حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(بتیسویں قسط )

حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب عارفی رحمۃ اللہ علیہ سے اصلاحی تعلق اور بیعت
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم وتلقین اور تربیت کے اثر سے یہ خیال توہمیشہ دامنگیررہا کہ تنہا حروف ونقوش کا کتابی علم انسان کی اصلاح کے لئے کافی نہیں ہوتا ، اور جب تک انسان کسی مرشد سے اصلاح کا تعلق قائم نہ کرکے اس کی رہنمائی میں عملی تربیت حاصل نہ کرے ، عادۃً اس کے اعمال واخلاق کی اصلاح نہیں ہوتی ۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بکثرت ہمیں اپنے بزرگوں سے تعلق کے واقعات سنایا کرتے تھے ،اور ہمیں اہتمام کے ساتھ معاصر بزرگوں کی خدمت میں لے جاتے ۔ چنانچہ بچپن ہی سے الحمد للہ تعالی حضرت علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی ؒ، حضرت علاّمہ سید سلیمان ندوی ؒ ، حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب امرتسریؒ، حضرت مولانا خیر محمد صاحبؒ ، حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھول پوری ؒ،حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ،حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحب عارفی ؒ، حضرت مولانا عبد الغفور صاحب مدنی ؒ ،حضرت مولانا رسول خان صاحب ؒ ، حضرت بابا نجم احسن صاحب ؒ اور نہ جانے کتنے اور بزرگوں کی زیارت اور ان کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا،جس کی وجہ سے بفضلہ تعالیٰ اللہ والوں کی صحبت کی اہمیت دل میں بیٹھی ہوئی تھی، اوربچپن ہی سے دل میں تھا کہ کسی شیخ سے باقاعدہ اصلاحی تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔شروع میں دل کا بہت زیادہ میلان حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف تھا ۔حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے یہ تاکید تھی کہ جب کبھی لاہور جانا ہو ، تو حضرتؒ کی خدمت میں ضرور حاضری دو ، چنانچہ الحمد للہ اس پر عمل بھی ہوتا تھا ، مگر میری عمر اُس وقت اتنی چھوٹی تھی کہ حضرتؒ سے اصلاحی تعلق یا بیعت کی درخواست کی ہمت نہیں ہوتی تھی ، یہاں تک کہ میرے بچپن ہی میں حضرتؒ کی وفات ہوگئی ، البتہ ۱۹۵۵ ء میں حضرت ؒ کی شاگردی کا شرف اللہ تعالیٰ نے غیبی طورپر عطا فرمایا جس کا واقعہ پہلے لکھ چکا ہوں۔
دارالعلوم سے درس نظامی کی تکمیل کے بعد کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق قائم کرنے کا خیال اور زیادہ اہمیت کے ساتھ دل میں پیدا ہوتا رہا ۔اُس وقت حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ہفتہ وار اصلاحی مجلس خود ہمارے گھر میں ہوا کرتی تھی ۔ الحمد للہ تعالیٰ اُس مجلس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوتی رہی ۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ عام طورپر اس مجلس میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ کے ملفوظات پڑھتے ، یا کسی سے پڑھواتے ، اور پھر ان کی تشریح فرمایا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے استاذ حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے جب میں نے اس مجلس میں شرکت کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ؒ کی مجلس میں جب بیٹھو ، تو اس تصور سے نہیں کہ وہ میرے والد ہیں، بلکہ اس تصور سے کہ وہ اللہ والے ہیں ، تب فائدہ ہوگا۔ الحمد للہ پھر اسی نیت سے بیٹھنے کی توفیق ہوئی ،اوراس مجلس کی بدولت اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حضرت حکیم الامت ؒکے علوم وفیوض سے ایک طبعی لگاؤ پیدا ہوگیا ۔اس وقت جب اصلاحی تعلق قائم کرنے کا خیال آتا ، تو دل بے ساختہ یہ کہتا کہ جب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حضرت والد صاحب ؒ کی شکل میں خود ہمارا گھر ایک دریائے فیض بنا ہواہے ، تو کہیں اور جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ حضرت والد صاحبؒ سے صرف ایک باپ بیٹے ہی کا تعلق نہیں تھا ، بلکہ الحمد للہ ان کی عقیدت سے بھی دل معمور تھا ، اور ان کی ہر بات دل میں اترتی محسوس ہوتی تھی ، اس لئے ایک مرتبہ میں نے ان سے بیعت کی درخواست پیش کردی ۔ اس پر حضرت والد صاحبؒ نے یہ جواب دیا کہ اگر چہ ماضی میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ باپ نے بیٹے کو بیعت کیا ہے ، لیکن نسبی تعلق کے ساتھ اس تعلق کا حق اداکرنا مشکل ہوتا ہے ، اوریہ نسبی تعلق افاضہ اور استفاضہ میں عموماً رکاوٹ بن جاتا ہے ، اس لئے مناسب یہی ہے کہ کسی اور سے تعلق قائم کرو۔
حضرت ڈاکٹر عبد الحی عارفی قدس اللہ تعالیٰ سرہ حضرت حکیم الامت ؒ کے ممتاز خلفاء میں سے تھے، اور حضرت والد صاحب ؒان کے بارے میں اصغر گونڈوی مرحوم کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے :

خط ِ ساغر میں رازِ حق و باطل دیکھنے والے
ابھی کچھ لوگ ہیں ساقی کی محفل دیکھنے والے

اور کبھی یہ شعر :

مجھے دیکھ آئینۂ یار ہوں میں
جلاکردۂ حسنِ دلدار ہوں میں

حضرت والد صاحبؒ اور حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ رہا کرتا تھا ، اور ہمیں بھی حضرت ؒ کی خدمت میں حاضری کا موقع ملتا رہتا تھا ، لیکن ابھی تک باقاعدہ اصلاحی تعلق قائم کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی ۔ آخر کارحضرت والد صاحبؒ نے انہی سے اصلاحی تعلق قائم کرنے اور بیعت کا مشورہ دیا ، اور ۱۳۸۹ھ مطابق ۱۹۶۹ء میں ایک دن وہ برادر معظم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب مدظلہم کواور مجھے حضرتؒ کی خدمت میں لے گئے، اور حضرتؒ سے ہمیں بیعت کرنے کی فرمائش کردی۔ حضرتؒ نے حسب معمول محبت وشفقت کا معاملہ فرمایا ، اور اگلے دن ہم دونوں کو تنہائی میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ۔اگلے دن ہم دونوں حاضر ہوئے ، اور بفضلہ تعالیٰ حضرتؒ کے دست حق پرست پر بیعت کی سعادت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔
حضرتؒ کی ہفتہ وار مجلس جمعہ کے دن ہوا کرتی تھی ۔الحمدللہ تعالیٰ بیعت ہونے کے بعد اُس میں ہر ہفتے حاضر ہونے کی توفیق ہوتی رہی ۔بعد میں حضرت والاؒ نے خاص ہم لوگوں کے لئے پیر کے دن ایک اور مجلس شروع فرمادی ۔الحمد للہ تعالیٰ اس مجلس میں بھی سالہا سال پابندی سے حاضر ہونے کی توفیق ہوتی رہی ۔مجلس کے علاوہ بھی حسب موقع اور خاص طورپر کسی معاملے میں حضرتؒ کی ہدایات حاصل کرنے کے لئے حاضری ہوتی رہی ۔ اور خط و کتابت کے ذریعے بھی بفضلہ تعالیٰ مستقل اپنے حالات کی اطلاع دینے اور حضرتؒ کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش جاری رہی ۔
