یادیں (ستائیسویں قسط)

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(ستائیسویں قسط )

شیخ عبدالعزیز بن باز ؒ سے ملاقات
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ اُس وقت جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے سربراہ تھے ۔ حضرت والد صاحب ؒ کی اُن سے پہلے سفروں میں بھی ملاقات تھی ، اور وہ خود حضرت والد صاحبؒ سے ملنے کے لئے تشریف لائے تھے ، حضرت والد صاحبؒ شیخ عبد الملک ؒ سے ملاقات کرکے نکلے، تو شیخ ابن باز ؒ کا مکان بھی قریب تھا ، اس لئے وہاں تشریف لے گئے ۔وہ چونکہ نابینا تھے ، اس لئے شروع میں حضرت والد صاحبؒ کو نہ پہچانے ، بعد میں جب حضرت والد صاحبؒ نے اپنا ثبت ” الازدیادالسنی” انہیں پیش کیا، تو چونک کر فرمایا کہ ہم نے پہچانا نہیں تھا ، اب کچھ دیر مزید بیٹھیں ، پھرگفتگو کا سلسلہ شروع ہوگیا ، اورجب حضرت والد صاحبؒ نے ان سے اپنی یادداشت کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا ایک خلاصہ آپ امیر فیصل ؒ کو بھی ( جو اُس وقت مملکت کے وزیر اعظم تھے ) ضرور بھیجیں ۔ بعد میں وہ حضرت والد صاحب ؒکواپنی گاڑی ہی میں حرم شریف لے گئے ، اور نماز کے بعد مکتبۃ الحرم میں بھی لے گئے ، اور اگلے دن جمعہ کے بعداپنے گھر پر کھانے کی دعوت دی جسے حضرت والد صاحبؒ نے منظور فرمالیا ۔چنانچہ اگلے دن جمعہ کی نماز کے بعد ہم حضرت والد صاحبؒ کے ساتھ ان کے مکان پرگئے۔ اس ملاقات کا حال حضرت والد صاحبؒ نے اپنی یادداشتوں میں اس طرح تحریر فرمایا ہے:
“جمعہ کے بعد حسب وعدہ شیخ عبدالعزیزبن بازکے مکان پرگئے۔ان کی مجلس بڑی سادہ اور عالمانہ رہتی ہے ،پہلے تواپنے ایک لڑکے کوخود سبق پڑھارہے تھے،اس سے فارغ ہوکر میرارسالہ” الازدیاد السنی” اپنے سکریٹری سے سننا شروع کیا، اور جابجاکچھ وضاحت مجھ سے طلب کرتے رہے۔آخرمیں فرمایاکہ اپنی اسانیدکی اجازت مجھے بھی دے دیجیے۔میں نے عذرکیاکہ آپ خود بڑے عالم ہیں،میں اپنایہ مقام نہیں پاتا۔مگراصرارفرمایاکہ مجھے لکھ کر دے دیجیے تومیں نے وعدہ کیا۔محمد رفیع محمد تقی نے ان سے اجازت حدیث کی درخواست کی تو فرمایاکہ جب آپ یہ اجازت لے کر آؤگے توآپ کو اجازت دوں گا۔اس کے بعد کھاناآگیا۔بڑی سادگی سے سب اہلِ مجلس یہاں تک کہ ان کی گاڑی کاڈرائیوربھی ایک ہی دسترخوان پرجمع ہوکرکھانے میں شریک ہوئے۔پُرلطف مجلس اور پُرلطف دعوت تھی۔فارغ ہوکرواپسی کی اجازت طلب کی توچائے کے لیے ٹھہرنے کوفرمایا۔چائے کے بعد ان سے رخصت ہوئے۔اپنی گاڑی واپسی کے لیے سورتی ہوٹل تک بھیجی۔”
بعد میں حضرت والد صاحبؒ نے مدینہ منورہ پہنچ کر انہیں اجازت حدیث دیدی ، اور اجازت نامہ لکھ کر دیاجس کے شروع میں حضرت والد صاحبؒ نے صحاح ستہ کے مؤلفین اورامام مالکؒ تک اپنی اسانید ذکر فرمائی ہیں ، اور اُس کے آخر میں تحریر فرمایا ہے کہ :
“ولمّا رزقنی اللہ تعالی زیارۃ المدینۃ المنورۃ فی محرم سنۃ 1384وزرت الشیخ العلامۃ عبدالعزیز ابن باز، نائب رئیس الجامعۃ بہا, سألنی مع ماہو فیہ من مقام رفیع فی العلم والفضل أن أجیز لہ روایۃ الحدیث بجمیع ما یجوز لی روایتہ، فأجزتہ بالأسانید المذکورۃ رجاء حصول برکتہ أطال اللہ بقاء ہ فی نشر العلم والاقتفاء بسنن المصطفی صلّی اللہ علیہ وسلّم فی صحّۃ وعافیۃ.”
