ضروریات زندگی میں اسراف اور کشادگی

ضروریات زندگی میں اسراف اور کشادگی(فراخ دلی) میں فرق کس طرح کیا جائے؟

بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خلجان رہتا ہے کہ شریعت میں ایک طرف تو فضول خرچی اور اسراف کی ممانعت آئی ہے اور دوسری طرف یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ گھر کے خرچ میں تنگی مت کرو، بلکہ کشادگی سے کام لو،
اب سوال یہ ہے کہ دونوں میں حد فاصل کیا ہے؟ کونسا خرچہ اسراف میں داخل ہے اور کونسا خرچہ اسراف میں داخل نہیں؟
اس خلجان کے جواب میں حضرت تھانوی رحمہ  نے گھر کہ بارے میں فرمایا کہ ایک گھر وہ ھوتا ہے جو قابل رہائش ہو، مثلا جھونپڑی ڈال دی یہ چھپڑ ڈال دیا اس میں بھی آدمی رہائش اختیار کر سکتا ہے،یہ تو پہلا درجہ ہے،جو بلکل جائز ہے۔
دوسرا درجہ یہ ہے کہ رہائیش بھی ہو اور ساتھ میں آسائش بھی ہو،مثلا پختہ مکان ہے،جس میں انسان آرام کے ساتھ رہ سکتا ہے،اور گھر میں آسائیش کے لیے کوئی کام کیا جائے تو اس کی ممانعت نہیں ہے،اور یہ بھی اسراف میں داخل نہیں، مثلا ایک شخص ہے وہ جھونپڑی میں بھی زندگی بسر کر سکتا ہے اور دوسرا شخص جھونپڑی میں نہیں رہ سکتا اس کو تو رہنے کے لیے پختہ مکان چاہیے، اور پھر اس مکان میں بھی اس کو پنکھا اور بجلی چائیے، اب اگر وہ شخص اپنے گھر میں پنکھا اور بجلی اس لیے لگاتا ہے تاکہ اس کو آرام حاصل ہو تو یہ اسراف میں داخل نہیں۔
تیسرا درجہ یہ ہے کہ مکان میں آسائیش کہ ساتھ آرئیش بھی ہو،مثلا ایک شخص کا پخہ مکان بنا ہوا ہے، پلاستر کیا ہوا ہے، بجلی بھی ہے، پنکھا بھی ہے، لیکن اس مکان پر رنگ نہیں کیا ہوا ہے، اب ظاہر ہے کہ رہائیش تو ایسے مکان میں بھی ہو سکتی ہے،لیکن رنگ و روغن کہ بغیر آرائیش نہیں ہو سکتی اب اگر کوئی شخص آرئیش کے حصول کے لیے مکان پر رنگ و روغن کرائے تو شرعاً وہ بھی جائز ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ رہائش جائز،آسائش جائز، آرائش جائز،اور آرائش کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے دل کو خوش کرنے کے لیے کوئی
کام کر لے تاکہ دیکھنے میں اچھا معلوم ہو، ہیکھ کر دل خوش ھو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں،شرعاً یہ بھی جائز ہے۔
اس کے بعد چوتھا درجہ ہے “نمائش”، اب جو کام کر رہا ہےاس سے نا تو آرام مقصود ہے، نہ آرائش مقصود ہے بلکہ اس کام کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ مجھے بڑا دولت مند سمجھیں، اور لوگ یہ سمجھیں کہ اس کےپاس بہت پیسا ہے،اور تاکہ اس کے زریعہ دوسروں پر اپنی فوقیت جتائوں
اور اپنے آپ کو بلند ظاہر کروں،یہ سب “نمائش” کہ اندر داخل ہیں اور یہ شرعاً نا جائز ہے اور اسراف میں داخل ہے۔
یہی چار دراجات لباس اور کھانے میں بھی ہیں، بلکہ ہرچیز میں ہیں،ایک شخص اچھا اور قیمتی کپڑا اس لیے پہنتا ہے تاکہ مجھے آرام ملے اور تاکہ مجھے اچھا لگے اور میرے گھر والوں کو اچھا لگے، اور ملنے جلنے والے اس کو دیکھ کر خوش ہوں،تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں،لیکن اگر کوئی شخص اچھا اور قیمتی لباس اس نیت سے پہنتا ہے تاکہ مجھے دولت مند سمجھا جائے مجھے بہت پیسے والا سمجھا جائے اور میرا بڑا مقام سمجھا جائے تو یہ نمائش ہے اور ممنوع ہے،اسی لیے حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نےاسراف کے بارے میں ایک واضح حد فاصل کھنچ دی کہ اگر ضرورت پوری کرنے کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے، یہ آسائش کہ حصول کے لیے یہ اپنے دل کو خوش کرنے کے لیےآرائش کے خاترکوئی خرچہ کیا جا رہا
ہے وہ اسراف میں داخل نہیں۔
میں ایک مرتبہ کسی دوسرے شہر میں تھا اور واپس کراچی آنہ تھا، گرمی کا موسم تھا،میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ائیر کنڈیشن کوچ میں میرا ٹکٹ بک کرا دو، اور میں نے ان کو پیسے دے دیے، ایک دوسرے صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے،انہوں نے فورنً کہا کہ صاحب! یہ تو آپ اسراف کر رہے ہیں اس لیے کہ ائیر کنڈیشن کوچ میں سفر کرنا تو اسراف میں داخل ہے، بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر اوپر کہ درجے میں سفر کر لیا تو یہ اسراف میں داخل ہے، خوب سمجھ لیجئے! اگر اوپر کے درجے میں سفر کرنے کا مقصد راہت حاصل کرنا ہے،مثلاً گرمی کا موسم ہے، گرمی برداشت نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے پیسے دیے ہیں تو پھر یس درجے میں سفر کرنا کوئی گناہ اور اسراف نہیں ہے،لیکن اگر اوپر کہ درجے میں سفر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب میں ائیر کنڈیشن کوچ میں سفر کروں گا تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ بڑا دولت مند آدمی ہے، پھر
وہ اسراف اور ناجائز ہے،اور نمائش میں داخل ہے، یہی تفصیل کپڑے اور کھانے میں بھی ہے۔