حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک کے نقش کو چومنے، اس جیسے نعل پہننے اور اس کے احترام کا حکم

سوال:- مکرّم و محترم جناب مفتی صاحب، دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، اما بعد!
۱:- جو چیز سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر سے متصل ہوگئی، اس کی برکات کا انکار تو کوئی جاہل یا ملحد ہی کرے گا، لیکن اس شے کی مثل ہاتھ سے تیار کرلی جائے تو کیا اس میں بھی وہ برکت آجاتی ہے؟ باَلفاظ دیگر متبرک شے کی تصویر بھی متبرک ہوتی ہے؟
۲:- آج کل سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک کا نقشہ بہت عام ہوگیا، لوگ اس کو چومتے ہیں، برکت کے لئے سر پر رکھتے ہیں، اس کی کیا حیثیت ہے؟ اس نقشے کی یہ حیثیت مُسلَّم کہ اس سے آپ صلی علیہ وسلم کے نعل مبارک کی صورت معلوم ہوگئی، روایاتِ حدیث میں مذکور نعل کا سمجھنا آسان ہوگیا۔
۳:- کیا اس نقشے کے مطابق نعل بنواکر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا ہمارے لئے نمونہ ہے، آپؐ کی پگڑی جیسی پگڑی، قمیص جیسی قمیص بنوانا، پہننا سب باعثِ سعادت اور محبت کا تقاضا ہے، کیا آپؐ کے جوتے جیسا جوتا پہننا بھی محبت کا تقاضا ہے یا نہیں؟
۴:- نیز یہ بھی قابلِ دریافت ہے کہ یہ نقشہ اس وقت عام مروّج تھا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا؟ آپؐ کا نعل مبارک صحابہ رضوان اللہ علیہم کے زمانے میں موجود تھا، دیگر مستعمل کپڑوں، برتنوں کی طرح اس کو سنبھال کر رکھا گیا۔ جن حضرات کے پاس یہ موجود نہیں تھا، کیا کسی روایت سے ثابت ہے کہ وہ لوگ کاغذ پر اس کی صورت بناکر برکت حاصل کرتے ہوں؟ اگر ثابت نہ ہو تو آج اس کو باعثِ ثواب سمجھنا، سفر میں ساتھ رکھنا، برکت کے لئے دُکانوں، مکانوں پر لگانا کیا بدعت نہیں ہوگا؟
۵:- روضۂ اقدس کی صحیح تصویر یعنی فوٹو، بیت اللہ کی صحیح تصویر بھی باعثِ برکت ہے یا نہیں؟ اب لوگ ان کپڑوں اور قالینوں پر نماز پڑھنا بے ادبی سمجھنے لگ گئے ہیں جن پر روضۂ اقدس کی تصویر ہو، اس کی کیا حیثیت ہے؟
۶:- اب نقشِ خاتم بھی شائع ہوگیا ہے، لوگ اس کے تصوّر کو انوار و برکات کا باعث سمجھنے لگے ہیں، اس کی کیا شرعی حیثیت ہے؟ مجھے خطرہ ہے کہ غالی لوگوں کی طرف سے جلد ہی آپؐ کی اُونٹنی اور بغل اور حمار کی مثل شائع ہوکر ان کا بھی احترام نہ شروع ہوجائے۔ میرے غیرمرتب الفاظ کو اپنے مرتب الفاظ میں منتقل کرکے سوال و جواب اپنے ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ میں شائع فرمادیں تو میرے جیسے کئی متحیر لوگوں کی رہنمائی ہوجائے گی۔ والسلام
عبدالمجید غفر لہٗ
باب العلوم، کہروڑ پکا
بخدمتِ اقدس جناب مولانا عبدالمجید صاحب مدظلہم العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اُمید ہے مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے۔
آپ کا مفصل استفتاء نعل مبارک کے نقشے کے بارے میں کافی عرصہ پہلے مل گیا تھا، وہ برابر زیرِ غور رہا، آخر میں مشورے کے لئے حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہم العالی کی خدمتِ گرامی میں پیش کیا، ہماری خوش قسمتی ہے کہ حضرتِ والا خود جواب تحریر فرمانے کے لئے تیار ہوگئے، چنانچہ یہ جواب حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہم العالی کا لکھا ہوا ہے۔ والسلام
بندہ عبدالرؤف سکھروی
۲۰؍۷؍۱۴۱۶ھ
