حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(بیسویں قسط )

کورنگی ٹاؤن شپ کی تعمیر
یہ زمانہ وہ تھا کہ جنرل محمد ایوب صاحب مرحوم کا مارشل لاء نیا نیالگا تھا، اور انہوں نے بہت سے انقلابی کام شروع کئے ہوئے تھے۔پاکستان کے قیام کے بعد مہاجرین کی مسلسل آمد کی وجہ سے ان کی آبادکاری کامسئلہ ابھی تک پوری طرح حل نہیں ہوا تھا ۔مہاجرین کی اکثریت جھونپڑیاں ڈال کر ان میں رہ رہی تھی، اور بہت سے لوگ فٹ پاتھ پر سوتے تھے ۔ ان کی آبادکاری کے لئے جنرل محمد ایوب خان صاحب نے کورنگی ٹاؤن شپ کا منصوبہ شروع کیا ، اور جنرل محمد اعظم خان صاحب مرحوم کو اس کی تکمیل کا فریضہ سونپا،چنانچہ انہوں نے انتہائی برق رفتاری سے کورنگی کے وسیع علاقے میں مکانات کی تعمیر شروع کی ،جس کی نگرانی وہ بذات خود موقع پر آکر کیا کرتے تھے، چنانچہ بہت مختصر عرصے میں چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے کورنگی روڈ سے لے کر ہمارے دارالعلوم کے سامنے تک ایک وسیع آبادی تیار ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں بھی رفتہ رفتہ شہری زندگی کی کچھ سہولیات حاصل ہوگئیں۔پانی کی لائن کورنگی کالونی تک آئی تو ہمیں بھی اُس میں سے حصہ ملا، اور پائپ لائن دارالعلوم تک پہنچ گئی، جس کی وجہ سے شرافی گوٹھ سے پانی لانے کی زحمت باقی نہ رہی، اور دارالعلوم ہی میں ایک زیر زمین حو ض تعمیر کرکے پانی کا ذخیرہ اُس میں جمع کیا جانے لگا ۔پھر رفتہ رفتہ بجلی کی لائن بھی ہم تک پہنچ گئی، اور لالٹینوں اورہنڈوں کے بجائے اب ہم براہ راست بجلی سے فیض یاب ہونے لگے۔
ہماراقیام بدستور اسی چھوٹے سے مکان میں رہا جو حاجی کبیرالدین صاحب مرحوم نے بناکر دارالعلوم کو دیا تھا۔حضرت مولانا خورشید عالم صاحب رحمۃاﷲعلیہ اپنے گھر والوں کو دیوبند سے لے آئے تھے، اور ایک الگ مکان میںمنتقل ہوگئے تھے۔ اس لئے اب اس مکان کے دونوں کمرے ہم تین آدمیوں کے تصر ف میں تھے۔میں ،بھائی صاحب اور حکیم مشرف حسین صاحب مرحوم۔ حکیم مشرف صاحب اگلے سال تعلیم سے فارغ ہوگئے، تو ہم اس گھر میں دو ہی رہ گئے۔ یہ گھردارالعلوم کی دوسری عمارتوں سے الگ تھلگ تھا، اُس کے دائیں طرف ایک کچی سڑک گذرتی تھی جس پر کبھی کبھی اونٹ گاڑیوں کی آواز آجایا کرتی تھی۔اُس کے بعد جنگل ہی جنگل تھا، گھر کے سامنے مغرب میں دورتک ریتیلا صحراپھیلا پڑا تھا ،بس جنوب مغرب میں قریب ترین عمارت درس گاہوں کی تھی جورات کو سنسان ہوجاتی تھی ،چنانچہ جب رات کا اندھیرا گہرا ہوتا، تو پورے ماحول پر ایک مہیب سا سناٹا چھا جاتا تھا۔کچھ عرصہ بعدبھائی صاحب کی شادی ہوگئی تو انہیں باربار لاہور جانا پڑتا، اور اس طرح بکثرت مجھے تنہائی اور سناٹے کے اس ماحول میں تنہا بھی رہنا پڑتا تھا۔
شہر سے تعلقات
