غلام احمد پرویز کے پیروکار کا حکم

سوال:- استفتاء از علمائے شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس مسئلے میں کہ مشہور منکرِ حدیث غلام احمد پرویز جس کو جمہور علمائے اُمت نے کافر قرار دیا ہے، اس کا ایک پیروکار، ہم عقیدہ، ہم مسلک بلکہ مسلکِ پرویز کا مبلغ مرگیا ہے، جبکہ جمہور علمائے اُمت نے پرویز کے متبعین کو بھی خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ اس پرویزی پر اہلِ سنت و الجماعت مسلمانوں کے ایک پیش امام نے نمازِ جنازہ پڑھائی، امامِ مذکور کا کیا حکم ہے؟ غلام احمد پرویز کا کیا حکم ہے؟ اور کس بناء پر اس پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے؟ اور کیا اس امام کی اقتداء دُرست ہے؟
جواب:- غلام احمد پرویز پر کفر کا فتویٰ ان کے عقائد و نظریات کی بنیاد پر لگایا گیا ہے،(۱) لہٰذا جو شخص ان کے عقائد و نظریات سے متفق ہو، وہ بھی انہی کے حکم میں ہے۔ اور کافر ہونے کی بناء پر اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں، اگر کسی امام صاحب نے غلط فہمی یا ناواقفیت کی وجہ سے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ اِستغفار کریں۔ ایسی صورت میں دُوسرے مسلمان اپنی عام نمازوں میں ان کی اقتداء کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ میّت کو پرویزی تسلیم کرنے کے باوجود اس عمل کی صحت پر اصرار کرتے ہیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنا دُرست نہیں۔ فقط واللہ سبحانہ اعلم
الجواب صحیح
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
محمد عاشق الٰہی عفی عنہ
۳۰؍۱۲؍۱۳۸۷ھ

(فتویٰ نمبر ۱۴۶۳/۱۸ الف)