حضرت والدصاحبؒ کے اس اجازت نامے کی تصویر حضرت شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ کی بعض سوانح میں شائع بھی ہوچکی ہے ۔سلسلۃ مؤلفات ورسائل سماحۃ الشّیخ عبدالعزیزبن باز رحمہ اللہ رقم 52 کے تحت ایک مجموعہ ان کے دو شاگردوں عبدالعزیزبن ابراہیم بن قاسم اور محمدزیادبن عمر التکلۃ نے اس عنوان سے شائع کیاہے:”مجموع فیہ ترجمۃ سماحۃ الشیخ عبدالعزیزبن عبداللہ بن بازرحمہ اللہ تعالی(1420_1330) وترجمۃ العلامۃ المحدث عبدالحقّ بن عبدالواحد الہاشمیّ،(1392_1302)وتحقیق “الثبت الوجیز” وہو إجازۃ العلامۃ الہاشمیّ لسماحۃ الشیخ عبدالعزیزبن باز مع ملحق إجازتہ للشیخین حمادبن محمد الأنصاریّ, وإسماعیل بن محمد الأنصاریّ, وإجازۃ الشیخ المفتی محمد شفیع العثمانیّ لسماحۃ الشّیخ رحم اللہ الجمیع.
یہ کتاب شیخ عبدالعزیزبن سلیمان المقرن کے خرچ پر” دارأصالۃ الحاضر ” نے شائع کی ہے، اور اُس میں حضرت والدصاحبؒ کے مختصر حالات زندگی بھی میرے اور بھائی صاحب مدظلہم کے حوالے سے مذکورہیں ۔
انہوں نے ہم دونوں بھائیوں کو بھی اجازت عطا فرمائی۔شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ کی فرمائش پر حضرت والد صاحبؒ نے ایک دوسرا خط امیر فیصل کے نام لکھا ، اور اُسے رجسٹری کے ذریعے اُن تک بھیجا ۔ یہ خط عربی زبان میں تھا ، اور حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکاتیب کے مجموعے میں شائع ہورہا ہے۔ یہاں اس کا اردو ترجمہ نقل کرتا ہوں جو عزیز مکرم مولانا شاکر جکھورا صاحب نے کیا ہے۔

شاہ فیصل ؒ کے نام خط

بسم اللہ الرحمن الرحیم
بخدمت عالی مرتبت وزیر اعظم فیصل حفظہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتاہوں جس نے آنجناب عالی مرتبت کو اسلام اور مسلمانوں کی ابدی امانت کا امین بنایا ہے، اور جس نے آنجناب کو حرمین شریفین کے علاقہ کا پاسبان بنایا ہے۔
عالی مرتبت!آپ جیسے حضرات پر اسلام اور مسلمانوں پرآپڑنے والی آزمائشیں، اور ذلت اور (اس کی وجہ سے) غیرتمند مسلمانوں کا کرب واضطراب مخفی نہیں ہوسکتے۔
ہم نے اور پاکستان میں ہمارے مشائخ نے ایک طویل عرصہ مسلمانوں کی اس انتہائی خطرناک بیماری، جو ان کے جسم اور روح تک سرایت کر گئی ہے، کے اسباب پر غور کیا تو جس قدر گہرائی سے سوچا اتنا ہی ہمارا یقین بڑھا کہ:
ظہور اسلام کے زمانے سے عیسائیوں کا وطیرہ رہا ہے کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انہیں زمین سے نیست و نابود کرنے کے مواقع کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی مدد فرمائی اور دشمن طاقتوں کو تنہا شکست دی، اور انہیں ذلیل کیا۔ جب وہ اپنی صلیبی جنگوں اور مشنری دعوتی سرگرمیوں میں ناکام و نامراد لوٹے ، تو انہوں نے آپس میں غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز دو باتوں میں ہے:
۱) ان کا اتحاد کہ وہ بایں طورایک جسم کے مانند ہیں کہ جب اس کے کسی عضو کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تمام جسم کو بخار اور بے خوابی ہوتی ہے۔
۲) اپنی کتاب (قرآن کریم) اور اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا پختہ علم ۔
لہٰذا مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرنے اور ان کی قوت کو بکھیرنے میں انہوں اپنی کوششیں صرف کیں۔ اور مسلمانوں میں قومیت کے جذبات کو ابھارا اور وطنیت کے ان بتوں میں روح پھونکی جنہیں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں تلے روندا تھا۔
یہیں سے پھر آپس کامقدس اسلامی رشتہ کمزور پڑا اور جو حلقے مشرق و مغرب کے مسلمانوں کو جمع کئے ہوئے تھے وہ کھل گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی تلواریں خود اپنے بھائیوں کے خلاف سونتی گئیں ، اور آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے، جس سے اسلام کی مضبوط چٹان کنکریوں میں بکھر گئی۔
