شرعی پردے کی حقیقت

جنگ18ستمبر 1981ء

کچھ عرصے سے علماء ، مسلمان اہل فکر اور دینی جماعتوں کی بیشتر توجہ ملک کے سیاسی اور قانونی مسائل کی طرف اس شدت کے ساتھ مبذول رہی ہے کہ بہت سے اہم معاشرتی مسائل پیچھے چلے گئے ہیں ۔ اور ان کی طرف یاتو توجہ بالکل نہیں رہی یا بہت کم رہی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف جس سست رفتاری سے سیاست اور قانون میں دین کا عمل دخل شروع ہوا ہے ، دوسری طرف اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ معاشرت بالکل الٹی سمت میں بے دینی کی طرف دوڑرہی ہے ۔
بے پردگی اور بے حیائی گھر گھر پھیل چکی ہے ۔ عریانی وفحاشی نے حیاوعفت کا مفہوم تک ذہنوں سے محوکردیا ہے ۔ بڑوں کا احترام اور خاندانی رشتوں کے اسلامی آداب قصئہ پارینہ بن چکے ہیں ۔ دفتروں میں رشوت ستانی اور بازاروں میں سود ، قمار ، اور دھوکہ فریب کو شیر مادر سمجھ لیا گیا ہے ۔ اور اب برائیوں کی قباحت بھی دل سے مٹ چکی ہے ۔
ان بہت سے مسائل میں سے آج کی نشست میں بے پردگی اور بے حیائی کے مسئلے پر چند دردمندانہ گذارشات قارئین کی خدمت میں پیش کرنی ہیں جن کا تعلق عام مسلمانوں سے بھی ہے ، علماء اور اہل فکر سے بھی اور حکومت وقت سے بھی ۔
اسلام نے خواتین کو عزت وحرمت کا جو مقام بخشاہے ، اور اس کے تقدس کی حفاظت کے لئے جو تعلیمات دی ہیں ، وہ دنیا بھر کے مذاہب اور اقوام میں ایک منفرد حیثیت کی حامل ہیں ۔ اسلام نے ایک طرف عورت کی حرمت اور دوسری طرف اس کے جائز تمدنی اور معاشرتی حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے جو احکام عطافرمائے ہیں ان کی حکمتوں کا احاطہ انسانی عقل کے ادراک سے بالاتر ہے ۔ مسلمان عورت اسی عزت کے تحفظ کے ساتھ تمام ضروری تمدنی حقوق رکھنے کے باوجود تلاشِ معاش میں ماری ماری پھرنے کے لئے نہیں ، بلکہ گھر کی ملکہ بننے کے لئے پیدا ہوئی ہے ، اسی لئے شریعت نے اس کی عمر کے کسی مرحلے میں فکر معاش کابوجھ اس کی گردن پر نہیں ڈالا ۔ خال خال صورتیں تو مستثنیٰ ہیں ، لیکن عام حالات میں شادی سے پہلے اس کے معاش کی ذمہ داری باپ پر اور شادی کے بعد شوہر یا اولاد پر ڈالی گئی ہے ، لہذا ناگزیر ضرورتوں کو چھوڑکر ، عام طورپر اسے معاش کے لئے سڑکیں چھاننے کی ضرورت نہیں ۔ چنانچہ اس کی عزت وآبرو اور اس کی حرمت وتقدس کو سلامت رکھنے کے لئے حکم یہ دیا گیا ہے کہ :
(ترجمہ) “اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو ، اور پچھلی جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار کرکے باہر نہ پھراکرو”۔
ضرورت کے موقع پر عورت کو گھر سے باہر جانے کی اجازت بھی اسلام نے دی ہے ، لیکن اس طرح کہ وہ پردے کےآداب وشرائط کو ملحوظ رکھ کر بقدر ضرورت باہر نکلے ، اور اپنے آپ کو ہوسناک نگاہوں کا نشانہ بننے سے بچائے۔ اس غرض کے لئے مرد وعورت کے درمیان فطری تقسیم کاریہ رکھی گئی ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام کرے ۔ اور مرد کے لئے کماکر لانا عورت پر اس کا کوئی احسان نہیں ، اس کا لازمی فريضہ ہے ۔ بلکہ اس معاملے میں اسلام نے عورت کو یہ فضیلت اور امتیاز بخشاہے کہ گھر کا انتظام بھی قانونی طورپر اس کی ذمہ داری نہیں ہے ، اخلاقی طورپر اس کو اس بات کی ترغیب ضرور دی گئی ہے کہ وہ شوہر کے گھر کی دیکھ بھال کرے ، لیکن اگر کوئی عورت اپنی اس اخلاقی ذمہ داری کو پورانہ کرے تو مرد اس کو بزورِ قانون اس پر مجبور نہیں کرسکتا ۔ اس کے برخلاف مرد پر عورت کے لئے کمانے کی ذمہ داری اخلاقی بھی ہے اور قانونی بھی ۔ اور اگر کوئی مرد اس میں کوتاہی کرے تو عورت بزورِ قانون اسے اس ذمہ داری کی ادائیگی پر مجبورکرسکتی ہے ۔
اسلام نے عورت کو یہ امتیاز اس لئے عطافرمایاہے تاکہ وہ کسبِ معاش کی الجھنوں میں پڑ کر معاشرتی برائیوں کا سبب بننے کے بجائے گھر میں رہ کر قوم کی تعمیر کی خدمت انجام دے ۔ گھر کا ماحول معاشرہ کی وہ بنیاد ہے جس پر تمدن کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔ اگر یہ بنیادخراب ہوتو اس کا فساد پورے معاشرے میں سرایت کرجاتا ہے۔اس کے برعکس اگر ایک مسلمان خاتون اپنے گھر کے ماحول کو سنوار کر ان نونہالوں کی صحیح تربیت کرے جنہیں آگے چل کر قوم وملک کا بوجھ اٹھانا ہے تو ساری قوم خود کار طریقے پر سنور سکتی ہے ۔اور اس طرح مردوعور ت کی عزت وآبرو کا پورا تحفظ ہوتا ہے ۔ اور دوسری طرف ایک ایسا صاف ستھرا گھریلو نظام وجود میں آتا ہے جو مآل کار پور ے معاشرے کی پاکیزگی کا ضامن بن سکتا ہے ۔
لیکن جس ماحول میں معاشرے کی پاکیزگی کوئی قیمت ہی نہ رکھتی ہو ، اور جہاں عفت وعصمت کے بجائے اخلاق باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو، ظاہر ہے کہ وہاں اس تقسیم کار اور پردہ وحیا کو نہ صرف غیر ضروری بلکہ راستے کی رکاوٹ سمجھا جائے گا ۔ چنانچہ جب مغرب میں تمام اخلاقی اقدار سے آزادی کی ہواچلی تو مردنے عورت کے گھر میں رہنے کو اپنےلئے دوہری مصیبت سمجھا۔ ایک طرف تو اس کی ہوسناک طبیعت عورت کی کوئی ذمہ داری قبول کئے بغیر قدم قدم پر اس سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی ، اور دوسری طرف وہ اپنی قانونی بیوی کی معاشی کفالت کو بھی ایک بوجھ تصور کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے دونوں مشکلات کا جو عیارانہ حل نکالا اس کا خوبصورت اور معصوم نام “تحریک آزادئ نسواں”رکھا۔ عورت کو یہ پڑھا یا گیا کہ تم اب تک گھر کی چاردیواری میں قید رہی ہو ، اب آزادی کا دور ہے ، اور تمہیں اسی قید سے باہر آکر زندگی کے ہر کام میں حصہ لینا چاہئے ۔ اب تک تمہیں حکومت وسیاست کے ایوانوں سے بھی محروم رکھا گیا ہے ۔ اب تم باہر آکر زندگی کی جدوجہد میں برابر کا حصہ لو تو دنیا بھر کے اعزازات اور اونچے اونچے منصب تمہار انتظار کررہے ہیں۔
عورت بیچاری ان دلفریب نعروں سے متاثر ہوکر گھر سے باہر آگئی ، اور پروپیگنڈے کے تمام وسائل کےذریعے شورمچا مچا کر اسے یہ باور کرایا گیا کہ اسے صدیوں کی غلامی کے بعد آج آزادی ملی ہے ۔ اور اب اس کے رنج ومحن کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ ان دلفریب نعروں کی آڑ میں عورت کو گھسیٹ کر سڑکوں پر لایا گیا ۔ اسے دفتروں میں کلرکی عطاکی گئی ، اسے اجنبی مردوں کے پرائیویٹ سیکریٹری کا “منصب”بخشاگیا ۔ اسے” اسٹینوٹائیسٹ”بننے کا” اعزاز”دیا گیا ۔ اسے سینکڑوں انسانوں کی حکم برداری کے لئے”ائر ہوسٹس ” کا” عہدہ”عنایت کیا گیا ۔ اسے تجارت چمکانے کے لئے “سیلز گرل “اور ماڈل گرل بننے کا شرف بخشا گیا اور اس کے ایک عضو کو برسر بازار رسوا کرکے گاہکوں کو دعوت دی گئی کہ آؤ، اور ہم سے مال خریدو۔ یہاں تک کہ وہ عورت جس کے سرپر دین فطرت نے عزت وآبرو کاتاج رکھا تھا، اور جس کے گلے میں عفت وعصمت کے ہار ڈالے تھے ، تجارتی اداروں کے لئے ایک تفریح کا سامان بن کر رہ گئی ۔ نام یہ لیا گیا تھا کہ عورت کو “آزادی” دے کر سیاست وحکومت کے ایوان اس کے لئے کھولے جارہے ہیں ، لیکن ذراجائزہ لے کر تو دیکھئے کہ اس عرصے میں خود مغربی ممالک کی کتنی عورتیں صدر، وزیر اعظم یا وزیر بن گئیں؟ کتنی خواتین کو جج بنایاگیا؟ کتنی عورتوں کو دوسرے بلند مناصب کا اعزاز نصیب ہوا؟اعداد وشمار جمع کئے جائیں تو ایسی عورتوں کا تناسب بمشکل چند فی لاکھ ہوگا ، ان گنی چنی خواتین کو کچھ مناصب دینے کے نام پر باقی لاکھوں عورتوں کو جس بے دردی کے ساتھ سڑکوں اور بازاروں میں گھسیٹ لایا گیا ہے وہ ” آزادئ نسواں”کے فراڈ کا المناک ترین پہلو ہے ۔ آج یورپ اور امریکہ میں جاکر دیکھئے تو دنیا بھر کے تمام نچلے درجے کے کام عورت کے سپر دہیں۔ ریستورانوں میں کوئی مرد ویٹر شاذ ونادر ہی نظر آئے گا ، ورنہ یہ خدمات تما م تر عورتیں انجام دے رہی ہیں ۔ ہوٹلوں میں مسافروں کے کمرے صاف کرنے ، ان کے بستر کی چادریں بدلنے اور “روم اٹنڈنٹ ” کی خدمات تمام تر عورتوں کے سپرد ہیں دُکانوں پر مال بیچنے کے لئے مردخال خال نظرآئیں گے ۔ یہ کام بھی عورتوں ہی سے لیا جارہا ہے ، دفاتر کے استقبالیوں پر عام طور سے عورتیں ہی تعینات ہیں ، اور بیرے سے سے لے کر کلرک تک کے تمام “مناصب”زیادہ تر اسی صنفِ نازک کے حصے میں آئے ہیں جسے گھر کی قید سے آزادی عطاکی گئی ہے ۔
پرپیگنڈے کی قوتوں نے یہ عجیب وغریب فلسفہ ذہنوں پر مسلط کردیا ہے کہ عورت اگر اپنے گھر میں اپنے اور اپنے شوہر ، اپنے ماں باپ ، بہن بھائیوں اور اولاد کے لئے خانہ داری کا انتظام کرے تو یہ قید اور ذلت ہے لیکن وہی عورت اجنبی مردوں کے لئے کھانے پکانے ، ان کے کمروں کی صفائی کرے ، ہوٹلوں اور جہازوں میں ان کی میزبانی کرے ، دکانوں پر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے ، اور دفاتر میں اپنے افسروں کی نازبرداری کرے تو یہ آزادی اور اعزاز ہے ۔
پھر ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ عورت کسب معاشرہ کے لئے آٹھ گھنٹے کی یہ سخت اور ذلت آمیز ڈیوٹیاں اداکرنے کے باوجود اپنے گھر کے کام دھندوں سے اب بھی فارغ نہیں ہوئی ۔ گھر کی تمام خدمات آج بھی پہلے کی طرح اسی کے ذمے ہیں ، اور یورپ اور امریکہ میں اکثریت ان عورتوں کی ہے جن کو آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی دینے کے بعد اپنے گھر پہنچ کر کھانے پکانے ، برتن دھونے اور گھر کی صفائی کا کام اب بھی کرنا پڑتا ہے ۔
