حسنِ معاشرت اور آدابِ میزبانی

خطاب:حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم

حسنِ معاشرت اور آدابِ میزبانی

شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ کی کتاب “آداب المعاشرت” کا درس دیتے ہوئے معاشرت کے موضوع پر جامعہ دارالعلوم کراچی میں بروز اتور بعد نمازِ عصر بیان فرمایا جو بہت پُر اثر اور مفید تھا ، قائین کی خدمت میں پیش ہے ، اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔آمین۔ _________________ادارہ

خطبۂ مسنونہ کے بعد فرمایا!
حقوق کی ادائیگی
کئی ہفتوں سے آدابِ معاشرت کابیان چل رہاہے، جوکہ دین کابہت ہی اہم حصہ ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تصوف،طریقت اورسلوک کاان باتوں سے کوئی تعلق نہیں،حالانکہ حقوق کوان کی حدود کے ساتھ ساتھ صحیح صحیح انجام دینے کانام ہی تصوف وطریقت ہے۔ حضرت امام غزالی ؒ جوکہ تصوف کے امام ہیں اوران کی کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ تصوف کی اعلیٰ درجے کی کتاب ہے،انہوں نے ایک پوری جلداسی آدابِ معاشرت کے موضوع پرمخصوص کی ہے۔
مہمان کے حقوق
یہاں پرحضرت والا حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے معاشرت کے احکام میں سے ’’مہمان کے حقوق‘‘ کابیان فرمایاہے،یہ حقوق قرآن وسنت سے ماخوذہیں۔قرآنِ کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کاذکرہے اورایک روایت کے مطابق مہمان نوازی کاباقاعدہ سلسلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہی شروع ہواہے۔حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہے:
مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ
تم میں سے جوشخص اللہ پراورآخرت پرایمان رکھتاہو،اس کو چاھئے کہ اپنے مہمان کااکرام کرے۔
ایک اورحدیث میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد مروی ہے:اِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا : بیشک تمہارے ملنے جلنے والوں کاتم پرحق ہے۔
یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص واقعے کے تحت بیان فرمائی ہے جوکہ بہت ہی سبق آموزہے،اس سے دین کی صحیح سمجھ بھی پیداہوتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ کاواقعہ
واقعہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ بہت جلیل القدر صحابی تھے، بڑے عابد و زاہد بزرگ تھے، ان کے بارے میں بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ان کے والدحضرت عمرو بن العاصؓنے ان کانکاح ایک اچھے حسب ونسب والی خاتون سے کروادیا تھا، حضرت عمروبن العاصؓ اپنی بہوکابہت خیال رکھتے تھے،حدیث میں الفاظ ہیں: کَانَ یَتَعَاہَدُ کَنَّتَہٗ ایک مرتبہ انہوں نے اپنی بہوسے پوچھاکہ تمہارے شوہر عبداللہ بن عمروکیسے آدمی ہیں؟بہونے جواب میں کہا، حدیث میں الفاظ ہیں:
نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ یَطَأْ لَنَا فِرَاشًا ، وَلَمْ یُفَتِّشْ لَنَا کَنَفًا مُنْذُ أَتَیْنَاہٗ
بہت اچھے آدمی ہیں،کبھی ہمارے بسترپرسوتے نہیں اورکبھی ہمارے کپڑے کھولتے نہیں۔
بہونے تعریف کرتے ہوئے ایک اشارہ بھی کردیا کہ حضرت عبداللہ بن عمروؓ اچھے آدمی ہیں، ساری رات عبادت کرتے ہیں،لیکن بیوی کاخیال نہیں کرتے،اس سے حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو تشویش ہوئی کہ شایدیہ اپنی بیوی کے حقوق پوری طرح سے ادانہیں کرتے توانہوں نے حضرت عبداللہ ؓکوبلاکروجہ معلوم کی توحضرت عبداللہ ؓنے عرض کیاکہ میں نے یہ عہدکررکھاہے کہ سارادن روزہ رکھا کروں گااورساری رات نمازمیں قرآن کی تلاوت کیاکروں گا۔ حضرت عمروبن العاصؓنے انہیں بیوی کے حقوق اداکرنے کی تاکیدفرمائی۔