پڑھنے کے زمانے سے پڑھانے کے دورتک ہمارا اکثر قیام دارالعلوم ہی میںرہا ،لیکن چونکہ والدین اور دو بھائی ہمارے لسبیلہ ہاؤس کے مکان میں مقیم تھے، اس لئے ہر جمعرات کو ہم گھر جایا کرتے تھے ۔
میرا اس قسم کا کوئی باقاعدہ دوست نہیں تھا جیسے لڑکپن کے دور میں عام طورسے لوگوں کے بہت سے دوست بن جایا کرتے ہیں، اور ان کے ساتھ کھیلوں اورتفریحات میں وقت گذرا کرتا ہے ۔ لے دے کر حکیم مشرف حسین صاحب (مرحوم )تھے، جن کامیں پیچھے باربار ذکر کر چکا ہوں ، لیکن وہ بذات خود ایک باغ وبہار آدمی تھے جن کے بہت سے دوست تھے ، اور ان کی چھٹی کے دن ان کے ساتھ گذرا کرتے تھے ، اور میں چھٹی میں ان کی رفاقت سے محروم رہتا تھا۔البتہ جناب محمد کلیم صاحب جن سے ہمارے برنس روڈ کے قیام کے زمانے میں دوستانہ تعلقات قائم ہوئے تھے، وہ کبھی کبھی جمعہ کے دن ہمارے یہاں آجایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اﷲعلیہ کے خلیفۂ اجل حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اﷲعلیہ کراچی تشریف لائے ہوئے تھے ، کلیم صاحب ان سے بیعت ہوگئے تھے، اور ان پر حضرت ؒ کی تعلیمات کا ایک رنگ چڑھا ہوا تھا، چنانچہ وہ تشریف لاتے ، تو اکثرحضرتؒ ہی کی باتیں کیا کرتے ، اورمیں ان سے خوب خوب استفادہ کیا کرتا۔
بعد میں کبھی کبھی حکیم مشرف حسین صاحب مرحوم بھی جمعہ کو عصر کے بعدہمارے یہاں آنے لگے ، اور پھر کافی عرصہ یہ معمول رہا کہ عصرکے بعد ہم تینوں کہیں سیر کے لئے چلے جاتے ۔ اس زمانے میں شہر میں ہجوم کا وہ عالم نہیں تھا جو آج نظر آتا ہے ، اس لئے ہماری سیر صدر کے علاقے میں کسی جگہ چائے پی کر فرئیر ہال یا ایوان صدر تک ہوا کرتی ، اور کبھی کبھار کلفٹن کے ساحل پر بھی چلے جاتے تھے۔
اس سے زیادہ دوستیوں کا کوئی سلسلہ میری لڑکپن کی زندگی میں نہیں تھا، بلکہ جب میں اپنے دوسرے ہم عمر وں کو دیکھتا ، تو کبھی کبھی مجھے تنہائی کا بھی احساس ہوتا تھا ۔
جمعرات کی شام سے جمعہ کی شام یاہفتے کی صبح تک کا وقت شہر میں گذرتاتھا ۔حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے اپنے گھر میں بڑا اچھا کتب خانہ رکھا ہوا تھا ۔ یہ وہ کتابیں تھیں جو حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی کم آمدنی کے باوجود مختلف جگہوں سے خرید خریدکر جمع کی تھیں، اورتفسیر، حدیث اور فقہ کے علاوہ تاریخ اور شعروادب، فلسفہ، اورسائنس کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ مجھے چونکہ کتابوں کا شوق تھا ،اس لئے جمعرات کو گھر پہنچنے اور گھر والوں سے ملنے کے بعد میں حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے اس کتب خانے سے رشتہ جوڑلیتا تھا۔ ظاہر ہے کہ پورے کتب خانے کا مطالعہ تو ممکن نہیں تھا ۔