روافض کو علی الاطلاق کافر نہ قرار دینے کی وجہ

سوال:- مسئلہ یہ ہے کہ ’’بینات‘‘ والوں نے دو نمبر روافض کے بارے میں شائع کئے ہیں، ٹائٹل پر لکھا ہے کہ ’’علماء کا متفقہ فیصلہ یعنی شیعہ کافر ہے‘‘۔ اس میں ہند و پاک کے بڑے بڑے علماء کے دستخط موجود ہیں۔ آپ کے دستخط نظر سے نہیں گزرے، اور ہمارے ایک دوست کا کہنا یہ ہے کہ مولانا محمد رفیع صاحب کو شیعہ روافض کی تکفیر کے بارے میں تردّد ہے۔ برائے مہربانی آپ اپنی رائے کا اظہار فرمائیں کہ کیا واقع ایسا ہے کہ آپ شیعوں کو کافر نہیں سمجھتے؟ فقط والسلام
آپ کا مخلص
احقر حافظ مشتاق احمد
جواب:- جو شیعہ کفریہ عقائد رکھتے ہوں، مثلاً قرآنِ کریم میں تحریف کے قائل ہوں یا یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت جبریل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہوئی، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتے ہوں، ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن یہ بات کہ تمام شیعہ یہ یا اس قسم کے کافرانہ عقائد رکھتے ہیں، تحقیق سے ثابت نہیں ہوئی۔ اور کئی شیعہ یہ کہتے ہیں کہ الکافی یا اُصول الکافی وغیرہ میں جتنی باتیں لکھی ہیں، ہم ان سب کو دُرست نہیں سمجھتے۔ دُوسری طرف کسی کو کافر قرار دینا چونکہ نہایت سنگین معاملہ ہے، اس لئے اس میں بے حد احتیاط ضروری ہے۔ اگر بالفرض کوئی تقیہ بھی کرے تو وہ اپنے باطنی عقائد کی وجہ سے عنداللہ کافر ہوگا، لیکن فتویٰ اس کے ظاہری اقوال پر ہی دیا جائے گا۔ اسی لئے چودہ سو سال میں علمائے اہلِ سنت کی اکثریت شیعوں کو علی الاطلاق کافر کہنے کے بجائے یہ کہتی آئی ہے کہ جو شیعہ ایسے کافرانہ عقائد رکھے، کافر ہے۔ اور یہی طریقہ بیشتر اکابر علمائے دیوبند کا رہا ہے، اور چونکہ جمہور علماء کے اس طریقے میں کوئی تبدیلی لانے کے لئے کافی دلائل محقق نہیں ہوئے، اس لئے دارالعلوم کراچی، حضرت مفتیٔ اعظم مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہٗ کے وقت سے اکابر کے اسی طریقے کے مطابق فتویٰ دیتا آیا ہے کہ جو شیعہ ان کافرانہ عقائد کا قائل ہو، وہ کافر ہے، مگر علی الاطلاق ہر شیعہ کو خواہ اس کے عقائد کیسے بھی ہوں، کافر قرار دینے سے جمہور علمائے اُمت کے مسلک کے مطابق احتیاط کی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیعوں کی گمراہی میں کوئی شبہ ہے، جن شیعوں کو کافر قرار دینے سے احتیاط کی گئی ہے، بلاشبہ وہ بھی سخت ضلالت اور گمراہی میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان گمراہیوں سے ہر مسلمان کی حفاظت فرمائیں، آمین۔ والسلام
۱۴؍۱؍۱۴۱۲ھ