یہ تو نام نہاد آزادی کے وہ نتائج ہیں جو خود عورت اپنی ذاتی زندگی میں بھگت رہی ہے اور مردوزن کے بے محابا اختلاط سے پورے معاشرے میں بد اخلاقی ، جنسی جرائم ، بے راہ روی اور آوارگی کی جوتباہ کن وبائیں وہاں پھوٹی ہیں وہ کسی بھی باخبر انسان سے پوشیدہ نہیں ۔ عائلی نظام کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہے حسب ونسب کاکوئی تصور باقی نہیں رہا ۔ عفت وعصمت داستانِ بارینہ بن چکی ہیں ۔طلاقوں کی کثرت نے گھر کے گھر اجاڑ دئے ہیں ، جنسی جنون تصور کی خیالی سرحدیں بھی پار کرچکا ہے ، اور فحاشی کے عفریت نے انسانیت کی ایک ایک قدر کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ یہ واقعات کسی خیالی دنیا کے نہیں ہیں۔ یہ مغربی ممالک کے وہ ناقابل انکار حالات ہیں جن کا ہر شخص وہاں جاکر مشاہدہ کرسکتا ہے ۔اور جو لوگ وہاں نہیں جاسکے ، ان حالات کی خبریں لازماً ان تک بھی پہنچتی رہتی ہیں ۔ تقلید مغرب کے جو شائقین شروع شروع وہاں جاکر آباد ہوئے ، کچھ عرصے تک وہاں کی چمک دمک کی سیر کرنے کے بعد جب خود صاحب ِ اولاد ہوئے اور اپنی بچیوں کا مسئلہ سامنے آیا تو ان کی پریشانی اور بے چینی کا یہاں رہ کر اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان ۔ جس کے دل میں ایمان کی کوئی دمق موجود ہو ، یہ پسند کرسکتا ہے کہ خدا نخواستہ یہ گھناؤنے حالات ہمارے اپنے ملک اور اپنے معاشرے میں بھی دہرائے جائیں؟ اگر نہیں ، یقیناً نہیں ، تو یہ کیا ستم ہے کہ ہم بھی رفتہ رفتہ بے پردگی اور بے حجابی کے اسی راستے چل رہے ہیں جس نے مغر ب کو معاشرتی تباہی اور اخلاقی دیوالیہ پن کے آخری سرے تک پہنچادیا ہے ۔
ایک زمانہ تھا کہ مسلمان خاندان کی خواتین کی سواریوں پر بھی پردے بندھے ہوئے تھے، اور پردہ شرافت اور عالی نسبی کا نشان سمجھاجاتا تھا، لیکن آج انہی شریف گھرانوں کی بیٹیاں بازاروں میں برہنہ سر گھوم رہی ہیں ۔ بڑے شہروں میں تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شہر میں برقع کی شکل خال خال ہی کہیں نظر آتی ہے ، بے پردگی کے سیلاب نے حیاء وغیرہ تک کا جنازہ نکال کررکھ یاہے ، اور دیندار گھرانوں میں بھی پردے کی اہمیت کا احساس روز بروز گھٹ رہا ہے ۔
بعض لوگ بے پرگی کی حمایت میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہماری بے پرگی کو یورپ ، اور امریکہ کی بے پردگی پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، اور یہاں کی بے پردگی وہ نتائج پیدا نہیں کرے گی جو مغرب میں پیدا ہوچکے ہیں ۔ لیکن خوب سمجھ لیجئے کہ جو کچھ مغرب میں ہو ا یا ہو رہا ہے وہ فطرت کے ساتھ بغاوت کے ساتھ لازمی اور منطقی نتائج ہیں ، یہ بغاوت جہاں کہیں ہوگی ،اپنے انہی منطقی نتائج تک پہنچ کر رہے گی، ان نتائج کو کھوکھلے فلسفوں سے نہیں روکا جاسکتا۔ اور جو لوگ بے پردگی کو فروغ دینے کے بعد معاشرے میں عفت وعصمت باقی رکھنے کے دعوے کرتے ہیں ، یا تو خود احمقوں کی جنت میں بستے ہیں ، یا دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں ۔ واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ جب سے ہمارے معاشرے میں بے پردگی کا رواج بڑھاہے اس وقت سے اغواء ، زنا اور دوسرے جرائم کی شرح کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے اور اس طرح جس مقدارمیں ہم بے پردگی کی طرف بڑھے ہیں ، اسی تناسب سے مغربی معاشرے کی لعنتیں بھی ہمارے یہاں سرایت کرگئی ہیں ۔