لیکن میں ہر کتاب کو الٹ پلٹ کر اس کے نام ، موضوع اور اُس کے مصنف کے بارے میں معلومات حاصل کرتا، اور فہرست پر نظر ڈال کر جس موضوع سے کچھ دلچسپی معلوم ہوتی، اُس کا مطالعہ بھی کرلیتا تھا ۔ اس طرح میں نے الحمد ﷲرفتہ رفتہ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کی الماریوں میں سے ایک ایک کتاب کا تعارف حاصل کرلیا تھا، اورمجھے یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ کونسی کتاب کہاں رکھی ہے۔چنانچہ جب حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کو کسی کتاب کی ضرورت ہوتی تو وہ مجھ سے منگواتے،اور میں تلاش کئے بغیر فوراً لے آیا کرتا تھا ۔ اس طریقے سے مجھے اس کابھی اندازہ ہوگیا تھا کہ جب کسی مسئلے کی تحقیق کی ضرورت ہو تو مجھے کونسی کتابوں سے مدد مل سکتی ہے۔
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بر صغیر کے اہم رسالے اور ہفتہ وار اخبارات کثرت سے آیا کرتے تھے، اور ہر ہفتے میں تازہ آئے ہوئے اخبارات اورسالوں پر ایک نظر ضرور ڈالتا تھا ، اور ان سے یہ معلوم ہوتا رہتا تھاکہ برصغیر کے علمی حلقوں میں کونسے معاملات زیر بحث ہیں ۔اس کے علاوہ مجھے چونکہ مطالعے اور ادب و انشاء کا شوق تھا، اس لئے میں اپنے پڑھنے کے زمانے ہی سے معاصر علماء اور اہل قلم کی کتابیں پڑھتا رہتا تھا ۔اکابرعلماء دیوبند کے علاوہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ،ؒ حضرت مولانا سیدسلیمان ندوی ؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا شبلی نعمانی ؒوغیرہ کی کتابوں سے میں مضامین سے زیادہ ادب وانشاء اور علمی باتوں کو عام فہم اورادبی انداز میں بیان کرنے کا طریقہ خاص طورپر دیکھا کرتا تھا۔دینی گھرانوں میں ناولوں کا مطالعہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا ، لیکن میں نے نسیم حجازی مرحوم کے تمام ناول بھی اس لئے پڑھے تھے کہ اگر عربی ادب سیکھنے کے لئے مقامات ، متنبی اور سبعہ معلقہ پڑھے جاسکتے ہیں تو اردوادب اور تاریخ کے لئے نسیم حجازی کے ناول ان سے بدرجہا غنیمت ہیں، اور ان سے ادب اردو کاایک خاص ذوق حاصل ہوتا ہے ، اور فی الجملہ دینی فکر کو بھی مدد ملتی ہے ۔
اسی حوالے سے میں نے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اﷲتعالیٰ کی متعددکتابیں بھی ذوق وشوق سے پڑھی تھیں۔چونکہ اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم سے مجھے اپنے اساتذہ اور خاص طورپر حضرت والدصاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی صحبت وتربیت حاصل تھی ، اور فی الجملہ اسلامی علوم سے بھی کچھ نہ کچھ مناسبت پیدا ہوگئی تھی، اس لئے مولانا مودودی ؒ کی کتابوں میں جو باتیں جمہورسے ہٹی ہوئی نظر آتیں، ان کا احساس بھی ہوجاتا تھا ،اور ان سے اختلاف بھی ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علمی مضامین کی تفہیم کے لئے ا ن کا اسلوب بیان مجھے مذکورہ بالا تمام مصنفین سے کہیں زیادہ مؤثر اور بلیغ معلوم ہوتاتھا ۔