احسان اور ازدواجی زندگی

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم

احسان اور ازدواجی زندگی

گذشتہ دنوں خواتین کا عالمی دن منایا گیا جس میں صنف نازک کی مظلومیت اور اس کے حقوق کی پامالی کا رونا دھونا اور معاشرے میں عورت کے مقام ومرتبے کے حوالے سے مکالمے کئے گئے ۔یوم خواتین کے نام سے ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے جو یوم مئی کی طرح کی ایک رسم ہے ، کاش اس موقع پر اسلامی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات جو خواتین کے احترام ، قدر ومنزلت اور ان کے حقوق سے متعلق ہیں ، میڈیا اجاگر کرتا تو دنیا والوں کو حکیمانہ تعلیمات کا پتہ چل جاتا ،زیر نظر مضمون میں نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اس موضوع پر بہت ہی چشم کشا اوردلنشین انداز میں مؤثر گفتگو فرمائی ہے ، موقع کی مناسبت سے حضرت والا دامت برکاتہم کی یہ گرانقدر تحریر ہدیۂ قارئین ہے ۔( ادارہ )
حضرت ڈاکٹر محمد عبدالحئی صاحب عارفی (رحمۃ اللہ علیہ) ہمارے زمانے کی ان درخشاں شخصیتوں میں سے تھے جو عمر بھر شہرت ، پبلسٹی اور نام ونمود سے دامن بچاکر زندگی گذار تے ہیں ، لیکن ان کی سیرت وکردار کی خوشبو خود بخود دلوں کو کھینچتی اور ماحول کو معطر کرتی ہے ، وہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ اور تصوف وسلوک میں ان کے خلیفۂ مجاز تھے ، چنانچہ لوگ اپنے اعمال واخلاق کی اصلاح کے لئے ان سے رجوع کرتے اور ان کی ہدایات سے فیض یاب ہوتے تھے ، ایک مرتبہ ایک صاحب حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ کے پاس حاضر ہوئے ، اور اپنا حال بیان کرتے ہوئے کہنے لگے کہ” الحمدللہ مجھے احسان کا درجہ حاصل ہوگیا ہے ، جسے حدیث کی اصطلاح میں احسان کہا جاتا ہے “۔
حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ نے جواب میں انہیں مبارکباد دی ، اور فرمایا کہ “احسان واقعی بڑی نعمت ہے ، جس کے حاصل ہونے پر شکر ادا کرنا چاہئے ، لیکن میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ احسان کا یہ درجہ صرف نماز ہی میں حاصل ہوا ہے یا جب آپ اپنے بیوی بچوں سے یا دوست احباب سے کوئی معاملہ کرتے ہیں اس وقت بھی یہ دھیان باقی رہتا ہے ؟”اس پر وہ صاحب کہنے لگے کہ ہم نے تو یہی سنا تھا کہ احسان کا تعلق نماز اور دوسری عبادتوں کے ساتھ ہے ، لہٰذا میں نے تو اس کی مشق نماز ہی میں کی ہے ، اور بفضلہ تعالیٰ نماز کی حد تک یہ مشق کامیاب رہی ہے ، لیکن نماز سے باہر زندگی کے عام معاملات میں کبھی احسان کی مشق کا خیال ہی نہیں آیا ، حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ نے فرمایا کہ میں نے اسی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے آپ سے یہ سوال کیا تھا ، بے شک نماز اور دوسری عبادتوں میں یہ دھیان مطلوب ہے ، کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں ، لیکن اس دھیان کی ضرورت صرف نماز ہی کے ساتھ خاص نہیں ، بلکہ زندگی کے ہر کام میں اس کی ضرورت ہے ، انسان کو لوگوں کے ساتھ زندگی گذارتے اور ان کے ساتھ مختلف معاملات انجام دیتے ہوئے بھی یہ دھیان رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں ، خاص طور پر میاں بیوی کا تعلق ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے دم دم کے ساتھی ہوتے ہیں ، اور ان کی رفاقت میں بے شمار اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ، بہت سی ناگواریاں بھی پیش آتی ہیں ، اور ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب انسان کا نفس اسے ان ناگواریوں کے جواب میں ناانصافیوں پر ابھارتا ہے ، ایسے موقع پر اس دھیان کی ضرورت کہیں زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں ، اگر یہ احساس ایسے وقت دل میں جاگزین نہ ہو تو عموماً اس کا نتیجہ ناانصافی اور حق تلفی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اس کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عمر کبھی اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ طبعی غصے اورڈانٹ ڈپٹ کا معاملہ نہیں فرمایا ، اور اس سنت پر عمل کی کوشش میں ، میں نے بھی یہ مشق کی ہے کہ میں اپنے گھر والوں پر غصہ نہ اتاروں ، چنانچہ میں اللہ تعالیٰ کے شکر کے طور پر کہتا ہوں کہ آج مجھے اپنی اہلیہ کے ساتھ رفاقت کو اکیاون سال ہوچکے ہیں لیکن اس عرصے میں الحمدللہ ، میں نے کبھی ان سے لہجہ بدل کر بھی بات نہیں کی ۔بعد میں ایک مرتبہ حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ کی اہلیہ محترمہ نے از خود حضرت ؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ تمام عمر مجھے یاد نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے کبھی ناگواری کے لہجے میں بات کی ہو ، اور نہ کبھی مجھے یہ یاد ہے کہ انہوں نے مجھ سے براہِ راست اپنا کوئی کام کرنے کو کہا ہو ، میں خود ہی اپنے شوق سے ان کے کام کرنے کی کوشش کرتی تھی ، لیکن وہ مجھ سے نہیںکہتے تھے ۔
حضرت ڈاکٹر صاحب کی یہ باتیں آج مجھے اس لئے یا د آگئیں کہ میں نے پچھلے ہفتے خطبۂ نکاح کے پیغام کی تشریح کرتے ہوئے یہ عرض کیا تھا کہ پر مسرت اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے تقویٰ ضروری ہے ، حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ کا یہ عمل (جو ہوا میں اڑنے اور پانی پر چلنے کی کرامتوں سے ہزار درجہ اونچے درجے کی کرامت ہے ) درحقیقت اسی تقوی کا نتیجہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی عملی تصویر تھا کہ :
“تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لئے بہتر ہوں “۔
بے شک قرآنِ کریم نے مردوں کو عورتوں پر قوام (نگران) قرار دیا ہے ، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات اور اپنے عمل سے یہ بات واضح فرمادی ہے کہ نگران ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد ہر وقت عورتوں پر حکم چلایا کرے ، بیوی کے ساتھ خادمہ جیسا معاملہ کرے ، یا اسے اپنی آمریت کے شکنجے میں کس کر رکھے ، حقیقت یہ ہے کہ خود قرآنِ کریم نے ہی ایک دوسری جگہ میاں بیوی کے رشتے کو مودّت (دوستی ) اور رحمت سے تعبیر فرمایا ہے ۔
