کو کوئی شک ہوتا تو جب تک اُس کی تحقیق نہ فرمالیتے ، آپ کو چین نہیں آتا تھا۔ اور خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنے شاگردوں کو اس قسم کی تحقیق میں ساتھ لگائے رکھتے تھے جس سے یہ ذوق اُن میں بھی منتقل ہوتا تھا۔ حضرتؒ کے درس میں متعلقہ کتاب اور مضمون کے علاوہ بھی بہت سی تحقیقی معلومات شاگردوں کو حاصل ہوتی رہتی تھیں۔ اُس سال ہمارے جو سبق حضرتؒ کے پاس تھے ، اُن میں سب سے اہم سبق تو مشکوۃ شریف کا تھا، اور حدیث کا پہلا باقاعدہ سبق ہونے کی وجہ سے ہمیں اُس کا بڑا شوق لگتا تھا۔ حضرتؒ اس درس میں بہت لمبی بے فائدہ تقریر کرنے کے بجائے حدیث کی عبارت کی تصحیح ، اُ س کی واضح تشریح اور متعلقہ مباحث کا چھنا چھنایا خلاصہ اس طرح بیان فرماتے کہ اُسے یاد کرنا آسان ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ درس کے دوران نحو وصرف اور فقہ اور اصول فقہ کے خاص خاص نکات بھی بیان فرماتے ، اور اگر درس کے دوران یا کسی طالب علم کے سوال کے نتیجے میں کوئی بات قابل تحقیق آجاتی تو اُسی وقت کسی طالب علم کے ذمے لگا دیتے کہ فلاں کتاب میں اس کی تحقیق کرکے بتاؤ۔ اس کے نتیجے میں طلبہ کو غیر درسی کتابوں کی پہچان بھی ہوتی ، اور اُن سے استفادے کا سلیقہ بھی پیدا ہوتاتھا۔
درس کے دوران حضرتؒ بہت سے علمی اور ادبی لطیفے بھی بیان فرمایا کرتے تھے جن میں سے چند اس وقت یاد آگئے ۔
یہ واقعہ میں نے سب سے پہلے حضرتؒ ہی سے سُنا تھا کہ ابو العلاء معرّی جو شام کا مشہور شاعر تھا، اور اپنے ملحدانہ خیالات کیلئے مشہور۔اُس نے چور کا ہاتھ کاٹنے پر ایک شعر میں یہ اعتراض کیا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کا ہاتھ کاٹ لے، تب تو اُ س کی دیت (خوں بہا)سونے کے پانچ سو دینار ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی چوتھائی دینار چوری کرلے تو (امام مالکؓ وغیرہ کے مذہب کے مطابق) اُس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک جگہ تو ہاتھ کی قیمت پانچ سودینار ہے ، اور دوسری جگہ چوتھائی دینار۔چنانچہ اُس نے کہا:
یدٌ بخمس مئیٍ من عَسجدٍ عُقِلت
فمابالہا قُطعت فی رُبع دینار
یعنی:” ایک ہاتھ کی دیت پانچ سو سونے (کے دینار) کے برابر ہوتی ہے۔ توپھر یہ کیا بات ہے کہ اسے صرف چوتھائی دینار کی (چوری کی ) وجہ سے کاٹ دیا جاتا ہے؟”
اس کے جواب میں امام شافعی ؓ نے شعر ہی میں جواب دیتے ہوئے فرمایا:
ہُناک مظلومۃٌ غالت بقیمتہا
وہہنا ظلمت، ہانت علی الباری
یعنی وہاں تو ایک مظلوم ہاتھ ہے، اس لئے اُس کی قیمت گراں ہے ، اور یہاں ظالم ہاتھ ہے ، اس لئے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اُس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اور ابوالفتح بُستی نے اس کا جواب بھی شعر میں دیا اور کہا:
عزّ الأمانۃ أغلاہا، و أرخصہا
ذلُّ الخیانۃ، فافہم حکمۃَ الباری
یعنی: “امانت کی عزت نے اُس ہاتھ کی قیمت بڑھادی تھی ، اور خیانت کی ذلّت نے اُس کو سستا کردیا ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی حکمت سمجھ لو۔”