ان لعنتوں کے سدباب کا اگر کوئی راستہ ہے تو صر ف یہ کہ ہم پردے کے سلسلے میں اپنے طرز عمل کو بدل کر دین ِ فطرت کی انہی تعلیمات کی طرف لوٹیں جنہوں نے ہمیں پاکیزہ زندگی گذارنے کا طریقہ سکھا یا ہے ۔
افسوس یہ ہے کہ پروپیگنڈے اور خراب ماحول کے زیر اثر رفتہ رفتہ بے پردگی کی برائی ذہنوں سے محو ہوتی جارہی ہے ، اور جن گھرانوں کے بارے میں کبھی بے پردگی کا تصور بھی نہیں آسکتا تھا اب وہاں بھی پردہ ختم ہورہا ہے ۔ گھر کے وہ بڑے جو بذاتِ خود بے پردگی کو برا سمجھتے ہیں وہ بھی رفتہ رفتہ اس سیلاب کے آگے سیر ڈال رہے ہیں ، اور ہمارے نزدیک اس سیلاب کی تیز رفتاری کا بڑا سبب یہی ہے ۔ اگریہ لوگ سپر ڈالنے کے بجائے اپنے گھروالوں کا ذہن بنانے کی فکر کریں ۔ انہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام یاد دلائیں ، ان احکام کی نافرمانی کے سنگین نتائج سے آگاہ کریں اور انہیں یہ باور کرادیں کہ وہ اپنی موجودگی میں اپنے گھر کی خواتین کو بے پردہ نہیں دیکھیں گے تو ان شاء اللہ اس سیلاب پر روک ضرور قائم ہوگی۔
ہمارے خطباء اور واعظ حضرات نے بھی ایک مدت سے اس مسئلہ کی وضاحت چھوڑرکھی ہے ، اور اس اسلامی حکم کی تعلیم وتبلیغ میں بھی بہت سستی آگئی ہے ۔ شاید یہ خیال ہونے لگا ہے کہ اس معاملہ میں وہ وعظ ونصیحت بے اثر ہوچکی ہے لیکن خوب سمجھ لینا چاہئے داعئ حق کاکام یہ ہے کہ وہ تھکنے اور مایوس ہونے کے بجائے اپنے حصے کاکام انجام دیتا رہے ۔ نتائج تواللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں ، لیکن داعی کاکام یہ ہے کہ وہ دعوت کو سست نہ پڑنے دے ، تجربہ اس بات کا گواہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ جو بات کہی جاتی ہے وہ ایک نہ ایک دن اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے ۔ یہ قرآن کریم کا وعدہ ہے :
ترجمہ : اور نصیحت کرو ، کہ بلاشبہ نصیحت مؤمنوں کو فائدہ پہنچاتی ہے ۔
حالات بلاشبہ تشویشناک ہیں ،لیکن بفضلہ تعالیٰ ابھی ہمارا معاشرہ اس مقام پر نہیں پہنچا جہاں اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہتی ۔ ہزار غفلتوں اور کوتاہیوں کے باوجود بحمداللہ ابھی دلوں میں اللہ تعالیٰ پر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر اور یومِ آخرت پر ایمان موجود ہے ، اور اس دولتِ ایمان کی وجہ سے ابھی دعوت وتبلیغ کے لئے لوگوں کے کان بالکل بند نہیں ہوئے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اخلاص اور حکمت کے ساتھ موثر انداز میں حق کی دعوت متواتر پہنچتی رہے ۔اگرخدانخواستہ اس مرحلے پر اس فريضہ میں کوتاہی جاری رہی تو اصلاح کی کوششیں روز بروز مشکل تر ہوتی جائیں گی ، اور خدانہ کرے کہ ہمارے معاشرے میں وہ صورت حال پیدا ہو جس سے آج مغربی ممالک دوچارہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ روزِ بد نہ دکھائے ، اور اصلاح ِ حال کے لئے اپنے حصے کا کام صدق واخلاص اور لگن کے ساتھ کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین