عقیدۂ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

سوال:- محترم مولانا محمد تقی عثمانی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے ایک خط آنجناب کو ارسال کیا تھا، لیکن جواب سے محروم رہا، اس خط میں یہ مذکور تھا کہ قرآن کے مطالعے سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مسلمان عام طور سے دینی معاملات میں اَحکامِ قرآن کے خلاف عمل کر رہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ یہ میں سمجھ نہیں سکا۔
قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ہر شخص کو موت آتی ہے، اور پھر وہ قیامت کے دن اُٹھایا جائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے وفاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر اچھی طرح اس کی وضاحت کردی تھی، لیکن عام مسلمان حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حیاتِ اولیاء کے قائل ہیں، اور ان کے تصرفات کے عجیب و غریب واقعات بیان کرتے رہتے ہیں۔
جواب:- مکرمی و محترمی، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
آپ کا پہلا خط مجھے ملنا یاد نہیں، بہرکیف! آپ کے سوال کا جواب عرض ذیل ہے:-
انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سمیت تمام مخلوقات کو موت آتی ہے، البتہ موت کے بعد ہر انسان کو برزخی زندگی سے واسطہ پڑتا ہے، برزخی زندگی کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان کی رُوح کا اس کے جسم سے کسی قدر تعلق رہتا ہے، یہ تعلق عام انسانوں میں بھی ہوتا ہے، مگر اتنا کم کہ اس کے اثرات محسوس نہیں ہوتے۔ شہداء کی ارواح کا تعلق ان کے جسم سے عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے اس لئے قرآنِ کریم نے انہیں احیاء قرار دیا ہے،(۱) اور انبیائے کرام کا درجہ شہداء سے بھی بلند ہے، اس لئے احادیث کے مطابق ان کی ارواح کا تعلق جسم سے سب سے زیادہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ ان کی میراث بھی تقسیم نہیں ہوتی اور ان کے ازواج کا نکاح بھی دُوسرا نہیں ہوسکتا، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے،(۲) چونکہ ان کی ارواح کا تعلق سب سے زیادہ ہوتا ہے، اس لئے شہداء کی طرح انہیں بھی احیاء قرار دیا گیا ہے، مگر یہ حیات اس طرح کی نہیں ہے جیسی انہیں موت سے پہلے حاصل تھی، نیز قرآن و سنت میں اس کی بھی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس حالت میں انبیائے کرام علیہم السلام کو دُوسروں پر تصرف کا کوئی اختیار حاصل ہے، اگر کسی نے کبھی اس قسم کا کوئی واقعہ دیکھا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی صورتِ مثالی ہوسکتی ہے جس کا ان کو علم ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔
واللہ اعلم
۴؍۸؍۱۴۲۲ھ
(فتویٰ نمبر ۱۰/۵۰۵)