دوسری طرف انہوں نے مغربی افکار پر جس انداز سے تنقید کی ہے ، وہ بھی مجھے بہت قابل تعریف معلوم ہوتی تھی، اور ساتھ ہی یہ حسرت بھی ہوتی تھی کہ کاش!مغرب کا اتنا مؤثر نقاد فقہی اور اعتقادی مسائل میں جمہورسے الگ راستہ اختیار نہ کرتا یا کم ازکم اپنے اجتہادات کی تائید میںدوسرے اہل علم کے خلاف جارحانہ اسلوب اختیار نہ کرتا، تو امت ایک بڑے انتشار سے بچ جاتی ۔ لیکن اﷲ تعالیٰ اُنہیں اپنی مغفرت سے نوازیں، انہوںنے جس تندی اور تیزی کا مظاہرہ مغربی افکار کے خلاف کیا ، ادبیت کے جوش میں تقریباً اُتنی ہی تیزی روایتی علماء کے خلاف بھی استعمال کی ، اوراس کا یہ نتیجہ نکلا کہ جو حضرات دین کے معاملے میں انہی کے لٹریچر پراکتفاء کرتے ہیں ،(اور کم ازکم اُس وقت جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے عام کارکنوں کی صورت حال کچھ ایسی ہی تھی)ان کے دلوں میں یہ تصور شعوری یا غیر شعوری طورپر جاگزین ہوجاتا ہے کہ دین کی جو فہم مولانامودودیؒ نے پیش کی ہے ، وہ کسی اور نے پیش نہیں کی ، اور روایتی علماء نے دین کی جامعیت کو سمجھنے کے بجائے بزرگوں کی تقلید کے تحت اپنے آپ کوچند مسائل کے خول میں بند کرکے امت کی صحیح رہنمائی میں کوتاہی کی ہے، اور خاص طورپر اسلام کے سیاسی پہلو میں ان کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں ہے۔
بعض حضرات کے ذہن میں یہ تصور اس درجہ سما جاتا ہے کہ روایتی علماء اورطلبہ کے ساتھ ان کے رویے میں ان کی فی الجملہ تحقیر اور اپنی فکر پر غرورادا ادا سے ٹپکتا محسوس ہوتا ہے۔ الحمد ﷲبعدمیں ،خاص طورپر حضرت قاضی حسین احمد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کی امارت کے دورمیں، اس رویے میں کافی بہتری پیدا ہوئی ہے ، لیکن اُس وقت صورت حال کچھ ایسی ہی تھی ۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں مشکوۃ یا دورۂ حدیث کی جماعت میں تھا تو اسلامی جمعیت طلبہ کی ایک ٹیم دارالعلوم دیکھنے کیلئے آئی ۔ اُس وقت میرے ہاتھ میں ایک فائل تھی جس میں میں اپنے استاذ کی وہ تقریر لکھا کرتا تھا جووہ درس کے دوران ارشاد فرماتے تھے۔اسلامی جمعیت طلبہ کی وہ ٹیم مجھے راستے میں ملی ، اور اُس کے سربراہ نے (جن سے بعدمیں میرے کسی قدر دوستانہ مراسم بھی ہوگئے تھے، پھر وہ لندن چلے گئے تھے ، ) میرے سلام کا جواب دینے کے بعد قدرے ٹیڑھی گردن کے ساتھ میری اُس فائل کے بارے میں مجھ سے پوچھا”: مولوی صاحب! یہ آپ کیا لئے ہوئے ہیں ؟ ” میں نے عرض کیا : “یہ میرے استاذ کی تقریر ہے جو میں درس کے دوران لکھا کرتا ہوں۔” انہوںنے چھوٹتے ہی ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا : “اس میں علم غیب کے بارے میں گفتگوہے؟ ” اس میں یہ واضح طنز پنہاں تھا کہ آپ لوگ تومدرسوں میں اسی قسم کے فرقہ وارانہ مسائل میں الجھے رہتے ہیں، دین کے اصل کام سے (جو درحقیقت ہم کررہے ہیں )آپ کا کیا واسطہ؟
