بے دینی کے سیلاب میں ہم کیا کریں

جنگ30جون 1978ء

“زمانہ بڑا خراب آگیا ہے “………بے دینی کاسیلاب بڑھتا جارہے ……..”لوگوں کو دین وایمان سے کوئی واسطہ نہیں رہا”………..مکروفریب کا بازارگرم ہے “…………..عریانی وبےحیائی کی انتہاء ہوچکی ہے ۔”
اس قسم کے جملے ہے جو ہم دن رات اپنی مجلسوں میں کہتے اور سنتےرہتے ہیں اور بلاشبہ یہ تمام باتیں سچی بھی ہیں ، ہر سال کا موازنہ پچھلے سال سے کیجئے ، تو دینی اعتبار سے انحطاط نمایاں نظر آتا ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اپنی مجلسوں میں ان باتوں کا تذکرہ اس لئے نہیں کرتے کہ ہمیں اس صورتحال پر کوئی تشویش ہے اور ہم اسے بدلنا چاہتے ہیں بلکہ یہ تذکرہ محض برائے تذکرہ ہوکر رہ گیا ہے ، اور یہ بھی ایک فیشن سا بن چکاہے کہ جب کوئی بات نکلے تو زمانہ اور زمانے کے لوگوں پر دوچار فقرے چلتے کرکے ان کی حالت پر محض زبانی اظہار افسوس کردیا جائے ۔لیکن یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی ہے ؟ اور اسے بدلنے کے لئے ہم کیا کرسکتے ہیں ؟ یہ سوالات ہم میں سے اکثر لوگوں کی سوچ سے یکسر خارج ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ زمانے کے بارے میں اس قسم کی باتیں پوری بے پرواہی سے کہہ کر نہ صرف خاموش ہوجاتے ہیں بلکہ خود بھی ان لوگوں کے پیچھے ہولیتے ہیں جنہیں مختلف صلواتیں سناکر فارغ ہوئے ہیں ۔اور اگر آپ کو واقعتاً ان حالات پر تشویش ہے اور آپ دل سے چاہتے ہیں کہ ان کا سدباب ہو، تو پھر صرف دوچار جملے زبان سے کہہ کر فارغ ہوجانا کیسے درست ہوسکتا ہے ؟
فرض کیجئے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ہولناک آگ بھڑک رہی ہو اور ہم یقین سے جانتے ہوں کہ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو یہ پورے خاندان اور پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی تو کیا پھر بھی ہمارا طرز عمل یہی ہوگا کہ اطمینان سے بیٹھ کر صرف اظہار افسوس کرتے رہیں اور ہاتھ پاؤں ہلانے کی کوشش نہ کریں ؟
اگر ذہن ودماغ عقل وہوش سے بالکل ہی خالی نہیں ہیں تو ہم آگ کےبڑھنے پھیلنے کا تذکرہ اس بے پرواہی سے نہیں کرسکتے ، ایسے موقع پر بے وقوف سے بے وقوف شخص بھی آگ کا قصہ لوگوں کو سنانے سے قبل فائر بریگیڈ کو فون کرے گا ۔ اور جب تک وہ نہ پہنچےخود آگ پر پانی یامٹی ڈالے گااور دوسروں کو بھی اس کام میں شریک ہونے کی دعوت دے گا اگر اس پر قابو پانا ممکن نہ ہوتو ایسی چیزیں آس پاس سے ہٹالیگا جن کوآگ پکڑ سکتی ہوپھر بھی آگ بڑھتی نظر آئے تو لوگوں کی جان بچانے کے لئے انہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کرے گا اور کسی کو وہاں سے ہٹا نہ سکے تو اپنے بچوں اور گھروالوں کو وہاں سے اٹھالے جائے گا اور اتنی بھی مہلت نہ ہو تو کم از کم خود تو بھاگ ہی کھڑا ہوگا ، لیکن یہ بات کسی انسان سے ممکن نہیں ہے کہ آگ لگنے پر زبانی اظہار افسوس کرکے بدستور اپنے کام میں منہمک ہوجائے یا یہ سوچ کر کہ آگ بیشمار انسانوں کو نگل چکی ہے خود بھی اس میں کود پڑے یہ تو انسان کی فطرت ہے کہ آگ خواہ کتنی ہی تیز رفتار ہو اور اسے یقین ہو کہ میں اس سے بچ کر نہیں جاسکتا تب بھی جب تک اس کے دم میں دم ہے ، وہ اس کے آگے بھاگتا رہے گا تاوقتیکہ وہ خود ہی آکر اسے دبوچ نہ لے۔