حضرت ؒ کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سترہ سال اصلاحی تعلق قائم رکھنے کا شرف عطا فرمایا ۔جب ان سترہ سالوں پر نظر ڈالتا ہوں ، تو حضرتؒ کی طرف سے بے انتہا الطاف وعنایا ت اور محبت وشفقت کاایک عجیب منظر نظر آتا ہے ۔ہر حاضری کے موقع پر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرتؒ کسی نہ کسی طرح اپنے شیخ ؒ سے حاصل کردہ فیوض ہمارے دل ودماغ میں انڈیل دینے کے لئے بیتاب ہیں ۔اس تمام عرصے میں اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں ،اپنی طرف سے تو غفلت ہی غفلت رہی ، لیکن حضرت ؒ کی شفقتوں نے زبردستی کچھ ایسی باتیں دل میں اتار دیں کہ الحمد للہ طریق کا صحیح مفہوم ذہن نشین ہوگیا ۔ حضرتؒ کی خدمت میں اپنی اصلاح کے لئے جو خطوط لکھے ، اور حضرت ؒ کی طرف سے ان کے جو دلنشین جوابات موصول ہوئے وہ الحمد للہ تعالیٰ میرے پاس محفوظ ہیں ، اور آج بھی میرے لئے مشعلِ راہ بنے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے چند خطوط جو عمومی فائدے کے ہیں ، ذیل میں درج کرتا ہوں ۔
ایک مرتبہ میں نے حضرتؒ کو لکھا :
“یہ خلش ذہن میں باقی ہے کہ جو کچھ کام ہم کررہے ہیں ، اُن میں یہ کیسے معلوم ہو کہ کہ نیّت درست ہے یا نہیں ، جبکہ مشاہدہ بھی ہے ، اور نصوص بھی اس پر دلالت کرتی ہیں کہ بعض اوقات عمل صالح ہوتا ہے ، لیکن نیّت فاسد ہوتی ہے ، اور اس کی وجہ سے وہ عمل حبط ہوجاتا ہے ، اسی لئے احادیث میں نیّت کے تحفظ کی تاکید آئی ہے۔ تو یہ تحفظ کااہتمام کس طرح کیا جائے اپنی طرف سے یہ کہہ تو لیتے ہیں کہ کہ ہماری نیّت درست ہے ، لیکن خطرہ یہ رہتا ہے کہ یہ محض زبانی جمع خرچ تو نہیں ۔نیت جو قلب کا فعل ہے ، محض زبان کے ذریعے الفاظ کہدینے سے تو ادا نہیں ہوگا ۔اور قلب کو ٹٹولا جائے ، تو اس میں صحیح نیت کے ساتھ بعض اوقات کچھ دوسرے تصورات بھی شامل نظر آتے ہیں ۔ان حالات میں نیت کی درستی کااطمینان کیسے ہوسکتا ہے ؟ ”
حضرتؒ نے جواب میں تحریر فرمایا:”جب یہ معلوم ہے کہ نیت ارادۂ قلب کو کہتے ہیں ، تو اکثر ہمارے معمولات غیر شعوری طورپر اسی ارادۂ قلبی سے ہوتے رہتے ہیں ۔ہر وقت تجدید نیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگر عمل کے درمیان میں یہ خیال ہو کہ یہ عمل ریاکارانہ ہورہا ہے ، تو یہ محض وہم ہے ، ابتدا میں یہ نیت نہ تھی۔ہاں وہ عمل جو ابتدا ہی سے ریا کی نیت سے کیا جائے ، وہ خالص ریا ہے ۔درمیان عمل میں پھر نیت بدلی نہیں جاسکتی ، بلکہ اس عمل کو جاری رکھا جائے گا ، بعد میں استغفار سے اس کا تدارک ہوجائے گا۔”
میں نے جو لکھا تھا کہ :” اور قلب کو ٹٹولا جائے ، تو اس میں صحیح نیت کے ساتھ بعض اوقات کچھ دوسرے تصورات بھی شامل نظر آتے ہیں ۔ان حالات میں نیت کی درستی کااطمینان کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کے جواب میں حضرتؒ نے فرمایا: “نیت فعل اختیاری ہے ، اور تصورات غیر اختیاری ہیں ، اس لئے نہ قابل اعتبار ہیں ، نہ قابل اعتناء ۔”
ایک اور خط میں بندہ نے حضرتؒ کو لکھا :” پچھلے دوشنبہ کو حضرت والا نے “کبر ” اور “عجب” کے بارے میں جو بصیرت افروز تقریر فرمائی ، اس کا دل پر اثررہا ، لیکن جب اپنے حالات پر اس کو منطبق کرنے کی کوشش کرتا ہوں ، تو خیال یہ ہوتا ہے کہ اپنے کسی بھی وصف کو یوں تو اپنا کوئی کمال نہیں سمجھتا ، لیکن اللہ تعالیٰ کی عطائے محض کے طورپر بسااوقات اپنے اندر بعض خوبیاں معلوم ہوتی ہیں ۔ان پر ادائے شکر بھی کرتا ہوں ، اور ان خوبیوں کے ادراک سے دل کو حظ اور سرور بھی معلوم ہوتا ہے ۔یہ کیسے پتہ چلے کہ یہ حظ اور سرور عُجب ہے یا نہیں ؟ اگر یہ عجب ہے تو اس کا علاج کیا ہو، اور اگر عجب نہیں ہے ، تو ایسے خیالات بکثرت آتے ہیں ۔کیا بے فکررہوں کہ یہ خیالات عجب نہیں ہیں ؟ ”
حظ وسرور کے بارے میں حضرتؒ نے جواب دیا: “یہ کیفیت عین ایمان اور علامت صدق ہے ۔” اور مذکورہ حالات میں “عجب” کے شبہے کے بارے میں فرمایا:” عجب کا شبہہ ہی علامت اخلاص ہے ۔اللہ تعالیٰ کیفیت اخلاص میں پیہم ترقی عطا فرمائیں ۔دل سے دعا کرتا ہوں ۔”
جس زمانے میں بندہ سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ میں جج مقرر ہوا، اس وقت ایک خط میں حضرتؒ کو لکھا:”کچھ عرصے سے بطور خاص اپنے اندر یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ عوام کی ملامت کا دل میں کافی خوف پیدا ہوگیا ہے ، بالخصوص اس بات کا بہت خوف محسوس ہوتا ہے کہ جب سے احقر کو حکومت کے بعض کاموں میں دخیل ہونے یا بعض سرکاری مناصب کی خدمت کا موقع ملا ہے ، اُس وقت سے لوگ مجھے سرکاری درباری آدمی نہ سمجھنے لگیں ۔اگرچہ بار بار کے استخارے اور حضرتِ والا کے مشورے کے بعد فیما بینی وبین اللہ دل اس بات پر مطمئن ہے کہ ان شاء اللہ دینی مقاصد کے لئے یہ کام احقر کے لئے درست ہے ، اور مجھے یہ کام ضرور کرنا چاہئے ، لیکن لوگوں کی اس ملامت کا خوف اکثر و بیشتر دل پر مسلط رہتاہے “۔
حضرتؒ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا: “کیا کسی نے ابتک ایسا سمجھا بھی ہے ، یا محض وہم اور وسوسہ ہے جو یقیناً حبِّ جاہ سے ناشی ہے ۔اس پر بھی ندامت اور استغفار واجب ہے ۔ کیا اپنی ہستی کے ساتھ کسی دینی کمال وصفت کا انتساب متصور ہے جس کے زائل ہونے کا خوف ہے؟ اس اندیشے کاازالہ استغفار ہے ۔یہ دعا بہت مجرب ہے: “اَللّٰہُمَّ اقْذِفْ فِیْ قَلْبِیْ رَجَائَ کَ ، وَاقْطَعْ رَجَائِیْ عَمَّا سِوَاکَ.” ہر نماز کے بعد پڑھا کریں ۔ تمام حالات مذکورہ کے پیش نظر دل سے دعا کرتاہوں ۔اللہ تعالیٰ آپ کو تمام مکائدنفس سے محفوظ رکھیں ، اور ہر مقام پر اپنے حفظ وامان میں عزت وعافیت کے ساتھ رکھیں ، اور ہر حال میں آپ کی نصرت وحمایت فرمائیں ۔آمین “۔
اس کے بعد بندہ نے حضرتؒ کو لکھا :”جیسا کہ حضرت والا نے تصدیق فرمادی ہے کہ یہ خوف حُبِّ جاہ سے ناشی ہے ، اس لئے بڑی فکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے نجات عطا فرمادیں ۔حضرت اس کے لئے جو تدبیر تجویز فرمائیں گے ، ان شاء اللہ اس کو اختیار کروں گا ۔”