ایک مرتبہ حضرتؒ نے فرمایا کہ : بتاؤکہ ایک صغریٰ ہے : “الغَلْط غَلَطٌ” اوراُس کا کبریٰ ہے “: والغَلَط صحیحٌ” ان دونوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ۔ ” الغَلْطُ صحیحٌ ” حالانکہ یہ شکل اول کا نتیجہ ہونے کے باوجود غلط ہے ۔پھر فرمایا کہ یہاں حدّ اوسط مکرر نہیں ہورہی ہے، اس لئے کہ صغریٰ میں” غَلَطٌ” کے معنی مراد ہیں، اور کبریٰ میں “الغَلَط” سے مراد لفظ” الغلط “ہے، اس کے معنی نہیں۔ لہذا یہاں کوئی حدّاوسط ہے ہی نہیں،جس کو گراکر نتیجہ نکالا جائے۔
ایک مرتبہ فرمایا کہ اس شعر کا مطلب بتاؤ:
ہست استثنا زمثبت منفی واز عکس عکس
شد ” علیّ عشرۃٌ الّا توالی ” پنج تا
پہلا مصرع تو کسی طرح سمجھ میں آگیا کہ اگر کسی مثبت جملے سے کوئی استثنا کیا جائے ، تو مستثنیٰ منفی ہوتا ہے، اور منفی جملے سے کیا جائے تو مستثنیٰ مثبت ہوجاتا ہے، لیکن دوسرے مصرعے کا مطلب واضح نہیں ہورہا تھا۔ پھر حضرت ؒ نے سمجھایا کہ” الاّ توالی ” کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اقرار کرتے ہوئے یہ کہے کہ : “لفلان علیّ عشرۃ دراہم، إلّا تسعۃ، إلّا ثمانیۃ، إلّا سبعۃ، إلّا ستّۃ، إلّا خمسۃ، إلّا أربعۃ، إلّا ثلاثۃ، إلّا اثنین، إلّا واحداً ” تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس پر پانچ درہم واجب ہیں، کیونکہ ہر استثنا سے مستثنیٰ کے سوا باقی عدد کی نفی ہوتی چلی جائیگی تو اس کے نتیجے میں پانچ کا اثبات ہوگا۔
ایک مرتبہ حضرتؒ دین کی تعلیم وتبلیغ اور دینی سرگرمیوں کے بارے میں” الأہمّ فالأہمّ “کے اصول کی اہمیت بیان فرمارہے تھے ۔ اس پر فرمایا کہ تاتاریوں کے فتنے میں مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا ، اُس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اُس وقت مسلمان عالم اسلام کے عظیم فتنے کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے بجائے آپس کے اختلافات کا شکار ہوگئے تھے، اور چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل پر مناظروں میں مشغول تھے ۔ حضرت ؒ نے فرمایاکہ اس کے بارے میں ایک شاعر نے بڑا اچھا تبصرہ کیا ہے:
جب چلی بغداد میں تاتار کی تیغ نیام
مفتیانِ شرع میں جاری تھی اک جنگِ کلام
ایک کہتا تھا کہ کوّا ثابت و سالم حلال
دوسرا کہتا کہ کالی چونچ سے تا دُم حرام
اُس زمانے کے مؤرخ نے جو دیکھا تو کہا
مفتیاں را مژدہ! کار ملت بیضا تمام
یہ بات بھی سب سے پہلے حضرتؒ ہی سے سنی کہ” وسْط ” (بسکون السین) اور ” وَسَط” (بفتح السین) میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر(یعنی “وَسْط”)کسی چیز کے دوکناروں کے درمیان کسی بھی جگہ کو کہہ سکتے ہیں، لیکن “وَسَط “بالکل بیچوں بیچ کو کہتے ہیں، اسی لئے” وَسط “کے سین کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ: “اذا تحرّک سکن، واذا سکن تحرّک ” یعنی جب” وَسط” کا سین ساکن ہو تا ہے، تو حرکت کرتا ہے، یعنی دونوں کناروں کے درمیان کسی بھی جگہ کو “وَسْط” کہہ سکتے ہیں، لیکن جب سین متحرک ہوتا ہے ، تو ساکن ہوجاتا ہے، یعنی بس بالکل بیچوں بیچ ہی کو” وسَط” کہا جا سکتا ہے، کوئی چیز بالکل بیچ میں ہونے سے ذرابھی اِدھر اُدھر ہو تواُسے “وسَط “نہیں کہہ سکتے۔
حضرتؒ کی زبان سے کسی کے یہ حکیمانہ اشعاربھی باربار سُنے:
بزرگے رفت بخواب در فکرے
دید دنیا بہ صورت ِ بکرے
کرد از وے سوال:” اے دلبر!