سوال یہ ہے کہ اگر واقعتاً ہمارے ارد گرد بے دینی اور خدا کی نافرمانی کی آگ بھڑ ک رہی ہے،اور ہم اپنے گھروں ، اپنے خاندانوں اور اپنے بیوی بچوں پر اس کی آنچ محسوس کررہے ہیں تو پھر ہم اس آگ کا محض تذکرہ کرکے چپ ہورہتے ہیں؟ بلکہ اس آگ پر کچھ مزید تیل چھڑکنے کی جرٲت ہمیں کیسے ہوجاتی ہے؟
ہم اگر اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں تو ہماراطرزعمل اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اپنے زمانے اور اپنے زمانے کی ساری برائیوں کا تذکرہ تو اس انداز سے کرتے ہیں جیسے ہم ان تمام برائیوں سے معصوم اور محفوظ ہیں لیکن اس تذکرے کے بعد جب عملی زندگی میں پہنچتے ہیں تو صبح سے لے کر شام تک ہم خود ان تمام کاموں کا جان بوجھ کر ارتکاب کرتے چلے جاتے ہیں ، جن کی قباحتیں بیان کرنے میں ہم نےاپنے زور بیان کی ساری صلاحیتیں صرف کردی تھیں ، اور جب اس طرز عمل پر کوئی تنبیہ کرتا ہے تو ہمار ا جواب یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا بے دینی کی آگ میں جل رہی ہے تو ہم اس سے کس طرح بچیں؟
لیکن کیا اس طرز فکر میں ہماری مثال بالکل اس شخص کی سی نہیں ہے جو آگ بھڑکتی دیکھ کر اس سے گنے کے بجائے خود جان بوجھ کر اس میں کودجائے ؟
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے بے دینی کی اس آگ کو بجھانے یا لوگوں کو اس سے بچانے کی کوئی ادنیٰ کوشش کی ؟اور لوگوں کو بھی چھوڑیئے،کیا کبھی اپنے گھر ، بیوی بچوں ، اپنے اہل خاندان اور اپنے دوست احباب ہی کو ایسی ہمدردی اور لگن سے دین پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی جس ہمدردی سے ان کو آگ سے بچایا جاتا ہے ؟ کیا کبھی ان کو دینی فرائض کی اہمیت سے آگاہ کیا ؟ کیا کبھی انہیں گناہوں کی حقیقیت سمجھائی ؟ کیا کبھی ان کی توجہ مرنے کے بعد والے حالات کی طرف مبذول کرائی ؟ کیا ان میں نیکیوں کا شوق اور گناہوں سے نفرت پیداکرنے کے لئے کوئی اقدام کیا؟اور گھر والوں کا معاملہ بھی پھر بعد کا ہے ، کیا خود اپنے آپ کو بے دینی کی آگ سے محفوظ رکھنے کے لئے کچھ ہاتھ پاؤں ہلائے؟ اپنی حدتک دینی فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے کا کوئی اہتمام کیا؟اگر تمام احکام پر عمل کرنے میں مشقت معلوم ہوتی ہے تو اپنے عمل میں جو کم سے کم تبدیلی پیدا کی جاسکتی تھی ، کیا اس پر کبھی عمل کیا؟ سینکڑوں گناہوں میں سے کوئی ایک گناہ خداکے خوف سے چھوڑا؟ بیسیوں فرائض میں سے کسی ایک فریضے کی پابندی شروع کی؟
اگر ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم خود اندر سے اس آگ کو بجھانا ہی نہیں چاہتے ، اور دنیا میں پھیلی ہوئی بے دینی کا شکوہ محض بہانہ ہی بہانہ ہے ، پھر تو حقیقت یہ ہے کہ نہ تو زمانے کا کوئی قصور ہے ، نہ دوسرے اہل زمانہ کا ، قصور سارا ہماری اس نفسیات کا ہے جو خود بے دینی کی راہ اختیار کرکے اس کا سارا الزام زمانے کے سرڈالنا چاہتی ہے ۔
