حیاتِ انبیاء اور سماعِ موتیٰ سے متعلق

حیاتِ انبیاء علیہم السلام، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام اور سماعِ موتیٰ سے متعلق مختلف سوالات
سوال۱:- حیاتِ انبیاء کے بارے میں احادیثِ صحیحہ نے کیا فرمایا ہے؟ کیا انبیاء قبر میں اسی دُنیوی حیات سے زندہ ہیں اور رُوح مقامِ رفیق اعلیٰ میں ہے؟ یا جسد کے ساتھ انبیاء کا قبروں میں نماز پڑھنا آیا ہے؟ آیا اسی جسد کے ساتھ پڑھتے ہیں یا جسدِ مثالی کے ساتھ؟ نیز حیاتِ انبیاء کا منکر شریعت میں کیا حکم رکھتا ہے؟
جواب:- آپ کے سوالات کے مختصر جوابات(۱) درج ذیل ہیں، لیکن ان مسائل پر تدقیقات میں پڑنا دُرست نہیں، ان سوالوں کے جواب پر دین کا کوئی عملی حکم موقوف نہیں ہے، نہ ان کی تحقیق کا ہمیں مکلف کیا گیا ہے، لہٰذا اپنے اوقات کو ان مسائل کو معلوم کرنے میں صَرف کرنا چاہئے جن کا براہِ راست تعلق عملی زندگی سے ہے، حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعـنیہ‘‘۔(۱) اس تمہید کے بعد مختصر جوابات لکھے جاتے ہیں، مگر ان پر بحث و تمحیص کا دروازہ نہ کھولا جائے۔
۱:- انبیاء علیہم السلام کی حیات، حیاتِ برزخی ہے،(۲) لیکن یہ حیاتِ برزخی عام مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ قوی ہے، اس میں رُوح کا رشتہ جسد کے ساتھ اتنا زیادہ قوی رہتا ہے کہ اسے حیاتِ دُنیویہ کے ساتھ بہت قرب ہے، اور اس کی بنا پر ان پر مطلقاً احیاء کا اطلاق کیا جاتا ہے، اسی لئے انبیاء علیہم السلام کی نہ میراث تقسیم ہوتی ہے، نہ ان کی ازواجِ مطہرات سے بعد میں کوئی نکاح کرسکتا ہے، اب یہ قوّت کس درجے کی ہے؟ اس کا صحیح علم اللہ ہی کو ہے اور اس کی کُنہ جاننے کی کوشش اور فضول تحقیقات کی ضرورت نہیں، اور انبیاء کا قبر میں نماز پڑھنا بظاہر اجساد کے ساتھ ہی ہے۔(۳)
س۲:- معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اور تخفیفِ نماز کے بارے میں گفتگو صرف رُوح سے ہوئی تھی یا رُوح مع الجسد سے؟
ج۲:- احادیث میں اس کی تصریح نہیں ہے، لیکن اطلاقات سے ظاہر یہ ہے کہ جسد کے ساتھ ہوئی تھی۔
س۳:- شبِ معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا معاملہ جمیع انبیاء کے لئے مسجدِ اقصیٰ میں صرف رُوحوں کے لئے ہوا تھا یا کہ رُوح مع الاجساد تھے؟
ج۳:- اس کی بھی روایات میں تصریح نہیں ہے، بظاہر اجساد کے ساتھ ہی ہے، واﷲ اعلم۔
س۴:- حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بقیدِ حیات ہیں، کیا اس نماز میں مع الجسد شریک ہوئے تھے یا صرف رُوح نے شرکت فرمائی تھی؟
ج۴:- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسد و رُوح دونوں کے ساتھ زندہ ہونا قرآنِ کریم میں مصرّح ہے،(۱) اس لئے ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات مع الجسد والروح ہوئی۔
س۵:- عام مسلمانوں کو جب قبر میں دفنایا جاتا ہے اس کے بعد ان کی قبر پر فاتحہ پڑھی جاتی ہے، کیا وہ سنتے ہیں؟ نفی کی صورت میں ان احادیث کا کیا جواب ہوگا جن میں ثبوت ہے؟
ج۵:- اصل یہ ہے کہ مردوں میں موت کے بعد سننے کی طاقت نہیں ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں تصریح ہے،(۲) لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ کسی مصلحت سے انہیں کوئی آواز سنانا چاہے تو سنادیتا ہے،(۳) حدیث میں جو جوتیوں کی آواز سننے کا ذکر ہے(۴) وہ اسی پر محمول ہے کہ اللہ تعالیٰ عبرت کے لئے اس کو آواز سنادیتا ہے۔
س۶:- قبر سے کیا مراد ہے؟ آیا وہی لحد یا شق جس میں میّت کو دفنایا گیا ہے یا کوئی اور؟ عذابِ قبر کہاں ہوتا ہے؟ ملکَین کا سوال و جواب کہاں ہوتا ہے؟
ج۶:- قبر سے وہی قبر مراد ہے جس میں مردے کو دفن کیا گیا۔ سوالِ ملکَین کے وقت رُوح کو دوبارہ جسد میں داخل کیا جاتا ہے،(۵) اور پوری حقیقتِ حال اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔
س۷:- سماعِ موتیٰ میں صحابہ کرامؓ کا اختلاف ہے، جمہور صحابہؓ کی رائے اثبات میں ہے یا نفی میں؟ امام ابوحنیفہؒ کی رائے کیا ہے؟
ج۷:- امام ابوحنیفہؒ کی رائے صحیح قول کے مطابق وہی ہے جو نمبر۵ میں لکھی گئی۔
س۸:- عام مسلمانوں کی قبر پر قرآن خوانی بلامعاوضہ جائز ہے یا نہیں؟ جائز ہونے کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرامؓ کا کوئی عمل، جس کا ذکر حدیث میں ہو۔
ج۸:- ایصالِ ثواب کے لئے قبر پر قرآن خوانی جائز ہے بشرطیکہ کسی دن کی تخصیص نہ ہو اور اس پر کوئی معاوضہ طے نہ کیا جائے۔ واللہ اعلم
الجواب صحیح
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
بندہ محمد شفیع عفا اللہ عنہ
۲۳؍۱؍۱۳۸۸ھ

(فتویٰ نمبر ۱۴۹/۱۹ الف)