گروپ آف لبرل مسلمز تحریک

سوال:- السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
دُعائے صحت، درازیٔ عمر اور بلندیٔ ایمان کے ساتھ جنابِ والا کی خدمتِ عالیہ میں مؤدبانہ عرض ہے کہ قیامِ وطنِ عزیز کے مقاصد کی تکمیل باون سالوں میں بھی نہ ہونے کا اصل سبب ہماری تعلیماتِ قرآنِ کریم سے عدم توجہی، غفلت اور کوتاہی ہے۔ اگرچہ ہر سابق حکومت نے اسلام کے نام پر قوم کو فریب دیا، لیکن قرآنی تعلیمات سے ناآشنائی اور عدم توجہی ہمارے مذہبی راہنماؤں کی کوتاہی اور غفلت بھی ہے، جو بنیادی حقیقت ہے، یہی ہماری باہمی نفرتوں اور اختلافات کا اصل سبب بھی ہے۔ الحمدللہ نوجوان نسل میں پیار اور اُنسیت اُجاگر کرنے، نفرتوں کو مٹانے، نیز وحدتِ اسلامی کے نیک مقاصد کی تکمیل کے لئے ’’گروپ آف لبرل مسلمز‘‘ کا قیام وجود میں آیا ہے۔
ہمارا مقصد سوائے اصلاح کے کچھ نہیں، ایک معتدل معاشرہ اور اُخوتِ اسلامی کو اُجاگر کرنے اور فہمِ قرآنِ کریم نوجوان نسل خاص کر حفاظ مسلمان بنات اور شبان کو معانیٔ قرآنِ کریم سیکھنے کی دعوت اور اس پر عمل کی ترغیب ہمارا مقصد ہے، کیونکہ ذہنی انقلاب اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی کے بغیر نفاذِ اسلام کی عملی صورت نظر نہیں آتی۔ مشن کی کامیابی کے لئے دُعا کی درخواست ہے۔ عقیدت و احترام کے ساتھ! جواب کا انتظار رہے گا۔
جواب:- جس مقصد کے لئے آپ نے یہ تنظیم قائم کی ہے، وہ بڑا مبارک ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی رضا کے مطابق ملک و ملت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔
البتہ ایک گزارش یہ ہے کہ آپ نے اپنے نام میں ’’لبرل‘‘ (Liberal) کا جو اضافہ کیا ہے، اس کے بارے میں یہ طے کرلینا چاہئے کہ اس کا کیا مقصد ہے؟ اور کن لوگوں کو اس لفظ کے ذریعہ Exclude (خارج) کرنا مقصود ہے، اس سوال کا صحیح جواب متعین کرنے سے پہلے یورپ کے لبرلزم کی تاریخ کا مطالعہ بھی مفید ہوگا کہ اس لبرلزم کی تحریک وجود میں آنے کے کیا اسباب تھے؟ کیا وہ اسباب ہمارے یہاں موجود ہیں؟ دُوسرے اس لبرلزم کے کیا نتائج نکلے؟ اور کیا وہ نتائج ہمیں بھی مطلوب ہیں؟
اُمید ہے کہ ان سوالات پر معروضی مطالعے کے ذریعہ غور و فکر فرمائیں گے۔ والسلام
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
از طیارہ براہ لاہور
۵؍۱۱؍۱۴۲۰ھ
(فتویٰ نمبر ۲۹/۴۰۰)
(یہ جواب طیارے سے لکھ رہا ہوں، اس لئے الگ کاغذ پر نہیں لکھ سکا، معذرت خواہ ہوں)