مخدوم گرامی قدر حضرت مولانا عبدالمجید صاحب مدظلہم العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آنجناب کا گرامی نامہ مولانا مفتی عبدالرؤف صاحب کے نام آیا تھا، انہوں نے احقر کو مشورے کے لئے بھیجا، احقر نے جو کچھ سمجھ میں آیا، لکھ دیا، اور آنجناب کی خدمت میں اس خیال سے ارسال کر رہا ہوں کہ اگر کوئی غلطی ہوگی تو آنجناب اس پر متنبہ فرمائیں گے۔ والسلام
احقر محمد تقی عثمانی
۲۰؍۶؍۱۴۱۶ھ
جواب۱، ۲:- شاید جناب کے علم میں ہوگا کہ حکیم الاُمت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ ’’زاد السعید‘‘ میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک کا نقشہ شائع فرمایا تھا اور اس کو سر پر رکھ کر دُعا کرنے کی بھی فی الجملہ ترغیب دی تھی، اور اس سلسلے میں ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا تھا، بعد میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر حضرتؒ سے خط و کتابت کی جو کفایت المفتی جلد:۲ صفحہ:۶۱ تا ۶۹(۱) اور امداد الفتاویٰ جلد:۴ صفحہ:۳۲۸ تا ۳۳۲(۲) میں مکمل شائع ہوچکی ہے۔ اس خط و کتابت کے مطالعے سے مسئلے کی شرعی حیثیت بڑی حد تک واضح ہوجاتی ہے۔ اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان آثارِ متبرکہ کا تعلق ہے جو آپؐ کے زیرِ استعمال رہے ہوں یا آپؐ کے جسمِ اطہر سے مس ہوئے ہوں، ان سے تبرک یا انہیں بوسہ دینا یا سر پر رکھنا متعدّد صحابہ کرامؓ اور علمائے متقدمین سے ثابت ہے، اور جیسا کہ خود آنجناب نے ذکر فرمایا ہے وہ محلِ اِشکال نہیں۔ البتہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان آثارِ متبرکہ کی کوئی تصویر بنائی جائے یا اس کا کوئی نقشہ بنایا جائے تو وہ اگرچہ اصل آثار کے مساوی نہ ہوگا، لیکن چونکہ اصل کے ساتھ مشابہت اور مشاکلت کی وجہ سے اس کو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے فی الجملہ ایک نسبت حاصل ہے، اس لئے اگر کوئی شخص اپنے شوقِ طبعی اور محبت کے داعیہ سے اس کا بھی ادب کرے اور اسی محبت کے داعیہ سے اسے بوسہ دے یا آنکھوں سے لگائے تو فی نفسہٖ اس کی ممانعت پر بھی کوئی دلیل نہیں، لہٰذا فی نفسہٖ ایسا کرنا مباح ہوگا، بلکہ جس محبت کے داعیہ سے ایسا کیا جارہا ہے وہ محبت ان شاء اللہ موجبِ اجر بھی ہوگی بشرطیکہ اس خاص عمل کو بذاتہٖ عبادت نہ سمجھا جائے، کیونکہ عبادت کے لئے ثبوتِ شرعی درکار ہے۔ البتہ جواز کے لئے کسی مستقل دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے لئے ممانعت کی دلیل نہ ہونا بھی کافی ہے۔ اور اس تفصیل میں دونوں صورتیں شامل ہیں، خواہ نقش اصل کے بالکلیہ مطابق ہو یا بالکلیہ مطابق نہ ہو، کیونکہ مشابہت کی وجہ سے فی الجملہ نسبت دونوں کو حاصل ہے۔
یہ تو مسئلے کی اصل حقیقت تھی، لیکن چونکہ ان نازک حدود کو سمجھنا اور ان کی نزاکت کو ملحوظ رکھنا عوام کے لئے مشکل معلوم ہوتا ہے، اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس میں حدود سے تجاوز نہ ہوجائے، مثلاً یہ کہ ان اعمال کو بذاتہٖ عبادت سمجھا جانے لگے یا ادب و تعظیم میں حدود سے تجاوز ہوکر مشرکانہ افعال یا اعتقادات اس کے ساتھ نہ مل جائیں۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ ان نقشوں کی عمومی تشہیر اور ان کی طرف ترغیب وغیرہ سے اجتناب ہی کیا جائے، اس لئے حضرت حکیم الاُمت قدس اللہ سرہٗ نے اپنے رسالہ ’’نیل الشفاء بنعل المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ سے بعد میں رُجوع فرمالیا تھا۔
خلاصہ یہ کہ تشہیر کی ہمت افزائی نہیں کرنی چاہئے، لیکن اگر کوئی شخص حدود میں رہ کر مذکورہ افعال کرتا ہے تو اس پر نکیر بھی دُرست نہیں۔