نیز اسی آیت میں شوہر کے لئے بیوی کو سکون کا ذریعہ قراردیا ہے ، (سورۃ الروم آیت : ۲۱) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اصلی رشتہ دوستی اور محبت کا ہے ، اور دونوں ایک دوسرے کے لئے سکون اور راحت کا ذریعہ ہیں ، لیکن اسلام ہی کی ایک تعلیم یہ ہے کہ جب کبھی کوئی اجتماعی کام کیا جائے تو لوگوں کو چاہئے کہ وہ کسی کو اپنا امیر بنالیں تاکہ کام نظم وضبط کے ساتھ انجام پائے ، یہاں تک کہ اگر دوشخص کسی سفر پر جارہے ہوں تب بھی مستحسن یہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنالیں ، خواہ وہ دونوں آپس میں دوست ہی کیوں نہ ہوں ، اب جس شخص کو بھی امیر بنایا جائے وہ ہر وقت دوسرے پر حکم چلانے کے لئے نہیں، بلکہ سفر کے معاملات کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے امیر بنایا گیا ہے ، اس کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھی یا ساتھیوں کی خبر گیری کرے ، سفر کا ایسا انتظام کرے جو سب کی راحت وآرام کے لئے ضروری ہو ، اور جب وہ یہ فرائض انجام دے تو دوسروں کا کام یہ ہے کہ وہ ان امور میں اس کی اطاعت اور اس کے ساتھ تعاون کریں ۔
جب اسلام نے ایک معمولی سے سفر کے لئے بھی یہ تعلیم دی ہے تو زندگی کا طویل سفر اس تعلیم سے کیسے خالی رہ سکتا تھا ؟ لہٰذا جب میاں بیوی اپنی زندگی کا مشترک سفر شروع کررہے ہوں تو ان میں سے شوہر کو اس سفرکا امیر یا نگران بنایا گیا ہے ، کیونکہ اس سفر کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے جو جسمانی قوت اور جو صفات درکار ہیں وہ قدرتی طورپر مرد میں زیادہ ودیعت کی گئی ہیں ، لیکن اس انتظام سے یہ حقیقت ماند نہیں پڑتی کہ دونوں کے درمیان اصل تعلق دوستی ، محبت اور رحمت کا تعلق ہے ، اور ان میں سے کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے کے ساتھ ایک نوکر کا سا معاملہ کرے ، یا شوہر اپنے امارت کے منصب کی بنیاد پر یہ سمجھے کہ بیوی اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے پید اہوئی ہے ، یا اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ بیوی سے اپنی ہر جائز یا ناجائز خواہش کی تکمیل کرائے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو جو قوت اور جو صفات عطا کی ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے اس منصب کو جائز حدود میں رہتے ہوئے بیوی کی دلداری میں استعمال کرے ، اور اس کی جائز خواہشات کو حتی الامکان پورا کرے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بیوی کو جو مقام بخشا ہے ، اور اسے جو حقوق عطا کئے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتیں اپنے شریکِ زندگی کے ساتھ تعاون اور اسے خوش رکھنے میں صرف کرے ، اگر دونوں یہ کام کرلیں تو نہ صرف یہ کہ گھر دونوں کے لئے دنیوی جنت بن جاتا ہے بلکہ ان کا یہ طرز عمل مستقل عبادت کے حکم میں ہے جو آخرت کی حقیقی جنت کا وسیلہ بھی ہے ، اسی لئے دونوں کو نکاح کے خطبے میں تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے ، اور اسی لئے حضرت ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ احسان کا موقع صرف نمازہی نہیں بلکہ میاں بیوی کے تعلقات بھی ہیں ۔
قرآن کریم کی بے شمار آیات میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے خطبے کے لئے خاص طورپر انہی تین آیتوں کا جو انتخاب فرمایا یقینا اس میں کوئی بڑی مصلحت ہوگی ، غورکیا جائے تو ان تینوں آیتوں میں جوبات مشترک طورپر کہی گئی ہے ، وہ تقویٰ کا حکم ہے ، تینوں آیتیں اسی حکم سے شروع ہورہی ہیں ، کہ تقویٰ اختیار کرو، کوئی نادان یہ کہہ سکتا ہے کہ تقویٰ کا شادی بیاہ سے کیا جوڑ ؟ لیکن جو شخص حالات کے نشیب وفراز اور میاں بیوی کے تعلقات کی نزاکتوں کو جانتا ہے ، اور جسے ازدواجی الجھنوں کی تہہ تک پہنچنے کا تجربہ ہے وہ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میاں بیوی کے خوشگوار تعلقات اور ایک دوسرے کے حقوق کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی کے لئے تقویٰ ایک لازمی شرط ہے ، میاں بیوی کا رشتہ نازک ہوتا ہے ، ان دونوں کے سینے میں چھپے ہوئے جذبات اور ان کی حقیقی سرشت ایک دوسرے کے سامنے اتنی کھل کر آتی ہے کہ کسی اور کے سامنے اتنی کھل کر نہیں آسکتی ، دوسروں کے سامنے ایک شخص اپنی بد طینتی کو ظاہری مسکراہٹوں کے پردے میں چھپا سکتا ہے ، اپنے اندر کے انسان پر خوبصورت الفاظ اور اوپری خوش اخلاقی کا ملمع چڑھاسکتا ہے ، لیکن بیوی کے ساتھ اپنے شب وروز کے معاملات میں وہ ی ملمع باقی نہیں رکھ سکتا ، اسے اپنی ظاہر داری کے خول سے کبھی نہ کبھی باہر نکلنا ہی پڑتا ہے ، اور اگر اندر کا یہ انسان تقویٰ سے آراستہ نہ ہو تو اپنے شریک زندگی کا جینا دوبھر کردیتا ہے ، ایک بیوی کو اپنے شوہر سے جو تکلیفیں پہنچتی ہیں ، ان کا ازالہ ہمیشہ عدالت کے ذریعہ نہیں ہوسکتا ، ان میں سے بے شمار تکلیفیں ایسی ہیں جو وہ عدالت تو کُجا اپنے کسی قریبی رشتہ دار کے سامنے بھی بیان نہیں کرسکتی ، اسی طرح ایک شوہر کو بیوی سے جو شکایتیں ہوسکتی ہیں بسا اوقات شوہر کے پاس ان کا کوئی حل نہیں ہوتا ، نہ کسی اور کے ذریعے وہ انہیں دور کرنے کا کوئی سامان کرسکتا ہے ، اس قسم کی تکلیفوں اور شکایتوں کا کوئی علاج دنیا کی کوئی طاقت فراہم نہیں کرسکتی ، ان کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ دونوں کے دل میں تقویٰ ہو ، یعنی وہ اس احساس کی دولت سے مالا مال ہوں کہ وہ ایک دوسرے کے لئے امانت ہیں ، اور اس امانت کی جواب دہی انہیں اپنے اللہ کے سامنے کرنی ہے ، اپنے شریک زندگی کو اپنے کسی طرزِ عمل سے ستاکر وہ شاید دنیا کی جواب دہی سے بچ جائیں ، لیکن ایک دن آئے گا جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ، اور انہیں اپنی ایک ایک حق تلفی کا بھگتان بھگتنا پڑے گا ، اسی احساس کا نام تقوی ہے ، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کے دل پر ان تنہائیوں میں بھی پہرہ بٹھاتی ہے ، جہاں اسے کوئی اور دیکھنے والا نہیں ہوتا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے ہیں کہ جب دو مرد و عورت زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کے ساتھی بنیں تو وہ روانہ ہونے سے پہلے اپنے دلوں پر یہ غیبی پہرہ بٹھالیں ، تاکہ ان کی دوستی پائیدار ہو، اور ان کے دل میں ایک دوسرے کی محبت محض وقتی نفسانیت کی پیدا وار نہ ہو ، جونئی نویلی زندگی کا جوش ٹھنڈا ہونے کے بعد فنا ہوجائے ، بلکہ وہ تقویٰ کے سائے میں پلی ہوئی پائیدارمحبت ہو جو خود غرضی سے پاک اور ایثار ، وفااور خیر خواہی کے سدا بہار جذبات سے مزین ہوتی ہے ، اور چشم سے گذر کر واقعی قلب وروح کی گہرائیوں تک سرایت کرجاتی ہے ، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے خطبے میں ان تین آیات کا انتخاب فرمایا جن میں سے ہر آیت تقوی کے حکم سے شروع ہورہی ہے ، اور وہی اس کا بنیادی پیغام ہے ۔

٭٭٭ ٭٭٭ ٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ ربیع الثانی 1441ھ)

2020-07-14T21:54:55+05:00