فکرِ ولی اللّٰہی تحریک کا حکم

بعد از سلام عرض ہے کہ ہم خیریت سے ہیں، اور خداوند کریم سے آپ کی خیریت نیک مطلوب چاہتے ہیں۔
بعد از سلام عرض ہے کہ میں نے ایک عرض نامہ پہلے بھی بھیجا ہے، لیکن اس خط کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔ عرض یہ ہے کہ ہم تنظیم فکرِ ولی اللّٰہی کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس فتویٰ کی حقیقت کیا ہے جو اس خط کے نیچے ہے، اور ہم نے مولانا شیخ الحدیث معزالحق کو عریضہ لکھا، انہوں نے یہ باتیں ہمیں لکھ کر دی ہیں۔ ہم نے یہاں کے مفتی رشید احمد صاحب کو کہا، انہوں نے کہا کہ علمائے کرام مشاورت عظمیٰ اور مفتیان صاحبان کے مشورے کے بعد بتائیں گے۔ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ چونکہ اس تنظیم کا گڑھ ہمارے نوشہرہ میں مسجد درزیاں ہے اور اس کا امام بھی یہاں مقرّر ہوگیا ہے، ہمیں بتائیں کہ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ اور یہ کیسے لوگ ہیں؟ اور ان سے کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
شکریہ
اہل مسجد درزیاں
مزاجِ گرامی!
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ گزشتہ زمانے میں ہمارے مدرسے میں ایک عالم مسمّیٰ مولوی خالد محمود، جو اپنے آپ کو تنظیم فکرِ ولی اللّٰہی کی طرف منسوب کرتا ہے، شاہ ولی اللہؒ کا ترجمان بتلاتا ہے، حسبِ ذیل نوعیت کی باتیں کرتا رہتا ہے:-
۱:- مقصودِ اصلی قیامِ خلافت ہے، جب تک خلافت کا قیام نہ ہو اس وقت تک ایمان، اعمال، عبادات سب کچھ بیکار ہیں۔
۲:- مقصودِ اصلی اِتباعِ رسالت میں مقصدِ بعثت خصوصاً ’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ‘‘ کے بموجب سپرپاورز کے خاتمے کو سمجھنا ہے۔ باقی انفرادی عادات و اطوار، وضع قطع، نشست و برخاست میں اِتباعِ رسالت بے کار ہے، اس کا چنداں فائدہ نہیں۔
۳:- اعمال، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سے مقصود ہمہ جہتی تربیت فرد و معاشرہ ہے، لیکن زیادہ زور اجتماعی، سیاسی اور حکومتی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی تربیت پر ہے۔ اگر ان اعمال کا صرف رُوحانی حلقۂ اثر تسلیم کیا جائے تو باقی مذاہب کی عبادات سے اسلامی عبادات کا تفوّق کیسے ثابت کیا جائے؟ کیونکہ رُوحانی اثرات تو یوگ ( Mysticism ) اور تصوّف و اِحسان و سلوک کے ایک جیسے ہیں۔
۴:- جزاء و سزا کا یہ تصوّر صرف متوسط اذہان کے لئے قابلِ قبول ہے، اعلیٰ اذہان کے لئے قابلِ فہم اور لائقِ قبول نہیں۔
۵:- قرآن، مولویوں کے سلوک کے نتیجے میں بازیچۂ اطفال بن گیا ہے، ما سوائے تعلیمِ الفاظ و معانی، آگے کوئی تعلیم و تربیت نہیں، ذہن سازی نہیں۔ جب نظامِ قرآنی نہ ہو تو صرف الفاظ کے رٹنے کا کیا فائدہ؟ چنانچہ حفظِ قرآن ضیاعِ وقت ہے۔
۶:- علمائے عصر چونکہ عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ناواقف ہیں، لہٰذا بقول امام محمدؒ (من لم یعرف أحوال زمانہ فھو جاھل) جاہل ہیں۔ مدارس کے اندر تو ان کا حلقۂ اثر و ارادت بڑا وسیع ہے، لیکن مدرسہ سے باہر بینک کے چوکیدار اور بس کے ایک معمولی سے ڈرائیور پر بھی ان کا بس نہیں چلتا۔ چنانچہ ان علماء کا معاشرے میں کوئی قابلِ قدر کردار نہیں، یہ علماء معاشرے کا عضوِ معطل ہیں۔