بکر چونی بہ ایں ہمہ شوہر؟”
گفت : ” یک حرف باتو گویم راست
کہ مرا آنکہ بود مرد نہ خواست
وانکہ نامرد بود خواست مرا
زیں بکارت ہمیں بجا ست مرا
یعنی : ایک بزرگ نے خواب میں دنیا کو ایک کنواری لڑکی کی شکل میں دیکھا، تو اُس سے پوچھا کہ : “تمہارے شوہر تو بہت ہیں، اس کے باوجود تم اب تک کنواری کیوں ہو؟” اس کے جواب میں اُس نے کہا کہ: “وجہ یہ ہے کہ جو واقعی مرد تھے، انہوں نے مجھے چاہا نہیں ، اور جنہوں نے چاہا، وہ نامرد تھے ۔ اس لئے میں ابھی تک کنواری کی کنواری ہوں”۔
میں نے ایک مرتبہ یہ اشعاراپنے شامی دوست ڈاکٹرعبد الستار ابو غدہ کو سنائے، اور ان کا مطلب بھی سمجھایا، تو انہیں یہ اشعار بہت پسند آئے، اور چونکہ وہ خود بھی شعر کہتے ہیں، اس لئے انہوں نے عربی اشعار میں ان کا ترجمہ اس طرح کیا:
رأیت فی النّوم دنیانا وقد بقیت
عذراء َ، مَعْ أنّہا زوجٌ لأجیالٖ
فقلت: ماالسرّ؟قالت:إنّ مَن طلبوا
صنفان ما غیّرا ما کان من حالی:
ذو عُنّۃٍ، أعرضتُ عنہ أنا
وذو الفحولۃ، عنّی راغب ٌ سالی
حضرتؒ ہی سے سب سے پہلے وہ دو شعر سُنے تھے جو بعد میں حضور نبی کریم صلّی اﷲعلیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر لکھے ہوئے دیکھے، اور آج تک لکھے ہوئے ہیں ۔حضرتؒ نے فرمایا تھا کہ یہ شعر ایک اعرابی نے روضۂ اقدس پر پڑھے تھے، اور بعد میں وہ جالیوں کے ستونوں پر لکھ دئیے گئے:
یا خیرَ من دُفنت فی التّرب أعظمہ
فطاب من طیبہنّ القاع والأکم،
نفسی الفداء لقبرٍ أ نت ساکنہ
فیہ العفاف، وفیہ الجود والکرم،
غرض حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ اس طرح کے بہت سے نکتے اور لطیفے درس کے دوران سنایا کرتے تھے جو ہم طالب علموں کے لئے دلچسپی کا بھی باعث ہوتے، اور ان سے معلومات میں بھی اضافہ ہوتا تھا۔
اسی زمانے میں حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے مجھے اور بھائی صاحب مد ظلہم کو فقہی کتابوں سے مسائل نکالنے کی مشق کرائی ۔ حضرتؒ ہمیں کوئی مسئلہ بتاتے کہ یہ مسئلہ علامہ شامیؒ کی ردالمحتار سے نکال کر دکھاؤ۔ پہلے دن حضرتؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر کفو سے باہر نکاح کرلے ، تو نکاح کا کیا حکم ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت! یہ مسئلہ تو ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے، لیکن وہ ولی کی اجازت پر موقوف رہتا ہے ۔حضرتؒ نے فرمایا: “اسی لئے تو آپ سے کہہ رہا ہوں کہ یہ مسئلہ شامی میں نکال کر دیکھیں”۔ میں نے ردالمحتارمیں نکالا، تو پتہ چلا کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲعلیہ کا مشہور قول تو یہی ہے کہ نکاح ولی کی اجازت پر موقوف رہتا ہے، لیکن حضرت حسن بن زیاد رحمۃ اﷲعلیہ کی روایت یہ ہے کہ نکاح ہوتا ہی نہیں ، اور متاخرین نے اُسی پر فتوی دیا ہے۔
غرض اس طرح حضرتؒ نے فقہ کی غیر درسی کتابوں تک ہماری رسائی بھی کرائی ، اور اُن سے مسئلہ نکالنے کی مشق بھی ۔
ان حضرات اساتذہ کی شفقتوں نے گھر سے دوررہنے کے احساس کو رفتہ رفتہ کم کردیا۔پھر بھی سارے ہفتے جمعرات کا شوق لگا کرتا تھا، کیونکہ جمعرات کی شام کو ہم گھر جایا کرتے تھے ۔ عصر کے قریب دارالعلوم سے چل کر تقریباً عشاء کے وقت گھر پہنچتے ، اور ایک دن ایک رات والدین اور بھائیوں کے ساتھ قیام کرکے واپس آجاتے۔ کتابوں کا شوق تو مجھے شروع سے تھا ۔ اساتذہ کی شفقتوں نے اس میں اور اضافہ کردیا تھا ۔ اُدھر ہمارے گھر میں حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کی ذاتی کتابوں کا اچھا بڑا ذخیرہ موجود تھا ۔ اس لئے جمعرات یا جمعہ کو گھر والوں سے مل ملاکر جووقت بچتا، میں حضرت والد صاحبؒ کے ذاتی کتب خانے میں گھس جاتا، اور ایک ایک کتاب کو اُٹھاکر اُسے الٹ پلٹ کر دیکھتا کہ یہ کس موضوع پر ہے ؟ کس کی لکھی ہوئی ہے؟ اور اُس کا اتناحصہ پڑھ کر جس سے کتاب کا تعارف حاصل ہوجائے ، دوبارہ اُس کی جگہ پر رکھ دیتا ، اور اس الٹ پلٹ کے دوران اگر کسی کتاب میں دلچسپی بڑھتی تو اُس کا باقاعدہ مطالعہ بھی کرلیتا تھا۔اس طرح مجھے پوری طرح یاد ہوگیا تھا کہ کون سی کتاب کہاں رکھی ہے ؟ اور جب کسی بات کی تحقیق مطلوب ہوتی تو میں آسانی سے متعلقہ کتاب نکال کر اُس کی تحقیق کرلیاکرتا تھا۔اس کے علاوہ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے پاس جو ہفتہ وار رسالے اور ماہنامے آیا کرتے تھے، اُ ن کو بھی ذوق وشوق سے دیکھ کر اپنی دلچسپی کے مضامین اُن میں سے منتخب کرتا اور موقع ملنے پران سے استفادہ کرتا۔

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