میں نے اُن کے انداز گفتگو کے پیش نظر ان سے زیادہ بات کرنا مناسب نہ سمجھا، اور ایک مختصر سا جواب دے کر آگے روانہ ہوگیا ۔ لیکن اس قسم کے متعدد واقعات میرے سامنے تھے کہ مولانا مودودی صاحبؒ سے ہٹ کر انہیں ہردینی کام فرقہ واریت، تنگ نظری اور کوتاہ بینی کا مظہر نظر آتا تھا۔
لسبیلہ ہاؤس کا وہ علاقہ ہمارے وہاں آباد ہونے کے وقت نیا نیا آبادہوا تھا ۔اس سے پہلے وہاں کچھ مزدوروں کی جھونپڑیاں تھیں۔ اس وقت انہی غریبوں نے ایک چھپر نما مسجد تعمیر کرلی تھی ، اور اس کا نام “مسجد نعمان”رکھا تھا۔اس کے امام صاحب بھی انہوں نے ہی منتخب کئے تھے جن کی قراء ت ایسی تھی کہ ان کے پیچھے نماز کی صحت کا فیصلہ بڑے تأمل کے بعدہی کیاگیا،اوربعض بدعات اس کے علاوہ تھیں، لیکن حضرت والدصاحب رحمۃ اﷲعلیہ انفراداًنماز پڑھنے کے بجائے ان کے پیچھے پڑھنے کو گوارا فرمالیتے تھے۔بعدمیںانگلش بوٹ ہاؤس کے بانی جناب تاج صاحب مرحوم نے مسجد کے تمام اخراجات اپنے ذمے لے کر مسجد کو باقاعدہ تعمیر فرمایا، تو اُس وقت اُن امام صاحب کی مناسب خدمت کرکے ان کے بجائے مولانا عزیزالرحمن صاحب کو امامت پر مقررکیا ، جو آج تک ماشاء اﷲخوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔
لیکن مسجد کے آس پاس تیزی سے پڑھے لکھے لوگوں کے مکانات کااضافہ ہوتارہا۔وہاں ایک دوکان کے مالک جناب مسعود صاحب مرحوم جماعت اسلامی کے بڑے فعال کارکن تھے ، اور انہوں نے محلے کے نوجوانوں میں اسلامی جمعیت طلبہ کا کام پھیلانے میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔
جب مسجد نعمان میں اسلامی جمعیت طلبہ کے میرے ہم عمر نوجوان مجھے ملتے،تو میں ان سے کنارہ کرنے کے بجائے اُن سے خندہ پیشانی سے ملتا ، اوران کے اچھے کاموں میں تعاون بھی کرتا ۔ رفتہ رفتہ ان کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ یہ شخص ہم سے کوئی اجنبیت نہیں رکھتا ، چنانچہ ان میں سے کچھ ساتھی مجھ سے بے تکلف بھی ہوگئے ، اور کبھی کبھی مجھ سے نماز روزے وغیرہ کے بارے میں کوئی مسئلہ بھی پوچھ لیتے تھے ، لیکن اس انداز سے کہ ” ہم آپ سے پوچھ تو رہے ہیں، لیکن آپ قرآن وحدیث سے اس کی دلیل بھی بتائیں، کیونکہ ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو بس مولوی صاحب کی بات پر بھروسہ کرکے کوئی بات مان جائیں ۔ہمیں قرآن وسنت سے سمجھائیں”۔ یہ بات جمعیت کے ایک ایسے ساتھی نے کہی جن کا میرے پاس بکثرت آنا جانا ہوگیا تھا، اوربے تکلفی بھی ہوگئی تھی ۔ میں نے اُن سے کہا کہ : ” میرے بھائی! اگرمیں آپ کے اس مطالبے پر کوئی آیت یا حدیث پڑھ دوں، تو کیا آپ سمجھ جائیں گے کہ اس آیت یا حدیث کا کیا مطلب ہے ؟ اور اُس سے وہ مسئلہ نکل رہاہے یا نہیں ؟” کہنے لگے “: نہیں ، مگر آپ اس کا ترجمہ بھی تو بتائیں، اس سے ہماری سمجھ میں آجائے گا کہ دلیل صحیح ہے یا غلط ؟” میں نے کہا کہ : ” یہ آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ میں نے ترجمہ صحیح کیا ہے یا نہیں؟” کہنے لگے کہ” یہ ہم جانتے ہیں کہ آپ ترجمہ غلط نہیں کریں گے ” میں نے کہا کہ” ایک ہی عبارت کے بعض مرتبہ کئی ترجمے صحیح ہوسکتے ہیں ،آپ کو کیاپتہ کہ میں نے کون سا ترجمہ کیا ہے ؟ اور اگر بالفرض ترجمہ صحیح بھی ہو، تو آپ کے پاس یہ پتہ لگانے کا کیا راستہ ہے کہ اس آیت یا حدیث کے مخالف کوئی اور آیت یا حدیث ہے یانہیں ؟” اس پر وہ خاموش ہوگئے اور اس کے بعدرفتہ رفتہ ان کے مطالبات دھیمے پڑگئے، اور پھررفتہ رفتہ ان کے ذہن میںتبدیلی بھی آئی۔
ایک طرف مجھے ان کے اس ذہن کا اندازہ تھا ، لیکن دوسری طرف اُس وقت ملک میں نفاذ اسلام کے لئے کوئی اور مؤثر تحریک سامنے نہیں تھی، اس لئے ان کی جو کوشش امت کے اجماعی مسائل کے لئے ہورہی تھی ، اُس میں ان کی تائیدوحمایت بھی مناسب معلوم ہوتی تھی، اور حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ ان کے بارے میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲتعالیٰ عنہ کا یہ جملہ بکثرت ارشادفرمایا کرتے تھے کہ:
” إن ہم احسنوا فأحسن معہم، وإن أساؤوا، فاجتنب إساء تہم ”
یعنی :”جب وہ کوئی اچھا کام کریں، تو تم بھی ان کے ساتھ اچھا کام کرو، اور جب وہ کوئی برائی کریں تو ان کی برائی سے اجتناب کرو”۔
اس لئے میں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھے، اور کبھی کبھی ان کے اجتماعات میں ان کی فرمائش پر خطاب بھی کیا ۔اُسی زمانے میں جناب منور حسن صاحب، جوبعد میں جماعت اسلامی کے امیر بھی رہے، اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن تھے ، ان اجتماعات میں ان کا بھی کئی مرتبہ ساتھ رہا۔جمعیت کے کارکنوں میں مجھے بہت سی خوبیاں بھی نظر آئیں ، ان میںسے بہت سے نوجوان مجھے اپنے جذبے اور جدوجہد میں قابل رشک بھی محسوس ہوئے، ا ورمیں ان کی تنظیمی صلاحیتوں کا بھی معترف رہا ،البتہ ان کی جس فکر کا میںنے اوپر ذکر کیا ہے ، موقع بہ موقع اس کے بارے میں اپنی گذارشات بھی پیش کرتا رہا جن کا الحمدﷲاثر بھی ظاہر ہوا۔ پھرمیری اپنی مصروفیات خود اتنی بڑھ گئیں کہ رفتہ رفتہ یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔
نحووصرف کی تدریس
