شیخ احمد کے مروّجہ وصیت نامہ کا حکم

شیخ احمد کے مروّجہ وصیت نامہ کا حکم
سوال:- جو اشتہار کبھی کبھار لوگ شائع کرتے ہیں، یعنی وہ معروف وصیت نامہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر کے خادم کی طرف منسوب ہوتا ہے، اس میں جو کچھ تحریر ہے وہ دُرست ہے یا نہیں؟ مثلاً جو اس کو پڑھے گا وہ اس کو شائع کرے، اگر ایسا نہیں کرے گا تو نقصان اُٹھائے گا، انکار کرنے والا سخت عذاب میں مبتلا ہوگا، جو پڑھ کر شائع نہ کرے مسلمان نہ رہے گا۔
جواب:- منسلکہ وصیت نامہ میں بنیادی طور سے جو بات کہی گئی ہے کہ مسلمان اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اسلامی اَحکام کے مطابق زندگی گزاریں، وہ بالکل صحیح اور دُرست ہے۔ اس کی جتنی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے بہتر ہے، لیکن پڑھنے والے کے ذمہ خاص تعداد میں بعینہٖ اسی وصیت نامہ کو شائع کرنے کو لازمی قرار دینا، اور جو نہ کرسکے اس کو نقصان کی دھمکی دینا شرعاً اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
۳؍۱۲؍۱۳۸۷ھ
(فتویٰ نمبر ۱۳۹۰/۱۸ الف)
یہ وصیت نامہ سالہا سال سے شائع ہوتا ہے، جس کو تقریباً ۸۰ سال گزر چکے ہیں، کسی شخص نے خود ہی بنالیا ہے، روضۂ اطہر کا کوئی خادم شیخ احمد نہ اب ہے، نہ اُس وقت تھا جب یہ وصیت نامہ نیا نیا شائع ہوا تھا، اُس وقت علماء نے تحقیق کی تھی۔ لہٰذا نقصان کی دھمکی کی کوئی پروا نہ کریں۔
محمد عاشق الٰہی بلند شہری عفی عنہ