رمضان سے پہلے رمضان کی تیاری

اس مقدس مہینے کی حرمت اورعظمت سے کون مسلمان ہے جوناواقف ہو۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مہینے کوپوری اُمت ِمسلمہ کیلئے سال بھرکے گناہوں کے کفارے کااوردرجات کی بلندی کادرجہ بنایاہے۔نبیِ کریم سرورِدوعالم ﷺ رجب کا چانددیکھ کریہ دعافرمایاکرتے تھے
{ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ }
اے اللہ! ہمارے لئے رجب اورشعبان میں برکت عطافرمائیے اور یااللہ! ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچادیجئے۔
یعنی ہماری عمراتنی کردیجئے کہ ہم اپنی زندگی میں رمضان پالیں۔وہ ماہِ مبارک آنے والاہے اوراللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی گھٹائیں برسنے والی ہیں۔اس کیلئے پہلے سے کچھ تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔رمضان کے ایک ایک لمحے سے ،ایک ایک ساعت سے صحیح فائدہ اُٹھائیں۔کیونکہ آدمی غفلت کی حالت میں مہینہ شروع کردیتا ہے اوربات آج سے کل اورکل سے پرسوں پرٹلتی چلی جاتی ہے،اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے آدمی اس کی تیاری کرلے۔
یہ مہینے روزوں کامہینہ ہے،اس کی راتوں میں تراویح سنت ِمؤکدہ قراردی گئی ہے،لیکن درحقیقت یہ پورامہینہ مسلمانوں کوایک نئی زندگی دینے والامہینہ ہے۔گیارہ ماہ تک ہم اپنی دنیاوی مصروفیات میں لگے رہتے ہیں،ان مصروفیات کی وجہ سے بسااوقات ہم پرغفلت طاری ہوجاتی ہے اوراللہ جل جلالہ کے ساتھ جومضبوط تعلق ہوناچاہئے تھاوہ کمزورپڑجاتاہے،اس لئے یہ مہینہ عطافرمایاگیاکہ جولوگ سال کے گیارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کے تعلق سے دورچلے گئے ہیں،ان کواس مہینے میں قریب لایاجائے اوراللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت ،اس کی خشیت اورتعلق میں اضافہ ہو۔
رمضان کامہینہ تربیتی کورس ہے
یہ مہینہ اس لئے بھی بڑی اہمیت رکھتاہے کہ یہ ایک ٹریننگ کورس ہے جس سے ہرمسلمان کوگزاراجاتاہے۔یہ تربیت کازمانہ ہے،اپنی روح کوبالیدگی،تازگی دینے کامہینہ ہے،یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمتوں کومتوجہ کرنے کامہینہ ہے،یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کامہینہ ہے،یہ انسان کوگناہوں سے بچنے کااہتمام اورعادت ڈَلوانے کامہینہ ہے۔
روزوں کی فرضیت کابنیادی مقصد
روزہ بذات ِخودبہت عظیم عبادت ہے،لیکن اس کاایک بہت بڑامقصدیہ ہے کہ انسان کواپنی نفسانی خواہشات پرقابوپانے کی عادت پڑے،اسی لئے قرآنِ کریم میں فرمایا:
{ یٰـٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ
عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ } (البقرۃ: ۱۸۳)
روزوں کی فرضیت کااصل مقصدتقوٰی ہے اورتقوٰی کہتے ہیں کہ اگرآدمی کے دل میں کوئی غلط خواہش پیداہورہی ہے،غلط جذبہ پیداہورہاہے،دل میں برائی کی اُمنگ پیداہورہی ہے،برائی کامیلان پیداہورہاہے،تو آدمی اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت کو،اس کی خشیت وجلال کومدنظررکھ کراپنی اس خواہش کودبادے اورکچل دے۔
مثلاًدل میں خواہش پیداہورہی ہے کہ میں اپنی نظرکاغلط استعمال کروں اوراس کے ذریعے کوئی گناہ کی چیزدیکھوں،لیکن پھریہ سوچ کرکہ میں اللہ تعالیٰ کابندہ ہوں،اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں،میری ایک ایک نقل وحرکت اس کی نگاہ میں ہے اورکل مجھے اپنی ایک ایک نقل وحرکت کاجواب بھی دیناہے،وہ اپنی نگاہ کواس غلط جگہ سے بچالے ۔
اسی طرح دل میں غیبت کرنے اورجھوٹ بولنے کاداعیہ پیداہورہاہے،مجلس جمی ہوئی ہے،غیبت ہورہی ہے،دل چاہ رہاہے کہ میں بھی اس میں کوئی حصہ ڈالوں، لیکن اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت وخشیت اورجلال کودل میں لاکراپنے آپ کواس سے روک لے۔
توروزے کے ذریعہ تقوٰی کی تربیت دی جاتی ہے،وہ اس طرح کہ ہرمسلمان جب روزہ رکھ لیتاہے کہ مغرب کے وقت تک نہ کچھ کھائے گااورنہ کچھ پئے گااورنہ بیوی کے ساتھ جائزخواہش پور ی کرے گاتوکوئی مسلمان ایسانہیں ہے جوبھوک پیاس کی وجہ سے روزہ توڑدے،حالانکہ کھاناموجودہے،اس کی خوشبوآرہی ہے،کھانے کودل مچل رہاہے لیکن و ہ روزے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کیلئے صبرکررہاہے۔
اسی طرح گرمی کے موسم میں حلق میں کانٹے پڑے ہوئے ہیں،سامنے ٹھنڈاپانی موجودہے،کوئی دیکھنے والابھی نہیں ہے،اس کے باوجودبھی وہ روزہ توڑنے پرآمادہ نہیں ہوگا،بلکہ اگراس وقت کسی مسلمان کولاکھوں روپے کی پیشکش کردی جائے کہ تم روزہ توڑدوتویہ پیسے تمہارے ہیں توبھی کوئی مسلمان گوارانہیں کرے گاکہ میں روزہ توڑدوں۔
جوچیزانسان کواپنی خواہشات سے روک رہی ہے یہ اصل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت،اس کے جلال اوراس کے حکم کااحترام ہی ہے،اسی لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ ہم نے روزہ اس لئے فرض کیاہے تاکہ تمہارے اندرتقوٰی پیداہو۔جس طرح تم نے باوجودشدیدبھوک پیاس کے اللہ تبارک وتعالیٰ کی خاطر کھاناپیناچھوڑدیا،اسی طر ح تمہاری عام زندگی میں بھی یہ عادت ہونی چاہئے کہ جب تمہارادل کسی گناہ کیلئے مچلے توتم اس خواہش کواللہ کی خاطردبادواوراس پرعمل کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو۔اس تربیتی کورس سے صحیح فائدہ اُٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم پہلے سے اس کی تیاری کرلیں۔