۳:- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعل شریف جیسی نعل بنواکر پہننے کے جواز یا عدمِ جواز کے بارے میں فقہائے کرامؒ کی کوئی تصریح تو نہیں دیکھی، البتہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ معاملہ ذوق کا ہے، اور مذاق مختلف ہوسکتے ہیں، ایک مذاق یہ ہے کہ جس چیز کو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے آثارِ متبرکہ میں سے کسی کے ساتھ مشابہت حاصل ہو وہ تو سر اور آنکھوں پر رکھنے کی چیز ہے، نہ یہ کہ اس کو پاؤں میں استعمال کیا جائے، لہٰذا اگر کوئی شخص اس مذاق کے تحت اسے پہننے سے احتراز کرے تو یہ اس کے مذاقِ تعظیم و محبت کا تقاضا ہے جس پر وہ قابلِ ملامت نہیں، جیسا کہ حضرت گنگوہی قدس اللہ سرہٗ کے بارے میں منقول ہے کہ سبز رنگ کا جوتا بھی اس لئے نہیں پہنتے تھے کہ گنبدِ خضراء کا رنگ سبز ہے۔ اور دُوسرا مذاق یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل اور ہر ادا میں حتی الامکان حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اداؤں کی نقل اُتارنے کی کوشش کرے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس جیسا لباس پہنے، اور اس نقطۂ نظر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک جیسا نعل بنواکر پہنے اور مقصود اِتباع ہو تو بظاہر اس پر بھی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں، بلکہ یہ بھی محبت کا تقاضا ہے۔ چونکہ اس کا مقصود اِتباع ہے، اس لئے بظاہر اس میں اہانت کا بھی کوئی پہلو نہیں۔ چنانچہ صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہ کہیں منقول نہیں کہ انہوں نے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک جیسے جوتے پہننے سے احتراز کا اہتمام کیا ہو، بالخصوص جبکہ اس دور میں جوتوں کی اوضاع میں اتنا تنوّع بھی نہیں تھا، لہٰذا جیسا عرض کیا گیا یہ ذوق کی بات ہے اور کوئی ذوق قابلِ ملامت نہیں۔
۴:- یہ بات تلاش کے باوجود نہیں مل سکی کہ آیا یہ نقشہ عام مروّج تھا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔
۵،۶:- روضۂ اقدس یا بیت اللہ کی صحیح تصویر کا حکم بھی قریب، قریب ایسا ہی ہے کہ ان کو اصل کے ساتھ تشابہ کی ایک نسبتِ قوّیہ حاصل ہے، نیز انہیں دیکھ کر اس کا اِستحضار قوی ہوتا ہے، لہٰذا ان کا احترام کرنا چاہئے، یعنی ان کو کسی موضعِ اہانت میں استعمال کرنا دُرست نہیں، جہاں تک ان کے باعثِ برکت ہونے کا تعلق ہے، یہ بات واضح ہے کہ کسی جگہ ان کے لگانے سے ان شعائر کا بار بار اِستحضار ہوتا ہے، اور یہ اِستحضار یقینا باعثِ برکت ہے۔
جائے نمازوں پر فی نفسہٖ کسی بھی قسم کے نقش پسندیدہ نہیں، لیکن اگر کسی جائے نماز پر حرمین شریفین میں سے کسی کی تصویر اس طرح بنی ہوئی ہے کہ وہ پاؤں کے نیچے نہیں آتی تو اس میں بھی اہانت کا کوئی پہلو نہیں، البتہ موضعِ سجود میں بیت اللہ کے سوا کسی اور چیز کی تصویر بالخصوص روضۂ اقدس کی شبیہ میں چونکہ ایہام خلافِ مقصود کا ہوسکتا ہے اس لئے اس سے احتراز مناسب معلوم ہوتا ہے۔
۷:- نقشِ خاتم کے بارے میں بھی وہی تفصیل ہے جو نقشِ نعلین کے بارے میں عرض کی گئی، البتہ ظاہر ہے کہ ان غیرذی رُوح اشیاء کے نقوش پر ذی رُوح کے نقوش کو ہرگز قیاس نہیں کیا جاسکتا، کہ ذی رُوح کا نقش یا تصویر بہرصورت ممنوع ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم

الجواب صحیح احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
محمد رفیع عثمانی عفا اللہ عنہ دارالافتاء دارالعلوم کراچی ۱۴
محمد رفیع عثمانی عفا اللہ عنہ ۲۰؍۶؍۱۴۱۶ھ

(فتویٰ نمبر ۱۰۰/۲۰۳)
۲۱؍۷؍۱۴۱۶ھ