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓپرعبادت کاغلبہ تھاکہ کل بروزِقیامت مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضرہوناہے،اس لئے میرے زیادہ سے زیادہ اچھے اعمال جمع ہوجائیں تومیرے لئے زیادہ بہترہے،یہ خیال کرکے انہوں نے باپ کی تاکید کوزیادہ اہم نہ جانا اوراپناطرزِعمل جاری رکھا۔یہ صورت حال دیکھ کران کے والدحضرت عمروبن العاصؓنے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوساری بات عرض کی،رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ انہیں میرے پاس بھیجنا، چنانچہ انہوں نے حضرت عبداللہؓ کوپیغام دیا۔
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ خوداپناواقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میںپیغام ملنے پرحضور ﷺکی خدمت میں حاضرہوا،جب میں پہنچا توآپ ﷺاس طرح تشریف فرماتھے کہ ایک تکیہ درمیان میں تھا، جس کے ایک طرف خودتشریف فرماتھے اوردوسری طرف مجھے بیٹھنے کا حکم فرمایااورفرمایاکہ مجھے پتہ چلاہے کہ تم نے یہ عہدکیاہے کہ تم ساری زندگی دن میں روزہ رکھاکروگے اورساری رات نمازمیں قرآن کی تلاوت کیاکروگے،کیاایساہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں یارسول اللہ! ایساہی ہے، توحضورﷺنے فرمایا:
اِنَّ لِرَبِّکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَ اِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِعَیْنِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا فَأَعْطِ کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہٗ
بے شک تم پرتمہارے رب کاحق ہے، اوربے شک تم پر تمہاری جان کابھی حق ہے اورتمہارے جسم کابھی تم پرحق ہے اور تمہاری آنکھ کابھی تم پرحق ہے اورتمہاری بیوی کابھی تم پرحق ہے اورتمہارے مہمانوں کابھی تم پرحق ہے، توہرحقدارکواس کاحق اداکرو۔
حضرت داؤدعلیہ السلام کاروزہ
رسولِ کریم ﷺنے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کوان کے ایسے عہدسے منع فرمایاجس سے دوسروں کے حقوق ضائع ہوتے ہوں اورحکم دیاکہ مہینے میں تین دن روزے رکھ لیاکرو، کیونکہ ایک نیکی کاثواب دس گنا ہوتاہے توایک روزے کاثواب دس روزوں کے برابرہوجائے گااور تین روزے رکھنے سے پورے مہینے کے روزوں کاثواب مل جائے گا۔حضرت عبداللہؓنے عرض کیا: یارسول اللہ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں، تونبی کریم ﷺنے ارشادفرمایاکہ پھرایساکیاکروکہ ایک دن روزہ رکھاکرواوردودِن افطارکیاکرو۔حضرت عبداللہؓنے عرض کیا:یارسول اللہﷺ! مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اچھا ایسا کرو کہ ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن افطار کرلیا کرو۔ حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ، آپ ﷺنے فرمایاکہ اس سے زیادہ افضل کوئی چیزنہیں،یہ حضرت داؤدعلیہ السلام کاروزہ ہے۔
رسول اللہ ﷺکی ایک سنت
پھرپوچھاکہ رات میں قرآن شریف کتناپڑھتے ہو؟حضرت عبداللہؓنے عرض کیاکہ روزانہ ایک قرآن ختم کرتاہوں،توآپ ﷺ نے فرمایاکہ ایک ماہ میں ایک قرآن مکمل کیاکرو۔انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت حاصل ہے،آپ ﷺ نے فرمایاکہ پھربیس دن میں ایک قرآن ختم کرلیاکرو۔انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں اورزیادہ کی طاقت رکھتاہوں، آپ ﷺنے فرمایاکہ پھرپندرہ دن میں ختم کرلیاکرو۔انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتاہوں،آپ ﷺنے فرمایا کہ پھردس دن میں ایک ختم کرلیاکرو۔انہوں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ! میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتاہوں،آپ ﷺنے فرمایا کہ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔رات کوعبادت میں کھڑے بھی رہو اورسوؤ بھی اوردن میں روزہ بھی رکھاکرواورکبھی افطاربھی کیاکرو۔ پھرفرمایاکہ میں رات کوسوتابھی ہوں اورقیام بھی کرتاہوںاوردن میں روزہ بھی رکھتاہوں اورافطاربھی کرتاہوںاوراپنی بیویوں کے حقوق بھی اداکرتاہوں،جومیری سنت سے اعراض کرے گاوہ مجھ سے نہیں۔