دوسرے انہوں نے مسلمانوں کی سوچ کو قرآن و سنت کی شاہراہ سے دور کرنے کی بھی سازش کی۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں میں ایک ایسے نئے نظام تعلیم و تربیت کو رواج دیا اور اس میں ایسی چیزیں شامل کیں جو ان کی سوچ کو شریعت کی بے وقعتی اور کفر و الحاد اور اباحیت کی طرف لے جائیں، اور ان کے اعمال کو بے حیائی اور بد اطواری کی راہ پر گامزن کرائیں۔مسلمانوں نے ان علوم کو موجودہ دور میں معاشی سہولت اور عصر حاضرکے تقاضوں کے مطابق فنی مہارت کے پیش نظر حاصل کیا۔ تاہم وہ اُس سست زہر کو نہ بھانپ سکے جسے اجنبیوں نے اس نظام میں چھپا رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ قرآن و سنت اور اپنی تابناک تاریخ سے بالکل بے گانہ ہوگئے، اور اس قسم کی درسگاہوں کے فاضل کیلئے محض لفظ “مسلمان”جو اپنی حقیقت اور روح سے عاری ہورہ گیا، (اس لئے)کہ وہ اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں غیروں کے ایسے نامناسب طور طریقوں کو اپنا ئے ہوئے ہے جنہیں ہمارے دین کا مزاج سلیم کسی طرح قبول نہیں کرتا۔
ان باتوں سے ہمارا مقصد ان جدید فنون کی ضرورت کا انکار نہیں، کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ ان فنون کو حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ ان میں اعلیٰ مہارت پیدا کرنا کسی بھی مسلمان ملک کے لئے جو اس زمانہ میں امن وامان سے رہنا چاہتا ہو ، ناگزیر ہے۔ بلکہ ہمارا مقصود صرف یہ ہے کہ اجانب سے ان فنون کے حصول میں اُن لوگوں کی بے حیائی ، بد اطواری اور ادیان کے ساتھ مذاق سے پرہیز کرتے ہوئے ان کی سازش میں نہ آئیں، اور مسلمان اپنی کتاب وسنت کی تعلیمات کو پوری ہوشمندی کے ساتھ تھامے رکھے۔
تاہم انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے نوجوان طبقے کامعاملہ اس کے برعکس ہے ،چنانچہ انہوں نے ان لوگوں سے ہر قسم کی برائیاں تو لیں، اور فحاشی ،تھیٹروں، موسیقی، بے پردگی اور اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فساد عقیدہ، اور کتاب وسنت سے اعراض کو تو اپنالیا، لیکن جو فنون ضروری تھے انہیں تو اتنا بھی حاصل نہیں کیا جو ان کے ملک اور معاشرے کے لئے کافی ہوں، اس کے باوجود وہ اس بات پر خوش ہیں کہ انہیں ترقی حاصل ہوگئی ہے، اور اس پر کہ یہ فضول باتیں ان کی کامیابی کا ذریعہ ہیں، حالانکہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے کہ ان باتوں نے انہیں اپنے سیاسی اور اجتماعی مقاصد میں کمزوری اور ذلت کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔
یہ ہے مسلم اقوام کا وہ ناسور جو مصر میں پیدا ہو کر تمام عالم اسلام میں پھیل گیا، یہاں تک کہ اب حرمین شریفین کے دروازے تک پہنچ گیا ہے، اور اس کے درج ذیل اثرات مرتب ہوئے:
۱۔ گانوں کی آواز یہاں کی ہر گاڑی ، قہوہ خانے اور ہوٹل سے سنائی دے رہی ہے، اور عموماً مسلمان اس میں منہمک نظر آتے ہیں۔
۲۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی بیشتر کتابوں کی دکانوں میں فحش تصاویر اور معاشقوں پرمشتمل کتابوں کا وجود جو نوجوانوں کو بے حیائی کی راہ پر لے جارہی ہیں، اور جو عام طور سے یورپ یا کسی اورفرنگی ملک سے درآمد ہوتی ہیں۔ اور یہ (مصیبت) وہ ہے جو نوجوانوں کو گمراہی کی راہ پر اور اسلام اور اس کے طریقوں سے سب سے زیادہ دور لے جارہی ہے۔اگر یہ سیلاب برابررواں رہا تو ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ دیار مقدسہ میں وہ تمام (معاشرتی) بیماریاں پھیل جائیں گی جنہوں نے یورپ اور بے حیائی کی اشاعت میں اس کے نقش قدم پر چلنے والے ہر ملک کی معاشرتی بنیادوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
