حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ’’یا محمد‘‘ کے الفاظ لکھنا

سوال:- کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع اس مسئلے میں کہ ایک مسجد جسے اب سے تقریباً پچّیس سال قبل تعمیر کیا گیا تھا، اور وقتِ تعمیر جس میں ’’یا اللہ‘‘ اور ’’یا محمد‘‘ کے الفاظ بھی کندہ کرائے گئے تھے اور پچّیس سال سے مسلسل موجود تھے، لیکن سوئِ اتفاق سے ایک نئے امام صاحب مسجد میں تشریف لائے اور انہوں نے لفظ ’’یا‘‘ مسمار کردیا۔ اب جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا مسجد میں کندہ کسی لفظ کو یا مسجد کے کسی حصے کو منہدم کیا جاسکتا ہے؟ کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ اگر ’’یا اللہ‘‘، ’’یا محمد‘‘ کے الفاظ کو بعینہٖ برقرار رکھا جائے تو اس میں کوئی شرعی قباحت موجود تھی؟ براہِ کرم مذکورہ بالا استفتاء کا مستند و معتبر جواب عطا فرماکر ممنون فرمائیے، ساتھ ہی ساتھ اس بارے میں یہ بھی بتائیں کہ اس نازیبا حرکت اور گستاخی کا کفارہ کیا ادا کیا جائے؟
جواب:- حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ’’یا محمد‘‘ کے الفاظ لکھنا بے ادبی ہے، اس نام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی سوائے بعض کفار و مشرکین کے کوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پکارتا تھا، اور کفار بھی اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس بے ادبی کو گوارا نہ کرتے تھے بلکہ کنیت سے پکارتے تھے، اس کے علاوہ اس نداء میں عقیدۂ فاسدہ کا ایہام ہے، اس لئے یہ لفظ اس طرح لکھنا دُرست نہیں۔(۱) اگر کسی شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے خیال سے اس کے ساتھ لفظ ’’یا‘‘ مٹادیا تو اس کو مسجد کی بے ادبی یا گستاخی نہیں کہا جاسکتا، بلکہ یہ تعظیمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و محبتِ رسول کا تقاضا تھا جو اس نے کیا، البتہ اس کی وجہ سے اگر مسجد میں کوئی بدزیبی پیدا ہوگئی یا مرمت کی ضرورت پڑگئی ہو تو اسی شخص کو چاہئے کہ مسجد کی مرمت کرادے، اور اگر وہ تنگ دست ہو تو دُوسرے مسلمانوں کو اس معاملے میں اس کی مدد کرنی چاہئے۔ واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
۲۸؍۹؍۱۳۸۸ھ
(فتویٰ نمبر ۱۶۵۸/۳۰ د)