اس سلسلے میں ہمارا فريضہ یہ ہے کہ ہم زمانے کے طرزعمل پر محض زبانی اظہار افسوس کے بجائے اپنی مقدور حدتک اس کی اصلاح کی کوشش کریں اللہ نے ہر انسان کو اس کے حالات کے مطابق ایک دائرہ اختیاردیا ہے جس میں اس کی بات سنی اور مانی جاتی ہے لہذا ہر شخص کافرض ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں حکمت اور ہمدردی کے ساتھ دین کی تبلیغ کرے اور جولوگ اللہ کی نافرمانی کے راستے پر گامزن ہیں انہیں انتہائی دلسوزی کے ساتھ اس راستہ سے باز رہنے کی تلقین کرتا رہے ۔ ماننا نہ ماننا تو ان لوگوں کا کام ہے)اور تجربہ یہ ہے کہ اگر حکمت اور ہمدردی سے بات کہی جائے تو وہ کبھی بے نتیجہ نہیں ہوتی (لیکن اگر اسی فريضہ سے غفلت برتی جائے تو وہ آخرت میں قابل مواخذہ ہے اسی حقیقت کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے !”تم میں سے ہر ایک بااختیار نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی زیر اختیار رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔”
اور بھی کچھ نہ ہوتو انسان کو اپنے گھروالوں اور بیوی بچوں پر کسی نہ کسی حدتک اختیار حاصل ہوتا ہے لہذا اس کافرض ہے کہ اگر وہ ان کو خدا کی نافرمانی میں مبتلا دیکھے تو اسی حکمت اور شفقت سے انہیں باز رکھنے کی کوشش کرے جس طرح ان کو آگ سے بچایا جاتا ہے۔
قرآن کریم کا ارشاد ہے :
“اے ایمان والو!اپنی جانوں کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔”
تجربہ یہ ہے کہ حق بات اگر حق طریقے سے متواتر کہی جاتی رہے تو وہ کبھی نہ کبھی رنگ لاکر رہتی ہے اور اگر آپ اپنے گھر والوں میں کسی ایک شخص کو بھی کسی ایک گناہ سے باز رکھنے یا کسی ایک دینی فریضے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ دنیا وآخرت دونوں کی عظیم کامیابی ہے ، حدیث میں ہے کہ :
“اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بڑی نعمت ہے “۔
لیکن خرابی کی جڑ درحقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے گھر والوں ، اپنے بیوی بچوں ، اور اپنے عزیزدوستوں کو کھلی آنکھوں گناہوں کا ارتکاب کرتے دیکھتے ہیں تو انہیں راہ راست پر لانے کی تدبیر یں سوچنے کے بجائے پہلے ہی قدم پر یہ کہہ کر مایوس ہوجاتے ہیں کہ نافرمانیوں کے اس طوفان میں ہدایت کی بات کون سنے گا؟ حالانکہ اگر ذراہمت کرکے انہیں سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی تدبیر کی جائے اور نتائج سے بے پرواہوکر یہ سلسلہ جاری رکھا جائے تو کبھی نہ کبھی کچھ نہ کچھ اثر ضرورہوتا ہے اور کیوں نہ ہو ؟ یہ تو قرآن کریم کا وعدہ ہے کہ :
“اور نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ) ضرور (پہنچاتی ہے “۔