یہاں تک کہ خود ان کے اہل فکر رہنما آج اس بارے میں دردمند ہیں اور انہیں اس مصیبت سے خلاصی کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔
۳۔ اسی طرح مکہ ، منی اور مدینہ کے اکثر بازاروں میں مجسموں کا وجود جنہیں کھلونوں کا نام دیا جارہا ہے، حالانکہ وہ در اصل بڑے بُت ہیں۔ اور لوگ بطور تبرک واعزاز یہاں سے لئے جانے والے سامان کے ساتھ ان بتوں کو بھی اپنے وطن لے جاتے ہیں ، حالانکہ ان کا بنانا اور استعمال احادیث متواترہ اور اجماع سے حرام ہے۔
۴۔ اہل عرب کے سادہ اور خوبصورت طرز زندگی کو ترک کرنے اور اپنے تمام اطوار زندگی، کھانے پینے اور لباس میں غیر مسلم اجنبیوں کے طور طریقوں کو اپنانے کے پرو پیگینڈوں کے سامنے تیزرفتاری سے پگھل جانا (اور انہیں اپنا لینا)۔
۵۔ یہ خرابیاں تو اپنی جگہ، تاہم وہ اس بات کا پتہ بھی دیتی ہیں کہ (یہاں کے لوگ)کس قدر مغربی افکار سے متأثر ہیں، اور وہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے باطن اغیار کے غلام بنے ہوئے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے محروم ہیں۔
لہٰذا عالی مرتبت! اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے ذریعہ مسلمانوں کو صلاح عطا فرمائے ۔روئے زمین پر اب، ہمارے علم میں، آپ کے اس مقدس ملک کے علاوہ کوئی ایسااسلامی ملک نہیں جس نے اپنی بنیاد قرآن وسنت کی اتباع پر رکھی ہو، اور جس نے اس کو اپنی حکومت وسیاست کا معتمَد بنایا ہو۔ اور آپ ہی کا ملک ہے جس سے خیر کے چشمے پھوٹے، اور اسی میں مسلمان امن اور عزت پاتے ہیں، اور وہ اسی کو اپنا مرکز مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے ہیں کہ فرنگی اور الحاد کے اثرات ہنوز اپنی انتہا کو نہیں پہنچے، بلکہ وہ تو ابھی شروع ہی ہوئے ہیں، پس جناب عالی مرتبت سے امید کی جاتی ہے کہ قبل اس کے کہ وہ اپنے عروج کو پہنچے اس سیلاب کو روکیں ، اور اس مقدس ملک کو اس عظیم مصیبت سے پاک کرنے کے لئے کھڑے ہوں، جیسا کہ آپ کے معزز اسلاف شرک اور بدعتوں کے مٹانے کے لئے کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے اس ملک کو ان خرابیوں سے پاک کیا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتے ہیں جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جب وہ اللہ کی شریعت اور اسلام کے مرکز کی مدد میں لگاہو تو کیا کہنا؟ ۔
ہمارے نزدیک ان خرابیوں سے نجات صرف درج ذیل امور میں ہے:
۱) قرآن کریم کو کما حقہ (درج ذیل طریقوں سے)تھامے رکھنا:
تلاوت کے ذریعہ: کہ کوئی بچہ یا بچی ایسی نہ رہے جو قرآن کی تلاوت بمع تجوید وآداب نہ کرسکتی ہو۔
اس کو سیکھنے کے ذریعہ: یہاں تک کہ کسی رسمی (تعلیمی) ادارے میں کوئی ایسا طالب علم باقی نہ رہے جسے مکمل قرآن کریم کی تفسیر اور سنت اور حدیث کی ضروری مقدار نہ آتی ہو۔
اور اس پر عمل کے ذریعہ: کہ مبلغین دین کی طرف دعوت دیں، اسی طرح امر بالمعروف اس کے محکمہ کی طرف سے بجالایا جائے ، نیز محکمہ قضاء وعدل سے صادر ہونے والے فیصلوں کے ذریعہ (کہ وہ قرآن وسنت کے مطابق دیئے جائیں) ۔
۲۔ دین صحیح کے مبلغین کو پورے ملک میں پھیلایا جائے۔
۳۔ امر بالمعروف کے محکمے کے دائرہ اختیار کو وسیع کیا جائے۔
۴۔ (یہ تو طے ہے کہ)ہمیں جدید فنون اور ہنر سیکھنے سے اور طلبہ کو ان کی عملی تربیت دینے سے کوئی چارہ نہیں ، لیکن ان کی تربیت اس طریقے سے ہونی چاہئے کہ طلبہ ان فنون وہنر کی روح اور کنہ تک پہنچ جائیں ، اور وہ تعلیم دینے والوں کے کفرو الحاد اور فاسد نظریات سے متأثر نہ ہوں۔ اور یہ اس طرح ممکن نہیں کہ ہم اپنے نوجوانوں کو غیر مسلم ممالک میں بھیجیں۔ کیونکہ نوجوانوں کے ذہن بہت جلد وہاں کے دیکھے ہوئے فاسد نظریات اور بُرے اعمال قبول کرلیتے ہیں۔ اسلامی ملکوں کا یہ بار بار کا تجربہ رہا ہے کہ اکثر طلبہ اپنے اوقات کو کھیل کود اور عیاشی میں صرف کرتے ہیں۔ اور اپنی تعلیم اور اس میں محنت کرنے کیلئے بہت کم وقت پاتے ہیں جوان فنون میں مہارت پیدا کرنے کیلئے ناکافی ہے۔