۷:- جنت کا عام و معروف تصوّر کم فہمی کا نتیجہ ہے، اصل میں جنت دُنیا کا مستقبل ہے، دُنیا اس کی اساس ہے۔ چنانچہ جس پودے کا بیج کمزور ہو وہ پودا طاقت ور نہیں بن سکتا، جو دُنیا میں دُکھ دَرد، تکالیف و مصائب اور غربت و کسمپرسی میں گھرا ہوا ہو وہ آخرت میں کامیاب و خوشحال کیسے کہلاسکتا ہے؟
۸:- جنت سے متعلق عام احادیث محض خوش فہمی ہیں، جب بندہ کچھ نہ کرسکے تو پھر لازماً اسے جنت کا انتظار کرنا ہی پڑے گا۔ ’’کافر کو ملے حور و قصور اور مؤمن کو فقط وعدۂ حور‘‘۔
۹:- امام مہدی کا تصوّر و عقیدہ بھی محض مردہ قوموں کا تخیل ہے۔
۱۰:- یأجوج و مأجوج چینی اور رُوسی عوام ہیں، ان سے متعلق معروف تصوّر ٹھیک نہیں۔
۱۱:- داڑھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بشری عادت ہی تو تھی، اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟
۱۲:- علمائے عصر کی پاکستانی تنظیمیں امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال ہو رہی ہیں۔
۱۳:- تبلیغی جماعت کی محنت کے نتیجے میں جو اسلام دُنیا میں آئے گا، اس پر چھاپ امریکی اور یورپی ہوگی، اور یوں مغربی دُنیا اس کا سہارا لے کر اپنے معاشی، سیاسی، سامراجی اہداف حاصل کرے گی۔
۱۴:- جہادِ افغانستان میں امریکہ نے غریب اور سادہ لوح مولویوں کو جہاد کا پُرفریب اور خوش کن جھانسہ دے کر اسلام کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ہے۔
۱۵:- موجودہ اسلامی تصوّر امریکی خواہش کے زیرِ اثر پنپ چکا ہے، حالانکہ اگر مسلمان رُوس کا ساتھ دیتے تو رُوس ان کے لئے نسبتاً زیادہ دور رہتا، لیکن مسلمان ہمیشہ جذباتی رہا، مسلم جماعتوں کا جھکاؤ امریکہ کی جانب ہی رہا۔
۱۶:- تقدیر کا موجودہ اور معروف تصوّر بھی غلط ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے پُرانی و سابقہ حالت پر رکھے چھوڑا، کیونکہ ابتدائی اسلامیوں (صحابہؓ) میں اسے سمجھنے کی استعداد نہ تھی، لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے کو نہ چھیڑ کر عمل کی طاقت کی بناء پر انقلاب کی راہیں ہموار کیں۔
۱۷:- تھانوی لائن کے علماء ہمیشہ حکومتی خواہشات کے لئے استعمال ہوتے رہے، نتیجتاً انہیں سرکار کی جانب سے نوازا جاتا رہا، اور مدنی لائن کے علماء کو اپنے حریت پسند جذبات کی بناء پر ہمیشہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔
۱۸:- ’’اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اﷲُ لَکُمْ قِیٰـمًا‘‘ (الآیۃ) اور ’’من الذنوب ذنوب لا یکفرھا الا الھم فی المعیشۃ‘‘ (الحدیث) جیسے استدلالات سے عموماً یہ باور کرایا جاتا ہے کہ جب تک معاشی مساوات نہ ہو معاشرے کی اصلاح نہیں ہوسکتی، قبض و بسط کی تشریح بھی مختلف انداز سے کرتا ہے۔
۱۹:- ذاتی ملکیت کا ایک حد تک جواز ہے، لیکن انقلاب کی راہیں ہموار کرتے وقت ذاتی ملکیت ثابت نہیں ہوسکتی، کیونکہ ابتدائً حضرت عثمانؓ اور عبدالرحمن بن عوفؓ کا مال و اسباب اپنی ذات سے زیادہ راہِ انقلاب میں خرچ ہوتا رہا۔
۲۰:- خمینی انقلاب اُمتِ مسلمہ کے لئے خوش آئند ہے۔
۲۱:- طالبانِ افغانستان سادہ لوح لوگ ہیں، یہ حکومتی مزاج سے ناواقف ہیں، حکومت چلانا ان کے بس کی بات نہیں۔ مسائلِ حاضرہ اور موجودہ تعلیم سے یہ ناواقف ہیں۔ فرمائیے ان عقائد کی حامل ’’تحریکِ فکرِ ولی اللّٰہی‘‘ کا کیا حکم ہے؟
جواب:- فکرِ ولی اللّٰہی محض ایک دھوکا ہے، عام طور سے یہ لوگ حضرت شاہ صاحبؒ کے نام کی آڑ میں اشتراکی نظریات کا پرچار کر رہے ہیں۔ واللہ اعلم
۱۸؍۳؍۱۴۱۹ھ
(فتویٰ نمبر ۲۵/۳۱۹)