اور اگر بالفرض اصلاح کی ساری تدبیریں ناکام ہوجائیں اور کوئی شخص ہماری بات نہ سنے تو ہر شخص کو کم ازکم اپنے آپ پر تو اختیار حاصل ہے اور اگر وہ سچے دل سے چاہے تو کم ازکم اپنی زندگی میں تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرسکتا ہے ، لیکن یہاں بھی ہمارا یہی نفسانی بہانہ آڑے آتا ہے کہ جب ساری دنیا بے دینی کے راستہ پر دوڑی جارہی ہے تو ہم اس سے کٹ کر اپنے آپ کو کیسے اس کے اثرات سے بچائیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم نے دین پر عمل کرنے کے لئے اپنی ساری توانائی ساری کوششیں اور ساری تدبیر یں صرف کرلی ہوتیں اور اس کے بعد ہم پر یہ ثابت ہوتا کہ معاذاللہ دین پر عمل اس دور میں ناممکن ہے تب تو کسی درجہ میں ہمارا یہ عذر قابل سماعت ہوسکتا تھا لیکن ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ اپنی ساری توانائی خرچ کرنا تو درکنار کیا کبھی ہم نے اس راہ میں کوئی ادنیٰ کوشش بھی کی ؟ اگر “زمانے کی خرابی”کا شکوہ محض ایک بہانہ ہی نہیں ہے تو براہِ کرم اپنے اعمال وافعال سے اپنے اخلاق وکردار کا ذرا ایک جائزہ تو لیکر دیکھئے کہ ان میں کتنے کام اللہ کی مرضی اور اس کے احکام کے خلاف ہم سے سرزد ہورہے ہیں؟ پھر ذرا انصاف اور حقیقت پسندی سے کام لے کر یہ سوچئے کہ ان میں سے کتنے کام آسانی سے چھوٕڑے جاسکتے ہیں ؟ کتنے کاموں کے چھوڑنے میں قدرے دشواری ہے ؟ اور کتنے کاموں کا چھوڑنا بہت مشکل نظر آتا ہے ؟
پھر جو کام آسانی سے چھوڑے جاسکتے ہیں ، کم ازکم انہیں تو فوراً چھوڑدیجئے اور جن چیزوں کے چھوڑنے میں کچھ دشواری ہے ، انہیں رفتہ رفتہ چھوڑنے کی تدبیریں تو سوچئے ، اور جو کام بالکل نہیں چھوٹتے ، ان پر کم از کم اللہ تعالیٰ سے استغفار تو کیا ہی جاسکتا ہے ۔ نیز یہ دعا تو آپ کر ہی سکتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں ان گناہوں سے بچنے کی توفیق عطافرما۔
اگر اس تدبیر پر عمل کیاجاتا رہے تو یہ ناممکن نہیں کہ رفتہ رفتہ انسان کےعمال بد میں نمایاں کمی نہ آتی چلی جائے مثلاً کوئی شخص بیک وقت سود خوری ، مکروفریب ، جھوٹ ، غیبت ، بد نگاہی ، بد زبانی اور اس طرح کے سو گناہوں کو بیک وقت نہیں چھوڑسکتا ، لیکن کیا یہ بات اس کی قدرت میں نہیں ہے کہ وہ ان گناہوں میں سے کسی ایک آسان چیز کا انتخاب کرکے اسے چھوڑنے کا عزم کرلے اور باقی پر استغفار کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ان سے نجات کی دعا کرتا رہے ؟ اگر وہ دن بھر میں پچاس جگہوں پر جھوٹ بولتا ہے تو آئندہ کم از کم دس مقامات پر جھوٹ چھوڑدے ، اگر روزانہ پانچ سوروپے ناجائز طریقوں سے حاصل کرتا ہے تو ان میں سے جتنے کم سے کم آسانی سے چھوڑسکتا ہوکم ازکم انہیں چھوڑدے اگر دن بھر میں کبھی ایک نماز نہیں پڑھتا تو پانچوں اوقات میں سے جو وقت آسان ترمعلوم ہو کم ازکم اس میں نماز شروع کردے اور باقی کے لئے دعا واستغفار کرتا رہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح بھڑکی ہوئی آگ سے بھاگتے وقت انسان یہ نہیں دیکھتا کہ بھاگ کر میں کتنی دور جاسکوں گا؟بلکہ وہ بے ساختہ بھاگ ہی پڑتا ہے ۔ اور اگرآگ اسے دبوچ ہی لے تو جب تک اس کے دم میں دم ہے وہ جسم کے جتنے زیادہ سے زیادہ حصے کو اس سے بچاسکتا ہے ، بچاتا ہی رہتا ہے ، اسی طرح دین کے معاملے میں بھی فکر یہ ہونی چاہیئے کہ جس گناہ سے جس وقت بچ سکتا ہوں بچ جاؤں اور جس نیکی کی توفیق جس وقت مل رہی ہے کر گزروں ، اگر ہم اور آپ اس طرز پر عمل پیر اہوجائیں تو انشاء اللہ ایک نہ ایک دن اس آگ سے نجات مل کر رہے گی ، لیکن ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر اس آگ کو زبانی صلواتیں ہی سناتے رہیں تو پھر اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔
یہ ہرگز نہ سوچئیے کہ کروڑوں بدعمل انسانوں کے انبوہ میں کوئی ایک شخص سدھر گیا تو اس سے کیا فرق پڑے گا ؟یہ ہزار ہا گناہوں میں سے ایک گناہ کی کمی واقع ہوگئی تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ یادرکھئے کہ اطاعتِ خدواندی ایک نور ہے اور نور کتنا ہی مدہم اور اس کے مقابلے میں تاریکی کتنی گھٹا ٹوپ ہو لیکن وہ بے فائدہ کبھی نہیں ہوتا ، اگر آپ ایک ظلمت کدے میں ایک دم سرچ لائٹ روشن نہیں کرسکتے تو ایک چھوٹا سا چراغ ضرور جلاسکتے ہیں ، اور بعید نہیں کہ اس چھوٹے سے چراغ کی روشنی میں آپ وہ سوئچ تلا ش کرلیں جس سے سرچ لائٹ روشن ہوتی ہے اس کے برعکس جو احمق سرچ لائٹ سے مایوس ہوکر چھوٹا سا دیا بھی نہ جلائے اس کی قسمت میں ابدی تاریکیوں کے سواکچھ نہیں ہوسکتا ۔
انبیاء علیہم السلام جب دنیا میں تشریف لاتے ہیں تو بالکل تنہا ہوتے ہیں ، اور ان کے چاروں طرف گمراہی کا اندھیرا چھایا ہوا ہوتا ہے لیکن اسی اندھیرے میں وہ ہدایت کا چراغ جلاتے ہیں ، پھر چراغ سے چراغ جلتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ تاریکیاں کافور ہوجاتی ہیں اور اجالا پھیل جاتا ہے ۔
لہذا خدا کے لئے اپنی مجلسوں میں یہ مایوسی کے جملے بولنا چھوڑئے کہ “بے دینی کا سیلاب ناقابل تسخیر ہوچکا ہے “اس کے بجائے اس سیلاب کو روکنے اور اس سے بچنے کے لئے جو کچھ آپ کرسکتے ہیں ، کرگزریئے ، کوئی بڑی خدمت اگر بن نہیں پڑتی تو جو چھوٹی سے چھوٹی نیکی آپ کے بس میں ہے اس سے دریغ نہ کیجئے اور باقی کے لئے کوشش اور دعا سے ہمت نہ ہارئے ، قوم اور ملک افراد ہی کے مجموعے کا نام ہے اور اگر ہرفرد اپنی جگہ یہ طرز عمل اختیار کرلے تو بہت سے چھوٹے چھوٹے چراغ مل کر سرچ لائٹ کی کمی یوں بھی ایک حدتک پوری کردیتے ہیں، اور پھر عادت اللہ یوں ہے کہ جس قوم کے افراد اپنے آپ کو مقدور بھر بدلنے کا عزم کرلیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی حمایت ونصرت ان کے شامل حال ہوجاتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس میں سدھار پیدا کرہی دیتا ہے ، قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ :
“اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کریں گے ہم انہیں ضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے۔ اللہ تبار ک وتعالیٰ ہمیں مایوسی کے عذاب سے بچا کر اپنی حقیقی اصلاح کی طرف متوجہ فرمائے اور زمانے کے طوفانوں سے مرعوب ہونے کے بجائے ہمیں ان کے مقابلے کا حوصلہ اور اس کی توفیق عطافرمائے۔”آمین ثم آمین