لہٰذا ہماری رائے میں سلامتی اور فائدہ اسی میں زیادہ ہے کہ ہم اپنے ہی ملک میں ایسے فنی ادارے قائم کریں اور ان میں ماہرین کو ان کے شایان شان تنخواہوں کے ساتھ بلائیں۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ ہم صرف ان ماہرین کا انتخاب کریں جو اپنے فن میں لگے ہوئے ہوں، اور اپنے مذہب کی طرف دعوت سے تعرض نہ کرتے ہوں۔
یہ معاملہ ، گو مسلسل کاوش کا متقاضی ہے، تاہم آپ جیسے عالی ہمت حضرات کے لئے ان شاء اللہ تعالیٰ کوئی مشکل نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ان اداروں سے پھر ایسے افراد تیار ہوں گے جو علوم میں نمایاں معلومات کے حامل ہوں گے اور فاسد نظریات اور بے حیائی کے اعمال کی گندگی سے پاک ہوں گے۔ ایسے افراد سے ان شاء اللہ مملکت کی تعمیر اور اس کے ستونوں کی تقویت میں زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
۵۔ آلات موسیقی ، تھیٹروں اور فحش اخبار اور رسالوں پر پابندی جو ہمارے نوجوانوں کو بے حیائی اور عریانی کی راہ پر برابر لے جارہے ہیں ، جیسا کہ حکومت نے-اللہ تعالیٰ اسے جزاء خیر عطا فرمائے۔ اہل بدعت کی کتابوں پر پابندی لگائی ہے۔
۶۔ کسی خاتون کو حرمین میں بغیر برقعہ اور حجاب کے داخلے کی اجازت نہ دی جائے جیسا کہ حکومت عراق کی طرف سے کربلا اور نجف میں کسی عورت کو بغیر برقعہ کے جانے پر پابندی عائد ہے، جبکہ ہم یہاں اللہ کے حرم میں یہ دیکھتے ہیں کہ ایسی خواتین پھرتی ہیں جن کا لباس نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، اور وہ اپنی زیب وزینت کی نمائش کرتی پھرتی ہیں، لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔
عالی مرتبت! یہ ہیں وہ تمنائیں جو مسلمانان مشرق و مغرب کے تصورات میں برابر رہتی ہیں، اور انہیں پورے کرنے کی امید آں عالی مرتبت کے سوا کسی سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ ان تمناؤں کو آپ کی کاوشوں کے ذریعہ حقیقت بنادیں۔ اور اس پر ان شاء اللہ آپ کو عظیم اجر ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ آپ کو خیر کی کنجی اورشر کے دروازے بند کرنے والا بنائیں، اورہماری دعا ہے کہ آپ ہمیشہ خیریت سے رہیں۔
والسلام مع فائق الاحترام
بندہ محمد شفیع
مفتی ٔ پاکستان
صدر دار العلوم کراچی
یہ خط امیر فیصل کو پہنچا ، اور اُن کی طرف سے اُس خط کا جواب مکہ مکرمہ میں شاکر سکندر صاحب مرحوم کے پتے پر اُس وقت پہنچا جب ہم لوگ مدینہ منورہ میں تھے ۔ حضرت مولانا سحبان محمود صاحب ؒ اُس وقت مکہ مکرمہ میں موجود تھے ، اور انہوں نے ایک دستی خط کے ذریعے حضرت والد صاحبؒ کو بتایا کہ یہ جواب (غالباًمعلم شاکر سکندر صاحب کی طرف سے ) مدینہ منورہ روانہ کردیا گیا ہے ، لیکن مدینہ منورہ کے قیام کے دوران ہمیں وہ خط نہیں ملا تھا ۔ جب ہم جدہ پہنچے تو حضرت مولانا نوراحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اُس کی نقل وصول کرنے کے لئے امیر فیصل ؒ کے دفتر پہنچے ، تو وہاں اچانک وزیر خارجہ کی گاڑیاں آگئیں، ان کی جگہ بنانے کے لئے ایک فوجی گاڑی کو پیچھے ہٹاکرڈرائیور نے دیوار سے لگایا، تو وہاں مولانا ؒ کھڑے تھے ، وہ گاڑی اور دیوار کے درمیان دب گئے ، اور شور کرنے پر گاڑی ہٹائی ،تو وہ کافی زخمی ہوچکے تھے ۔پاکستانی سفارت خانے کی معرفت ایک ہسپتال میں کئی روز زیر علاج رہنا پڑا ،اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہڈی سلامت تھی ، اس لئے چند دن علاج کے بعد صحت ہوگئی ، لیکن اس حادثے کی وجہ سے تمام تر توجہ اُس کی طرف ہوگئی، اور ہماری روانگی کا وقت آگیا۔اس لئے امیر فیصل کے جواب کی کوئی نقل نہ مل سکی ۔