نفس کاحق
اس حدیث میں رسولِ کریم ﷺنے نہایت ہی جامع اور مؤثر اندازمیں تمام حقوق کوجمع فرمادیاہے کہ مسلمان کاکام یہ ہے کہ جس وقت جس حق کاتقاضاہے،اس کواداکرنے کاپابندبنے،جیسے جان کاحق ہے کہ اس کوبھوکانہ رکھو،خودکشی کرکے اس کوہلاک نہ کرو،اس کو ایسے کام میں مبتلانہ کروکہ اس کوکوئی بیماری لاحق ہوجائے،اس کوذلیل نہ ہونے دو۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓبن العاص کاافسوس
اس حدیث میں یہ بھی فرمایاکہ اگرتم ساری رات نہیں سوؤگے توآنکھیں اندردھنس جائیں گی،چنانچہ حضرت عبداللہؓجب بوڑھے ہوئے اورقُویٰ کمزورہونے لگے توپھریہ واقعہ سناکرفرماتے تھے کہ مجھے اب افسوس ہوتاہے کہ شروع میں نبی کریمﷺنے جوطریقہ ارشادفرمایا تھاکہ مہینے میں تین روزے رکھ لیاکرو،لیکن میں نے اصرارکرکے زیادہ کی اجازت لے لی،لیکن اب بوڑھاہوگیاہوں تومشکل پیش آرہی ہے، چنانچہ بڑھاپے یابیماری کی وجہ سے کئی کئی دن افطارکرنا پڑتاہے، لیکن چونکہ نبیِ کریمﷺکی اجازت سے ایک کام کی آغاز کیاتھا توجتنے روزے افطارکرتے،بعدمیں اتنے ہی روزے رکھتے تھے۔
حضرت ابوالدردائؓ کاواقعہ
بالکل اسی قسم کاواقعہ حضرت ابوالدردائؓکے ساتھ پیش آیا، حضرت ابوالدردائؓ بھی بڑے درویش منش صحابی تھے،بہت عبادت گزار تھے، جب شروع میں نبی کریم ﷺنے مہاجرین وانصارکے درمیان ’’مؤاخات‘‘ یعنی بھائی چارہ قائم فرمایاتھا،توحضرت ابوالدرداء ؓ کی مؤاخات حضرت سلمان فارسیؓکے ساتھ قائم فرمائی تھی۔حضرت سلمان فارسیؓ ملاقات کی غرض سے حضرت ابوالدردائؓسے ملنے کیلئے آئے،اس وقت تک پردے کے احکام نہیں آئے تھے، توانہوں نے حضرت ابوالدرداء ؓکی اہلیہ کودیکھاکہ وہ بہت ہی میلے کچیلے کپڑوں میں جارہی ہیں، حضرت سلمان فارسیؓنے ان سے پوچھاکہ آپ اس حالت میں کیوں پھررہی ہیں؟ کیونکہ شوہروالی عورت پرشوہرکاحق ہے کہ وہ کچھ اپنے شوہرکیلئے بن سنورکررہے،زینت اختیارکرے۔بیوی نے کہاکہ میں کس کیلئے زینت اختیارکروں اورکس کیلئے اچھے کپڑے پہنوں؟ تمہارے بھائی ابوالدردائؓ کاحال یہ ہے کہ دن بھر وہ روزے سے رہتے ہیں اوررات کوگھرآکرمصلے پرکھڑے ہوجاتے ہیں،میری طرف کوئی رغبت نہیں توپھرمیںکیسی زینت اختیارکروں۔
حضرت ابوالدرداء تشریف لائے، توحضرت سلمان ؓچونکہ مہمان تھے،لہٰذاان کے لئے کھاناتیارکیااورسامنے پیش کیا، حضرت سلمان فارسیؓنے حضرت ابوالدرداء ؓسے کہاکہ آئیے، آپ بھی کھائیے،انہوں نے کہاکہ میں روزے سے ہوں،حضرت سلمان فارسیؓنے کہاکہ میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گاجب تک تم میرے ساتھ نہیں کھاؤگے۔
مہمان کیلئے نفلی روزہ توڑنے کاحکم
فقہائِ کرام نے لکھاہے کہ اگرکسی نے نفلی روزہ رکھاہواہو اور کوئی مہمان آجائے یاوہ کسی کے ہاں مہمان بن کرچلاجائے اور میزبان اس کی ضیافت کرناچاہے تواس کیلئے روزہ توڑنا جائز ہے، بعدمیںاس کی قضاکرلے۔
چنانچہ حضرت ابوالدردائؓنے روزہ توڑکرحضرت سلمان فارسیؓ کے ساتھ کھاناکھایا۔
جب رات ہوئی توحضرت سلمان فارسیؓ بسترپرجانے لگے اور حضرت ابوالدردائؓنے مصلی بچھالیا،حضرت سلمانؓنے پوچھاکہ کہاں چلے؟ کہنے لگے کہ میں نمازپڑھنے لگاہوں، حضرت سلمان ؓنے کہاکہ آپ سوجائیے،چنانچہ وہ ان کے کہنے پرسوگئے۔جب تہجدکاوقت ہوا تو حضرت سلمانؓخودبھی اُٹھ گئے اورحضرت ابوالدردائؓ کوبھی تہجدکیلئے بیدار کردیا،پھرحضرت سلمان فارسیؓنے تقریباً وہی الفاظ ارشاد فرمائے جورسول کریمﷺنے حضرت عبداللہ بن عمروؓبن العاص سے فرمائے تھے:
اِنَّ لِرَبِّکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَ اِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِضَیْفِکَ عَلَیْکَ حَقًّا
بیشک تم پرتمہارے رب کاحق ہے، اوربے شک تم پر تمہاری جان کابھی حق ہے اوربیشک تم پرتمہاری بیوی کابھی حق ہے اوربے شک تم پرتمہارے مہمان کابھی حق ہے۔
حضرت ابوالدردائؓنے رسولِ کریم ﷺکوجاکریہ بات بتائی توآپ ﷺنے فرمایا:صَدَقَ سَلْمَانسلمان نے سچی بات کہی۔
دین کاخلاصہ حقوق کی پہچان ہے
سارے دین کاخلاصہ دراصل یہی ہے کہ حقوق کوپہچاناجائے کہ کس وقت کس کاکیاحق ہے؟ پہچان کرپھراس حق کواداکرنے کی کوشش کی جائے، چاہے وہ بندے کاحق ہویااللہ کاحق ہو۔ایسانہیں کہ آدمی ایک طرف کاہوکررہ جائے اوردوسرے حقوق پامال ہوتے رہیں۔اعتدال کی یہ تعلیم نبی کریم ﷺنے ارشادفرمائی ہے کہ ہر حقدار کواس کاحق اداکرو۔جب کسی بندے کاحق اداکروتووہ بھی اس نیت سے اداکروکہ میرے اللہ نے مجھے اس کاحکم دیاہے۔
اس حدیث میں ملنے جلنے والوں اورمہمانوں کے حق اداکرنے کی تاکیدبیان فرمائی گئی ہے،جس کابیان حضرت والا حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں فرمایاہے کہ مہمان کاحق یہ ہے کہ اس کااکرام کیاجائے،اس سے خندہ پیشانی سے ملو،اس کووقت دو۔
مہمان کااکرام اورحضرت عار فی ؒ کی نصیحت
میں ایک زمانے میں صحیح مسلم شریف کی شرح لکھ رہاتھاتوایک خاص وقت مقررکرکے کتب خانے میں بیٹھ کرلکھاکرتاتھا،اس وقت میں دل یہ چاہتاتھاکہ میں کسی طرح متوجہ رہوں،کیونکہ تصنیف وتالیف کاکام ایساہوتاہے کہ آدمی کوپہلے مطالعہ کرناپڑتاہے،پھراس کاخلاصہ ذہن میں لیکرکہیں لکھنے کی نوبت آتی ہے،اس دوران اگرکوئی مُخل ہوجائے توبہت خلل واقع ہوتاہے،اکثرہوتاتھاکہ وہاں پرکوئی مہمان آجاتاتھا، وہ پہلے مصافحہ کرتاتھا،پھربیٹھ کرکوئی بات چیت بھی شروع کردیتاتھا،تومیری طبیعت کوکوفت ہوتی تھی کہ میراکام رُک گیا،میں جس طرح چاہ رہاتھا،اس طرح نہیں ہوپایا۔میں نے اپنی اس کیفیت کاذکراپنے شیخ حضرت عارفی ؒسے کیا،انہوں نے ایک عجیب بات ارشادفرمائی،جس سے الحمدللّٰہ وہ کوفت کی کیفیت اگرچہ زائل نہ سہی لیکن بہت کم ہوگئی۔انہوں نے فرمایاکہ یہ سوچوکہ تم جویہ لکھ رہے ہو،یہ کس لئے لکھ رہے ہو،کیااپناشوق پوراکرنے کیلئے لکھ رہے ہویااللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کیلئے لکھ رہے ہو،اگراللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کیلئے لکھ رہے ہوتوگویااللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی چلناہے،اب اگرکوئی مہمان آگیاتواللہ تعالیٰ کاحکم آگیاکہ مہمان کی خاطرداری کرو،اس کی خیریت دریافت کرو،اس کے ساتھ ملاقات کرو،لکھنابھی اللہ تعالیٰ کیلئے تھا،یہ ملاقات بھی اللہ تعالیٰ کیلئے ہے، اگرمہمان کے آنے سے کام میں کچھ خلل واقع ہوبھی گیاتومن جانب اللّٰہ ہوا، اس وقت اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوئی کہ تمہارے پاس مہمان آئے اورتم اکرامِ ضیف کی سنت پرعمل کرو،اس لئے تمہاراتوکوئی نقصان نہیں ہوا۔
اپنی تدبیرسے ہم کوئی کام مقررکرلیتے ہیں،یہ ہماری مقررکردہ تدبیرہے،لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت میں کوئی اور چیزسامنے آگئی تواب وقت کاتقاضایہ ہے کہ تم اس کاحق پہلے ادا کرو۔ اس سے رنجیدہ ہونے یاطبیعت پربوجھ محسو س کرنے کی ضرورت نہیں۔

جاری ہے …..

٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ – جمادی الاولیٰ 1437ھ)

2020-07-05T21:58:52+05:00