حضرتؒ نے جواب دیا: “حبّ جاہ کا وہم جس وقت ہو، فوراً استغفار کرلیں ، اور اپنے کام میں مشغول رہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ مکائد نفس سے محفوظ ومامون رکھیں ۔آمین”
ایک اور خط میں بندہ نے مذکورہ بالا خیالات اور حُبِّ جاہ کے بارے میں لکھا کہ اس کی زیادہ فکر ہوگئی ہے، تو حضرتؒ نے تحریر فرمایا:” کسی کی طرف توجہ ہی نہ کریں ، نیت اپنے اختیار میں ہے ، رجوع الی اللہ ہوجانے کے بعدمطمئن رہیں ۔حبِّ جاہ کا احساس خود اس کا علاج ہے جس کا تدارک استغفار سے ہوجاتا ہے ۔”
ایک مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری کے بعد میں نے حضرتؒ کو لکھا: ” احقر کو روضۂ اقدس پر حاضری کے وقت ہمیشہ ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے ۔سلام کے معروف کلمات عرض کرنے کے بعد نہ وہاں سے جلد ہٹنے کو دل چاہتا ہے ، اور نہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اور کیا عرض کروں ؟ اکثر خاموش کھڑا رہتا ہوں ، پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد دوبارہ صلوۃ وسلام یا درود شریف عرض کرتا ہوں ۔۔۔اگر حضرتِ والا سلام عرض کرنے کا صحیح طریقہ ارشاد فرمادیں ، تو آئندہ کے لئے یہ کشمکش رفع ہو۔ یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ دیر تک کھڑا رہنا ادب کے مطابق ہے یا نہیں ؟ ”
حضرتؒ نے جواب میں تحریر فرمایا: “ادب محبت یہ ہے کہ جوبات ہو، مختصر ہو، روایات میں ہے کہ صحابۂ کرام ؓ مواجہہ شریف میں بہت مختصر قیام کرتے تھے ۔۔۔صرف اس قدر سلام عرض کرتے تھے:السلام علیک أیہا النبیّ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ. پھر ہٹ جاتے تھے ۔لیکن اس زمانے میں جبکہ حاضری کے مواقع بہت کم ملتے ہیں، اگر ادباً سلام عرض کرنے کے بعد کچھ دعائیں کرلی جائیں تو کچھ مضائقہ نہیں ، مگر بہت مختصر ۔ میرا ذوق تو یہی ہے جو عرض کیا ، لیکن قدم مبارک کی طرف جالی کے قریب قبلہ رُخ بیٹھ کر جس قدر عرض معروض کرے یا خاموش بیٹھا رہے ، ہر حالت میں سعادت ہی سعادت ہے۔”
حرمین شریفین کی حاضری ہی کے متعلق میں نے حضرتؒ کو لکھا کہ : ” اس مرتبہ چونکہ حرمین شریفین میں قیام بہت مختصر تھا ، اس لئے احقر نے دونوں مقامات پر چند خاص حضرات کے سوا کسی کو اپنی آمد کی خبر نہیں کی ، تاکہ جووقت ملے ، حرمین شریفین ہی میں نصیب ہوجائے ، اس کی بناپر بعض حضرات کو شکایت بھی پیدا ہوئی ، اور اندیشہ ہوا کہ اس طرح تعلقات کا حق تو تلف نہیں ہوا ۔ ۔۔ایسے مواقع پر حضرت ِ والاسے صحیح طرزِ عمل کی تلقین کی درخواست ہے ۔”
حضرتؒ نے جواب دیا: “میرا ذوق تو یہی ہے کہ وہاں حاضری کی کسی کو اطلاع ہی نہ دی جائے ، جس قدر بھی وقت ملے ، حرمین شریفین کے اندر ہی رہا جائے ۔البتہ یہ بھی ایک فطری امر ہے کہ احباب سے بر بناء تعلق بیگانہ وار بھی نہیں رہا جاتا ، اس لئے نظم اوقات میں صرف خاص احباب کے لئے کوئی مختصر سا وقت مقرر کرلیا جائے ، تاکہ انتشار فکر نہ رہے۔وہاں تعلقات کا حق ادا کرنے نہیں جاتے ، اور نہ یہ حق کوئی حقِ واجب ہے ۔”

(ماہنامہ البلاغ :ذی الحجہ۱۴۴۱ھ)

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