مزید ملاقاتیں
مکہ مکرمہ کے قیام کے دوران اور بھی قابل ذکر ملاقاتیں ہوئیں ۔ شیخ رشید فارسی مکہ مکرمہ کے بڑے علم دوست بزرگ تھے ۔ انہوں نے مدرسہ صولتیہ میں پاک وہند کے علماء کے اعزاز میں ظہرانہ دیا جس میںحضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ،حضرت مولانامحمدیوسف صاحبؒامیر تبلیغی جماعت اورمدرسہ صولتیہ کے مہتمم مولانامحمدسلیم صاحبؒ بھی تشریف فرماتھے۔حضرت والد صاحبؒ نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ :
” کھانے کے بعد حضرت شیخ الحدیثؒ نے ایک مشورہ طلب کیاکہ آج مولوی محمد سعید صاحب امیرجماعت تبلیغ مکہ مکرمہ حیات الصحابہ کی جلد ثانی لے کرمفتی اکبرمحمدابن ابراہیم صاحب کے پاس گئے تھے۔انہوں نے شکایت کے لہجہ میں کہاکہ مولانامحمد یوسف صاحب اتنے عرصہ سے یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں، مگر ہم سے ملاقات کاارادہ نہیں فرمایا۔مولاناسعیدنے کچھ علالت طبع اور کثرت مشاغل کاعذربیان کیا،مگراب مشورہ طلب بات یہ تھی کہ اس وقت ملاقات کرنامناسب ہے یا نہیں۔مولاناسلیم صاحب کی رائے ہوئی کہ اب مناسب نہیں۔ پہلے ہوتاتومناسب تھا۔مگرشیخ الحدیث اوراحقرکی رائے یہ ہوئی کہ ان حضرات سے ملاقات ہوناہی چاہیے،پہلے ہوتی توزیادہ بہترتھااب بھی مضائقہ نہیں۔اس لیے طے یہ ہواکہ عصرکے بعد مولانامحمدیوسف صاحب کے ساتھ احقر بھی جائے۔۱۰بجے مولاناسعید صاحب مولانایوسف صاحب کو لے کر سورتی ہوٹل ہماری جائے قیام پرپہنچ گئے۔میں اورمولوی نوراحمدصاحب ساتھ ہوئے۔مفتی اکبرکے مکان پرپہنچے توان کے بھائی عبدالملک ابن ابراہیم بھی یہیں موجودتھے۔میں نے مولانامحمدیوسف صاحب اورجماعت تبلیغ کاتعارف کرایا،پھرمولانامحمدیوسف صاحب نے اپنی دعوت اورطریق دعوت کے متعلق کچھ تفصیل بتلائی۔مفتی اکبراورعبدالملک صاحب خوش ہوئے اور دعاء دیتے رہے۔قبیل مغرب ان سے رخصت ہوکرحرم شریف پہنچے۔”
مدینہ منورہ میں
۴؍محرم ۱۳۸۴ ؁ ھ کو حضرت والد صاحبؒ کے ساتھ مدینہ منورہ حاضر ہونے کی سعادت ملی ۔ یہاں بھی حرم شریف کی حاضری کے علاوہ حضرت والد صاحبؒ نے علماء اور ذمہ دار حضرات سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔ چنانچہ جامعہ مدینہ منورہ کے اصول تفسیر کے استاذشیخ سلیم بن سالم بن سرحان شُرّاب جو فلسطین کے باشندے تھے ، حضرت والد صاحبؒ سے ملاقات کیلئے جائے قیام پرتشریف لائے ۔ان سے ملاقات کا ذکر حضرت والد صاحبؒ نے اس طرح فرمایا ہے ۔
“ان حضرات سے اس بات پرتفصیلی گفتگوکی کہ یہاں کے عام علماء کارخ صرف فروعی مسائل اوراجتہادی اختلاف کی طرف دیکھتاہوں ،اوراجماعی منکرات بلکہ کفروالحاد کا جوسیلاب اس ملک کوسب طرف سے گھیرچکاہے، اور حرمین کے اندرداخل ہوچکاہے ،اس کی طرف التفات نہیں ۔مسائل اجتہادیہ میں کسی جانب کو ترجیح تودی جاسکتی ہے مگر جانب مخالف کو باطل یا منکر نہیں کیاجاسکتاجس کاازالہ واجب ہواور غیرمنکرپرنکیرکرناخود منکرہوتاہے۔ میراخیال ہے کہ یہ حضرات جس چیز کو علمی جہاد اور دینی خدمت سمجھ کر اپنی پوری توانائی اس میں خرچ کررہے ہیں وہ یہی مفروغ عنہا مسائل اورغیر منکرپرانکار کی فہرست میں داخل ہیں اور جن معاملات میں وہ عنداﷲوعندالخلق مسؤل ہیں ان کی طرف ادنی التفات نہیں۔مسجد نبوی کے سامنے یورپ سے درآمد کیے ہوئے مجسمات اورتماثیل کا بازار لگاہواہے اس کے اوپرہی ہیئۃ الامربالمعروف کادفترہے مگران کو یہ کام منکرنظرنہیں آتابلکہ ائمہ مجتہدین کے اختلافی مسائل اورمقلدین کے اعمال کومنکر سمجھنے اوراسی کے ازالہ میں لگے ہوئے (ہیں)۔