تدریس کے ابتدائی سالوں میں عربی نحووصرف کی تمام کتابیں نحومیر سے لے کرشرح جامی تک پڑھانے کی نوبت آئی ، لیکن مجھے نحووصرف کو فلسفہ بناکرپڑھانے سے کبھی مناسبت نہیں ہوئی۔اس لئے کافیہ اور شرح جامی میں تحریرسنبٹ ،سوال کابلی ، اور سوال باسولی وغیرہ کی بنیادپر جو چون وچرا کی جاتی ہے ،(بلکہ اب تو یہ چون وچرا ہدایۃ النحو ہی سے شروع ہونے لگی ہے ) میںاُس سے گذرا ضرور، لیکن یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہی، اور طلبہ کو بھی سمجھائی کہ نحووصرف کااصل مدار کلام عرب کے سماع پر ہے ، اور اُسے عقلی اور منطقی دلائل کے تابع قرار دینا ایسا نکتہ بعدالوقوع ہے جس میں الجھ کر نحووصرف کا جو اصل مقصد ہے،(یعنی تحریر وتقریر کی درستی ) وہ فوت ہوکررہ جاتا ہے۔عام طور پر اس کی تاویل یوں کرلی جاتی ہے کہ اس سے طلبہ کاذہن کھلتا ہے ، اور انہیں نکتہ رسی کی عادت پڑتی ہے، جسے مدارس کی اصطلاح میں ” تشحیذ الاذہان” (ذہن تیز کرنا)کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات اُس وقت تو فی الجملہ درست ہوتی، جب نحووصرف کے قواعد کو استعمال کرنے کی صلاحیت طلبہ میں پوری طرح پیدا ہوگئی ہوتی ، اور طلبہ صحیح پڑھنے، صحیح لکھنے ،اور صحیح بولنے پر پوری طرح قادرہوچکے ہوتے، پھر ایک اضافی فائدے کے طورپر یہ مقصد بھی حاصل کرلیا جاتا، چنانچہ شاید ابتدا میںایسا ہی ہوتا ہوگا۔لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ طلبہ کو ابھی عربی عبار ت صحیح پڑھنے پر بھی قدرت نہیں ہوئی ہوتی ، چہ جائیکہ وہ صحیح بول اورلکھ سکیں ، اور شروع ہی میں انہیں ان بحثوں میں الجھا دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ نحووصرف کا اصل فائدہ حاصل نہیں کرپاتے ۔
لیکن مدارس میں “کافیہ”وغیرہ پڑھانے کا جو طریقہ عرصے سے جاری تھا، طلبہ بھی اُس کے عادی تھے، اورکسی استاذ کے لئے اُس طریقے سے انحراف اپنے آپ کو طلبہ میں غیر مقبول بنانے کے لئے کافی تھا۔اگراستاذخودسے وہ بحثیں نہ چھیڑے ، تو کوئی نہ کوئی طالب علم اُن سے متعلق کوئی سوال کردیتا تھا ۔ اس کا حل میں نے اس طرح کیا کہ ” کافیہ” پڑھاتے ہوئے میں نے شروع کے چنددن اُسی معمول کے طریقے کو اختیار کیا۔لیکن پھرطلبہ کو بتایا کہ اس کے کیا نقصانات ہیں ؟ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کی ذاتی کتابوں میں علامہ سیوطی رحمۃ اﷲعلیہ کی ایک کتاب” الاقتراح فی اصول النحو” مجھے ہاتھ لگ گئی تھی ۔ میں نے اُس کی مدد سے نحو کی اصل بنیادیں طلبہ کے سامنے بیان کیں ، اور اُس کے بعد جب کوئی طالب علم چون وچرا پر اصرار کرتا ،میں اُس سے عبارت پڑھوالیتا جس میں وہ لازماًغلطی کرتا ، اور اس طرح اُس پر یہ واضح ہوجاتا کہ وہ اس چون وچرا کے چکرمیں نحو کی غرض وغایت ( یعنی الاحتراز عن الخطأ اللفظی فی الکلام ) سے کتنی دور چلا گیا ہے۔اور اُس کے بعد میں نے اپنے طریقے سے ساری کتاب پڑھائی۔
جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