غضب یہ ہے کہ مسجد نبوی (میں)ننگی ساقوں والی عورتیں بے تکلف پھرتی ہیں کیایہ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی ایذاء کاسبب نہیں مگر یہاں کے علماء قبر کے سامنے کسی کے نزدیک کھڑے ہوجانے کو جتنامنکر سمجھتے ہیں اور اس کے لیے پولیس کے انتظامات کرتے ہیں بقیع میں عورتوں کے داخلہ کے لیے پولیس استعمال کرتے ہیں ان کو اس طرف التفات نہیں ہوتاکہ پولیس کااستعمال ان سے زیادہ اس میں ہونا چاہیے کہ مجمع علیہ منکرات سے حرم شریف کوبچایاجائے۔ کسی عورت کوبغیر پورے برقعہ کے حرم میں داخلہ کی اجازت نہ دی جائے ،مگرآپ حضرات کو توحنفی شافعی کے جھگڑوں سے فرصت نہیں ادھر دھیان کیسے ہو۔شیخ سلیم ماشاء اﷲسلیم ہی ہیں پوری گرم جوشی سے میری باتوں کوتسلیم کیا، اور اس کے مطابق کوشش کاوعدہ فرمایا۔اسی مجلس میں شیخ عبدالکریم مدنی بھی تشریف لے آئے تھے۔ مغرب تک مجلس رہی۔”
عاشوراء کے دن جامعہ مدینہ منورہ کے ایک اور مؤثر استاذ شیخ عطیہ سے ملاقات کا تذکرہ حضرت والد صاحبؒ نے اس طرح فرمایا ہے ۔
“آج رباطِ بخاری میں قاری عباس صاحب نے دوپہر کے کھانے پرمدعوکیا بعد ظہرکھانے سے فراغت کے بعد اصطفا منزل میں آرام کیا۔عصرسے عشاء تک حرم شریف میں رہے۔یہاں شیخ عطیہ استاد وناظم تعلیم جامعہ مدینہ ملاقات کے لیے صفہ کے قریب حصیات(۱) پرمیرے پاس تشریف لائے،فروعی مسائل پر پوری توانائی صرف کرنا اوراصول ومہمات سے صرفِ نظرکرنا جویہاں کے حضرات میں مشاہدہ ہوتا تھا اس کاذکرموصوف سے بھی آیا، اورحرمین کے منکرات کا تفصیلی ذکر ہوا۔شیخ عطیہ شیخ الجامعہ ہیں شیخ ابن باز صاحب کے خاص معتمد اور امتحانات وتعلیمات کے ناظم بھی ہیں۔ ماشاء اﷲبہت اچھے عالم ہیں ہر علم وفن میں دستگاہ ہے، اور مہمات ِاسلام کی طرف اعتناء بھی۔ موصوف نے بڑی گرم جوشی سے موافقت فرمائی اورفرمایا کہ اس طرح کے مذاکرات کاسلسلہ مسلسل ہوتارہے توان شاء اﷲبہت مفید ہوگا۔مفتی اکبر اور امیرفیصل کو جومذکرات احقر نے دیے تھے ان کو بھی پڑھا، بہت پسندیدگی اورضرورت کا اظہار فرمایا۔احکام القرآن مصنفہ احقر بزبان عربی کے چنداجزاء مستقلہ جو مستقل رسالوں کی صورت میں میرے ساتھ تھے، ان کاذکرآگیاتوان کے دیکھنے کے لیے اشتیاق کا اظہارکیا،اس کے مطابق صبح کو یہ رسائل ان کے پاس بھیج دیے۔انہوں نے شیخ الجامعہ سے اس کا تذکرہ کیاتوانہوں نے بھی فرمایا کہ مفتی ٔپاکستان اگراجازت دیں، توہم اس کی طباعت کاانتظام یہاں کردیں۔میرے پیش نظر پہلے سے یہ تھاکہ یہ عربی زبان کے رسائل پاکستان کے لیے اتنے مفید نہیں جتنے یہاں ،اس لیے وعدہ کیا کہ میں اُن پر نظرثِانی کرکے بھیج دوں گا۔”
حضرت والد صاحبؒ کے ایک ہم سبق مولانا مغیث الدین صاحب بجنوری ملاقات کے لیے تشریف لائے ۔مختلف مسائل پر گفتگورہی ۔نیز شیخ عطیہ نے ناشتے پر مدعو کیا جہاں مولانا ناظم ندوی صاحب ؒ بھی مدعو تھے ۔اُسی دن نماز عشاء کے بعد معلوم ہواکہ جامعہ کے سب سے بڑے عالم استاذ التفسیر شیخ محمد امین شنقیطی(مؤلف اضواء القرآن)حضرت والد صاحبؒ سے ملاقات کے لیے جائے قیام پرتشریف لائے۔یہ وہی بزرگ ہیں جن کی تفسیر”اضواء القرآن” اب شائع ہوکر اہل علم میں بہت مقبول ہوچکی ہے، اُس وقت اُس تفسیر کی صرف پہلی جلد شائع ہوئی تھی ، وہی اُنہوں نے حضرت والد صاحبؒ کو پیش کی ، اوردیر تک تفسیر القرآن بالقرآن کے موضوع پر گفتگو کرتے رہے ۔مفتی ٔ اکبراورامیر فیصل کو جو یادداشتیں حضرت والد صاحبؒ نے بھیجی تھیں،اُن کا ذکر آیا ، تو بڑی قوت سے اُن کی تائید فرمائی، اور دیرتک اسی پر گفتگورہی کہ موجودہ دور کے بہت سے علما ء کو صرف فروعی اختلافات کی اہمیت نے مہمات اسلام سے غافل کررکھاہے۔موصوف نے بھی اس سلسلہ کی اپنی بعض مساعی کا ذکر کیاکہ امیرفیصل جب جامعہ میں آئے توتفسیر قرآن کے ضمن میں یہی اموران کے گوش گزارکئے گئے تھے۔
جامعہ کے ایک اور استاذ شیخ عبدالقادر صاحب استاذ بعد مغرب حرم شریف میں حضرت والد صاحبؒ کے پاس تشریف لائے۔آپ سے سال گزشتہ کی ملاقات تھی ۔شیخ عبدالعزیزبن صالح رحمہ اللہ امام حرم مدنی ورئیس القضاۃ سے گزشتہ سال آپ ہی نے حضرت والد صاحبؒ کی ملاقات کرائی تھی۔مولانا نوراحمد صاحبؒامام حرم شیخ عبدالعزیز صالح ؒ کے پاس گئے اور مفتی ٔاکبراورامیرفیصل کودئیے ہوئے مذکرات ان کو سنائے شیخ نے ان کو سنا،مجلس میں اور بھی بہت سے علماوفضلا ء موجود تھے۔ سب نے تجاویزسے نہ صرف اتفاق کیابلکہ ان کی ضرورت کااظہارفرمایا۔
۱۵؍ محرم کو بعد عصر مدینہ منورہ سے روانگی تھی ۔ عصر کے متصل شیخ عطیہ تشریف لائے ،اور حضرت والد صاحبؒ کے رسائل جواحکام القرآن کا حصہ ہیں، ساتھ لائے اور فرمایا کہ ان میں سے چار کا میں مکمل مطالعہ کرچکاہوں،بہت مفید پایا۔بعض مواقع میں کچھ مشورے بھی دیے۔
رخصت سے کچھ قبل جب کہ ہم سب سامان اور بستر ے باندھ چکے تھے اچانک شیخ الجامعہ عبدالعزیز بن باز بھی رخصتی ملاقات کے لیے ہمارے کمرہ میں تشریف لے آئے۔استاذعطیہ ساتھ تھے۔یہاں اس وقت بیٹھنے کے لیے کوئی بوریہ بھی نہ تھا۔فوراًایک بندھاہوابستر کھول کر شیخ کو اس پر بٹھایا۔ان کی سادگی اور مسافرنوازی کا گہرا اثر دل پرہوا۔اوربیٹھ کر جوکلمہ فرمایا وہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے، فرمایاکہ یہ دنیاساری ہی نزول وارتحال کا نام ہے ،پھر بہت دعائیں دے کررخصت چاہی۔ہم بھی فوراروانگی کی فکر میں تھے،ان کورخصت کرکے رخصتی سلام کے لیے حرم شریف میں چلے گئے اورکچھ دیر کے بعد واپس آئے تو ٹیکسی تیارتھی۔روانگی کے وقت حضرت والد صاحب ؒ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے:
تَلَفَّتُّ نحو الحیّ حتی وجدتنی وجعت من الإصغاء لیتا وأخدعا
یعنی “میں اپنے قبیلے کی طرف مڑ مڑکر دیکھتا رہا ، یہاں تک کہ میری گردن کی رگیں دکھنے لگیں۔”
مدینہ منورہ سے واپسی پر جدہ میں قیام کیا ، اُسی میں حضرت مولانا نوراحمد صاحبؒ کے ہسپتال میں داخل ہونے کا واقعہ پیش آیا جو اوپر لکھ چکا ہوں ۔ جب ان کی طرف سے کچھ اطمینان ہوا ، تو حضرت والد صاحبؒ اور ہم دونوں بھائی عمرے کے لئے گئے ، دو راتیں وہاں قیام کیا ، اور پھر جدہ واپس آئے ۔ حضرت مولانا نوراحمد صاحبؒ اُس وقت تک الحمد للہ سفر کے قابل ہوچکے تھے ۔ چنانچہ۲۰؍محرم ۱۳۸۴ ؁ھ کو حج کے اس مبارک سفر سے واپسی ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے فریضۂ حج کی ادائیگی کے علاوہ حضرت والد صاحب قدس سرہ کی معیت میں بیشمار فوائد عطا فرمائے ۔
حضرت والد صاحبؒ نے اس سفر میں جو کوششیں فرمائیں ، اُن کے بعض نتائج بفضلہ تعالیٰ آنکھوں سے نظرآئے۔ مثلاً یہ کہ اُس وقت یہ منظر عام تھا کہ حرم شریف سے نکلتے ہی دوکانوں پر گانے بجانے کا سلسلہ رہتا تھا ، جانداروں کے مجسمے فروخت کے لئے رکھے نظر آتے تھے ، الحمد للہ ، اب یہ تکلیف دہ مناظر اب نظر نہیں آتے ۔اسی طرح حرم شریف میں بعض مغرب زدہ خواتین کھلی پنڈلیوں کے ساتھ دکھائی دیتی تھیں ،اور حضرت والدصاحبؒ نے اپنے خطوط میں ان باتوں کو بطور خاص ذکر فرمایا تھا۔،چنانچہ غالباً اس کے بعد ہیئۃ الأمر بالمعروف نے ان باتوں کا نوٹس لے کر ان پر عملی کارروائی کی ۔فروعی اختلافات پر ضرورت سے زیادہ زور دینے میں بھی وقتی طورپر کچھ کمی محسوس ہوئی ۔سعودی علماء کرام کے متوجہ کرنے سے حضرت والد صاحبؒ کے رسالے “وحدت امت” کا عربی ترجمہ مولانا صہیب صاحب نے کیا جس کا نام بندے کی تجویز پر”أخلاف أم شقاق؟”رکھا گیا ، اور بعد میں اُسے بڑے پیمانے پر وہاں تقسیم کیا گیا ۔ افسوس ہے کہ بعد میں کچھ انتہا پسند حضرات نے ان کوششوں کو مزید آگے بڑھنے نہ دیا ، اور ابھی اس سلسلے میں اور کام کی ضرورت باقی ہے ۔

(ماہنامہ البلاغ :جمادی الثانیہ ۱۴۴۱ھ)

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2020-04-10T00:55:51+05:00